Skip to main content

Full text of "TQ"

See other formats


۔ 7-7 
حاقع رت لت 


1 


کڈ ہیر 
ئن قاع 


جا الاحادیث اق > 
جلرسیم 


ترجہ تر 
خایفہ ممازحظر رت برح ا7رصاحب اؤرالم ذرۂ 
خلیفہ مماز پرعل ریت حضرت مولانا شم رظ رالرماں ال ہآبادی 
ضف میا زفروب العاا ءتقرت مولانا پورزوالنتارا تشنری 


امام 
صولا نا حا فناشھررزین اشرف نروی 


جم یتقو ق مجن اش تفوظط ہیں_ 


نا ان تحجکبیات رس ججمہ جا الاحادیٹ القرسۃ 
جریم ری مر ۲۳۷ ۵۳۲ 

0ی . حضرتمواا زا مضتی نئان اشرف ننامی مرنلہ الع لی 
اھر ابرائڈیم لا کیہ مادعو او رسلطانپورہ بیتقا مکی ء بہار 
اہمام حافظھررزین اشخرف ندوی 

کن اشاعت ال : رق الال ے٣٣اد(جؤری‏ ۳۰۱۹ء) 

ترادا شاعت ٭+٭٭ا 

صصفات ۵۰ہ (طلرسم) 

بت 


کپییٹرکپوزنگ دس ردق ٠:‏ بس رگ راٹس ء لان 9595031666 


می می“ مم 970 
٠‏ حر صصببیب اشرف بن تیشم بین اشر ف ای 
عبنور پلڈک رگ 00971507157431 ,0097143550426 
٭ ہدارا لعارف ال ہآ اد یآباد 


ل را می لئ ریرکی ما ویو پور سلطان رشع تا ڑم (بہار) 


٭ػ ہو ن مر اشن اشرف ت کی مو پنل: 34453995وو9 
دار٤‏ دو ان ءما یھو ور سلطان پورہ پسٹ ٹھاہ رشع انی ء بہار 


٭ حافظھررزین اشرف ندوی س پل :09370187569 
1ء زم ٹاور نز وڈ یی ای رکا غ یھگ رکون واء ہن.- ۳۸ 


عمیس نار 


یکریم رت فی اح نی لی ال علیہ سم کے قول نتل سرت واحوال 
اوت ربرکو حدبیث کت ہیں۔ 

اورتحخرت ر پا جب ارزث العرت سےکوٹی روایٹ جو ال تا ی وک 
لے کو بز رہ الہام با خواب با پواسیلہ بجبرنحل عطا فرمایاءمچھراسےآ پاپ الفاظط ومعالیٰ 
میں حعق رات صھا کرام شی اد تھا لی ہم این کے بے بیان فرماُیں فو وہ عد یٹ فی 
بل ے۔ 

آپ کے پاتھوں ‏ تجکیات قدسیہ کا چھجلدوں میس سے ب تیسرکی جللد ان بی 
مبارک ومسحودحدیو لکا یش بہا جموصہ ہے۔ جلدسوم یل حدریٹ ۲۳۴۸ ۵۰۲ مم 
جھمدولشر می ہیں۔ 

ا لکتاب جا الاحادیث انقرس“ ٠"‏ نیم جلندوں می دار الریان للزاث, 
قاہرو سے شالح ہوئی ہے۔الن تن جلروں ٹ شس گیارہ سو پیا احاد یش قد سی یڑ یک گنی 
ہیں ۔کتاب کے مولف اپنے عحصر کے بڑے حرثہ عا مکیر اور احادیت قدسیہ پہ 
وقتہ آظ رکے حا علا مہ ا وید الکن عصام الد بناصبائشی مصریی ہیں 

علام ہکی ان لکنا بکو تحموصییت حاصمل ےک اپ ی می ککی خمام مطبو احاد بی 
فنرسیان جلیروں میں مخ ہیس ایل دنتحا لی جاش کو جتزاۓ خیرعطا فرمائے ۔ 

۳٣م‎ 


اعادییث سیکا یہ ذ رہ ا بتک ع ری زبان میس تھا۔ أُرد وکا داصسن ا س میم 
سرہائے سے ناف تھا یا برائے نام یھو ٹی ممولی چندکاہی یں جو اص اص موضوغ برع 
کی ہیں۔ 

براو زم مت مو لان مفتی شدشنین اشرف ای حنظہ ازئ شی احاد بیشد قد سی سے 
عش نکی ح ہیک شف سے کی نظ راتقاب علا مہ صبالشی کے اس الا بی اورانھوں 
نے حجلیات فد سیر کے نام سے الیہا مت لفن تر جم اورد لکو کو جا نے وا ی پللمو لین 
وی شرع کی ےکہ پٹ نے والا ت ات ر بای می نو طہزن ہوتا چلا جا جا ے اوراس پر اسرار 
ا لج لے جائے 22ر اعادیث ٹہ پ ے پہلا کا میں ے بللہ 
موصو کی مک یکنناب عم مل میدہکی بای کے نام سے ایرائیم لا رم کیہ ما ویو پوریشلحع 
ستامڑیء بہار سے الم ہوکر مقبول خاش و عام ہوٹگی ےا توشر بے 
'الاتحافات السعیت ٹی الاحادیث الق سی“ کی 6 ان بر ےيغ دواد - 
ال دی یی الف کن ان۹۳۷ ۸رورس ہیں۔ اعادجیث دہ ردعرا جا کام 
جات فد سر کے نام ےآ پ کے سا موہودے۔ 

احادىیثقرسیہ بر رت مفتقی صاحب حفظہ ال یتر لاب انفحاتِ 
قدسیہ 72ج تر ے'الاحادیث القدسیةٴک ۶2 لجنة المجلس الاعلی 
للششون الاسلامیة مصصر کی زیرکگرالی م با نع بی تحددعلا ۓکرا مک یکاؤش سے 
من نشپود بجاو وگر وٹ یی ماشاءالقدا سکاب پرکام مڑکی تجزکی سے جارے۔ انشاء 
ال تر بز اور ر 01 
کواندازہ ہوجات گاکہصاح کاب نے ال سکاب بپرکس قد دمارغ سوزیی او رحنتِ 
غاڈ یل اس می لکوئی مال سکہ جا مآم کنل ایک اکیڈئی اور ادا ہکرت سے وہ 
کا صرف| لے الد کیل اورا سک فو شی سے ب یلکن ہوا۔ 


۲ك 


جات ندسء گ یکنابتہ بروف ر ینک اور ا سکوظاہرکی وممنوبی طور بر شایاان 
شمان بنا کا کام اپڑنے ٹیں بندة نا کے زم راچتمام ہوا ۔اگر چہ پا بتةرائی مر س ےکا ام 
7 یں ہوا ھا کاب معیار یکا مل خواصصورت سرورق اورمخبو یا جللد کے سا تج ھب پکر 
آپ کے ہانتھوں میں ہے۔ الد تھالی اس خدمم تکوقو لف رما ۓ_ 

ملک و پیروا نکی نامورد گی 007 اصلاق اور روعا بی تخفہات وھ( 
صاحب کاب پراپنے تاشرات سے جو یٹھوککھا ےآ پ اندروٹی صفحات پر ان ںکا مطالعہ 
کی طوالت کےخوف سے اان کاثراتکو ہم نے صرف بی جلد می شائل رکھاے۔ 
نز بندہکی قابین سےگز ار ہ ےک ہر متریجم جھ ہ رجللد میس شائل 7ھ" 
ڑاعھیں_ 

قارین سے یہ بات لو شید ہیں ہہوگ کہ عاشق اعاد یرش قد سی کی جک یبھ یکئی مفید 
کت یں منظرعام بر1 گی ہیں جن میں وصایا اخمیاء و اولیاء انسائیلدپیڈ یا کیا جار جلیلء 
'احکام ومسائ :علامات ایمان اور قرآن وعد بیث مس جن براعن تک یگئی ہے اص طور بر 
قائل ذکر ہیں ضرورت ےک ال کاو ںکا مطالع ہکا جااۓ اور اس بددٹی اور نے دی 
اص طور سے اباحیت کے ز مانے میں اصلاب عال کے لیے ا نکمابو ںکی طرف متوجہ ہوا 
۳)س.٭‌۳ئھهھ۶ەھ8 

ا دجان وتھا یٰ وم ےک وو ححرت شمارح حفظہ اید تھا لی کی عمرممیں ت7 
عایت و رحمت نازل فرماۓے۔ تمام معاومین وماعرن افص مولوی سی ر1آصف ار 
موں نے بڑےشوں وزول ےکنا بک زین و رش میں بند ےک ساتھ دبا کو 
ججزاۓ تج رع طاکرے۔آ مین ! 


روز پیر سے امراگست ۲۰۱۵ء (ملاناحافظ ) جھررزین انرف وی 
۱ زھزم ٹاو رہکونواء ٹہ اد مق ران وسنت دا العلوم نظ میس وفیہ لوا نے 


۵ 


ہرست 


النے۔ ۴۶ اثر عافظشھررز بین اشرف نروی 


طسے۔۔ 
۲ 


عیش مترمم مفتی مین اشرف ای 
و راوروما کا ہان 

الد تا لی کے پھیفرشت ایل وک رکوڈ حون تے ہیں 

ذاک رن کے پارے میں اایڈ رکا فرشتوں سے سوال 

مالس ڈاکری نکی فضیلت 

فرشتوںکی اش و جو 

ا نک ہھ شی ن بھی رو یں روستا 

کیک لوگوں پرنازل ہہونے والی مت گنک ھی تد ہیں رہتا 

جنےک سوال 

مم سےمیبات 

دو کی دعائوں پر ملامک ہک یآ ین 

بی ے بندرو ںکورحمت میں چھ الو 

تہاری تعداد کے بن رفرشت تمہارے ہم ین ہیں 

عمت وج وانمالی 

انسمائن ابمائن باقیب میں متا ے 

مظام رضابفرشتو ںکی شہادت 

رات اضمالی 

رن ن کا ش عام 

صحبت صاین 
صادڈن وصر لقن 

انسما نکو کرای ٹیل ملائکہ برفضیلت ے 

انآ کے رکا ورفرشتوں کے کر ےنور سےمنتاز سے 
وک ری میں 


آہستنہ فک کی فضیلت 

مکی ببہرےاورغی رحاض رک ونڑیش پکاررے ہو 
ذک فی مقر ہراردر ہےفضیلت رکتا ہے 
زکراش ہرعال میس جائتڑے 

تقر نجلیعم نے وک کیٹ ر برمخفرت واج نی مکا وع ہکیا 
رر ےکا ادے؟ 

77ھ سرت :نے 

رت موا نا بل اترسہار ورک کی رائۓے 
علا تمیق :قام عال مکی رو ذکر ایر سے 

آ یت کا مہو دع مولانا عال 

اب :مس نے ایک دا بھی جم وکیا کیا ہو 


ای کگھڑ یکا ذکریھی با عشنجات ہوگا 


پاب : جس کوک اارکی “شف ول تک بناء پر دعا مکی فرصت نکی ہو 
ذ اک رکوای رٹ العزت دعاء ما گے والوں ےل الات تپ 
ذاکرین کے اتا ء تن اکوسوا لکمر نے سے کیہ ور اکیا جانا سے 
ذاکری نک ورام سوا لکمر نے والوں ےزیادہ دو ںگا 

باب :جس نے ول بی دل می جج کو با دکیا 

ا7 

یں بھی گے ای مس با دکرتا ہوں 

ذکمرکی برکت ےن و اف لکیا میٹ پیدا ہوٹی ے 

تھائی یش میں ذک ری فضیلت 

بن ےکوالٹ رکا قرب کال سے حاصمل ہوا سے 

اب :ند٥‏ جب ہگ کو با دکرتا سے نو یں اس کے سا تج ہہوتا ہوں 
ذاکرکو اد پا ککی معیت عاصل ہوٹی ے 

میس اپنے بنلدہ کے سا تج ہہوتا ہروں 

اب : آدم کے بے لچ روعص بعد بے با دک رل کرو 


ے 


ذحص رکے بد یتھوڑیی دم ذک ارڈ سےتمام امورآسمائن ہوجاتے ہیں 


ذاکری یک یکفاات اید اٹ یمر تے ہیں 

اب :جم والے جن لیس گ ےنم داع تکولن لوگ ہیں 
بروز قیامت باعمزت لو ککون ہوں 29 

اللہ باک ڈاکرکا مین ے 

ان اش 

االد! آہٹسنی ہوں مھرد بنا نہیں ہو ںآ پکہاں ٹیإں؟ 
7 یپ‌پِّ 0 

جب تم ماں کے پیٹ میں نین ےت مکوخ زاس نے پاپیائی ؟ 
کیا ا اک کے احما نکا برلہ یس ےک تم محصی تکرو؟ 
کین امس کرک فضیلت 

جا ؤٗتہاری مخفرتت کرد یگئی 

بندہ الیل تال یکائحبوب سے پا مو ءا کی علامت و چان 
ادگ یگبرییادد“ ائھبت سے 

جن ہل مجر ہی عبت بندوں کے ولوں میں جاگنزی سکرنا 
ححقرت دا دعلیرالسلا مکا بارگاو رٹ العزت میں سوال 

تن بل میر ہی عبت خخاصا تق کیا علاصت ہے 

مع و اص یکاوا سح فرق 

اتال اوامراوراجتنا بے نوابی برنحنت خاش 

اقمام زکر 

تر حم رقام اذا رکا جائع سے 

ذکراللہ ہرعال میس جائتڑے 

کرک ررمففرت واج نشی مکا وعردکیا 

جم میرے بنلد ہک وکچھوڑ دو 

خیپا وخفضب می اید پا ککا ذک کر نا 


۵ے 
۸ھ 
٦ے‏ 
٦ے‏ 
ےے 
ےے 
۸ے 
۸ے 
۸ے 
۹ے 
۸۰ 
۸۱ 
۸۳۲۳ 
۸۳۲۳ 
۸۳ 
۸۳ 
۸۲ 
۸۵ 
۰ 
۹ 
۹ 
۹۳ 
۹۳ 
۹۳ 
۹۲ 
۹۵ 


ےکی ا زی من جک کے از 

نے کے وفت جن بل محر کو باد رک کا مقام 

ضن وکظلمت وکہر با یجن سے برل دیتا 

خاصال نت نکی زان سےانمیاومالسلا چم یس تک بات اتی ہیں 
خاصا تن سےٹبی تا بات أھادے جاتے ہیں 

اولیاء انل یا خماصا نت گی علامت 

گان دی نکی برکت سے عراب الیل جا تا ے 

یا حنان یا مان کااءُ 

اڑل وکا قَ ال بالل کیتھیر 


م٠‏ 
سح ا مامت 


ناڑے بہار لإ کا علان 

ضحم وف مان موارہ ےکی سز 

شیطاان کےکروفریب سے جفاظطت 

َقَالِيُْ السموَاتِ وَالازْضِ 

دو رح کی آاگ سےےمجات 

قرو بند ےر پل یکاشی نظام 

باب :آدم کے بیج !تیر جھے یادرکھنا گر سے اورنسیا نکفر 
شک رک ایلی تر نطرپتہ: ذکرالل 

نت ال ی کال خیقی ء کر وحباوت سے 

میری بادحی نو شکرے 

نپ ززت اأتزت تح کوز و سے فا لکرفر بن ےکا 
بد ہکا تضورین یں دستوسوال نہ بچھیلا نا شی کی علاامت ے 
کہیاان دےدو 

پاب : یں الد ہو ں تر اثو ںکا دل میرے دستفدرت میں ے 


م۳١‏ 
سا 
سا 
اڑا 
۵ 
7ا 
7ا 
۷٦‏ 


۹-۔ 


۔٢‎ 


تکررا لکوگالیاں شرددہ بلہ الد پا ککی طرف موجہ ہوچاد و خود یتہار یکفالت ١ا‏ 


۶ھ 


ما لم می ستخفی کی جا زیادلی ہوٹی سےءآخ را سکا سب بکیاے؟ 
الم حا مکانلم اک رحد سےتتجاوزکر جات فذ ان کافورکی اور ول دَشمندانہمقایلہ 


صرفف بر سےک نا جا ہے 

ظلم کے :ماع صر ف یی نئیں بلہ عا لیب ہوتے ہیں 

رکا ان حدانات بھی بڑتا سے 

سفرآخرتسہوات اورجلدرکی کے سا تع ےکم رن کا مق نہ 
جیراٹل ویباھراں 

انابت و رج الی الشد کشر سے بددعاء ے 

اپوالیش رآ وم علیہ السلا مکوسکصلایا 

مکل کے وقت الکو یا دک رن ومنانا 

اصول راحت ومسرت اور پا ادا یٰ 

قحات دلحات ق سی کو ضا لح نکر سی 

مقا مکپر بہت اوررچۂ تودبہت 

اقم تین ےک خی رقنای رقم وکرم 

رما ءِ ط ا نف 

باب:میرے بندرول یل اولیاء ایگراوردوس کون لوک یں 
ال اک کے اولیاءکون لوگ ہیں؟ 

اوالیاء ای دکی علائئیں 

نرہ اید تھا یکا جانب سے ولایت کے لس ےکم ب شخب ہہوتا ے؟ 
اولباء بے خوف ہہوں گے 

اولیاءایٹرکون ہإں؟ 

ولاییت کےورعچات 

وا یت حاص لک رن ےکا طر یقہ 

اولیاءکی پان 


۸ 


سا 
۳٢‏ 
سر 
۳۳٣‏ 
سر 
۳٣‏ 
۵ 
۳ 
۳ 
ے٣‏ 
۳ 


ثٹۓضم۵صء,ء/7 0 
خوف اورک نہ ہون کا مطلب 
شرب حبت 

قر عبت او رر تی 

و کا2 0ور 

کم ےکم دج 

فا ٹل ب٤‏ درد 

اولیاء ار دی تھریف 

قائل شک م رجہ وانےلوک 

صول راکذا ۴ 


- محب تکااندہ 
اللوالو نیت 


ال رکائحو بکون ے؟ 

اولیاءال کی علاما تکیاں؟ 

ولا کی ہم جنی ری جم ہنی سے 

اڈروالوں سے وی ال سے خی سے 
ہروقت حالت ای کجی یہی رختی 

کشف وک رامت 

اولیاء کے لیج نشار 

اجھاخواب بثارت ے 

باب: رت العلز تکی جناب میں مو کا رہرومقا من تج رو چھلاکی سے 
من کے لیے ہرعال بیس بھلاکی سے 

بد مک نکا معاملہ ہرعال یں ری تر ہے 
مین ہرحال میس رو چھلاگی سے 

شا ن ٣بی‏ درضا کا خوکر ہناد تی ے 

انا گی فا۶ لات 


باب :جس ۓ اَلْحمْ لِله حمْذا كِيرا کیا 
لْحَمْڈ لِله حَمٰدا کرای مُبا رگا فی 

اسی ط رح لکیدلوین سط رع بند و کہا 

فرشتو ںاہی معلوم کہا سںکا نوا بکیاے؟ 

ابی ھ جونتو ںکاعن اداکردرے 

ف رشن پر یہ بات بہت اشوارموئی 


اپ تر 


دروم نکا ما معبد یت میں مال یک یظمت ور ہو ببی تک احتزاف 


کن کا یا ال 

پاب : جریل نے رسول اللہ پا کو چجن ککا جوا ب سکھلایا 
رسول الل چےلوکو چیک کآ کی نک یاکہا؟ 

پچجین کآ خارحیات وعلامت ے 

اکرا مآ وم اورتی باری 

ایک ملا نکادوسرےسلمان برتن 

پچجینک کےآ داب داحکام اور ال کا جواب 

آ تت رم اوراکشافے تقیقت اورکلرات مخقضرت 

باب :جس نے اےالژندز ین وآ سمالنع کے پیر اکر نے وا کہا 
بر ہکا تی نتعالی ے۶ اورداغلم جنت 

نی بل مہ بندہ کے چپ کو جن کی شکل میں بیو راکھررسی کے 
باب :جورات میں سو ن کا ارادہکر ےن سو ر٤‏ اخلاصص پٹ ے 
جنت میں داڈنی جاجب ے دائل ہوت ےکا رج اٹ یف 

و حیروصفات بااریکامیان 

جن تا یکا تارف اورسو ر٤‏ اخاا کا شا ن نول 

سو رہ ا اع بت 

نت محلات 


سم 
سھ 
لاتھ 
رھ 
رھ 
٦‏ 

ے٦‏ 
ے٦‏ 
٦١۸‏ 
نھ 
نھ 
جھ 


۔-۔۳٣۳٣‎ 


ے۹۔ 


فضائل سورة 

یا ا کل اوراررئ رین ےنا نا تسالات 
تھا لی ہرطر کش رات سے باک سے 
متا کے اما کال 

حر تق دہ کاشمل 

ای قرآن 

جفت واجب ؟ئئی 


ک : ہونے ال ٹسرٹ 


َ دوسوسمال گناہ معاف 


.۰ اعم انم کےسا تق دعا 
7 نی نکام 


2 مسوروں سے کر مر آن رہ 


5 نو تج کان کل 


اتا یک تتارف 

جاہلوں اورآریو ںکی دید 

صیدر کے شی 

صرف ریبر یم فصورے 

ود یوں عیسائیوں اورسشرکو ںکی ت دید 
اٹروال یں ے 

اڈ مولو یں ے 

الد کے براب یک کوک یکہیں 

سے وفت سوم رتبا اص بڑعنا 
پیا سال کےگناہ معاف 


اب :کیا میق مکوعمرش کے یج جم تکا خمز اشہ جنلا دوں؟ 


باب :جس نے سان اید اور ائمد الل کہا 


۸ ۔ باب :الد تھا لی نے موک مال مت کر نے اورتا جن ےکی وی نہیں فر مکی‎ ١۱ 
۸۲ می سپحکم ابی ا جنئیں تی دح یدرک ن ےآ یا ہیں‎ _-۲ 


۸۲ اسباب انان وانشراح‎ ۴٣۳ 
۲ مگ لکاعات‎ ۔_۔٣۷‎ 
۸,۳ شنوںّ ایزا ےگ گر لکاعلاح‎ -۵ 
٦ ال کر ےک اعم‎ _-۹٦ 
ے۔ ہاب :انی امم تکو لا حول ولاو ا( پا کی جاکیر یی ے۸‎ 
۸۔ لاحول ولاقوة کی برکت ے۸‎ 
۸۸ ۹۔ -سمض نکیا اورفزان تعنل‎ 
۸۹ باب: جب سور فا تم اورآی الگری نازل ہوگی‎ ۔-١٢‎ 
۸۹ جن ہل موقر بارنظررسمت سد بیھیے ہیں اورستر عاجت اد یکرت ہیں‎ ۔٢١‎ 
۰ ۲۴۔ ہاب: فاتماورآیی الک ری اور ل عمرا نکی فلت‎ 
۰ ۳۔ مسعترز قکا مجر بل‎ 
۹ ۳۷۳۔ تظبرۃ القاس میں کان‎ 


۵۔ ہاب: وی لوا کی ملالفات جب جرتنل القنیاند ے ہوٹی نان سےفرمایا- ۱۹۳ 
٦۔‏ فرش نماز کے بح دآی الکری پٹ ھن وا لن ےکوسا تکروڑ ناب روزانہ قیام تک ۹۳ 


مار ےگا 
ےا٢۔‏ آیت الکر کاب ال دکی سب سے بڑکیآیت ے ۴ 


۸٥۔‏ آب اکمری سے فضائل ۳ 
۹۔_ اعم انم اور ا سکی کلت ۴ 


۳۔ آبیت الم کک ایک زبان اوردواب ہیں ۵ 
ا٢۲۔-‏ آبیت الکری بے سے کے ار ۵ 
۲۲۔ آبیت الک ری سورہ بقرہکاولی ے 2 
۳- جن بل مد یاعلم اورا کک فدرت سے ہ رج قائم سے ٦‏ 
_-۳۳٢‏ باب :ححظرتیلی خا نے سوااریی کے وفت دعا پڑی ے۹ 
۵۔ حوار ہو ےکی دعا ۹۸ 


جن تنا ی کی جاب ے جا وروںل اورسوار یو ںک یلت 

سا ھن سے تر 

رارور ےک افارو مہ 28 

سفرے وا لپچ یکی دعاء 

سوارکی کے وفقت دعا ڑ ح ےکی حکمت 

صاح بش لکاکام اورم کن دکاف رکا فرق 

اب :املع عحفرت پا کے پا سککیں اورفر مایا ب مک پسکھلا دمیی 
0 


7 سے قبولبت دعاء 

ات اش تک ز کے لس ےکھٹری ہو اکرو دیس پا رجا نع الیل دک لی اکرو 
۔ نمی الد ےکا أم را کومخفر تک خز ان بتلانا 

۔ أم رائحع ری ایڈرعت وق ولیت دعا کال 


باب :ند وجب رات می ینار ے بیدار ہو جو اکلہ مڑ سے 


را تکو جب بیرار ہواللہ یا کک رمم٥تٹ‏ ومغغر ت کات وصول لو 
شعورو بے شحوری کے م ام ہیں تضو رت نکی حاضری پرانعام 

باب آدئی جب رات میں نیند سے بیدرا ہولو جحان لد پڑ ھھے 
شبات دیناشنس دن ان ہنرو ںکوا ٹھانا 

اتال تی شف خباتکا سوال اور خال یکا کیا تکاانعام 
ااۓ :جھ کال الا الله َ الله اش سے ا سک جواب نیب اراتا سے 
لمات ذکراورال کیا مخیاجب اللہ جواب 

بنلد کی شہادت بن بل رہ کی صدا تک ہر 

لا لہ إِلَا انا ولا حَوْلَ ولا قوَةإِلَابى 

جن بل ید ومک کشا ہیں 

کب ماک یفن تعال یکوہی زیب دق سے 

ا کے رک پور نے 

صفات خاھۂ 


۹۸ 
۹ 
۹ 
۹ 
۹ 
٢۰۰ 
٢۰ 
٢۰ا‎ 
٢٢ا‎ 
۲ 
۳ 
سے‎ 
۰۰۲ 
۰۲ 


۳ 


٢٣۔‏ 
۵٥۵۔‏ 
٦-۔_‏ 
ےكے٢۲۔‏ 
۸۔ 
۹۔ 
و۴۶١٠۔‏ 
اے٢۔-‏ 
کرت 
٣۴۳۔‏ 
رت 
۵۔ 
٦ے۳۔‏ 
ےے۔ 


نوم تنا جا یں قبو لکرتا چاو ںگا 
بزاع ارہ لان 
جا ی وکا ی صفات اراد 


باب : دوسرول سے امیر رکھنا ئھردٹ یکا سبب سے 

ال اک سے امییں دنا اورغیروں ےحمل اامیرہوکمالی تحیددایمان ہے 
اتی نے بندو ںکی عا جن لکواٹی ذات سے وابستت رکھا ے 

بندو کی عاجٛینیں جن تعالی سے جڑیی ہوٹی ہیں 

اب:جپرول الله لِلَه مَا فی السّموّاتِ وَمَا فی لازْض نازل ہو ی 


جن تالی ےلم ءفررت اورک ککاکمال 


الد تھا لی قیامت ٹیس مک کی بردہ لوگ یکر ےکا 
7 حظرت ز بار نان کیا ضطزت ما کٹ ےسوال 
_-۶٣‏ 


آیت کے زول برا عالت 
خطااورنسیان پرمواغزہ 
اخَاءِشہادتکاخال 

یم ماڑ ینفلوفات 

بی رصاب جمنت میں جانے وا لے 
آخری دویتو ںکی فلت 
ہیدہ چیزو ں کا جاتز :لیا جا گا 
اعمالیي ظاہر٭و باط کا محاسبہ 
حخرت کچ سٹیر ور بدایوی 
خطاوضیان معاف ے 

ای کی ررفامم ر ےکا 
نمازءروز و میں لو ل کا ازالہ 

خا 

یبود ہوا ںکودپے گن احکام 


۲۳٢۳ 


۲۲ 
۲۶۸ 
۲۰۸ 
۲۶۸ 
۲۳ 
رگ1 
۲۳۳ 
۲۳۴۳ 
۲۳۴۳۴ 
۳۳ 
۲۳۴ 
7 
۲۳۴ 
۲۵ 


سڈ 
۲۹۲۴۔ 
۵۔ 


ے۲۹۔ 


بر وکی دو یں 

ٹرآ نکا مھزان 

ووس۔معاف ے 

بن تال یی ویر ے اس پرکوکی نی میں 
امَنَ الّسُولُ جب:ازل ہولی 

دوآ یق جو جفت کے نز ان ے نازل ہوٹی ہیں 


عکیم الامت م رات حضرت مولا نا اشر ٦ی‏ تھا نو ی رحنۃ لعل ہکی ان تین 


بیاان اعزار یش یت 


امورٹراخظیارى برمواغمز نہ گا 


۔ شیب رافخقیاریی وساوس پرمواخذ وکییل 
۔ ننگاد برا خحتیاری سے 


عدر نو بھی 

یو سے ےآ نے برمواغ وکئیں 

اب :شد یلاگ رٹی کے دن ایک فص تن کہا لا اللہ اللہ مت ی سخ تم ری سے 
زع ریدم 

طقات ودرکا تیعم ما اسما چرم 

جنتکا مو معتنرل ہوا اورفور ر بک روش 

جفت ما گے والو ںکوجنت او نم سے پناہ جات والو لکول سے پناہ 

دھا کی قبولیت کے پورکا دان ء جن تکا بروا ن٠‏ ہے ےح اف 

باب :ا پت کی دع قبول ہوثی ے جو وضو کے ذر یہار تقلب حاصس لکرتا ے 
حیطال یگ ہکھو ل کا نی علاح 

باب : بد٥‏ ججب ارب مار بک صدالگا تا ہے 

رکا باب پیک عبدی 

رب تال یکو بند ہکا ارب یار بکہ کم پکارنا بہت بی پبند ے 

باب :ج بآ دم علیہالسلا مکوز لن پرأاراگی نو بیت ایل رکا سات پچ رطوا فکیا 


ۓ 


۲۵ 
۲۵ 
ى٦۲‏ 
سنہ 
۲۲۸ 

۲'۴ 
۴۴۳ 
۳ 
00 
۲۵ 
۳۵۰ 

۵ 
ت 
۳ 
لات 
۵ 
۵ 
٦‏ 
کی 
٦‏ 


۰ 


۲ 
ے۲۵ 
۲۸ 
۲۸ 
۲۸ 
۹ 


۴ہ- 
۵-۔ 
٦۹ص-۔‏ 
ے٣۳۔‏ 
۸-۔ 
۹-۔ 
+٣۔‏ 
سے 
٣۳٣۔‏ 
٣-۔‏ 
٢٣۔‏ 
۵٥۵۔‏ 
٦۔‏ 
ےا۳۔ 
۸۔ 
۹-۔ 
۴٣۲-۔‏ 
۱٣۳۔-۔‏ 
۲ 
ى۲۳ -۔ 
۴‌‌مكئ-- 
۵-۔ 
٦٦-۔‏ 


۔-۳٣ك‎ 


_-٣۸ 


اولا و آم کے ہعم و مکودو کر نے وا اس سکیا 

تصفی لم رقلوب بحلیہ وت رقلوب 

تہ وتتورقلب 

ان صادی وا الب 

ذ یت ام ور ٹ ام 

باب :چٹ سےسوال کی ںکرتا یل اس سے نا را ہہوتا نہوں 
درعاء نہ ما نے بی تال یکی نارائمگی 

دع اکر ےکا طررتہ 

ق رآ نعییع نے دعا کا عم دیاے 

اں مت کے لیےخصم یس بین چچ ریس 

اش لی کات 

چادہاٹش 

کے والوںکاحثر 

قای جب دی 

دا کی یقت اوراں کے فضائل ودرجات اورش رو اقجو لیت 
فضائل دعا 

تمولبت دعا کا وعرہ 

تبولبت دعا کے را 

باب:مسلمان بھاٹی کے لیے ببچھ کیہ دعا ع تی رکرنا 

غاب کے کن میں دعا 

یھ یچ کی دا میں غلویس زیادہ ہوا سے 

پاب :ین بنارو ںکوااد لی دعاء میں شقول رکھنا ینرک رتا ے 
یک لوگ ںکی دعا دم یس پور کی جا لی ےکربن ہل مر وکوا نکی مزا جات سنا 
پندیرہدے 


فاست وفا کی دعا جلدقبو لکیوں ہوچا ی ے 


۸ 


ے٦۲‏ 
ے٦۲‏ 
ے٦۲‏ 
۲ 
۰ 
اے٢‏ 
ا 
72 
۲۴۳ 
۳ 
28 


۴ 


۴خ 


_-۹ 
_۔۳۲٢٣۰‎ 
-۳٣ 


سے 


۳۳۔ ہاب :ینمض بندے اڈ تھا یکو پک رتے یں ججیہ ایدانب نارائ ہہوتا سے 


‌‌مث-- 


من وکا فرکی مناجات یل فرقی 

اپنے و بیان ےک پکار 

بے ایما نکی حاجت جلد پور یکیوں ہوجاٹیٰ ے؟ 
و ہہوۓ و ل کاخ بیدارسلطائن چجہاں ے 


دھا کے ذ رجہ بندہ اتال یکامحبوب مین جا تا سے 


۵٣۔‏ مبخونیں بھی دھا کے ذر ا ییکہوب مین جا نا سے 


_٥۱٣‏ باب :قیاصت ٹیل الڈدتھالی بندہ حےفر مات ۓےگا بیس ن ےم س ےہ خ اکب سے مان 


م۳۴۳۔ 
۸-۔ 
9-۔ 
_-٥۸‏ 

۱[۔ 

۳ -_ 
گ"ث--_ 
ىك۲"أمئ-- 
۵-_ 
أ٦-۔_‏ 
٥-۔_‏ 
۸-۔_ 
۵9۹-۔_ 
۵۰۔ 
(۳۵۱۔ 

۴۳-۔_ 
۳ -۔_ 
۷ر 


رما ہرعال ٹیس متبول ومفیرے 

ابا !انتا لی کے درکونکچھوڑ و 

ٛ ّ2 ہوکی ے بیادعا آخر تکیلئ ذترہ ہوجاپی ے 
اب :جب بندہ دھا جیل قحان جار یا رٹک گرا رکرتا ے 
مناجات ہل بارب 

باب :جن مقبول دھا وا نے 

نت سکی دعا نیو کی جا 

مظاو مکی دم کے ے1 سما نکا درواز وکھول دیا جات ے 

جب مآ پکو دیکتے میں و ول نرم ہوجاتا ہے 

صحبت ومعیت رسول اش لات کا نمایاں از 

ٹیرحمت چا نے مم تکومخقر تک می دلائی 

ڈلوب وحصیانءذ ہول نان بی سے مغفرت ورضوان ے 
ان نبوت اج متمقرومستودغ میں اقرار پذ مہ ہے 

اب : مفظلو مکی بددھا سے پچ 

ٹیس ضرورتہہاریی بددکرو ںگا 

روز قیامت ہاو لکی ط رح تعاٹ یکی می اتی نظ ےکی 
اب :مل و مکی ج بکوٹی بد دی ںکرتا 

ملو مکی مددیقن تھال مر تے ہیں 


۳ 
۳ 
۵ 
گے 
ے٢٢۲‏ 
ے٢٢۲‏ 
۸ 
گے 
گے 
۸۰ 
۰ 
۲ 
۲ 
۲ 
۳ 
۳ 
۸۳۲۳ 
۵ 
٦‏ 
۸ 
۸ 
۸۸ 
۸۸ 
۸۸ 
۰" 
۰ 


۵۔ 
٦7صم-۔‏ 
ے۳۵۔-_ 
۸-۔ 
9۹۔_ 
٣٢۔‏ 
۱٦۳۔‏ 
۳۲-۔ 
۳-۔ 
٦٦۹-۔‏ 
۵٥۵۔‏ 
٦7-۔_‏ 
2ے2٦۳۔‏ 
۸۔ 
9۹۔ 
ے۔ 
اے٣٢۔-‏ 
٣٣۔‏ 
٣۲۴۳۔‏ 
٢٣۶٢۔‏ 
۵ ے-۔ 
٦‏ ے٣۔_‏ 
ےے۳۔ 
۸-_ 
۹٣۔_‏ 
۲۸۸۴-۔ 


باب: پنددەشعہا نکی رات یل منادیآواز لگا تا ے 
نر ری ںشنما نکا سو رعمل 

اں را تکا یتو مل 

توور رات ال مان جا رکال 

ان دتھاٹی ہررا تآ سان دنیا یب نازل ہوتاے او رکہتا ہے 
ہررا ت ن٢ل‏ تعالی اپنے ہنرو کو ہکارتے ہیں 

نزو رس تکا وت 

وفن نت ومفقرت 

موا کک اجھیتٹ 

پا خی ھکیس پیر سے 

ٹن تھا یکی طرف سے راحت وآ را مکا وقت 
کہاں میں سوالی 

رۓے ڈرے ترفن ےن تج 

خقل میارشریع ت یں 

فشظاببات پر ایمان لاناواجب ے 

نرا رم تل 

وو سجھی ںکی ہ وکیا مت رسول جا کوکھو ک رکہاں جار ہو 
آخرکی جھائی تصہررات یل خزول رت 

نول واجلا ي پاری 

وب رنے وا ےکہاں شیں 

س بک دعا ق مرابورہے رگ مرف 
وجچیرڑژں سےتصول کا وت 

٢ی‏ 000۷" مقدرولصحجیب ے 

فرشنوں کے روبروف رآن ید خظلاوت 

نما زحص روج میں فرشتو ںکی ترکت 7 

ماز وٹ رآدکھی رات میں منا سب ے 


٢۲ 


۔ 

0۸/۲--_ 
۲ذ۸۰--۔_ 
۷۶كئؾ-- 
۵(۔ 
٦-_۔_‏ 
ے۸۔ 
۸-_ 
۵۹۔_ 


۵۔ 


۔٦‎ 


وب رانا تکا ان 

باب :جب بندہ جھ سے یک پاش تھی قریب ہوتا سے 

بنلرہ جب اد ےش ریب ہوتا ےو ایشا سے ز با دو ریب ہہوتا سے 
شرب مب تتہماریی ہمت کے لفزر 

آرزدءارادہء جذباتء ظاہردپائ ‏ نکا تاور کی ای ترین علامت ے 
یب مکی رہمٴ۹ت زی رفارےزیاد ہز 

رب تق نک تج زتاری 

کر ا 

باب :سنہ برصنا تکامعالہ 

ایک پروں 

شس سکی رحمت خی رقنای ہو ءاس کے انعا ما کی انا می نہ ہونا چا ہے 


۔. اللدتھا ‏ یکی یت ونلمت سےگناہمچھوڑ ن مکی سے 


شراب الارگ خطایا 
ترک محاصھی کا اجر و اب 
موائزہ کے رود 
باب: آدم کے بے !ن ھکھٹرا ہوہ میں لک رآ نو کا 
ال پا ککی ططرف متوج ہوا 
باب: شخیطا ن تین ن ےکہا تع تکیاضم یس ترے بندو ںکوگررا کرو کا 
شیطا نکی شیطانیت اورک کی مخفرت 
ایس تین نے من تھالی سےمبلت نے ماگ یگ رف یی ؟ 
ف ہہ دب زندی کے نا تکوصنات سے بدل دبا ے 
نو بر کے بحد“حصی تبھی نات بن جاٹی ہیں 
من بای رکو اد تھا ی کی ولایت وعفاظت پر اعختارے 
گناہ پیک بندو لکی نداممت 
حضرت ما عمز خل دک یہہ 

۲ 


۳۱ 


۳ 
۳ 
۳ 

۳۰٣ 
ن2‎ 
۵ 
۵ 
۳٦ 
ے۳۱‎ 
۳2 
۸ 
۳۹ 
۳۹ 
۳+ 

۳۲۲ 

۳۲۳ 

۳۲ 

۳ 

۳ 

۳۲۲م 

امھ 

۳۲٣ 

۳۲۰۸ 

۳۹م 
۳ 


ے٤٥-۔‏ 
۸۔ 
۹9۔_ 
٭٣۔‏ 
ا٥‏ ۔ 
٣۔‏ 
۳٣-۔_‏ 
7 
۵۔ 
َ.َ 
ۓ۔ 
۸۔ 
9۔_ 
۳۔ 
72۔_ 
سج 
_-٣۳٣‏ 
۳- 
۵-_ 
نک 
_-٣‏ 
۸۔ 
9-_ 
٭۳-_ 


۔٢٢‎ 


ایک ناو نکی ا9ہ 

ال عحعت کے ییتضاعمال واقوال 

سو کاوطنہ 

برائیاں نیوں یں بدل جائئی کی 

انم سےتی 

ایک بوڑ ےکن کا رکا واقع 

ایک ناو نکاواقعہ 

تن ہل مہ اور بنلدہ کے درمیان رجات کی 

باب:آ دم کے بے اج ب کک ہھوکو کا ر ےکا میس تب ری مخفرتتکرا رہہو ںگا 
دوج بکک ال" پاک سے مففرت لزا ےمغفرت ہولی رنقی سے 
تن تما ی سے معائی طل بکرنا اخزاف رویت ے 

کی مید و ہار بر مرک مففرت موجہ ہے 

انی شر تحت کےا ب رن کنا ول کول وت کین 
مفقرت ہہوگ یکنا وک چرخزان لاسما ۶ہو 

صادق ومصروق لی ثارت 

شرک کے مقا لم می ںسگناہ نے وقعت 

اکنا وت الیک ےنال کی کین 

شر رح ت کور وک د تی ے 

باب :مشش سکومبریی فدرت پر لین ہوگا اا سکی مغفخر تتعی سے 
گناہ محا فکرن ےکی قد رت ئل ذ امت“ کو ے 

ان :ایک نے عرش کیا کہ ماب ہن ےکنا گیا 
پادپارگنا ہکا جانا اور ہر بار جج ول سے خفرت مانکناسعادت سے 
الد تال یکی رحمت پراخاداورا سکی ققدرت پر پوراشیین 


گناہ ہوجانے کے بح گناہ ہو جانا او رر جورع ای ال ہونا رٹ العا ما نک ی کت 


...۔ 


۲۳ 


۳۲۹ 
م۳‎ 
۳٣ 
۳٣ 
۳٣ 

۳ 

۳٣ 

پک 

لاس 

۳۳٣۴ 

۳۳۵ 
۳۳۵ 
۳۳ 
۳۲۸ 
۳۳ 
۳۳ 
م۳‎ 
م۳‎ 
۳٣ 
۳٣ 
۳٣ 
۳۴۳۴م‎ 
۴۳۴) 
۳'۴ 


م۸۴۴ 


سے 


_-٣۳٣ 


5۷ 
۵ ۔-۔ 
٦‏ -۔ 
ے۲|۔ 
۸ ۔ 
۹م۔ 
_-٥۰‏ 
۹۱٥۔‏ 
۳۴م ۔_ 
یی 
۷ئ 5 
0۵ ۔ 
٦7۔_‏ 


اب :دمحا فظ اعمال فرشتو ںکی بارکگا درب العزت میں شہادت 
یش اتعما لکی ابنتداء وانچااعمالل صا یہ پرہوءن درمیالی سبنات معاف ہوجاے ؟ 
اب:میرے بنرے پردوھ اتی ع نہیں ہوئی 

دواسن اوروو و فمٌُ نون کے 

جودنیایش اش سے ڈرتا ےآخرت میس اس کے لیے ین کون سے 
دای ال الس کی ایا ے؟ 

موی ع زوپ لکی یاد سے ال ہوناعذاب بی نے 

شبیاں برائیو ںکومٹا دی ہیں 

قا ون الی دای نکی ان داما نکا ضامن ے 

ق علیہ ورصتور بای ے 

لو لصو 

گوں ار اتد 

جات الٹ کی رت 0" 

اعمال پ جروس تکرلو 

و پرایداوررسو لکی رضا کا ہب ے 

نو لصو ںکیاے؟ 

برکے بچارکان 

پت لصو ںکیاظیر 

ای و کت 

ٹکیاں برائیو ںکومٹالٹی ہیں 

ان نمازو ںکی شال 

یر اصول پور أممت کے لیے سے 

حقرت اوا لسم تین کا وا تمہ 

مازوں گنا چٹ رجات ہیں 

اب : محصیی تکومففرت اوررحمت کے متا ے میں درکھناتن تا لی کےنغحض ب کا 


بڑا ہب ے 


وما ہے 


گ1 


2۔_۔ نک کامرائل ۳م 


شرف نما یف رک یکوتاہی دی ۳٦‏ 


09 ۔ ہاب :سواری کے وقت ححض تی ڈیا کائل ہام 
_٦٦‏ سوار کل پریتن مل مد ہکا اپینے بندہیرتجب ٢م‏ 
٢۔‏ بنرہ کےاعتزافکعبد بیت پرتن تھا یکا جب ۳م 
۷۲-_ سواریئض اتال ی اتل سے "۳م 
۳ے باب :اپیے رب سے دع اکم کہ ہما رے لیے صا پہاٹڑکیکوسونا بنارے ۳٦۵‏ 


7۳ فریی کا صفا پپپاڑیکوسنا بنا کا مطالہہ اور تعا یکا جو اب اوررسول اڈ تا ۳۷٣۷‏ 
کا و برورحم تکا شاب 


0۔_۔ رسول اللہ گان با بن و پمندفرمایا +۳ 
٦‏ بش رسول اکا متصدمعا دک فو ز وفلاح سے نہک ماش لک جلاشل کے 
۶۔ باب بندہ ےلان پرالٹ کا معامہ ۳۸م 
۸_ انداپنے بندوں کےکماان کے جیب سے ۴۸ 
۹۔ من ن شیرات سے ۳۸ 
۰۔ رع تن و۲ 
اے٥۔‏ در ےنت زاقام سے و۸۵ 
ے۔ بندہ جب ہگ کو پکارتا ے ٣٤‏ 
۳ے۔_ تو پرکرناالدتعا یکو پنر ے 4 
٣ےہ۔‏ الل قحال یکی مھت ٣‏ 
۵-۔ بندوں کےکمان بپررحم تن ص٣‏ 
٦۔‏ بندہ کے سا تج انال یکا معاملہ ٣۰‏ 
ےے"۔ ببراندہ اور ری یاد ار 
۸۔ حول برکت کے لیے بات کا چچرہ برچھیرنا ٣۳٣‏ 
272م صلی کے پاتھ سے برکت حاصس لک رنا ك۴ 
٭+٤7-_‏ رحمت واسعہ بنا ہکا انارک کی ے ۴۵ 
۸۱۔ باب :بفدہ جب برا یکا ارادہکرتا ے ے٣‏ 


٢ 


۸۳۔_ 
۸۳)۔_ 
۸/۲)۔ 
0 ۔ 
٦7۔_‏ 
>۔ 


۔_-7٦‎ 


تل دارادہ کے بد لے میں او کاضٴُل واحمان 

گی ک ٤او‏ اض کو 

دک یکا شیا لآ گر نکر کان <تلکولو 

برک یکر نے کے بعد اگ رت کر نے ا ںکومٹاوو 

رٹ العزت یف وہ بندہ ےس ن ےگنا ہکا اراد ٥کیا‏ تھا 
جن تمال یکا تی انعام 

الد اک کےگ رم کی مال 

کی مس اضافہاخلائ کے بقر ہوتا ے 

حا ای امت 

تمہارارب نہایت ای مہربان ے 

اسلا مکا اللہ ء رن و تیم ممسل مان کت اکر سے 
2 

تن نالی دنیا شش مین ک ےکنا ہو ںکو پچ ات ہیں اور قیامت کے دن معاف 


سک ون کے 
من رٹ لت سے انف خیب ہوا کین نکی دستارحمت وکنف رک 
یں گے 


خر نکوانٹ رکا لام ماننا اورامان لانا ضروریی ے 

ق رآ نک ری مکوٹھٹلا نا سب سے ب الم سے 

نشیس ا لگموں کےخلاف شہادت وگوای 
اشہادرےگیا رادرے؟ شہادتکون لوک یں ے؟ 


ا کموں مراعنت 
بی ہیں وولوں ججنموں 9 پر 
عد جیث گگوکی کا نا پچھڑی 


+ 
ھ 


ہنرہم روہ وی اورگ ئوک فِضان 


پا ےپ ےہ 


۲ 


٢۴ے‎ 
۲٢۰۸ 
۲٢۸ 
ك۲‎ 
ك۲‎ 
۲۸۰ 
۲۸ 
۲۸۳۲ 
۸۳۲ 
۸۳۳۲٣ 
م۸۰۲۴‎ 
۸۰۰۶۲۴ 
۸۵ 
۸٦آ‎ 


۸۸,۷ 


۸ 
۸۸ 
۸۸ 
۸۸ 
۳۰ 
طے 
آ 
۳۲ 
۳۶۳م 


_-٦‏ اب: تام کے و نگم لی سے ای نک کے سیا نے اس کے چو نے بچھو نے با 
گناہ یی سے لئے 
ے۵۔ قیامت کے ون مو نکوگنا ہو ںکی حک نکیا لی سکی ۳۵ 


۸٥۔‏ جاائیس نے تتوری مففر تکردی امج 
۹۔-۔ ےئا یکا تک تن نے مات ان کیا ے۳۹ 
٥١۔‏ سو ات لکی مففرت اور وسحت رحمت ے۲۹ 
۵۱۱۔ اششدوالو ںیقی وصحت ۳۴۵۸ 
رہ5 رحمت خوددی مخفرت کا وسیلہاشقی ے ٭م 
1۱۳-_ خببییشستی سے جلدنل جا ۰م 
۳۔ ‏ وکا دروازہ بھی گا ہواے ۲م 
۵۔ صائی نکیہتی نزولل رحمت ومخففرت اورقجو لی تکی مک ے ۰۳" 
٦‏ ۔_۔ اب آوم علیہ السلامطوم لنقا مت ت ےکوی جو رکا درشت ۵۵م 
غاقت آ دم علیرالسلام پر حیاغال بآگئی ۵م 
۸۔ ا چھتیل با سکی یقت ۷م 

۷ پت مباحات اضے ہوتے ہیں جن سے انسا نکونڑج ینطرت ہوٹی سے ے۸ 

٣۳‏ ممیت کے جیا بکا اتر نا ے۸ 

" ۔شمع وخ ۳۷۴۸ 

۵ ۔شرم وحیاجنت میں نے جا لی سے ۹9م 

۷ ۔ خیطا نکا ہلا تملہا نما نکو اکر ےکی صورت مل ہوا ۰ 
۹٥۔_۔‏ آوم جھ سے ان ٹنٹ راک کہا ل چھااگ ر سے ہو فا 
-٥۳‏ اب : آوم الا نے رٹ العا جن سے اذہ کے ندرا ت سیک لیے ۲۴۳ 
۵۴۷۔ آو علیہالعلام نے اللدتالیٰ سے چندکلرات حاصس لکر لیے جے ۳ 
۲۔ لو کا سی اورمطلب ۳ 
۳٣۔‏ لمات نے کا القاءاورکبر بی تکاکمال ۳ 


۳۴۔ حر تآ مکی ندامت اورگ رپ ۵" 
۵۔ نواعت ۵ 


۲ 


٦۔‏ سعادت شقاو تک افتاں ۵م( 


غئ٥-_‏ حخرت1 و مکی ےکی 2 
۸-_ باب :موک علیرااعلاماورسامرکی کے پھر ےکا وا قہ ٦‏ 
۹۔ قص موی علعلاماورساعر یکا مھا ء بی اس رات لک یکوس الہ تی ےا 
+۳۳ن۵-_ کو وطوراورمویٰ علیرالسلام ۸۸ 
١٣۵۔‏ سام رک یک بپرو رش کا تیب واقہ ۹ 
۳۲۔ زنیروں سے پچٹڑابتایا ۹ 
_-٥۳‏ ساصر کی حالاکی دجالپازی ٣۱‏ 
_-٥۳۳‏ قو مکی بےکتلی اورحماقت ۸۲۲ 
۵۔ بت اسرائیل کے نگروہاورا کین ہہ ۴۳م 
_٦‏ فو سے لیکن نف سک ایم لی ٣۴‏ 
_-٥‏ من ےک ماق ۲۴ 
۸۔ اخ ری بات ۸( 
۹۔ باب : ٹیس ایت پیک ریم ہولء بردہ ایی کے بعد بنلد ہکوڑسو اکر نامیریی شا ن یں ٣٣‏ 
۶۔ اللہ اک ہی ما فک رن ےکی قد رت رت ہیں ۲ 
ا۵۳۔ مخفرت وموائی کیام ہوم 2ی 
۲۳-_ باب :جب میرے سان پا تح یلا دے نے یھ ش مآ کی ےک ای والی ںکروں ۲۲۸ 
۳_۔_ اع لکن کی وائل مغفظ 8ےن بل مر وکی ذات سے ۶۸۲۸ 
7۴ ۔ وہ ناائل ےگ یں نے والا ہوں ۹م 
۵-_ 7ء و۷۰ ۸۲۹م 
۱۷-_ سان دک کہا مبرارب ضرور سے ال سکی مخفرت ہہوگئی ۳م 
ے٥۔‏ باب :طف تال یکا بندے پرمتوج ہونا اوررسمت ومخفر کی وسحت کا 
۸۔ بندوں ک ےکنا ہوں پراللہ پاک پردہڈاے ہیں پلرھی بند ےگنادب جرات ۰۴۰۰م 
...0 
۹9۹۔ جن بل محر ہیی رححمت اورانسا نکی نف تکا جیب الیہ ۳ 
۰ن ش کی حقیص کر ے ہج کا اخترا فک رناے ۴۳۳ 


کے 


۵۵۱۔ ‏ اگ کنا ہکا عادکی ے, و میں مفخفرتکا عادیی ہوں 


۴۔ مال گرب یکورقم وک رم ہی ز یب د تی سے 


۳ -_ مگنزاہکر کے سوجاتے ہاو ریس فا تکرتا ہروں 


۳۴۳ ۔٭ رجمت واسع ہک شان عطا 

۵۔- فش تو بھی بہ مو 

٦‏ ۔ ہم اوراش سی نکاحی تھالی سےسوال 
ے۵۔ تروٹ رکا طا لپ اوردولو کا تصادم 
۸۔ خر تآ وم علیہ السلا مکا ادب ر بای 
۹۔-۔ زین پ رت کاعم 

۷۰ نافرا ی کابرلہ 

۷۱۔ حضرت آ7 دم علیہ السلا مکاشمل 
وپ ضر تآ دم ایا اکاعلم 

مسج حیطا نکاػبر 

۶۳ حفر ت1 وش مکی فضیلت 

۵_۔ لف کاظلہ 

٦۷۔‏ اں تح یشال 

ے۔ ضر ت1 دم لکیہ 

۸۔ قضاءگی شال 

۹۔ خیطا نکا خریب 

۰ے۵۔ نو کی تولیت 

اك۵- ای بدر کے لیے معائی کا بروانہ 
۴ھ۵۔ اس جحت ے 

۳٣‏ ۔ حشحیطا نکا غلط تا 


۲ 


ا کر 
گز ریز 
۲ك 
گی 
۲( 
۲۸( 
اگا×ا 

اگزگا 

0۳۴۳( 
0۳۴۳( 
۳۴۳( 
گا کزگز 
0۸۵( 
گیا 
0۸01 
2یز 
2یز 
۲۸ 
۲۴۸( 
۲۲۴۸ 
رگاکا 
+0۵( 
۵۱ 


عس مم 


7 ہے و سی اق ےہ رق 7 ۶ ٦‏ ۶ وو ۔ 
الَحَمد لِله نحَمَده وٗنسُععین وَنسعغفِرَه و نعوٴذ بالله مِن شرَوٌر انفینا 
وَمِنْ سَیثاتِ اعُمَالناء مَنْ يَهُدِهِ الله فلا مُضِل لهُء وَمَنْ ئصْلله فلا هَادِیٰ لهُء و 
اشْهَذ انْ لا إلے إلا اللے وَحْدَۂ لا شریٔک لَۂ و اشهُد ان مُحَمَدا عَبدذه و 


شً 2 


رب افْرَخ لِي صَدرِئء ویر لي اي ءوَاعْلْل عُقَدَة من لَسَانيء 
يَفْقَھُوا قُولي. یا رَبَ زِڈنی علما. سُبُکانک لا عِلم لنا الا مَا عَلمتتا اتک 
صَلَوۃتَنَجْیْا بھُا مِنْ عمِیٔع الأَخْوَال و الَافاتِء و تَقُضِي لن بهَا جَمِیٔع 
الْحَاجَاتِء و تُعَهرنَ بَا مِْ جمیٔع السيَاتِء وَتَرْقع لا بِهاعنْکَ اَغلی 
الكَرَجاتِء و تبَلَعنَا بهَا اَقَّّی لات مِنْ جَمیٔع الْعَيْرَّاتِ في الَيَاةِ وَبَعْ 
اسُتَففر الله رَنَیْ مِنْ کل ذنبٍ و توب یه 
لت لئ الع لو رب تپارک وتھالی قادرمعل بی الاطلاقی جو جابتاے 
طاربآ کمالل قدرت او ریرحت سے اہین ارادہکووچو دبا ہے اوراپنے اھ رکوی 
برع اکرتاے و الله خیب خی مرو کاکات عا لمکا ذڑوذڑہاسی کئلقی وا رکی 
شہادت دے را ہے۔ ای لیے ابناء می بھی دو کا سفن سے اور ہرکل کے انا وآخر 
بھی ا کی ض ہے وک الم فی الاولی وَ الآخرة۔ای کے جا ے ہندہکا 
2 


مکی قر ماھت ہے اوروجی یر لاک یکی طرف اپنے ند ہک لے جا تامےء و ما تشاءُ ون 
آاج لئ انفرح 7070نم جم کا اپنے وجود میس یلوگ اپنا یں ء سب 
7 7 2 ۹ "0 
بھلائی نمی ںکرسکتا جب کک وہ ارم الرٗمی نج اتل وکرم سے رشد وہدای تکی 
طرف یع تکو اتل نرکرے۔آخرخاقم الل طٹنے جرنماز کے بح دحقرت | کو 
اَدَلهُعَ الْهِمُنی زُشّدیٔ وَاَعَدنیْ مِنْ شر نفسی: پڑ نکی ہدای تکیوں فراکیگی۔ 
زشدو دای ت کا ااہام جی الخ بندہکوراشدبین وصایشن کے مقا من ککشما یکشاں لے 
جا تاہے۔دہ فطل ما رن ےھ سکوکفروشرک ےہا لے کے لیے بد پرکوذ رجہ 
ےو ساد ملا حور ہت نے ےلکن 
صنعا ء جج دتا ےطان بن اود 7 یں نلرب نرہ کا اور الد ان وت یٰ 
رر جوا سس ھت تح بے 
کک میرا موی نہ اے۔ پیر ایک الما عاجز و نا نال اور بے بضاعت؟ج سکو نہ رنک 
وڈھنک د سایق وطریت لم یلم نہ ذوق وشوقء نشم وفراستہ نہز ان کم ء نی ہے 
ذجن میں خیال ونصورآیا بھی سوج سنا ت کرت بل میدہ کےکلام قد سی( ج سکومح دنین 
کی اصطلا مس عد ییشی دی تی رکیا جا تاہے )کے ت مک بت ہو گی جح کی 
ہچ تصہ ل بجی بل مپ ہک پایں میس ہی ہیں۔ یل زوافعضل انیم ہی او یچھر 
این| :زا رکاپ لاطاوف رتو مل رفا فا ئن میں میم وگین۔ 
ہن مسا چہ بی پور یکنا بکا علاء وائ ددول نے در دیا۔ 
فجزاء ھم الله خیراً و الحمد للّه اولاً وآخراً 
ج بکتاب جج پکر اس عاج زکوعی تے سب سے پیل حضرت مولنائٹس الہدییٰ 
زاندا نآ برو تن ۓکتشن وکح پر ریہ یس ٹین نکی ۔ بات بل پٹ یک نیقی تعالی شرف وقولیت 
سے وازے۔ حضرت دامت پرکاٹبھم نے اخلا کی حیحت فرماٹی اور کی رک یکل ہام 


۲۳٣٣م‎ 


اخلائش سے ہون بارگاد بے نیاز میں شرف تو لی تکا مقام حاص لکرتا ہے۔ عاجنز وآ ٹم راس 
کا بت کک یگہرااث ہوا خوب استتغفار اور پرآت در با شر کک ادعیہ مان رہ کے ذر اتی بل 
مرہ کےحضمور میں التجاء دابتال کے ساتجھ فو يہ وا ستتغفارکر نے کا کی وم ہآ نرہ ا یکتاب 
کے تج کا داعیروارادہ ماب اللہ ہو چک تھا۔ ام یش وی یس ٹاک ہ گرا خلائص تہ ہوا تو 
اپ جان ھی ہنےگا؛ذ را کا مکوکروں یا ٹ۶ ءھ۶ ۰.9۷“ 
رتضل رنج راد بادکی علیہ ال رح کود یلعا خا:آال کےخیفہ جے۔ تج کا وت 
ہے ز ۲ن پہہریالی ہے اور غی رمث یگھاس جو دنا می نہیں دنھی کی ہوٹی ہے اور بارش 
یں بلہ بارش نما پچھوار ہے درخت ببت بی بلند وخوبصصورت ہیں رقتوں نے پورے 
اح کوسا کیا واہے۔ نر ےآ کےآگے ہیں اور عاجز وآ حم عرۓ کے چیہ یچچ بل 
راے۔ححخرت نے چجفر مایا جو یا دیس ہا جب بیدارہوا تق ارادہ می پچشگ شی _ ول 
میس ا ککوہ تسسکون تا ۔ رد ومک یکیفی تشم ہوی یھی او رن ز یز ب قرار واشمینان بش بل 
ڑکا کراب تج کا کا شرو حکرد ینا جا بے ۔ لہذرااللتھالی کے مپارک نام کےھروس۱۲ 
لی ۱۳ کک شرو کردا تی بد نے خوب مدکی 00110 
حقل رتشن علیہ الرح کون ے عد میث رعول حلأ اع سے خوب شف تھا اورق رآ ن تو ا نکی 
جن تھا خوا بک یی راز دآشم نے بی یکہائس خال سک اخلاص ہہوںہ ہہ وکا مک وکچھوڑ 
دا شیطالی وسوسہ ے۔ اڑل مبیت درس تکی نے ارات اے: 1.27 ت۰ 
طل بکی جاے اور جکام ہوجاۓ اس کچل پرمغسو بکیاجاۓ - 
2 وناطر جیز گرین یت راہ 
: گل ی - ض شا 

اپنی تھی رکا اعترا فکرتے ہو رت العز تک ی یر و نی کا سیقلب سے 
تو رنقی م۲ تی لکرتا جاے۔ ہرقدم پر ڈ متا جاۓ او رآ ےکا طرف چا جائے۔ اس 
طرع منز لکی طرف بڑعتا جاۓے ای درمیان نطرت تو ویک یت نر گر ری دیاء 


اس 


کےخوف سے کام و لکو نہ بچھوڑنا جا بے اورادڈ دی طرف متوجہ ہہوکرشل شر ںعکرد بنا 
چا ہیے۔ اس ططر ‏ کا رو عحکردیا جکہ درمیان ین زی تا فآ ز ئن لی کی اور 
پچنی طور بر مفلوج ہوگیا۔ ازعد اخنظا رکا تعملہ ہوا۔ زندگی پچ یگئی اور و خیال میں نہیں 
سوج سکتا ھاکہ اس طرح ےکم و بر بای ہی سبھ یھی 1سن ہوں۔ اباب سو ع ظ بی رکو 
نف کا نام در ےکر اس عاجنز وآ ٹ مک وآ ککی بھی میں بچھویک سے ہیں گھ راد تھی نے 
دس تگیرکی فرمائی اور اس عاد فا ہکوجھی بااکمر ن ےکا ذر لہا کاب کے تج یکو بنایا۔ 
شی طور بر چوکہ مس بت گچھونے و لکا انان ہو ںگھ را سامیا۔گ نم کون نیس ٹا ل سکم 
یں ض ناب ال تم تر نز کر ا وت 
اواوداق ے7 ےلرک روا ۹" 
رٹ الحزت میں عون کیا: ریا ! لوت سےکُل رذائل و شیاحت سے دیدہ با نکو پک و 
صا فکر کے ورورشروہرابیت ےئوا کر رضاءکا مقام عطا فرمارےآ ین نات المرین 
نے دعافرالی ے اَل لم اود یک مِنْ خَلیْلِ ماک عَبَة رای اِنْ 
ری خسن فا ون زی سَشعَة اتا ان لوکوں سے لے ےجس میں 
خ بیاں ہوں۔ عاججز نو علی الاعلان نمامیو ں کا مجھوصہ ہے ا سجن بل مرو ستاری وخفاری 
‌ 0 ۶۰۰۰ھ 
ایک مو رف مایا تھاملمافو کا شعاد ہوگییا ےکہ برائیاں عقا بک اکھد سے پچتا اور صا 
کی رفمار سے پلڑتا ہے ۔ بح یبھی خیہوں بھی ڈگ ہکرل کرو تہاری فطریں اس سے 
خوبصورت ہہولی بی جامی ںگی۔ ابد الا مآزاد نے فرمایا دہ الفاطا جن پ> درا ین :۶ء اور 
مقصو و یکی ابات بات فیک ہوانع سے یس تک نغاست جرد ہوک سے اورسانح تکا 
صن معموم ہوا سخ لچ اوت ےک وت زان سکو امن ے اور ولوب و 
سینا تکونات سے مپپزل فرماے مین الغرن من لبرہ نیع ا ٹل سے 
بن جلدروں کا تج یم لکراویا. ذیعلم علماء و رائین ۶ رفاء شنّ طربیقت مرشدی حضرت 


ب۲ 


ولا نا مر الترماں دامت پرکا 2 او رتیوب العلماء صلی و نطرت مو ڑا نا رذ والفتاراھ 
تقر لال الا فا مک کک ا ولا خرات ا7ے وع انان 
جظرات نے ہمت دلا ہی اور پیندرفر مایا مز بر حوصلہ ہو اک ہکابت وطباع تکا کام شرو 
کیاجائے۔ 

لع سکری فرمامولا ا الد ء نا خب نشم امار تی شرعویر ھتاب سپ ردکیاکرد ہ وی 
کاب پر اگ رفظ خانی فر ماد میں نے تج کی حم تکا نی کگونجھروسہہو جا ت ےگا مو لا نان ےکننا 
دیما یذ ا نت ررش آپ پعمیں کے تاہم انھوں نے پودی یکنا بک نظرخانی کاکام 
صولانا سراج الہدی ندوی از ہرکیء رڑس دار العلو م سیل السلامء حیدرآبادکو پر دکردیا۔ 
موصضوی نے نظ خالی بی ہیں 1 وتر تیب پرکا مکیا سے او رع نی اعراب و برو فکا رنظر 
نا رکا مکیا کاب تک ذمہدار یھی نا نام قوذ سے ٹ ہوئی۔ 

اعترافیشنیجر اورپ ناب کےسلمل ں 

ایت جم بل مد ہوکی با تل ءکناب الاتحافات الستیہ ٹی الاحادیث التقدس کا 
ری حا ایت کے نام سے ال تھا لی نے کرای اواب ا وت جائح 
الاحاد یٹ القرے کا تج فکیات ندب آ آپ و2 اتوں ہیں موجور ے۔روں و 
صرف تر جج کا بی تصد وارادہ تھا ھراللہ اک یجس ا ےففل سے وف قبنشی نے ض 
0 "0 وج 
مو درف مائی. جش کاو نکی اٹ ین ا نکی شر گی نی بای اص کنیا 
بھی تق کو وسقیاب "ھ7 بہت مشکاا ت کا سا منا 6ص “- 
رج غکیا وہا ںبھی عدریم الفص تی کا عزر با عراش کے سوا بش مانب تکا ساماانع شہ لا۔ 
اعادیث کے فو اد ج وپ کے سا موجود ہیں وہ عوابی وگموٹی ذا نم ہکی غضضش ے کے 
یں ال ےرت سارک رر فی لکل سے 
ا جہا ں ہیں خامیاں ڈش اظآۓ ووا سم کےعیوب وؤفو بکاکس ہش ے۔ 


۳۳٣ 


ال وقت جو ربرآپ کے سام جائ الاحادییث القدس یکا تر جم حجلیات قدسہ 
کی شحل میں موجود ہے وو تھا مکی تا مکلام فی ءش]شنی عق سبھا نہ وق وس کےکلا مکا کو 
ہے۔ا کاب کے ماف جناب عصام الین الصبالٹی مصریی ہیں ( اد تی ملف اور 
تیم دوفو لکو انی آ خوش رحمت میس نے لے آ بین کاب ٹین جللدوں یس دارالی مث 
قاہرد ےگ ہوٹی سے تین جلروں می ںکل احادی ٹک تعراد* ۵ا ے_ 

جلرالول می تین سوس نیس (ی۳۴)احاد بیش ند سیہ ہإں۔ 

جلدخا بی ٹیس ۳۸ سے ۸۵ ےکک 

جلرخااٹف مل ۸۹ے ے٭۵۰اا تک 

اس وف تآپ کے سا ۲۳۱ /اعاد بیث فرب کا تر جم اور بہت بی ضمرورکی حاشیہ 
و فائد٥ءنتحلیات‏ ار کے ام ے مو ود ا9 8ت وہل زہان استعال 
رن ےک یکوشت شک یکئی ہے۔ ما ہم می وطوگی نو الیل بی فلطط او رکھوٹی منہ بڑی بات کے 
متراوف ہوا کہ بببت یا امھ تر ججمہ ونش رق ہے ایک نانذاں و بے بضاعت بندہ جو میں 
کرسکما تھاء دہ آپ کے سا نے سے بس اس ارادے سک خی رکا جوگھی تطرہ و موند دالسن 
میں سممیٹا حا سلکما ھا سی ٹ لیا جائۓے۔ شا یلد ہی ضیات ومغغفر ت کا وسیلروذر لجہ بن جاۓے- 
اور لگ یکن اکر شہییروں یل نام شحار ہوجاے۔ باخر بدداران اوسف میس نا مآجائے۔قبول 
ککرنے والاء اپنے ایک عاجز و نا اہ بے مابرو بے بضاعت لت 
رجمت پر لایا ےہ دو خوب دی ضمائر وس رائ رکا واقف و باخمر ہے۔ ان یکی فی اس عاج کی 
مرف موجہ ہولٰی او رسعادر تکا سا نت کےکلام فدسیکی غرم تک 
شرف عیب می ںآیا۔ اخوان ایسفٗ نع سکیا تھا عمز مر( اف علیہ الام ے : 

جئنا ببضاعَة مُرّجَاةِ فو فِ لَنا الکَيْلَ وَ تَصَذَق عَلَینا ...الخ 

تق ررت این سے عون شکرتاے جئٹنا ببضاعَة مَرُجَاۃ فَاوفِ لا الّكَيْل وَ ۲ 
تقبّل نا نک اَنْتَ السُمِیٔع الیم 


۳" 


جا ہم یکا ماگرکسی ابلعلم کےنیم سے ہوتا فو زیاددخ بیو ںکا وص ہوتا کاب میں 
ہر ںکی اعادىیث جع وضعی بھی ہیں, جوع ربمن کے بع ہف لبھ کرد یکئی ہیں۔ ہر 
عد بی ٹکیانخ زم بھی اص٥‏ لکتاب می ںکیاکئی ہے۔أُردومی ا کان لکن ےکا لت ام ہی سکیا 
گیاکیعوا مکواس ےکوی فا ند زہہہوگا اورائگ یلم اص لکنا بکی طرف رجو ری ۔ اس 
ام رکون ظا رکھا گیا ہے رجش روایات ضیف ہگ رعوا بی فا دہ کےعت یگوھ گیا سے 5 
فضال کے ہاب میں تام مو رشن نے سیف روایجو ںکوذک رکیا ے۔ اگ اعما لکا داعی د 
وخ اٹ یلعا ت کش کی یت دیپ ےناہد جات کی میدت 
ٹیس ء چہ جائی ضیف عدیتن ہرحال یس عامیۃ الناس کے اقوال ولاک کے مقابلہ 
میں درجہ وریہ کے انتہار سے "ھھ.0۲ ہیں۔ ہاں احکام وعنقائنر کے آتے کی 
خوب ناپ و للکرروایو ںکا عماج رائین نے التزا مکیا ے۔ اسی متصد کے یی اط رقام 
مج رشن نےتستیف سے تحیف 7 روای کوگج یں پچھوڑااویلم روابیت ودرابیت کے رسو 
کے پباوجود انی اٹ یکا یں میس ضیف روایتاا‌ لکی ہے اور اس سے امت می ںکوئی 
قیدگی با برائی وخرا ‏ یکو پیدانٹ لکیاگیا بل رجو اٹ ال اوراناہت داطا عم تکا چز ہو 
شوقی جو مت میں تھا ان سکواورتیز سے مت کیا کیا ۔ کی فو تکو ا چھارالگیاء ف کو جمایگیا۔ 
یب مات ےک ای کگرد٭ و جما حت الن روایات 7 وخامء رات وا کی 
مؤں سے ب اکر فضائ لک احادی ٹکوسائے رک وکرہ ولا یت وصد یقت کے مقام بہت گنی 
اوردوسرے بث وگراراو ول ولا میتی ترکنوں میں “شخول ہوک مال ایما نکوکھوچھی تقر 
کہاکرنا ےضعیف حدبیث پگ لکر نے وانے مب وط وقوی ایمان دالے بن گے اور و 
وی روابیت ڈعونٹر نے اور ہجو میں رن وا لے محیف الا یما : واعمال بن گُئ_ 

امام مار کے تلق بہت ہی مشہور ےکہ انی جائع ان یش ردابیت در کر نے 
کے ےکس اوردورکعد تن لکاا تما فرماتے تھے .جن کا حاصل یہ ےکمہاپٹیا جائ میس 
ج بگھ یکوئی روایت ور جکرتے پے طہارت جما ی اورطہارت روعا ی دوڈو کا التزام 


۵ 


اے ر2 2 ےت ھ2 
بخاری ٹس روابیت در کرت تھے ہآ نج پیجولوگو لکوز بان زد ےکم بیرددابیت بخارکی مل 
ہے؟ یس انی سے لے چچغنا ہو ںکہامام ار یکا پگ کہ ہرعد بی ثکودر نکرنے سے سے 
سج مہ برا ن کا اکتزا مک س عم میں ہے 7 اترام مال یز منیں؟ یا 
اس التزا مرک یکو نی حد یٹ اخھوں نے بای میا لکی سے ۔ ہمارے نز د یک لو ہت بی 
آسائن جواب ےک تقرب ولعد بندو یٹس فراخقا کر ےکم ےگ جن نک ہر بات یہ 
بار کی حدبیث درک ر ہے می اع سے بہت بی ادب وا رام کے ساتھ لپ پکتتا ہو ںکہ 
امام بخارک یکا ِ۶ ,7)2 ذیاد بر التزام ملا زم تھا ؟ کیا کارے ان با توں 
کے نز د یک امام بفارکی نے برع تکیااکیادہ برق هے؟ اَسْمَفْفْر اللَّةٴ لا خوُل ول 
فو ال بل ۔شیطا نگراہ یکا راستہ بببت بی خوابصورت بنار پا ے_ 
میراذائی مشاہدددگ رپ 

ہمارے دکوت کے ساتھیوں نے میا ند جام وہنا ےہ بازارکی واوباشش لوگوں پرقر 
وش موت ولگ آخرت کے احوال س ناک رمسجبدو ںکوآ با دکیا۔ شرالی نے شراب سے فو کی ء 
زالی نے بدکارہی سے جوا و قمار کے ر سے مسر میں صوم وصلوۃ کے پابند ہوگئے۔ داڑڑحی 
سنت کے مطا بی نورا لی شکل وصورتء اشراقی واواٹینء جیاشت دی کا یابند :نایا اب 
0" 0 ""م'"'""ھ 00و" 
تم لو کک سیف روایت کے پچ می نس گئ . ائیس شی نکوموںع ملا اب اعمال یل 
خل لآباہ داع یکفیء نہ چاشت نہ اداین نہتچیدہ پچ رن مدکمدہمچھوٹ یہ بھائی فرش ہی 
ری ہوجاے تو غیمستت_ پل رخم زفن ش یھو گی او راب ودی جم و بینا۔ می ذ ای طور 
پرالیےلوگو ںکو جانا ہوں ۔گو اہ دگوت کے ہمارے سرائی باہر سے مد ٹیش لات ہیں 
اورپ لوک مسججد سے میفانہ نے جاتے ہیں ۔اید تی تی ہعارا محافظط ہے۔ میرسسارگی بد یی 


۳ 


سے در ٣‏ نخان پل اکر کے ہو بی سے شبیطان ببت بی عیار و 
مار ہے۔ اید تھی جھارکی تفا خلت ف رما ۔آ بین ! 

ان کا یر مطلب پالئل بی نی سکیف تی روای ٹکو۹ لکا نرار بتایا نے یا 
داروہرار بمارا عرزے میں روائوں ری ہو مق رصرف بد ےک شردت وق نکوشتم 
ےش ضر یکن نکیا ےن تی رب شش نت توف حر ےکی 
ری میں اگ کوک یی دم اٹھار با ہو ا سکو ردکا نہ جائےء اور ۔ہا لآ تج 
کرناجاہیں یکر می گردوسروں کے میس مناع للخیر شدنٹیں۔۔ راہاعترال پر ہیں اور 
شرت ولغرت ے دورر ہیں الف اس طرح جم بل عیدرہ ےیل وکرم سے جو ہواوہ 
ہوا یکن ےک اسلو سلوب ولب رات ء تر جمہ وتر جھائی سن وخو لی ءکمال و مال مکی و 
سیل میس دہ بات پیدرانہ ہو جو ہولی جا ہے ۔اا سکوا تق کانچنش مچھا جا او راگ ہیں 
را ا ا یس ےت 

میں ان مام احبا بکا نون ۰,۹ ۶.ٔ ٰ 2 ھ2 
کا ناو نکیا ۔ او رماع کر ولا ناس راج الپدیٰ ندوی از ہر یکا جخھوں نے پور یکا بکی 
نظ انی ویج میں تقی رکا تعاو نکیا اورالڈدتاٹی سے دعا ےک موی ا کنا بکی برکت 
ےکبھی لوگو ںکی زندرگیوں میں برکت ڈال دے اورکلام فی کے لس وطہارت سے 
دی اش نکو کیہ اورطہارت قلب لحبیب فرماۓ اور بح مکو دنو گی واشروی نام رادث 
دعافیت عطا فرماۓ اورسجوں وفردس انی جناب میں ا سکوشرف تبولیت سے نواز تے 
ہو ے نے خلالی کے کٹ عام ہام بناۓ اورا س تیر کے لیے صدرقہ جار یہ کےطور پر انی 
رضاء کے لیےقجول رما ۓآ می ن تم آئین۔ 


2 


احاد یش فْر سیر ےتقیبرکی مناسبر تکا سبب 

آ جع سےنق یبا ۸سا لن لکی بات ہے چیہ عاجز وآ عمان میس بخرض ملا زمت 
مٹیم تاء ملائلی تظار یک ای کف کاب ارتشن احاد بیث قد سی ای ک کیہ بی ہی ۔کتاب ہگ ء 
اعادبی کا مطال ہکیاء نے یما ول ہواک ہآ ج کی بادہھم نے ایے ر بکوشمحوری ور بر 
ہے اوروجدان یں جن بل مج ہکی محب تک یکشش جاگ ھی ہے۔ پچ رن تال ی کی 
بنروں سےمحبت اور بندو کات ای سے رپا تلق اورحبت خال یکائنیم س مار یٹس سے 
بندگی کا لطف وسرورآجاے اور بندہ ا معبو تطیقی وو زضقی رتصو طیقی , مطلو ب تی 
سے عحب تکمر کے مفویققت ابمان وایقا نکی شعوری ووجدا نی کیفی تکوعبادات دطاعات مل 
ع(اوت وشرج صدر یکیفیات وی00۶ طور شس ںکرتا ے دہ مابروعطاءر بای 
سے جم سک الفاظ :و پرویانئیں جاسکزاء ال ڈول طور یو ںکیاجا سا ے۔ فخال کی 
عبادت حبت کے سا ھکر نے کا مزہ ولطف ہی اور ہے۔ بل مجرہ کےکلام قد یی 
علاوت وظراوٹثء ذوق ومٹھائس جمارے ونم دکمان 000٣م.ی,یھءھ‏ وراءالوراء ے_۔ 
نع یت یت سیکا روخطاکار بڑھتا ے یسا عبّادِیٰ انی مت الظُلْمَ یا 
ِبَادِیٔ کُلكُمْ صال الا مَْ مَدَیٔث . یَاعَبْدِی أَدحْل عَلی یَمیٔیک الْجَنَة و غَیْر 
لک نو اییائسوں ہوا ےآ ج کک مات میں خھاء ا بکوٹی می رارب ے جوشعور و 
09ف ب ب 9 . ٔ 22ھ20۹ روش نکر ہاہے۔ اوراپٹی ذات ریم وک رم سے 
ریب سے اقمرب تب نکر پاے ال سے پل الاشحافات السنیے فی الاحادیث 
السفسدسے کات ج تی ہج می ہکی با یں کے نام ےش ہوئی الم دڈیی جا پھر 
الاحاد يیث القد سک تچ شر ”تما مت قد کے نام سے ز مگ ئ00 
وقت' حجلیات فرسیے تر جم دشر عوائیآپ کے سام ہے۔ اعادبیث فرسیہ کے مطالعہ 
ے السا صسوں ہوتا '"/ رر مر اض لگیا۔ احادیہث 
قرسیہ پڑ ھت بی ای جل میدہ سے با ہون ےق ہیں ہر ہرکلام زی سےجضو رق نکی 

۲۸ 


تضموربی :من آعاب یکا طف وسرورہعبدوسمبوداوررب ودود وشگور,کفو و فو رکی رت عام و 
تام کا ساب نو ہونے لگا و الما الا حاد یت القدس یکا ت جم ات قد سی کے نام سے 
شرو عکیا۔ُردوداں عوا مج کی نال ی کے پا مکو عا مرن ےکی ضرورمیے ءن لبق بحل 
و شر راک ہرس اپے با نکومنو کر لے او اس طرح من تما یک ینام 
مرذائن عام بوجاے۔ بی سبب بنا نشی کنب ا 0 902 
قَمِنَ الله ء و الْحَمْة لِله و الصّاهوَ السلامٌ عَلٰی خاتم الی٘ین مَنْلا نَبيَ بَعْدَة 

عد بیش فی محد تی نکی ایک خاضص اصطلاح ہے قدوں کےسعئی باکیٹزہ اور طاہر 
کے ہیں۔ ای می میس ار مقرسہاور ہبیت المقل بھی بولا جانا ے_ 

قرآن ید ے يَا قُوْم خلت کی تتات ‏ غ لا 
مم بن بل مجر ہکی ذات نما معجیوب سے پا اک اورترام نقانش سے مرااورمنڑزہوے۔ 
اس لیے اس کے نامموں میں سے ایک نام فو بھی ہے اور اعادی ٹکو قر ںکی طرف 
مفسی بپکم رن کا مطل بھی می ےک بعد یث ایند تا یکی طرف موب ہے ای لیے 
اعادبیٹ ق یکو احاد ییٹ'الی او رآ خا را یگھ کہا جانا ہے- 

یکریم خلاوقعد یٹ تد یکو جب بیان فرماتے تھنذ بھی بواسلہجرت بین 
ےگ رع وت تک ےت جم وط 
ےک بج رنلی نے ججھ س ےکہاء اور جن سےم جل محیدہ نے فرمایا اور“ 
ارشادظرماتے ‏ ےک ارد تھا لی فرماتاے۔ 

عدییغ ند یک امرف 

اس لیے عدیٹ قد یک انھریف بر ےک عد بث قدی دہ عدبیث ےج سک اللہ 
تواٹی نے اپنے نہ یکواہہام ما خواب کے ذر لہا طلاع دگی ہہو یا جج نل علیہ السلام کے واسلے 
سے اطلاع دکی ہو اور جناب رسول اللد لأفقم نے اس کو ای عبارت اور اچینے الفاظا مل 
با نکیا ہو 

۳٠ 


حد مث ری حر کلم لاصیا ری کے مز دک 
عر بث ثری وه سے جج سک راویوں کے سردار اور ڈثےہ لوگوں 2 27 بی ریم 


تن تالٰی سے روای تکریں :بھی بواسطہ رکیل او بھی بط لی الہمم دبوگی او یھی 
پزر لیب خواب۔اوراس کے بیال نکر نے می ںآپ اف ار ہو ںیک جن الفاظظ او رعبارت 
کےساتھ جا ئیں جیا نکیں۔- 


0و 


(۲) 


(۳٣) 


2 


)(ہ( 


(ے) 


عد یش ری اورٹرآن میرشیں رق 
رآئن ئجیداورعد بی دی مل بڈافرق ے۔ 
ش رن ید وف رفا نحی رکا زول صرف نیل علیہ اللام جا اط ےی 
۰ ھ0 
ق رآن یر لوب تفوطط کے الطاط کے ساتقھ مقید وسسین سے جک حد بیش ققدری میں 
الیبانیں ے_ 
ش رآئن ید ہروقت پر مار مین ہرطیقہ میں مو ات طبنقات کے سا تج نول ہروا 7 
ہے ج بعد یش ند یج رآعادے_ 
ق رن یدک فی مار تکا مل کے ہاتھ لگا زا درس ت نیس جج حد یش ند یکا عم 
یں سے۔عد بیشی ف دک یکو اخی ارت کا و نے اتجھ لگا نااور پڑھنا جات ے۔ 
ق مان می کی ای کآ بی تکاا کا رکف رکو لاز مکردیتا سے جس حد یش فی کا مگ رکافر 
یں ہہتا۔ 
ق رآ نعی سورں او رآیوں ک ےر نے اوران نے ات وا ل کو پر7ف پ 
و یا ںکتقی ہیں۔ ہرم ک خی وتبدل تن جل میدہ نے تفاظت کا اعلا نکیا 
ہے جک عد بیشۂ فی کے لے ال کوٹ یم غاب ت یں سے۔ 


عد بیش' دی ادرحد بیث شیل فرتی 
عحدریث دی اورعد بیث مدکی بل ما الاتماز يہ ےک عد میٹ قد ی گیا ظبد ت تن 
لی 1ی جاب ہو ی سے مین جس عد بر ٹکی سند اویل بل مد ہبنتم ۶ دع درمڈدِٹری 


ہسے۔ 


اورحد بیث نوک شاو دہ ےج سک سند جناب مررسول او خاوق متخ ہو 

عدبیشہ ندی کے شروع میں بہکہاجا نا ےکآ حضور عق بل مرہ سے 
روای تک/رتے ہیں۔ یا بچھر برا راس تکہا جا ا ےکجقن ہل مہ ارشادفر ماما سے جم سکو 
رسول الد حأأئےئغ نے روابی تکیاے_ 

احعاد بش ذس ہک اننریف میں نف مین اورمتاخری نکافرقی 

اعادیث سی اع اعادی ٹک وکہاجااے ہہ سکوئ یکریم حا نے تن تما ی کی 
جاب مغسو بکیا اورتمن تا ی سے روایی تکیا ہواس لیے منففر مین کے نز د یک احادییث 
رسب کی تحدادم ہیں چیہ متاخ بین نے اس میں وسعمت سےکام لماادر ےس مع کیا ےک ہردہ 
یر مین 2 لک آاںل اورتضتز لت نی رت کن گ۔ 

نقارنین ے الا ددعا 

ہادرے این علاء ءادباء ءخطبا ہشقن رفس رمین نت کی نون کے ان 
عاتز ونی دا نکو اخترا فی شھیر ےکن تھا لی کےکلا مکی ت جمالی کان ادا نہ ہوا۔ 
خوبصور کیب رات بن الوب تر جم مل روا لی ورعنالّ پیدا نرک رما تا پھ سن خبیت 
ورك عام کےسب بکپوشن لک یکئی ‏ ےکہآسان اور عا جم زبان اتا کیا جائۓ اک ہر 
شس جن تعال کی با تکوآسما نی ےبجھ نےء دو علم تو بھی ےکم ما یہ کے لیے بنبل ھی 
ہے۔ اپ قارمین سے درخواست ‏ ےک اگ ہیں تج وتر جمالی میس ذاش لی ہوکئی ہو یا 
کو وشیان سے نیم ونا خی رہوگئی ہو وی نبیت کے ا شی انا ئا نکی 


گا 


نا تر ن7 ےت 
آخریس رب سو وف ول سے استتغفار وندامت کے سا تق قمو لب تکی درخواست 
ہے۔ می را رب جس نے عاجز وآٹ مکونو یق یچپٹی انی جناب میں ا نے کلام قد یکوقوول 
کر کے اس بندة عاجڑ وم لومعم ومففور بناکر رححت واسعہ کے ساب یہ میں نے کے۔ و 
ھُوٌ عَلی مَا یَشَاء قَدِيْر وإِنَه اَرْحَم الرَاحمِینَ ۔ سُبْحَان رَبّک رَبّ العزَةِ عَما 
عفر ء رسلا عل المرمَِين ز اعم لله َتّ الم ُبَْانَ اللهرَ 
مد سُبْحَانَ اللہ الَظیْم ء ء سُبْانک اللْهْمٌ و بحَمُدِکَ وَاَنْهَد انل 
70“ 
الْعَلِیْمٌء وَتْبْ عَلَیْنا اِنک اَنْتَ التوَابُ الرَحِْمْ اَللَهُمَ صَل علیٰ ین 
مُحَمّدِ ختی لَايْقی مِنْ صَلاِک مَی: الله سَلمْغَلٰی سَّدِنَ مُحَمدٍ حَتی 
َا فی مِنْ سَلایک ضَیْء اَللهُمُ بَارِکٔ عَلی مُحَمَدٍ تی لا بیقَی مِنْ 


الرثوم:یوم الاحدء اکیاے اولیا ولقشمنر 

قبل صلاة الظھر الع نین اشرف این الیاح مرابرا وی تشم نی 
فی مصلی الحبتورء دبی کان الله لھما و غفر والِدّیه 

۶۹ ۶۹ٌتھ نیشن ماوھو پور سلطان پور 
۸ءء ضلع بنا نی ء بہار 


عال تم دی 


"۲ 


َِابُ اکر وَالأتاءِ 
تھا لی کے فرش ابل ذکرکوڈعون تے ہیں 
باب: إِنّ لِلِٰ مَلايكَة يَطُوقُونَ فی الطٌرٴق مَلَمسُوَْ مل الگر۔ 


: عَ اَی مُرَيْرَةَ لہ قال: قال رَسُوْلُ الله‎ )۳٣۸( 

”ان لہ مَلَاْكة یطُوْقوْنَ فی الطرق بَلَمِسُوْنَ ال اکر قَإذَا وَجَدُوا 
قَوْما يذَّكرُوْنَ الله تَادوْا: مَلِمُوا إلَی حَاجَيِكُمْ. قَال: ََحْفُوُنهْم بأَجْبْعَيهم 
لی الما الذَاء قال: فَسَالْهُمرَّهُموَهُو اعْلم مِنهُمْ: مَا َو لعبَادِیٰ؟ 
قالوا: یَقولونَ : یسبُخونک ویکبرونک وَیَحْھدونک و یمَجدُونک,. قال: 
فیَقوّل : ھَل رَاوٴنی؟ قال:فِيقوْلوْنَ: لا الله مَا راؤوک. قال: فیقول و كَِيْف 
تَمْجیدا وَأَكُتر لک تَسْبْکا۔ قال: بَقُوْلَ: فَمَا يَسالونیٰ؟ قَال: یَسْالُنک 
الْجِنَة. قال: يَقُول: وَهَلُ رَأوهَا؟ قال: یَقُوْلونَ: لا و اللَِ یا رب مَا رَأوْمَا. 
1 7 5 وی1 > ور > و 6اوھو 7 میں ری و و ہر 2020 روط سر مہ 
قال: يَقوّل فَکیٔف لو انھُم رَاوهًا؟ قال: یَقوْلوْنَ: لو انهُم رَاوْمًا کانوّا اشْذ 
عَلَيْهَا حِرْصَاء و اشد لھا طلبًاء و اغظم فِيْهَا رَغبة. قال: فمم یَتعَوذُوْنَ؟ فال: 
يَقولوَن: مِنْ التار. قال : یقول : و مّل راوَهًا؟ قال : یقولوْن : لا و الله مَا 
رَاوّهَا. قال: یقوّل : فُکِیٔف لو رَاوھَا؟ قال: یَقولونَ: لو رَاوهَا کانوا اشْذً مِنھا 
قوْلَ مَلکٌ مِنَ الْمَلايْكة : فِیْھِمْ فَلان لیس مِنْهُم إِنَما جَاءَ لِعَاجة. قَال: ُمْ 
الْجْذْسَ ءا يَشْقَی بِهمُ جَلیمهُمْ“ (صحیح](آخرجه البخاری ج۸ ص۰۷٠)‏ 


۳م 


ذالرین کے پارے می الیکا فرشتوں سےسوال 
۳۸( کیم : حضرت ال ہریرہ ضللد سے ردایت ےک رسول الد پا 
فر مایا :یی بل میدہ کے پھوفرشت زین میس ائل ذک ری ہجو می ںگش تکرتے رجے ہیں۔ 
ج ےی جماعح تکوذکر میں مشفول پاتے ہیں نے آواز و ےکر دوس رےفرشت کو بلاتے ہیں: 
آ جا ہآ جا ہتہاری عاجت ومقصد یہاں ودک ہوگی۔ رسول الل پا نے فرمابا:ففرشت ان 
ذاک ری نکو اپ پازووں سے اٹپ لیت ہیں ءآسان دنا تک رسول اللہ جلا نے ارشاد 
فرمایا: الد تھالی سب بج جات ہیں بچھ بھی سوا لکرتے ہیں : عیرے بند ےکیاکھررسے 
ہیں؟ فرش عفن ضکرتے ہیں: د ہآ پک اتی او ہک یائی با ننکردے ہیں اور پک ی یر 
ون بیس میں مصروف ہیں بجی بل میروفرنشتوں سے بیو نے ہیں :کیا اکموں نے ےد ریکھا 
ے؟ تضور للا نے ارشادفر مایا: فرشت عون کرت ہیں :نہیں و یکھا و تیرے جاہ و+لا لکی 
صھم امم تھالی فرماتے ہیں: مر وو دک لین کی ہوتا؟ فرش عخ کرت ہیں :اکر وو کچھ 
لیے نو ا ن کا شوٹی عبارات اور بڑھ جاتا ایر پکی ٹج ورس میں اور زیادہ ہنیک 
ہوجاتے _ رسولل ایی اللرعلیہ یلم نے ارشادف مایا تق بل مروف رماتے ہیں :د کیااک 
رے تجھ؟ فرشن عو ضکمرتے ہیں: وہ جن کا سوا لکررے تے جن بل دہ فرماتے 
:کیا اھوں نے جنت بھی ےہ فرحتے تن تی یں ھی کی می 
عجد: ظرماتے ہیں: اکر وہ دکہ لمت ا نک کیا حال ہوتا؟ فر شی عو کرت ہیں: رٹ 
العزت!اگمر وک لت فان بیس جن تکی طلب و نکی ھی اور بڑتھ جالی اود ا کا دی ہر 
وت جنت کا ماق بنار تا بل مد ہکا ارشاد ہوتاے: دوکس یز سے پناہ ما کے ہیں؟ 
تصور پآ ۵ ,وت راس 7ئ سے ےحمور بللا نے ارشما دشر مایا: 
ال تھائی فرماتا ہے :کیا اکھوں نے ہم دیکھا ہے؟ فرشتے فو کر کے حاع ذ رت الات 
نیس دیکھا۔ ارشاد ہوتاے :اگمر کہ کین فک یاککرتے؟ فرشت عو کرت ہیں: اکر دکیچھ 
لیے جم کےکام سے ببت بھاگتے اوربہت زیادہ ڈرتے۔ ول ال ظا نے ف رای 
۸ 


تعالی ارشاوفرماتے ہیں: فرشتو! میں ت مک وگواہ بناتا ہو کہ میس نے الع س بکی مخقرت 
کردہی۔ رسول انل چلاجانے فرمایا: ایک فرشن عو لکرتا ےکہ ان یس ای کف شس ڈاک رین میس 
سےکہیں؛ لوہ 1 انی عاجت کے سے ےآ یا ہے۔امشادباریی تھالی ہوتا ے: بدا ری میں 
اع شمخظرت اعت ےکا نکا ہم شا نکی نحردم شر گا( فارگ ١/ے٠۱)‏ 
مالس ڈاکری نکی فخیلت 

)٥٣٣(‏ عَ اَی هُرَيْرَةً لہ أَوعَْ اَی مَعیْدِ عللہ قالا: قَالَ رَسُوْلُ الله 
: ”إِيّ لِلْه مَسلاِبِْكَة سَبَاحِیْنَ فی الرُض فَصْلاعَنْ کاب الَاسء قَاذدَا 
َججدوٌا أَقُوَامايذكروْنَ الله تَادَوا: مَلمُواإِلی بَعَکُمْء فْجِیمُونَ فبَخْفوْنَهُمْ 
لی سَمّا الدُناء قََقُوْلُ اللَۂ : لی ا شی وِتَرَكُنمْ عبَادِیٔ یَصْنعُنَ 
ُولَوَْ: تَركُناُمْ يَحْمدُوٴنکَ وَیُمَجْدُوُنک وَیَد کُرونک. 
َأَوْنیٰ؟ قَال: فَيقَولُْنَ: لو رازک لَکانوْا اَدٌ تَحْمِیْذٌا و أَشْةً تَمُجِیْذَا و اف 
لک ذِگرا۔ قال: فیَقُوْلْ: وی حُبْىء يَطُلْْوْحَ؟ قال: فقو : يَطَلوَْ 
لجِنَة . فقَال: فََفُوْلَ: وَهَل رَأُوهَا؟ قَال: فَقوْلوْنَ: لا . فيفُوْلَ: فَكَیْفَ لو 


۔ .2 
ے ےم لایہدےہ۔ 


ال: فقُوْلَ: مِنْ ایٗ شَیٔی ء یَعَعوَدُونَ؟ قَالوْا: یََعَودُوْنَ مِنَ النَار. قَال: فَيقَوَل: 
ول رَاوْهَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ: لا فَیَقُوْلَ: فُكَیْفَ لو رَاوُهَا؟ فَيَقُولُوْنَ: لو رَاَوْمَا 
کانَوا مِنْھَا أَشَذٌ هَربَا و أَصَد مِنھَا عَوْقَا وَ اد مِنَھَا تعَوُذًا. قَال : فَيقُوْلَ فَإنِیْ 
افْهكُغ ابی قذ غَفرث لهم, فَيقولونَ: إِن یم فَان الْعَطَاءَلميرِكهُم 
نما جَاءَ هُمْ لِحَاججة. فيقُوْلَ: هُمْ الْقومَلَيَشقَی لَهُم جَليْسّى.“ 

[صحیح] (أخرجه الترمذی جح٥ )٥٣٣٣‏ 


۵ 


(۳۲۹) 7م : حفخرت اوہ ےرہ نہ یا الاحیز متلہ ے رایت ے ان دولولں 
٣‏ 7 "0 .9ں وھ و رت ما 
کرت ہہیںء ججونامہاعمال کے کین وا نے فرش کے علادہ ہیں ء( راستوں ہی ںگھوتے ہیں 
ڈاکری نکی جا وھ میں ) ج بی تو مکوابلدپاک کے کر می پاتے ہیں ذ آواز لگاتے 
ہیں ان فرشتو ںکو جو وک رکرنے والو ںکی ہاش میں ہو ہیں 1پ 1 تما را تقصودو 
مطلوب یہاں ہے٤‏ و تھا فرش ڈاکری نکواپنے باز ول سے ڈ اٹپ لیت ہیں ءآسمالن دنا 
کک ( یجن ورای فرش آ یں می سآسما ن کک ان ڈاکری نکوڈحانب لیت ہیں ؛کیونکہ وک کی 
وراضی تآ سا نکک جالی سے اورفرشتو ںکی نما ان ارہ ذکر بی نذ ہیں ۔) ان فرشتوں سے 
تی ہل مد خمام بانو کو جا مۓ کے پاوجودمعلو مکرتے ہیں ء میرے ند ےکا کپیدرسے 
تھے نے مس کر نے ہیںء رٹ الا لمین! آ پک یت می تب جیدگارے تے۔ 
ارشاد ہوتاے :کیا افھوں نے جم وکودریھا سے؟ فم رشن عو لکمرتے ہیں: نکی ذا تک یم 
ےن راوتا ے: اکم دک لکیتے ت کیا ہرڑنا؟ فرشین ع ‏ شگرۓج ہس اکر دک 
لیت نو اورجی عباوت واطماحجعت ہیں مصروف ہہ وجاۓ اد رچھیش نجیر وگ رہوجاتۓے شی 
بہت می روغازئ 2 شی گر وتجید اورشا نعبودی تکا تن اد اکر نے مور 
ہوجاتے۔) ارشادہہوتاے :دہ جھھ ےکی سوا لکرتے تھے؟ فر تع کر تے ہیں : نت 
اتک رے تے۔ ارشادہوتا نے کیا کھوں نے جم تکود یکم ے؟ رت گن 
رٹ العالین تم نت نہیں یھی سے۔ ارشاد ہوتا ے: اگ وو نت دکپہ لیے تو ؟ 
رٹ الععزت !اگمرووجضتکو ہک لیت فو ببہت بی زیادہ جن تک یٹنا وم کرت اور ہم وقت 
ا کی طلب میں من بک ہوجاتے اورائ لک رقبت بت زیادہ بڑھ جال ۔ارشادہوتاے :وہ 
1 پروں سے پناہ ما کت 21] ےرس سن برۓجے ینا 2 سے ارشادہوتا ے: 
کیا اننھوں نے نار دوز کو دریکھا ے؟ فر ھن عو کرت ہیں: رٹ اعا کین تیر یمم 
میں نے ار کین دریکھا۔ ارشاد ہوتا ے: اگ دکپھ لیت تو؟ فرشۓ وع نک رن 


"6٦1 


ہیں:اگردکیہ لیے نو نارچنحم سے ہین کے لے ببہت بی زیاد اشن کرت اود نا رج ےے 
اس فدرڈرت کہ استروں پر خینرترا مکردیئے۔ ارشاد ہوتاے : میں ن مکوکواہ بنا ہو کہ 
نے ان تمام ڈاک رین کےمم کی مغفر تکمردکی اد کت ہیں :ارب !اس ٹیل ایک بندہ 
ای بھی سے ہج س کا متصصدذک یس تھاء دہ اپنی ضرورت ےآ ما تھا۔ ارشاد ہوتا ہے : ہا توم 
وجمامٹ کمن کےساتھ نے وا ھی رجح مت ال ےجرد بیس رو کتا۔ 
فرش و ںکی ماش و جو 

)٠٣٣(‏ عَنأبِیْهرَیرَة لہ عن اَی 3 قال: 

”الله ارک و تعَالٰی مَلاِگة سَيَرَة فص ََهوْنَمَجَالِسَ الْکرء 
قَٰذَا وَجَدُوْا مَجَْلِسًا فَیّہ در قَعَڈُوا مَعهُمْ وف بَعُصْهُمْ بَعَصَا بِأَجِْعَيهِمْ 
تی مَمَلاوامَا بَْمَهُم وی السمَاء الڈیاء دا َفَرَقَوْا عرَجُزا و صَمِدوا لی 
السمَاء . قَال: فيسأَلهماللهُعَرَوَجَلٌ- وَهُوَأَعلَمْ بهم -: مِْ اينَ جِنمْم؟ 
َقولُوْنَ: نَا مِنْ ند عِبَادِ لک فی الَأرض. يُسَبْحْونَکَ وَبُکَبرُونک رَ 
هَلَُوْنَک وَیَخیدوْنک وَیَسَالوْنک.قَال: وَمَادً يَسْالَزنَیْ؟ قالْا: 
یَسْالُنک جنتک.قَال: وَهَل روا جَنَيِيْ؟ قَالُوا: لا. اَی رَبَ ا قَال: فُكیْفَ 
لو رَأوْاجَتييْ؟ قلُوا: وَیَسْمَجِیرُوَْک. قال: وَ مم مَسمَجِیْرُوْلِیٰ؟ قالوا: مِنْ 
تَارک يَا رَبَ ا قَالَ: وَهَل رَأوْا نارِیٰ؟ قالُوْا: لا فَال: فكيْفَ لو رَأُوا نَاریٰ؟ 
الو : وَیَسْمَغفرُوُنک. قال : فَيقَوْل: عَفرْت لهمْفَأَعَطيَهُمْمَ سَالوارَ 
جن کا ارز قَال: فیقَولَونَ ا رَبَ فِيْهم فَلانْ عَبْذ خطاء. ِنَمَامَر 
فَجِلَس مَعَهُمْ. قال: فَيْقَوْلَ: وَلَه غَفَرثُ. ھُمُ الْقَوْمْ ا یَشْقَی بهمْ جَلِیْمْهُمْ “ 


[صحیح] (أخرجه مسلم ج١٤‏ ص۹٠۲۰)‏ 
(۳۵۰۶)ت بج مہ : حضرت الد ہ رید داد سے ردابیت ےک رسول اید نے فرمایا 


تہج تھالی کے بج فرش مضتنین ہیں نی کا سیام ذک رک یج سکو ملا شلکرنا سے جب وہ 


کے 


جن باجائے چہاں کرک علق کا ہوا وہال یھ جا نے یں اورشر شش تام ذکر 
ٌ۔ والو لکواچپئے پازوول سے ڈحاٹب یت یں اور ایک دوسرے کے او بر ہے پاڑوؤں 


تعشت 


کورک د نے ہیں۔ ہا لم کک ہآ سمالن دٹیاتک بیساں ہوا ہے جب دہ لوگ پارگاو رٹ 
العزت میں حاض رہوتے ہیں و نی بل میدرہ ان سے سوا لکمرتے ہیں ؟ حالاظکہ وہ سب 
بچھھ جات ہیں ستم لو کفکہاں ےآرے ہو؟ فرش عوف کر تے ہیں : پھم لو کپ کے 
نے جو زان می ںآباد ہیں ان کے انس ےآ ہیں جآ پکی سی وگیی راو یل و 
تیر میں مشغول تھے اورآپ سے سوا لکرتے ہیں ۔عن بل محدہ پوت ہیں: و ہکیا 
عوا لکررے ہیں؟ فرش عف کرت ہیں: جن تکا تم بل دہ لوت ہیں :کیا اکموں 
نے میری جنت دشھی ہے؟ فرش عوی کرت ہیں :یں ونکھی ین بل حیدہ و چتے ہیں: 
ا نکاکیاحال ہوتا اگ روہ جنت دیس ؟(یڑی غیرد سے ہوے اس قررطلب وشوقی ے 
ار دکھ لین فو پچھر بی شوقی وطل بکس فدر بڑھ جاتا)۔ فرش عو ضلکرتے ہیں: رٹ 
الرت !ود ہآ پکیاسزاءعذاب وعقاب سے بناہ جاور سے تے۔عن بل مدہ مو تتے ہیں: 
دو اورکس جیز سے بنا جاہ رے تے؟ فر ھن خخ سکرۓ 0ئ سے 
نہ حیادارے تے.جق مل مجدہ و جتے ہیں :کیا انھوں نے نشی جنم بھی ے؟ فرجتے 
عو کرتے ہیں :نہیں دنھی بجی مل میدہ یو چھتے ہیں :اکر وہ دک لیے ق ان کاکیا حال 
ہوتا؟ فرش عوف کرت ہیں : رٹ العزت او وآپ سے مخفرت ومعاثی ماتک ر سے تے۔ 
جن بل مج ہکا ارشادہونا ے :میس نے ا نکومحا فگجھ یکردیا اور وہ جو ٹج ماتک ر سے ہیں 
یں عطا یکردیا۔اورجنس نز سے پناہ جیاہ ر سے ہیں اس سے پناہئھی دے دی رسول 
للا نے فرماا:ف رشن عوف لکرتے ہیں ری العا مین ! اس ججماعت میں فلا ں نخس بدا 
بی خطاککار ون گار ےء نات دنن کے اس س گر رہ تھا تو ان کے سراتھ بٹھ 
گیا۔ارشادرٹ العزت ہونا سے :بیں نے ا سک یبھی مغفرکمردیء می دہ جماععت تر 
بات ےکا نکا بھی نبھی رحمت عام ےمج روم نی سکیا جاسکنا۔ 


۸ 


ا نک ہم تی ھی روم یں رو سا 

را ۵ عَنْ اب هریْرَة لہ قَال : قّال رَسُزْل الله ےل: 

۲ لِلَ مَلَابِكَة سَیارَة صْلايَلَمِسُوْن مَجَالِس الاکر ء ء اذا نوا 
لی قوْم یرون الله عَووَ جَلٌ جَلَسُوْافَاَظلَوهُمْ بأجُْعَيهم مَا بَينهُم وَبَیْنَ 
ہہ و سم ریت سعسم ہت 
2ت - مِنْ اَبْنَ جَِسْمُم؟ فيقَولُوْنَ : جن مِنْ عِندِ عِبَادِ لُک يُسَبَحُونک و 
يْمَجد ٦‏ ,, س72 
ایک وَیَسْالوُنک جنتک فَقُولَ تبارک و تعالی: وََهَل رَأوْا جَتيِیٗ و 
نار ؟ فَيقُولوْنَ: لا فَيقوْلَ: فَكيْف لو رَأَْهمَا؟ قَال: فَفَْلَ: اَمْهدکمْ فَقَد 
رتنم ما اسْمَجَاروا وَأَغطینّهم ما سَالوا. فيْقَالْ: إِكَ فِنْهم رَجْلاَمَرَ بهمْ 

[صحیح] (أخرجه الطیالسی فی مسندہ/٣٢٤۲)‏ 

(۳۵۱) جم : حضرت ابو ہریرہ دہ سے روایت ے رسول الد چا نے فرمایا: 
جن مل دہ کے فرش ےگشتکرتے رہ ہیں ذک رک تاس کے ملا میں ء جب کسی 
قوم کے پا س7ت ہیں جو ؤکر میں مشخول ہولی ےو اس ججماعت کے سا ھ ہی چاتے 
یں اوران ڈاکین پر اپنے بازوەوں سے سا یکر لیے ہیں شش بازوٗوں سے ڈحاب یٹ 
ہیں ءآسمالن دنیا تک ۔جب اک رین ذکر سے أُجھ جات ہیں نو فرش رٹ الحزت 
پاچ جاتے ہیں۔ 

فو بل مجدە سب بئھھ جانۓ کے باوجووفرشتوں سے بے چھتنا ہے:تھم لو ککہاں 
سےا ہو فر نے عف کمرتے ہیں : ب مآپ کے ایے بندرولی کے پائس سآ ر سے ہیں ء 
"و تے او رآپ غاب وعزاب ے پاہ 
اد رے تے اور جن کا سوا لکررے تے جن بل مہ فرما تا :کیا اکھوں نے ممیری 

"۹ 


جنت جم دنھی ہے؟ فرجت عف ضکرتے ہیں نہیں وجچھی .جن مل مرو فرما ا ے: گر 
دکھ لیے پا نک یکیاحالت ہو فی ؟ رسول ال چےتا نے فر مایا ع بل مروف ما ما سے فرش توم 
گواہ رو یں نے ا نکوجس جن سے پناہ جات تےہنحبات دے دبیء(یڑنی نا ریجنحم سے ) 
اورٹس چزکی طلب چھقا رت تھےءعطائکردی ۶۵09ی سشت نف کر کے 
- ہیں :اس میش ایک ننس وہاں سےگمزرر ہا تھا رف یٹ گیا نی جن س کا مقصید زکر نتھا) تن 
تھالی رما جا ے:ا نک بھی مخفرت ہوگئی بای مبارک لوگ ہی ںکرا نک پ می نقچھی رحمت 
وت سر یں 2ھ" - ( اڑج الطیا ا من ذٰ۴۳۴٣)‏ 
تیک وگوں پرنازل ہونے والی رعت سےگنہکا رش ینحرد کڑس ر بتا 

)) ع ابی هُريْرَة لہ أَي رَسُوْل الله قَال: 

”الله عَروَجَل ماگ فُصْلَايَهُوَْ مَجَالِس الک يجْحمِعُرَعِ 
الکرء ہیی شش کے رئیش 
لهُعَروَجَلَلَهْمْ - وَهُوَأعلمْ -: مِن اَبْنَ جنتم؟ فَيقوْلوْنَ: مِنْ عِنْد عَبيْدِ 
کی الک الع َيَ>زفزْ بک بن ال وَیَشتَیزؤنک يقوْل: 
یَسَالُوْنَی جَِیْ عَلِ رَأَوْهَا؟ فَکیْفَ لو رَأْومًا؟ ۔ وَیَتعَوَدُوُن مِنْ نَارِ جَھَنَم 
فَكیْفَ لَو رَاوَا؟ فإنَیْ قَذ غَفَرتُلَھُمْ َيقولنَ ربنَاإِيَ فِيْهمْ عَبْک 
لْحَطَاءَ فان مَرٌبهم لِحَاجَةِلَه فَجَلَسإِلَيْهم فقَالَ الله عَرَوَجَل :ا لک 
الْجْلَسَء لا يَشْقَی بهمْ جَلِيْمُهُمْٴ '[صحیح] (أخرجه أحمد ج )۸٣۸۹/۱۲‏ 

(۳۵۳) ن جم : حضرت ابو ہریرہ دلنہ سے روابیت ےک رسول ایند چان نے 
ارشادفرما یا :جن بل موہ یی فرشن ںکو وک رکی میسو ںکی ملاشش بیس تچھوڑے ہو ہیں ء 
ج بعی ذک رکیمجاس کے پاس سےگٴزرتے ہیں نے ڈاکرین کے پااس شع ہوجاتے ہیںء 
یح ض شض پر اس ططرں میھت ہی ںکہآسما نک ذاک ہکوڈھایب لیت ہیں ء اورعرش امم 
کک بی سلسملہقائم ہوجانا سے _جن ہل مجر وسوا لکرتے ہیں جہلجن حا نہ فرشتوں سے 


٭+ن 


زیادہ ان مال سکو جا ہیں قمکہاں ےآ رے ہو؟ ووفرشھ عف ش کرت ہیں 
کی شش ریا میں 
تھے اورآپ سے مغفرت ماتک ر سے تے ارشاد ہوتا ے :وہ یھ سے جنت اتک ر سے 
ک:ازا ول کے نر لاکن کا کر کی رت ات۷ 
0 ےرس 
:نے نب ازع بین ای گنن بڑاگنکار سے جونض ابی ذالی ضرورت وعاجت 
کے ےآ یا ہے اوران کے سا بی گیا ہے سن تھا لی ارشادفرماتے ہیں : براہیے بھم ین 
ہیں جن می ںکا ای کبھی مھ روم نی سکیا جاسکتا۔ 
ج یکا سوال 

)٥٣٣(‏ عَن ابی هُرَيْرَة لہ اي رَسُوْلَ الله ٥‏ قَال: 

۲ لِلِّ مَلاِكةً سَيارَة و فص يلمِسُوْنَ مَجَالِس اکر فی الاَزْضء 
ٰ٥ا‏ وا علی ملس در عق بَعطهُم ضا بجُيَِههِمْإِلی السمَاء فَيقُوُل 
تبَارک وَ تَعَاللی: مِْ أَيْنَ جنمم؟ < وَ هُو أَعْلَمْ - فََقُوْلُوْنَ: رَبَّا جتنا مِنْ عِنْدِ 
ِبَادِک يْمَبَعْوْنَک وَیْکَبَرُوُنک وَيیَحْملوْنک وَبُهَلَلونَک و 
یَمََلُوَک وَیَسْتَجِیْرُوُنک فَيَقُوْلَ: مَا يَسْالونِی؟ رق لد 
فقولومَ ربا لونک الجََة. فيقوَْ: وَمَل رَأوها؟ فَقُولونَ: لا یا رَبَ. 
فَیَفُوْلَ: كَيْفَ لو رَأَمَا؟ فَيَفُوْلَ اوَممَیَسْمجيْرَوتی؟-1 مُوَأَعلَمْ - 
چت می الشار َو قَلرَأَوْمَ؟ :ا لا فقو .2ے 
زهم ا شنعززین و ھت 
یس مَعَهُم فَيَقُوْلَ: وَمُوَ ضا قَذ عَفْرّتُ لہ هُم اْقوملايَتْقَی بِمْ 


جَلیسهُم ۰ [صحیح ] (أآخرجه الحاکم فی المستدرك ج ١ص٤۹٥)‏ 
۵۱ 


( ۳۵۳) 7 جم : حفرت الہ رد دیانہ سے روایت سے رسول الد چان نے فرمایا: 

تن جل دہ کے پچھوفر ش گش کرت رتے ہیںء زین میں نوک رک یگجل سکی 
علاش میں جب ؤک رک یگیل میں ہیں تو پت پت سکوسڑنی ایک کے اوی رای ککواٹی 
مت کے پازوؤں سے ڈحھانپ لیت ہی ںآ سان دنیا تک جن بل رہ ان سے 8و پا 
نے مکہاں ے آرے ا 7 تعال یکوسب ہے دو معلوم 3 سے عرش 
کرت ہیں : ہمارے رپ چم لو کپ کے اییے بندوں کے پا ےآ رر ہے ہیں جھآپ 
1 0 متولن 022 وہ آپ سے بیو سوا ليکررسے اور 
چبزوں سے پناہ ماتک ر سے تے بن بل مدردفرما جا سے : د ٥کیا‏ اتک رس تھے میعن 
بل مور ہکوخوب معلوم سے و ہکیا ماتک رسے تفر شتے عم کمرتے ہیں وہ جن تکا سوال 
رر سے تھے ۔بی تھالی ف مات ہیں :کیا اھوں نے جنت و٘ھی ے؟ فر نے عو سکمرتے 
ہیں :نی بارب !حم تعاٹی فرماتے ہیں: اچچھا اکر دکھھ لیے ت کیا ہوتا مج بل مر دف ما 
ہے: ایچعاددکس نز سے پناہ اہ ر سے تے؟ جب تال یمکوخوے معلو ہے ءف رشن عو 
کرت ہیں: دوز رخ سے۔وفن تنا لی فرماتے ہیں :کیا اکھھوں نے دوخ و“ 0., وس 
عون لکرتے ہیں :نیس دیھی جن تھالی فرماتے ہیں :اما اک جم دک لیت کیا جن ؟ چھر 
نی بل مود وف ماتے ہیں :تم س بگواہ رہ میں نے ان س بکی مغفر تکردیی اودجٹس چز 
کا سوا لکھررے تھے عطامردیا اورشس پچیر سے پناہ جا رے ے بنا دے دی فرش 
عو کر تے ہیں : رت العخزت !اس ٹیل ایک بندہ ڑا نار ے جو ذاک میں ے؛ بلگ نل 
ان کے سای ھگیا ہے بن جل مروف ماتے ہیں : ا سک یھی مفخرت ہوگئی وہ دہ 
لک ہہ کا نکا ھم نی بھی رحمت واسعہ ےحرد یو نکیا جا تا 


(صحیح ۔اخرجهھ الحاکم جلد١/ص٤۹٦٥)‏ 


۵۳ 


مم سےہجات 

)٥٥٣(‏ ولا شَاهینَ فی الَرْغیْبٍ فی اللکُر عَنْ ابی هُرَيرة ظہ: 
7 لہ مَلاِگة فص یتقو اکر يَجْتمعُونَ عِند ال کر إ٥‏ مَرُو 
ِمَخلى عَلابَطهُمْ علی بَقض ختی یلوا َرض, ول الله لَهْ ۶ 
هُوَأَعلمْ - مِنْ أَينَ جنىمْ؟ فيَقولَونَ: مِنْ عِند عَبْدِ لک يَسْالُوْنک الْجَنة و 
صی سور مو ت..۔۔ ً 
ردق هخ عناک امہ اط نز عاعوفْعلس اھ 2" 

قَرّوَجَلُ: أولیک الْجْلَمَاهُلا يَشْقَی بهمْ جَلیُْهُمْ “ 

[حسن] (کما فی کنزالعمال ج۸/۱ء۱۸2ء والإتحافات ۵۰۳) 
( ۳۵۳)تھ جم : حفرت الد ہ ربرد لاہ سے رایت سے نکی یجوف رشت ںکو 
ذَکرکی مجلسو ںکی علاش میس تچھوڑ ے ہوئۓ ہیںء جب کی ذک رک یگجاس کے پاس سے 
گزرتے ہیں نو ڈاکرین کے پاس جع ہوجاتے ہیں ءگتح تح پر اس رح بٹھت ہی کہ 
آ ما نتک ڈاکری نیکوڈھانب لیے ہیں او رعش انف مک پیسلسملہقائم ہوجا نا ہے بت بل 
مچروسوا لکرتے ہیں ؛ جن حا نہ وتوالی فرشمتوں سے زیادہ ان مال سکو جاہنا سے تم 
کہاں سےآرسے ہ و؟ ع شلکمرتے ہیں : آپ کے بیھ بنددوں کے پااس سے جو جن ت کا 
وا لکمررے ے او ریم ہے نام مالک ہے جے او رآپ سے مفرت اک ری ھے۔ 
ارشماد ہوتا :دہ مھ سے جشت ماتک ر سے ےہ ال نکیا عال ہگ نب جشت دیس گے 
وٹنم سے پنادانک رہے تےءا نکہکیا حال ہوگاج بژ نم دس کے؟ موی نے 
نکی کی( فی کے یس تھے رب ان ا کین داز 
ہے چون ضا اپنی ذالی ضرورت وعاجت کے لے ےآ بے اوران کے سا تھ یٹ گیا سے ۔ججن 
تا ارشاوفرماتے ہیں: پیا ےب مین یں ج نکاکوئی جھ ین وب مک رد من سکیا جا سا 


رنہ 


020 دعاوّ؛ںل ملالکہک یآ ین 

(۲۵۵) وَلائْن اجار عَنْ ابی هُریْرَة ظہ: 

”لِلهعَزوَجَلَ مرن المَاِكَة عون جِلَ الزّگر: فا٥ا‏ مَرُوْا 
بلق اکر قَال بَعْضَهُم لیَعْضِ: قعَدُوْا ّ٥ا‏ دَعا الوم موا عَلَی دُعَائهمْ 
ِا صَلوا عَلی النَيَ صَلّی الله علیہ و سَلمَ صَلَوْا معهُمْ تی َفْرَعُواتمبَقُولَ 
عَسهمْلَِعْصض: : طوّبٰی لَهُمْ ا يَرْجعُونَإلَّا مَغَقُوْرَا لم“ 

[ضعیف] (کما فی کنز العمال ج۲/۱ء۱۸2) 

(۳۴۵۵)ت جم : رت الو ہریرہ لاہ سے روایت سے بن جل محر ہکی جانب 
سےفرشتقو لکی ایک جماعع تگش تک فی سے کرک یگل سک حلاش دجو میں ۔ ج بی کر 
کے علق ےگ" رہوتا سذ ایک دوسر ےک کے ہیں الن کے ساھ یٹ جا جب وولوک 
دھا ماگتے ہیں بیفرشت ا نکی دعاؤول پرآین کت ہیں اور جب رسول الل ہلت پر درود 
پڑت ہیں فیرشت بھی ددود پڑ ھت ہیںہ یہا ںک کک ہلوگ ذ فا سد ا 
٣‏ و ا 
دکامرا لی سے ان لوگوں کے لییےء بر سب کے سب مفخفور وائیں بہوں گے (ان س بکی 
واھی بوا لت مففرت ہہوگی )۔ (کنزامال /۷ك۱۸) 

میرے بندو لکورححمت میں چھ الو 

)۳٣(‏ لِلَْزارِ می طرِیٔق زائکہ بن آی الرَقادِ عَنْ زََادَ النیْرِی عَنه: عن النْبيٰ لا 
قَال: 

٣ك‏ لو سَيًرَة من الملاِگة يعْلونَ لق اکر فإٍِذَا عَقُوا عَلَيهِمْرَ 
نوا بهخ فمٌبَعَقُوْارَايتُم إِلَی الما إِلی رَبَ الزَّةِ تبارک و تعالی. 
ك_شُولُوَْ: رَبَنَا ایس علی بَا مِْ عِبَادک يُعَظْمُوْنَ آلائک رَبَلونَ 
ِتَاتَک و یُصَلوْن عَلی نیک مُحَمَد صَلى الله علیہ وسَلَم وَیَسألرّک 

۵" 


لاخِرَتھغ ودَهُمْ. فَيُْلَ تبارک و تعالی عَشُوْهمْرَحَْییْفَيَقَولوْنَ:بَارَبَ 
ان فِيهِمْ فلا نا الحَطَا٤ُء‏ إِنَمَا اِغسَنَقَهُم اِغیناقاء فَيَقُولَ تبارک و تعالی 
عَشُوْهم رَخْمَییْفَهُماْجْلَسَءلایَدُقَی بهمْ َلِيْهُم“ 
[ضعیف] (کما فی مجمع الزوائد للھیٹمی ج ٠١‏ صےء) 
(۳۵۷) تر جم : رسول اللہ چلانا نے فرمایا: بن بل مر ہکی جاب ےفرختوں 
کی ایک ججماعت ذکر کے علقےک یھ وطلب می کش تکرکی راتی ہے (جب ڈاکری نکی 
بماعتئل ای ہے ) فا نکواپنے پروں سے ڈھاپ یق ہے۔ جب وہاں ےآلی ہے 
ایک جماع تکوآسمان پررٹ العزت کے یا لیے درقی ہے وہ جماعحت عو لک کی ے: 
ہمارے رب ! بم لوک آپ کے نے ٣س‏ و جھآ پک 
وعرت ونحم تک نشانیاں جیا نکر سے تے او کاب ال دکی لاو تکرر سے تہ اور ایۓے 
نیم ظا برددودشریف پڑھدرے تے اورآپ سے دنا وآ خر تکی بھلا یکیاسوا لکررے 
تھے جن مارک دنمالی و شتو کیم دبتاہے ا نکومیری دہشت الہ ڈھاتپ لو 
فرش عون کرت ہیں: رت الععزت !اس می ںای کٹ سکنہگا ربھی سے جو انی ضرورت 
سے آکرنل ٹیٹھا سے بن بل مجد:فر مات ہیں : ان ںکوڑگھی میربی رحمت می پچھ الد ىہ دہ 
لوک ہی ںکہا نک ہم شی نبھی مھ رو میں رو سکتا ۔(مجمع الزوائد للھیشی ۷۷/۱۰) 
تہاری تعداد کے قرف رشن تمہارے ہم مین ہیں 
(۳۷) عن این عباس یہ قال: مرالنبی ٴہ بعبداللّه ابن رواحة الٔأنصاری لہ وھو 
یذ کرأصحابہ فقال رسول الله لا: 
”ما ِلكُمْ الَا الَذِیْنَ آمرنی اللَهُانْ َصْبر فی مَعَکُمْ تم تَلا هذه الایة: 
لو اضر نَفسکَ مَع الَاِیْنَيَدخُوْنَ رَنّهُمْبالْغدُوٰة و العَيِيیُرِبْدُونَ 
وَجُهَه وَلا نَعْدُ عَیَاک عَنْهُم تَرِيْد زِيَة الیوۃ الڈُنیا وا تع مَنْ أَعَفلنَ قب 
عَنْ ذکرنا وَاتبع هَوَاهُہ 
۵۵ 


لی قولِه: 

طإوَكَانَ مر راک (الکھف : ۲۸) 

ا إِنْهمَا جس عِتَتْکمْإلَا جَلسْمَعهُمْ عنم بن الملانگة, ِنْ 
مَبَخُوْا الله سَبُحُوْهُء وَإِنْ حَمدوا الله حَمِدُوۂ وَإِنْ کَبْرُوْا اللَ کْرُزْ وُُتمَ 
َصْعَدوْنَ إِلَی الب -وَمُوَأَعْلمْمِنهُمَ ”فَيْقَوْلُوْنَ: يَارَبَنا عبَاکک 
َبْخُوک فَسَبَحْنا وَ کِبْرُوَک لَکبْرُنَا و حَڈُواک فَحَمڈنا. فَيقول رَبَا: یا 
َےِگیٴ أَمْهِدکُمْ کی قد عَفَرث لیم فَفزارَ: مْ نَذ رَفَلا 
الْحَطَاء . فَيَقُوْلَ: ھُمْ القَوْمْ لا يَتْقَی بهمْ جَلِیْسهْمْ “ 

[ضعیف] (أخرجه الطبرانی فی الصغیر ج٢‏ ص ۱۰۹) 

رے۳۵) 7م : صضرت امن عباس م_الہ سے رواہت ےک رسول ال چا 

برا شدابن رواح انصاری ینہ ے ال ےک رے چلہ وولوگو ںکولک یآ خر کی تیجح تکر 

رسے تھے رسول الد پا نے فر مایا : سو تم لوگو ںکی جماعحت ابی مبارک ےکا تھا ی 

نے چج عم دیا ےکہ میں تم لوگوں کے پاس ٹیٹھوں ۔ بی ررسول ای جن نےآبیت حلاوت 
فرائی: 

و اصْبِر نفک مَع الَذیَْيَدغُوْن رََهُم بالفدُوة و العَغِيْ يِیْنُوْنَ 
َجْھَۂ را تد عَتَاک عَْهمُِية رن لعیرة اڈ الع من اف کل 
عَنْ ذِکرنا و تبع هَوَاهء وَكانَ مر قُرطاً بہ 

او رآپ اپنے آ پکوان لوگوں ہے سا مقید رکھا جیییے جو وشام مینی لی 
اللددام اپے ر کی عپا تیج ا کی رضا وی کے کرت اوت ین یی 
روآ کے خیال ےآ پکی حلھیں لین نو جبات ان سے مخُے نہ بای اورا لیف کاکہنا 
نہ ماہیے جس کےقل بکوہم نے اپنی یادسے ضا لکررکھا سے اور دہ انی فسالی خوائئش بر 
چلنا ے اورا کا برعال عد ےگ گیا ے۔(سورہ کھف:۲۸) 

۵٦ 


حم وا کل تعداد بیس نت ہو اتی بی تتعداد م۲س تہارے ساتھ فرختو ںکی 
اع تٹھتی ے (لڑنی ہنٹصس کےساتج ایک فرشۃ ہیا ےہ الل بر نی سعاد تک 
بات ے )اگرت مج کرت ہونو ووفر 2 بھ یس عکرتے ہیں .اگ رم لیک کرت ہو 
ےکی کر ےکن کر پان کرت وت کی کی کن کر کے ینب فدہ 
فرش آسمان پ چلے جات ہیں اور تھالی فشتوں سے زیادہ جانا ے۔ فرش عنش 
۲ آپ:فارۓ رپ آپ کے رون ن ےک کی نو جم ن ےھ یآ پک ات کی اور 
افھوں ن ےآ پک اکب رای ہیا نکی ف یم ن ےھ یآ پک برای بیالنکیا۔ افھوں ن ےپ 
کیج کی فو م نے بھی ھھ میا نکیا جعارارب فرماا ہے : اےفرشتو ںکی جماعحعت امیس تم 
لوگو ںکوگواہ بناا ہو ںکہ یں نے ال نکی مفخطر تکردیی۔ فرش عو شسکمرتے ہیں :رٹ 
الزت!اس میں فلاں فلا ”نہک رھی سے تن تھا لی فرماتے ہی ںکہ :دہ مقر لوک ہیں 
کہا نکا جم ین وب لی سب یھ رو یں ر ولا ء بد بن تی ہوسکا۔ 

(اخرجهھ طبرانی فی الصغیر ۱۰۹/۲) 
مت وج وانما ی 

اس حریث سے چندامورکی طرف رہنمالی ہولی ے: 

(۱)جنی بل میدہ عا کم الغیب والشمبادۃ ہودنے کے پاوجوداپنے بندو لکی صفات 
مکولی لوق سے معلو مکرکی سے جود رت یقت ملاک کا بش ری تک یمم ت کا اعتراف ے اور 
شی کے اعت رات کا اقرارو جوا بھی اورتصوی مک اعلان جن سکی طرف اشار وتن کل مج ہ 
ن کیا تھا انی اَعَلم مَا لا تَعْلَمُونَ 

(۳) ذکیقن یا ذاکرر بکی ہجو میں ہمہ وقت حضرت تق بل می کی مکی ونوراٹی 
لوق بھی رہقی ے ‏ خوش نیب ہیں دو لوگ ج با وق سےس شا ہی ںکہت نکی تلاش ملا 
7 کیو قکوے_ اَللهْمَ اجْلَنَا مِنهُمْء آمین۔ 


ے۵ 


اسان ایمان با یب میں ممتاز ہے 
(۳) ذکر وولقت شی ے جو ناک یخلو یک یحم تکومایا ںکری ہے اورفشی ہہونے 
کے باوجو دش یبھی عزیرخوق می موم جاتے ہیں ۔ ارب برآں بندو ںک کیج ویر اور 
بر تچ کی قجو لی تکا ہی عال مک خالقی جلل جلال ہکا سوا لکر ناک ہآیاا کا اس مد رتوعبادرت 
ہونا کیو ں؟ کیا اکھوں نے میہرے چاہ وجلا لیکودریکھا ے؟ کیا أپھوں نے ممبری جی وندکی کا 
ححس اپے دیدۂ پان میں سز ںکیاے؟ ور شتو ں کا جواب ربیںک رگم ! اود لج بہاں می 
شریت کا تفوق نمایاں ےکیوہملوٹی لو کو یمان بای ب میں ءگو یا ا نکی خرام تر 
عمپاوٹیں عالم مشاہرہ مس ہیں اور یہاش تھا مکی خمام غبیب بی خیب میس جوری ہیں بحان 
الا خی بکا اب ڈا لکر جزلقت عطاک یکئی سے دحل لکوت ےکی نکوکھی حاصل یں ۔ 
مقام رضایفرشتو لک شبادت 
پ' اٹی ہو جائ و ا نکی عیادت عدشحار بی شہآۓے- 
اں چھلہ پر ذات صحد یت بل شانہ ای بنرو ںو انعام دیتا جا گی ے اورفرشتوں نے 
پچھتی ے1 خ زالق مک علی الاطلاقی سےکیا چان ہیں؟ مصوین بارگاہ یس عوش 
کرت ہیں : باری تھا لی ا متقاح رضاء مشاہ کرای کی کہ جنت۔ 
ےرات اائی 
اتی ظردبیت :کیا انھوں نے مشاہ کب با یکی تک یھی ہے؟ نہیں ء رٹ العزت 
وو یں 
وہ١‏ وفقت نی ا ننکا و لگ بن جاے اورون رات لہا شیا نے مو ہشن 1برا قیم علیہ 
السلام ڈا لکرمشا مک یاٹی ا ن کا مطلوب بن جائے ۔اورساتھ ہی ا نکی ز پان برسواۓ 
تی ذات وصفا تک شی رڈیل کے دوسر ےکا نام ہی نآ ےل کرت 
کے پاوجووظیروں سے مفاورج ی نگئی ہوہ ذ ات ارم الرائیین اپنے ہنرو کو س ق' رححذ ا عطا 


۵۸ 


77 انی سے اورکس قر کرد تی سے بھی اں رصن یر وت ے٤‏ وہ 
انی بححلہصفات میں فریرووحیرے_ 
ری نکا ٹیس عام 

جن بل مروف رشتوں سےسوا لک تے ہیں ء اچم د ہکن مہاکات سے پناہ اج 
گی فرشتوں کم جواب: آے کت و ریم ! مظام قب روحمضب ئگ ۰"""ء/ یں 2 
مرکا تہ فرحونبرت دیما 2 ر بيکریی ءففورو ریم :یں دیکھا! اما ارت بت 
العزت! پل رت وہ چھا گے بی رہیں (بھی ول ے بھی مہا ت کا ا کاب ش کم ) اور 
ان کےخوف وخ تکا بی عا لحم ہکان کے ہی ہردم اُڑ ےم میں اپنے عابتز و بی ےگس 
لو قکی اس قد رفر اوک وآ خر اقم الرائئینء خی رالغفاف ری نیکب برداش تک یں گے۔اگر وو نہ 
و ان سک نا مکیوں ہوکا گر وہ رکم شک میں نو ری کون بہوگا۔ 

صحبت صا ین 

عم ہونا سے تصومو ات مگواہ رہام نے ا نکی مغفر تکردی۔ تی متام غحضب سے 
مجات دتا ہوں اورمقام مشاہرہ یس اا نکی ضیافف تکاعمء اورخلد ری کا پروانرعام خوطاکرتا 
ہوں۔ تل ذاگرین ى سی مغفر تک پردان عا من ر ایک وری عشصش ارتا ےا مم 
این ! ایک ذس اتی ضرورت سآ یا تھا کیا ا نک یبھی مففرت ہوگئی ؟ ارم الرئیی ناتلم 
عام ہوتا سےکیو ںک یکن ہوتا وی ےج س کی رہھٹ عام ہو قید وش افو کی پیراوار ےء 
خالیکیگئیں۔ راس ای می پیندر ےک جھ ان ڈاکری نکیا ایک د نگم ححبت یا ےگاء یس 
ا ںکوبھی بن دو ںگا ۔اود میرکی رجح تکی ہواعام ہہوٹی سے جوقھام بج یکوچ تی سے مس یکو 
اَی ارات ال لان کی معیت وحبت ممفخفر تکا سبب :لن جالی ے او رآخر تکا 
۰ کو سعیدکرد بی ے۔ بداں راہ یکا ںمجشن دک ر)۔ 


۹ھ 


صاونن وصرلٹن 
رٹ این خودوتی رای میں فرماتے ہیں طبَااي ا 
کون وا مع الادقینپ(سورة العوبة) بجھلرائل ایمان سے مطالبہ ےکستق بل رہ 
کی ذات سے ڈرو مکی مح مات ومنہیا تکا اواب مم تکرو اوراتتثاي اوامر بچالاوٗ اور 
7ت کےساتقرہو۔ رہ مان متقام در یکا تول اورصر یی نکی فہرست سآ نا ائی 
خوش لبیب بنرو ںکا تصہ ے جودوام ذک کی لاز وا لنقت سےم تفر ہیں سک ریف 
گی ردایت ےگھی اس با تکی دضاحت ہہوٹی ے ‏ ھر یھت با ری کے اضافہ کے ساتھ 
ہا ں ان ذاک رین پارگا کر بج وکہ لیت ہیں ان کے ساتھ بیٹھ جات ہیں اور 
فرش بت ض بش کو یچ اویر ڈھاب لیے ہیں٠‏ یہاں ‏ کک ہآ سما ن کک ا نکی ورای 
قطار یں بَع-ضْسهمْ وی بَع_ض نورپی نو رہھرجاتاے۔ 
انما نکو کر اش یل ملائکہ برفضیلت سے 

بک و ہرنکوی یی نان فلات یں اورا کا ماس مقصدیی اور 
خوائ بھی اىسی ترتبیب سے متصف ہوٹی ہیں ۔ ذکرالی ایک ور سے ماک یریت احادیٹ 
سآیا ے اور ملامنۃ الڈرھی ورائی مخلوق ہیں اور بیققاعددار باب اصو لکاضصعفق علیہ ےکہ 

ہا سکواس کے ات رٹنس سے خی مو لی منا سبت ہوا ری 7 
فرشتو ںکی عصفت رب العا لان نے بیا نکی ے ؛لا بَغَضوْنَلَمر الله 
فعلنَ ما يُومَوُذنَہ اس سےمعلوم ہواکہ لا یعصون لاہمر اللہ قذفرشتو ںکیصفت 
ےاور یفعلون مایومرون ا نک لی کا مقصد سے اب ان دونوں جھوں ے جو بات 
قررےمشترک معلوم ہوٹی سے وہ برک ہعدم عصیان ن دوام ذکر ہرف رش کی صفت ےہ 
کہ ھی ام رسلم ےک ماد فماد ملا می ال می سکلیتا معروم سذ متیہ ہیہلا کر ددام وک 
سی مان خلقی رفدری, *ملامکیۃ الد میس بدرجرائم موجودے انان عو 


٦+. 


ضدرین ہے۔ نمی ما٤‏ شروفماوگھی اورج روب بھی ۔ابذزاج ببھی بش ریت اپنے ماے وشرد 
فمادکود اک رصناتملوئی ولوری یس من رک ہوںی ےو ازخووفرشتو ںکولیطورکشش کے انس 
ور سے مناسبت پیداہوٹی ہے جو ذکر سے عیاں ہہوتا سےہ اب ورای خلوقی این ائس خائص 
مقصمد کےشت جوا نک تھا بش ریت سے سن ےآ جاٹی سے اور برسماں سا ذک را یکیلنے اس 
کثزت سے ہوا ےک ینف ین پراس ذ اک رکوڈحانب لے ہیں ۔ 

اننام 9ھ لوں : شتوں کے کر رت مار ے 

و گت ا ںکی تمہ میں تس وا ہوتا ےکہذاکمر کے کر سے جولور پارا ہوتا 
ے ووزجین ےآ سا نکی رف ص عوکر سے او رکیفیت ا سک نورالی ہوئی کہے۔ہاں پ 
با گی ذہ نشین ر ےکہاہ نعآدم کے ذک رکا ورفرشتوں کے ور سےمخلف ہہوتا ہے۔ 
0 “)4 2و اور شب ت مور سے اس یی ےک ماد حصبان سرے سے معروم 
ہے۔اورام نيآو کا نوریشفی وشیت دوٹوں کے اتاج سے پیدا ہوا سے درتقیقت ماگل 
ریت کے ؤکر سے مسخفادہونے وا ل ےپور سے خووکو تر ومن ر اورمصتققیدکر نے ہیں۔ 
مبان للا کیا نت سے جو بل مہ نے ڈاکرین ای نآ مکوعطا کی ےک لاہ اس ور 
ے لطف دسردر ُٹھان لئے ایک دوسر ےکو او یر یچ ڈھاج بکرا ںکیفیت سے موی 
ہدتے ہیں اے جمارے رب !ہمارے ولو ںکواپٹی یاد کے بعد اٹل کر اورجییں ای 
معیت تام داع عطا شر ماک ہف درب سے بآ بین ! 

وک ری میں 

زکرکمالی اور ؤکرٹفی بجی ء ذکمرلمان ی کی دوصو رس ہیں ؛ ایک بلن رآواز سے جیے 
اذان واتقامتہ رح یش بپأاداز بلند لیکء جمری نماز می ق رآ نکری مکی حلاوت پا اما مکا 
آداز بانرگیبراتینمازہ ایا تی میں خماز کے بع دی لی کی رت بی اض ساسل 
اولیاءکا مت یکو وکر الج تلق نکر کو 000 0ں 


٦ 


ہدہ یا شیطالی ادہام دوساوس وخطرات سے دل پر یشان نہ ہواور کر پالجر کے ذرلجہ برکور 
کا دھیان وشن مصبہب ہو اوردول مل 7 ارت کر ےآ عحبت با ری تی ہو ہغفلت 
دور ہو منسیا نکو زا لکرتا ہو۔ ان تمام منقاص رکیلے لت مار مبتر یکو نوکر پا کی 
نآ یں 
آہستتہ فک کی فخیلت 

دوسرب یم سےز بان سے کے جیے ذک رکرنا۔ رسول اللد ےکا ارشاد سے پیش اللہ 
کے کر سے ترک ز بان ت وتازدرے۔(تزی) 

ایک دوسری روایت مُل کہ رسول الد اتا سے عو کیا کیا :سب سے ڑا 
0 ےا رب ےالضل٠ل‏ فو آپ خلا نے فرمایا :کددنیا کچھ وڑتے وت 
تمہاریی ز بان الد کے کر ےت وتازہہو۔(ززی) 

حثرت سسعد بن ویڈائ کی راویت ےک رسول اللہ چان نے فرمایا: مس 
ے اور مخ رین رزق دو ے جو بف رکفاف و-(۱ھ) 

کی بہرے اور رحاض رک نیس رکاررے ہو 

رت الوم وی یلاہ کا بیان ےکہ جب رسول اللہ چان نے تتھ کی طرف چمادکیا لو 
راستنہ بیس صا ایک وادی ےل ر ےآو گکرن ظا گر پاآواز ان گی ری نہیں 
رسول اش لا نے فرمایا این یےسکون اخقا رکرو رق سی بہرے پا خی رحاض رک وکہیں گار رسے 
ہو بلہ الکو پکارر ے ہوجو سنے والا ہے اورق جیب ہے.۔(رواوالیخوی) 

کی سر ہار در ہےفضلت دکتا سے 

تس ر اعم خی رزبان گھیاممتٹ ےگ وک رکرنا ے۔ائ یکو وک فی کے 
ہیں جش سکواعمال نام ہککھے وا نےفر شن ےھ یی سن پاتے ۔نرت عا کش شی الڈ رعتہا سے 
روابیت ےک رسول ال بے نے فرمایا دہ وک شف یج سکواعمال ناموں کےککھن وا نے فر خت 

۲ 


بھی کیں سن ات متربرار در ہے ضیلت رکتا ے۔ جب ام تکا دن ہوگا اور الد 
صا بحکیلئے سب لوگو ںکومػ کر ےگا ء ادرف رش اعمال ناے او رج کات لن ےکر حاضر 
ہو گے ال میا سی ان ےےف رما ےکنا 7 ؤ9 +1 9 
کرمیں کے ہ مکوجو ری ومعلوم ہوااور جا ریگکرالی یش جو پک ہوا بحم نے س بکا احاطکرلیااور 
کیل اکوئی با نیس بچھوڑی۔ اللد تھا لی ف رما ےگا ا سکی ایک بی ای سے جن س کاخ مکویلم 
ںہ میں ت مکو باج ہوں وہ نکی ذک فی سے.(ا وی رگد ست۵۰۹۳) 
ریہ ہرعال میں جات سے 

اید رٹ العز ت کا فک رکرن ےکیا عےکوئی وف تفص سکمییں ء کوٹی اص عالت یا 
کیفیت مطلوب ہے علا اہلسقّ ت کا اجاغ ےکہ وک رخواولمانی ہو پا نی ورویء وضو 
نکر ھا ات ام مال ا پے۔ تخاڑ ال کے 
ہا پیل ال ِا ال مک ر اللہ ابر ء الا وسلام بویا مناجات ودعا ہوگر 
از ےکی پٹ چو از اور عرم جواز 2ئ 0 :3 ےل 
ق بی ےک کال دامل طمارت میس رٹ الھا می نکا کرکیاجائے- 

قرانحیعم نے وک کی ربرمففرت واج نی مکا وع ر ٥کیا‏ 

تی یل مہ کا ارشادے : 

او اذا كِرِیٔیَ الله کيا و الذًاكرَاتِ ء اَعَذً الله لهُمْ مَغفِرَةرََجْرَ 
عَظِيْمَاب رحراب:۳۵ 

ترجہ: اور بکشزت الل دک یا دکر نے وانلے مرداود یادکر نے وا کی عورتولء الع سب 
کے لیے اود تال ی نے مخفرت اوراج میم تیا رک ررکھا ہے۔ 

ایھان والو ںکوق رآ ن حکیعم نے کرک رکا عم دیڑے: 

طبلأيُهَاالَكِیَْ آمَنُوْا ادُکرُوا الله ذِكرا کِْرَا رحرب: ۱م 


۳٣ 


تر جم اے ایماان والو ام ال دوخو بکثزت سے پاوکرو- 

ق رآ ن چیم میں بے ناروا بین ہل میدہ نے ایمان والوں سے مطالہ ہکیا سے 
کرو کے ا اکر کی زی وبی سے جو یادشی میں مصروف 
کو 

حضرت الوہ رہ ے روایہت ےک رسول الہ ظل نے ارشاد شر مایا: مفردونعء 
سیقت نے گلئ صا نے سوا لکیاء یا رسول اڈہ یلقمضردو نکون لوگ ہیں؟ 

آپ فا ے جاب دیا: اَل کرُوْنَ ال کا و اللا اث( م)خوب 
مثزت سے اللہ پا ککو یادکرنے وانے مردوعورت۔ اتی بات روف ریش نکی رح وا 
ہوگئ یلین ہل مر کی بادائڈچل مید ہکا مطالبہ ہے۔اوروہجھی خو بکثزت ےگ رکخزت 
کی مقداریتی نکی سک یک یمکنت یقرت ہوجو ذک کی می دائل ہوجاۓ ہیاس پر ذک کی ر 
کاحھ مک جاۓ اورپ کم الھی کے پوداکمرنے وائے ین جا میں ۔ 

زکیکجر ےکا مرادے؟ 

طنٌ فی عَلَقِ السمٰوَاتِ وَ ا‌رّض و اخْیلافِ اللَیْلِ و الما رِلَایتٍ 
ولی اللباب الَدِیْنَ يَذَككرُوْنَ الله قیاما وَلُعُوذَا و لی جُنويهم وَیَ-تفَکرُْنَ 
فی حَلَقٍ السُمٰوَاتِ وَالَأرْض رَبُنا مَاخَلَقْتَ ھذَا بَاطِلا سُبُنک فَهْنا عَذَاب 
اار4 (آل عمران:۱۹۱) 

:ماش آ او او شع کے بنا ین اور کے إع در نے رات آوزدان 
کےآنے جانے میں دائل ہیں اہ ل نل کے لیے جن نکی بر حاات کید ہ لوک اتال یکو 
بادکرتے ہیں کن ےچھیء ٹین ےجھیء لی بھی اورآسمانوں اورز ۳ن کے پبیرا ہونے پور 
کرت می ںکہاے جمارے پروددگا رآپ نے اس ںکو لامش رای سکیا۔ ٦‏ مآ پکومنزہ 
کھت ہیں سو مکوعذراب دوز سے بی جے۔ 


۴ 


ق رآ نع مکی ذرکور یت سے معلوم ہو اکہ ہرعال میس ذکر الہ الیل دکی یاد ہوٹیٰ 
جا ہیےہ انسا نکی حاا بھی تین ےھٹا ہوگاء با یڑھا ہوگا ء دنا ہوگاءتمن بل رہ نے 
وا کرد کہ تنوں حائنیں وک رارڈد سےمجمورہوں اورحفلت پالئل بی نہہو۔ جب برتنوں 
حعانٹ ذکر ارڈ سےسجمورہو ںکی فو ذک رکش رشحار ہوا نف لمفص ری نکی بجی رائۓے سے۔ 

خرت ان عباس خیدفرماتے ہی کہ پا چوں نمازوں کے بعد اورپ دشام اور ہر 
نضست و پرخواست اورآرا مگا ہیں جب ذک الد ےسجمورہوں تے ذک کی ار ہوگا_ 

ماف ماتے ہی ںکہ بی کر ءکھڑے ہوکرہ لی کر برعالی میں وک رکرنا ذک کر 
ہے۔ حضرت عطا فرمائے ہیں جو یا اون کان کے نیفدت تن 
و مخبا تک دعایت کے ساتھ اداکرتا ےہ وہ وک کر ہیں دائل سے ۔حظضرت الوسعیر 
خدرک سے دوداایت ےک رسول الد ہا نے ارشادفر مایا ج بآ وٹی ان ےگ روالو ںکورات 
بس جگا جا ے اور دونوں ا خوددورکعت نماز بڑتھ لمت ہیں تو الیل اہی ا سکو ڈک کش کر نے 
وا لے می سلکھ لیت ہیں_ 

امام ابچ رین الصا مغ سے کرک رکی مقدار کے لی جب سوا لکیامگی اہ ان کی 
کیا مقار ے لو فرمایا: جب انسان دہ خمام اکر جو جناب رسول اللہ سے ثابت سےء 
یع وشامءْشست و برخواستء بازار ومسویدہکھانے پیٹ ء اشن ٹین میں ء ا نکی موا بت 
رتا سے فو پھر ذکم کی میں شار ہو جانا ے۔ 

حاصل یہروہ خمام دعاتیں جوجنس موٹح بل میں رسول ا ا سے خابت ہیں ان 
کی ایند داترا رک رکیھرہے۔ الام 

علا حوائل سن تکااجماع ےکہ ذک نی اورلسالی دوٹوں جائز ہیں ۔ پھلے بیکھھا جا چکا 
ےکہ ہرحال میں درست ہےم ہم انل یی کون وراحت کے اوقات ہہول ‏ شور و 
شخب سے نالی مکان ومقام ہوہ با وضو وقبلہ روہ شتو وضو ںک یکیفیت ہوء اہ ووقار 
ہوہ إنابت ونت زی لک یکیفیت ببوہ نہ نخالی المعطن ہک کوک و پیا سک طلب ہو نہ بی خوب 


19۵ 


حم ہوک یی می ںگرالی اورخاہی وم ہو۔ اس ام رکا تضارہوکہ فَا کروی اَذْكرُكُمْ 
جس کا نام نےر اس ووقمام عا لمکا خی رولصیرے۔ 
وک ھی بھی ے بے ٹن ہے 

اکر ڈکوزوعفات کے سا ذکرکا ون ماس نمو الو گنی کر یچوڑےۓ اور اگ ر 
بھی ناضہوجاے وذ ا سکی فق اکر نے۔ 

مسلم میں حضر تم رین خطیاب چ کی ہزات ے؛ رعول الد پل نے ارشاد 
ٹرمایا: 

مَنْ نَم عَنْ جژبه اَؤ عَنْ شَبْىء من فقرَأَ ما بَیْنَ صَلاةِالفَجْرِ وَ صَلاة 
الظْھْر کیب لَه انم فر وق اَل (زست القارضس:*۹ 

ج بی کے اورادو وا تف گپھوٹ جانمیں نے ا سکوچا یےکہنماز تر وظہ ر کے 
درمیان ا سکوپراکمر نے ا کو ایا ھی ار لگا ءمگویا اس نے ال نکورات میں تی اوا 
گلا ہو اڈنا حز ب ف اکر جناب رسول ال ٹا نے ہار ےتلو بکوشنا نل دیا_ 

دوتمام اورادوواکف جومشائ اپنے ساکی نکوبجاتے ہیں دوتاب بی نذ ہیں _ پھر 
زی معلو مآ رج لوک اس تق تکاکیوں اکا رکر تے ہیں۔ الله إِهْدنً الضِرَاط الْمَسْتَقِیْمَ۔ 

نی بل می دکانام ہرحال می سٹخ بنٹی وسودمند ہے ہاں الیکا نام لی ےکا ط بجی 
الٹدوالے سے سکولیاجا فو بھرنو لی ور ے او رپچ رج پر ایند ]شی فک راید یمکشزت سے 
ول الی ال ہوگیا ہو ا سکیجلں تمول نبدت الی اللد کے لے ازعد مفید ہوگی۔ ىہ بات 
اص٥‏ لبھیااسی وفت ہوگی ج بکسی ائل الیڈدکی محبت میس میٹ جاۓ پچ رمشاب کر نے۔ 


للّهُمٌ اجعَلْ بک اب إِلَی مِنْ َقسِي وَمَالی وَ اي ومن الّمَاءِالَارِد. آمین! 


٦ 


حضرت موا نا رت سے 

کت ذکر کے دوط ربق ہیں :ایک وہ جومشا رع کامممول سے ملا ذکرنفی وانیبات 
اود ذکمراحم ذات وظبرہ۔ دوسرالر یہ یہ ےک جو دعائیں جناب رسول اللہ چا نے ملف 
ارقات او رقف عالات کےمتعلق ارشادفر مکی ہیں ان پر مواظب تک جاۓےء میرے 
نز دیک ان دوفو کو کرت ےکی ضرورت ے-_(وصایا) 

علام شی : خمام عال مکی روح ذکر یٹ ے 

تمام عا مکی رو ذکر اللہ ہے۔ جب کک ال تھا کی یا قائم ر ےکی عالم تم 
رےگاء جب دیااللدکی ادکچھوڑ ور ےکی نو چھ کہ عا لم کےکوی نے کا وق تآگیا_ لاتقوم 
الساعة حشی لا یتال ضی الارض اللہ الله ۔ جب ای کگھی اللہ ال دگرے والا نہ 
رےگا :و قامت ۃائم ہو جا ۓگ یکیوکنہ جب روں نردخی نذ ڈ ھن رک یکا مکانڑیں ا سے 
گرادیا چا گا ۔معلوم ہواسارے عا مکی رو ادڈ کا کر سے ۔مفقصوواصل وک ر ابی سے۔ 
حد یف شریف میں وارد سے ذ اکر کے لے مو تی اور اٹل کے لیے حیا ت نیس ؛کیوللہ 
یدک ادالی ے۔اعمالی صا یہ دراصل زندگی کےکام ہیںء ای وا سے عد بیث مم ںآیا 
ے للا أحاء فی رہم يُصَلونَء انمیا مم السلام زندہ ہیں ء انی قبروں بش 
ماز پڑ ھت یی کی وا ل ےکا مکرتے ہیں ءا نکی تیور والی زندگ بھی اعمال صا 
سی ۰7 للندوہ زندہ ہیں اور زندوں وا تن ےکا مھ یکرت ہیںء اس حد ی کو اہی 
نے اور مارک نے کہا ہے۔ ( محر ثکشمیرکی بش ۱۳۱۵ء وصایا) 

عمزیزودوسنتو ا ذک راید اق کرت ےکی جیزےء پٹ ھن او رھ ک یں _ مڑ ہنا دنا 
اور ے اور کال ای کل ےجس سکوک رن ےکی ضرورت ےہ د لن فک روالد کل سے 
رشن ہوگاء حا قلب وجائن ذکر الد سے باٹی رےگا اور ذکر الد کے ذر اہ ای رکا قرب 
خیب ہہوگا کر کے ذ راہ ڈرکورکک رسساقی ہوگی۔ ال تال میں ا نل سے ذک کی کی 


٦ے‎ 


20 
آ ی تکامٹہوم دی مول نا عال 

ان خریب مت عا لتلصی نکوچھو زکرمونے مو نے محکبرد جیادارو ںکی طرف ال 
خرس سے مر نہ ااٹھا ےکم الن کےمسل ان وجانے سے و رین اسسلا مکو بی ری 7" 
الا مکی صلی عزت وروی ماڈبی خوشحا لی اور جا ن دی سونے کے سکوں کو و 
یمان وق کی اورالٰ در کی خوش اغلاتی سے ہے د میا کی ٹیپ ٹاپس فالی اورسا کی 
طر ڈھل والی سے نیقی دوا تق کی اوک مخ ال دی ے تےدقظلت ےت زوالء 
چنا ناسحا بکرف کے واقعہ می ال دکو بادکر نے والوں اور وتیا کے ابو ںا اضیا م معلوم 
ہ چگا- 

شی ےی ت2 مر مرا لک رر ڈائئ ور شش ن نف نکی 
خی اورخوا ہش لکی وی میں مشقول رتے ہیں ء ادڈ کی اطاعت سے ےے اور ہوا یہت 
9۰ئعھ و۶ شمیوہ ہے ایے ہدمست فا پکو ںکی بات پ رآ پ کان ند وھ رم خواہ 
وہ بظاہ رکسے ہی دوات مث راو رچاہ وم وت والے ول روایات میں ےک ۔بنت صنادید 
ری نےآپ چا س ےکم اکران رذ یلو لکواپٹنے پاسل سے افھاد ہیی ت اک سردارآپ کے 
اس میٹ یی رذ بی لکہا خر یب مسلمانو کواورسردار دولت من دکافرو ںکوبمکن ےپ 
للا کےتقلب مبارک میں ب خیا لگ را ہوکہ ان خر با ءکوتھوڑیی دم مبحد ہکرد نے می لکیا 
مضا نتشرےء وولو ےمسمان ہیں لیت برنظرکر کے رنچیدہ ہہوں کے اور وولت 
منر اس صورت میں اسلام قبو لکریٹش گے۔ اس پر میہآبیت اتیک ہآپ ہرگ ان 
رین کاکہنا نہ ما کیوکہ می میودہفر ان بی اہ رکرکی ےکہ ان میں یی یمان کا 
رک قیو لک ےکی اسنتعداوییں۔ گنن موہوم زار وی نا طرقلصین کا اتترا ممکیوں 
نظراندا نکیا جاۓے۔ نج امیروں اورخر بیوں کے ساتجھ اس طرب کا معامطمر نے سے 
اما ی ےک عام لوگوں کےقحلوب میں چم رکی طرف سے معاذ ال رظرت اور بدا پیرا 


1۸ 


ہوجاۓ .0 زاندہوگا جھ ون چنرمگبر ین کے انام خو لے 
کر ےکی صورت م۰یں تو رکیا ا سلما نت (فوائرعثا ی سور بب فآیت ۲۸) 
باب : أَحْرِجُو مِنَ النَارِ مَنْ ذَكرَنِی يَوُمَا 
اب :ہی نے ایک دن ابی جن ھکد ا دکیا ہو 
(۳۰۸) عن انس عَن النَبى ظا قَالَ: 
”یو الله أَخْرِجُوا مِن الَارِ مَنْ دَكرَنِیٔ یوما او حَاقبی فِی مَقّام “ 
[حسن] (أخرجه الترمذی ج )۲٥۹٣/ ٤‏ 
ای ککھڑی یکا ذکرکھی با عمش نجات ہوا 
(۳۵۸) تر جم : حضرت ااس چیہ نم یکریم ےا سے روا بی تک تے ہیںء 
آپ گا نے ارشا دفر ما انت تھا لی قیامت کے ون فرمائیں گے : فرش ! جپمم سے ہر 
حش سکوڑکالویٹس نے ایک د نبھی جج کو یا دکیاہوہ انی مقام پہبجھ سے ڈ کیا ہو_ 
فا مك :جن تل موی یاداورخو فک شی تب ننحعت ہے اگ دوام ذک کی دوات 
عیب ہوتذ بر چنب یکیاہ نا ہ ری نےتھوڑیی دم رجح یکی ہیاس بھی منقام پر رقبت و 
رمیت کے س ات ڈ ریا ہو قیاممت میں ال کا بدلہ موا کاڈ اک پیش یٹس کے لیے 
ا یئم سےآزاوکردیں گے۔ نا مر نکی بک قمت وقر ہے اللد_ می فی عطا فرمائے ۔ 
باب: مَنْ شَعَلَه وِکَرِیُ عَنْ مَسلِیٔ - 
اب : جس کوک رای کی شمخولی تک بناء بردعاءکی فرصت نکی ہو 
([2169) عتاان قال رَسُوْلَ اللہ 4: 
”فَال اللَهُتَعَالی: مَنْ شَغَلَهُ ذِکرِی عَنْ مَسَالیِی أَعطَیتة قبْل ان يَسْالَی. 
قال: وَفیٗ قَوْلِه: 


19 


ظإوَمَا كُنتَ بججانب الو ِذ َاكَینَا ہہ (القصص:٤٥)‏ 

ال: ودُوْا یا اَم مُّحَمُدٍمَا دَعَوْتْمُونَ إِذَا اسُتَجَبْتَا لكُمْء ولا سَالمُوْنَ 
إِذَا اغَطِیْنا كُما!“ [ضعیف] (أخرجه أبونعیم فی الحلیة ج۷ ص۳٣۳۱)‏ 

ذ اک رکواردرٹ الحزت دعاء ما گے والوں ۱۷... سو 

(۳۵۹) ترجہ : بج بل مچدو نے فرا: ج ستف سکومیری باد و وکر میں 
اشما ککی وجہ سے دعاء ماگ کی فرصت نی ء اس بندۃ ذ اکر کےسوا لکر نے سے پیل بی 
اس کےسوا لیکو پور اگردو ںگا_ 

اورارشاوفر مایا :اس قول میں :”وَمَا کُنْتَٗ بجانب الطور إِذ كيا“ کہا: 
اے امت تا پچاردہتم جو نز ماگ گے میں اے قبو لکرو ںگااورتم جم سے جس چڑ کا 
سوا لکرو گے جھ مو طاکر میں گے۔ 

اکن کے اشتھاء وٹمناکوسوا لک۷ر نے سے لے او راکیا جا نا سے 
اد اکرا ندال ڈاکی نکاس قد درب ےک ھی ما ڈگا نیس ء دستسوال ٹیس یں 
کیااو ریم بزات ااصدور نے ءا لکی مرادو ںکو پراکردیااورھاجتز کور فمادیا: 

ز سح رو بے عق سے ول پا کک کے ذامت باریی تا ہی کے ساتھ وابست 
ہوجاتا سے فذ ود ال لکی دس تگیرکیافر مامتا ےک اگ یہ بندہ کر سے در وگیا نذ ا کی واھنگی 
فر یآ گا۔ یہا ںبھی ”و هو موی لصاح “کی ایک جھکک نظ کی ہے۔ 

عدیث لآ۲ ے:”مَا عَمل آذمی عَمَلا أنجی لَه مِنَ العَذّاب مِنْ ذگر 
ال زی نشی اب ال ید ح کے می نکی کل درز تپ نز نین 
ایک عدبیث می ہے :ا يَزَال لمسانک وَظبا ِن حر اللہ“ ]شی بھی تک زبان 
ذکرالل ے7 رہے۔ ایک عدیث ٹل ے:”اَحُفرُوا ذِکر اللّے خنی بَقُولَوْا ان 
من“ اللہ تعال یکا ذکرات یقرت سےکر وک لو کت مکوجنونلکیٹگییسں بین ذک رای 


٭+ے 


ش اس در نک ہوجا کہ ذارت یک کے سوا یکیکر ہی باقی نر سے تکھان ےکم 
۶ ار اورت :ای دیاوی عالا تک +- .یس نام ا یکا ل اروا الد ال رک اک روا 
پر د یھو کک نا کی تام تلق ت ہارب خلائکرن می سکس طرح سو ںکرتی ہیں اور 
تمہاراہ یم با لان ےکوسعادت چانقی ہیں 

تنا ےکہ ا بکوئی کہ ای یکیں ہہوٹی 

لے ٹن رتے ماد نکی دلشیں ہوئی 
”الیم اجَعَلََا مِنهُمْ“آمین! 

ذاک ری نومام سوا لکمر نے والوں ےزیادەدو ںگا 

)٤٦۰(‏ لِلَبْحارِی فی خلق أفعال العبادء وابن شاھین فی الترغیب 
فی الذکرء وأبی نعیم فی المعرفةء والبیھقی فی شعب الإیمان عن ابن عمر 
وعبدالرزاق فی الجامع عن جابررص 

”قُوْلَ الله َعَالی: مَنْ فَعله ذِكرِی عَْ مَساليِْ اغطَيْنة وق مَا اُغطی 
السَائِلِیْنَ.“ [حسن] رکم فی کنزالعمال ج ۱۸2/۱ الإتحافات )۲۲٢‏ 

)۳۷٣(‏ ترججمہ: حضرت ام نع ریہ اورتخرت چابر دہ سے روابیت سے ہنی بل 
مجددفر مات میں یھ نف سکومی بادنے دھا ا نے سے ال رکھا یں ا سکورام سائلوں سے 
مگ رع طاگرو ںگا_ 

باب: مَْ دن ِیْ تقد دَكرلَهِی فی 
اب :جس نے ول بی دل میں جج وکو یا دکیا 

)۳٦٦(‏ عَْاَيیْ هررَةً ہن الَی طل لیم یخکی عن ره زََجلَ اه قال: 

”مَیْ ەَكرَتیٔ فی نَقْيِه دُكرٰتَه فی نَفسِیء وَمَنْ ذكرَلیْ فی مَلا مِنَ 
الا دَكَرْته فی ملا اکٹر مِنهُم و اطِیب.“ 

[صحیح] (أَخرجه أحمد ج )۸٦٣٥٥4/ ۱٦‏ 
اے 


۲" و 

(۳۷۱) ت جم :حضرت ابو ہریرہ طیلنہ بی پا سے روابیتکمر تے ہی ں کین تعالی 
نے فرمایا: جو می رانام ول میس اتا ےےء میس اس کا نام دل بیس لیا ہوں اور ج مرا نام لوگوں 
کےکمع میں لا ےہ میں ا سک نام ایی مع میں لا ہوںء جواس کے مع سے ہاور ا چا 
شع ہوتاے۔ 

میس بھی ےت باکی میس یادک رتا نہوں 

)٦٣ (‏ للبیھقی فی شعب الإیمان من حدیث ابن عباس ظلہ: 

”فَالَ اللَهُتَعَالٰی: عَبْدِیٰ إِذَا هَكَرْتَيِيْ عَالِیا دُکَرْتُک خَالیاء وَإِنْ 
ذَكرتَبیٔ فی مَلا گنک فی مَلا یر مِنهُم وَاَكٹْر “ 

[صحیح ](کما فی کنزالععال ج ۱۷۹۸۷۸۱) 
 )۳۷۲(‏ بج : حفرت این عماس زی کی روایت ےن ہیل مرہ نے 
فرماا: میرے بندرے! جب تو جھےتٹبائی بیس بادکرتا ےن می بھی تھے تتبائی میس با دکرتا 
ہوں اور جب و مھ جماعت میں با دکرتا سے و میں بھی ھے تی جماعت سے کر 
جماعت مل یادکرتا ہول اور مل بڑ ان دالا ہوں- 
کی برکت ےکن دبپع‌ لکی مر پیدا ہوٹی سے 

اتل میں اہ ش کی حدیٹ پش یلا مگزرچا ےکہ ذکر وہ ٹیم تین امت سے ء 
جس سے بند ےون مل مر وکی چم مینی نعییب ہوثی ے ؛غفلت دور ہولی سے ؛ آخرت 
یکر بچصقی ے؛ خحیطانی فرجب کے تانے بانے زائل ہوتے ہیں اورانسا کون بل مچدہ 
یی مرج تک فرق اورسنت وبدع تکی شنزاخت شف ہولی ے_ 

خنش ذکرہی کےذر ہے بنددوصول الی اللّ کی منزلیس ےک رتا ے۔ الم 
اجِعَلََا مِنَ الذَّا رین الَِیْنَ يرِیْدُوْنک. آمین! 


۲ے 


تھاکی شع میں ذک کی فضیلت 
)۳٦٣٣(‏ و للبزاز عن ابن عباس یہ أیضاً عن النبی ىك قال: قَالَ الله عَالٰی: 
”یا ابی آهَم إذَا ذُکرتنی خَالیا ڈکزنتک حَالِیّاء و إِذًا دَكَرتَييْ فی مَلا, 
ڈُگتک فی مََ‌ عَيْرٍ من الین ذَكرتَيِیَ یم“ 
[صحیح] (کما فی مجمع الزوائد ج ۱۰ ص۷۸) 
)۳۴٣۹۳(‏ 7ھ : ححضرت ام کال یہ سےدوایت سے وہ بی خلا سے روابیت 
کرت ہی ںکبجن ہیل دہ نے فرمایا: جب می را بندہ جج تھائی ٹیس با دکرتا ےو می بھی اسے 
تھی بیس یادکرتا ہوںء اور جب وہ شے ججماعت میں بادکرتا ےا میس اسے اس ججمانعت سے 
تر جماعت میں باوکرتا ہہوںجنس میں اس نے ہچ وکو با دکیا جا ؛م]ننی فرشتو ںکی جراعت میں 
فامعدہ: بادالی یا ذکر اللہ بہت بی شی نشت اورعطیہ ہے۔ ای فضیل تکا ذکر 
ع جیث پاک می لکیاگیا سے ۔ق رن یاک می لئ تھا یکاارشادے : 
ٹافاذکزونی ڈگ رم (ترجمہ )تم می بادکرو می نمکو بادکروںگا۔ 
اگ عدیث ٹُلآپڑے: ”انا جَلِْس مَنْ ڈکولی“ 7ج نیس ذاک رکا جم 
0٦‏ اں لے ذاک رک ک یتیل 3 نو ںکی جماعت می ںکمرتے ہیں_ 
بن ےکو الیکا ثربء کر الد سے حاصمل ہہوتا سے 
ر٤٣(‏ للطبرانی عن معاذ این اُنس شلہ: 
”ال اللَّهُتَعَالی: لا يذّكرَنِيْ عَبّ فی فی إِلَا ٥دَكرنه‏ فی مَلامِنْ 
مَلایْكییٔ ولا يذَكرنِیْ فی مَاذِْلّا دَكرَنَه فی الرَفیقِ الأغلی.“ 
[حسن] (کما فی کنزالعمال ج۱ )۱۷۹٦۸‏ 
(۳۹۴) تھ جم : رت معاز بن اس الہ سے روابیت سے تق جل مبرہ نے 
رمایا: ج بکوکی بندہ مھ اپنے دل بی یادکرتا سے نے میس ا کا ذ فرشتوں یں ہیں 
ضرورکرتا ہول اور جب وہ جس یکس میں بادکرتا سذ میں ا کور ٹین ای میں صرور 


ے٣۳‎ 


یادکرتا ہوں۔ 
باب: نَا مَعَ عَبُكِیُ إِذًا هو ذَكَرَِیٔ 
اب :نرہ جب ہگ کو بادک رتا ےو بی اس کے سا تھ ہوتا ہوں 
)۳٦٣٣ (‏ عن ابی ھریرۃظلہ عن النبیغہ قال: 
”ام ال عَرَوَجَلٌ يَقُوْلْ: انا مَع عَبدِی إِفَ هُو ٥ری‏ وَنَعَرَکتُ 
شفتاۂ“ [صحیح] (أآخرجە أحمد ج٢‏ ص ۰٠‏ "۵) 
ذ اک رواش یا ککی معیت عاصل ہوٹی ے 
(7)۳۷۵م: حضرت الو ہ ربرہ لہ الد کے رسول جات سے رواب تکر تۓے 
ہی سکیتئن ہیل مد :فرماتے ہیں: جس این بندہ کے سا تھ ہہوتا ہوں ج بکک وہ می راک کرتا 
ہے اوراپنے ہہوننڈ کومیرے نام کے سا تح ھ مت د یا ہے۔ 
تن نتعالی بندہ کے ساتھ ہوا سے ج بتک بہونٹ ذک راید سے لت رتے ہیں 
)۳٦٣ (‏ حدثا أبو ھریرۃ ٭ لہ و نحن فی بیت ھذہ - یعنی ام الدَردَاِ <َنَهُسَمع رَسُوْلَ 
الله یتر عَْ رَبّهِ عَرَوَجَل ان قَال: 
”أََامَع عَبْدِیْ مَا ٥ُكَرَیٗ‏ وَتَحَرَكٹْ بيٗ شَفَتَاه “ 
[صحیح] (أخرجه أحمد ج ٢ص )٠٥٥‏ 
(۳۹۷) مر : اک بیمہ بشت ضصجیائش مزمیہ سے روابیت ے ) رر امرس 
الہ نے ہم سے بیا نکیا او لوک نضرت ام درداء ےگ میں ےک ااکھوں نے رسول ار 
لال کواپٹنے رب سے بی نکرتے ہو سنابقن جل محیدہ ارشھاوفرماتے ہیں: میس این بنادہ 
کے سا وت ہوں جب می رابندہ مراذک رکرتا سے اورمیرے نام کے سراتھ ہون فکومرکت دیتا 


رہنا وت 


۳ے 


ٹیس ایۓ بنلدہ کے سا تج ہہوتا ہوں 
(۳۷)( عن ابی الدرداء ظللہ قال: سمعت رسول الله غل یقول: 
”ان الله َقُوْ تَا مَع عَبْدِی إِ٥َاهُوَ‏ ذَكَرَنیٰ وَتَحَرَکٹ بی َفَمَاةُ “ 
[صحیح ] (أخرجه الحاکم فی الستدرك ج ١‏ ص٤۹٥)‏ 
ڑے۳۷) تر جج : حضرت ااودرداء داد سے دودایت ےک میں نے رسول الڈد 
ےا کو کے ہو سناعقن تھی نے فرمایا: مس این بندہ کے ساتھ ہوا بہوں جب کک وہ 
میہرے ذکر سے اپیے ہہونٹ کو پلاتا رای 
باب : ابْنَ آکم اَذَكَرُنِیْ بَعُد الَقَجْر و بَعُدَ الَصْرٍ 
اے؟ا آم کے بے روح بعد بے باوکرل مرو 
)٦۸(](‏ عن أبی ھریرۃءلہ عن النبی ه فیما یذ کر عن رب عرٌوجل: 
”ابی آفَمَ اُذْكرّنِيْ بعد الفَجْر وَبَعْدَ الَضرِ سَاعَة ایک مَا بَيَْهْمَا.“ 
[ضعیف] (أخرجه عبدالله فی زوائد الزھد لأحمد ص۳۷) 
ذحص رکے بحدیتھوڑیی دم ذک راڈ سےتمام امو رآ سان ہو جات ہیں 
 )۴۹۰۸(‏ بج : حضرت ابو ہریرہ الہ نمی ا سے رواب تکرتے ہی ںک بن 
تال ی کا ارشاد ے: ا ےآ و مکی اولا دا جھے ثر وحص کے بعدتھوڑیی دی" پادکرلیاکر یں 
درمیائن یل تیر یکفای تکرو لگا_ 
ول 
اع دوٹوں نماڑزوں کے بح دکھوڑیی دم ذک رکرنے والو ں کی بن بل مر ہکفالت 
فرماتے ہیں ۔ مت چملہ امو رک یمجن بل مجدہ اپنے ذےکغاات لمت ہیں اورا کا کم ای 
گرالی اور زم ردارگی می کرات ہیں کس قد رین تھالی نے اپنے بن ےک یفالت کا شی 
اعمال پر ذم لیا اے!اگم ہم اپیے امورک تھی اسی طر مھا کہ میں ہما گی دخیا د7 خرت 


۵ے 


ونوں بی بن جل اکھرے مگ ھآرج اس حد بیث پاک بب لکرنے والے معدودے چتد دی 
ہوں گے الیڈ گی اس نشثارت سے لطف انلروز ہو ن ےکی ساد تلحیہ ب ف رما ۔آ بین ! 
باب: سَيَعْلمْاَمُل الع مَْ اَل الگرم -ت 
اب :رج مع والے ان لیس ےکک نم داع تکون لوگ ہیں 

)۳٦۹(‏ عن ابی سعید الخدریظلہ عن رسول الله بل أنه قال: 

”َقُوْل ارب عَرَوَجِلٌ: مَیَعْلم افل الع الم مَنْ اَل الگرم؟ 
َقِیْلَ: و مَنْ ال الکرم یا رَسُوْل الله ؟قَال: أَهْل الگ فی الْمَسَاجدِ.“ 

[ضعیف] (أخرجه احمد فی مسندہ ج ۳ص۷۰) 
روز قیامت باعمزت لو ککون ہوں گے؟ 

(۴۹۹) تر ججمہ : حضرت ااویسعید خدری لاہ سے روابیت ےء رسول اللہ لا 
تاکن لم مت انف نین ےن کی من وت مان ین 
کےک گرم وبا عز تکون لوک ہہوں گے؟ صا ہہ ادن عت سکیا یا رسول ارڈ ےا ال لکرم 
کون لوک ہوں گے؟ آپ چان نے ارشادفر مایا: مسماجد یس ذک رکا علقہ لگانے والے_ 
لَّهمٌ جع ِنّهُمْيَا كریم۔ من! 

فا ۷در٥:ذکراک‏ عام لفط ے؟ جس میس ش رن ا ا شضس لوج اون ہو یلم 
دی نک سینا سکداناء اصلا ں نف سک یجاس یا صوفیا مکرا مکی مالس٠‏ رسب شائل ہیں بیس 
سای پاٹ کے نام پرنہہو ۔آر ا دور بی لوگ اللہ پاک کے نام پرشی ٹیس ہہوتے ؛ بلنہ 
تل اپنی پارٹوں کےلھرے برجم ہوتے ہیں (ایدشییں یھی راہ دکھاد ےآ ین ) اوراس 
گنر ے مقصر کے لیے پاک ومتقدرس مسا دکواستعا کیا جانا ے۔ الا مان دالھنینا- 


ے٦‎ 


باب فی فَضِْ الکر 
اب :ذک راڈ دکی فضیلت 
)۳۷۰۱( لابُن شَاهیْنَ فی الترغیب فی الذ کر عن جاب رطہ: 
”اَی الله تَعَالی إلی مُوملی اَتْجبٌ أَن اَسَکُنَ مََک بَیْتک فَحَو 
لہ ماجنا ثمٌ ال: فكیْف با رَبّ تَسْکُنْ مَھىْ فَیْ تَییٰ؟ لَقَالَ : یا مُزملی ما 
ص اتور روب 4 4حم 
ال اک ذاک رکا بھم بین سے 
(٢۷۶٣)نھ‏ جم : حضرت جابر تلہ سے روابیت ےک اللہ پک نے ححضرت 
مو پروی نازل فرمالی:اے موی اکیا نے ا ںکو پن کر ےکا کہ میں تی رے سا تح ترے 
6 پڑع ؛وچاّل مم یسلت بی یرہ رو ہوگلئء عم سکیا اورے رت ! 
پکس رب میرے مکان یل میرے ساتھ ر پل ڑم موسکتے ہیں؟ ارشاد ہوا: اے 
موی ایا مکو یہ ات معلومہی ںکہ میں ا رٹ سم ہرنشین وہ جلیس ہوں جو مرا نام لیت 
ہے( مجن ذک رکرتا سے ) اور بندہ جج کو ہا بھی نلا و میں بات ےگا ( یس ہ رجگ موجود 
ہو ں بی ون مارک یکا جات عال مک مجودہول )- 
علا مان رشاہ یریت ےکیا خو بکھاے : 
زار از یا گی و خبن چم یاد یت 


ور زین و آساں جز زنر بجی آبارا نیت 
کت سے مت نی جن رن 
دو چار گھڑی اکر خرا اتا سے 


کے ۓے 


ان الد 

(۳۷۱) و للدیلمی عن بی الدرداء ظلہ: 

”اذا قال الْعَبْد : سُبّْعَانَ ال قانَ الله : صدَق عَبدِیٌ سُبُحانی و 
بحَمُدِی لا یَتبَغی الْسْبِیْخ إِلّ لی۔“(ضعیف) (کمافی کنز العمال ج )۲۰٢۹/۱‏ 

)(۸اك۳) 7ے : حخرت ااوررداء اه سے روایت ےء جب بن ہکا گے 
ان الد ان اللہ پاک فر ما ا ہے :میرے بندہنے ‏ کباء سصحانی و بحمدی ‏ مبرکی 
پک اد دح کیٹ کسی خی رے لیے ماس بکیں۔ 

ا ادا آہٹ تا ہوں مگھرد بای مہو ںک ہآ پکہاں ہیں ؟ 

( ۳۷۲) وللدیلمی عن ثوبانطلہ: 

”فقَال مُوملی: یا رب أََِيْبِ اَنْتَ فَأنَاجیْک؟ ام بعد فَنَاِبُک فَإلَیْ 
ال ترک تک ۷ کو ات کی کال 1ت احنکت۔ 
امَامَک وَعَنْ يَمِیٔیک و عَنْ شِمَالک. یا مُوملی!أنَا جَلِیْس عَبّدِیٌ جْنَ 
يذُكَرُِيَ و أنَا مَعَةإِذَا دَعَایٰی۔“(ضعیف] رکم فی کنزالعمال ج /۸) 

7۳ع صخرت فو بان لاہ سے روایت سے محظرت موی علیہ السلام 
نے فرمایا: ارب !کیا آپ قریب ہی نک رآپ سے م رگوش یکروں با بعد ہی کہ پیقادولء یا 
ادا آاہٹ تا ہوں ہگ رآ پکود کنا یں ہو ںک ہآ پکہاں ہیں ؟ صن مل محیدد نے فرمیا: 
تیر ےآ کے تمیہ دانیں انیس ہوں۔ اے موی ! یس ہیں جہوں ایے بن ےکا 
جب دہ ہھ وو باوکرتا سے اور بنندے کے ساتجھ ہوا ول جب وہ جج پیا رتا ہے 

تح تنس 
(۳۷۳) و للعسکری فی الصحابة و أبی موسی عن حنظلة العبشمیطللہ: 
تَامِن قوْم جَل مل مَائ رہ الله لا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السُمَاءِ 


۸ے 


[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج۱۸۹۲۸۱) 

)٣2٢(‏ تھ جم :لہ شی لہ سے ردایت سےء ج بکوگیقو کس یکس میں 
یٹ ھکر اللہ یا ککا ذک رکرٹی سے نذ آسمان سے ای کپآواز دینے والاکہتا سےکہ: تہارگی 
0ص" 

ج بن ماں کے پیٹ می سںنٹین ےت مکوخمذ اکس نے انی ؟ 

)۳۷٤٣(‏ ولأبی نصر ربیعة بن علی العجلی فی کتاب (ھدم الاعتزال و الرافعی 
عن ابن عباس : 

”َال الله تعَالی: بَا ابآ إِنْ ٥َكرتبیٔ‏ دُکرُنک, وَإِن نَِيْتِیْ 
٥ُكرْتکَ,‏ وَإِذَا أهْعَيیْقَافْقَبْ عَيْث هِنْت نعل نَالِيِیْ وَأَوِْيْک, 7 
تُصَافیبیْ وَأصَافِیٔک, وَنَعرض عَيِی وَآنا مقْبلِعَلَیَک, مَْ اَوصَلإَِیُک 
لْعْذَاءَ وَاَنْتَ جَيِیْنْ فی بَطُنِ ایک لم او ابر یک تَذبِيرًا تی 2 
ِرَافَتَیْ فِیُْک, فَلَمَاءَخرَجُنک إِلَی الڈنیا أكتْرْتَ مَعَاصٍی ء مَا هکذا جَرَاءُ 
مَنْ أَحْسَنإِلَيْک.“ [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۰۹/۱۵ )۲۳٣‏ 

(۳۵۴۶۴) نت جج : حفرت امن عماس تد سےددایت ہے اے ابی نآ وم !گر 
ہج کو بادکرتا ہے و می سک مکو با دکرتابی ہہوں اور جب نو بج وکوفرا مو لکرتا سےےء بل بھی ہیں 
ت مکو بادرکتا ہوں اور جب نو مبری اطاحع تکرتا رتا نے جہاں چا سے جا میرىی تفاظت 
وقراست ٹیس ر ےگا اور متیرے اموک یگراٹی وکفال تکرتا رہو لگا و اپنا معاملہ 
میہرے سا تح عبادت داطاعت کے ذر بج رکتنا ہے اور بیں تتیرے پاش نکی اصلا ںک تار ہتا 
ہوں اور ہج ے اعم را کرت ہے اور بیس تی کی طرف (انی رککنتوں سے ) متوجرر بنا ہوںء 
ابچھا یہ تاکہ جب نو ای ماں کے پیٹ میں جن تھاء نو خذاکس نے یی ؟ یںسل 
تی ذات کےصس نیقی ون بی ریس لگا ہوا تھاء ببہا لک ککہ یش نے اپے ارادے کے 


59ے 


حت جو چاہا ترکی ذات ٹل ناف ذکردیاء اور ج بت مکویمل ایک مین وخوبصورت انس نکی 
شحل میں دنا میس لابا نو بچھ رتو نے محصیت وس رش یک یکوئی حد ش چو ی ء س بکویبو رک رکیا 
( یی جارس نماز بناء نرک ستت رعولی بنا ء ارک ق رآئن بناء اشئی و نے حیائی کی راد نو نے 
اخقیارکی ۔شراب نّنے پیاء زنا نون ےکیاء سود و رشوت ٹوو نے کی کل وغارت فو ن ےکی 
الفرٹش حدودکونونے نوڑ دیا اوریہ شر سوچ اکہ )کیا کی بدلد و جتزا سے اس ذاتػن رب 
ذ وا لال دالا۲را میاء شس نے تی رے سا پھلا فی وخ رخواب یکا معا مل کیا۔ 
لخد ال ہت سبحان الله العظیم) 

کیا الش پاک کے احما ن کا بدلہ یس ےکرنم محصیی تکرو؟ 

الد اکر دہ ال کا تا تکس فد رک ریم درم ہے جو بندر ےکو ہرعال میں یادرکتا 
ے خواہ بنلد دا کو بادر کے باندرر تھے ۔عبادت داطاععت سے بندہ جب الاڈد کل مدکی یاد 
کو اقی رتا ےء اس پرانعامات ے لے بی ہیںکیکن بندہ جب من ہل مبدوکی عبادت کے 
با سرشی اوراطااعت کے با نافھرماٹ یکرتا سے پچ رھ یجن مل مہ ابنینھتتوں اور 
رتمتوں کے ذرلمہ ہناد مکو یجول ۶س ۰ئ0 تل جہوجائے کا مات عا : 
مس کت انمان ہیں جومن+یات کے کب ہیںہ مامورات کے ارک ہیںء انمانع جب 
نافرمال یکرتا سے نے وق عبادت سلب ہوعائی ے ؛ لب ودماغ یل فسادشن اح پیا ہوتا 
ہے ال قکی فررت صناعت میں شحکوک وشہات پیدا ہونے ش رو ہوجاتے ہیں اورمم 
اس کے بعد کرای سےنفلت ہولی ششرو ہوجاٹی ے؛ اوقات لونی ضا لح ہوتے ہیں ؛ 
حلوقات الب سےلخرت ہوئی ے؛ دہ اور رب کے مابین لق ہے ام ں اص کو ال 
آریرے ارت 0 ۰ ھ0۵ 9-7 
فمادات پیدا ہوتے ہیں؛ رزقی سے بکلت اھ جالی ے؛ امی ےکی عھ رسے برکم بھی أمٹھھ 
جائی سے اور زندگ یکاکوئی رخ بھی جج نہیں ہو پاتا لم ومھرنت ےمحرو مکردیا جا تاے؛ 
ااۓ ارت نوا ی کی دز جیادر چڑھ جا ی سے؟ ا و بناوت ر مادہ ہوجاتے 

۸۰ 


یں :؛س دن کفکردیاجاتا ے؛ برے ہشن کے ساقع اہ سکومتق کرد باج تاےء جو ہمہ وقت 
اس کے پانلن کے فسادکا ذر لجہ ئ جے جاتے ہیں؛ پر انی دامح نکی واوئی ٹل اُتاردیا 
جانا ہے؛ رزقیء یف رکز را نچھی تن ککردیا جانا ہے :الخرنش بے شما رم کےآفات و بلیاتہ 
جاٹی و مالی نتصانا تکاحض نافرماٹی کی وجہ سے انساان شکار ہونا ےہ برخلاف اطاعت و 
عحیادرت کے ؟ کیو ںکا٘س کے ذر ہییے ان قھام پعار یو ںکی اضداد صنما تی ورای ونگولی پر 
ہوی ہیں۔ 

جن بل دہ ن ہم سے ریب تر ایک مثال دک کہ ویکھوا جب تم اپتی ماں کے 
پیٹ میلء اولامی کے قطرہ ےنم سے ,اپ ماں ء دونوں بپ ینف تکرتے تہ یمر میں 
نے اپٹ یکمالی قذرت سے ”طف“ نایا نحضف ہب رن نعلق تم بتا کہ اس وقت تم کت 
عاجز اور ےس تےکراپنے وجود یل می راع ےہ پھر جبتم ہے تھے اپ لف و 
نتصا نکو زا وص لکمر کت خے اورند وم ار سک تے۔ رب یر 2 """ - 
تھا اورا بت کوکھوڑی رت کے یے میں نے بااخفنیار ناف رش یکرتے پہوہ دیھوا 2 
وجود میں تم بل نہ تے اور بااخقیاربھی نہ تے او رخ می تم انسا نسحم ہوگ گر ہہ عازشی 
اختیارہ ٹیس رم سے جئی ن لو ںکا اورم دوبارجخنانع دبے اخختیارہو جا گے؟ اس لیے سور لوا 
کیاککررے ہ تم اپنے عارشی اخقیار سے جم وع نہیں دے رے ہو؟ دیکھوا ا ٹس نکو 
پیانو او رعفت احمان پیراکرو! او بجی مرا شک یی سے.ح تل مد ہایس انی عباد تکی 
تنی یحض ان و ےلوازے۔( آمین) 

ڈاکربین او یمالس ذک کی فقیلت 

(۳۷۵) ولابن شاھین فی (الترغیب فی الذ کر) عن اُنس‌ظہ: 

”ما مِنْ قوْم يَذْحُرُوْنَ الله عَزَرَجَل لا یِیْدُوْنَ بد لک إِلّا وَْه الله إلا 
نادَامُم مَُادٍ مِنَ م0 قُومُوْا مَغفُوْرَا لكُمْ وَقَڈ بَُلَتُ سَیْنَانِكُمْ حَسَناتِ “ 

(کما فی کنزالعمال ج۱ ۱۸۹۱۸) 
۸ 


(۵ے۳) تھ جم : حضرت اس طلاہ سے دواایت سے ج بکوگی قوم و جمااحعت 
مع ہوک الہ یا ککا 0" ےگس الاند یا کک خوشنودی ورضا کے و آسمان ے 
ایک پکارنے والا پاداز بلن داہتا ےکہ :تم لوگ اس عال میس بیہاں سے ا شھ کہ ایند یاک 
نے تمہہاری مقر تکمردیی اورتھہماریی بدیی وییکا تکوصنات مل بدل دیا۔ 
جا تم ہا ربی مخفر کرد یکئی 
(۳۷۲) و للبیھقی فی(شعب الإیمان) عن عبداللّه بن مغفل ظلہ: 
”مَامِنْ قوْم و ا راک َعَالٰی إِلّا نادَامُمْ مُنادٍ مِنَ السَمَاءِ 
قُوْمُوا 1 تا سَیْنَايَكُمْ حَسَنَاٍ.“ (کعافی کنزالعمال ج ۱۸۸۹/۱) 
(۷ع٣)‏ تھ جج : حضرتعبرالربن مففل ذیلوہ سے روابیت ےج بکوی قوم و 
جماعت شع ہوک ر اویل یا ککا ذکرک کی ےا ایک پکارنے والا آسمان سے ارتا ےکم انس حال 
یس جا کتہاری مخفر تکرد یگئی ءاوہاریی بدیی وسنجا تکوسی وسنات ٹیل بدل دیاگیا- 
بنارہالڈ تال یکانحروب سے پامیخ ون ءا کی علامت د یچین 
(۷۷)) و للدارقطنی فی الأفراد و ابن عساکر عن عمرطلل: 
”ال مُوُملی يَا رَبَ وَدڈث ا الم مَن تُب مِنْ عبادِک فَأَجُة. 
فَالَ: إِذَ رََیتَ عَبْدِیٰ یکر ذِكرِی فَأنَا أَذِنْتَ له فی دَلک و أنا أحبهہ وَإِذَا 
رک عَبِْیْ ليذ كرنِی فَانَا عَجَينة عیْ دک وَ انا بفصَۂ.“ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۱۸۷۰۸۱) 
(2ے٣)‏ ت ہمہ : حفرترحشد سے ردایت ہے مححفرت موی لق نے ف رمیا 
اے رب !یس چاہتا ہو ںکہ ال عو کو جان چائول نجس ےآ پ ھب کر تے ہیں کہ 
بھی اس سے محب تکروں ۔ت تعالی نے فرمایا: جب نے میرے بندہکوکشزت سے می انام 
لیت دیو سج جاکہ میں نے ا کو اپینے ذک کی اجازت دگیا سے اور یل اس سےعحب تکرتا 


۸۲۳ 


ہوں اور جب و دک کہ بندہذکر سے ضاشل سے مرا نا میس لیا بج جاکہ یش نے انل بہ 
غفل تکا حاب ڈال دیا ے اور میں اس سے نارائش ہہوں اورائ سکوم یخوش رکا نہوں _ 
الٹ دک یگبرییاددہ بت سے 

اد ذک رکون بل مر نے انی محبت وعنای تکی علامت اورخفلت ولسیا نکوغیٹا و 
غحض بک علامت بتلایا۔ جب سی ےک وحبت ہوثی سےذ ا ںکا نام ور وز پان بن جاتا 
ہے۔اللدتھاٹ یکا نام دل وز بان برای وق تآ ا ہے نیہ ذا تن سے روا خلت ہواوراسی 
را وت قکوحد یت یل محب تکی علامت جلا گیا ہے تھام تر منزلیس اسی محب کی یاد بہ 
",۰ ۷ و 
کت کیہ ای قزر رش عبت محکمم اور استوار ہوتے ہو ۓ نظ رآ میں کے اورجب 
مال عبت پیدا ہوجائ ۓگ فو بچلرانسان اپنے اراد ےکو ما تک وموی کے اشمارے پر ا 
کرد اےء جب چاکر لا الہ ال اللہ کی پیقی اشن سو ہوگی _ واد رام ! 

7م" ےم تن 

(۳۷۸) و ذکر الغزالی فی الإحیاء لم یعزہ: 

فی الْخبَر اي الله َعَاللی وی إِلّی دَاؤّد عَلَيْهِ السّلامْ: 
ُعَتبک إِلی عَلُقک؛ قَال: اُذْكُرّنیْ بالحشن الْجَمبْلء وَاڈکز آلابِی رَ 
إِخسَانیٔء و ٥َ-رْھُمْ‏ دک فَإِنَهُم ا يَْفُونَ منَی لا الْجَمبْل.“ 

[ضعیف جدآ] (کما فی الإحیاء للغزالی ج٤‏ ص١٤٣٥)‏ 

(۳۸) 7ے : امام غمزای نے۳ احیاء العلوعم یں ذک رکیا اور ا سک وی جاب 
مو بک ںکیاء روابیت میس ےکتتن جل میدونے دا دعلی السلام پر وی ناز لکا- 

بج سے محبت رکھواورمیہرے دوسنتوں بھی محبت رکھو او رمیریی عحبت می ربیننوقی 


۸۳ 


۳ء" ۔ دا دعلبیہالسلام نے عو کیا ار الغزرث إ ا پک آپ 
کی خلوقی کے ول می ںکس رج پیدامروں؟ من بل مو نے ارشادفرمایا: می را ذکر وت ذکرہ 
میرکی صفات تسنء صفامت يحیدہءصفاتت کنل کے ساتھ بندوں کے درمیا نکی ارول مین 
دو خوا ہکتنا یندا ہو میں نے اپ ینتوں می ںکی نی ںکی ۔کننا یکین جمکمرے میں 
پردہ پگ یکرت ہہوں۔لوکوں کے درمیان رسواٹی سے بچاتا ہوں۔ ین اعضا سےگنا ہکرتا 
ہے ا کی طاقت سل بک ںکرتاء انی چو ںکا بنادوں بیس تنک ہکرو؛ اکیرانع کے ول 
میس می کی مو یکی عبت پیدا ہو )اور مر یکا نات ع لیم می تی نشانیو ںکو لا َء بار 
پارا نکا تن کر ہکرواورمیرے بنروں پر سکت ٹیم اسانات ہیں ا نکا بھی تن کر کرو لی 
کوٹ یکم اسان ےکہ یل ےے انسالنع جناباء میدالن اور درنر٥‏ نہ بنابا تو انمای صفات کے 
سا جع ر ہیں ءاپنے ر بکوفراممول نہک یں ) اور ا کون نکی وشجبحد کر تے رہ ھکہ دہ جج کو 
یں جا نگ ربھاگی کے سراتقی (نھنتو ںکاشکرہ مزال کی محرفت, ال قکا عق عبودبیتء 
نتموں کچ استحمال کفروشرک سے اج تاب مماصی ارت ہے رب 
زی بندہکو بندہ ہناد پت ہیں۔) (احیاءاعلوم غزا یل۲/۳٣۱)‏ 

حضرت دا دعلی السا مکا پارگاو رٹ الحزت میں سوال 

(۳۷۹) و للبیھقی فی شعب الإیمان و ابن عساکر عن ابن عباس ظلہ: 

”َال اود عَلَيْهِ السَلامَ یما يُحَاطِبُ رَبَة: يَا رَبٌ| ای عِبَادک أَحَب 
لک أَجِتُة بخُتّک؟ قال: یا دَاؤد اب عِبَادِی إِلَي تَ ۳ نَقِیٗ الَقَلبٍ و نی 
الْكَفيْنء ا ای إِلی اح سُوْءَ و یَمشٍی بالَميْمَةتَزُوْل ابا وَلايَزرْلَ 
أَتَيِىٌ و اجب مُنْ بُبي و عَيإِلَی عبَادِیٰ. قَال: ا رَبٌ! إِنک لََعْلَمْ 
اَی أَِتُک وَ اجب مَن بُجبُک فَکیْف امک إلَی َاوک؟ قال: 
ذََرْمُم بالَائِیٔ وَبَلانِیٗ و نَعَمَائِی یا اود إِنه لیس مِنْ عَبْدٍ بعِينْ مَظْلوْمَ او 


۸۲ 


َمُبٍٔی مَعَة فی مُظُلِمبهإِلَا لت قَدمَيْهِيَوْمتزَوْلَ الْدامْ “ 
[ضعیف جدآ] (کما فی کنزالعمال ج )٣٣٤٥٤۷ /٠١‏ 
(۹صك۳) 7 : تخرت این عپاس الد سے روابیت ےء منرت داد علیہ 
العلام نے رٹ العامین سے خطاب میں شرمایا: رٹ لھا مین ! آپ کے مام بندروں میں 
آ نپ اوسب سے زیادہ پپندیدہ بندہکون ہے؟ ت اک ہآ پک معحب تک وجہ سے ٹیل اس سے 
مب تکروں ۔تتی تعالی نے ارشادفرمایا: اے دا ! بج کوقمام بناروں میں و ہت پنرے 
پک دل ءصاف پاتہ جوکسی کے ساتھ برائی نکرےہ تہ یکس کی غیبت ونخل خوری 
کرے اتا ایت قدم پ کہ پھاڑ اپٹی مہ ےل جا ہمگمر ال کا قر ش رلجت مطبرہ سے 
انام سے :یل کے ہج کو دوست ر کے اورال سکویچھی جو ہج کو دوست رتا بہواو رمی ری محبت 
ہرے ہثروں کے ولوں میں پوس تکرتا ہو داوٗوعلے السلام ےج کیا ذرب العامین 
ا آ پکومعلوم ‏ ےکہ میں آ پکو دوست رگتا ہوںء اور ا س نخس کوٹھی جآ پکو ووست 
رکتاہے لیا نآپ کے بندول کے ولوں میں پک عبت سے پیداکروں اور کی ےلکن 
ہے؟ الد پاک نے امش دفرمایا: برےقل سے نک تخرل 1 مرف 
ہو ےکی ول کا اریت عالم میس میری ددرت ونشا لی کے ذر ینف لکراو اور جوعپادت و 
اطاعت سے منہموڑے اس سکومیریی ز بروست وخ ت کڑ سے ڈراذءاورمشعخ وفرماں بردار 
خی سے لیے می یتو ںو یادوا 1( جال دئا ٹیس ئل ربی ہیں اورآخرت یس تھیمیں 
گیء ور اوڈی درجہ ےک موجودونتو ںکوہی دس ھک متخ وفر مال بردار بن جاۓ ) اے 
داؤدا وہ بنرہ جوکسی مظلو مکی احعات و بددکرتا ے پا مظلو مکی نصرت کے لے چندقدم 
چلناے, میں اس کے قد مکو ہک صراطا رمضبوما وش مکردو یکا ج بک عام لوگوں 2 
اکٹ جائیں گے۔ 
تی بل مہ ہی محبت خماصا نکی علامت سے 
جن جل مدکی ذات سے محب تکمال ایمان اود خاصا نج مس ہون ےکی ول 


۸۵ 


سے ق رن میرنے ا سی نحعت کےتصمو لکا بہت بی اہم اورآ سا ن نج کیا ہے۔ 
و اللَّهُعَفوْر رَحِیْمْک 

کہردہکے ا ےج چا ارم اد تھالی سے عبت رککتے ہونذ می ری اتا عکرد نو اللہ 
تحاٹیقم سح عحب تک میں کے اورتمہار ےگناہہو ںکومواف ف رما یں گے اور ای ای جن والا 
اور مکمرے ولا ے۔ 

اس یت میں تال یکی عبت کان پنلم لا کیا ہے اتاج رسولل انشمم پاہ 
ہعار کیا ال و بسا کہ مجن بل مہ س محب تکر مس ادرمحب تکا دوک کم یہ ہاں !رسول 
الد برفدا ہو جائیں ؛ہأفی فدایت ہوگی ات ین تعالی سےتربت بحبت ہوگی اوراہی کے 
بر رای دکا وب مجن جا ۓگا- 

حطر تتسن اصر کی روابیت ےک رسول الد چان کےصحتاب نے حر فیا باعل 
اش (ة)! "میں اپنے رب سے شد برحبت ہے ہو ال تھالی نے انی عب تکی علامت کے 
ور ٍإِنْ کُنْم تحبُونَ الله ابو نازل مال کہ وی محبتکوائ سںکسوثی پہ پرکواو۔ 
دکپرلورسول اللہ ےکی اتاغ میس خماص برک تکا راز پ ج ےکہ جوش ںآ پک بات بنانا 
سے اس پیر اد تھا کویحبت اود پیا رآ ا ےکہ یمر ےحبو کا رٹیل ہے ب نول الی 
ال رکا سب سے اقرب ت بین طر بیقہ سے کمال تو بی ےک گر وط رک اتا رسول جا سے 
جا حکروے۔ 

حضرت مبردالف خان نے ایک موش پرفرمیا: 

ونس چنا سن تکا اہتنا مک ےگا اتی ا ےق رب ای حاصل ہونا چلا جات ےگا۔ 
قرآنجلیم میں حضرت نل درد نے ایمان دالوں کے ےجرد ےك ہاو الَذِیْنَ 
نوا اش بَا لچ ایمان والو ںکو اد تھا لی سے شد بارحبت ہولی ے۔ 

ایمان والو نکو پور کات عالم یش جرفای کے متقابلہمٹش باقی سے اورآفاقی و 


ہ٦‎ 


سک ہر خے سے بالا رن مل مرہ سے عبت ہو ہے رسول اللد ہلا ہرماز کے بعد 
دعا ف رما : 
مُبْک.اَللهُمٌ اجْعَلْ مک اَحَبٌ إِلَی مِن تَفُسِیْ وَمَالیٰ وَأهلِیْ وَمِنَ المَاء 
البارد. 

اے الل می لپ ےآ پک محب تکا سوا لکرتا ہہوں اوران خاصال نت کی عحب تکا 
بھی جھآپ نےحخب کر کے ہیں۔ اورایے لک نشی دتیچیے جآ پکی عحب ت کک بی مکو 
چیادے۔ یا الل دا آپ اپنی عحبت غالل بکرد تیچ مب کی جان ءمیہرے مال ء اورائل واولاد پر 
اورجخقت پیاس کے وف ٹییٹرے پاپ ی کی طلب سے زیاد ہآ پک محب تک طلب ہجو ہو 

اٹل اش با حاصا ن ىآ زتضو رق میس مقبول وو بک یوں ہہوتے ہیں ؟ 1 خرکون 
کی خی مکو نی ادا ان 027 ے جوا نکو نی آگاہ ناد ٹی سے۔ لہ دوجھی تو ہعا ری 
رع ایک اش ہیں ۔فرق یہ ےکہالن کے سے میس ایک دل سے اور انس دل می خالق 
اش دسا ے۔ جماراول لاتعدادیتو لکاکپاڑ خانہ سے۔ککہیں ما یکا کھج 
جهم نے اپنے د لکو بت خاشہ نایا ن کہ انف د لکو ہم نے محصبیت کے ولدل میل 
پھنسادیا سے ۔اےکائ شک عم نے و لک شی 2ھ ہودنا نو یں 
ا ماس ہوت اک ہم ن ےک یاجھویاا کیا پایا۔ 

نضرت خواجعزیز ان مج وب ن ےکا خو بکہاے: 

آ نہ جم سے رکٹڑ لاکھ ج بکھاتا سے ول 
ینہ یھدول بڑئی مشکل سے ین اتا ہے ول 

ووسُُو! و لکوبنانا ے نکی صاحب ان کی بھی اخیارکرو۔ پ رآپ کے ول 
یں ال ہہوکا الیث رکا نور ہوگا۔ ال دی محرفت +گیء ت رآ ن افو ز و ینا رکز یکی راہ آسمان 
7 و لکو اغیار سے ارت 7" 0202۲ 7 پچ رآپ مردا نج آگاہ 


ے۸ 


ہوں گے حضمو یقن کن آگاہ ہہوں گے کیا قو بکہاےخواجرصاحب ک 
مس کا م کا 7 دل سے ہس ول میں لوہ ہو 
جس نام کا 7 سے ج سکیل لن و 
رکیا ہوگا: 
ا نہیں خل سی مب عیب 6 
وۃو مصت ہوں میں لہ انیل قرب 6 
جناب رسول الد ان ےگس دل سوزیی ودول دوزیی کے سرا تحت بل مد ےکن 
تعال کی عبت کا سوا لکیاے ا کا انداز ہآ پک مناجات کےگنزتی الفاظانبوت سے اہر 
ہوناے ت معلوم فراہ ا ی دای لان نے رح تل کے زان من نشی مک یس وج وت 
ان افاو کر 
اَلَهُعمَ اجَُعَل مُبُک اَحَبً الشْیَاءإِلَیٗ وا جُعَل عَشْیتک اَخوَف 
الشْیَاءٍ عِنْدِیٔ و افُطَع عَيييْ حَاججاتِ الڈنیا بالشُوٴق إلی لِقَائک وَإِذَا اقْرَرْتُ 
اغيْنَ هلِ الڈنَيا مِنْ دُلياهُمْفَاقْرِرْعَیِی مِنْ عِبَاکنک. آمین. 
ا دکبردے تھے ان عحب تکوقمام چچزوں ےھ روب تر او رکردے می رے نز دک 
ا ڈ رکوخوف ناک تام چروں سے او رش عککردے جھ سے دن یاکی تمام حاجنیں_ ابی 
طاتقا تکا وق در ےکمراور جن ٹھنڈر یک ردی ہیں نے نے ال دن یاکی ہیں ا نکی دٹیاے, 
فو نڈر یکردے مبرییآکگدابٹی عادت سے۔ 
نی رحمت ڈ ےکی اس مناجا تکوازاڈل جا آخ پڑھ جایے اورھوڑی دب کے لیے 
علات سے اپے دید ة باعل نکو ا فک یی اور ذ وقیا تک ص٠‏ سکوتیز یی او رجات و رنھوت 
773ھ۷ظھ"تھ7 ان کہ ھرممنرا تک کک آ7ت ٹن قاوربت کے شو یکو 
بھلہعاجات وطلبات بر طالب ریہ دناداراٹی فا ی وغاکی دا برغ نظ رآ نے آپ 
اپنے رب ہائی کی عبادت سے شادال وفرعال ر ہے دخیاع فالی پرنا زا ر بے الا ندامت 


۸۸ 


وصرت کے سا تج نا بہوجات ےگا اورر ٹک رگ مکی عبادت سے و لکو ین درۓ الا اپری 
بقاءکا انعام پا ۓگا- 

ایک م وش بی أئی فداہالی دائی چا نے دعاکی ے: 

الهم یی مُبُک و خحبّ مَىْ تَققیْ مه عنْدک, الم کا 
ری ما اجب فَامعَلَهفوّة لی فيمَا تُب الَهُم وَمَا رَوَبْك عَییْمِما اجب 
َاجْعَلَه راغ لِيٌ فِیْمَا تحبٔ. 

و و 0 
کارآ ہو ترے نز دیک۔ با ابڈجشس ط رت فو نے شے دیاے جو بج بے پپنر ےل وکردرے 
ا تین مرا ا سںکام میس جو ھے ند ہے۔ با الد اورجھ رھد دو رکیا نو نے مھ سے ان 
2 سے جو جج کو ببند ےل وکردے اسے مھیرےجقن نف ازع یدن کے لے 
جو گے نر ے_ 

ان دعاوں میں رسول اللہ لان نے جن تتعا لی سےجضن تعا ‏ یکی عحب ت کا سوا لکیا 
سے۔آ نج و معحب تک بات نہ ہولی سے نہ دی عحب تکیا با تک نے وا اکوئی سے او راگ رن 
تمالی ےب تک با تک جاۓ نو اجکھے نا سے لو ک ٹجب دخج ٹیس بجر کردا ہی ںکہ 
اق سے محبت۔ لم نے قوا مکو بھبشرتلی تما لی سے ڈرایا اور دو رکیاء مب تگا راو 
دکھلا ہی تی بکیاء ہم نے ایے لق ومن ککو پیا ناب یکیں بک وام فو عوا مخ ا بھی عحبت 
ےآ شنا یں ۔ لہ رسول الالد لا نے و ری قوت وطافت کے سا بن تعال یی عحب تن 
تعالی ہناگی ے90 7 رت واطااعتء اتال اوام یا تاب و ای 0 
اوراد وا ذکا ر بھی اعمالل تمرم دوشان تا اک وف وضبیت اورعز اب وعحقاب ے 
تحذظے کے داعبہ کے حمت ۔ یی عبادت واطاع تک تما ی کے عزاب واوتان سے 
کے لی ےکی جا ت کمن ہل مد ہکا عذاب وحتاب نہ ہو۔ کھج یکمود وتائل سنزئنش سےء 
گربھی رذ ہول کے وفت محاص یکا مرک ب بھی ہوگا اورعباوت می بل لبھ ی1 سنا ے اور 


۹ہ 


ایک ان ےج یل میدہ حبت وئنظمس تک بناء برشوق و زوق میں وظی کید ی تگواوا 
کر ک گناہ و متاصی یکو ارڈ پا ککیعظمت ویحبت میں مچھوڑ باج راب عم کے توف 
سس ۔عبادرت سےقر بکاطا لب سے جن انیس +اذکارواورادکی با ند عبت سے 
مر لی جا نکر رضا ور بکا طاللب می نکر اداکرتا سے تہکراحوال ومشاہرہ بس مز ہکا طا لب 
نکر طا لب رضاح موی کے اعمال ہی کل وف ری ںآ تن گا۔ ہرفدم منز لکی طرف جزز 
ہوگاء جا محب تکا خماراستنقا مت عبادت واطانع تکی را ءکوشوق عحبت می ںآ ساا نکرکی ہوثی 
ام بگا مقر بکی لت میں عحب تکو تفگ مکرتی ہوئی ہرخواہ مسا یکو مرضیات ربالی یہ 
رک ا وس لت نار وادیو ںکو لی حےگرا دی ہے۔محبت اجاع پر ور 
رد تی ےکیو ںکہ اس میں رضاۓے رب اورتمو رت کی تضموریی کا ا خحضار و لقاءِ 
رک نکا داع ہل عب تکو دید پان می لگ مکرکی رہق ہے۔ جو لکائۓ نہ گے اور بھاے 
نہ کھے۔ ج بلک جاتی ہے نز ھرسرزنئیس ہی مر گنی ہے اللدوالو کی جوتوں جس 

را سے جا لت ےس سن سے سراع۔ الیندوالوں کے پا الد متا سے َللهْمَ 3 
لِيْ و اجَعَلَيیْ لُک۔ 

دوستو !اس محب ت کا کا جم سکول کگگیا سے اس سے لوھب ہکیسا آب حیات اور 
غیرد ودجا محبت ہے۔ یہاں سیب رالی ہہوئی یس ءطل بپچھتینئیس ہت بڑھتا ہے٠‏ ب ےق رای 
میس قرار ےہ و میں وصال ے۔ ہرلزت قرب برصد ہار استغفارے پا(آخر نف قرار 
سے مدکی راوفرارے ۔امی عم بےاقرار یکا نام ئل الیل کے نویک دصالی بار ہے۔ 

هُمَْی اسألک لَذَةَ ْكرإلی وَججھک و الشُوْقِ ای ِقَاِ ک مِن 
غرٍ ضرّاءِ مُضرَة فو مُضِلَة .اللهْم رَبْنَ بزِيَة الایْمَان. 

مع دھاص٢‏ یککادانح فرق 
ر ٤ص‏ ء۹۶٤‏ ھ . 


ہہ جج ےر نئِ سے 3د سے2د<ھ ہ 


۹۰ 


ذَكرَبیٔ وَهُو مُطيْغ لی فَحَقعَلیٗ أَ اَذكره من بِمَغفِرَِیء وَمَنْ دُكرَِی رَ 
مولی اص فحَقٌ عَلَي ان اذ کر بمَثمتٍ.“ (ضعیف] رکما فی الإتحافات /۸۹) 

(۳۸۰) جم : الوہندداری لہ سے روایت ہے عق ہیل مہ نے فرمایا :عم 
می اطاعت کے ذرلۓ بے بادرکھو! میں “بھی ںتمہماری مخفرت کے ساتھ را درکھو ںگا؛ 
کیو ںکہ جو مھ بادرکتتاے اور می امن رتا ے ,نو می ران ےکہ یں ا ںکوا بھی مخضرت 
کے ساتھ بادرکھوں اور جو جھے یاد نے رکتناےء عالما یک دہ میریی ناف مالی بج یکرتا ےو 
مبرائن ےکی ا سکوابٹی نا رسکی کے سا بادرکھوں۔ 

تال ادامراوراقنا بنواعی شتخائ 

ال حدییث دی یش ارشادفر مایا گیا کہ :دہ ہندہ جو بل بد ہی یاد شی 
بصصورت عبادت و اطاععت مروف ر جتا ےءجن بل موہ ال ںکوابٹی مخفرت کے سا اد 
رک ہیں۔ 

تی جل مہ کےمغفرت کےساتھ یاد رک ےکا مطلب مہ ےکہ :عق بل محید اس 
کی مففرت فر ماد تن ہیں ؛کیو ںکہ جوفش سجن ہل بد ہیی عبادت واطاحح تکوا بی زندگ یکا 
مقصمداوراہدکی س می حیات بنالیاے اور رٹ لھا نکی عبادت واطاعح تکوا تی جالن پ 
یوں از م۷ لیتاے 7 نی زندگی کا ال معیاں “جو دق 7 بنلدگی اتال اوام اوراجتاب 
ماب یک یکن گنا سفن جل یرہ اہی فی بافن٘ش کے لے ام ابدی جاری 
را یں من نے ابی ڈ ےا راوکرم وعنابیت مغفرت وٛششش نے کی سے_ 

"و ت-- روف الک کی مہ دارکی مو ںکر لت ہے لو الد 
ع زوپ ل بھی مخفرت کا ز مہ نے نے ہیں۔ 

اقام زنر 
کرک یک میں ہیں: (1) دکرکسانی ‏ (۴) کی 


۹ 


ذکرکی ں دوڈو ںٹھییں مار کے بیہاں مصممول .ہیں ربھی ایا بھی ہہوتا ےک 
ذاکرہ ذکررلسمالی ٹیس ء جو یجھالفا ظط اداکرتا ے اس سے ال ہہوتا ے ؛ مین و اب کے اختبار 
سےا ذکم می کو یکی می ںآی۔ ماع بھی کن یک یی فرماتے ہیں۔ 

دی 7 در ےکی العل تک ان ہے حد یٹ یی ڈکجھ یکوکئی درجچ زیادہ 
اعشینذاب ڈلا گیا ے۔ مشارغ نقشند یہ کے بیہاں و اڑل تا 1خ ذکرنھی ب یک یلیم دی 
جائی سے۔ ذکر خواہی ہو پالما ‏ ی ودب یگمود ہے م شا نقتشبند یہ کے ہا ل'سرالاصرار 
یلیم دبی جائی ے؟ کہ ہرسماٹس ؤکر سےسعموروموررہے او رکوئی سال فلت سے ثہ 
لیاجاے اور پیدجگ یس یکونہ ہو سواۓ اس کے جم کا نام ل اجار ا ے_ 

مرکودہ ہللا وک رکیقموں کے علادہ ذک ہک ایک او ڑھم ہے اوردہ یہ ےکا نما نگل 
موی کر بن جا ئے۔ لن انسان ابٹی طب کول طور یجاح ش ریعت بنادے اور چھملہ 
اعضاء و توارں ش بجعت اور پا نٹ رآن وسٗٴت زچطا وف مرکو زین گنی از 
بی ذکرمرادے_ 

خلاصہ کہ ذکرکاای کم وم فو دو سے جومیس نے سے با نکی اکہاذکارسونہ و راو رہ 
کاوردکیاجاے۔ یھی شیملعت ے اوراس شی امت سے ود خماصال نان وانف ہیں جواس 
کا ذائقہ چک گے ہیں اورج یکو ال ںکا چکا لگ جا ے۔ بن لن ء خائس ا سکی دی ہوئی 
تی ہوئی ہے۔ ایل تال ینففلت سے ہماری فا ظت فرمائے ! آ نٹ مآئین۔ 

ماوروحدبیث می جن بل مد ہن رمایا: ”من ذکرنی و هو مطیع (لی)“ 
اس بیس لفظظ ا مسطبسع لی“ سے ایک صورت اص ج تین ہوکی ے دہ ریم ےک کر سے 
مرادہاوی ڈور دتمموں میں سے تیس ری تح یش یگل طور پر پابنرش رلعت بنا سے او اہ ری 
بات ےکی خ ان واعاد مث اس اس ٢‏ تح امت 
عدودہ جچہادثیجننل الہ قیام اکن ء سیاست مدنبیتء معاعلات تع وش ا* اھ پالحروف ٹسی 
عن اشک ون شیع با لیم ء دیس و لیس ء لغش ان قرام پروی عیشت سے 


۹۳ 


وک رکا فنا بوا جات سے ۔ 
قراا جع رقمام اذکا رکا جائع ے 

اسی وج ےق رآ نحکیع مکوؤکر کے لفظ ےکی رک ایا ہے۔ارشاد باری ے: تا 
خی نول لوہ ہم نے کرس ق رآ نکونا زل فرمایا۔ 

دراص لف رآن ہی دین عیف کا ”اصل الاصول' ے۔ابذاعدیت مل ذکرے 
مرا دقمام الواع عبادات اورتمام الو اع معاملات اسلائی داشل ہٍإں- 

عدیث پور لآ گے واردہواے :”و مَنْ ٥َكَرَبِیٗ‏ وَھُو لی اص ء فَحَنٌ 
عَلَيٗ ان اَذْكرَه بِمَقْتٍ“. ۱ 

اآںک ”مت ٍ۰ یٰ 9/۰ کے سے ”تغلیظ“؛٭ 
”صغیر“ ےجو متصییتہ لی برمصررجج ہیں ۔ می محصدیبتہ ابی مم بھی ی ککونہ کر 
لی ےاوروہ یو ںکہای کت شراب پتتا سے از اکرتاے من گو با د ون تاٹی کے عذاب 
0 و 0 ۷۸۰ب اے: 
ا بی يَعتَرُوُنَ >- ام عَلَيٌ يَجُتَروَنَ“ .....(ترمذی باب الفتن) 

نوحدیث کے اس جنز کا موم یں ہوا: 

٢ھ‏ لَٰ یں جاتڑ سے 

بن بل دہ کے ذکر کے لیکوٹی وق تتنص وش سکیس ء تکوٹی خمائ عاللت یاکیفیت 
مطلوب ے علاحء ائل سن تکا اجماع ےک ذکرخوا ڈچی ہہ باسمالیءوضوخیر کو جات 
یس * ات نفائس ہرعال میس جائز ہے۔ذکرخوا ہت 0ل تتتا 
لبیل :لالہ الا ال بگییر: الله اَی ہا صل ۃ دسلام بویا مناجات ودعا ہوہ یادرے 
یہب صرف جواز اورعدم جواز ٹل 0 2ت( حفل میںکیں ‏ فل وی 


۹۳ 


+ 333-2 
کرک ربرمخفرت واج نی رکا وع ٥کیا‏ 

تم بل مہ کا ارشمادے: 

و الد كرِیٔیَ الله کُیيْرا و الذًاكرَاتِء اَعَذ الله لَهْمْ مَعِْرَة وَآَجْرَا 
عَظِیْمَاٌ (7۷ب:۵٥)‏ 

اوربکشرت ال" کو بادکمرنے والنے مرداور یادکمر نے وا لی عحورٹیں ان سب کے حیے 
الد تعالی نے مففرت اوراج نیم تیارکررکھاے۔ 

ایان دا یق رآ کیم نے ذکرکی اکم دی ے 

ظإ ایا الَِیْنَ آممُوْا اڈکروا الله ذكُرًا کِيْرًاہ راحراب: ١‏ 

اےایماان والو ام اللرکوخو بکشرزت سے پادکرو۔ 

قرآ نگحیم میں بٹے شا رموائ پر جک میدونے ایمان والوں سے مطالہکیا ےک 
خو بکشزت سے 'الظدالل کی کرو ۔کیونکہائصلی زندگی دجی سے جو باڑقن یں مصروف ہو 

رت او رہ پان سے روابیت ےکہ رسول اللہ جا نے ارشادفر مایا: مفردون 
سوقت نے گلئے صا نے سوا لکیاء پارسول ارڈ جانا مضردو نکون لوک ہیں؟ 

آپ لے نے جواب دی اذا كرُوْنَ اللَ كِيْرَا و الذًاکرا (م لم) خوب 
7 سے اللہ پا ککو یا دکرنے والے مرددعورت۔ اتی بات دو رش نکی ردان 
و یکین ہل می وکی باداچل می ہکا مطالبہ ہے۔ اور بھی خو بکشرت ےگ کشر ت 
کی مقدارتجی ن نیو ںک یک یکیکف مخت ہوہ جو ذکیکیجرمیس دائل ہوجائے۔ با اس پر ذکر 
کش رکا ملک جاۓ اوہ حم اہی کے پپوراکمرنے والے کن جامیں۔ 

نم میرے بندر ہک وکچھوڑ دو 


(۳۸۱) و للدیلمی عن ابن عباس نظہ: 


۹۳ 


اق ال لی ار تی زوس بَْسّْهَابَشَّ یز 
لها الرََّمٰنْ مَا لَکِ؟ فَتقُوُل : نه کان يَسْمَجِيْر مِنَی فيقُول الله تبَازرک و 
تَالٰی: أَرْسِلوْا عَبدِی.“ (ضعیف] رکمافی کنزالعمال ج۲۱۲۸/۱) 

(۳۸۱) تر جم : حضرت اہن عماس خ سے ردایت ے :ای نٹ کو ٹکر 
مکی طرف نے چایا ار ا ہگا:س وگ سٹ جا ےکی اور حص ہت مکوکھا ن ےکی ٤‏ 
ل مر چنم سے معلو مکرمیں ک ےک اس سکوکیا گیا ؟ جم عون شکمر ےکی نی و ریم 
ہنس میربیآگ سے پناہ جاور ہا ہے مجن بل می :فرماکھیں ے ا ےم ایرے بندہکو 
کچھوڑ رو_ 

مس ا کا ذک کر 

(۳۸۲) و للدیلمی عن انس بن مالک ط 

”َال الله عَزرَجَلُ -  .‏ َغْضَبْ دَكَنَه جن اَغْضَب ولا 
اُمْحَقةُ فِیْمَناَمُّحَقی. [ضعیف] (کمافی کنزالعمال ج ۱۸/۳ءےے) 

ر(۲۸۲) ترجہ : ححرت الس بن ماک لہ سے روابیت ےن ہل مہ 
ے فرمایا: جن حاللت خیظط ففضب میں میا ذک رکرتا ہے نذ یں ج بکل قیامت میں 
غحض بکی حاات یں ہو لگا ا کا ذک کرو ں کا اور ا سکو اس دن ابل غحضب میں شاٴل 
ھی ںکروںگا۔( شی میں حا لت حضب می لبھی اس پرہہ پان ہو ںگاءجشس ط رح اس نے 
حالل تخب میں دنایش جھ کو با درکھا تھا_) 

من کی حاات میں ڈکر کے ٹواکر 

تن بل مر نے بیہا بھی ذکرو یاد یک ہرعال میں ترغیب دک ےکہانسان یہ 
اوو وع لتوسظ زع بر گ رھد وا و 
فضب 0 0ء8۲ 


۹۵ 


سیکا عالم ہوگاانمیا یم الہ 2 والسلا می ء”وّبَ سَلمْ رَبَ سَلَمْ“ یصداگارے 
ہیں گے اس عالم مس یہ بند جن ء ذام تق کی رحمت عنایت کے سامہ یہ عالمت کون 
وسروراورٹرحت ور یسا - ےر با ہوا لوک باپلا رے ہوں کے اور یمور بہت 
یش شاداں وفرحاںل ہوگا۔ پچ رین حالمتحضب میں ذک رک رن ےکا دٹیادئی فائندہھی ےکلہ 
ذکرکی برکت ےنحض بک یکیفی ت شت ہہوگیء جب اتقام رن ہوگا لم وزیادٹی سے ےگا ء 
ول می ایلرک یمم ت کا خیقی اعتزاف ای وت موبجتزن ہوکل داگی ذات سے با ۓگ اکلہ 
اسیک د نآ نے والا سے جس دن موا ۓے نٹ حضب میں ہوں کےآر جکی نی پر جج سے 
٦‏ 2 
دی کے مشفلوں میں بھی نے پاغدا رے 


ہہ ہپ اس -- 02 ے ہرارے 


ظف رآ دٹی ا سکونہ جا ن ےگا وہ ہ وکیسا ہی صاح بشہم وذکا 
جےگیشش بیس باوخداشررتیء جےکشل میں خوف خداندر 
یش کے وفق ت بین یل مرکو اد رک کا مقام 
(۳۸۳) و لابن شاھین عن ابن عباس ظلہ: 
”مَقُوْل الله اِبْنَ آ٥م‏ !اْذْكُرٔنیْ حِیْنَ تَفصبْ اڈ گزک حِیْنَ اَغُضَبْ و 
لا امْحَفْک ِیْمَنْ امُحَی,“ [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۱۹/۳ءےءے) 
( ۳۸۳)نھ جم : حفرت این عبااس ذلاد سے روابیت سے ئن یل مجر وف ماتے 
ہیں : ای نآ وم !جب ھے خحص ہآ اکمرے اس وقت جج کو با دکرل اکر۔ میں تچ کو امت کے 
دع حاللت غیبا وب میں رحمت کے ساتھ یادرکھو ںگا اورجھ پر مرا خاب وعقاب نہ 
ہوا ائل اب وخحقاب کے سا تجھ۔ 


۹٦ 


خض ےکوکنکدمت وکہر مال یضن سے بدرل دنا 

خ ‏ ےکوض اکر لوزا تن سے بدل د بنا شییۃ نین وصا ٹین سے بن بل مہ 
نے ایے لوگو ںک یع ریف فرماکی ے۔ 

ط( و لِم اط وَالعَافِیْنَ عَن الَاس و الله بٔحبُ الْمَحَسِْنَ یہ 

ےک کر نے وا کے: لوکوضن سے درک نے وت آو اکا لکوت 
ں۔-( 1ل عران:یار::٣ءآی‏ ت۳۳٢)‏ 

حضرت الد ہ رین کیا عد بیث م فو یں ے: 

”مَنْ کَظُمَ غَیْطٌا وَهُوَیَقْرُ لی اذہ مَااللَ تَعَالی قَبة امن رَ 
یمان“ 

بش رفخص نے اپے خ ‏ ےکوضہ اکرلیامجبکہ وہ ا کو ناف زکرسکتا ھا و الد تعالی اس 
کےقل بکوانکن وا یمان ےکجمرد تن ہیں ۔ 

مندا بی ایک روای تحطرت ال کی ے 

"ی کک بش وَمر کوز علی اه ذغة لّاتعالی علی 
روس الْحَلَاِقِ ختی بُخَيْرَُ الله تعَالی مِن اي الْحُوْرٍ شَاءَ, 

ج کش نے ابے بن اتا مکوض اک رلیا کہ دوا سکونافکرسکتاتھاء نون تال ی 
قیامت کے دن ان لکوانخاردیل گ کہ نس جو رکا چا سے اتتقا بکمر نے (روح العاٰ:٣/۳ء٥)‏ 

2 7 ص "0" 
شمیطا نکا تل ہآ سان ت ہو جا جا سے ری کم ریم نے اس وفقت ہدابیت دی یکن ےکہارا 
قرم خلطط اور پالنل بی خلط ہوءاس لیے اپیے وقت میقم داع نغحض بکونافز نہک رو اور اللہ 
گی ماد سالک جا کیو ںککل قبامت کے دن ج بتمہارار بنحضب میں ہوا ال وت 
ت مکو انی رجمت کہےساتھ یاد رھ گا۔ 

ا ںکی مال لیضہاسی رح ےک حاکم وت عدالت ٹیل ایک بی وقت میس رین 


ے۹ 


رخحضبناک ہوتاے او رین کےسا تیم بتا رتا ےء ای کفکوظ رب سے د پکڑنا ے اور 
ایک کوشفقت کےساتھ فی یکتاسے .ات 
نآ دٹی ا سکونہ جا ن ےگا دہ ہ ھکیس عی صاح ہم و ذکا 
ےئش ین بادشداشردایء نیش می ںخوف خدانرا 
خماصا نات نکی زان سےانہیاء عتت اہ جم یح تک ات تی ہیں 
)۳۸٤(‏ ولأبی نعیم فی الحلیة عن الحسنظلہ مرسلا: 
”قُوْلَ اللّهُعَزَوَجل : إِذًا کان العَاِبْ عَلی ابد الإشغَالُ بی جَعَلْتُ 
بُغْمَةو لَذَتَهفیْ ذِكُرِیء فَإ٥َا‏ جَعَلژ بُغيتَه وَلذنَه فی دِکری عَوِقییْ رَ 
دَلک تَعَالَبا عَليِْ لا يَسُهُوإِذًا سَهَا الْاسٴء أولیک کَلامُهُمْ کلام النيَاءِء 
نی اوغا بسک الَذِيْنَبِذَا أرَذث بأھھلِ الإرْض غُقَوْبَة او 


[ضعیف جداآ] (کما فی کنزالعمال ج۱۸۷۲۱) 


 )۰۸۳(‏ عم : ححضرت من یلد سے مرا روابیت سے صن بل یرہ 
نرے یس س فر اک کے ات ال ا کل رجات ین 
واں بنلدر ہک یآخرکی ہو وطلب اورفرحت گ2 انی یادوذکرکو بنادتا ہوں اور ذ اکر 
ند ہی تام مطلوب ونقصود جب مبری یادہوجالی سے وہ بج ےک نکر ن کا سے اور 
می بھی اس بندہ ےعحبت و پیارکرن ےکنا ہوںء پچ رہہ جانئیان ٹیل راومحبت و پیا رکا سلسملہ 
تم ہوجاتا ے ء نو میں الن قمام تجابا تکو جومیرے بنرے اورمیرگی ذات کے درمیان 
ہوتے ہیںء أھادبتا ہوں اور ىیہکیفیت بندہ بر طااب اوقات میں رکھتا ہہوں ( کہ میرے 
اوراس کے مان حا بیس ہوتا) پچھراس بند٤‏ خمائص پر ذ ہول وفلت او رس ہو ونسیا نکییں 
آستاج بک عام لوک ذ ہول وہبومیس بنلا ہوجاتے ہیں- 

۹۸ 


ای لوگو ںکی بات کا اث انمیا مہم ااصلۃ والسلام ےکا مکی رح مور ٹی 
القالوب ہواکرتا ہے اریے لوک یقن مق رین بارگا ون ہہوتے ہیں۔ برای مق یس وکتزم 
ہوتے ہی ںکہ جب می ایل زین پر سزا وعقا بکا اراد ہکرتا بہوں ء نے ان مقریس وکتزم 
ماصال نت نکی بکت سے عام ایلاز من سے عزاب پگیجرد بت ہوں- 
جن بل مید:فرماتے ہی ںکہ جب بندہابٹی زندگ یکا مطلوب ونقصوداٹی جیا ہت و 
راد اورس ما ززندگ یکا سب سے خریی او بھی الا شرمیریی اد وک رکو بنا لیا سے ذ تچ رمیس 
الےے بندہ ےمحبت و پیا کرت ہو ںکہ ہروفت انی بی یادبیس مشخول ومصروف کوک را سکی 
زندگی ططاظت وتراست کے س ات رگ ڑ ارتا ہو یک حٹ ؛حھوب گرا یکرت بی سے اوران 
پر زکرم ہکرت ہو کہ عا خی بکی مخیبات سے جاب ورال کو کر بچملہ اسرار ورموز 
نی سی بیان کے عیا ںکرد یت ہوںء یل رکوئی چھیداس پربجینیس اورکوئی راز اس پر را نیل 
اور جب میکیفیت عطاککردی جاٹی سے نے انا ہم ااصلاق والسلا مکی رح ا کی باتؤں 
یش اث ءرموز واسرار کے مولی بلکل وم کے دریا اس کےکلالم یل رواں ہوتے ہیں 1 
یھ زمر بان لاتا ہے یا زمرز با نآ ہے دو سب بی عا خیب کےعلوم سے ہہوتے ہیں 
کیب اس برمکشف ہو چا ہہوتا ہے۔ ا یکوفاری می کہا کیا ے: 
- ائرر ول علوم انیاء 
و تپ دج 
انمانی زندگ یکا جب مامراصکی باوالپی بن جا نے بچھ الم مال یاعال خیب انس بر 
ایا ہوتا ہے علی اک کسی بڑےھفقق عالم کے لیےاء بہ ‏ نع کا ااعدہ بفدادی ہگ رشرط اں 
گی دی ےکہ پیل دوسب بیج وکوذاتتتن کے لیے باوق میس تر با نکر چکا ہو۔ وال الم ا 


۹۹ 


اولباء ال با خماصال نپ کی علامت 

اس عد بش قری یں بی بل یرہ نے اولیاء ا کی علامت بھی لال ی ہے- 

(ا) اَلَغالِبْ عَلَی الْعَبْدِ الَاشْیغَالُ بی )٢(‏ جَعَلَتُ بُعيَة و لَذَتَة فِیْ 
ذٴكْریٔ 

نل ناوات ا دای ال لے 0ن ک2 نکہ: ضا کی 
سب ہے چزاورزندگ کی اخ ری نز یادالی ہو اور سب سے اچم تبین نت ذکر الد 
ہو جمارے اکا رنقشمند یہ کے بییہاں جو ہویش در و مکا اصصول ہے غا لا ا کی اصل ىہ 
عدیث فدی ہےء ان کے بیہاںجضموری خشرطے اولی ہےء وہ ذکرجنس میں فک لآ جاۓ ذکر 
یں پگ بات نی ےکہذک رکا لفن جج یکبری باد پر بولا جا ےگا جوفمل دفذر سے باک 
ہو لی بل مدہ ہ مکو انی تضوری عطا رما ۓےآمین۔ دوسری حر ہش 272۰۰۰۰۰ 
علامت.ء الْحب لہ َ الض لہ بحبت یش الل کے لے ہو۔ ا نکی ملس میس میٹ ےکر 
دنیا سے ول سردہوجاۓ ءا نکی شکل دس کم با ایآ جا ے۔ 

مز گان دی نکی ہریت سے عفر اب الیل جا ا سے 

لیے خاصالن تن کا ہنا بی اللہ پاک عام ائلل ز شن سے عذاب ال یکو دو رف ماتے 
ہیں۔دشیاائل الشداورخاصا نو کو اپنے راست کی رکاوٹ لصو رک ری ے گرا ن فو قدسیہ 
کےصدقہ جالی و مالی ارشی وسماو یآ فتیسگتی یں۔اژند پا ککیا جاب سے عراب وعقا بکو 
کر کے رجحمت ونق ت کا خزول ہوتاے۔ اف یففوِ زکیرو طاہرہ کے ذکر و ذوقی عباوت 
سے بقاع حا تکی وولتے تھی سے۔ گرا ییے خاصال تن نر ہو لو عراب دحقاب ایک 
و یڑل ہلت ددے۔ 

ایک عدیث مج لآیا ےکہ ج بتک لف الیڈدہ ارہ گتے والا اک٠‏ بھی اکر زمین 
پ4 باقی رےگاء اس وق تکک قیام تن ںآ ۓےگی۔ مڑقی لفظ اللد ای کی ذا تب بل دہ 


+ہا 


کے نزو 21و رر ثررومزلت ک 2 .7 ری دنا ےتا ہمت کے ولوع ھ2 
ہے اور جب الد پاک قیام تکیینا جا ہیں گے نے پبیل اس مردیقن ء ایل دکانام لے وا ل ےکی 
وفات ہوگی اور پچ رقیا مآ ت گی _ ارت ادا ہکہنا بڑکی بی سعادت وشرافف تکی بات 
سے۔ جب الیندہ الل د کے وا ےکی بج ے عزاب پورگ دنا ےکم ےو پھر سخ س کا گی 
مقام ہوکا ج سکوائل دنا ھی اون وا لا ہیں گے, جس ط رح علم والاء مال دالاء ذگوت دالاء ہے 
و لا ا ا ا 
ا کا اندازہ لکایا جات ےک جو ہمہ وقت اد الدب یکا اور وخال اورای کی کر ون کور 
حیات بنالیا ہو برا کی پا تیں صن لکلام اخمیاء نہ ہو ںگی و رگن لوگو ںکی ہو !اللہ 
اک یں ابنا بنالےء اور ایند اک کے ہوا میں ءآ مین ! 

رر 2ت سر خو بکہا یئ 

تام عا مکی روں ذکر الد ے ۔ جب کک الل تھا کی یادقائم رےگی عا لم ام 
ر ےکا جب دیالری چو د ےک کلم کو کرنے ک وق تآگیا_ 

”ا تَقُوْمْالسَاعَةُ تی لا یقَالُ فی اض اللہ اللہ“ جب ایک اللہ 
ال کر ۓے ول نز تک و امت قام ےت نت نر رکی لو ڑھا نیہ 
کس یکا مکا نیہ اس گرا دیا جات ےگا۔ معلوم ہوا سمارے عال مکی رو ال رکا ذکر ہے۔ 
مقصوراٹی وک رای ے_ 

عدیث ریف مل وارد ےء ذاکر کے لے مو ہیں اور خائل کے لے حیات 
ٹین کیو ںنکہ ایی نمی ما ؤال ے۔ اخالٛ ضا لہ دراصل نکی کےکام بین ای 
واتےعریت می ںآ یا ے:الالاء ایا فی فبُورِهم بْصلونَ انمیا ہم اسلام زنرہ 
یں ء ان فیروں شس نمازیں پڑ تحت ہیں ۔یشنی زندکی وا ل ےکا مکر تے ہیں ا نکی تیور والی 
زمدگی بھی اقال تال ےش ےپ کی م3 ژثرہ پٍں اور زتروں وا ن ےکا بھ یکمرتے 

ہیں۔ اس حد بی ثکواما تی ات لے کھاے۔( محر ت شمیر :[ض۵٥۲)‏ 


١۱ 


اما شی نے فرمایا: نس پر ذک الہ کا خلبہ ہوتاےء وہ الد تھال یی تا کردہ 
بتیزوں کے ا راب میں الد تھالی سے <اکرتا سے اورجمس برد میا کا خلبہ ہوتا ےہ ووصرف 
ان چیزوں سے تا ے جوا بل د میا کی نظرمیس متبوب ہہولی ہیں .. (اکا برعلا ء دی بنیص۵٥۱)۔‏ 
اللَهُمُ كُنْ لِی و اجُعَلَیْیْ لک.آمین! 

یا حنان یا منان کا اءُ 

)۳۸٥(‏ و للحکیم الترمذی عن جابرہ: 

”فالَ لیٗ جبْرِيْلْ:بَامْحَمَذا الله عَالٰی ُحَاطِيِی َوم ایام 
َقوَل: ا جبريْلْ!مَا لی اَی فَلانَ بن قَلانِ فی صُفَرْفِ اَم الا فَاقُوْلَ: یا 
َبٌ ! إِنا لم تَجذ لَه عَسََةیَعُود عَليه خَيرَمَا الَیوُم, ََقوْل الله تَعَالٰی: نی 
أسمَعة فی ذارِ اڈ يَقولَ ا عَمَانُ ا مَنَانُقَاه فسَله فقو لَ :هَلَ مِنْ حنانِ رَ 
مان عَيْرْاللو ٥‏ فَحْذ بیدہ ہن وف اَل ار فَأَدحِلَه صُفُوْف اَملِ 
الْجنَة“ ضعیف] رکمافی الإتحافات )۱۳١۱‏ 

( ۳۸۵) 7 بج مہ : حضرت جاہڑ سے روابیت سے(رسول اللد پلےنا نے فرمایا) جھ 
سے جقبرتتلل ن ےکہا: یا مھ لاف ! قامت کے دن الیڈدنناکی بج ےکیخاط بک کے نما تن ےگا : اے 
ری !کیا بات سے میس فلاں بن فلا کو دوزخیو ںکی صف مس دک رہا ہوں؟ نے میں 
( رت عون کرو ں گا ارب این نے ان کے اخمال نا میٹ ایک مج یبھی شہ پائی جس 
کا بدل ہآ رج ال سک ملتا۔ گر بل مب دفرماننیں گے: بس نے اسے دشیائس با نان یا منان 
کت ہوۓ سنا تھا ء و اس کے پاس جا اور سوک میرے سواچھ یکوگٹی حنانء مناان ہے۔ 
رٹل علیہاسلام ا سکا تم پلک رم سے پیا لکر جنت ہیں دائ فر وت 

27 ر. عم بل مدکی ذات بے عدک رم وحم 5 رر و ٹج 
بی ا کا نام لے لا وا کا بدل ضا کی ںکر ےکی کاپ ےم و لوط ھی 
سے اور پل خر اس ایک دفعحنائنع ومنان سی ےکی بفیاد پر ابدی ذات سے بات د ےکی 


۳ 


تو ان لوگو ں کا کیا متقام ہوگا ج ہمہ وقت ذکر الھی میس بہت مٹ پک ہیں ۔ وی ا سکی 
عداات عرل وانصا ف کا آخ ری ضمونہ ہے (الش_ییں اپے نام لن کی تمیق پنٹے ) ج 
ایک دفعرتنائن ما عکا بھی ابدیی جن تکیشکل ہیں عطاکھر ےکگی۔ 
الله ذوالفضل العظیم۔ 
لاحول ولا قوّةَ ال بالله یغیم 

(۳۸۷) و للدیلمی عن ابن مسع و دظہ: 

ال رَسُوْلْ الله 2: 

”ا مَعَاذًاَڈری مَا تَفسیْرلا عَوْلَ وا قُوَةإِلّ باللہ؟ قَالَ: اَللَارَ 
رَسُوْله اعلم. قال: ا حَوْل عَنْ مَعْصِيَة الله لا بقوَ اللہ ولا قَُّةَ عَلٰی طَاعَة 
الله إلّ بعَوْن اللْه. تُمَ ضَرَبَ بيّدہ عَلی کیف مَعَاخِ فَقَالَ: یا مَعَاذًا هکذا 
عَذٌشی حبیبی جِبرِیْل عَنْ رب لُعرٌة “ [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۲ )۳۹٣١‏ 

(۳۸۷) 7 ججمہ : حضرت این مسسجوڑ سے ردایت سے الد کے رسول چا نے 
فرمایا: اےمعاؤ!لا حول و لا قوۃ إلا بالللہ کینفیرجاتۓ ہو؟ انیھوں ن ےکا: انداوراں 
کارسول زیادہجاہا ے۔آپ چا نے فرمایا:لاحول ہم ال' یا کک محصیت ےکی ہا 
کت ء ولا قوة اورائم اش پا ککی اطاعت وعپاد تن سکر سک ہمگر اید بل مر ہکی اعاخت د 
قوت سے۔اے مھا !جج وکوائی ط رع جب ربیل نے الد تال کیا جانب سے بتلایا ے۔ 

تابرجت 

عَنْ مَكُحُوْلِ عَ اَی هُرَيْرَةَظلہ قَالَ قَال رَسُوْلُ الله کی مِنْ قَوْلِ 
ا حَوْلَ ولا قُوَة ِا باللہِفَإنھَ مِنْ کُنْر الْعَنة. قَال مَکَخْرْلَ فَمَنْ قَال لا عَزْلَ 
فُوَّةإلَ الو ولا مَنْجَامِ الله لالہ شف الله عَنة سَبْعيْنَ بب مِنَ 
الضْر أَذنَمَا فقو ( رواہ الترمذی) 


۳ 


رت الو ہ ہیدہ سے رسول الد ظا نے فرمایا: لا حوْل ولا قُوَةَإِلّا بالله 
ثزت سے بپڑھاکرو۔ کے وت کے زانے سے سے۔ححفر تکحوفرماتے ہیں جو 
شس لا حول وکا فٔوٰةإلَا باللہ وا مَنْجَامِنَ الله لا لی بڑھھگا بن جح لمیرہ 
اس سے ست بلا ومحجدبت دو رگرد ےگا _ ہب ٦ٍ-سصی‏ ۶ ْٰ 29۶ 
ھ09 

لا حول وَلا قُوَةَ لا بالله کے کی فا ہیں جوذمل میں در خ کی جالی ہیں: 

گر لا حول وَلَافْوََ لا بالدعزی کے نے جت کےنمزانہ سے سے مک 
جن کی جیدت عرش رین سے اورعمش ینیم خودن بل مہ کے لے خائس سے نکیا یہ 
21 تما لی ےرب ہے۔اں کک مت ےج زاضرے ہو ےکا مطلب بی ےک 
مس سک یرد ےگا ءال سکواعخرالل ضا کی فو بی رض نگل کے سا تح تن بی تکا الما م د 
القاء ہوگا اورگناد ومعاصی سےطبیعت نف گی قرب لی اوراعمالل صا کی طر فطیعت 
ای ہہوگی۔الل پا کک ذات کا انحضاراوراشمینا نقل بک یکیفیا تکا ذا نول ہوگا اور 
اس رب بندہ ہر وقت ہرگنڑیی وق نکی تضور یک یکیفیت یس دیدہ پانفن میس تجلیات 
رتا لی اور فّ رعا یک6 مشابر ٥ر‏ ےکا ادرکھنا جا ہےکہ یذوق ول ت سای نکوسا اہ 
0 “ھ۸ 

افش :عرش نیم کے یی ےآیاہوابیگمہ لا حول ولا فُوّ ٤إا‏ باللدء رٹ 
ہش ینیم سے فی سے جملہٹی شس حلیات افعالیہ وہ ذاحی وسلی کی رااےء جا 
کمالاتیشم یہ کی نز لکی نشاندد یکرتا ہوامی٠‏ نکی راہب رگا مز نکرتاے۔ 

ےت" تین نا نآ خیرات دیکات ید کی موانحا کور حقکر نے 
کے لیے سال ککواس ےکا ودد روزان کم اکم بای صھ جار بدا تكرتے ہیں ء شس سے 
شی شک یکیفیت بط جس اور بسط سی لیا تک یمکیغفیت میں تید یل ہوچائی ہے اودرسا کک ال 
کفز جن سے نز ان تق بکواواحعت کےسماظ رفا سلیم او بل رقاب ڈی نل بارگی سے 


با 


انا سے چہال اھ کے سوا بیس ہہوتا۔ 
بقضائِک و تقنع بغطائک. آمین 

گو کہ مل رااداب خی رکالہام ہونا اود بل یکو یشک لکا چا مہ عطا ہونا اور ھت رور 
ےدک 1 رکز کل یک ہو نکنزجض کین رہوگی۔ 

نا نے با ر لو ںکا عا 

ححقرت ابد ہ رنہ سے روایت ےک رسول الد پان نے خرایا: حول و 
هَِلَ اللہ َوَاء می ِسْعَوَرَيِسِْینَ او اْسَرْمَا لهمٍ 

رج:لا حول ول فو ا بالله دواءوعاا جح سے نا لے ہار یں وشجّوں 
کا۔سب سےآسمالن علاع ےہ و کینکت ؤرا۔ (تعقی فی کوات اک ۔م:) 

ہی مت چا ن ےآ پ کو یمیا ء عطاکردیاککہنناندے ببار یو ںکا علا جع اس کے 
کے ورد سے حاصسل ہوگا جن میں سب سےآ سان ىہ ےکم جو ا سکیا وردر ےکا ا کو 
ٹیش با ڈی یش ن نیس رگا خوادو نیشن جا نکا ہو یا ما کا ء ٠‏ ن کا ہو بادوستکاء جیوکی 
ےکا ہو با شوہ رکا۔ ان عنش یلیم کے نز ان ےکو پٹ حئے اورخوش رم زندگی 0-)/ 
عمش کےنخزانے می ںآپ کے ریش کی دواء ہر مارک یکا کاٹی دای علاح موجودے جھ 
اں گے کے پٹ ھن سے بند ہک وع اصل ہہولی سے۔جس رع کا بار اس ےکا وروکر ےکا 
ان کی میا گی کیم نات ۓ زوا فا ا ںکرع کا خا ود تارق ما کی2 ]ا 
000/0 0000 نے ا 
کت 

می وف مان داز ئ ےک عتر 
عن ابی مُرَيْرَةَ ظلٰہ قَالَ قال رَسُوْل الله الا اَدُلک عَلی کَلمَةِمِنْ 


٥۵ 


تخت الْعَرْشِ من کُنْر الْجَندلا عَوْل وَلا فُوَةَ لا بالله يَقُوْلَ الله تَعَالی اَسْلمَ 
غَبدِی و اسُتَسلَمَ. (الببھقی فی الدعوات الکبیر) 

رت الہ رید لگا ایک ردایت میں ےک رسول الد چا نے ارشھادف مایا :کیا 
می سک مکوا الہ نہ بنادوں جوعنل کے یچ جنت کےےزاتہ سے ے؟ وہ لا حسول و لا 
فو الا بالله ے۔ بندہ جب ا سک کو بڑہتا ہے نو جن بل مجرہ ار شا دفرماتے ہیں" مرا 
دش وفرماں بردار ہوگیااوراپنے قھا مکام مہرے سپ ردکرد ہے 

ال حد یٹ کا مظوم بہت تی دانع ےکہ بلدہ جب ا سکم ہکا وردکرتا ےت گویا 
داظلی زائزرول طور پر وہ 02 طاق تکسلی مکرتا ےتال ہی یس1 نے 
نوم ےتال تر تلف تی ایز ے ۵۶ز ٣اضر‏ 
ری یش نازل ہوۓ ہیں بلکہذڑہذڑہ میری ذاتکامم اورمیرے احوالی رت علیم وت کو 
معلوم ہی سک وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔اہذاجب ر تیعم خی رجا هن ےکہ ٹیس ان ںکا 
ات انان رؤا ن7 نون ان وا قمام معاعلا تکو رٹ العا ان کے سرد 
تن نرہ ماد کان ےکم رز ےکن :لے نے اع لن سک 
سردکرد یا ےکہ ارتا !بیس خوددی خہابی تکرورہوں ۔ا یکو طالباعد بیث ٹل اَصلےم 
بی لی میرابنددتابحعدار ہوا ےترک یاگیا ے۔ 

اَسْلم عَبّدیٌَ کیا اکر دہلھی ہلت سے جو جنا ب مھ رسول ال چا نے ا 21 
ایک دعابس اخخارفرماکی ہے۔( یہا ںآپ جلاف نے عبد بی تکو یا کک بہیادیا) اللَهمَ 
إَِیْ عَبُّک و ايْنْ عَبْلک و ابْنْ امک نَاصِیَتِیٔ بیِک مَاض في خُکُمُک 
عذل فی قَسَاءک۔ ۱ 

ارتا اٹ خلام جہول تیراء او با ہول تیر فلا مکا اور تیرکی با ند یکاء من قض ٹیس 
ہول تیرےہ نافذ ہے میرے پارے می تم اعم ء مین عدل ہے میہرے پارے میس تا فیھلہ۔ 

اس نبوئیمکماتعبد ی تکو پڑ حے اورد یھ نمی ہمت چلان بارگا و رٹ الین ٹیل 


امہ 


اپنی سپبردگی وتضرع اور نیازمندانہ جھز وافتظا رکوس من وخ لی کے ساتھ یکرت ہیں۔ 
ذوق وشوق اورشعورو وجدا نکو بیرارکر کے پر سے پچ رآ پکواندازہ ہو کہ اَسْلَم عَتِی کا 
کیا اٹوکھا انداز ہے یکپ کال یکا مقام تھا۔ بے یہ ےک جقننا عمبد بیت می سکمال ہوگاء اننا 
بھی رٹ ذدا لا لکی وت وذدرر تکا ات زاف ہوگا_ 

اسلم َبْدِی' ان کہ کنا ہو2 اَل لهُمٌ الیک اَمْکُو صغف وی ول 
ِیْلَيِیْ وهَوَابی غَلی السْاسِ یا َرْحَم الرَاحمِیْنَإِلی مَنْ تَکلَيیُ لی عَذرَ 
ََجَقَمیی اَم لی قرِیٔب مَلكتَه اثری ان لم َگنْ سَاجِطًا عَلیٗ فلا اَی عَيْر 
اَفاؤفنک ارت( 

ای سے شکا بی تکرتا ہوں این ضیف الق کی ہونے اوراپٹی بے سامای اور 
لیکو ںکی نظروں یکم تی کی اے ارم الرائیین امس کےسیردکرتا ےو ہناگی 
ٹن کےکییندذ ور کے بھ سے بای ع زی کے تی میس دبیدرے می رے س بکام 1ر 
نو صن ہو جھ برل جج وکواا کی بچھ پر دا دیس گگر بل بھی تتیری جانب سے عافیت ٹیل جج 
کوزبادگنیائش ہے۔ 

اں دعائیش جناب رسول الد پا ن ےگس رع اپنے د لک فریاداورحبد یت کے 
کا لکوتحضو نی میں می کیا ےشن فصاحت و بااغخت 17 ہو اس دھا یل موجودے_ 
مات طببات بذات خودئ رعول اجکی ال تک 7“ ولمل ہے۔ بیدا ت کا 
خی رن یکی زان ے اواہون کن ب یی جن جل یرہ کے اس ارشادکی دوٰوں شاان ال 
دعامی موجودے۔ اَسْلم عَبْدِی و امْمَسْلم مت مرابندہتابعدارہوااور بہت نراں 
بردارہ‌وا- 

وَاسْحسْلم کاملبوم بہہواکہ باالڈدایش ای ذا تکونانذاں پان ہو ںکک یم کا 
ادثی تصرف اٹی ذات می سک ںکرسکیا۔ زی خیش یکو اص لکرسکنا ہوں نہب یکس یت مکووور 
کرستا ہوںء میرے مولی میرےمام احوال ومعالات درست ٹر ماد ےکی وککہ میں خود 


ے٭ا 


عاتز و بے یس ہہوںء بے جائن و بے مس ہہوں نے این احوال ومصراب کیسے دو ہکرسکتا 
ہوں۔ احوال فو نو ہی ہبتر بنانے والا ےکہ نو ثوت وف رت والا ےء طافت و بہت والا 
ے سعلوت و جبروت الا ہے۔ اے اللدا میں ا نے آ پکو اور این جچملہا مور واحوا یکو 
تیرے یسپ ردک رتا ہوں۔ 

فرع کس کعگ رس لوہ ےگا وہ رج و 
مصییب ت کا مداواء عرش یم کے نے وا لےکمہ کا حول ولا فُوّة الا باللٰ کی برکت 
سے فراہ مکرد نے ہیں ۔ ینہ جیب عو و 276 
تی ےتریب تر ہے۔اور بندو اس گے کے ورد کے ذر می ہیک دم عرش کے یچ انی 
مرادوں اور حا جن ںکو باہا زا اپ نزک حا تک جن نج دی عا ی 


ہے۔ وا اعم ! 

ھی باک اش صراع تشریف نے سذ برا لیم علیہ السلام کے پا سے 
ج بگمزرہوا نو اھوں نے فر ماک چا انی ام تکویم سکجی کہ لا حول و لا فُوَة ِا 
باللَه ےرت یت بین وت مدق تنا تن۔ (ہرقات ٠ن‏ ۵٣ك۱۱١)‏ 

محقرت عد اد این مسحود لود مات ہی ںکہ میں نے رسول الد جات کے 22 
ا حول ولا قُوَة الا بالله بڑھا ترسول ال ہلا نے ف مایا جات ہوا سک تی کیا 
ہے؟ یس نے عو کیا رادرس کے رسول زیادہ چان ہیں ۔ کی اللہ ےا نے فرمایا: لا 
و 0 لا بِعَصمَة ة الله زج اوڈدکی محصیت ےکی بے یکر القد 
ی کی حصصت وجفانظطت ھ20" لا قُوَّةَ عَلَی طَاعَة اللہ الا بعَؤن الله (اورددی 


مارے ان درا رکی اطاعح تکی کت ےگ ایڈدتھالی چیک بددداعاشت کے ذ یہ )۔ 
(منات 6 ۸۵کك۱۱١)‏ 
اس حری کی فی رخود ن یکریم ات نے فرال ہے معلوم ہوا کہ حد بی ث گی 


۰۸ 


عد بی کیافیبرکری ہے باشربح عدبی ث کش یی رکہاجاسکتا ہے۔ 

ہارے تفر تگیم پش انت صاحب مدظلہرالعال فرماتے ہی ںکہ لا حول ولا فقو 
بباللہکاملپوم ہے آبیت ٣ئ‏ التَفْسيلَمَارَة اسَُءِإِلا مَا رَجم بی ان رَتیَ 
غفووْر حم سے تحلق علامہآلوی نے روں العالی می سککھا ےکہ نس ا ملظ رفہ 
زماثہ ےل و تی "رر بہت زیادہ برائی کا سح مکرتا ۓگمرجس ہر الد تعا لی مم 
رو 

یی جس وقزننٹس پر اللہ رت مکرتاہے او رگناہ سے بیاتا ہے اس وقت اس پر ال کا 
رقم ہوناہےء بندہ خووکیں پچتا لتق تی جس پر مکنا جات ہیں ال سکوگناد ومحصیت 
سے بییا لیت ہیں ا ین محاصی سے ہت دقت اس پرالڈدتعاٹ یکارم ہوا ے۔ 

بن یرعش سک رتا ں0 الد ہلا نے ا ایک موح تٹ- زوا ال نے 
مناجات میں ایت کو خقیا رکیاے۔ الم ارُحَمَیی ڑکپ المَعَاصٍیٔ ابَذَا ما 
ابْقَیَْیی وَ ارْحَمٔبی ان اََکلف مَالا يَغِیبی وَ ارْرُقِيْ حُسْنَ الظَر فِْمَا 

رسول اللہ لا نے من نالی سے سوا لکیا ےکہ یا رشن بارتیم !پور ی زندگی بش 
جب کک نے محکوحیات ظا ےہ جھ برقم وکر مک رکہ میں محاصی گنا ہکو پیش رکنش کے 
لیے پیھوٹڑ دوں ۔ اور یھی دک مک کہ بیس لا شی و بے سودد بے فائتد ہکا موں بیں ا ےکومشخول 
شررگھوں _۔اورربا!وہ سر کک ونظرعطا رٍ ۱ تک ہے وس يھ ئ ہوجا- 

یی اےمولی !این حیات می سگنا ‏ کچھوڑ دوں ہ لا] یکا میس نأ مھوں اور و 
نف بھی تب بی رضا کی طرف ہو جوہھ کو شٹد سے ون کمردے۔ اس دعا میں رسول ایند ا نے 
جن تی سے”صمت محاص یکا سوال فرمایا ہے جو الا تھا رَجم وَب کی زندوجیرے اور 
اسلوب بیان میں چھی نی پاک جا ول عبدیت 6 کال اورتن نعا ‏ ی فقوت ور تکا 
جلال واگرام پررچہائ موجودے۔ 


الّهُمٌ رفا حُسْیالتَطَر فِیما يرْضِیْکَ عَتاء آمین بِرَحْمَیِکَ یا 
ارّحَم الرٌاحمِیْنَ. 

رت اس رشی اللدعن کی روایت ٹس کت جل مد نے جن تکو پیدا فرمایا 
اوراس میں درشت ای ےکلہ سُبَانٗ الله وَالْحَمْۂ لِله وا إِلإلَا الله و الله 
اَکبَ را حول ولا قوَة الا بالل کو جنتکا خراس تایا .یچنی اس لہ کے بے ھن سے 
جننت یں پڑ ھن وانلے کے لیے درخ ت لگ جاتے ہیں ۔ا بآپ اپینے لے ےکیسا با بنانا 
جات ہیں ء ای اب سے ا سک ہکا ور کی جن ی زیادہ ا کلک کرت ہوگی دییای 
گخیان وکی رترادکا درخت گگا۔ (اتاف۰ی٣)‏ 

ویکھی نے حطرت ااوگر الہ سے روابہ تکیا ہے تق یل محیدرہ نے رسول ارڈد کو 
تم دیاکہاپنی ام تکیگ مکردی ںکہ کا حول وکا فو ِا ال دی بارػءدں بارشام 
اوریں پا رس وۓ وقت پڑ لی اکھریں۔وتے وت ال کو پٹ ھ نکی برکت سے دمیا کی 
پلاٰوں سےنجات اورشامکو پڑ ھن سے کا شیطالی ل( مق خشیطالی وساوس ) سے فا طت ء 
اور عکوؤیں پار پڑ نے ےج جح ل مجر کےنحضب وخقاب سےتفوظط ہوجا ت گا 

(ااتحافء رن عدیث١ء١)‏ 
مَقَالِيْةُ السُمٰوَاتِ و الأَزْض 

حضرت عمان بن عغمان جا دکورسول ا ڑا ےمقالید السموات والارض 
یی زین وآ سما نکی چالی خلاقی دہ یر ہے لاپ إلا الله و الله ابر وَ سُبحَانَ الله 
وٌَبحَْیہ أَسْتَعفِر الله ولا حول وَلا فُوَةَإِلّباللہ ول الاخر الظٌاھر 
الاطنِ بیّدہ الخَْر بُحْيی وَ یت وَ ہُو خی کل شیج قدِیْر جوا دعالں 
یش دس بار بڑھ لگ اتی ا سکوسا نی عطافر مامیں گے۔ 


سط 


(۱) ایس اوراس کے نکر ےےل جفاظت عطاہوگی۔ 

(۴) ایک قتطار(أحد پہاڑ کے برابر) و اب جمنت میں لگا _ 

(۳) جنت میں ایک درجہ بلن دک دیاجا تگا- 

)ث( یت ضا یج ےےگ۔ 

(۵) اں لو ان تید :فذرات اور انل بڑ تک ٹر اب دی جا ۓگا_ 

)٦(‏ ایک متبول ں وعھرہ کا ناب لگا اور 

ر(رے) جس دن بڑھااسی دن مو آگئی نو شہیروں میں ال کا نا مھا جا ت گا 

گھ سے لیے وقت بردعا پڑ حئے اوروا پچ ی تک شیطانع سےتفوظط رج : 

بسم الله تَوَكلّْتْ عَلّی الله ا حَوْلَ وَلا قُوَة إِلّ بالله. 

۳ یی "9 ۷ +۶فه0ٴ"071 
داخل ہوں۔سلام کے ذر بی ےگ رکا داخلہرانشاء ایل مگ راو رگھردالو ںکوآ فات و جلبات سے 


فو یاکرو ےگا_ 
0 سے حات 
ضز یآسریرق اررضرت ار کر ےک ۳س رکال 
ہوک ہے جس کےآ خر سآ یا کہ دہج بکا بل إِلا للهُوَا حَوْلَ وَلا قرَةَ ال 
باللّہ و پڑھتا ےی بل مروف مات ہیں مہرے ہندد نے ےکا بیرغو 
یں لا َو وَلا فو إِلا بی اورگناہ سے پچنایا لگ ی کک رن میری بیکصمت ولو فق 
0 یی :۶ء و 
ا ا ساٹ کن ا ا ضا وت م مر ےک اے۔ 
(اخحاف!لسیۃ رغ حر یٹ ۲۹۹) 
قیروبند راک یکاشی نظام 
ضرت چابر بک ععبرالڈد بن ححپاس طیہ سے ددادیت ےک وف مجن ما لک اتی ض 
]1 


اید عنہرسول الد ےکی خدمت میں حاض رہہوۓ اورعت سکیا کہ مر ہے ا مك 
گرقمارکر کے نے مے اورس ا مکی ال نل وا راگن سے مز مین وے ین 
یں ہپ ٹکیا عفر مات ہیں؟ رسول اہی نے ا نکوت کی اورص اتی رکرنے کم 
دبااوردوٹوں میاں بیو یکوکثرت لا حول ولا فُوَةَإِلَا باللَه پڑ ھن اع ف را اف 
وٰوں نع مکی لکی ۔کثزت سے ا حول وا قُوَةَإِلّا اللہ بڑ ہے گے اک 
پاش ہواکہ جن شمنوں نے لڑ کےکوقی ہک ررکھا تھائئن تھی نے اپٹی فلدرست کا مل ہکاکرشمہ 
دکھلایا اورلڈ کےکوا نکی قید سے کال دیا۔ اورل ڑکا اٹچی دشنو ںکی جار ہٹراریگریاں اور ایک 
روایت کے مطابتی پیاس اوئ فی یئل چار ٹرااریکریاں اور پاش اٹ 7ت 
والد کے پا گیا۔ ان کے دالد شر ل ےکر جناب رسول الڈد ےکی خدمت میں حاضر 
ہوت ۓےکہ پراونٹف اوریگریاں جو مب رالڑکا ساھ لن ےآیا سے یہ ہمارے لیے جائز وعلال ہیں 
یں ؟ جس کے جواب میں ای تھا نت 
و مَىْعّي الله َجْعَللَ مَحْرَجّا وَيَررَقه مِنْ عَيْتَ لا بَحتَِبُپہ 
(صور٤ٗ‏ ط١ت )٢۴٣۲‏ 
نز نل فمماگی نی جوف اد تواٹی سے ڈرتا ہے الد تعالی اس کے لیے (معضرقیں 
سے ) ما تکی شل خُکال دبا سے اور (مناںح عطا ف رما سے چنا خرایک بڑئی منفعت سے 
رزتی سو ) ال سکوا بی عللہ سے رزق بای تا ہے جچہاں ا کالما جج یککیں ہہوتا۔ 
لغش لا ول وکا فو ال بساللْ یک یکرت سے ال تھا لی نےعوف بن 
اکا بی کےکٹ ک ےکوی نشی 00۷۷۷959 
۰ ٰ۷۷ئ) 
قوت قد نے انی لیم دستۂ رر تکا مشماہرہ اس ط رح اصححاب میٹمج روک رایا ے۔ 
(ق ی۰ ۱۸ضص١٠۱)‏ 


"۳ 


بَابٔ: یا ابٛنَ دم إِنک مَا ذَكرَتییٔ .. 
باب آدم کے بے ا اھ پادرکنا شر ہے اورنسیا نکر 

(۳۸۷) لابن شاھین فی الرغیب فی الذکرء و الخطیب و 
الدیلمی و ابن عساکر عنه ر(أبی ھریرة: 

”قَاَلَ ال تَعَالٰی: يَا ابْن آدمَ ! لُک مَا دَكَرْتِیْ مَکرْتِيْ, وَمَ 
َسِيَِْی كَفَرتِی.“ (ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج۱۹۱۰7۱) 

شک رت تر 

ڑ ے۷ ۳۸) 7 بج مہ : حضرت الد ہریرہ سے روایت ے تن بل مد ہکا فرمان سے : 
اےای نآوم اجب نو نے بے پادکیاءن می را شر اداکیا (مشنی جب کک و نے بے بادرکھاء 
می اشک رکرتار ہا ) اور جب نو نے بے چھلادیا تو مہ رے سا تح کف کیا( نا شراب نگیا)۔ 

عمت الپ یکا نی ء ذکروعبادت سے 

تریے رت گا 7ت7 انان گآعارت 
مم شفول ر ہنا ےء اس وق تج کجن تعال کی ہے شا رنھنتو ں کال بیقی ادا ہوتا رتا سے 
اور تک رکا اع تین مقام ےک بندہ اپنے ال نکی طرف انابت و اطاعت کے 
آررۓ وین اور ہصروشت منپہک رے۔ اس کے نس تضو رن سے غفلت "ع0 
زا تیقیکی ناشکری فا نت کے مترارف سے اور فان نت بیبح یکن توق میں 
ارد تا ے۔ الد جمارکی تفاظت فر ائے! بنرےکو پمیش نو یق یکر طل بکر نی جا ہیے۔ 
قر نعیم می لیم د یگئی ے. 

لین مَکرتَملَازِیدَنكُمْ و لین كَفرنْم ان عَذَا بی لَعْدِبْد) 

نی رق مضعممٹیقی کا شک رکرتے رہد گے, و میں پمیشہ اتی تو ںکوقم کشا ہکرتا 


ا 


ہو ںا اوراگرقم اشک ریکرو گے اذ بادرکھوا می راعذا بفخت ے۔ 

قرآن ید میس انمیا ہم السلا مکی دای منقول ہیں۔سور مل می ایک لہ 
سلیمان علی السلا مکی دعاء یں متقول ہے: 

طرَبَ أَورِغییٔ ان أَمْکر بعُمتک البی مُت عَلَیٗ و عَلی وَالِدیٌ رَ 
اه أَفمَل صَالِحَاتَرْضۂ و أَضْلخ لی فی درف لی نت إَِیک وَإِلیَمِنَ 
الْمَسْلِمِیْنَ٭ (سورة احقاف: پارہ :٦۲ء‏ آیت١٥)‏ 

”ا میرے پروردگار ! جم کوااس پر حداومت ( کی نشی د ےک می سآ پکی 
ان نک نرک یں جھآپ نے جج وکواورمیرے ماں با پکوعطا مرمائی ہیں اورٹیں 
نی ککا مکیاکروںء ٹس ےآ پ خوی ہوں اورمی رک اولاد می ھی مہرے لیے صلاحیت 
پیر اکرد ہیی !اوریی سآ پک جناب می فو برک رتا ہو اور یش فرماں بردارہوں_“ 

زج ے27 
اش جوسعیر وخونل یب ہیں وہل ص7 "زا بالاۓے 
ہیں ء اور ول دردعم “اور ہین باقن می مشغول ر جج ہیں یی شک نما نکومتقام رضا 
تک جاچادتاے۔ 
می ری یادی و شکرے 

(۸۸) و للطبرانی فی الأوسط عنەرأبی ھریرۃند: 

ن اَی ا قَالَ: إِنٌ الله َقُوَلَ: 

”یا ابْنَ آدم نک إذَا دک تےۓ شک تی وَإِهَا ہت کو کی٤‏ 

[ضعیف] (کما فی الترغیب والترھیب ج٢‏ ص٦٦٥)‏ 

(۳۸۸) 7م : رت ابو رہ صن الد کے رسول بل سے رواب یت کر تے 
ہیں بی مل مد دفرماتا ہے :ا ےآ دم کے بے !اجب می راک رکرتا ہے( یشنی جب و 
اد رتا ے )فو می راشگراداکرتا رتا ے اور جب وھ ےبھول جاجا سے (س]نی میری اد سے 


اڑا 


اٹل ہجام سے ) نے میرا نا شک را شر ہہوتا ہے (الترغیب وال رہیب٣/۹٦٦)‏ 
بَابٌ: حرج مِنَ النارِ رَجُل فَيقول لَه رَبَہ 7 
اب :رٹ الزت ایک شع سکودوز رخ سے کا لکر ف رما ت ےکا 
(۳۸۹) للدیلمی عنە(انس نش: 
”يَعْرْجْمِنْالنَارِرَجُْلْفَيَفُول لَ رت تَعَالی : ما تَعْطِيِسیٌ إِنْ 
اَخرَجَتک؛ فَیَقُوْلَ: رب أَغُطِيْک مَاتَسالبی. قَیفُوْلَ لَهُ: كَذبْتَ. و 
عزِّی قَذ سَالَتُک مَا ھُو أَمُوَن مِنْ ذَلکَ فَلَمنعْطِى, سَالک ان تَسْالنی 
ایک ء و تََغَوَنِی فَاَسَْجِيْبْ لک وَتَسْتعْفِرَنِیْفَأَفِر لک“ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج١٤۱ )٥۹۰۰۷/‏ 
ہنر کا تصورق میس دستوسوال نہ پیل ناب نی کی علاعت ے 
(۳۸۹) تر جمہ : حضرت انس ول سے روایت ےء ای کن سکوچ وم سے کال 
کم لایاجا ےگا اوراس تن تعالی شاف مائیں کے :اگ رجھوکونا ریچ نم سے کال دوں تو 
وک وکیا دےگا؟ وو ع مت کر ےگا : پروردگار عا لم ! نو ج ما گے کا وو دوںگا۔ اس کہا 
جات ۓگ گھوٹ بولنا ےء جج وکو می ری عم تک انا اس نے ججھ سے ایک بب تآ سان 
اتی نین ےنیس دی ء یس نے چھد س کہا ٹھ اک بج سے سوا لکرمی ںت مکودو کا ء 
۶۳ ْ ۶ "0" مفطرت ماکیک تی مغفر تکمردو ںا گر یھی می ری 
طرف مائل اورمتؤ جال ہوا)-_ 
گہ ران دےدو 
ار ۷ "ف"“؟ت؟َ""0"9 سے زیادہلن و بے یاز سے اور ضیال الع ہمۓ 
زیادہ پان وکرمم۔ دواز راوعنایت ورجح۷ت خو دکیں جات اککراپنے بندو ںکوع اب وعقاب 
میس ڈانےاور ڈیا تڑیا ظ--,-  ">-‏ ۶۶۶ ئ0 


۵ 


ای ام ا ان نک ضا اد بلاق اورفررت وثوت 
کا رٹ ذو لجا لکو ما تل اور خا کل کی قب اونیبق واٹوٹ لین کے ات لی مکیا 
جاۓے-فاِنة کب عُلے فی الحَمَة پچ ند٥‏ جب اس با تکاراج کر اتا ےو 
گویا دہ ای ککا غلام بن جانا ہے اور الد وصدہ اش یک لہ کے ع ہم ِامان می لآ جانا ے اور 
شس نے اقرارو بشاقی سے اراف دانکارکیادہ بہت بی بدشڑی اورخس را نین میں جا مڑا۔ 
عم جل مجر ہکی ذات بندہ ےج اس عہد و پا نکا سوا لکرکی سے جس میس نل ماڈکی 
بای کا مطالبہ سے نہب یی دوسرکی پچ رکا ۔ برای کآسان تر سوال تھ اک این آ نا کو ایک 
مان لوت ںطر آرشق کے وجودکاذر ایک بی پاپ ہوگاءکئ یی ہو سکت ء پچ ررب کیو ں کر 
کی ہوسکتے ہیں۔ ر ب نیقی ف ایک ہی ہے۔ باب نے بل ربھ ینیقی ءاخیائی عذا یکن ےگمر 
صفی نل یں ادڈدتھال یکاکوکی ش ری کیہ قیامت کے ون یی سوال ہہ اکم سےکانیات 
عال مکی سب سےآسان وہل اورارزاں و ستی شئ ء ار احد کا سوا لک امیا تھا جس پتہارا 
نتصالن نفھاءاوراسں کےعینُش سآ خر تک تھا تر رائئیس ممسریس فو زوفاں کا ویرہ 
کیامگیاتھا جو نے نددیا۔ انمان ا ےعلم کے اقبار سےکننا جال اور ایام س ےکنا اٹل 
سے جو انی تھاحی دب پاد یکا سا مان خودد یکل لی إڑے 7 1ت نک الله کے 
انگار سے فراہ مکررہاے۔ آ5 پل وکریمیامحاملف اک رابمان برخاممہ 
۳ھ 
باب : نَا اللَهُلا إِلٰهإِلا آنا ملک الْمُلُوِي - 

باب : می الدہہو لتکمرانو ںکادل میرے دستفدررت میں ے 

(۳۹۰) للطبرانی فی الأرسط عنہ ابی الدرداءئؤہ): 

قال:قال سر" ڈ: 

32۷ الله يَقَرْل: انا اللّل ڑے إِلا 0 0 کے دم کک 
لمُلوٴکِ. قُلوْبْ الْمْلُوْک بِيَدِیٔ و إَِ ابَاد إِذَا أطَاغُوٴنِیْ حَوَل قُلوْب 

7 


مُتُوْكَهم عَلَيهھمْ َو الرّحْمَةہ وَإِنٌ العبَاد إِذا عَصَوْنیْ حَوَلث قُلوَْهُمْ 
عَلَيْهِمْ بلط و الیَْمَة فَسَامُوْهُمْ سُوْءَالْعَذاب فلا تَشْعلوا اْفْمَكُم 
بالعَاءِ عَلَی الْمْلوْک وَ لکن اسْغلُوا اََفْمکُمْ بالڈکر و التضَرُع أَكَفْكُمْ 
مُلَوَْكَكُمْ“ (کمافی مجمع الزوائد ج ١٥ص‏ ۹٢٤۲ء‏ جواھر الحکم ص۸۷) 

مرا ںکوگالمیاں نہددء بللہ ایند پا کگکی طرف متوج ہو چا 

ووخوددیتھہارگیکغال کر ےکا 

(۳۹۰) تر ججمہ : حضرت ابودرداء لاہ سے روایت سے رسول الد چے نے 
فر مایا نت بل مجد:فر مات ہہیں: میس ادلرہوں می رےسواکوٹی متبو ہیں قمام بادشا ہو ںکا 
الک اورتمام بادشا ہو ں کا ھی بادشاہ ہوںء بادشاہوں کے ناو غیرے ماتحن یں شی ء 
جب میرے بنرے مبرکی اطاعم تکر تے ہیں پے بادشاہوں کے دولوں میں رعایا کی عحبت 
زا لآ جع وعثابیت کا معامل کرت ہوں اور جب ہنرے ری افرما یمر یں و 
دشا ہوں اورعکمرافوں کے ولو لکوخ تکمر کمن فکرد یت ہولء پھمردہ رعا با تی کا عزاب 
مسلطاکرد یتاے۔ لوگواتم اہی ےآ پکو بادشاہوںل کے خلاف بددھاعی کر نے می مصروف 
و مشخول ‏ رتھو؛ اھ اک کے ذک کی طرف متوجہ ہو چا تا اہ پادشاہوں کے وو ںکو 
رععت ومحبت کے سا جج تمہاری طرف متوج کردوں اور میں خود بی تمہارکی طرف ے 
تمہارے پادشاہہوں کے لیےکائی ووائی ہوں- 

حضرت موڑا نا بدرھالم مہا مل رت الد علیہ نے بہت تی یش ۶ 
عد بی کی جوا ہام می لکی ہے جقا می نکی خدمت میس جیی ہے: 
ما لم می ستخفی کک ہجاۓ زیادلی ہوٹی سے آخ را کا سب بکیا ے؟ 

انما نکی فطرت ےک دہ پیش الم بی کی طرف نظ کرتا ہے اور چونکہ اہر یں 
اپےش سکووواسی کے کا شکارد کنا سے اس لیے سرن بددعاکر نے میں شخول ہو چا تا 


ےا 


ہے اوراپنے عا لکی طرف ا کی فو نی رختی :سی فقطۂ نظ ر سے اس کے ا مل سے 
عقیرة نحید پہ کی زد پڑلی ہے اس لی کہ اسلام چا تا ےک یک موحدمسلما نکی نظ اتی 
اد گی اود بلنلد کہ ہرخروشریس اپ ال قکی طرف موجہرے اوراپنے ول و بین 
رج ےک ہکا ہریی اسباب مخیدت الہ کا صرف ای کس ہوتے ہیں ءاس لی ض وی ےک 
کی ا چا ا ا 
انی یی ای کخلو کا منہ گے۔ اس لے اس سک بلندنظرکی اس میس ہ ےکر دہ یہ اپنے 
اصلا ں کی طرف متوجہ ہو کہ جو فاع ل می سے مین اود تال ء دو خود مو ںکیگمرونیں 
رن کے اض صکارے۔ 

اس لیے اس عدیث سے بیگی ںبجمنا چا ہی ےکہاس می الم بادشاہو ںکیلنے بددعا 
رن ےکی ممانع تک یگئی سے بلمہ ایک ابیے اب مگو ےکی طرف توجہ ولا ٹ یگئی سے نجس 
طرف وتی ال یکی حنبیہ کے بغیرمظلو مکی نظ رجا ینمی کت اور اس لے خطالموں کے نے 
سے ال سکورتنگارکی طعییب بینجیس ہ وق ۔آ جع جیما کہدنیاکے عالات رظ ڈا لے سے 
اس مو نکی تدق روز روش نکی رح ہوججالی ہے مشق رعایا کی تو صرف اپنے حاکھوں 
20 7 رنئی ا23 الع کے منظالم میں خی فکی ھا ئے اتا ہوئی رن 
ہے۔ اگ رکاش ہم اپنے عالا تکی عطر فبھی فوجہک ریس اورا نکی اصلا نک ریش و ینان 
مال مکا اض ہو سکتا سے اورعالما تکا قشہ بل سا ے۔ 

موجودوعلومتو ں کا وسقوربھی ببی سے یج ت یز عامس شی اورعلومت ے 
خلاف پا خیانہت کات شرو ںکر تے ہیں فو دیو ی ھلوٰتی ںبھی ان بر ایا خت حاکم مقر رکرکی 
ہیں جوا نکی کائی سرکو ٹ یکر کے ا عکوعلوس تک فرمال پردارکی پہ مو رکردےء پچ راس 
ساسملہی بھی ایا بھی ہونا آ| 2م"ھ"۶(0 افی اف یکرگمزررتاے جوعلومت کے فشاک بھی 
غلاف ہوٹی ہے اوراس رح دیو یی علومتوں میں تزارل پرا+تاربتا 000 مہ 
کے کلک میں ریصور تی ںکی نی صرف ا کا چتا سے وَاللَ غَالب عَلٰی اَمْرہ (اور 


۸ 


اذا اب رتا اپ ےکام میس )ل( ارہ ٭٣‏ روغ ۳٣)۔اوری‏ با ٹ یکی بذاوت ا لکاچھر 
گے ےر رر گے گا ہیس تق بلددمیااپنے فمادا تکا خمیاز وخوددی بھ کی سے 
اں لیے مسلمانو ںکو اس زمانہ میں نمائ کر انی اصلاع کی طرف نوج رن ےگ اشد 
ضرورت ے اورجب وہ کرس گے نوا نکی نا تن گناب تن ورک 
اورزأت وکبت کے سب باول ان کے او یر سےجییٹ جائئیں گے۔ 

اس ئر ےکا متقصرکوٹی الم 077 بیہاں دچُوک اصداعا کا مدرم اٹھانے سے 
روکنامقصود سے پل نس اصسل کے بی رسای اصو لکی وع اور اصلائی ادا مکا کا کچیں ہوسا 
ایس تنک رن ”مفصود ہے ۔ بیہاںمش رج تکا ایک زنڑیسں اصول یادرکھنا ای ےکہ جہاں شرلعت 
بن الف ق٣‏ نکوئی نظا رق ا مکرنا اتی ے وہاں جانجی نکونییحد ہضلدہ ا سط رح تبچھاپی ےک 
ہ رای کو نوم ہون ےنا ےک شاید ا ںکاکوئی حقن بیجیں سے اکم کو میا معا چیا ای 
صعم میں داقل ہے۔ یہاں جوحدہشییں رعایا سے تحل ارشمادہوئی ہیں اگ رصرف ان ب یکو د یکھا 
جا و بیں معلوم بہوتا ےک کو یا ا نکاع یں ےکن جب ان عر گل رظ ڈالی جا ی 
سے جچھ کا مک ینیم کے تلق واروہوٹی ہیں تو ایا معلوم ہوتا ےکہ تما مت ذمداریی الن بی پر 
عان ہوٹی ہے اوررعایا سےگو اکوئی باز ہیں ہیل اس لی ےتسر ےخحس کے لیے لام سے 
نظ من 7 حدنشیں سام رک وک مخ ہکا نے ضرف ھ289 رنظرڈ ال و 
راۓ ان مک ینا ایک ناف اوراوو رین رکا کام سے اورد رت یق تیج اورک زظام کے قائم 
آر ےکر وب سے ؟ہترضصورت ےک بعد ہمآحدہ برای کوصرف اس کے نکی 
تی کی جاۓ ت اکم جرل د بج کا میبرالن بجی نگ ہو جاۓ ۔ 

جو حدیییں ہام کے تخل ق تشد دک آآکی ہیں ا نکایہاں ذک رکرنا مقصوونییں اس کا 
انرازەوصرف زیل کے ایک واقہ سے ہو تا ےک امیرا نین عثا خی شی ا تی عنہ 
نے ایک مرح اب نعمر شی الف عنہ سے ال عکوتظاضی بنا ےکی خویش ظاہرکیء انتھوں نے 
عون کیااک ہآپ یجھے اس منصب سے ماف ف ماد میں و ہت ہے ۔عا نگ نے ف رما یاکتم 

۹ 


قاضصی نے سےکیوں اکا رکرتے ہو؟ پل تھہارے والمدجھی مخاصی رہ گے ہیں ۔اکھوں نے 
و یی نین نے رسول اللد پپڈاکو برفرماتے ہو خووسنا ےک ہقاضی اگ رمنص بھی ہو 
اوراگر برا ربچھوٹ جاۓ فچھ ی نیعت سے۔ اس برضرت معثان لہ نے سلوت مایا اور 
اع سے اصرارتی ںکیا۔( تر زی) 

ا کن ےک خر نی کان ول 
ال ا سے سنا ےک جو الظکانام نےکر پناہ جا ےل ا ںکوضرور ناد دے دکیونکہ اس نے 
بہت مڑگی ذات پا کک اہ لی ادریس الل کی بناہ لیا ہوں اس سک ہآپ جج قاضشی 
نا ہیں۔ اس پرحضرتمعنان لہ نے ا نکومعاٹی دے دکی ادرف ما اراس با تک کور 
زرکرنا ( کیونکہقاضی بنانا ضروری سے پچل گر ہرس اسی ط رح اود تھا کی پناہ نے نےکر 
مار ےکا فو یکا مکی ےگا )۔ (سکلو و شی ص۷۸×) 

الم امام اکر حد سے جیاو زکر جا نذا ںکافو ری 
اور وی دا مراف ما بل صرفعر ےکر جا ےت 

عَنِ الزیَیْرِ بي عَدِی 07 ا 
فی مِ الْعَجّا ج فَقَالَ اضبرُوا فلا ای عَلَيكُم زان إ ال الّذِیْ بَعْذَۂ افَُ 
معن تَلَقوا رَنَكم سمغتة مِنْ نِيَکُم 8ڈ ٠‏ (رواہ البخاری ص )۲٢٢‏ 

ھ2 زیر یکن عدکا لہ سے دواایت ےک ہام الس بن ما لک مل کی خدصت میں 
حاضر ہو اورتما جع کے شد رما مکی شکا بی تکر نے گے اس برانھوں نے فر مایا صب کرو 
گکبوکان ین ےکممارے بی اس ہا سے خووستا کے اشن بت والا ے 
دزمان سے بد ہوگا۔ 

شر : حوا جع کی خونر یز کی اوراا سک ی موا ر مت نیب اض ےگ اکم ہشام 
بن ان کے ہی ںک خی رالتقرون کےلغوسِ نرسبہمیں سے اس نلم سفاک نے ز برذقی پکھڑ 


۳ 


کلک رش نکو لکیاے ا نکی تعداد ایک لاکوٹیں بنرارتک ہے (مکو :شریںص۵۵۱) 

اس میں ش نی ںک رج سن مکوتا رع نیس بچھلا نی اس کے د بھنے وا نے ا سک وکسا پا 
بھہ سک تھے کان حضرت الس رشی اود تا لی عنہ کے پاس ان مل وم نکوصبررداا نے کے 
لیے اس کےسوااور چا رک کیا رکیاتھاکہامت میس جومظال مآ تندہ یڑ ںآ نے وانے تے ال نکی 
اددہال کر کےکھوڑیی دبہ کے لیے ا نکی ایک وٹ یکرد میں ۔حتقیقت بے رت ات2 
آحضرت سرد رکا کات لا کےعیدمیارک ے وو رہوت را سے دہ لھا ظا ظا ہرکی مظالھم کے 
ولف را ےکین دبنی لحاظط سے اس کے انحطا کا قش ہنجریک وی ے جوحرت الس 
نے بیان ف مایاتھا۔ 

صا کرام زیشھی الل مکی زندکی پیش مصائ بکی بی یس تی ری ہے اس لیے 
ا نکی نظروں میس ابعیت جشفی دی مصاہ بای اتخی سای مصاع بک نڑگی۔ عماج کے 
تا ام جو مظا لم ہوۓ چا سے وہ کقتے بی بہولناک اور درد نا ککیوں نر بہوں لن اس 
دورمیں اوراس کے بح خی رالقررون کے افراد یدنہ نظ رآ تے رے اور یں د کک رابمان 
ک یکھتیا ل می حدتک سی راب ہوک یر ہیں نان عہ در نوت سے جتنابحد ہوتا را مجموگی لفاظ 
سے مس انوں ور را بردان ضیف وکنرور ہوتۓے رت کال کون 
ایماٹی کےساتھ بعد کے ادوار می بھی جسمالی مصدائ کیا بجی شررخی _ اوط ضعف ابمانی 
اھر مصاب جسما ٰء ان دونوں نے لک امتیمل کو یں ڈال اوردہ دب اسلام جونھی 
شرقی اورخخرب میں کیئی لک رکف وطفیا نکی طاق لکوم رو بکر چکا تھا اب رفتہ رفتۃ ان سکی 
طاق تگھڈنا شروع ہوٹی اور چاروں طرف سے ا لک شوکم کم ہوتے ہوتے ا سنویت پر 
و یگ یک مسلمان بی دا میس سب سے ضعیف اورنا فو ال قو مھ جانے کے اور جح 
ملمان پیشی تقو م کےجس عد پت بے ہیں ای تی وب ت کا ما لآ پک تی ںبھی 
مشابد ہکرددی ہیںء ای انخطا کی طرف حضرت ال نے اشمارہفرمایاتھاء یہ دوسریی بات 
ےکہ ہردور می افراد وتحضیات پک ای ںکم ویش ابی موچجودری یں اور انشاء ارتا یٰ 

٢ 


نرہ ھی موچودرہٴں گی نکو کر اسلام کی صداق کا پگ ونشہ سا نآ جار باے اور 
آ تار ےگا ما نکہاں دہ جذائقی شولت او رکہاں یہ چندافرادکی موجودگی۔ 

رو9 کے علاوہ بھی نو سو چنا جا ےک جس ظا م نے ص رف ےگنانہو ںکو ہبی 
رن ےکی مثال مقا مر ن ےکی مان کی ہو اس سکوححضرت اس لاہ جاک رمچھاتے بھی نکیا 
کتکجھاتے۔ اس لےمعسوت بی معلوم ہہوئ یک کسی صورت ے ان منظلوموں ہ یکوصبرکی 
تن پ فا بی تک جاۓ ت کہ جوافرادموت کےگھاٹ اتاد ہے گے وو جابی گے اب جھ 
یدرو گے ہی سکم ازیک دی ا لک نے جا ےتفوظا رہ جایں- 

شلم سے ماع صر ف ٹیس بکہعاکیرہدتے ہیں 

عم ہف ا تو بت 
قالَ َبُوْهریْرَة طلللہ لی وَ الله عَتّی الباری لَمُوث فِیٗ وَکرمَا مُژلا لِطلم 
الظَالِم. (رواہ البیھقی فی شعب الایمان ء مشکوٰة ص )۳۲٢‏ 

رت ھا زوا ےزاون ےکک سک بہت ہو سن امہ 
ا انف سکسی مک ر ےکی کا نہیں پا ڑسکتا بل خوداپنا ی نتصا نکرتا ہے اس پہ 
ا ہریرہ ری اللعنر نے فرما یکیو ں یں او کیم ظا لم ک ےلم سے نبا کی ل( ]شی ایک پرندہ 
سے )بھی ا ےگھو سے میس سوک وس و کوک رم رجا تا سے۔ 

کا اش حدانات بھی سڑتا سے 
یح مکا نقتصمان خود الم کےنن سک محدونیس رجا برا کا ان حیوانات پرکھی 
بت سے یہ اک ہآ کل لوگوں 29و کے ہمطا نی متحری مرش کا تصان ری 

ا ہونا ے نطرت ابد ہریرہ ریی الد عنہکا مطلب بی ےک انساان 
اشرف اخقلوقات سے اور اس کے اتشرف ہو ےکا بھی ایک تقاضا ےکہاس کےکٹڑ نے 
سے تمام جہا نج جات ہے جلی اکرانسان میس“ ول“ سب سے اشر فمضو ہے اگردہ بہار 


۲۳ 


ہوجاۓ و قمام اخضاء ببکار ہوجاتے ہیں شط پڑت ہیں اور باران رجمت بندہوجا ا ےن 
ریپ برندو ںکوکھی جنگل یں ہیں 0 ہوتاء اور پالآخر وہ لوک سے اپے 
گھڑسلوں مس م رجات ہیں ء انس یور ےکیان دوسربیخفلو قیبھی 
ا ںکی وجہ سے پلائوں می چس جا ی ے۔- 
سر آنفریت ض و وت وص کی لے انز کر ےس گنز 

عَنْ جَابر عَنِ ابی ا فَال تَلك مَنْ کن فیْد يَسٌر الله حَنفة و اَذْعَلَہُ 
َء لق الس رَمََنة لی الْرَلِان وَِعمَاغ ری الَمملُزی 

تا اق تم ز ناسنا کرت مشکوٰة ص۲۹۱) 

ھ5 رت جابر لہ رسول اللہ لا سے رواجی گر ۓے ین کر پ لت کت 
یسا کی نا ار کن ضوت کن ےشن نکی ان 
بڑی ہبولت و "0 کے سات و ری 0002 نا اورایۓ والرن رشفقت 
کنا اور ان فلامول پر احما نکرنا۔ 

شر :ان جنوں بانوں میس جو بات مرکزئی نل کی ہے ووصرف ایک ہی سے بجی 
رت ین ںی ین ےکی س ےک نر یکر نا گوکوٹی اچم با ت یل 
َ0 کزوروں کے ساتھ نر یکرنا بہ ذرا مشل سے اىی طرں والدین برشفقت 7 
ببااوقا تی ہوئی ے اس لیے ا سک ی بھی نظروں می سکوکی ابی نیس رنتی ءاہداضروری 
ہواکہ ا کی ا یی تکی ت کی دک جائۓ تناک والمدرین کے ساتھ جطننا بھی شقن ت کا برا کیا 
جاۓ وہ اپنی ظروں یکم معلوم ہونے گےء ای ط رح ہ رش ربیف انسا نکی طویعت میس 
اتما نکر کاماڈہ نہ ہوتا سے ممیان این مملوک لام کے سا احما نکر ن ےکی نہ 
ا کی نظروں میس بد اہبیت ہو لی سے اور نہ فلام کے سا تھی یکا برا کر نے کے اخختقاقی 
کا خیال ول می ںگڑراے- 

ا حر کا خلاصہ ہہ ےک مصسلما نکو جا ہ ےک دہ رٹ وئرٹ یکا اں دیج عادگی 

۳۲۳۴ 


ہوجات ےک جقنا زیادہ نر یکا شن واس کے سا ال سکی نر ات ہی زیادہ بششتی رے۔ 
اکر بر بقہراضے وقت بیں ام رگا مہ دہ اینے اخقتیار وس میس ہہوگا تو اد ای اس 
کے سا تج نی یکا معامممراے وفت میں ف رما ت ےکا 0 پْٗٔ' ‏ ص ‏ + و 
0 تئ گے اور جوا کا مک یں کے اورفققشہ ہوک کہ 7 
اک طرف یج دہ کے کپ لے ماردار 
اک طرف ارم بج ھکہہ کے چیا جیا 
ا سے انمداز ہ لگایا حاسکما ےک شری نظ یش مز خوکیمتی اہی ت ری سے جم سکو 
مج ال لکھو بے بن 2 برغلا گلزوروں مکنا اور وال رن گے اض 
ہے افقتزا یکا برتا وکنا ہما ری نظروں می ںکوٹی بات بی ندرتی- 
ای معمون کے مناسب جائم ت نی میس حطرت اس الہ سے ایک روایت سے 
کہ رسول اللہ لا نے فرما کہ صد ہک نا ابی یقت ےک اود تا لی سےغحض بکوبھی ٹھنٹرا 
کمرد چقی سے اور بی موت ےآ وٹ یکو بیایتی ہے ( مک و,]ص۸٠۱)‏ 
رزاغ انگ تھے اظرف راز ضور سک ٢وت‏ کے ارے 
سک یکو ا خلا فننہیں ء اس یے ا تین او رن علیہ سخ کے لے نرکورہ پا حد بی ٹکو 
بہت اہتمام کے ساتھ یادرکمنا جا ہییے۔ (جواہ را ,صد۸) 


اٹل ویبامراں 
ایک عدبیث می لآ یا ےکہ ”َخحمَال”م مال“ مجن جیےتہارے اخمال ہوں 
کے ویے میم ہرعراں مسلط ہوں گے رن دعد بیث ہُُل ال بات پرزوددیاگیا سے 
کہانسمان اکۓ ذالیٰ ا ا ار ا مر 
ینہ اعمای صا کی بیاد رر درجم تکا فص لکن جانب الد ہوا ے اوراعمالی بلدکی ناء بہ 
قب وحضب ناز ل ہوتا سے :نکی الام ت حضرت ابی رہحتت اید علیہکی ای کنا تل 
اس م وضو پر سے جن س کا نام سے جتزاءالاعمای۔ الفرت عدیت پاک می حا وق تک برا 
۲۴ 


چھلا لکن ےکی ھمانعت سے ء ظا ل مکی بلاکت وبر بادی کے لیے خودا کان مکاٹی ےکہ بددعاء 
ےکفحع 0۴۳۷1ںئ 27.98 020 وت ضا ہوگاء ھا ۓ ائں ک ےک انان الد یا کک 
مرف موجہ ہوجائے۔ ود موی کی پروشل فرکو نک یگود میس اورت یت شا یئل .2 
وی ہی کے نام نس خطرہکی وج سے نہ جانے نی تصوم جا یں ق با نکی چاردیٹشہیں 
اورشس کے نام پنگی وغارت ہود ہا تھاء دہ ا لک یگود یش تھا۔ الد پا ک علیم قررت کے 
الک یں بنروں کےکروار برا کا ناب ہہوتا ہر سدہاب دعا اورتوج ا یٰ 
اد ے :ہگ رم کو جوکا مک رن کا سے و ہک کی غییں اورخوا ئن او کے وس وْعرے میں 
وت شا غکرل کے وبی وقت جو جلوں یں صر فکیا جانا سے قمام لوک م لک نوہ و 
استعثار 0 میں درخ است یی ںکمرویں و کی یں یقرت و 
طافت ظاہ رہوگ رس طرں انپا فو ںکوتن دار پر پنیاد بقی ہے۔ اگ راصیر تکینمی لگا 
سے د رکھا جا فو بی ا ںکوتبا ودب جادک رن ےکا می کی کرک ی ےبلم ذذ ات خوداتی 
زبروست خطر ناک گ77 سے من سے الم یں سکتاء جس رو 
اخفقظامت کے سا تھ ای لعج ابی ۲ ل میرہ کی جانب مجر ہناجا ہے۔ ا میق تقیق تکو 
زج اث نے پا باذک رف رماے۔ 
انابت در جو الی الف ممخرے بددعاء ے 

گئیں جناب پادی عا لح یلا نمی طور بر بی سکصلایا اور نلایا ےک ائلی ایمان 
انا رپا وشقیء رج ای اللد دانابت وعبادت کے ذر بی ححخر تح بل مہ سے بعھال 
کن ا رت دن نت ات سے لے ا ات سے لان جن ئے 
خداپئ لے وَلِلّه عَزَائیْ السُمواتِ و الَّزضِ کہاےءادر وَمَا الَضَرِل مِنْ 
عِنْدِ الله یآ بات بینات ےت ردیے۔ و للّہ مُلک السُمٰوَاتِ وَ الا‌زض کا 
پخام نایا سے ۔قوت لیقبن میں شبات ورسوخ کے لیےحامم یلت ی میق کی طرف رجخمائی 
مرہماۓ ہوۓ ارشادہوا_ 


۵ 


اَرَادبی الله ِطُرِمَل من ِظٹ صُرَو َو ری بَِمَوَمَل من 
مُمْيِکت رَخحمَیہ قُل ‏ حَسبی الله عَلَيه یم کل الممَوَكُلوْنَ کہ (زمر۸٣)‏ 

ار اش تا یٰ وت نیف جاٹیانا جا ےکیا ہر ممتبودا ںکی دی ہوئی لیف وور 
کر سک ہیں ء یا الڈدتھالی جھ پا نی عنابی تکرنا جا ےکیا بیمعبودا کی عنابی تکور وک سیت 
یں ؟آ پکہدد تی ےراس سے خایت گیا میرے لیے ای رکاٹی سے نک لکمر نے وا لے 
ای رن وک لکمرتے ہیں - 

حطرت ا موب یع ہیں : 

ا تھا لیصفت ناصصریت می ںکائلء اورع بد ن اع منصوربیت کے ائل اور اللہ پاطلہ 
قدرت اورنصرت سے ال پچ ربیخ ای کین ضلالت وی جچہال تھی ت کیا ے۔ 

عاصل یہ ےکبحن بل مجددنے اپینے ناش کو وکیا دبالی کے ذد لہ باد بار 
ہدابیت دی اور رہ ئماٹی فرما ‏ کہ دعا و مناجات کے ذر لیج مشکاات دمصاب میں پاب 
رحمت پر دک دیں جہاں سے م شا تک مغ حات اور مصاش کیہ موا ہب د ہام 
اور معارگ رما ےکانزول ہوک 07 رہ اور رات وتشحلیات ابد یآ خوش رید کا 
مشاہدہہہوگا خر بار بارانشدرب الزت نے جار ےآ تا وم لاجر لوک دکہو لف رمایا: 

قلِ ِله الٰشْفَاعَة یکا ہدج ےک شفاعت تما مت ارنددی کے اختیارمیس ہیں 

طقُي اللَّهم ار السموَاتِ و ار 

افش ق رآن مر میں تام بی انی نیم ااصلو و السلا مکو اد تی نے عالات و 
مششکلات میں رجو رع الی ال کان سکھلایا- 

ویش مآ وم علیہ السا مک٢‏ کھدا ۱ 

ابوالیش رآ وم علی السلا مکو جن میں مضکل بی ل1ی نو جن تعالی نے ضیات وخلاصی 
۷1٣ھ‏ نتر آودانابت وم ای اکا لن کی مک ل شی جو 
الوا یش مآ دشمکو لان ہوئی او گی ہیر ای اورالہنم راٹی تھی جوفضیات ونغ اص یکا ذرلجہ 


٦ 


تی۔ پور یکناب الل مم سکہیں ا سکاکوگی نکر ہنیس ہ ےک ہآ دم علیہ السلام نے رٹ 
زوا لال سے عو سکیا ہوکمولی جج کو شبیطانع نے راہ سے جٹاباء دموکہ دیاء او اکیا۔ ہاں 
خودرٹ ذدا چلال نے آگا کیا ےک شبیطائن انسا کا کن ای بے اوزا و 
کھاک رآ و مکواپنے فریب میں نے لیا رآ نکی ںکڑیں شیطا نک وکوسا با برا چھ اکہا۔ 
ال فَلَقَی آم من رب لمات فَعابَ خَلَی سےمعلوم ہوتا سے رٹ ذ وا لال نے 
آ وخ برک مکیااورنو ہہ کےکلمات رجوع الی الگ کے1 داب والغما ظاسکصلا ۓ - 
مکل کے وقت الیل دکو با کر نا ومنانا 

اس سے معلوم ہواکہ مشکلات ومصاتب کے اوققات میس اتال یکو بادکرنا دمنانا 
ہے نہکہ شمنو ںک وکوسنا اوراپٹی وج ہکو خی راڈ کی رف صر فک نا ۔کبوئلہ مشفکاات 2 
اوقات یں دشحشو ںکوکوسنا برا چھ ہنا مشکا کا ع کی ے بللہ مز بر مشکلا تکووکوت د بنا 
ےت کا مداد یں لہ بڑھاواے۔ ممائل ومصائب می ںتحلو کی طر فان ون مسب و 
شحم دہرانا عذاب ہے۔تعی تعال یکی رتتوں سے بندہ اور دور چلا جاتا ہے سشت انمیاء و 
یرت ابرار و اش رنڑیں۔ ال یے ابوالیش مآ وم علیہ السلام نے حیطا نت نکوکو سن ےکی 
بجائے تن نتعا کی رضا ونقرب ولبدکی را ءکومناجات واستغفار کے ذ ربج حا لگیا- 

اصولیاراحت ومسرت اور پغا ‏ شادبالٰیٰ 

اراس اصو لکو ہم لوگ اپنالی لکعالات ومصرانحب میں جن تھال کی جامب مل 
جا خقیارکر میں فو بی مصائب ولا بی کب رگ کک پ مکو پچاد بی ء اور ہرم ہماری شادما لی کا 
پیام سرت لن جانٗیں ء ایمان داقن یٹس احما نکی صفات پیدا و جائیں ء رٹ ذ وا لال 
سے اہ اتی وگ تلق وربا ہو جا ۓکیہ_ٗمیس وش نکوگی نظ ہی نے رہم ا کا اسان 
ا ٹیس کے وبی زر لچ وب از ت ٣اسودایت‏ ہیی کےتصمو لی ا_ اِذفع بالبیٔ 
ہی خسن کی خوبصورت جیب رونموبہوجاۓ ۔اللد ا کگگ گکہر ا ےو مَا بَا الا 


ۓ 


ذُوَحَظ دنن کا ھی بکیش بہت اد بے افر ار کے لوگو ںکا مقر ے۔ 
تام بھی انمیا کہم العلام نے حالات ومشکلات یل رجو الی اڈراورنضرت ویرد 
الد تعاٹی سے چاباء اور اپنے محقی اوقا کو بردعا کی بہجاۓ الد تعالی سے این اور ا مت 
کے لیے دعا وطلب اور رضاء مول کی بساط مھ رجدوچہدکی سے ہال ححضرت نوع علیہ السلام 
نے انی امت کےجقن بیس بددعاکردگی جم سکا اشر الع پر می ہوا کہ بروز قیامت وہ میرالن 
صیث میں شفاععت ء۶ 6 کے ۔کمرب ایک اضنشاکی تصورت ے 
قحات ولحات نر سک وضاٹح شکرس 
حضرت ابراڈیم علیہ السا ما واسیطنم رود سے پ ڑگیا نے اکھوں نے اثابت اور ر جو 
لی ال کا داصنع مضبوٹی سے تھا سے رکھا یا کہ نا رنمرود یں تب ررل علیہ اللام مدد ونصرت 
کے سے تتشریف وا ے تو بھی اس ملکولی امام ملان ککی طرف دسیان نہ دیا۔ جب جب گل 
" گ2 ۶ ۰۰0۷" مظاہرہ خر مایا او رکہاء ِنْ 
تا من اللہ قب ون حا منک فا یشک اگکراے جج لی تی پیٹ یش میری 
عبت میں ےو تم اشحکریہء موی مدد ھکیس جیا ہے ۔ اور اگ رف ما مورسن ایند ہےفذ پچ راع 
ال یکو پوراکر۔ جھ س ےکیوں لو چنا سے گر ابرائمیم نے نھردد کے لیے بددھا تی کی نہ 
انابت ورجوخ اخقیارکیا۔ 
ارَبْنا غَلَیْک تو كُلنا وإِلَیْک انبنا وإِلَیْک الْمَصِيْرْء رَبَا لا تَجْعلَا 
لین کفزز زاغیز کا رکا نک نٹ الفرزز العکیخ4 
رۓ جارے بروردگا رب مک وکا فو ں کا تی مشن ثہ بنا اور اے مارے پروردگار 
ہار ےگناہ معا فکرد تیچ بےفن کآپ ز بروستعکمت وانے ہیں 
(ستحنة آیت ۵۳ء پارہ ۲۸) 
نر کی نی کر ےکلانی ے کت تی مل 
رہ ات پ جروس ہکیا ادرقوم سے ٹو ٹک رب خپارک وتا ‏ ی کی طرف رج ہو ئے 


۸ 


کہ یا اللہ مکوکافروں کے واسنلیگ لآ ز وائش اورتی مض یہ بنا معلوم ہوا کہ حالات و 
ملا تک یگھٹروں میس بندہ اپنے رب سے خوب بی قریب ہوتا سے اورمظلوم کے لیے 
باب رجمت مفوب ہوا ےپ ای مبارک ساعتوں میں بندہ تحزائن الہبیہ سے اینا دامسن 
کر ےکا ؛ بی مگ کر برکات درحمات سیراب ہہوگا فان داوا نک زازنا للََْزْن 
6 ,۰ءء لے پر 
کر ےگا ارت و بصارت ابیان مس انی نہ السلا مکل تین ہوتے ہیں ا لیے 
ا نکی کاو نبوت اورفراست ف'رسبہمصراب ومشکلات کے اوقات میں عبد بی تکی شمان اور 
می ری ہے اور وت ات ر بای یحو طہلکر شمالن عبد یج تک سی ربیل ون و 
برکا تکا مشامد کر تے ہیں۔ 
7 بے عد م غراے یپاک را 
آل کہ ایماں داد مخت اک را 
عبریت میں فیضان الپی کے قو لکی صلاحی تک انداز دچھی اخمیا ہم السلا مکی 
مناجات سےمعلوم ہوتا ہے۔ اکم یو ںکہاجاۓے نے بے جانہ گا کہ احوال ومصا ح بفآاتے 
بی ہی ں کیل عبریت اور رورغ لین اورائ شاف حتقیقت کے لیے الخر حاصصل رے 
موک وج کا مکو بددعا ند بی اپنے ایمان واقا نکورٹٹ السماوات والارٹل سے مضبوط 
کرس اورں- 
ما حعبربت اور رہ ور ہت 
موی علی السا مکا 77 ے ہوا اورنقر ب] و آن ید مل سب ے زیادہ 
رت موی کے وافتعات بی ملف عناو بین سے ذکر ہوئۓ ہیں تن ہل محہر نے بے ھی 
ہی تکرد ای وکا لک فا اسنا پچ مم وشی ری میا نکا خیال رکا حضرت نے 
بہت ی مات ؤجیدگ یکا مظاہر یرم۱ لی ین لکیااوردھاماگی: 
فَقَلُوْا عَلی اللہ ت وک رَتا لا تَجْعَلَ فِتَةللقَوْم طات و نجنا 


برَحْمَیک مِنّ الْقوُم الكَفْرِی نہ4 (یونس )۸۰/۸٦‏ 

اور ایھوں نے عو ضکیا: پھم نے ایند بی پر فو لکییاء اے جمارے پر دردگا رب مکو ان 
الم لوگو کا تخت مت نہ بناء اورپ مکواپتی رجح تک صدقہ ا کاخ رلوگوں سےضجات دے۔ 

نی ج بکک جم برا نکی علومت مقدر ےم نکر نے پایں ۔الل را کتقاادبء 
تی تک از ےآ بناہگی جاہ ر سے ہیں نے اپۓ ےہ بج بی ےک انا ہم 
السا مکا ما مع بر بیت ور کور تکا 7۱ھ سے نک نکی تر ہیت کاو ریو بییت 
بس ہوی سے ان مقیں ومطہ رگردہ پر ج بھی احوال نازل ہو ان حبدبیت ۲ل 
عفلمت وسعلوت اورقوت وف رت پاری کےسا تپ ر لئ ۔س ابا جزو نیازہ اکسمارواقتقار 
کا مظہربن گئ۔ می دہ ویصف سے جوا نکودوسروں سےممتا زکرتا ےء اورائ یکونن تال ی 
نے امت کے لے اسوہ نایا اور ہہ اوصاف خمام انی لم ااتصلؤ ۃ والسام ٹیس بررج اتمم و 
8606ء يء ە ‏ و ہما ر ےآ نا ومو لی نما تم ایی گر 
پا ممں ئل تعالی نے ودلیعت فرماومیں ۔حطرت موا نا شبی رام رعنا فرماتے میں : انیاء 
ہم السلام سے نال ی کی عظرت و جروت اور اٹ یجودیہت واشنقا رر کےگٴس قرر 
میم دیق احماس سےمعمور ہوتے ہیں اورکس رح ران اود ہرحال میس ا نکا کل 
واخنا دقمام وسا ئیا سے خفعع ہکرام وعدہ اش یک لہ پر پہاڑ سے زیادہ مضبوطا خی رتترزل 
ہوا سے (تفی رحعغانی) 

اس نے تمام امیا ہم السلا مکی زبان پٍعَلّی الله تولَاء ربا لک تَو گلا 

ک زعمہ سنا ی دتا ے۔ اور ہی دو کا مال ی وکا مرا ی کی یر سے ہوا باب و ماآیت؛ 
اسباب ووسائل اورقوت وشولتء چاہ تم رک والو ںکوا نوا مٹیم السلام کے متا لے میس 
زیر ناک اور پا ما لکرد بی ہے بھلا یی ارل رکا ٦‏ 9 و 

اصحا بکب کا واقعدائل ایماان کے ل ےکاٹی ےک ماڈىی قوت سےگمراٹ ےکی 
جا انھوں نے اپنے رب سے پناہ چا پا اور اڈ کی طرف رجو داناب تکا طریقہاختیار 


۳ 


گیا۔ ربا آبِنا من لَڈُنک رَخمَة و هَیعی انا من اما رَضدا پچ اللتعا ی نے 
اما نشہ بد اک قیامم تک کعبرت کے لے کاٹی سے بگرانسالنعبر تک ہگاہ سے د سے اور 
یرت کےدل ود ماخ سے خی اخ زکرے۔ 

نام الٹیبن اکا خی رتنابی رم وکرم 

رسول الد ےکا سف رطاکف بہت بی مش پور ہے طا نف والو ںکائم لکبھی جات 
9:7 جناب سیر الکونین للا سو گنو ںکو موا یکین کی لہ تام 
امناسب سلوک جوآپ کے ساتھ ہواء ان س بکواپٹی بے ٹیا دب ےکی ء و بے ضا عق کی 
طرف مغفسو بک کے شا ن عبد بی تکواس مقام اللہ پنیا اککہ جہاںکککسی نے نو ھی 
نکیا ہوا آپ پودیی مناجات رسول انلم تلاکو رنظ رات پڑعمیس فو اندازہ ہوگاکہ جزد 
اقنزاں ناخ وا٠ہاں‏ گپر یت وجودیتء ایق وی اور رٹ زوا لا ل کی 7٦‏ 
لکوت عمزت وگظحمت ء یت ودققررت :کہ ریا و جج روت, سطوت وشولتء لوت وثررتء 
عم بہت واحر بیت؛ٹرد یم تکا جلال ءضر بی تکا جال ءاعد بی تک اکا لآپ چ ےکی ری آہ 
وزارگی ءگربے و پکاکا امم کت کے 2 ودر مانمگ کا اتزاف و ائثرار اور رٹ 
ذ وا للا لکی شمانء وراء ونم وکمان وخیا کا اتراراوراختزا فگیا- 

1 + نے طانف والو ںکا ار کنل ےکوٹی تلدکرہ ہنی ںکیا- اور پارگاد 
ہے نیاز یس جو ٹجھ ذک کیا بس دہ اٹ کی ویلڑےغ وشین, زور ونالاںظ ہونایان 
کیا۔ ان سکی حلمت ج بھی ںآکی سے وہ مہ ےک نزو رحمتہ او رتجو لیت عبود یی تکیائ 
ا نکی نو رق میں ضا وت داڈکنا کے مت گی او پگ یکن کی سای 
ہے۔عبدرکو ذات بی زیب د ہق سے۔ ہما رے حضرت مولا ن تقاحم ناو ای وارالعلوم 
دلو بن نے بڑے مرے اورپ کی با تی ےک تام انویا ہم العلام نے ات ےکو پا رگا 
رب میں عبدائ غاب تکمرن ےک یکو کی سے اور جھا ر ےآ ا ومولی م چاوکو اد تی نے 
خودعبدا لپک پکاراادرخطا بکیا دلاو ان لم قَامَ عنالل یہ (سور) جن ) معلوم ہواکہ 

٣ 


یرم ومطبرکی رشان سب ۶ 92۰۳٣۳9‏ و ہگپرہونا ےاورٹوژعلی ور 
کپ رکا کپ رہونا مب ودگوجگی قبول ہوگیااو رع دکووتی ربا لی سےسعح بھی 0۷+ 

وه لم قامَ بد الله یحو ادا يَكونَوْنَ عَليهََِا) 

(سورۂٔ جن:۱۹) 

اور جب اکا اص بندہ( مرادرسول ال لگ ہیں ) ارڈ کی عبادم کر تن ےکھڑرا ہہوتا 
ےو بیکاف رلک اس بندہ پ رکھیٹر لگا ےکوہوجاتے ہیں۔ 

عاصل بک رسول اللہ پل اکا حبد ہوناء بلعبکائل ال ہوناءعپمقبول ہہوناء رٹ 
متبود وجود کے بیہا ںبھی مشہور ومتروف سے اور رٹ الھا ا نکی جناب ٹیل ن بھی عپد 
ون رجش سکورت لان نے بدا کہ ہکر پکاراء و صرف منقا مود پر فا تج ہووے والا 
مود ودک جاخب سے شفاعح تکبرک یکا منصب پانے والا ءمتقاممممودکا مھ جا ہوگا جس 
کے ہاتھ میں سج رکا جنر ہوگا۔ وب یجمود وعحبدراد ہوگا۔ خوب معبود پرنقی ایک عپدالڈ کا 
مانب اید خطاب پانے والا ایک ء ای ای ککومقا مود مزا مقر ہواجو انی شا نعبودیت و 
پر بیہت ین کیا ونرالا تھا اور ے اورر ےگا اَدَلَهُمَ صَلِ عَلیٰ مُحَمد 429 ذکره 
اذا رُوْنْء وَصَلِ عَلٰی مُحَمَدٍ کُلمَا غَفل عَنْ ذکرہ الْعَافِلُوْنَ _ 

اب ا ماس بک کودعاع طا نف پرنٌ مکمرتے ہیں۔ 

دماءِ طا نف 

ا"لَهمِلک اَشُکوْا صُغف فُوّیُ ول جيلْی وَهَوَانیْ عَلی الس یا 
ارّحَم الرَاجمیْنَ لی مَنْ تَکَلبیٗ لی عَدوٍيجهَهِیَ ام !لی قرِی مَلكُته َمِْیٔ 
اغ لُم تَکُیْ سَاجطً عَلیٗ فلا لی غَْرَ ا عافیتک ازس لیْءاعُوذ بر 
وََُھک الْكریٔم الَذٰیٰ اَضْاءَ ث لَ السُموث وَ اَشْرَقَتْ لَ الظْلْمَاث و صَلع 
عَليه اسر الڈنيا و الأخرة ا تَجلَ عَلیٗ عَضَبک و تل عَلَیٗ مُخطک رو 
َک ال عَتی تَرْصی وَلَاحَوْل وَلاقُوّةَِا ہک 

۳۳۴ 


بابٌ : إِنٌ أَوِيَائَیْ مِنْ عِبَادِیٗ وَأَجِبَائِیْ مِنْ عَلمِیْ سی 

اب :میرے بنرول یل اولیاءالیلداوردوس تکون لوک یں 

(۱۲) عن بی منصور مولی الأنصار أنه سمع عمرو بن الجموح ظلہ یقول إنه سمع 
رسول الله یقول: 
کرو بِدِكرِی وَأَذكُربِکرِهم۔“ 

[ضعیف] (أخرجه أبونعیم فی حلیة الأولیاءج ١‏ ص٦ء‏ جواھر الحکم ص ۷۱) 
الد اک کے اولیا کون لوک ہیں؟ 

(۳۹) مھ حم : عھردبن تھوں تل سے ردایت ےک انھوں نے رسول اللہ پا 
کو کت ہو سناءىکی بل مرہ 9 ئت,., ھیرے بنروںل میں سے مہرے وی اود مہری 
موق میں سے می رے دوست وو لوک ہس مک ن کا زمر مر ےتک رے کے ساتھ ہوا سے 
اوربیش الع کے نام کے سا تھ با دکیاجاتا بہوں- 


اولیاء این کی عل میں 

اس حدیٹ می اولیاء ال کی نشاند یک یکئی ہ ےک انماحیت کے اس سمندر میں 
وتی لوگ الد تعاٹی کے ول ہیں باج بل مجدہ کے دوست ہی ںکہ ج بت بل مہ کا 
تمدکرہ ہوتا سے اورصغات بااریی بیا نکیا جال ہیں فے ساتھ سا تھ ان مقبولا بن بارگاد الیکا 
ھی کہ ہن ےکنا ےک فان نف وذادی کیک وا فا نکی کن ینعی 
ادا تھا اور ال سکو وک کر اس مو ںو ہوتا تھا کہ انان ایک الد وعدہ اش ری کک 
عبادت و اطاعت میں بہت نیلک جاۓ خرن ء ان بندگا نت کا جب تدکرہ ہوتا ےو 
سا تق بی تی مل بد ہک یکنکمت وکبریائی کے زم ےبھی سناکی دی ککتے ہیں ۔ اسی طرح 
ج بکوٹی بندہ الل تا ی کی طرف دعیان لاۓ و اسے اولیا ءگرام ا 1 ا 


ؾ۳۴۳۴ 


لایر ن7 مات 1ن تک تن ات دنن 
کے ذر لب مت رین بارکاد بے۔ 

خی الل تال یکاجب دھیان جمایا جائے فذ یہ یا یں اور جب تی یا دکیا جاے 
نا تھا لی بادآ ۔ لی الد ہو ےکی علامت سے یہ بات مشہو رچیف ےک ہ ولی ود 
ہونا ےج سکو یرک راد تھی يادآجائۓ- 

اللّهْمٌ اجْعَلَ مِنهُمْ برُخحمیک یا اَرْحَم الرَاحمِیْنَا 

بنارہ ال تھا یی جانب ے ولامیت کے لی ےک مب ہوتا ے؟ 

(۲) عن عمرو بن الجموح خلہ نه سمع النبی شّ بقول: 

ا یحَی اب حَق صَرِیٔح انان تی بُجبٌ لِله تعالی وَيتغَض لِله 
قب اب لِلَهتبَارُک وَتَعَالی وَابَْض لِلَهتَبَارک وَتَعَالٰی فَقِ اسمْمَعَق 
الوِلاءَ ِنَ الله إِنَ أوْلِيَائِیْ مِنْ عِبَادِیٔ و اَجبًائی مِنْ عَلفِی الَدِيْنَ يُذُکرُوْن 
ذِكرِیٔ وَأُذكريِٰكرِهمُ۔“ (ضعیف] راخرجہ احمد فی مسندہ ج٣ص۲۳۰‏ 

 )۹۳(‏ بحم : عھرد ہن جو لد سے رواایت ےء رسول الد لان نے فرمایا: 
دہ اس وق تک ککمال ایما نکی منزل پننیس پنچتا یہاں ک کک دہ جب مصی سے محبت 
کر ےو الیل کے لیے اورفنض وعداوت ر ےن ادڈدتھالی کے لیے جب بندہ اس مقام پہ 
جانا ےکحبت دہ اللدتاٹی کے لے اورسی سےفشحض رکتا سے و الد تعالی کے لیے 
دو الد تھا یکی جانب سے ولایت کے لی ےب ہوجا تا ہے۔ 

اورتن نتحا لی فرماتے ہیں میرے بنروں میں سے میرے ولی وہ ہیں اور میہرے 
دوست مبربی موق میں سے وہ میں جن یکا تذکرہ میرے نام کے تکرہ کے سا ہہوتا سے 
اور جب ا نکا ذکر وتکرہ ہوا ےن می رای ذکر دن کر ہوتا ے۔ (احمد:۴/٤٤٠)‏ 


۳٣ 


ھک 


._ (سورة یونس٦٦٦)‏ 

پادرکھوجولولگ الد ے ووست ا قارے اق ےم 

ای نک رے روایات عد یم ٹک بناء برا لکا مطلب ي پا نکیا ےگ ”اولیاء اللٴ 
(ابلد کے دوستوں )کوآخرت میں احوا یش رکاکوٹی خو فکہیں ہوک اور دا کے وٹ 
چانے بین ہوں گے تخل مفس رین ن ےآ بی تکوبچھدعام رکھا سے شی لن براند بی ناک 
جاو کا نوع نہ دنیائجیش ہوگا نآخخرت میں اور نکی مطلوب کےفوت ہونے بر وہ 
مغموم ہوتے ہیں ۔گویاخوف سے خوف تی ہام ےک مآخر تکنی مراویں کہ داش 
دنیوئی خوف وگ مکینئی مرادےء جن س کا اعمال مخالشت اعداء درد سے ہوسکنا سے ووم وین 
کال نکوگیں ہوتا ہروقت ا نکا اعختاداقہ پر ہوتا ہے اورتمام وا تھا تنگویزیہ کے ای از 
حکمت نہ ہون کا اناد رت ہیں اس اخاد و اعتنقاد کے ا نضار سے میں خوف وم 
کڑیں سنا جا۔مییرے نز یک خْوُفث عَلَيْهھِمْ“ کیا مطلب بہلمیاجات ےک ولا یا ا ظز 
کوکئی خوفناک چز (ہلاکت پا معظر ختصان ) دنا وآخرت * می واج ہونے وا ینئیں۔ 
اگ فرش یھدیا می صور کول نقصان شی یبھ یآ نے و چوک بن ود ان کےتن می ںکنع 
شلیمکا ذ ریہ غم سے اس لے ا سکومعتتر بنقصا ننجی سکہا جاسکنا۔ ر ہی سبب دوگ یا 
ا ےا تق خت لاق سنا تی ان کے مال وکا 
کوک آیت نے صرف بی خمردی ‏ ےکہان کوئی خوفناک چتز نہ بڑڑ ےگیاء بی سکہاکہ 
ھی کی وفت خوف لاف شہہوگا۔ شید لاپسحز نون کے مناسب لایسخحافون شف رما ن کا 
طی۔ ان و تخل سے سے حر تح ےت خرن 
بہوں گے یما فرمایا: 

نز ہم لنلیگۂ ال تََاز ارک رم سبہ- 

۵ 


اورشر مایا: 

لا يَحَزِنْهُمْ فرع اکر و تَلَقهْمْ الْمَليْكَةً)ہ (الانبباء:۰۳٥)‏ 

والله تعالیٰ اعلم بمرادہ .(تیرئنٰ) 

اولیاءایٹرکون طٴں؟ 

عپرالش این مود طیلد اور اہن عحباس لہ ککتے ہی سک اولیاء اد دہ لوک ہیں جو ہر 
وقت ذکر ولک رای بیس دجھے جاتے ہیں ۔ ار نعما سے مرکا ےک ای کآ دی نے لو بچھایا 
رسول اللر چان ! اولیاء ان رکون ہیں؟ تو ف رما اہ دہ لو ککہ جب دیھو با دای میں مصروف_ 
اہر رہ سے موی ےک رعول ال لال نے فرما کہ الد تعاٹی کے پثروں بس ال یھی 
بندے ہی ںکاخمیاء شہداءھی ان پر رش ککرتے ہیں۔ ٹپ چھا گیا یا رسول الد پل اد ہکون 
لیک ہیں؟ ہم ان ے محبت رنحاس گے فر مایا انمیاء کے لی بھی مقائل؛ رشنک لوک ہی ںکہ نہ 
مال ک٤کوئ‏ یلق نن ب کا لگ مگ رصرف ال تھالی کے لیے ایک دوسر ےکو جات ہیں ان 
کے 72 ےادراٹی ہیں٤‏ ووور کےیمنہروں بر ہیں ء لوک جہاں خوف ےگھراجائیںء دہال ان 
پر ذراگھیآخارخوف ینیل ءلوگوں پر رم دم طاری سے اورا نکو ری سےکوئی واسی لال ۔ 
ابو مالک اشم ری سےددایت ےک تحخرت مھ چڈقاتانے فرما اک لف انل ے اور چاروںل 
طرقے بے مغ ہوں ے اوران یس کو رشن داری وگ ئیکن وہنض ارتعال ‏ یکی اط 
آ ین یس ایک دوسر کو دوست رک ہوں کے اورغلیکش وحبت ہوگی ۔ قیاصت یو-ئ+( 
ال دتھالی ان کے لے ٹور کےنی رقائ مر ےگا نس پردہ یھ ہوں گے۔ لوک قیامت میں 
پان پچ ررے ہوں ےکن ووستنن نہوں گے اود ای کے اولیاء یی لوک ہیں 

(خیراینکیر) 
ولابیمت کےدرجات 

ولا یٹ اصہ کے درجات ہے شار اور شب رای ہیں۔ ا ںکا ضٰٰ دج اخمیا کہم 

السا مکا حص ےکیوقکلہ ہہ رن یکا دٰ ال" +ونالانق ہے اوراس ہیں سب سے او چیا مقا مسر 
اہ 


الامیاء نی اکرم ےٹک سے اورادیٰ درجراس ولا ی تکا وہ ےج سکوصوفیان ۓکرا مکی اصطلاح 
ٹس در فقاءکہا جانا ہے جس س کا حاصصل بی ےک ہآدئ یکا قلب ادلدتھاٹ کی یادشیس ایا متتفرق 
ہودنا ی۲ شس یکمحبت ال پر غالب ںآ جس ےےعحب تکرتا ےو ابد کے لی ےکرتا سے 
نس سےاقر تکرتتا ےو اش کے لی یےکرتا سے اس رب دنن نت وعراوت مُل 
اپنی ذا تکاکوئی حصیکیں ہہوگاء جن س کا لا زئی تی ری ہوتا ےکا کا ظا ہرد پان اتا یکی 
رضاجوثی می مشخول رہتاے اوروہ ہرا ری یز سے پریز کرت سے جوالشد تی کے مزدیک 
ا ند ہو ای عال تکی علامت ےکشزت ذکر اور دوام اطاععتء می اتا یکوکشزت سے 
اکن اور بمیشہ ہرعال ین اکن کے اکا مکی اطاعح تکرناء دو یصف جم سن ہیں موجور 
ہوں ددوٹی اللدکہلاتا ےجس ٹیس ان دوفوں میس ےوک ایک شود اس فہرست میس ال 
نیہ چرس میس ہہ دووں موجود ہوں اس کے درحجات ادگ وائل یک یکوئی یں ۔ میں 
و کا ےر ات اص او لنٹ ور میں 

ایک عدریث میں بروایت حنظخرت الو ہ رہ مور ےک رسو لکریم اتا سے سوال 
کیاگ اکا سآیت میس اولیاء اید کون لوگ مراد ہیں ۔آ پ لا نے فرما کہ د ولیک 
جال الد کے لی ےآ نہیں میں عحب تکرتے ہیں ءکوئی د نیاوی خوش درممیان می سکیس ہوٹی ‏ 
(مظہری از ابن مردوبے ) اورظا ہر ےکہ بحالت اھیں لوگو ںکی پیک ےکن زگ راو 
کیاکیاے۔ 

۲ ,رج 

یہاں ایک سوال اور ھی پیدا ہہوتا ےک اس درجہ ولاجیت کے حاص لکرنے کا 
ریقکیاے؟ 

حضرت قاخشی خحاء الد بالی بقی رحمتۃ الد علیہ نےکقبی رمظہربی ٹیل فر ما کرات کے 
افرادکو بی درجن ولا یت رسو لکریم چلاٹا بی کےنیش محبت سے حاصل ہوسکنا سے اسی سے 


٢ 


علق مع ارڈ کا ودرک جوآنفضرت پا ٹاکو حاصل تھا ان حوصلہ کے مطا بی ا ںکاوئی صہ 
امت کے اولیاءکو ملنا ہے رر شی صحبت صحاہکرا کو بلاداسطہ حاصل تھاء ای وجہ سے 
اکا درجے ولا یت تمام امت کے اولیاء و اقطاب سے بالات تھاء بعد کے لوگو ںکو بی نیش 
ایک واسطہ با چند واسلوں سے حاصسل ہوتا سے لے وسا ئا بڑ ھت جاتے ہیں انا بی اس 
فرق بڑماے بدواسیصرف ود لوگ بن سیت ہیں جورسو لکریم چا کے رتک میں 
7 ہو ےآ پکی نت کے پپبرو ہیں اے لوگو ںک یکرت سے میلست او رصحبت جلہ 
اکس کےساتھ الن کے ارشمادا تک پیبردکی اور اطاععت اور فک اٹک کشر تبھی ہہوہ ہچ یٹس 
کےرت زیت سر اع ےک ےی کیک کت :ا کی 
اطاعت اور ذکر ال'ک یکقزتء بش لہ کرت ذکرمسفون طربتہ پر ہو کیونک ہکرت ذکر 
ےآ تق بکی جلا ہوٹی ہن دوفو ولا یت کے افدکاس کے قائل بن جانا ہے عد بث 
مس ےکہ ہرز کے لی یحتقل اورصفاٹ یکاکوکی طربیقہ ہوتا ے:قل بکی مل ذک اون سے 
ہوئی ے۔ا سکوقابقی نے بردایت امن پلفل فرمایا سے۔(مظہ ری ) 

اور تضرت چپ رالٹر بین مسعور نہ نے فرما ماک ای گنس نے رو لکریم پچ سے 
9 0و 
گر کے انار سے ان کے درک گنی پچا؟ آپ نے فرايالمَرْء مَعم مَنْ اَحَبٌ 
شی نی کےساتھ ہوگا جس سے اس سکومحبت سے ء اس سےمعلوم ہوا کہ اولیاء ال دکی 
حبت وححبت ازمان کے لے تصمول ولا بی کا ذر یہ ے اورتٹی ےب الاماع جن 
نیت مر ما سفن دن کا اون اتا ہیں کس ےکم دنا وآخرت 
کی فلا وکا میالی حاص لکر سے ہوء وہ يہ ےک ال ذک رکیپس وحب تکو لازم پل اور 
جب تال میں چاو وجتتا زیادہ ہو کے اھ کے ذکر سے انی زہا نکو کت دو ے 
عحبتتکروالشد کے نی ےک۷روہ جس سےلظر تکرونے اد کے لی ےکرو۔ 2ہظر 

رجہ میلست انی لوگو ںکی مفید ے جوخودوٹی الد سنت ہوں اور جھ 

۳۸ 


رسو لکریم ا کی سنت کے ماع میں دہ خود درجہ ولایت سے محروم ہیں چا ےکشف و 
7سز 2ھ ارس رگ مرکورہ صفات کے اظتبار سے کی ہوء 
اکر چراں ےھ یکوئ یکشف وکرامت ظا ہرنہہوئی وہ ددالش کاو ے۔ (مظبر) 
اولیاءکی پان 

اولیاء ای علامت اور پیا نکی رمظہرکی ٹل ایک عدیث دی کے الہ سے یہ 
2 ےک الد تھاٹی ۰ 9 .و سے وو لوک ہیں چو 
ری یاد کے ساتھ بادآآیش اورسژ نکی یاد کے ساتھ یں باد کول ء ادراین ماج ٹل بروابہت 
رت اسائو بشت زی برکور ےک رسول ال پان نے اولیا ءال ہل بے بوان خاىٰ ءاَلَذِیْنَ 
اذا زوا کر ال مڑکیجش نکودکرکراللہ یادآۓ۔ 

خلاصہ ریہ ےکرجن لوگو ںکی صحبت می بی ےکر انس نکو اید کے ذک کی پٹ اور 
دبیاوبیگکرو ںک یکینسی ہوہ ری علامت سے اس کے وٹی الد ہون ےکی 

قب 0 

تفم رمظبری بیں ف مایاکیعوام نے جواولیاء کی علام تکشف وگ راممت یا خیب 
کی میس معلوم ہو ےکوھد رکھا سے بہغلط اور دجوکہہ ہے۔ بٹراروں اولیاء ای ہیں جن سے 
اس طر عکیکوٹی چچز غاب ت کیل اوراس کےخغلاف ا لے لوگوں ‏ ےکشف اورخی بک خی رس 
منقول میں جن کا اما بھی درس ت یں ۔ 

خوف اورم ہو کا مطلب 

بہت ےنس رن نے فرمایاکراولیاءاللد مخوف لم شرونا د نیا دشر دوڈوں کے 
لیے عام سے اور اولیاء ال دی خحصوصییت مچی سےکہ دنا میس بھی وو خوف کم سے موی 
ہیں او رآشرت میں ان رخوف مم شر ہونا فو سب بی جات ہیں ء اوراس میں سب ائل 
جنت دائل ہیں- 

۳ 


صھا دک را میس سب سے ال حضرت صدل وفاروقی دشی کہا او تام صحابو 
اون اور اولیاء اڈ یگ یز ارکی اورخو فآ خرت کے واقتعات بے شر ہیں _ 
اں لیے روب المعاٹی میس علام ہآ لی نے رف ما کہ نعظرات اولیاء ال کا دنیاٹش 
خوف وم سےحفوظا ہونا اس اختبار سے ہ ےک ہشن چزوں کے توف وم میں عم طورسے 
اٹل دنا با رےتۓ ہی سک دی مقاص رآرام وراحتءعزت و رولت مُل ذرا کی 
ہہوجانے برمرے گت ہیں اور ذرا نیف و پ یا ی کے خوف سے رپچ ےکی مھ بروں 5و 
رات د نکھوئۓ رت ہیں ء اولیاء ال رکا منقام ان سب سے پالا وبلند ہہوتا ہے ا نکی نظر 
مس نددنیاکی فالی عزت ددوات ەراحت وآرا مکوٹی یز سے جس 2 تچ 
سرگرداں جہولء اورشہ بیہا ںکی عحنت وکلفت اورررح بن ۃقائل الات سے جس سکی ودرافعت 
یش پر بان جہوں بلہا نکاعال مہ ہہوتا ےکہ 
نرشمادی داد سامانے مم ضر 
ہہ یی ہمت ما یآ اود مھا نے 
اتل شا نکی حظمت دحبت اورخوف وخثبت ا نع حطرات برای جچھائی ہوٹی سے 
ماس ا 7 وراحت ‏ سوروزباںل پرکا کی بھی حیشی تکمییں رھت ء 
تقو لفن 
7- 2 ںہو وو اگل نے 
یہاں گرا کہلاتے ہیں منزل دی والے 


شر پٹ کثبت 
۴4٭7۶ویھ پَٗ‌ہ/7 مراوئیں بلرولابیت دعحبت اورشر کا ایک 
دوسرادرجنگی سے جو ال تتعاٹی کےخص وس بنلدوں کے سا تھ اص سے یقرب محب تکہلاتا 
سے۔ بن لوگو ںکو یقرب خمائص حاصل بودہ اولیاء ال دکہلاتے یں ء جمیما ک ایک عد میٹ 
یی مین ہے :نی تی راز ےک ینز عحبادات 2ئ سڈ 
۴ 


حاصس لک تار بتا سے بیہا لیج ککہ می بھی اس سے عحب تکرن گنا ہوں اور جب ٹیل ال 
سعحخب تکرتا ہوں و پچ رطیسں 09ک 
ستماے بی ٹیس بی ا سکی کہ بن جانا ہو٤‏ دہ جو بد ڑا سے تھ سے د بنا سے ء میں 
نے رت طف دجیغ 
کوک ٹکٹ کون اورکوئی ام میرک ضا کے خلاف نین ہونا مر و اس 


رک رہ 
یں ہنس بلمہ ہرک اللد ے قرب سے ج سک یکیفی نیس جاٹی جاحق ء اللہ 
نےفرمایاہے:نسحن اَقرَب اِلْه دن حَبلِ الوریْ رگ جان ےئۓھی زیادہ ہم بندہ کے 
قریب ہیں۔ ای قر بک وج سے یکا تحات جامۂ ستقی اتی اور دار٤‏ وجود می ںآلی ے۔ 
اکر قرب نہ ہوتا ت ذکوئی وجودکی ہوجھ یکییں سوک سکنا۔ اصسل ذات کے اعقبار سے ہرز 
یست ہےء س بک اصل عدم ہکان خائ بندو ںکو ایک ہ ےکی ف قرب اوربھی حاصل 
ہے فرب محبت ہے۔ عا لم مال ٹیل اہ ليکشن کو یہ ےکیف عبت قرب جسما ی کی شحل 
می نظ رآنی سے افظقر بکا قر تلق اورقرب محبت دونوں پر اطاق لطوراشن زا فی 
کے ہوتا سے حقیقت قرب دونوں علہ جدا جدا ے۔ مخ لوگ ر قرب کے ال گنت 
خی رحروددرجات ہیں ایک عد بیث ری ہے (ائل نے فرمایام می را بنرونواشل کے ذر یچ 
می را قرب حاص لکرتار جتا سے بیہا یک ککہ ٹٹ ال سے پیا رکرن کنا ہوںء جب ٹیل 
ا کو پیا رکرتا ہہوں نے پچ راس کےکالن بن جاماہوں من سے ووسٹتزا سے اور میں ال کی 
آنکھیں بن جات ہوں :جن سے وہ د تنا ے ال خر الع بی ( ]شی اس وقت وہ جوکامکرتا 
سے و ہگویا می راف تا ے )۔ (رواہ البخاری عن ابی فریر٥)‏ 
خر بک ابنرالی درج 


انل قر ب کا ابندائی درجصرف ابمان سے عاصمل ہوجا نا ہے الد اہی نے فرمایا سے : 


ا 


الله 2۲ لن انا اورآخرکی انچناٹی درجراخمیاکا فح ےی حصہ سے جن کےسرداررسول اڈ 
پل ہیں رسول الد ےچ سے درجات نی پڈ می ہیں مج نک یکوٹی اجچناعییں_ 


کم ےکم دج 
۱ صوفیکی اصطلاج می لگ سےگم دہ درجرجس بر لفظط وٹ یکا اطلاقی ہوسا ےہ اس 
تح کا ہے ج سکا ول ال کی یاد جس ہروقت ڈوبا رہتا ہےء دنع دشام الل کا پا مان 
کے می مشخول رتا ۓۂ ارک محیت سے م شز رتا ہی اددکی و تک نس یش 
گنا نیس ہونی خواہ پاپ ہو یا بنا با بای یا یئ یا دسر ےکپبہ وا ل ےکی سے اس کو 
عبت نئیں ہوئی ۔ اگ ری ےمحبت ہوٹی ےنوس اد کے بے او رنفرت ہوٹی ےب بھی 
خوشنوری موی کےتصمول کے لیے دوس یکو ود بت سذ صرف اید کے لیے او یں دبتا 
ےتپ کیاکی می کے لیا گر دوک یآ لس می یعبت لد اہو ے۔ 
اق کا ور 
صوفی.کی اصطلاح میں اس صف تکوفنا ول بکہا جانا ہے۔ وٹ یکا اہ رو ہاش نکق کی 

سےآراستہ ہونا ے۔ جواعمال واخلاقی اللدکوناپیند میں ان سے دہ پ بیز رکتنا سے رک 
تھی ودجگی سے پاک ر جتاےہ بلکہ دہ نشرک جو ےڈ یکی رفنارکیآواز سےکبھی زیاد فی ہہوتا 
سے اس سے بتما سے ۔نرورءکیندہ صد ہہس اور ہیں سے منزہ ہہوتا سے اور انی کے ساتھ 
عحدہ اغخلاقی واعمال سے متصف ہوتا ےہ اس مرج ہکوصوفیہ فا عون س کا مرتب ہے ہیں۔ 
صوف کا قولی ےکہاس درجہ پر جب و یپ جانا ےنذ ا کا شیطائن اس کے سا سم متھیار 
ڈال دیتاے اورفرماں بردار من جا تا ے_ 

ہ رس کہ ا شاخت چاںل را چہ کن 

نظ وعال و جان و ہاں را چ کنا 

داد کی ہر وہ ا 3 

دبپائرء و ہر رو جچاں را چ کر 

۳۲ 


یجس نے تھے پان لیا ا کا ان ابل وعیال اور خاندان سےک یملق ء ودا نکو 
ےک رک اکر ےگاء اپنی عحب ت کا د لوا نہر نے کے بعد ار دونوں چہاان د لوا ضعب تکورے 
تہ ۔(تخیرظبری) 

حخرت ائن گمرٰنے فرمایا کی بی ےکم اس ےکوی سے مبخر نہ ھو۔ ححضرت 

ہوتت سش تد 
ایک مرفت تام ہے۔(میرنفری) 

ظالَدِیْنَ امَنُوْا و کالُوْا یتقُونَ ‏ لی ککہابمان لا ۓ اورڈ رت رے۔ 

اولیاء ار دک نتمریف 

بی اولیاء اللہ“ کی تریف فر ماگ ی ییحی مین ضسکی اللرکا وی ہہوتاے۔ یی ےکئی موائع 
ہیں معلوم ہو کا ےک ایمان ولتق کی کے ببت سے عدارن ہیں ٘س دج ہکا یمان د 
آڑ ۳ئ ور کہ اق دض رلک۷ اک ھا کت کر کر 
شس طرں ٹا یں ٹیں روپ ےگھی مال ے اور چیا سس ار ددبرار لاکھ دو لاک رو ہے 
بھی یکن حرف عام شیش دس ٹیس دو پے کے ما لی ککومامدا نی لکہاجا:تا۔ ج بتک مھت ہہ 
گال وفممرزیو ئل گر کجتھو کل مض سو 
واا کا شعبہ سے اوراں حیثیت ٣4+6‏ ۶ھ" کبلا ۓ جاسکنے ہیںء 
مین عرف میں وکیا یک کہا جانا سے جس میس ایک نماض اورممتاز درجہایمان ولَقةب یکا پایا 
جانا بوءاحادییث میں رٹ علا مات دآخاراس ولا بیت کے ڈکر سے نے ہیں ملا ا کو کت 
سے اللہ اد نے گے یا ا دک نخکوقی سےا نکو بے لوت محبت ہو۔ عارشن نے اپیے اتے 
نراقی کےموافن نو لی“ کی یی ںکی ہیں ۔(تقیرغن) 

قائ ر شک مربہ دا نے لوک 
ااودا ود نے ححضر تعجر بن خطاب طول کی 7 یھو ےک رسول الد اتا 


۳ 


ك۶ 2 0و 0 
کے دن الع کے رت قر بکود مک اخویاء او رشھراءالن رشن کک می گے۔ حا ہہ ن عون 
کیا ا رسول ال کی الل علیہ وسلم دہکون لوک یں؟ فر مایا جھ بنلرگا تن ےگ الد کے 
لیے محبت رکتے ہیں آلیں میس شہا نکی جام رشتہ داریاں ہیں شہ می لین دینء 2ک 
.2 وجہ سے ای ککودوسرے سے عحبت ہو) ایک یم ان کے چرے 
(قامت کے و نمم) فور ہوں کے پالاۓ ور۔ جب اورلوگو ںکو(عزاب ) کا توف 
ہوا ا نیکوخوف نہ ہوگاء جب اورلو کم میں تا ہوں کے و ہین یں ہوں ےک رپ 
پا نے رآ بیت حلاوت فرماٹی: 
ا ام اَولِيَءَ لها وت عَلَيْهم ولا مُمْ رون 
حول واایت کے ذرالٌ 

مرج ولا بی کا تحمول رسول اللہ جلاٹاکی رذ اندازی سے ہوتا سے خوابگس رسالت 
0 چند واسطوں ے۔ رسول ال ہلا تم 
ناتوں سے عحبت اور ا نکی مین داطاعت حول ولایت کے لیے ضروری ے۔ رسول 
ال ےا کےقلب من اور کا نک وٹی کےفلب ہتقا اب اور یم پران ہی دوول اوصاف 
کیا و سے چڑھ جانا ہے اوربچی صبۃ ال سے جس کے تق فرایا:صبْفَة اللّے وَ مَنْ 
خسن مق ال صْفة عم لق نون کے مطابق ذکر اید کٹ تکس پذ مکی کے لیے 
رمرول یت ان ے و لکا تل دور ہو جات سے اورآ ین تق بکی 07 لئ 
پذ مر کی صلاحت بڑھ جاٹی سے ۔رسول الل نے فرمایاہر نکی بھعائی ہوٹی سے اورول 
کوما نگئے والا اکا کہ ے۔(رواہ البیھقی عن عبدالله بوھرن و الگا 

امام مال ء امام اجماورتایٹی نے حفرت معاذ بن ج لک ردامت ے :یا نگیا- 
حطرت معا نے فر مایا یش نے خووتضمور لے کو بفر ماتے سنا کہ اللہ نے فرمایا: جو دوآ دی 


۳۴ 


ےک اھ و کر اس میریے کا نکر منوس مر کے کے ین 
ان سے می ریی عبت واجب ہو جا یٰ ے۔ 
حب تکا فانندہ 

تن بن تزع کی وت ےآ ےکک ےرت 
گرا ئی میں حاض موک شکیایا رسول ارڈ ےا تن کے تا نآ پکیا فرماتے ہیں جو 
می قوم سےعحبت درکتتا ےگمر انس قوم کے ل کک ان سکی رسائی یی ہوک ؟ فر مایا آدٹ یکا 
مرا نی لوکوں کے ساتھ ہوگا جن سے اہ ںکویحبت ہوگی ۔ رسای نہ ہو ےکا مطلب ىہ سے 
کم ہاش کےہمل اس قوم کے اعم لکی ط رح نہ ہو کے ہوں ۔ بین میں حضرت الم کی 
روایت گی ابی بی عد بی آ لی ے۔ 

اروالو ںکی صحبت 

ای نے شحب الا یمان می سککھا ےک ححخرت الدرذ بی نے بیا نک اک رسول ال 
ےا نے فرمایا :یس گے بناؤ ںکہا کا مکا عدارکس جزپہ ےجنس سے ھے دنا اورآخرت 
گی بھلاک یل جاے۔(ھدا ریہ ےکہ) ابی کرک منامموں میں حا ضر کی پا بند یکر اور 
تھالی ہون ہا ںکک ہو کے الد کے ذکمر سز جا کو پلاتتا رہ اورالڈد کے وا سے حبت اور الد 
کے وا سن نفرتتکر( یتح ارڈ کی خوشنودبی حاصص لکر نے کے لیے لوگوں ےمحبت وعراوت 
رکوہ ذاٹی خر کوٹ ہو 

امام امراورابودا و نے ححضرت ابوذ رطلندکی رواایت سے بیا نکیا ےک رسول اللہ 
لا نے فرمایا الد کے نز دیک سب سے پیاراشل بہ سے کہ ایل دکی خوشفودبی کے لے عحبت 
اوریٹنخ سکیا جائے۔ (تخیریظبری) 

ای رکاشحبو بکون ے؟ 
اولیاء ٹیش یک جماعت ال دک ینحبو بیت کے درجہ پرکھی فائز ہوچاٹی سےں سم نے 


۵ 


جحظرت الو ہر کی روابیت سےلھا ‏ ےکہ رسول اللہ لالانے فر مایا اللہ جب نی بندہ سے 
عحب تکرتا ہے ج رت لکوطلب فر ماک ریم دیتا ہےء میں فلال بنلدہ سے عحب تکرتا ہوں :بھی 
ایس ےعحب تکر۔حسب اکم جرب اس بنرے سے پیارکرنے گت ہیں پھر جی نت ی1 سمان 
پر (ائل سماوات )کوندا د نے ہی ںکہ الشدفلاں بنرے سے عحب تکرتا ہےتم بھی اس سے 
حب تکمروءتصب الارنشا دائل سماءاس ثحب تکر نے گے ہیں۔ 

پچ رز مین واللوں میس ا سکومتبولیت عطاککردی جاقی سے اور جب الل سی بلرے 
کر تتکرنا ہے جح کوطلب راک ریم دیتا سے میں فلا فص نے نفر تکرتا ہوں 
نبھی اں سے نف کر رب اکم جج ربیل اس سے اف تکھرنے کے ہیں۔ پیل رآ سماان 
والو ںکو ج تل نداکرتے او رککتے ہیں : ایل تی فلاخ ےق تکرتا ےنم بھی انس 
اف کرو نان وا نے انس ےنکر نے گت یی ء یز مان اون بین ا 
حافرت پیداکھردی جالی سے اورز ین وانے اس حےلفرتکر نے گکتے ہیں۔ 

اولباءالکی علاما تکیاٴں؟ 

رعول اللہ جاٗڑئا سے در یافن تکیا گیا اولیاء ال رکون ہوتے میں؟ رسول اللہ ےا نے 
فرمایا: الد نے ارشادفرمابا: میرے بندوں میس میرے اولیاء دہ ہیں شک نکی بادمیرے ذکر 
سے او رم ری ادا نکا ذکرکرنے سے ہوٹی سے۔(بفی) 

عضرت اسما مآ بعت مز بد نے رسول الد چےناکوفرماتے سن اک سنو کیا ان مم کون 
تاؤ نم قب سے اہین ےکوان لوک ہیں؟ ھ۸7 ا رسول ال" یل ضرور 
فرماچے۔فر مایا ش نکود یھن سے اللہ یاد تا ہے (رداابین ) 

ولاءکی جم سینی ری جم ہی سے 
ل رےکےلانااکے قرت او ےکن عبت اض ول ہے 


ای جہ سے ا نکی پھم بن یکو یا یدک بھ مینی اورا کا کی یاددلااے والا اورا یکا 
٦‏ 


ذکر ارد کے ذک رکا موجب ہوتا ہے۔ ال نکی مثال ابی سے جیسے سوررج کے سا رکھا ہوا 
ور ران ےکا ئآ جک تی سا سے 
انت اس زی :گی سے دہ جن ھی ریشن ہوعائی ہے پل اگ زوئ یکو ںآ نے کے سیا مے 
زیاددقریب رکھا جا نے آئینہ کے قر بکی وجہ سے روئی جل جالی سے اورسوررج چون دور 
ینا سے اس لیے وعوپ میں روئی نیس جلقی۔ ایک بات بیجھی ےک الالد نے اولیاء الد 
کے اندراش پڑ وگ اور اشراندازیکی تو کی طابت ری ے۔ الد سے قرب اور ب ےکیف 
مناسبت رک ےکی وج ے اولیا یں اش کیک صلاحیت زیادوقو کی ہوفی ے اورجنسیتء 
نوعیت او رتخصیت کے اشترا کک وجہ سے دوسرے ع جس ء جم فو اورمناسب ا" 
افراد پراثر اندازئیکی استعدادجھی ان میں قوىی ہوٹی سے بچی م شر وہ خی انل اس ا مرکا 
باعث ہہوتا ےکا کا تحضمورء اڈ کے سان ےتضسوری یکا ذر ہاور ا نکود پلمنا اوران کے 
ساھ یھنا اڈ کی بادکا موجب ہوتا ےم رحشرط رہ ےکمرد یھن وانے اور ٹیٹھے وا نے کے 
ول میں ابکارتہہو(مگرو ںکوکوئی ٹین وص ل ٢ں‏ ہنا) رَ اللّۓے لا يهّٗدی القُوْم 
لقن ادا یمان داطاح تک عدود سے پا نگل جانے والو کو ہدای تی سکرتا۔ 
اٹروالوں سے وی ال سے خی سے 

صولالل لاک ایشاد ےکی اپٹرنےفرباا جس نے میرےولی سے ہش یکی یس نے 

او( قارف سے )جج کا ۱ یم دے وا ہے۔ (رواہ ایا یمن اپ ہریة) 
ہروقت حالت اب پیم ی میں رنتی 

رت نظطلہ دیلادنے عم سکیا :با رسول اللہ لان اجب متضور کی خدمت میں 
موجودہوتے ہیں اورآپ (دوزغ اور جن تک ) پ مکو یاددلاتے ہین گویا ہم ان یآنگھموں 
سے جنت ودوز کو وھ لیے ہی مان ج بآپ کے پا سے لئ لک ہم باہرجاتے ہیں 
اور وی پل اورزنیوں کے ھڑروں سے0 ہہوجاتے ںو بببہت یھ( جنت دو 


ے۲ 


کو) بھول جاتے ہیں ۔فرمایا:شحم سے ا سک جس کے ہاتجھ بیس مرک جان سے !گر ہر 
وقنت تم ای حاات پررہہوء ینس عاات پرھیہرے پا اورمی ر ےٹم٦بح‏ کر نے کے وقت ہوء 
فرش تہارے بستروں پر اورتہارے راستوں میقم سے مص فہک مجر ہظطلڈھھی بھی 
20 تے ( ا تو زا وت ایک ٹیو ببیت کا وفت ) ے الفا حور ول ےے مین عحہ 
رر ےت 
کشف وکرامت 

عام لو کسکشف وگ رام تکووڑا بی کی تص وی نشاپی یکن ہی ںگر بر فلط ے۔ بہت 
سے اولیا مءکشف وکرامت سے نما لی ہوتے 0 ۷ ي9 
اولیاء کے علادہ ھی خرقی عادت اوراککشافجچی پایا جا تا ہے۔ (اس لی کلف وکراممت 
معیار ولا بی ت نیل ے۔ اگ رٹتض اولیاء سے انفا ہا کشنف وکرام تک خہور ہوجا ۓ تو اس 
سے مہ ن کبھ دنا جا ہ ےک ہکشف وکرامت معارولایت ہے اید نے ات رسولکرم چا 
توخطا بک کےفرایا: قُل إِنمَا آنا بَشَر مَقلكُم يُوطی 7 لا 6 ط۱ وھ 
سوا گی کہ می تم جیما انمان ہوں ( گر مھ را تیاز ہے ) ھیرے پااس وی آلی ے۔ 
دوسرکی ٦‏ خطا بگ۷ر کےفربایا:ل و نے الم الْغیْبَ لَامْتَکُفْرْت مِنَ الْعَیْر وم 
می الو ارم سغیب داں ہوتا نکش رپھلاکی یٹ اڑا اور براکی مجھےگھوکھی نہ 
انی ۔ ایک تاور خطاب فر مایا ہے فل انا ایک جن اللہ آ پکہدد ہے ہزات 2 
اش کے شض میں ہیں 

صوفیا ءکرا مکا ٹول سے کرامت تو ممردو ںکا تی ہےء ا ںکو چھہانا بی ضروری 
سے ۔کمراص تکی وجہ سے ایک ول یکوووسرے ولی رفضیل تکیں ہوٹیءىی لیے من اولیاء 
کے ہاتھوں سےکراما تکاظپورزیادہ ہواا نکواپنے ا پل پرندامت ہوئی- 


۸ 


ادلیاء کے لے باریس 
طإِلَهُم الَبُشْری فی الْحَیوة الدُنیا و فی الأخرةک 
ان کے لیے ہے خ ری دنا کی زنگاٹی میس اور خرت میں ۔ 
اولیاء الد کے لیے دنا مم سکئی طر کی بارش ہیں ملا جن تھا لی نے اخمیا ءکی 
زہان جوا ححوف عَلَیْهمم دنب ر کی بثارت دی ہے فرش موت کےقر یب ال نک کے 
ہیں اَبْشِرُوْا بالْجَنة لی کشم حون (م دہ روم )یاکثزت سے سے اور 
مارک خواب ای نظ رآتے ہیں با ا نکی ذبدت دوسرے بندگا نت نکو وکھائی دپنے ہیں 
جو عدیثٹ جن کے موافی نبوت کے پچھ الس اجتزاء یں سے ایک جتزو سے۔ یا ان کے 
معاملات می الدکی طرف سے نمائ ش مکی تا خی د اداد ہوئٹی سے پا خوائص میں او ھی 
خوائص سےگز رک رعوام می ںبھی ا نکومقبولیت حاصل ہوٹی سے اورلوک ا نکی مرح دخٌاء 
ول رج کرۓے رو رت فل تارج مھ مو ےت 6ر کر 
اٹ روایات ٹل لَهُمْ البْشْری فی الْحَیلوۃ الأنیا یی ررویاۓے صلی س ےکک 
ہے۔ واد ایم !رہی بشارت اخ وکیء ووخودق رآن بی منصول ے بُشركُمْ اليْومَ جَنْتٌ 
ری و فیا الانھزاورحریٹ مرکھی خی ول ے۔(تخیرجل) 
ابچھاخراب بشثارت ے 
عديیث یل ےک نبوت نشم ہہولی الہ نو تکا الیک جزء مج ردیاۓ صا مہ بای 
روگیا ےک ہآپ کے بعد قیا مت ککوکی نی نی گر ارشر کے دوستوں کے لیے وگ یکا 
ایک نمونہ ہنی سا خواب باٹی رگا ےک قیامت تک نے وانے مو مین صا نکو جے 
9 2 ر ہی سگی۔(گر۔ت. ٣ض )٤۰۵‏ 


۹ 


وَمِنَ اکر حَمْذ الله عَزَوَجَلَ 
٦‏ بابُ: إِنٌّ عَبُدِی الْمُومِنَ عِنْدِی بِمَنْزِلَةِ کل عَيْر - 
اب :رتلھز تک جاب یو کا رج دای شر دچھلائی سے 

۳) عن أبی ھریرقئلہ قال: سمعت رسول الله یقول: 

٣ى‏ ال عَرَرَجَِل یَقُوَلَ: إِنٌ عَبّدِی الْمُوْمِنَ عِندِیْ بِمَنْزِلَة کل عَبْر 
بَعَتَاتی راتا ازع نَفْسَة مِنْ بَیْن جََبَيْه [صحیح] رأخرجہە أحمدج ١۳/۱ے‏ ۸۲) 

مین کے لیے ہرعال میس بھلاٹی ے 

( ۳۹۳) تن جم : حضرت الہ ریر :لاہ سے روابیت ےء میس نے رسول الیل 
لن کو کت ہوے سنا بن ہل مر ارشادفماتے ہیں : یرے بندة مین کے لیے ہرعال 
بس تر و بعلاکی ہے دہ میرک مد وتریف ب یک رتا ہے حا لانمہ مس ا کی جا نکوااس کے 
پہلو سے کالما ہوں _ 

بنا موک نکا معاملہ ہرعال می تج ری تر ے 

)۳۹٤(‏ عن آبی هریرة ظللہ عن اللبی َة قال: 

”قَال الله عَرَوَجَل: المُؤمِنَ نی بِمَنزِلَة کل خَيْرِیَحَمَدُنی وَانا 
زع نَفْسَة مِنْ بین جَتَيْه ٭[حسن] (أخرجه أحمد ج ٢ص )۳٦٣‏ 

 )۳۹۴(‏ جج : حرت الومررہ ضطافنہ سے دوایت ے الد کے رسول اتا 
نے فرمایا: جن مل مجددنے فرمایا: معن (بندہ) ہرعال یس اللدتعال یکی طرف سے خر 
وچعلائی بر ے۔ بیس مقررہ بدت پور ہوتے بی ا سکی رو بکال اتا ہوں اور وہ ال 
عالی یش مب رئیچ ورای فکرتاے۔ 

فامد٥:‏ حعدیث الا جس جن ہل میدہ نے اپینے من بن ےکی بی فکرتے 
ہے جات مان فرمائی ہے 3×س ےکن ون ےکا چھلا گی اوا نافع ال بات شش 

سک 


ےک ودتوں شک راو اکرتا رے؟دیادکی زندگی یی ہہودت ہی رو ںیل کے جانے بر 
و اککرے اورمخیبت لی کے سا نے تسلی رک مک رورے۔ 

یہ پا قش ای ہیں جوسراس شا ن عبد یت کے مواشنی ہیں اوح رکا شمارن اع در ہے 

ک یما لعبدیت یش سے پی۔ داد الم ! 
من ہرعال بیس خر بھلاٹی سے 

(۳۹۰۵) للحکیم عن ابن عباس‌ظلہ وعن بی ھریرۃظللہ: 

”َال تَعَالی: إِنالمُومِنَ ميَی يَعُض کل خَيرٍ نی أَترعٌنَقْسَة مِنْ بین 
جَيَيّه وَهُوََحْمدُنِی. “ [صحیح] (کما فی کنزالعمال ج )٣٦٦۹٦/٣‏ 

(۳۹۵) : خرت ائن عحپاس تا سے رواحیت ‏ ےکمبتقنی تتعالی نے فرمایا: 
من (بندہ) ہرعال می الد تا کی طرف سے خر دکعلاکی پر ہے۔ میس مقررہ مت 
ری ہوتے ہی ال سکی روں پکال لیا ہوں اور دہ اس عال بی می کیج ول ری فکرتاے۔ 

شا نالیم درضا جرکا خوگر بناد تق سے 

جن ہل عجدہ جب اپ ےکی بندہکومق رن بارگاو رٹ العزت کے لے ختجب 
"ت0 ہیں نے بچھ را سکوشان عبودیت کے مظام پر لانے کے لی کئی طرح کی تحیلیات و 
اثوارت کے یش ک نزول فرماتے ہیں اور بنلد ہکو شا ن تسلیم و رضا کے اس رنہ پر لاکھڑا 
کرت ہیں جہاں بندہ یرم پارکیکابی فضان ہہونا ہے ہگاد رب دو جہا لک جانب اتک 
جائی ےہ غی رکا دھیان و تعن بیتتم ہوجانا سے حالات برنظ ٹیس جاٹیء ناز لگ سک 
رف سے ہورہی ے ءا ططرف نوجه روز ہوجالی ے اورالرًے حالات می تم کا ز پان پ 
جار ہونااصل تر من ایا نکی دبیل سے اور شییوہو موی نکامیش نکا سے ۔ت رآن یر یل 
ار برق گل عیدونے اپنے مق ٹین اورمھوی نیکوم اعم دی <َسَيَخْبِحَمُد رَتَک)ہ 
تن نا کیج تہ کا مخفلہ کیا ۔ یو ںکھ یکہا جاسکنا ےک یک مین کا وخیف ہب یح بقمید 


۵ 


سے۔حدربیث بنا ری ےکرعالمتخز می بھی جہ عادہا انمان ہویش وحوا سکھود ینا ے ء 
اس وقت کات م کا القا ہو امت ینیم سعادت ربالی ےک متضورقن مس حاصضری ہونے 
ایا ےجس کے پا جار ہاہے اک کیج کے سا باد اب ہور با ہہ باب دن اوج کی 
ثہادرت 272 بنارکرر پاے او رآخر تکا 9ھ و 00 
ای کے پا عاض ہودہ ہے ۔ دہ اپ کلام فی جس اطلاع دے دبا ہےکہ اس طرح 
من ہ رخ رو بھلائ کیٹ لوا سے جا تی زن دی کےۓحھات ترک وچچوڑ تا نہیں بی و کی 
سے ججوعبد یت کےکمال لی عرو نج کا اہ پبندد یا سے۔ مو لا نا اج نے خو بکہاے: 

یی رے یراع : ہل 

ہے سے 21 زندگی ک ان 

تن 

کر جا روں کی میری شا 

آتمد ہکئی عدنشی ںآردی ہیں جن میس آپ بخور پڑعمیس ےکہ بندہ اپنے زبان 

سے ناکما تم تضمورفن میس اختزافعبد میت اور اق رارر بو بی يکہری ؛خظمت وجلالي 
کی ریا کے اظہار کے لیے میا نکرتا ہے اور کو بارگاو رٹ العزت میں بی مقام متا سے 
ک بین انی الف اکوکدلیا جا جا ے اوراجر وو ا بکوظا ہ رج یکنج سکیا جانا ےکیوکلہ نرہ نے 
بس خاریش دل او رطہہارت لب اورحظشت وامیک و رب تا رن ئ"ء"۷"ھئ 
کی ہے ان جذ بات اط کو تعالی کے سوا چھلا اورکون چان سکتا ہےء اپ ا ال کو عام 
میزاان ونفانون سے تہیرہ و جدا رکھاگیاء اورد لک امنک اورعپریت میں ڈوہے ہو ئے 
عکما تکی ق رت ای شا ان شان اجرعط اھر ےگی۔ وادل الم ( نین ) 


"۳ 


کے اش رون ظاحتت 
(مسلمانو ںکی محفرت رسای ش ریعت بی بدرترین جم سے ) 
وَعَنْ عَبْد الرَّحسيٍ بن عَنم و اَسمَاءَبنّتِ يَوِب ا الٍَیٌ صَلَى الله 
َلیْه وَسلَم قَالَ خِبَار اد الله لِّينَ اذ رو ذکر اللهُو هِرار عبادِ اللہ 
المشْاونَبالسْمیْمَة المْفرَقُوْنَ بن الحتَة الباغُونَ البْرَءَ اعت 
(رواہ احمد والبیھقی فی شعب الایمانء مشکوٰة ص٤٠١٦‏ ء 
ورواہ ابن ماجه الجزء الاول کمافی المشکوٰة ص٤٢٦٣)‏ 
ترجہ : عبرالرنین بن تفم طلہ داسماء نت بز یڑ سے روابیت ےک رسول الد چا 
]ےر یا کے ما ناف خر تۓے ولاک ہیں مجن نظ ربڑے و فور الد یاد 
آجاۓ اور بثرولں سب سے بدتر دو لوک ہیں چو دوسرو ںکی تفلا ںکھاتے پپھرۓ 
جس اورمخس دوستوں کے ورمیان تف لی ڈاتۓ ہیں اور ےمناہہو ںکومصبییت میں 
پچھنساتے رتے ہیں۔ 
شر :جب مین کےقلب می سک ارک یب ہکا اللہ ال ال کی برکت ے اللہ 
تال یکی ذات پاک کےسوا اور چچھ اتی ضر ہے اس کے چچچرے پرفظ رپڑجانے سے اگمر 
اللدتی یاد نآ ۓ نو اورکیا ہو۔ تچ محرتثعبدائن دبلوکی رحم راید نے اپنے ز مانے می یک 
اشن کا نزک ر+کیا ےج سکودکمےکر بے ساختزبان سے لا لہ ال اللہ نل جا:ت تھا۔ 
خوداا ستقی رن بھی انس صفت کے ایک صاح بکودریکھاے و کات سی 
ڈلک۔ 
خر ات علماء ای کے سا تج بای ااعدیث لا یَزَالْ الْعَبْد يَحَفَرّبُ إلَیٗ 
بالنوَافل کوا بتک برک رجلئی چا ہے ا سکی شی سک لیس اوراطف انروزہوں_عوام 
کے جم سے بالات ہون ےکی وجہ سے اس مع کی شر ںککرنا نامناسب ہے۔ صصرف اس 
تق کا اصسل جلو ‏ آحضرت سرو رکا ات صلی ال علی بی مکی ذات می نظ رآ تا کے 


ار 


ھی لوک ایی ےگمز رے ہیں جوآپ چقاکود بنا د کنا رصر فآ پک صفا تک نک رآ پکا 
کہ بڑ حن گے اورجخھوں ن ےپ کو یمان کے سات ای کفکنظ رد مک لیا ا نکا کیا ہنا وہ 
ٹوا ین یلا ححابیت کے بدارع سے شرف ہو گئے- 
خوشا تعیب اس امم تک ہم سکواس ہرذ ا رکا اتقاسا قتطر ہآ نج بھی نحیمب ےک 
یکفت وشنید کے بفیرجہاں ان کے چجرے پرنظ ریپ ئی ای وقت دل مس یادال یک می 
کون دگئی۔ ان الا یہام ت گج گکیا اشرف امت ہے۔ بقبہ بھی اگر چےشرح طلب 
گر یہاں ال ںکواخنقما را تر ککیا جا ا سے۔ لوک صرف 7 جمہ ورک کے اس وبا ام 
ےپ کا ]2 ارکپادالثد ٹل را لد ہوں مہ تا 
اب : مَنْ قال: : اَلْحَمْد لِله عَمْد حَمٰذا کَِیْرا طیبًا 
اپ :جس نے العمة ہڈا یڑا اکا 
(۳۹۲) عن انس ظَلہ :ان رسول الله کان یصلی فُسَمع رجُلا یقول : 
اكف ل22 2 6ت فاز غاق تنا تھی ام 0ال 
”کم لْقَابل کَيِمَۃ كَذَ کدا فازم الوم تی فَالَھَا تَلَانَا فََال 
رَجُل: ا قُلَّهَ یا رسُولَ الله وَمَا اُرذث بھَاإِلاالْحَيْرَ َال رَسُوْلُ الله صَلّى 
اللَعَلِیْو رَمَلم : لَقَذ رَأَيْت اَی عَشَر مُلگا ابْمَدَرُوْمَا ختی رَفَمُْمَا فَقال 
تبَارک و تعالی: اَكَبُوهَاء إِلا انهُمْ سَالوْا رَِهُمْ کیٔف يَکتبُونها فَقَال اكتبُومَا 
کَمَا قَال غَبّدٰی.“ [صحیح] (أخرجہ الطیالسی فی مسندہ )٥۰۰۱/‏ 
ےترڈ یْرًا طِیْبَا مُا رکا فيْه 
(۹۹ہ) 7ے رت ک ے روابہت سے ء رسول الد ےا نماز بڑھا 
رسے تو آپ ن ےکی متقندکی سے سناء جورکوغ سےکھٹڑے ہوتے وقت وع انت 
ِمَنْ حَمدۂ ےج اَلْحمْذ لِله حَمْذا كَييْرًا طَيَا مارکا فی ہم یکہا۔سلام کے بعد 
۷ 


رو المد جا نے معلو مکیاکہ پیر ےکا زاب کے سب نے خا موی لگادیی۔ 
اس با تکورسول الد لا نے خشلن بارد ہرایا۔تیس رک بار ایک صا لی نے عو کیا :میس لن ےکہا 
ہے یا رسول الش رادرس نے فو ا سکمہ سے خر وکھلاٹی بی جیا ہا۔ رسول الد نے 
فرماا :یٹس نے پاروفرشتو ںکود یک کہ دہ ا سک کون تھالی کے پاس نے جانے کے لیے 
یہ یہا ں کم کک ا سکوتضموریتی میں نے سے ون بل مجر نے فرمایا :ان ںکولگ یلو تو 
ھوں نے سوا لکیاکتتا فا بکھیں؟ تو رٹ العزت نے فرمایا ہت ا یک کولکیرلو( مجن 
اس کا ٹا بت نالی خوددی دیس گ ےک کمن اب دبا جا )۔ (اخرح لطیالی نی منرم/۱١٠٥)‏ 


بی طر حآیوا وس طرں بندہ ن کہا 

(۳۹۷) عن انس طلہ قال: جاء رجل إلی النبی 8 فی الصّلاة فقال: اَلْحمْدٴلِله 
حَمدًا كَیرًا طَیّيَا مُبّارگا فِيْه. فَلَمَا قَصَی التبى ة الصّلاة . قَال: 

”َيكُم الْقابْل كلِمَة کذَاوَ کا“ 

ال: فأرَمٌ اَم قَالَ: فَأََاكَما فَلاث مَرّاتِ. َقَالَ رَجْلْ: نا لم 
ا أرذث بھَاإِلَا الحَیْرَ. قال: فقَال اللبیٔ : 
رَنَهُمْ عَرَوَجَلفَقَالَ: اَُبُوّما کُما َال عَبِّی.“ 

[صحیح] (أخرجه أحمد ج ٣‏ ص )۲٦۹‏ 

(رے۳۹) 7م : حضرت اس جلد ے روابہت ےک ای کس می ال بل 
کے پاس الم تما زآۓ ( ]نی رسول الد چلےٹغماز میس تھے ) ا ننس تن ےکہا: الم لہ 
تما کیا بَا مارکا یہ جب رعول الل قافن نماز ور کی نوف مایا سآ دی نے 
ووگرات کے ہیں؟ ت سب کے سب نمامشل ر ےا تین بارآپ لا نے سیوا لکیا۔ نو ایک 
آ دی لن ےکہا: یا رسول اید چا ئٹس ن کہا سے اورمبرا مقصر رج رپی تما رسول الد جا نے 
فر مایا: اس کو لیے کے لیے پاروفر شت لیک ہما نکو پینئیس تق اک ا سکاکننا فو ا میں نو 


۸۸ل 


اش رٹ العزت سےسوا لکیا۔جواب می جن بل مرو نے فرمایا: ا سکواسی طر ح لکیہ لوبٹس 
ا و ا ۶۳) 
رھت ںکوییں ممعلو مک ہا سکا فو ا بکیاے؟ 

(۳۹۸) عن انس گل قال نت جَالِمًا مَعَ رَسُوْلِ اللہ : فی الَحَلَقَة إِذ جَاءَ رَجْل 
قاط انی وَ عَلَی الَقَوْم فَقَال: السُلامَ عَلَيْكُمْ. فَقَال ابی و عَلَيْكُمْ السّلام و 
فا 727 تھاع 0ل لعل سشناض تھا ظا پت خاّت :کت 
وَيْرّصی. فَقَالَ لہ البیٰ 8: 

7 لَُذِیْ نَفُسِی بيَدُوا لَقَدٌ ابْتَدَرَمًا عَشرَه تاد کُلهمْ حَرِیْص عَلی 
ان يَکْبُوْمَا فَمَا فَرُوْا كیْفَ يَكُمبوَمَا فَرَجَعُوْا إلَی ذی الزَةِ ءٍ جَل ذِكرٰهُفقَال: 
اَكْتبُوهَا کُمَا قَال عَبدِ.“ [حسن] (آمخرجہ ابن حبان فی صحیحہ /ںۓ۲۳۳ موارد) 

(۳۹۰۸) 7م : اس حول جن مالک سے ردایت ےکم رسول الد چپ کے 
سا ای کیجاس میس ٹیھے ہو تےک ای کش سآ ے اور نی چڈےکواورقو مکو السا می مہا۔ 
رعول الد ےن نے نرمایا :یلیم السلام ورتمتۃ اد برکاند۔ جب و ہآ دی می گیا الْحمْة 
للل ما کبزا یا مَا نا یہ تما یُجب رَکنا ری کہا تق رسول الل چچالانے 
ٹرمایا: 

اس ذا تک اش جس کے قض قدرت میس میری جان ہ ےت کہ دوس فرخت 
گے اس امیر یرک ا سکا ٹا راگھھیں برا نکومعلوم ینوی ق کہ ا کا ٹا بکیا ےن 
ہے گےسپرت لعزت کے پااس گے اور ت کیا : رٹ الھا من ! اس کا تا کیا 
یں ۴ن تعالیٰ نے ارشادفمایا: الما تکو ہی لکیہ لو ییے ہترہ 772 سے مجن 
الَْمْذ لِلَه ححمٰذًا كیا طَیَا مَارُگا فیْہ کمَا یُحب رَبَا حَمْدَه وَیتَغِيلُ اور 
و سی کغاس رض 


اھر 


رع فان 976 ررے 

(۳۹۹) للبخاری فی الضعفاء عن ابن عمرظلہ: 

عن رسول اللّه هٛ قال: 

”مَْ قال الْحَمْۂ لِلَه رَبَ اعَالمیَْ ححمٰذا كیا طَيمَ بَا رکا یہ علی 
تل ححال حَمْڈا بُوافی یَعَمَۂ َبُكافِی مَربكه نَلاك مَرَاتِ ء لتقُرْلَ الفَطَة 
کو 0ات اک 2 فیک ر76 کت 
کہ قیُوُجی الله الَيهمْ اُن اتوه کمَا قَالَ عَبْدِی.“ 

[ضعیف] (کما فی الترغیب ج ٢‏ ص٢٥۷)‏ 

(۳۹۹) کر جم : حطرت ام ن عم راد سے روایت سے رسول الشد ج نے 
ارغ ا انح 

اَلْشۂ لِلَه رَبَ العَالَمیْنَ حَمٰذا را طَیب مُبَارگا فی عَلی کل ححال 
حَمٰذا یُوافی یَعَمَ وَيْکافیٗ مَرِيْنَهُ ۱ ۱ 

(تا متحریف ہے الل کی ج پا والا سے سارے جہا نکاء بہت زیاددأریفء 
اک اویشس میں برکت ہو ہرعال می٤‏ ا کی اببی ج جوڑھمتو ںکاعن اداکردے اور چھ 
یں م زیر لے والی ہیں ا سکوکھ یکانی ہو۔) 

تین بارپڑ تھے گاءفو محافظ اعمال فرش سے ہیں :ہعارے رب ! چم ال ناکما تکی 
ط1 وفیقت ے ناوائف ہپ کے ےآ کی تو تی کی ےہ 
اورگہیں بھی معلو می ںک ہم اس کا فا بکتالھییں؟ من بل میرو نے وی ناز لک کہ 
ا نلما تکو ہلگ یلوج رع میرے بندے ن کہا ہے۔ (اتخیب؟/۴۷ء) 

ِ شے پر بات بت دشوارہوئی 


)٠٠٤(‏ للطبرانی فی الأوسط عنه(سلمانظلٹ: 


ے۵ 


قال رسول الله ٰل :قال رجل: 


”َلْحِمۂ لِله قیْرَا۔ فَاغظمھَا الملکٔ أَن يَكتَهَا فرَاجَ بَا رب 
َررَجَلَ. فقالَ: ھا کمَاقَلهَا عَبِیٰ کَْیرا۔“ 


[ضعیف] (کما فی مجمع الزوائد ج ۰١ص٦۹)‏ 
(.مم) ےے حضرت سلمان حتلند سے رایت ہے رسول اللد پا ےرا 
1 ا 7٣۲‏ ھھھو" ۔اللدکی بے را نگنتنھریف سے ۔فر مھت پر 
بی بات بہت ایا چھارگی اوردشوار ہو یمک ا سکوس طرح کے فو فر ھت نے رٹ العحزت 
گی ہارگاہ یں رجو ںعکیاکرکس طرح کے .جن بل میرہ نے ارشادفر مایا: ا سک کو اسی 
رر حآگیلوج٘٠س‏ طط رح مہرے بندہ ‏ ےکہا ہے( الزواتر /۹۷) 
)٦٤(‏ روی ابو الشیخ وابن حبّان من طریق عطیة عن أبی سعید ظلہ مرفوعاً. 
<ذًا قَالَ الْعَبْة: الم لِله كَیْرَا۔ قَالَ الله تعَالی: اَکُْوَا ِعَبْدیْ 
رَحَْمَیِیْ كیْرًا. “ [ضعیف] رکما فی الترغیب ج ۲ص 2۵۱) 
)٥۴۱(‏ 7 جم : حضرت الوسعیر ڈیلدہ ے م رٹوم روایت سے جب بنا ہکتا ے: 
٦‏ 0-. “"-.ھ زا تھا یکی بے را نگن تک ریف ے )اید تھا لی فرماتا 
سے ظرے رک لیے مکی رح تکھی ے حا را نگنت کیو( التر خی ب۵۱/۳ے) 
باب : ان عَبْذَا مِنْ یِبَادِ الله قَال: یا رَبْ لک الْحَمْد كُمَابَی 
اھ کاس ےل 
7 ۰) حثَةا عبداللہ بن عمرطہ ان رسول الله ٥‏ حَدُٹھم: 
اج تاب( عکادائل فال:؛ ا ربٌ! الْحمْد لک کما يَتغی لِجلال 
وَججُھک وَ لِعَظِیٔم سُلطانک فََضْلَہُ بالْمَلَکیْنِ فَلم يَڈریا كَیٔف يَكَانهَا 
فصَجِذاإِلی السُمَاء و قَالا :یا ربا إِنّعَبْذِک قد قَال مَقَالَةَلا نذرِیٰ كَيْفَ 
نكُمْيْھَا. قَالَ اللَهَعَرَوَجَل - وَهُوَأعُلمْبِمَا قَالَ عَبْلُه -: مَاذَا قَال عَبْدِیٰ؟ 
۸ 


فَل :ا ربا إِنَهُقَال :یا ربا لک الْحَمْد کُما فی ِجلالِ وَججھک رَ 
عَطِبْم سُلطَانِک فَفَل اللَهُعَرََجلَلَهْمَا: اكمَامَا کَمَا فَالَ عَبْدِیْ خُتی 
انی فَأَجْزيَةبهَا۔ [ضعیف](أخرجہ ابن ماجہ ج ۳۸۰۱/۲) 
بنلدو مو نکا متام عبدبیت میں ال قکیعنظمت ور بو بب ت کا اختزاف 
(۰۳) تر ججمہ : حطر تعبدرااڈد بی نچمرجلنہ سے روابیت سے رسول ال چا نے 
فرمایا:اللدتھاٹی کے بندروں میں ےیک بندہ ےکہا:یّا رب! اَلْحَمْذ لک کَمَا 
فی لجلال وُخجھک و لِكظیْم سُلطانک (بار بآ پک امھ جآ پک شان 
لال کے مناسب ہواورآ پک یلیم بادشاتی کے مناسب ہو) فرشتے اس بہ بہت تیران 
ہوت ۓےک ہا ےکی ےککھا جاۓ فو و ہآ سمان پر گے او رع سکیا :رٹ العزت ! تیرے بننرے 
نے ایک الما جملہ کی ح کا کہا سے جے ہ نہیں جاک کیسکھھیں (یشنی مقداراجر و 
ٹذاب) بی بل مدہ نے فرمایا: (ھالاکہ دہ زیادہ جا ہیں اپینے بندہ کے احوا لکو) 
ےب کک را کے نے نے عو کیا ارت القرت اس بندہ ن کہا سے یسا رب 
الْحمْد لک کا بتبغی لخلال وھک و لَظیم سُلطانک یئ ہ٦ل‏ مر ہے 
ف مایا:ا سک کو ہی ای طر حللیولو جن طر میرے بنلدون ےکہا ہے بیہا لک کک جب 
بندہ مھ سے ل کا بیس خودا سکی جتز اون اب بن ہکودو لگا.۔(ابن اجہ/۸۰۱٣)‏ 
بن ہنع سک را اللہ 
ایس حد بیث میں تتمور لور لا نے تی یا ھ جج ا نے رٹ لا نکی 
شان مس جیا نک انی ان کا تک روف رمیا ہے۔انسان جب مقام عبریت می مل رسوخ 
پیداکر لتا ہے اور اب تقو بکوخثت باری س مورک کے جب ہمجن عب وکا لکا مظہر 
ا اذ اس وقت جوالفاظط ا کی زبان سے لکل ہیں دہ در یقت الہام رت الھاشن بی 
ہوتا سے جن سکو اللہ توالی نے اہ بن مکش کے قلب میں ڈال دیاتھا اور ودی الفاظ 


۹ 


صاحبِ عا لک زبان پر جارکی وسساری ہوتے ہیں جوج ہل مچ :کو ازع رمتبول و پپند 
ہوتے ہیں۔ کیو رقاب بی مو رر بای سے اورقلب گی صدااورتخیقت ‏ متقیق تک ت ما 
ےکا لت ا کی فی دا کے و کی ات رت 
ال این اور اس کے بندہعخھکشس کے ماڈین ہواکرٹی سے عالم خوف وخقیت میں یا عا م 
عبدیت کے اظاہارٹی ا سکا پیدگگوئی مخلو قکیا اتی سے _کبوککہ بابک راز ے جو بد ہد 
لی کے مان ہے۔ فا لیا ا کی نے فاری می کیا خو بکہا ہے۔ 
مان ماش و سمولق ر ریت 
کرام کاتین را جم خر یت 
و ضر 

اور یچی وہنقت سے جس سے مم لو قات عااریی ہیں سوااۓ مردم وین کے اور انس 
کا مشاہددمروم گن خوب ب یکیاکرتا ہے۔ ا یٹیل سے بی دعا بھی مرو می نکی ای کی 
صدراے جو ایک بندة من عا معبد یت میں خرق ہوکر این ال ومول کی بارکاوعمد بمت 
ٹیس اعتز اف نصور وعبد یت اورحظحمتہر بوبیت کے انار کے لیے یی کرد ہا ے۔ اور ظاہر 
کی بات ےکا ںکیفی تکا مشاہ وننس میں مہ الفاظا کککے ہیں وٹ یک وکیا خر ۔کی کل اجرو 
قذا ب گنت وفع ہکیفیت کے او بر ھرتب ہہوتے ہیں۔ خلا نماز باماعت ۲۵ یا ك٣‏ درج 
مضاعف ہولی ہیں ۔بہرحال ددودش ریف اور بہ تکی عبادات می سپھی ا سکا اقتبار ےگر 
قبم وی نک یکیفی ت کا انداز ہکا حقتطخرت جن ہل مرو کے سواک اگوی اور اکا سک ے۔ 
کیڑ رق کا خالقی بی تقلب مو نکو جاىتا سے اس لیے وو دونوں فرشت جن ہل مجر سے 
اس بتملہ کے ٹوا بکومعلوممکرتے ہی ںکہ پاریی تھا یکننا اجزنکصوں؟ خال یک ی بھی شان عطا 
د ےہ رازکوراز بیس بی رکھا اورفرشتو ںکوعم دے د یکر تم اع کے الف کوگ یلوہ جب 
9-9 و 0 برلردے دو ں کا سان الد !کیا مقا حکبر یت ٛے۔ 
جوانمان موی“ شروش ھا ء اب بارگا و رٹ العزت میس اتا مقبول ہو اک فرشتق ںکوشی انعام 

7 


اش پارکی رن بجی من ےم لن ہے پااوز اف زا اکم وب ننس اض یکا 
بِرَخُمَیک و بجاہ نبیّک یا اَرّحَم الوٌاحمِیْنَ۔ 
بَابُ : نَعَم ایی جبْریْلُ فَقَال: إِذَا ان عَطَسْت قَقُل 
پاب :ہج نیل نے رسول الڈد چا کو پچجین کک جو اب سکیا 

)٥٤٤(‏ عن آبی رافع ظل قال: خرجت مع رسول الله من بیته یریڈ 
المسجد و ہو آخذٌ بیدی فَالمَهَنَا إلی البقیع فَعَطس رسول الله ٭َل فخلیٗ يَدَیَ تم قامَ 
كالمُمَحَيرٍ فقلث یا نبیٗ الله بی و می قلتٌ شینًا لم أَُّمُةُ قال: 

"عم انانی جِيريل عَليْه الَامُفَقَالَ: إِذَا ا عَطست قَقْل: الع 
صَلَق عَبْدِیء صَدَق عَبُدِی مَغفُورَالَهُ “ 

[ضعیف] (أخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة )٥٦٢۶/‏ 
رسول اللہ چےگو پچجین ک آ7 کی نک کہا ؟ 

)٥۰۳(‏ تھ جحمہ: ابوراح خلزہ سے روایت ے رسول اللہ چا کے ساتقھ می ںکحم 
سے اکلاء مسج جان ےکا ارادہ تھاء لہ نی انام را بات پاڑے ہوے تے۔ چم لوک جنت 
بش کے پا سآ نذ رسول ال چلےاکو ین کآ تی قذ آپ نے میرا بات ھکچھوڑدیا اورنآپ 
رای کے عا کم مم سکھڑڑے ہو گے میں نے ع کیا :یا نی الد چا میہرے ماں باپ 
آپ پرقر بان ہوں! آپ نے پنوفر مایا جو شی لئ لبج سا ۔آپ چلال نے فرمایا: 
آۓ بے الم لِلہ کک دہ و الم للہ کعژ لالہ تا ٹعریشیں پروررگار 
عالم کے لیے ہیں ا کی عمزت وجلال کے بدر۔ تو الد پاک فرماتے ہیں : میرے بندہ 

ا٦‎ 


نے کہا ءمھرے بندہدنے ہکا ٤مہرے‏ بندہ نے ب کہاء ٹیس نے مغخفر کروی 
چجین کفآخارحیات وعلامت ے 

تر ری یں حضرت الہ ربرد اہی ردایت ےک رسول اید لاق نے ارشادفر مایا :جب 
تن جل عیدہ ن ےآ دم علیہ السلا مو پیداف انی ان کےجسمانی پک یس رو بیو کی ان 
کو پچجین کآکی و آد علیرالسلام نے الْسحْے لّ ٥کیا‏ خر تآد کاب الْحضْے لِل نا 
رای یجن الہام ر بای والقاء رحمالی تھا تح مل مجدہنے جواب مل برک الله 
کہا۔ الیل کی رحمت ہوم پ ریت یوقم امم ائے کپ رعد بیثشطو یل سے۔ 

ایک دسری 7مم و ے رو بآم ى کرو پھگی 
گئی تو روح جم میں دوڑکی اور تل پڑکی بیہاںک کک سرمیس می نذا کو چین ک آکئی و 
اھوں نے ال مض کہ وَب الین کہا:س کے جواب می بی تل میدہ نے فرمایا: 
بَرعمُک ال 3 ۔ ا ےآ دم الیڈرقم برق مکرے یخس مح ری نکی رائے ےکروں 
پیل ہآگھ اور ناک کے ا پے می جپٹی فو ا نکو چجان کآگئی۔ جن س کا استتقبال افھوں نے 
الْحمْد لِلہ رت الْعدییْن سکیا جس سےمعلوم ہوااورغابت ہوا ےکہ چیک کآ خارو 
علامصت حیات میل سے سے اس لے ےآ تک اس بی الحمد لل ہا ستت یآ دم شمارہوتا 
ہے۔ ایر ال کے جواب مل یس ومک ال ۂکہنااسی ف بجی سنت کے مطا لق 
ہے۔مسلمانو ںکواس سن تکوزندہ درکنا ف رامش نہک نا چا ہے گر امو ںک ہآ رج مسلمانوں 
ٹیس بھی غیبروں کے اختااط سے پیسنت فراموش ہوربی سے اور بین نے نال سکو ہرکت 
کی ہآ خا رکوس تک کگجولیا۔استغفو الله 

را مآ دم اورتمییر پاری 

آدم علیرالسلا مکو چیک کآکی اورتق ہل مچرہ نے ورأالْحمْذ للّه رَب الْعلَیْن 

کا اجراءوالہام ز با نآ دش رکیا۔آ دم علیہ السلا مکوکیا معلو مک پچجن ککیا ہوکی ہے اورپ رچر 


بت 


کب ماک کیا طربیقہ ہوتا ےگ رب تیارک وتھالی نے اپنے غخلی کو اپٹی تد وشن کا بو بھی 
تلایا اور اما نے حم بھی چاری فرم اکر اکرام وکرام تکا رتبہ تا کہ برخلیفت اللہ ال دی مھ 
کیا خوگر ہوگا اور ا ںکوم رکا متام لگا 
ایک مسلما ن کا دوسرےمسلمان رن 

(ا) جب ملاقجات ہوقو سلا مکمرے۔ 

)۲( جب دہ ا لکودکوت کے لیے بلا ۓ نے یک کے ردتہ ےب 

)۳( ہے نٹ 7 وادے۔ 

م)ث( جب دہ مار پڑے و ال سک مار بب یکرے۔ 

(ھ) جب ا سک اخققال بہوجائۓ ٹو اس کے جنازے کے سا تھ جائۓے۔ 

):ء٠۸ اورا کیل دہ بات لین دکرے جو اپ لیے ون دکرتا ہے( تی‎ )٦( 
ایک روایت میں ے:اوراا سکی خرخواہ یکمرےخواددحاضر ہو یا خی رحاض‎ 
ینک کےآ داب واحکام اور ا کا جواب‎ 

ہا ا ےو اح کس کے ات بی ان نک 
ملمان بھائی مک ال سے لی دالا يَهدِيْكُمْ الله و ُصْلِخ بَالكُمْ کے 
کیوکہ چجین کآنا ای کھ مکی برکت اور پماری سے شفا ہے طیعت صاف ہوچالی ے 
بیع تلحل جات ے۔ داغ کا ہفاراورزائد دای اشیا کا اخراج ہو جانا ےلان ک آ٠‏ 
یفضل ے اورفضل برجرضردری ے نیز شعارانمیا ہم لسلام ےک ھی ولا لت 
ایامک تابتدراراوراخمیاءکی مضنو ں کا پابنداورختل سے محبت رتا ے_ 

گے وقت من ڈ ہانپ لہنا جا بیے۔ ج بتییگنے والا الحمد لہ کن تن والوں 
کوجواب د ینا واجب سے ۔ ہیکت وق تآوا زمیک کی یس تک فی جا ہے اسی مقر کے 
شت منہ پہ با تق رکم باڈھاپ لاک ہآواز او ہگی ضہہو۔حد بیث یں ہ ےک پچجینک الد 


سج 


تعاٰکو پنرےاور جما ی :ا پند_ 
آ یر بت رگ اوران شراف تفقیقت اور رات مخقضرت 

جناب رسول اللہ چےئا کے پا چربیل علیہ السلا مآ اورتمن مل مج ہکا بد بار 
صلق عَبْدِیٰء صلق عَبْدِیٰ متا میرے بندےنے پ کہاء انل پ کہا۔ائ سک 
مفقرت ہوگئی ۔اس میں ین پان ںکی طرف اشارہ متا ے پچھینک کے بعد چ یل علیہ 
اسلا مک یآ ید اوربچھ چیک کے بحدرسول الڈ ےو اعم لت وَالْحمْد 
ِلّه کر جال یی مل میرہکی ٠اس‏ کےکرم ول کے مناسب ہنا ہر ہے بندہ پہ 
ہرکٹری ات ال تال یک کرم پل سلسل ہوتا عی رتا ہے تو ند ہی جاحب س گیا ہر 
حیات وسکنات اللتعا کیم ہو نی جات ۔اورمنیاحب اللد ال قکی جاعب سےکرم پل 
ہونا بم مشاہ رءکرتے می ںگر بندہ ہرگھڑیی ولجا تد باریننی سکرسنا بے ضصعف ددوس ری 
ضرورت واعقیا ج کی مشقولی تکی بنابر۔ ہنا جج گرم بالات ۓےکرم ہواکہ ال بل مہ 
نے ای مات سکھلاد ےک ہایک می لف نے تا تو کے بخ رج بای کے قائم مقام 
نادیا۔اود پارگاہ بے ٹیاز بیس مقبولی تک بھی ان پیل کگیاکہ نی مرسل صلی یلد علیہ وم مکو 
آگا ہک رد اگیاکہجناب باری تعالیٰ حفرت رت ون تی 
مغْفورا کڈ ای طرں الم الہ تع جَلالہ کو جن چا ےکا کیج ہے ا سکی 
عزت بلندک شمان کے مناسب من بل مر کی عمزت و جا یکا و یک وکیا بط > ا9ل پھ 
ان ےکی رر بھی خلوقات یمن اور 7ر وت دشا نکبریائی بر 
مزا سب بنلدہ سے جسمنا جا ہنا ہے نو اس نے خوددی جولرات منا سب شان ھا ء اس سے 
نوازااور بندہ ال ںکواداک کے وو سب بھ اتا ہے جوا کو چا ہے "تی مخفرت ورحمت۔ 

عم جل مد ہکا بندہ س ےکنا گہرا ربا س ےک"ہز ان پر بولی ارک چھیا ود یکرتا ہےء 
کرات تی بھی سصرا جا و بنا جا ےء اورا نما تکی صدراق تکی شباد تجھی خوددی دتاےء 
او رمخقر تک روادگی بنلد ہک ود ےکم انی نو ازشمات و برکا تکا زم مم رت سنا ماے۔ 

بس 


الْحَمْدللهِ كُكرَیہ وَ الْحَمْذ الہ کژٍ جَلاله سُبْحَانَ الله و بحَمُیہ۔ 

پپزملمانو ںکو چا ہ کہ چھین کآتے بی اس نت اخمیاءکوفرامؤش نہک میں خیروں 
کی راہ نہ حایس ود یککمات اداکمرں جو جمارے نی پڈلاانے نیس بنا ۓ اورسکھصاا تۓ 
ہیں۔اتن بپچو ںکوگکھمروں میں ہروقتگی مشمنکرایں ہ جار ےحصربیٹعلیعم کے شید ای نہ 
معلو مکیا کیا غلاسل مات پچجینک کے وقت ہو لے ہیں ۔ اللہ جا ریا لکون یرم چلا کی 
سنت پرکا ھن ف رما ۔آ ین ! 

اب : مَنْ قال الله فَاطِر السُموَاتِ وَالارٔض 
باب :جس نے اے از مین وآ سمالن کے پیداکمر نے وا کہا 

ر3 )٤‏ عن عبدالله بن مسعودظہ أن رسول الله ٭ّ قال: 

”مَنْ قَال: اَدَلَهُعَ فَاطِرٌَ لسُمَاوَاتِ وَالَارْضِ عَالم الْغیْبِ و الشْهَاوَة 
نی اَههَد الیک فی ہذو الْحَیَاةِ الذُنَيا نی أهْهَد أَن لا إِلٰه إِلا اَنتَ وَخَدَک 
لا شْرِیِک لک وَأَْمُحَمَذَاعَبْلُک و رَسُوْلک, ٛإنک إِن تکِليیإِلَى 
تَفْیسیٔ تَقَرٍنِيْ مِنَ الشْروَتبَاعدنیٔ مِنَ الْخَیْر وَ نی لا اق ٛإَِ برَعمَیک 
اجُعَل لی نک عَھُذا توَفْیيْه وم الِْيَامَةإِلک لا نَخْلف المَْادَإ لاقال 
الله لِعَلاِگم يَْمَ لِيمَ :إِنٌ عَبْدِی قَذ عَهة إِلَی عَهْدا فَأَؤْفُرْ 0ر هفَيْذْخَلَهُ 
الله الْحِنَة “ [ضعیف] رأخرجہ أحمد ج )۳۹۱۷۲/٦‏ 

بنار کال تنا کی سے ۶ر اورداغلہ جن 

)٥۳(‏ زم راید امن م“سسعود اہ سے روابیت سے ء رسول الد ا نے 
7ئ 

اَدَلَهُعمَ فَاطِر السُموَاتِ و لزْض عَالِم الْعْبْبٍ و السشْهَاوَة اك أَغْهَد 
لبیک فی هذہ الْحَیَاة الَدُنیْا آنیٔ اَمْهَد انل رڑے لا ان وَخْل کل 


تھے 


شربٔک لک وَأَع مُحَمَداعَبهُک و رَسُوْلَکَ فَإنک إِنْ تَکَلبِی إِلی 

اے الد !از مین وآسما نکو پیر اکر نے وائےء بی وط ہرکو جاتنۓ وا نے مل ااں 
دای زندگی میں بتجھ سےعبد و ما نکرتا ہول اور ےٹہادت دتا ہو ںکہتتیرے سوا مود 
کوٹی کی ء نے ایک اکیلا ہہ تم اکوٹی ش ری ککییس اور خلا تیرے بندے ورسول ہیں۔ 
را ےر ٠‏ ۶2-7۶۵ ےع تق ار عم 
کمردیا اور یل تو سوائ ۓےآپ وی ئ0 برکی درو ہیں اک رکا ۔ یا الا 
آپ اپنے پاش مبرا عم دتفوظط ررکھے : کہ قیاممت کے دن ال کا یک صلہ عطاکرنا کہ 
بین کآپ وعد خلا فگیں ہیں 

بنا کی ز الع سے پیککرا تک کررٹ الحزت فرشتو لکو قرامت کے ون فر انیس کے : 
میرے بندو نے میہرے پاسل ایک عہ کیا ھا ا کا بدلہا کو وا پورادواو راد تھی ال ںکو 
جنت میں داش لکمرانیسں گے (سرا مہ )٣۹۱۷/‏ 

اسلام میس عو و بنا قکی ند کا تاکی دک یگئی ہے اور ایل اما نکو خی رسعمولی 
اتنام کے ساتمونشش عبد سے رہکا گیا سے اورق رن مجید نے فو واش کردا کہ لن 
الْعَفدَ كَانَ مَسْنولا کہ عرو ینا ق کا قامت کے دن سوال ہہوگا۔ اب د بنا ےک یتس 
رٹ ذوا لال نے اپنے بندو لکوعبدو میفا قکی پابند یک کید ہے دہ خودجھی بنندوں کے 
ا عرو نا قیکی قزرکرتا سے کیونکہہ جھ ہثرہ انقال - ب حیدکر لا ےک دہ ری 
زندگی الل تھا یی ذات وعدہ لاش یک ل کی وعداخی تکا پاسدار و پاسپان رہ ےگا کسی 
کوا نکا ش ری ککیں ما ےگا شہ جان ےگا اورضطخرت ھ لاس کے رسول برنفن ہیں اور رٹ 


٦ 


ال تکی حاکی تکا اتنا قانل ےک ہف بادکرد ہا ےک اللہ الھا ین اگر بج لوم ر ٹس کے 
حوال۔کرد گیا نے پچھرمیری زندگی خرو ب لائی ‪9" "کی اورشروفمادے اثرب 
تن اورالہالعاین یں اپنے او یس بھی حال میس رو نی سکرسکتا۔ یں تو یس پا 
ائول و ڑکمرس بکو یھو ڑکر سب ےگ و کر سب سے گچھو کہ فا تی کی بی رحمت بر 
رو کرسکتا ہوںء با ادا تج وک رم ذات سے برایک جنر عاج کا عبعد سے ء رٹ ذوا چا ل ! 
قیامت کے دن اس عہ رکا خھرہ ججھ سے چاہتا ہوںء جب یہا گی کا نیس ہوں تو الم 
آخرت میں مھ رای رکتوں سے دور تک رناء دراصسل بای عورالست 1 2ئ0 
بنادہ نے رب نپارک وتا ‏ کی جناب میں یی ںکردیا۔ رب تھالی بھی ا لکی ف رک رتا سے 
اور بن ہگو امت کے ون الس پر کے او بر جنت میس دائ لکردیاجا ت ےگا۔ وا اعم ! 


2ھ 


باب : مَنْ أَوَادَأَؿْيََامَ عَلی رَاهٍھ... کم قرا : قُلْ مُوَاللَه اُحَد ۰- 
باب : جورات ٹیل سو نے کا ارادہکمر ےو سورئ اخلاصص پٹ حے 
)٥٤٤(‏ عن انس بن مالکظطلہ عن اللبی ظلّ قال: 
”مَیْ راد أَنْيَمامَ لی فِرَاشِ فََامَ لی يَمیْبٍه ثُمٌ قَرا: قُلَ هُو الله اَحَد 
(الإخلاص) مان مَوَةٍإِذَا کان يَومْ الََّامَةیَقَولَ له الربٌُ : یا عَبِیْ اُذْحْلْ 
عَلی بُمییک ال ۰ [ضعیف] (أخرجە الترمذی ج۲۸۹۸/۵) 
نت میں دائنی جاب ے وائل ہو ن کا را یلسن 
)٥۰۵(‏ تر جم : حضرت اس بین ما لک سے روایت سے رسول الد انا نے فرمایا 
٘ جس را تکو ا سز پر سد کا ارادہکھرے پھ ردان یکمروٹ بد رنْرَمراتتے 
احد وی سورۃ سو با لاو تکر نے جب قیام تکا دن ہوگا نم ای ا نس سے 
فرما یں گے:اے میرے بندرے! ذ انی دا وی جاخب سے جنت ٹیس داخل ہو جا۔(ت زی ) 


ے1 


اوحیروصفات پار یکا مان 

سور خلا میں از اول جا آخر رٹ الام نکی پذحیداورصغفات پارگی کا مم اور 
شی بیان ے۔ یجس میس الد رٹ التا یش نکا تارف اورا نکی شا کیاکی اورحنلمت و 
بے میا زی او رت حی ما لع کا اشبات اورقمام مب وداان بط لکا شبت ردکیاگھاے۔ 

تی زعال یک تارف اورسور ٤‏ انا لک شما ن‫ نزول 

ححضرت اس ری ایٹرعنہ سے دوایت ‏ ےک ہت ر کے بہودویں نے خدمت اقنش 
صلی اویل علیہ ییلم میں حاض ہوک رت کیا۔ ابو القاسم چلق !الد نے ملاک وو راب سے پیا 
کیا اورآوم علیہ السلا مکوگونڑھی ہوک ید ارمجچھڑ سے اوراش| سک وگ کے شعلوں ے اور 
سظھ"كھلت00 سے او رزگ انی کی جھاگوں والرا ب انحارت کرای او 
(کد وکس چز سے بنا ہوا سے ) رسول اللہ چا نے جوا بکھیں دیا۔ اس بر ج نیل یہ 
سورت نےکر نازل ہوئے۔( تاب العظری*) 

سو راعش ےےمحت 

حضرت جا کش نشی الندعنہا فربالنی ہی سک تضور الانے جہاد کے لیے ایک سم کیا 
"۲ھ" :نایا ذبرصاحب جب گی نماز پڑت ہررکعت بی سورت کے 
شرو ںغکرنے سے پللےسورۃ اغلائص پڑھاتے تےلو لوگوں نے وائی ںآکر یہ با تآپ خلا 
سے ائی ( کیوکلہ ىہ یز عام دستور ول رص ےمخائ فکھی) نو تضور للا ے٤‏ اشن 
ہیۓ رر از ایا ای نع شکیا: یا رسول اللہ چا یسورت عصفت القن ے اور 
بے اس سےمحبت سے ۔آپ ےئ نے ارشادفرما کہ ال نف سکو تناد وک اٹ ھی اس سے 
محبت فرماجا ے۔ اور ایک رواییت میں ےک اس سور تک محبت نے ام سلکوجنت میں 
وٹ لگرویا_ 


٦۸) 


جمنت کےاات 

٦‏ و ا رر 
سور تک دیس مرتبہ پڑھ گی ا 0 
فاروقی نشی الاشرعنہ بی نکر کنے گے پچ رن یا رسول الد چان بھم جنت میس بہت سےعل 
بنالٹش گے۔آب ظا نے فمرمایا کہ ایل دکی رحمت اور اس کے انعامات اس تھی زیادہ 
نع مر ہیں( معار فک عو ی) 

فضائل سورة 

ام امن ححضرت اس لد سے روابیت کیا ےک ای کن رسول اللہ نکی خدبصت 
حاضررہوا او رع کیا کہ نے اس سورۃ ( س]ھی سور٤‏ اخلائس )٣‏ سے بی محبت سے آپ 
پل نے فر مایا :ا سک عحبت میں نت میس داق لکردیا۔ (اب نکی ) 

تنمھکی نے الو ہ رر ضانہ سے رای تکیا ے کہ ایک عرتتبرعول ارڈ جا نے لوگوں 
ےفرمایاکہ: سب جح ہو جا یل س ہیں ایک تھائی ق ران سنا ںگا۔ جوم ہو سکت تھے مع 
ہو گے نو آپ پلفنش ریف لاے اور ف مُوَالل اح کی طاو ت فرمالی اورارشادف ایا 
کہ مور ۃ ایک تھا ق رن کے برابر سے۔(مسلم نی مھ ) 

اود اد ری اورنما ی نے ایک طول عدیث شل روایم کیا ےک رسول الشد 
ےا نے مایا کہ جوش سج رغام قُلْ مُوَاللَه اَحَذ اورممو زین بپڑ ہل یاکمرے نو برا 
کے یی ےکاٹی ہے اورایک دوابیت یں ہ ےکہ ہا لکو ہر بلا سے بچانے کے لی کاٹ سے۔ 

(اینکجر) 

امام ام نے حطرت عقبہ جن عامردولد سے روای تکیا سےکہ رسول الڈ ہلان نے 
فرمایاکہ: می سن مکوازبی ٹین سورٹیس بتا تا ہو ںکہ جن راتءز بورہ اشیل اورق رآآن سب میں 
نازل بہویں اورفرمایا کردا تکوااس وق تک تنسو ج بکک ان نھڑوں (معو جن اورٹل 
عموالڈد اعد )کونہ پڑ لو حخرت عق شی الیئدعن ہمت ہی سکمراس وقت سے یں نے ال کو 

جھ 


بھ یں کچ وڑا۔(ی کی ماف مق چم 
ےق ات 

وگ نے ابپفظیان اور ابوصا کیا رواایت سے جظرت این عپاس نیلد ہکا قو ل١ل‏ 
کیا ےک عام رب نل اوداربربن ریہ خدعم تگرائی می حاض رہوئے۔ عاھر نے عو 
کیا: ‏ لات مک سکی طرف چ کو بلاتے ہو؟ تضور اق نے فرمایا: اڈ کی طرف !عامرنے 
کہاکمہاپنے ر بک حاات نے پیا نکرد کیا سو ےکا ہے باج ند یکیاءلو ےکا سے انکڑیی 
کا؟ اس پر یسور نازل ہوگی اورار بد یی ٤‏ 4 6 0 
را۔ (گلر۔دے/ )٥۰۸‏ 

ادتھالی برفر کی شراکت سے پاک ہے 

فی ا ےت لاک ہد دک میرے رب کے جواوصا ف تم پوت ہوو دہ ال یک سے 
نہاپٹی تقیقت میں کسی کے سا تح ش یک شی وصف وکمال می ںکوکی زاس کے ماب جب 
ذات وصفات ٹیس ال لکی طر عکوئ نیس لالہ شہکوئی ا سکی یر سے شرضد نیشل۔ ای 
لیے صصوفاء ن کہا ےک ال کی اعدیمت ذات وصفا تکا نتاضا ےک وجود یش ان ںکاکوکی 
9 ش ۷ء وجودقمام صفا تک جڑ سے اورحیات نما عم ت کا مبدا عم ءثررت ارادہ 
کلام ءئعء بصرراورنگو بین حیات بی ہیں اورحیات وجودی فرح سے۔(تخیریظبری) 

جیا کے اما مکا گ۳ 

ایک انصاری مان مہ نا کے انام تھے نع کی اد تن یک الم مک کے سور؟ 
اخلائ کو پڑت پچ جوجھیسورت پڑھفی ہہوٹی با جہاں سے ایق رن پڑت ۔ بک دن 
نہ بیوں ن کہا ہآپ اس سور کو پڑت ہیں اور پچ ردوسریی سور ملاتے یں می ہکیا؟ یا تو 
آپ صرف ا یکو پڑ ھے با گچھوڑ دجیجیےء دوسری سور ہی بڑھا کے انکھوں نے جواب دیا: 
ہیں تو جّ سر حکرتا ہو ںکرتا رہہو ںا تم جا ہو مج امام رکمواو کہ نذ بی مہا ری اماممت 


٭ەے 


ٰ۰ 9 9ے 
.نک می کسی دوس ےکا نماز بڑھانا بھی انی ںگوارہ شہ ہو تکا۔ ایک دن 
یتور ان کے پا ستش ریف لا ے نے الن لوگوں ن ےآ پ لا سے یہواقحہ بیا نکیا- 
آپ پا نے امام صاحب سےفرما یکم کیوں اپنے ساتھیو ںکی با تل مات اود ہر 
- 2 وس وہ کھنے گے پا رسول ال ا جھے اس سور ے 
کی محبت ہے:آ پ مکی الد علیہ یلم نے فرمایاککہ ا لکحبت نے سے جنت میس پچیادیا۔ 
ححضرت ا دہ یل ہکاشل 

من ام میں ےک ہحفرت قادہ ین نعماان تن سارکی رات ای سور کو پڑ حت 
رے اورتضمور چلال سے جب ذک کیا گیا آپ لان نے فرما کہ یسور ة آد ےق رآان یا 
ھا اق رن سے براہرے۔ 

ای آن 

ایک دوسرکی ردایت میں ےک :ححطرت ابوا لوب الصصاارکی تال نے ف رما اکییام ٹیس 
ےت طافت ےک دہ ہردات ف رآ نکا تیسرا حصہ پڑہ لی اکر ے؟ صصح نی اللد 
تٹھم نے کے بیس سے ہو ےگا ؟ آپ فرمانے کے سن فل ہو الله اح ال تھائی 
ران کے برابر ہے۔ استے میں رسحول اللہ جا فی یتتشریف لےآا تن ےآپ لا نے ففرمایا 
کہ : الوالوب الہ کر سے ہیں ۔(منداص) 

ترمد یمیس ےک رسول الد اتا نے صسحا کرام رش ال ٹم سےف رما اہج ہو جا 
یش “ہی ںکرج تپائی قران سنا ںگا۔ لوک جع ہوکر بیٹھ گئ ءآپ چا گھمرےتشرلیف 
لاۓ اورسورة قل ہُواللہ اڈ ددع بھی اور بھرگھ رتشریف نے گے ۔ اب صا رش الل 
عنم میں پاتیں ہون گی ںکہ وعدہوتذ حضوریڈڈاکا تھا کہ تبائی رن سنا میں کے شابد 
آسمانع ےکوگی وی کئی ہو۔ ات می ںآ پ خڈلاف رش ریف ن ےآ ے ادرف مایا ٹس نگم 


اےا 


سے پاٹ ق رن سنا کا وعد ٥کیا‏ تھا نو سور تھائ یق ران کے برابر ے۔ 

رت ابودرداء ٹل کی رواییت یں ےک رسول الد لاق نے فرما اک ہکیاتم اس 
سے عاجتز ہوکہ ہردن تبائی ق رآآن ڑل یاکرو؟ این نے عون کی اتور پل ا یم اس 
سے بببہت عا بتز اور بہت شحف ہیں ۔آپ لا نے فم رما کہ :نو ! ای دنتھالی لے رن کے 
ین یے کے ہیں فل ہُواللہ سذ تسراحصرے۔(مسل نک ورہ) 

نت واجب ہوائی 

حور چا ایک مرن ہیں سےتشریف مار ہے ےہ آپ چا کے سا تح نضرت 

الو ہریرہ زلندشجھی تن آپ گا نے ای ک نف کو اس سورب 0۳009 


ربا کہ واجب ہوئی۔حخرت الو ہر یرد نے لو مچھاکیا وجب ہوگئ؟ ف رمیا جنت۔ 
(ززی) 

الولیٹ یک ایک حدیث میس ےک کیا تم می لکوٹی ال با تکیا طاق ت کیل رکتا کہ 

سورۃ قُل ہُو اللَهُ کورات یل تین بار بڑھ نے ء ریرسورۃ تھا یف رآئن کے برار ے۔ 
کا ی ہونے دای بین سورییں 

مند ام میں ےک عبداشد این عیب نیلددفرماتے ہی ںک بھم پیاسے تہ رات 
اندعی ریتیء رسول ایر ےکا اننظار تھا ہآپ ٹفش ریف لاۓ اور می را بات پکڑکرفرمانے 
گے پڑت بی جیپ دہا۔آپ ,للا نے فرما اکہ پڑت میں نع کیا کیا ڑعوں ؟ آپ 
ےل نے فرمایاکہ ہر دشا مق نقن مت سور قُل هُوَاللَه اذ ءقُل اَعُوْدبرَبٌ الا 
اور قِ اغوٴذُ بب الَقلقي ڑل یاکرہ بیکانی ہو جا ی گی ۔نساٹ یک ایک روایت میس سے 
کے و و و سیت 
میں پ رین ا بعد یف مل کے 


ےا 


دوسوسال گناہ معاف 

مزا ری ایک ضویف عد یٹ ٹش صر0ئ) ال سور کو ووسومرت 0۳ 

نتحالی ان کے دوسوسال کےگناہمعا فگردیتاے_ 
7 کے سا تج دعا 

نمائی شریف مس آبی تک خی میس ہےکہ نی اید میں تشریف لا ےت دیکھا 
کہ ای کک نماز ڑھد ہا ے دا تک د ہا ہے انی دعای سکتا ےکہ الله إِنسیٔ 
اسْتَلک بانَیْ اَشْهَدُ ان لا إِلٰه إ9 ال الحَة الصَمَذ الّذِی لم یلد و لم يُوُلڈُوَ 
من لآ تھفوَا اس ۔یشنی اےادٹ راٹس تھ سےسوا لکرتا ہوں اس با تک یگوادی 
در ےک کت رے سو اکوکی متبووکہیں نے اکیلا ہے بے خیاز ہےہ نہ اس کے ماں پاپ تاولادنہ 
سسراور اش یکوگی اور ۔آپ :لاق بی نکرفرمانے گے :کراس ال کیب یس کے پاتھ میں 
مریی جان ہے! اس نے اح انضعم کے ساتھ دھا ماگی ہے ال کے اس بڑے نام کے 
۷۰۰ئ0 اس کے نام کے سا تجوسوا لکباجاے و عطا بے 2 
ساتجھددعا کی جائے و قھول ہو۔ 

7 

اویل میں ےرسول الد چلفرماتے ہی ںک تی نکام ہیں جو ایس ایمان کے افج 
کر نے نے وہ ججنت کے تام دروازوں میں سے شس میں سے چا سے چلا جائے۔ اورجشں 0 
ور کے ساتھ چا نکاںکردیا جائۓے جو اپنے مقان لکو معا فکرے اور پوشیدہ رض اوا 
کردےء اور فرش نماز کے بحعدروں مرتتسورة قُل ہُو الله اح ڑل اگمرے۔ 

حظرت ابو رصد لی لہ نے پ پچھایا رسول الا اج ان ت۲ نیاموں یں سے ایک 
بجھ یکر لے؟ آپ پا نے ف رما اکہایک پریگی می درجہ ے۔ 


أسھر 


ما سورنوں سے ہر گن سور؟ 

منداجھ بی ےک ححخرت عقہ من عام رتللہ فمرماتے ہی ںک ایک روز میری رسول 
الل ےن سے مانمات ہہوئی۔ میس نے جلدی ےآپ ےٹاک ات قام لیاء او کہاکہ یا رسول 
اللہ چا می نکی ضا تم نل پر ہے؟ آپ چلاف نے فرما کہ اے عق بالن تھا ھے درک ء 
ا ےگحعممیں ٹا راک اور ای خطائں بر روتا رہ۔ چم ردوپارہ جب میرکىی تمور جا سے 
لاقات ول نو آپ چا نے خودمیرا اتپ ڑلیا اورفر مایا: عق ٹکیا از رت ار 
رو ار نع من انی ہوٹی قمام سورتوں سے اش مین سورٹیں مہ بنانوں؟ میں 
ن کہا یا رسول اللہ اض ر ور ارش دف رما یئ ء الد تھی جھےآپ چان بر فدارے۔ بی ںیآپ 
نے تجسورہ قُلْ هُو الله اَحَدء فُلْ اَغُوُذِ برّبٌ النّاسِ اور قُل اَعُوْذُ برّبَ الْفلَق 
پڑھاتلیں پچرفرمااکہ: دیکھوعتقیۂ یں شہمولزا اور ہردات انیس پٹ ہل اک نا۔فرماتے ہیں 
کپ ریس انیس تبچھولا اور کوئی بات انی پڑ ھےبخیرکنذربی۔ می نے پچلرآپ چا سے 
لاقا تکی اورجلد یکر کےآپ ا کے دست مبار ککو اپنے پاتجھ یل ےا لات 
رسول اللہ اذا مھ کر ین اعمال ارشادفرمایے ‏ ۔آپ ہقاف نے فرمایا کک ن! جو ججھھ سے 
فزڑے نو اس سے جوڑ جو گے محروم ر کے نو اسے دے اور جو جھ ین مکمرے نواس سے 
دنز رکراورمعا فک/ردے۔ ال ںکا ین حص امام تن ین بجی ز کے باب میں واردکیا سے 
اورف مایا ےکہ بعد بث صن ہے مسندراہ می لپھی ا کی ند ہے۔ 

سو وش تک مسنو ئل 

ہار شریف میس ےحفرت عائشرصد یق ئیشی اش عنہا سے مردکی ےک ہنی خلا 
رات کے وفقت جب استر پرت‌شریف نے جات نو ہررات ان خبوں سور ںکو پڑ ہ ھکر انی 
دونوں ہنتھیایاں ملاکران پر د مک کے ایے عم مبارک پ کچھ رلیامرتے ججہاں جہاں تک 
اھ چو باتے۔ پیل سرپ ہل رمنہ پل راپنے سان کے سم بر جن مرحبر ای طرغ 


۲۳ے 


کرتے۔ ببعدیٹطن می ںبھی ہے لتقم رای نکی ر) 
ظفل هُو الله اذ 
( اکہدہاشدایک ے) 
اندتعا یکا تارف 
یھی جولوک ارٹ ری رت ورك ہی سک و ہکییسا سے؟ ان کرد شی ےک دہ ایک 
ےج کی ات می کیم کاد ڈکشراوردو یک کش نپ ا ںکاکئی متا ٠ہ‏ 
مشاہ اس میس ہیں کےعقید ہکا رد ہوگیاج کت ہی ںکہخالق دو ہیں ؛ ترک خالق بنداں 
او رج رکا اہرنں۔ نیز نودکی تروید ہوٹی ے جونتی سکروڑ دانتا فو ںکو خداکی بیس حصدار 
رات ہیں۔ (تخیرن) 
(اللَه الصَمَدک 
الد ے نیازے۔ 
لف نض ت نے“ کیتفیئی طر عکیکئی ہے۔طب رای ان س بک لک کے فر ماتے 
ہیں:”وَ کل هٰذِہ صَحِیْعَة رَهی صفاث رَبَْا عَرُوَجَل هُو الَذِیْ يَضمْد الَبْه 
فی الحَوَاِج رَمُو الِّیٔ قد الَھٰی سُودهُوَهُر السَمَۂ الدِیٰ لا جوف َهَرَلا 
کل 1 یت وھ الباقی بَعُد خآقهہ“ زا کر)۔ بب معانی ہچ یں اور سب 
ہہارےر بک صفات ہیں دای ہے جم سکی طرف تقمام حاجات ٹیل رج ںعکیاجا ا سے مجن 
سب اائں کےیتاج ہیں ۔ وہک یکا یئ اور سے جج س کی بزرگی اورفوقیت تام 
کمالات اورخ بیوں بی اخ اکو یع ھی سے اور وی سے جوکھانے پٹ کی خواہشات سے 
اک ےاورودی ے جوخاققت کے نا ہونے کے بحدرجھی بائی رئے والا سے۔ 


۵ ےا 


جا ہلوں اورآرلروں 7 در 

اتال ی کی صفت عم بہت ے ال چاہلوں >ٍ رد ہوا وی خی را کی درچ ہل 
ستعل اختیار رکھے والا ھت ہروں زآرروں کے ححقیرہ مادہ و کی ترویدکی ہوئی 
کیوککہ ان کے اصول کے مواٹن الڈ دنو عالم کے بنانے میس ان دوٹو لںکاختاحع ے اور ہے 
دوول اپنے وجود بیس الد کےعختا کی ۔(العیاذ با )(تحیرن) 

صید کے می 

یىی سہےد کے بی ہی ںک ینس طرف لوک ابی حاجات اورضروریات ٹیل 
رچو غکر میں اورج بای اورسرداری یس الما ہوکرااس سے بے اوک ی یں ۔خلاصہ بک سب 
او عتلوس کیرک 

8 الم خحخرت این عپاس ری الڈدححن تن اصریی رشی اڈ عنہاورسعید بن 
تین کہا رصع کا صعمی سے نثررمعنی من سکوکوٹی خوف نہ ہو۔ این جرمیشی الشد عنہ نے 
زی ابی یی قول خ کے 

ابواای ل تق بنمسلصہ شی الد عنہ ن ےکہا عم ودسردارے جھ سکی سیادت 7 
کے سور ےم کن سیادت بہحمہ وج ہکائل ویر نویک ض کا تق ی لی سے 
مقصور_ 

رظان وی -- سے ہن ےس تاج پور کن کاتناج نہ و (ا الہ 
اس کے اندرقاممکمالات ہوں گے اور ہرطر کی سیادت ان ںکوحاصل وگ اورخمام موب 
سے پاک ہوگاء اور ہ رآفت سے منزہ ہوگا مکھا نے پیٹ ےکا اع نہ ہوگاء نل مم ہہوگاء اس لیے 
ا ںکاکوئی والد نہ ہوگاء ا سک اکوئی پ ینس نہ ہوگاء اس لیے ا لک یکوکی اولا دنہ ہموگی ۔ اس 
ےو ال ہوا بگہا سکیاشپھ کوک ن وگ فو ا کے مر تک نم جت کی 
ہا سب .0 


٦‏ ےا 


صرف رہب یمفصورے 
سر عق ور اریت ات ینان امن وص رت ای 
تمالی ہونا جا ہے۔اللد کے علادہکوٹی چ زفقصو وی ہونا جا ہیےء ای لیے صوفیکرام نے لا 
لہ الا الله ”ىا مَفْصرََ ال ال ٗکہا ے اورصراح تکی ےک اما کا جو صلی 
متقصورے وبی ال سکیا ممبود ےکیوئل حا تکاصعنی سے معبود کے سا نے انھاقی عاجتز کی اور 
فی اہ رکرنا اورانان اہ ےمقصود کے لیے انپا ٹی فر وی اور اکسا ری یکرتا سے۔ نہیں جس 
کے لیے اچناکی ف رون کی جا نے نی جوم قصودہووبی معبودہوگا_ 
صونیہ لا إلٰه إِلا الله کا ؤکرکرتے وقت غی رادرک تصودی تک یکر تے ہیں اور 
ہرطر حکوشت لکرتے ہی ںکہارشر کے سوائسی کے نود ہو نے کا خیا لبھی ان کے دلوں سے 
دور ہوجاۓے ۔ الد ہرمضش‌ لآسا نکر نے والا سے۔ (تخی رنظبری ) 
ححخرت امن عراش اد سے موی ےک یہ دہ سے جوا نی اسردارکی شیلء انی 
شرات یں ء اپئی ری میس اود اپٹی لمت میںء اپن علم لم بیس انی حکمت ون بر یں 
سب سے بڑھا ہوا ہو۔ شس صرف الہ تالی جم شانہ میس جی پائی انی ہیں ء انس کاسم 
اوراس جلیہ اکوٹی اورئیں ۔ دہ الل با نہ وتعاٹی سب پرغالب اوراٹٹی ذات شی کلت اور ے 
یرصم کےنعت بیچھی یئ گے ہی ںکہجو تا فقلوق کے فا ہوجانے کے بعدبھی باتی رسے 
گاء ج پییشہ بقادا لاس بکی جفاظتکر نے والابہوءجز سکی ذات لا زوال او رخ فا ٰی ہو_ 
اور بہت سے صا ہر رضموان ایہم امن اورتا مم سے مروی ‏ ےکرص کت ہیں 
تھیں یکو ہوکھ کی یر ہو کا پبیں ند ہو شع کت ہی سکہ جو نہکھا ا بہونہ پڑا ہہ عبدالڈد 
بن مھ یل فرماتے ہہ ںکمحعددولورے جوردشکن ہوء اور نک دک والا ہو۔ (تقی رب نکی ر) 


41ر 


إلَميَلْد وَلَميُولَِ 
نر یکو جنانڑی ے جنا۔ 
ود لیوں عیسائتیوں اورمتمرکو ںکی تر دید 
نی زہکوئی ا کی اولا درد وس یکی اولا.۔ اس می ان لوگو کا ردہواجوحخرت ہن 
کو با حخرت زم یکواؤڈ رکا با اورفرشتو ںکو ارڈ کی بیڈیاں سککتے ہیں _ یز جولویک کو پاسی 
نشرک واللہ مات ہیں ا نکی ترد ید سم کڈ می سکردیکئی سے۔ھشقی الل دک شھان یر ےکااس 
کی نے جنا نہ ہو۔ اود ظاہر سے خر تک ایک پاکبازعورت کے پیٹ سے پیدا 
ہوے۔ پچ رود ال سطر ہو سیت ہیں (تخیرعن) 
الڈروالدیں ے 
میڈ مخرکگوں ن کہا تھ اک ہف رشن ایلدکی میٹیاں ہیں بہددی ققائل ج ےک ح زم کا 
پاپ اللد سے عیسائی کت تےک ہج اکا با ہے۔ الد نے فرما کہا یکا وال نیس ء 
یئ نا کول میٹ یں نہ ا سک وی 0 سے شکوٹی ا کا نقائم مقام 
ہے ا لک یکی حاج ت یں ء نراس ب رفا آعحتی ے۔ 
ال کا واللد نہ ہونا اگ چردوا ہی ے اور رز مانہ ٹیل دالد یت سے پاک تھا اور ے 
اوررےےگا۔ 
ایر مولودکییں سے 
ولمیولداوروہ سیک چناواے وہ ہرمولودحا دث ہوتاے اورا لرعروث 
ے پا ے اورحدوث الوہیت کےمنائی سے۔(تخی رین ) 


۸ ےا 


۷وَلَم کن لَه كقْواَ اذ 
اورکییں اس کے جو ڑکاکوئی 
الد کے برای کاکوٹ یکیں 

جب اس کے جو کاکوک میں نے جودد یا با کہاں سے ہو۔ اس ہچملہ میس ان اقوا مکا 
رد ہوگیا جو الک کسی عفت می سس یلو قکوا سکا ہس قب رات ہیں تی یبن سضکتتاغ نے 
اس سے بڑ ھگرصفات دومرولں میں خابمتکمرد تے ہیں۔ بیپودگ یکنا ڈیں ھکر یھو ایک 
لکل میں او کی تی تقوب علیہ السلام سے ہورجی ہے۔ اور تقوب الیل رگد بچھانڑ دینے ہیں 
(الاز پالش) دكَبْرَث کلِمَة تَحْرْج مِن اوَاههمْ اِ بَقُولُوْنَ الا كَذِبَا> انی 
َسنَالک یا الله الوَاجة الصَمُذ الّذِیْ لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَذ وَلم يَکُنْ لهُ كَفُواَاَحَد 
ان تعفر لی ذوبی اک ان الْفقوْز الرٗجیٔم (نضیرخاٰی) 

عد یش ری : حفرت ابد ہریرہ ۂل کی م فور حد یث ےک اللہ نے فرما اک ہآ دم 
کا نا شےتیھوٹا قرارد ینا سے هالانکہ ا لکیلئ مہ جائ گییں اور جشھےگالی د ینا سے چا لکیہ اس 
کیل بی درس ت یں ء می ری جنر یب نوہ ےکد تا ےک اد نے بے جیما پیل پی ار 
دیاتمادہ ایباددبارہ پیرانچ کر گا۔ عالاکہ پیل مرجبہ پیداکرنا دوبارہ پیر اکر نے سے 
میرے لکل نہ تھا۔ اورگالی بد یا ےکدد ٥بتا‏ ےکہائڈد نے اپینے لیے اولا داختا رکی 
سے عم 9.27 داءر ۶ل انان کن وو والرہوں ےم ولوداورتکولی می ری 7 ے۔ 

سے وفت سوع رت اخلائ یڑ عنا 

ححظرت الس طول دکی روابیت ےکہ رسول اللہ نے فر مایا سکہ جونص سوتے 
وت دا شی ںکمروٹ لی ٹف گر بارفل مََ لع پڑھتا سے قیا مم تکا دن ہہوگا 
ق2 پردردگاراسل سےفرما ےگا میرے بندے اپنے دامیں رخ سے جنت میں داشل ہوجا۔ 


(رواہ الترمذی وقال حسن غریب) 


۹ے 


٤‏ ۶ ص“ ‏ ۶ء "۰ووو"۶م) هََ اللّه 
کے بڑہتا ہے اس کےگناہ پیا سال کے منادپے جات ہیں ہاں اگرائس بس یکا 
شر ہو(ن وہ محا یں ہوتا)(رواہ التر ری دالمدارئی ) ایک ددایت میں پیا پا رکا 
لف آ یا اورٹرشٹش سے اسنشواء کے الغا یی ںآ ے۔ (تقیرمظبری ) 

اب : الا الک او الا الک عَلی کِمَةمِنْ تَحتِ اْعرّش 
باب :کیا میٹ مکوعررش کے بے جن تا خمز اشہجتلا دولں؟ 

)٥۰٤٤(‏ عن ابی ھریرة طللہ أن رسول الله قال: 

”الا أَُلَمُکَ أوفَال: الا الک علی کَلِمَة مِنْ تخت الَرش مِنْ 
کَنْز الَْنَة؛ تَفُوْلُ: لا عَوْل وَلا قُوَۃ لا اللہ قيقُولَ اللَهُعَزَوَجَل : اَسْلم 
غَبدِی وَ استسّلُم.“ [صحیح] (أخرجہ الحاکم فی المستدرک ج ا ص ۲۱) 

)٥۹۷(‏ 2 بج : ححضرت ابو ہ یدلہ سے روابیت سے رسول الد ان نے فرمایا: 
میں ت مکو نسحا دولں ا لوں شر مایا: ن مکونہ جلادوں عمش کے یی ےکالکرہ جو نت کے 
7او سے ے؟ ت مکہو کا ول ولا قُوَه ال بالله (]شمی بندوجب پیک کنا ے )و 
ال تاٹی ارشادف ما نا ے :میرابندد می راس ہوگیااوراپنے جملہ امو رکومیرے سپ ردکردیا۔ 

(اخرجه الحاکكم )۲٦۸۱‏ 

تق رکا رسالہلاحول ورا تو الا پانشدہ دک ٹیں_ 

تل بات ق رسکی عد یت ۳۸۵ لیس( مین اشرف ) 


سس -“ھؤ ہو یں> ھ . ط 
َابٌ : مَنْ قَال سُبْحَانَ الله و الْحمد لِلهِ سی 
پاب :جس نے سان اید اور ام ال کہا 
۷ ۰) عن أبی مریرۃ لہ انە سمع النبی شا بقول: 
”تن قَال سُمْحا الله و الْحمۂ لِله وا لہ إلا الله و الله اكبر وا 


عَوْلَ وَلا قُوٰة إِلّ بالله. َال اللَهُ: ا0ك می ر نل“ 
[صحیح] (أخرجه الحاکم فی المستدرك ج ٦‏ ص٥٠٥٠٣)‏ 
از مت وکیا 
ے۴۹۴ )ت2 بجحمہ: حضرت الو ہ رب و اہ سے روایت سے رسعول اللہ چان نے فرمایا: 
وت مان الله وَالْحَمْڈ لل وَلا إِلة إِلا الله وَاللَه اَكَيرُ ولا خَوّلَ رَٗ 
مو ٤إ‏ بسال لہ کپتاے نی تھالی فرماجاے: میرابند ٹن ہوگیا اوران معا ملک 
ےط 
باب : مَاأَوّجی إِلَأَْ أجُمَم الال وَأَكُوَْ مِنَ الَجرِیٔنَ 
اب : اید تھا لی نے جج کو مال مم کر نے اور تاج من ےکی دیس ف مکی 
(۴۰۸) عن مرن لَْر ص عن أپی ممشلم الْعَلَاِأَه مع َهوَْ: أ رسُوْلَ 
الله فَال: 
”ما اُوْحی الله إِلَیٗ ا اُحَمَع الال وَأَكُوْم مِنَ الَاجرِین و لکن 
ای إِلَیَ ا مب بِحَمُد ہیک وَ كُنْ من السَاجِدِیْن وَاغبْذ رَبُک خی 
پائیک الہ “ [ضعیف] (أخرجه أبونعیم فی الحلیة ج ١٢‏ ص۳۱٣۱)‏ 


۸ 


میں مم ین جرکہیں تع ویک رن ےآ یا ہوں 

(۰۸۱)تھ جج ایوس خو لا پی مرسلا روا تکرتے ہی ںکہرسول الد چان فرمایا: 
نی بل مد نے چوک بی دق یی ںک کہ مال ش کول اور شی تا ہجروں میس ایک تاج ہنوں ؛ 
یکن جج ےکوجو و یک یئی دہ کہ :عق تھا کی خو بح وشیکروں اورحجدہکرنے والوں یل 
رہروں (لیج یج ودک رت ازائل ہوک کت سر ہکا سب ری اور مو ت گل اللہ 
تعال یکی عباد تکرتا رہوں - (ایركم۱۳۱/۲) 

اسجاب انان وانشراح 

جن جل میدہ نے جمارے نی کو اخننظار وانقبا شک یکیفیت سے تین اتی د 
وی تلادیا جن پرکار بند ر دک رخود ہو داشمینان وانٹرا حک یکیفیت عاصل بوجا ی 
ے اور تھا یکی جا ئم دش یکا دالن باتق جا ہاے۔ وو ےٹج یمیس مشخول ہ٭جانا 
اور ری خود رہنا۔ 

تج سےمن مل مر ہکی یہہ وففقریس ہوگی اورتمییر س قرب الی الد یش 
اضافہ وگ اورخماز دتود اعد وتڈٹل عیاں ہوگی۔ پچ رکیوں شی با تکائم متا ےگاء تام 
ازت ولف دہ یں کور کین پلک شی ری ہو ای ںگی ۔ الد تھالی نے ق رن اک 
کی سور اج می ںآ خریی دوآیچوں میں اسی رازکوکھوا ے_ 

اپنے ر بکی فی درک رتے رہہ سو فو یادکرخ بیاں اینے ر بکیا اور ہویحبد ہک نے 
والوں بل ے۔ 

نکد یکاعلاج 

تی اگکرا نکی ہٹ دع بی سے دل ہک ہو فذ آپ ا نکی طرف سے توجہ ہن اکر 

ہشن ال کیج کٹ 2 0.2 ریے۔ الل کا تار نازی ‏ فار تن دو زس میں 


۸۳ 


نکی ما یر ےقلب مملمخن ومطشر رجا سے اورکک روم دور ہوتے ہیں ۔ ای لے یک ریم 
یه کی عاد تا یک جبکوگ یم باتک رکی جو لک آ پ نما زکی طرف بت ۔(قیرخن) 

فُسبّحخ بِحَمْدِ رب ک آ ٢‏ و نے 
زأاکنفا لکرے ط٣غ‏ الک پاکی کےاعتراف وا ار مشفول ہوجا بے اللہ 
آ پکیکارسمازی یکر ےگا۔ج وج ارول بر ے ل۲ ون رسس 
دورہوجاۓےگی اورشرت تمضب جائی ر ےگی- 

ون من الشجدایین اورنماز پڑ نے والوں شی ر ہیں ۔ساج بین سے مراد ہیں 
فو شع اوراظہھارفر دق یکرنے وانےء شواک کے نز د یک نماز پڑ نے والے مراد ہیں امام 
امہ ابودا دہ ان جر مر نے حضرت عذ یش جن ال کے بھاٹی خر عبدرالت زی کی روابیت 
سے بیا نکیا ےک رسول اللہ چڈےلگو جج بکوئی انٹیل ٹین لآ تھا قذ آپ (کھب اکر ) نما زی 
طمرف رج رت تے۔(تخیرطبری) 

نو ںکی ابڑا ےتگدر یکا علان 

و لَقد نَعْلم سےمعلوم ہو اک جب انسا نکوشنو لکی پاقوں سے ری پچ ارول 
سای جیی یآ نے نے الس کا ردعانی علاع یہ ےک الل تھی کیاکی دعبادت یس مشغول 
ہوجاے ء ایل دای خودا سک نکی فکودورفرمادمیسی گے۔(معارف القرآن ہمفتی انلم ) 

ال آیت کےاترنے سے پل ےکک تضور لے شید ئن فرماتے ےمان اس کے 
بعدرآپ ا ادرآپ چا کے اصحا بن نے ھا طور پر اشاعت درین رو ںعکمردگی۔ ائن خراقی 
اُبڑانے والو ںکو ہم پ رو درے ؟ مآپ بی الع سے ئمٹ لیس گے و ایح کے فریضے 
می ںکوتاہی کر ارت ہی سکہ دای تی آپ چےناکی طرف سے ونھیں نو ووخودکھی 
سیت "۷۴ 3ھ٣ئء‏ ے مطاتً خوف تک ءاللدتھالی تا حافظط وناصرے۔ وہ جھے 
ان کےشرسے با لن ےکا * یسے اورآیت میں ےک اے رسول اللہ لاق جھ ین تو بی جانب 
اتاراگیا ہے اسے پاہیادے اگرت نے الا نہکیا قنونے اپنے ر بکی رسالل ت نیس پاچچاگی ء 

۸,۳ 


ایشدنتھا لی خودخی لوگو ںکی براکی سے ےتف وط رک لےگا_ 

چنان ایک ون تصور فقآراۓ ے جارے ےو ضس مت رکوں نے آپ چک 
پچیٹراءائسی وفت حظطرت ج تل ۓ اورائیں وکا ماراجنس سے اع کے جسعموں میں الا 
کم کیا جیسے نیزے کے زم ہیں ای ان کے تین کے بڑے بڑڈے 
رو سا تھے بڑگی عم ر کے تے اورخہایت شریف گن جاتے تے۔ بنواسد کے شیلہ سے لو اسود 
بن عبالمطلب ابوزمع رتو ےکا بڑا ہی صن ا ان دیاکرتا تھا اور ناتی اڑایا 
کرت تھا ءآپ پا 8 0 
کآمردےء بے اولا دکمردےء بی ز ہرہ میس سے اس ود تھا اور بی مھ وم میں ے ولیر تھا اور کی 
کم میں سے عاص بن وا ھ ۔اورتزا یں سے عحارث تماء بہلوک برا رتضمور پلکی ایا 
رسای کے درپے گے رتے تے ء اورلوگو ںکوآپ چا کے خلاف ابھاراکر تے تھے اور ج 
یف ان کے اس میں ہولی آپملی اللہ علیہ مکو می کرت ء جب براینے مظا لم یس 
رکز نے او ات ات فور ےتا را اڑانے گنو اںلدتھا ی نے فاضند غ 
سےیَسفلموْ نہ ککیآ ہت نازل فر یں ۔ککتے ہی ںکتضور وا فکررے سے 
جخرت ج رت آے۔ بیت الد لآپ خلا کے پا ںکڑرے ہہ گے اس بیس اسودء این 
عبدلیو ثٹآپ ہلاگ کے پاس سےگز را ححفرت جتَل ک0 9ر 
ل۱90 ا ا ریا 
ایک نزائ یفخ کے تر کے پیل سے یھ انی چچج دک تھی '۔اوراسے دوسا لگزر گے تےء 
حضرت تل نے ا کی طرف اشارءکیادہ پھو لگئی بی اوراسی میس دومراء پچ رحاس بین 
وا لگ زراءاس ک ےد ےکی طرف اشار ہکیا ینودفوں بعد بطانف کے لیے اپ نےگمد صھ پر 
سوار چلاء راتۓ می گر پڑاء اورکھوے میں کی لگ سک ی 020 ۲ 
صرکی طرف انار کیا اے خو نآ نے لگا اوراسی یں ھراء ان سب موذ یو کا سردار ولیر بین 
میر: ٹھااسی نے انیس مع کیا تھا۔ یں ىہ بائ اسات ش٢ش‏ ہ دشمنان رسول لن کے سردار 


۸۲ 


زا کا ما ےا کو کل ما ۴۷ کر تک 

وو اغبٔذ رَبُک عتی يک الین 

اود دی بیے جا اپنے رٹک ء ج بک کآئے تیرے پائس فی بات ۔ 

نی موت, یق نکا زط دوسربی تک یق ہآن نے اسم یمجن میس استعا لکیاے وَ نا 
کب بی الین ححتی اسنا انی (بمثرہرکوغع۲)حدیث میں ایک می تک مہ تآپ 
ےا نے فرمایا ”ما مو قد جَآء ہ الین و انی لاز جو لہ الحْرَ“ جھہورسلف نے اس 
آیت ہیں لقن وی موت لیا سے مجن مرتے د تک اد کی عبادت میس گے رے۔ 

)+۳ و 
تام آئر وے خپارںٔ ماش 

شض عارن نے اس مہ شی نکوکیفیت قلویہ کےسعفی یس لیا ہے ا لک پذ جیہ 
روں اللعا لی میس ہرکور ہے دککچ کی جاے۔(تضیرخن) 

لیک ال لغ ومرلت کے ساتقھھ بی رھ کرت ےکہایدنقالیٰ کے سا دوصرو کو 
شر رن تھے میں ای کرفو کا عزہ ای اچھی جات ےگا ء اورجھی جورسول ایند ےکا 
اف وو ال ال کے سی اش کرجۓ ای کا 9-2 ہے یں خوب معلوم ےل 
ا نکی یکواں سے اے نی ہیں تکلیف ہوئی سے ول تک ہوا ےک نتم ا کا خیال 
ھی .کرو ۔الڈد تال تمہارامددگار ہے تم اپنے رب کے ذکماورال خوش گی 
روہ ا سک عما دت تی کو رک رکرو نما زک شال رک سخ وکرنے والو ںکا سا جو رو_ 

مندراتھ میں ےک حور لاف ماتے ہیں الڈدتھا یکا ارشاد ‏ ےکہاے ای نآ وم ! 
شروں وک چاررکعت سے عازن ہو میں ےآ خردن مج ککغایب کرو ںیا تضمور ا 
کی عادت مپارک یش یکہ ج بکوئیکھراہ ٹ کا معامل ہآ پڑت نے آپ نماز شرو ںعکردیے۔ 
لقن سے مرادا ںآ خی آیت یں موت سے ءا سکی ولیل سور مد ڑکی دہ یجس ہیں جن 
مں بیان ےک تھی 1 ہراتیاں ا کرت ہو ۓگہیں ج ےک ہم نمازی و رت 


۸۵ 


مسکیٹو نک وھ نے تھے یہاں ‏ کک مو تآگئی۔ بیہا بھی مو تکی عچکہ لفطا یقن ے 
ایک عدیٹ می بھی ےکرحخرتعثان بن محواغ کے اتال کے بعد جب تضور پل 
ان کے پاس گے نے انصا رک ای کعورت ام العلاۃٗ تن کہا اے اوالسا حب ! اید ای کی تج 
پررینیں ہوں 9+ 2 ععز تکی ۔حمور چا نے بی نک فرایا 
کے سے لیقین ہہوگیا کہ اللہ نے اس کا اکرا مکیا۔ انھوں نے جواب دیاک ہآپ پا بہ 
میرے مال باپ تر پان ہہوں پچھرکون ہوگا جم سکا ارام ہو؟ آپ چا نے فرمایا سنو! ا سے 
مو تآ ہچگی اور جھے اس کے لیے ھلاک یی امیر ہے۔ اس حدبیت مم بھی مو تکی لہ 
نک افظ ہے۔ ا ںآ بیت سے اسنولا لک امیا ےکہنماز وخمبرہ عپادت انان رش 
سے ج بک ککہائ سکیل بائی رے اور ہن وحواس خایت ہہوں ہشٹیی ا سکی حاات ہو 
ای کے مطابق نماز اداکر نے ۔حضور لا کا فرمان ےک کھٹرے ہوکر نما ا اکر ناء تہ 
ہو کے لو بلٹچھکرہ نہ ہو کپ وکروٹ رلی ٹک بل نمرہبوں نے ال سے اپبنے مطل بکی 
ایک با تکھٹڑکی ےک ج بکک انسمان درج کا لیکک نہ یئ اس پرعیادات سا قط ہوچالیٰ 
سے۔ ساس رکف رضلالت اور جباات ےء پ لوک اننا یں یگنت ٹک انمیاء او تصوصا سرور 
انی شیہم السلام اورآپ چا کے اصححاب محرفت کے قمام در بے ےکر گے تے اور رای 
علم وعرفان بیس سب دا ہن کان تے۔رب تما ی کی صفات اور ذا تکا ا ھہ رہ 
عم رکھے تھے پاوجوداس ھ- سے ززیادہ اا نا کی عحباد کر تے جے اوررب تحا لی 
کی اطاععت میں قمام دٹیا سے زیادہمشخول تے اورد نیا کے خ رکید م تک اسی میس کے ر سے 
یں خابت ہ ےکہ یہاں مراد لین سے موت سے تما مق رین صا ہہ وتا مین ویر کا کی 
رہب ے۔ فا مال ۔الدتھالیکاشکرواحمان ہے۔(تخیر رب نکی ) 
لئ نکر کاعم 

بٹوکی وغیبرہ ے حطرت ججبیرب ن نر دی کی ردایت سے میا نکیا ےکہ رسول الد 

ےئا نے فرمایا: جے مال ش کرنے اور تاج بن جان کا عم بذ رکعہ وک یکییں دیا گیا بلنہ 


۸٦ 


میرے پاس نود یت اگ یک فَسَبَخ بحم رَبَکَ وَحُنْ مِْ السْجِیَ وَاغبْة 
رلک سے تا کے ا رع ای س رظ سے اور کر 
مینڑ ت ےک یکھوال اوڑ ھے اور ا سک نطاق باند حے سام سے تے ہو ۓ رسول اللہ ےتا 
نے دک کرفر مایا :ان سکو وھ ایند نے ال کے و لکونوراٹ یکردیاء یش نے وو وشن گھی ان کا 
دیکھا تھاکہاس کے ماں پاپ ان ںکوای یس مکی خذاکھلاتے پلاتے تھے ایک جوڑااس کے 
برن بر دوسود رر م کا ا نان ا اور الد کے رسول نکی عبت ےا نک برعال ۷ری 
جقہارےسا سے ے۔(تفی رظ ری ) 
دا 3 است وفار دا مہ كُ 
یں دریاۓ فزر رت ٴ نہ میط پلک جاے یت 
واری آںل سلطنت کہ ور نظرت نخان در حاے ‏ یست 
(معارف ال مآ ن کا زرعلوىی) 
باب : رق میک یَقُوُوا: ا حَوْل ولا قَُةَإِلّا باللھ...م 
پاب :ای امم تکولاحول ولاو الا پا دکی جاکیرجیچے 
)٥٤٤(‏ للدیلمی عنہ (أبی بکرنٹٹ: 
”>قُوْل الله عَررَجَل: قُلْ لیک بَقولو :لا ول ولا قوَةَِلَ باللہ 
عَشْرَا عِنَ الصُبَاج و عَشْرَا عِن المَسَاءِ وَ عَشْرَا عِند الوم : یدع عَنهُم عِن 
النوُم بَلُوٌی الاُنيَا و عَِنْة المَسَاء مُكايَدَةً الشْیْطان وَ عِنْدَ الصَبَاح اَسُوَا 
غضبیٔ:“ [َضعیف](کنا تی کنزالضال ۴۷۰۹۷7۷) ۱ ۱ 


لاحول ولا قوٰة کی برکت 
(۴۰۹) تر جج : رت اروگ رص لق داد سے روابیت سے مع یل مد دفرماتے 
ہیں :اےمجھ انی ام تکو ادج ےکلہ لاحول ولاقوة الا باللہ دس مت میں 


ے۸ 


وس ھرتتب ام میس اوردوں مرتبہسوتے وفقت پڑھل اکہرےء دیں مر رسوتے وفقت بپڑ صن 
سر ڈن رغرل اٹل اور ان جو اورشا مکووسں ھتہ پڑڑ ےکی برلت رے 
شیطالی دموکہ وفریب سے بچالو ںگا اور کو دس بارکی برکت سے میں اپنے خیبا وفضب 
ےنات دو ںگا_ 
نکیا او رخ زان عنل 

کر :لاحول ولا قوةالا بالله خیب کے نزانہ سے ے اور ہرمک ل کال سے 
اور بر اٹ وامھ نکا علاع ت ماقی ےکا لککمہ کے ذرلیجہ بنلد ہ اپنے تما مہما تک ایک 
مکی رقوت صا کے تر ررت کے جوالگرو یا ہے اورائ لحم کی عد جیث پاک میں فضل تآلی 
2 تعا لی و(ھ+0 پیارے رسول ۰ 7 ین ان 
اد پڑھل اکم میں فے ا لک برکت سے می رے قب روحضب سےتفوظط ہہوچائیں کے اورشا مکو 
پڑ نے سے خحیطالی حا لوں اور جالواں ےتفوظط ہوجاٗیں کے اورسوتے وقت پڑ نے سے 
دمیا کے تر فینوں سے نے جائیں گے اورم کن انسا نکواں سے زیادہ او کیا چا ےکہ 
شیطان سے نی جا نمو اک ایمان 0 و 
جس مردم وک نکا سرمابیہ دمابیٛ کا جفیاد پر فلا دارین مروف ہے وہ شیطان سے پا 
سے۔ دوسریی طرف ماد میا کی ملف شکلوں سے فاخظت تما مآفات ورکیات سے نحجا تک 
نل خر اورسکون اشنا نکیا ضاشن ے اور پگرتقن بل مر کے قب روغحضب سے کے جانا و 
مراد بعشت اخمیاء ہے ج سکی خاعراولیاء ران ںکوببلاتے ہیں بمتروں پک روٹس بدل 
پر لک رکا نے ہہوۓ اشھتے ہیں ایل درب الا ئا نک رحرت للا یا نکی امم کوشا تکی 
تام نم ری ال نے خود جلا دیں۔ انس پرنھی اگ کوک ی ان ریمتوں سے لطف شا ھا ۓ و 
ریا نک س تا ے۔ اللئیی اعمال صا ل کی نشی جنشے .آ مین ! 

لاحول ولا قوۃ الا باللہ کی قوت تا تیرکاانداز ہآ بیت دو مَنْ بی الله َجْعَليل 
ترجا یقن ححیث لا يب۱ کےعن میس اما قش نے ہوکھا سے وددیکھا 

۸۸ 


الما ہے۔ححفرتمچردالف گال نے ا لک کو پاچ سوبار پڑھنا مشولات کے دح کے لیے 
ت با قکنھاے او رماع کراب سلوک کے را وکی رکاوٹس دورہوثی میں اور حا تک یکا ورواز و 
کت اد رین کےدٹع ہیں ہشیت لب اون کے لےازعدعفیدے۔ اف 
َفقَ لِمَا تُب وَتَرعلی بکَولک وَقُوِّک فَله لا حَوْلَ ولا قُوَة الا باللہِ 
باب : لَما تَوَّلّتٍ الُحَمُة لله رب الْعِلَمِینَ و آَة الَكرْهِیٌ 7 
پاب :جب سور؟ فا تراورآیۃ اگری نازل ہولی 

)٦١٤(‏ للدیلمی فی مسند الفردوس عنەرآبی ایو بن لاں: 
وَ”فْراللهُمَ مالک الْمْلَکِ“ إِلی ”بعَیْرٍ جسَاب“ تعَلَقْنَ بالْرشِ وَقُلنَ : 
لت لی قَوْمِيََملوْىَبمَعَاصِیٔک؛ فَقَال: وَعِِی و جَلالی وَارتفَاغ 
مَکابیلَانَْلوْكُيْ عنْ ذبر کل صَلاومَکمَْْإِلّ عقرّث لا کاو فی رَ 
كت جََة روس و لَظرث إِلیْہ کل يَوُم سبْعيَْ مَوَة وفَضَيت ل سبْعینَ 
حَاجّة اڈُناهًا المَغفْرَة. (کمافی السلسلة الضعیفة للڈُلبانی ج )٦۹٦۹/۳‏ 
جن بل مر مقر بارننظررجمت ے دکنے ہیں اورسترعاججت لو دک رت ہیں 

)۴۱٣(‏ ت جم : حضرت الوالیب یلاہ سے روایت سے جب سورق فاتمہ 
”الْحَمْد لہ رب الَعْلَمیْنْ “ اورآ بے الکری اور شهذ ال انه ا إِأ ال هُوَ اور قُل 
الله نال ا کے سے بقْ جتساب کک نازل ہوئی تما مآ یی رش ےل 
سکیس وع سک رنےگھیں. ارت ااخزي فآ پ نے نے ہن کوا موم پنازل اما اس چو مات یکا 
انا بکر ی ے! 

نی بل میرہ نے ارشادفرمایا: بھ کو می ری عمزت وجلال ہ بلند مکا نک ام٠‏ جب 
چھ یکوکی بند و فرش نماز کے بحعدتتبرکی حا ور کر ےکا و ٹیں ضرورا سکی مفظر کرو ںگاء 


۸۹ 


اد وو جیب اکسا ہہواورٹیں ال ںاوضرور جشت الفمردوں ٹیل دا لکرو لگا اورروزاش رش سر 
ا تظررحمعت سے ا لکودیکھو لگا اور ںکی قح جنیں وی یکرو ںگااوکم س ےکم دجہ ہے 
ےک ہا کی مخفر تگردو لگا۔(سلسلة الضعیفا للالبانی ۲ )٣۹۹7‏ 
باب : إِنٌ فَاتَِحة الُکتاب و آیَة الْگرّسِی - 
باب: فاشراورآیے ای او رآ لگمران فخیلت 

)١١٤(‏ عن علی ابن أبی طالب لہ قال: قال رسول اللَهة: 

”ان فَاِحَةالکتابِ و آيَة الكرسِیٗ وَ ایی مِنْ آلِ عِمْرَان: 

طهْهھد للَه ان لان ِا هُوک (ال عمران: ۱۸) 

طف اللّهُمْ ملک الْمُلکِ ہہ (آل عمران )۲٢:‏ 

لی قلہ: 

٭وترْزْق مَنْ تشَآء بغیْرِ جسابِ؟ 

لاف یا رت لشحقت لم ارد الله ا ره نعل 
بِالْعَرْشٍِء وَقْلْیَ: یا رَبٌانَهُہطَنَ إِلی الرْض وَإِلی مَنْ يَُصِبیْک. فقَالَ الله 
مَقْوَاه عَلٰی مَا کَانَ مِنه و إلَا أَسْکَتّه عَطِیْرَة الْقّذُسِء وَإِلَا نَظُرُث إِلَيه بعَیتِیٔ 
الْمَکَنْوْنَة کل يَوُم سَعِينَ نَظرَةوَإِلَاقَضَيْث لَه کل يَوم معن حَاجَةاذنَاھا 
لْمَعْفرَۂُوَإِلَ اه کل عَدر وَتَصََنه من ولا يَمَکة بن دُخُزْلِ الم 
لا الَمر گر اضر ساب السی نیع ایرموللل ۴ ۱( 

وسحت رز کا ےئ 

(ا٣)7‏ مے: حضرت لی بن الی طالب یل سےروایت ےک رسول الد پا 

نے فرمایا: ےیک سورہ فاخخ بآ یی الگریء اورددٴی تآ لگرال نگی- 


۹۰ 


طإمَهة الله انَهلَإله إِلّاهُوَہ رآل عمران: ۱۸) اور 
ُلِ اللَهمٌ لک الّمُلک' ے 'و تَرْقی مَنْ تَشَاه بغَیْرِ جسَاب تک ۔ 
(آل عمران )٦٢٢:‏ 
تا ہے وا لی ہیں۔ا نیآوں اور رب تارک تما ی کے درمیا نکوٹی تا بگہیں- 
ج بت تھا ی نے ال نآ یو ںکوا ارت کا ارادہ فرمایا قَ سآ ءیقیں عرش سے لککیس اورعض 
کر ےگا ںکہ: رٹ العز تپ پع کون پا تارر ہے ہیں ان بندوی کے ما بت 
کی محصی تکریں گے رٹ العحزت نے ارشادفرمایا: یش نب کھای ےک جو بند ھی 
انآ جو ںکو ہرڈری نماز کے بح پابندیی سے لاو تکر ےگا و بی ال کا ٹمرکا نہ جم تکو 
بنا ںگا۔خواہ دہ جیما تسا ہواور ال کو این تظیرة القیس میس عچلہ دو ںگا اور ا سکی مت 
عاشٹیں پر یکر ں گا او رکم مم رجہ ہہ ےک ال کی مغظر کرو لگا اود رون وبرخواہ 
سے پناہ میس رکھو لگا اوران بر ان سکو الب دکھو گا مرتے بھی جنت ٹیں دائل ہوجاتۓ 
آلماکفرکا الس تی عل الس لتطا ص۷۰ 
تیر القرس میں کان 
ام فو نے اپنی سد کے س ات ینف لکیا ےکہرسول الل چا فانے رما کین تھی 
کا فر مان ےکہ وش رخرن ‏ نماز کے بعد پور ی سورہ فاشھراو ری لری او رآ لیعمرا نکی 
تنآ ہیں ای کآ یت ہے الله ان لال ال ہو آخرکک ۸ااوردوسرے ۳۷ او رتیسری 
ےآ یتلژ نآ یت /۲۶/٣۲۹۸۱۸‏ قُلِ اللَهْمْ ملک الْمُلکک ے بغیٔر جسّاب تک 
پڑھاکمر ےو بیس ان کا کا نہ جنت میں نادو لگا اورا سکوتظیرة القدیس یی کلہدو لگا اور 
ہرروز ا ںکی طرف ہت مت نظ رص ت کرو ںگا اور ا سکی تر حا شیں اور کرو ںگا۔اور ہر 
حاسدراور وشن سے پناددو گا اوران برا سکو الب رگھو لگا( مارف القرآن مطقئ شج :/ءم) 
تق مآ ے۹اءکی بات ہے کہ بندہ مت نین اشرف دارالعلوم دیو بنلد میں زمر 
یپ مک پہلا سال تھا جلالین جلد ال حضرت مولانا صوئی فی امن کے پا تھی جب 
۹ 


بآ یت آگی ذ مولانا ھرعوم نے دوران درس بعد بیے سنائ یی ان دش تی می نیس 
تھی رر ےن ایک طااب علا :یش یکس پن لکروں .ہج تھالٰٰکککس قرشکر بچالاؤ ںکہ 
ان کی برکت سے اس عاجز وا مکوہی نیس ؛نقی کے بل خائدا نکوا کی برکت سے نہ 
2 9 ے واڑا رجت بل مرہ کےننظررححت میں مرورو 
ملین ے۔ 

دوستو! اللہ پاک کےکلام ٹیس مکی ججی ب می العقو ل جا شی رموجود ے۔ لین و 
استقامت چا ہے ۔ الل کا کلا مکسے بے اثر ہوسکنا ہے! آپس یکوکوئ یگنر یگالی دی فور 
ال کاچ ہتترہوجا نے رنگ دروپ بدل جانا ہے۔ ج بگنرےککمات میں انقی نا خر 
ہے رٹ ذ وا لا لکا لا مکتا پا خی رہوگا ہگ سو ںکرنے والا ول اور د یھن دای کیہ 
ای اورایماان ولیشین کے ساتھ پٹ ھن دالی زہالنں۔ 

باب : إِنَّ مُوّسٰی بُنَ عِمُرَانَ لَقِی جبْرَائیْل فَقَال ل... 

باب :موی ا سم حّت ہت 

)١١٤(‏ للحکیم الترمذی عنەرابن عباس ذد): 

”اك مُوسلی بٔنْ عِمرَاىَ لی جبْریْل فَقَال له: ما لِمَنْ گرا آية الْكَرَسِی 
کاو کُذا َو فذکر نَوْعاِنَالَاجْرلمْ فو عَلَیْه مُوملى فَسَْل رَبَهُ الا 
يُضعفہُ عَن ڈلکء مه جيریْل مَوَة آخحریٰ قَقال له: رَبُک یَقُوْلَ لک: 
مَنْ قَال فِيٗ ذُبْرِ کل صَلاو مَکتوْبَة مَوَةَ وَاحِلَة: للّهم نیتم لیک بَیْنَ 
يَدَیْ کل نَفُس وَلْمَعَة و لَحْظَووَ طُرُقة رف بھا مل السمَاوَاتِ وَاَهل 
رض فیٔ کل فَ٤‏ هو فی ِٰمک کا او قذ کان أَيمََِکَ بَمَ یه 

اللَهُلا إِله إِلّا هُو الْحیٗ الفْوْمک 


رر 


لی قوه: 

طوَهُو العَلیالْعَظِيمي (البقرۃ: )٥٠٢‏ 

قب الیل و اھر اَربَعَة و عِشْرُوْنَ سَاعَة لیس مِنھا سَاعَةإَِايصْعَةُ 
إلَی مِنْے فِيْھَا سَبْعُوْن اَل اي عَسَیَوعَتی بُنْفَخ فی الصُْر وَتَتْعَفل 
الْمَاْكة “ [صعیف جدا] (کما فی کنز العمال ج٢ )۳٣۷۸/‏ 
فرس نماز کے بع رآ لکری بے ھن وا لن ےکوسا تکروڑ و اب روزانہ 

غیامت کک تار ےکا 

)١٢(‏ ہج : رت امن عباس لہ سے ددابیت سے ہ موی بک نعمرران تل 
علیہ السلام سے لے ء موی علبرالسلام نے حضرت جق تی ے عم سکیاکہ زج بکولی بندہ 
آۃ الکری اتتی اتی بار پڑ ھتاہ نواس کے لی کیا ہے؟ نو اھوں ن ےکہا: تنا انا اب 
کیا (ایک حصہ اج وو ا بکا کر ہکیا) جوم وی علیہ السلا حس نکر برداشت شر جے۔ 
(ی]نی اس قدرزیادٹی ٹذاب پر جران رہ گئے )موی علیہ العلام نے سوا کیا ہکیا اس سے 
زیادوڈو ا ب یں ئل سنا ؟ پھر چربیل علیہ السلام دو باروتش ریف لاۓ اورفرما اہنت جل 
دہ ارشادف رما تا ے: ور ا ا ا 0 
ات 

اَلهُمَإِنَیاَقهِمإِلََکَ بَيَْيَدَیٔ کُلٍ نَقَس وَلَمَعَ رَلَۂ لحَظة و طرَقَةِ 
یَطَرْف بھَا أَفلُ السُمَاوَاتِ وََلُ اأرْضِ فیٴ كُل شَيِْمُوَفِیْ علیک 
کاب أَوْ قد کا اقَدِمَ إلّیک بَْنَ یی ڈلیک کہ اور یھ رآ کریء الله لا الہ 
الا هو الحی القیوم ءے العلی العظی مک 

( تر جمہ: اے الیدا بیس چپ ںکر ربا ہو ںآ پک جناب میں جو پچج گی ےکی 
روں) کات ہرنہ وفحظہ اورخام ز مین وآسما نکی حرکتہ اور ہر نز جو تیر ےلم میں 


“۳ 


ےہ جووجود می سآکر ہوچیء اور ہونے والی سے تھا مکی تھا مکوآپ کے لق ربا نکرتا 
بہوں اور ںکرتا ہوں _) 
نڈبے شک رات ودن کے چومی ںکھنٹوں سماعنوں سما تکروڑ شیکیاں نکی جاتی ہیں ء 
یہا لم ککصصور پلوڑکا جا ےگا اورفرمحتے مشخول ہہوجانیں گے ( لی فرش بروز قیامت 
جب اعمال ناے اانے میں مشخول ہہوجایں کے اس وشن کک بوقام خیکیا ںاھ جان 
رہی ںگی)۔ 
آ یت الکر یکنماب اللدکی سب سے بک یآیت سے 

آی الکری ان مآ بی تکاب الد ہے۔ ا سآیت میں بل مر ہک یکرت شان 
و حید زات اور ا کا 077 وجاال ال صنات وکالاتء ایت محظمت وفضیل تک یان 
ہے .ایک مس ن ےکہا حور اق رآ نکی آی تکو نکی بہت بڑکی ہے؟ آپ نے آیے 
الکری پڑ ےک رائیٰ۔(طرین) 

آی الاری کے فضائل 

طرت الارے واظہا نے رفایٹفٹ 08ے الد ےا نے فرماباء سورہ بقرہ 
ای کآیت ہے جوقا مآ ات قراٰی گی سردار ہےہ دہ آیۃ الاری سے ج سح میس وہ 
پڑھی انی ہےء شیطان اس سے ئل جات ہے۔دترصحابہ سےبھی منتقول ہے تھا مآ چو کی 
سرداراورسب سے کی آ بی تآ بیت الگری ےی رر 

رعول اللہ لان سے در یاف تکیاعگیا ق رآن میں سب سے بڑم ھک رحظظمت وا یآ بہت 
کو نی ہےفرماا: آت: الری ۔ من لک ایا سب سےٹشلمت والی سور تکو نکی ہے فرمیا: 


قُل هُوَا للَهُاَعَد_ 
ایم نشم اوراس 217 
رسول اللہ چا نے ارشاوفرمایا: ان دونو ںآیوں میس ال تھا لی کا اعم انشم ے۔ 


اج 


مرف ہر۸ وی تا 
قو لکرتے ہیںہ دو تین سورتوں میس ےء بقرہ ہآ لپ عمانء ط۔ بقر ہکی آبیت الگکریء 
اغ ا کے ئک و عَنتِ الَوَجُوَه لِلحَیٌ الْقیُوُم ے۔ 

ضر تی علی السلام جب مردو لکوزن ہمہ ےکا ارادوفرمائے لو یا حی یا یو 
پڑت ھکردعافرماتے_ 

آصف بن برخیانے جب شش ںکا عمش لا کاارادہکیا نو یا خی ا وم بڑھ 
کمردھا اگگی۔(قرٹی) 

بیت الک ر یک ایگ ز ان اوردواب ٹں 

حطرت اپی می ننکحب ری الد عن کی روابیت سےکہ رحول اللہ چٹ نے فرمایا 
اوال ماد تال یک یکنا بکی سب سے زیاددحظشت ۶۹۳ س0 
کیا الله ا الله ال ہو ای الْقَِو تضور الا نے مہ رےسدن پر ہن مارااورف مایا تھ 
یلم مبارک ہو پلرفرمایاششم ہے ال کی جس کے پا تس میرک جال ہے+ ا لآ ی کی 
ایگ زبان اوردواب ہیں 

عرچگی کے اہ کے پا فرشتت ایلرک پا میا نکتا ہے۔(مسم) 

رشن انآ کی اذ تک سے بل می کی نی کے ون 
بی س ےک عم مال میس ہر چچزکی ایک صورت ہے یہا ںی کک یق رآ نکی اور َ 
کی اور رمضما نک یھی عالم مال می ں لیس ہیں وارہ اعم 

آبیت الا ری ڑ سن کے و اد 

روگ ڑکا نے خر مآیا: جوف ہ رڈ ور ز کے بدیت اکر پڑ ےگا ا سکوموت 

گزز کے نے اھ کک رواش ے چوس 


ما 


سوتے وفقت بستزپرآ یت الکری پڑ تھےگا اید تالی اس کےگھ رکوہ اس کے سار کےگھ رکوہ 
اوراروگمرددوسر ےگھروالو لکوء انی امان شی رگا 

تی نے شحب الا مان یں حظرت ال کی مفو روابیت اش لک ےکہ ہرفض 
نماز کے بح دآیت اککری بپڑ ھھےگا اللہ تی ای نما کک ا ںکا حافط رس ےگا اور ا ںکی 
پابنلدیاصرف ‏ یرتا ہے یا صدق یا شبید- 

رسول اللہ ہقالانے فرمایا جرب نے کم ججھ س ےکہا جن یا شی طا ن “ہیں فریب و 
دع وکا دے ےک یکعات 7 ربتڑے۔ اجب تر پر پا یاکر و آبیت ای پڑھ لیا 
آرف اتکی ء-.- .7 ے ہی کر ا 7ئ ڑھتا سے الد تھاٹی 
ا سکی مددکرتا ے۔( کرس تقایرا) 

تالق مز مرکا دل ے 

یت ال و نر کا فلب ئ") الوم بخزلہ روں اور چان کے ےء 
اور پائی آبات نزلاعضاء اور جار کے ہیں اس سورت کے تمام مطااب اک آیمت 
ےک تج ین شش ن رح اخضاء او انز َ عانع کے شنونع ور طلا نو نین انی 
طرع اس سور کی خی مآ یں لی اٹوم کے شون دمظاہر ہیں ۔ سور ابقرہ کےکئل حالیٹس 
روغ و کو اائس انی نک جن من رات اور ڈوکیت او تک زگال ۷ا ضرن ارہ 
ہو (معارف الق رآ نکا ندتعلویی مگرست٤۱۳/۱١)‏ 

جن مل مد :اعم اورا کی فدرت سے ہہ رج ام سے 

کات عال مک یکوکی چچزز وش ای ذات سے تقائھمکیں الد تالی بی ہر خ ےکا تقائم 
رگے والا سے نات اپ وجور ورتاء ٹین ان نے کن ار تا کنا مہیںء 
مکزا تک حیات اوروجوداسی واجب الوجودکی حیا تکا ایک او یعس اور نے سے خوش 
یکین تا لی تام عا مکا قائم رن والا اود ا کی نکر نے والما ہے ایک بھی ن یر 


اھ 


سے ال نئیں اورذ رہ ذر ہکا ا ںکاعم از عحیط ے۔ 
رٹ ذوالیلا لکاعلم ذاقی اورتام ے اورفلوقی کے تمام احوا لکوعحیط سے جوا سکی 
وعداثیت اور قومیت اورکما لمت پردال ے اور بنرو ںکاعلم تما یت ںیل اور ناتمام بللہ 
براے نام ہے ۔ یندہ رون ا سک یم کے ایک ذر ہکوشگ یکیس جان سا اورایک ذرہ کے 
بھی قمام احوال او رکیفیات اور جبات اورحیشیا تکا اھا نی سکرسکاء اگ ایک حا لکو چان 
تا ےن سو(١۱۰)حال‏ سے چائل اور ٹ ےنرتا سے اورا ںکاعلم ناقخیام احوا لکوصیط ہو 
انا سکی اجازت کےمک ن نہیں اس ل کہ شفاعت دہال ہوثی ‏ ےکہ جہاں شفاعت 
کرنے والا بادشا ہکواڑی ز سےآ گا ٥کھرس‏ ےکن سک بادشا ہکوخم رنہ ہو یا اس کے مف کی 
مکح تکیخ رنہ ہواور بارگاد رب الحزت ٹیش ہہ پالمکن ےکا کسی شئکیاعلم نہ ہواور 
ا سکی مالکیت خما مکا نات عال مکوحیط ہے۔ (کا نیاوی مت ا/٣۱٣)‏ 
باب : رَأیث عَليب با لِرّكيھَفَلمَا ا 
اب : ححخرت لی لاہ نے سواری کے وفت دعا پڑگی 
)٣١٤(‏ عن علي بن ربیعة ظللہ قال: رَأيْثٌ عَلِيا اي بابةٍلَِرّكبهَا لم وَصَعَ 
رِجْلَه فی ال کاب قَال: 
ری لد نو فا ال تل ناو الَذِیَ سخ 
ا هلذا وا اه مق وَإِن لی بَا لمنقَلِوْْ, تم حمة اللهَ فان کَمْر 
تَلاناًء تم فَال: سُبْحانک لا إله إِل انت قَه طَلَمُثُ نفَِیٗ فَاغَفْز لی نُمَ 
جک فَفْلَك مِمٌ صَجِکُتَبَا ایر الْموِیْنَ ؟ قال: رَبث رَسُوْل الله ا 
جب الوب مِنْ عَبّدهإِذَا قال: رَبٌ اغفِر لی وَیَقُوَ: عَلِمَعَبدِیْ اه لا يَهمر 


2و یم 
الڈنوب غیری.“ [ضعیف] رأخرجہ أحمد ج 2۵۳/۲) 


ے۹ 


سوارہوئ ےکی دم 

(۳٣۴)تھ‏ جج :صلی من رببعہ ططدروابی تکرتے ۰ی ںکمہ میس نے علی بین ای 
طاابےگود یک ھا کہ جب سوارکی پرابناقدم رکھانڈبمسم اللہ پڑھا۔ بچھرجب اس برنھیک سے 
لیے لوہ کا لی سَعْرَ لنا ھذا وما کنا لە مُقرُنین وإنا 
الی ربنا لمتقلبوء رن پار الَحمڈ للهکہاء بر اللہ اکب رن ہار ہر سبحانک 
لاإله إلا أَنتَ قد ظلمث نفسی فاغفزُلی کہاءچ4لٹے_ 

یس ن ےکہا: امب رالم ون نیلندآپ نین ےکیوں؟ انھوں ن کہا :میس نے رسول الد 
چا کواسی طر حکرتے دریکھاء نس رب میں ن کیا ۔ بجر بن ے نو میں نے سوا کیا : آپ 
مس جات پر مضے یارسول اللد ےا نذ رسول ادلد پلللانے ارشا دفرمایاکہعن بل مرہ اپ 
0 ہے خو ہووت میں جب بن ہکتا ےت اغفسزلی جن مل رہ 
فرمااے: مبرابندہ جا تنا ےکمرااس کےگمنا ہی مففرت می رے سو اکوئ یی ںکرسکتا۔ 

(اتر,ٍا۵۳/۳7ء) 

ٹن نا کی جااب ے جانوروں اورسوار یو ںکینقت 

پایو ںکانقت ہونا تو پالئل ‏ اہر ےک دہ انمان 7ئ زان طاشور ہو ۓے 
ہیں نان الد نے یں انسا نع کے گے ایا رامکردیا ےک ایک بھی ان کے منہ میں 
گام با اک می سکیل ڈا لک جہاں چا تا ہے یں نے جانا ےءاسی رح دوسوار یا ںبھی 
ا دکی بڑئینحقت ہیں جج نکی تیاری میں انسا لی صنح تکودنل ے۔ ہواکی جہاز سے نےکر 
معمولی ساشگل کک پرسماری واریاں اگ چہ بظاہر انسان نے خود بنائی ہیں ین ا نکی 
صنحت کےط یق مچھانے والا اتی کےسواکون ے؟ 

یروہوتقاوورلق بی نے سے جس نے انساٹی دما کودہ طاقت عطا کی سے چولو ےکو 
موم بناکمر رک د تی ہےء اس کے علا وو ا کی صنحت میں جو نام مواواستعمال ہوتا سے وہ اس 
کے خوا۶صس وآ شارت راو راست ال تھا لی ب یکیاحلیق ہیں_ 

۸ 


ت٭0 وقت الل کا اسان دی ے پا درو 

چو پابہ اضق برسوار ہوتے وفت اکا احسان دل سے اکر وکہ جوا نے اس 
ند رق ہی اور ہنرمند بنا کہ ان یمٹل وخ بیرسے ان رو ںکو ا لوش ۶ و“ 0 
اتا ی)خل سے ورن ہم می اتی طاقت اورققدر تکہا لع یکہ ای ای رو ںو خر 
مر لیت یزد باد کے ساتھز بان سےسواریی کے وفت دعا کا اما مکنا جا ہیے۔ 

ه۶۷"ھ 0 

کاب الا ذکار والا دعہہ ین بعد بث ےک ہآ حضرت بڈلاقانے فرش رو ںکمرتے 
وت سواریی برسوار ہونے کے بعد پیککمات دعائیہ پڑت کی ہدابیت فرماگی ۔عبدایڈد نگ 
ے رواہت ےک ہآحضرت ا جب سواری برسوار ہوتے تو مین ا ررض با 
نعل فرہاے ء ایک پارلا الہ الا الله اورایک روابیت میں ےک لا إلٰه الا 
الا گ7 ناکرا تم لے نخان الَزَی مَفرتاطتظت۔اسن 
کے بعد پیکمات فراے الله اِنِیْ اسفَلک فی سَفَرٍی هذًا مِنَ ابر وَالقُویٰوَ 
مِنَ الْعَمَلِ مَاتُحبٔ وَتَرْطی اَللهُمٌ ون عَليَْا السَفَر وَاَطُول البعْد اَللَْمَ 
نت الصّاجبٔ فی المُفَر و الْحَلِیقةُ فی الال اَللّهم اِصْعَبَْا فِیْ سَفَرنَا هذَا 
وَاخلفنا فی اَهْلنا . (معارف کاندھلوی ج ےء ص ۲۸۹) 

سفرے وا لہج یکی دیاء 

جب سخرےآب ںالک کی طرف لو تفرماے: ايیُونَ تبون اِنْ شَاءَ الله 
عبلدُوْنَ لِرَبَتا امو ہج وائیں لوٹ وا نے .لو کر نے وانےء ان شاءانڈرعپاوتں 
کر نے وانےء اپنے رب تال کیتھ ری سکر نے والے۔مسکمابوداوددضسائی وخیرہ) 

سواری کے وفقت دعاڑ ح نکی حکمت 
ااوالا س خزاگی نفد ظرماتے ہی نک صدقہ کے اونوں میں سے ابک اٹ رسول 
۹ 


اللہ ا نے ہما رکی سواری کے لیے یں عطاف رم اک ہم اس برسوار ہوکر کو چائیں۔ جم 
کہا یا رسول ال چا بیس دب ہک ہآ پ_ئیں اس پرسوا رکرائیں ۔آپ چا نے فرمایا 
ہراون فک یکو بان میں شبیطان ہہوتا ہے اورم جب اس پرسوار ہوقے ی٘س طرح میں یہی جم 
دیتا ہوں انل تھا یکا نام یادکرو برا سے این لیے نام بزالدہ یاد رکھو ای تا لی بھی سوا کرتا 
ے۔(منرا7) 

رت ابو الا کا نام مر بن اسود بن خلف سے لہ ۔مسن دک ایک اورحد بیث مل 
ےتضور پڈلےلافرماتے ہی ںکہ ہراون فک یھ پر شحیطاان سے نتم جب اس برسوا ری یکر ول 
اتال یکا نام ل کرو بچلراٹی عاجنوں می کی شکرو۔(تقی راب نکی ) 

صاح بعف ل کا کام اورم ین وکاف رکا ذرقی 

ایک صاح بقل وبابہش انما نکا کام بی ےک وہ میتی کی نت ںکو استعال 
کرت ہو ۓنفلت و ہے پروائ یکا مظاہر ہر نے کے ہججائے اس بات پردیان د ےکہ 
یرجھ پراندنتا یکا انعام ےنا بجھ برا کے رکی اوا کی ادرچھز ویازک اظہارواجب 
ہے نیز ایک من وکا فی در یقت کسی فذرقی ےک کا تا کی تو ںکودونوں اتال 
کرت ہیں میا نکافر ھی فلت اور بے پر وای سے استتعمال رتا سے اورم وین الد تال ی 
کے انتاما تک و شحض کر کے اپناسر شیاز اس کےتضمور مرکا دا ے۔ ای مقصد کے بل ےق رن 
ور بہث می سگخخل فکا مو ںکی اضجام ددی کے وقت عب رش کر کے مض مین ٹفل دوائمی ںین 
گی گئی ہیں۔ او راگ انسان اپٹی روزمرہ زندگی می ات بی لت بچھرتے ان دعا و ںکواپنا 
ول بنا نے لو ا ں کا ہرکامعبادت اور ذ ج٤‏ آغرت مجن جائے۔ اور فک رک کی زی 
تی رکا فمونہ ہوجاۓ فلت سے ہونش درو مکا الف وس رور حاصل ہوجاۓ ۔ جوکام خی ر 
عادک رتا ےءایمان والاعہاد رتا ہے۔ بی فرقی سے سلمان اورخی سمل کا۔ وا لالم ۔ 


سے 


باب : أم ام سُلیم عَدث عَلی التبیْ ظ8 قَقَالَتُ : عَلمُنِی 7 
باب :ام لی ححضرت لا کے پا سکیس اورف مایا مک پھسکھلا دمیی 

3 ۱) عن انس بن مالک 8ڈ : 

7 ام سلَیْم عَدث عَلی ابی :8 فَقَالت : لی کَلِمَاتِ اَقوَّهَْفِیْ 
سح : ری الله عَشَْااَمبُجی الله عَشْرَ وَاحْمَِبہ عَمْرَاهْ 
سَلی مَا شِتٔتِ. یَقُولَ: نَم نعَمَ.“ (حسن] زاخرجہ الٹرمذی ج۳۸۱/۲) 

]ھ9 

(۴) تھ ججمہ : رت انس من ماک طول سے روابیت ےکا مسلیعم جلدد 
رسول الد ہگ کے پا ںآنیں اورفر مایا : پ کوچ صا دی نذ یں نماز ٹیس پڑ ول یاکروں۔ 
4 4 ٘۰۶۰۷۶ٰ۰,,,“ 
ا ار العد ٥ہل‏ یاککرو۔ ب رج چا ہو الد تھالی سے ماک لو ءال تھا لی فرماتے ہیں۔ 
تق !ہا دیاءہال دےدیا۔(7ذف۸۱/۷م) 

سیر قبولبت دواء 
سر ورس ہد رس سپ فقالت: یا 
رَسُوْل الله عَلَمیی کَلمَاتِ أدغر بھو. قال: 
”نْسَبَحِیْنَ الله عَزَوَجَل عَشْرا و تَحْمَیِبّة عَشْرَا وَنْكترِبّة عَشْرَانمَ 
سَلِیٗ حَاجَتکِ فَإِنَه َقُوْلَ : قد فلت قَذ فَعَلْتَ “ 
[حسن] (أخرجه أحمد ج ٣ص )٠٢١‏ 

(۱۵۱٥)ت‏ ججمہ :حضرت الس من ما تک دلاہ سے ددایت ےکم ا مسلیم نی ال 
ےا کے پا ںآییں اورف رما با: با رسول اللہ چا ا جج کو یج سکمصاا ومیں جس سکو میس یڈہ ہکر دعا 
انگ لی اکروں؟ نے رسول الل اف نے فرمایا: دس بارحائن اللہ یل بارائحمد لگ کہ ارہ 


٢ 


برای عاج تکو اللہ تھا لی کے سا نے یی ںکمردے۔ نے اید تھا لی فرما ت ےگا :ہاں !یس نے 
تیرکی عاججت پیر یک۷ردی ۔ ال ! تی عاجت لور قکردیی۔ (ا د۶ )٢۳١/۳‏ 
باب إِذَاقمْكَ مُت إِلی الصُلاۃ ةِفَسِبٌحی الله عَشُرا 

اب :جب نماز کے لےکڑہ کی اکر ون دس با ران اش رک ہلیاکرو 

)٥٤٤(‏ عن أم رافع ظللہ ُنھا قالت: يَارَسُول الله ذلِی َلٰی عَمَلِ 
َاَجرُنی الله عَلَيهِ قال: 

”ا ام رافع إِذا مت إِلی الصّلَاۃ فَيبٌجی الله عَشْرًاء و مَللِيهِ عَشْرَاء 
وَ كبَرِیْه عَشْرّاء و اسْتغفِرِیه غَشْرَا ۱ نک إِذَا سَبّحتِ عَشْرَا قَالَ : ھا لی 
وإِذَا هَللتِ عَشْرَا قَال: ھِذا لیٔ. وَإِذَا کَبْرّتِ عَشْرَا قَالَ: ھذَا لِی. وَإٰذَا 
حَمِدُتِ قَال: هذَا لی. وَإذا اسُعغفرُتِ قَال: قَذ غَفْرْتُ لک“ 

۱ [ضعیف](أخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة )٥٠٦/‏ 
۰ 
بی الچ ےکا أم راح کومفخفر تک خزانہ جانا 

(۱۹))ت مہ :ام راع رش اللدعنہا ن ےکہا: یا رسول ال جا کوگی ایال 
تلایں کہا تھائی اس پجھوکواج دے۔۔رسول الد لے نے فرمای: اےام را جب نو نماز 
03 یے کی ہواکروقووں پار مسحان الّهءد ہار لاالہ لالہ یں پار الله 
اکبر دس ہار استغغر ال ھکہلیاک۔۔اس کہ جب و دی مرحبہ سبحان اللہ سی ےکن 
الف رماناے:ہاں!ىمیرے لیے سے اور جب دی مریتہ لا اللہ الا الله سک ےکی ء ادف رماتا 
ہے :ہا برمیرے لیے ہے اور جب نو دش ہار ا لہ امبر کی ےکی ءالفرمات ہے :ہاں ىہ 
میرے لیے ہےاورج بتمیدمجنی احمد ال سی ےکی ءاڈدفرماتا ہے: ہاں برمیرے لیے 
ے اور جب اسنتفظارکر ےکی و الیڈفرما تا ے :ہال یس نے تب کی مخفرتکردیی۔ 


اترمخا اللی نعل قتولاَء-صہا) 


۲ 


ُخم راع ریشی ارڈعن اک وقبولیت دعا کال 

ام راخ نشی ایشرعنہا نے رسول اید انا سے سوا لیا ایال سکصلا دی ںک ریت 
یں اج وڈ اب لے اورام سلپ حضرت ال کی والددہ زشی انڈ ہما کی روایت میس سے 
کہ پگوکیات سکدا میں جن سکو میس بے تل ارول ء دووں روابی تکا حاص٥ل‏ ایک سے جس 
کے جواب میں رسول اد نے ام را کوف مایا کہ سے کے کھڑی ہواک رو 
ال یں پارء لالہ ال الله ا رس اور اللہ یں پار 
پڑھ مرو اچ ےنا کرو من کے جواب می ںجی بل مر فرماتے :ا بجر 
ےہ ہاں بی‌میرے لیے ء اور جب کے ہو اَمْغفواللہ فذر تکرب فرماتے ہیں میں نے 
تی مخفرتکردی_ 

اورححخرت ام می مکی روابی تکا حاصمل یہ ےکا الما تکودل دس باد پڑ ھکر 
0,0 

دوٹوں رواوں پگ لکرل اکر میں ۔یشنی رات یس باون میس ج بکھوانفل میں نے 
پیل بھی انچ یککما تکودں دس پا ریش اورنماز بحدشھی دس دیس پا کہ کر دھا ما تک ل ایی 
وعلی نور. ما زبھی قیول دعا ََ تام عبادا ت بھی قول ء اورآ پکی بجملہرحاجات 
گی برار کان نو یآ پکو بات ھآ گار کان سن سا ا مات 
اصا لیا تکرنا جا ہے۔ جوعوام می تع فاٹھی سے جانا جانا سے تمعلوم ب ما زعص اور بعر 
ماز چھ رج یکیوں لوگو کال سے کہ وق نمازوں کے بعدرا نکا ا نمام والتتزام ہونا 

٦‏ و سب معلوم نہ ہوسکا۔عمربوں میں بٹوقق نمازوں کے بح دکا 
نے ھی ھوں کے ییہا ںبھی بہونا جا ہبیے۔ 

ا یہو اکم ےکم عددالیا کٹ ا لَعْنْا 
لله ۳۳ءسْنْحَا اللہ۳۳ءاَللَة ابر ۳۴ ہار سے اوراس عدیث سے نماز کے بعد دعا 
اسیک بھی وت متا سے پا بدع تکپنا کی یں ءاورعد یٹ سے اکم یکی ول ے۔الہن 


۳ 


تن فر الس کے بورسطن ونوائل ہیں ا طبر مضرب عنام ضن ونواشل کے بحدکک ان 
لمات الباقیات ااصا لیا تکوموخ کیا اتا ے۔ اور غالبا ہار ےٹھوں بی حص روچ ر بعد 
اہی لیے الہاقیات ااصا لیا تکا التزام واجتمام ہوتا سے ۵0 ئ/ھ-""(0( 
فف ل ہیں ہر بچوق غمازوں کے برا نکما کا اتنام اوی و ال ہوکا ۔ الد تھاٹی۴ییں 
ان پادگی رم ملا لی نکی ہدایات پیش لکمر نے والا بنا ۔آ نم بین ۔ 


ہے گڑھ ى 


باب : إِذًا نَم الب عَللی فرَاشِھ ... ثُمقَال أفْهَد أنْ لا إِلٰة إِلّ الله... 


ےت جا ے 

)١١٤(‏ عن اُنسظہ قال: قال رسول الله ٭: 

”دا نام العبْ لی فراشِہ أَوْ مَصجعہ مِنْ الأَرْضِ الَيِیُ هُو فِيْھَا فَالْقلَبُ 
رد سر نٹ ریشب 
وَخْدَۂُلَا ضَرِبْکَ لہ لَۂ الْمَلکٔ وَلَۂ الْحَمْد بُغییٗ وَیْمیْث وَمُو عي 
لَايَمُوْث بیّدہ الُعَبْروَمُوَعَلی کل مَیْوِقَیبْرٌ َقُرْل اللَه عَررَجَلَ 
لملائکتە: : رو إِلَي عَبدِیْ هذالمََسَيی فی هذا الوقتِ. أفْهدكُغ ا انی قد 
رَحمْتة و غَفَرتُ لَهُ ذنَوبَة.“[ضعیف] (أخرجہ ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة ۷۰۳۶) 


را جب بیدا ہہواانلد پا ککی رت ومخفر تکاکز وصول لو 
(ےا٥)‏ 7ۃ : رت اس ولوہ سے روایت ے رسول اللہ لا نے فرمیا: 
جب بندہ اپنے استرپرسوتا ہے بالونچی زین پر لیا ہے۔ جس سے پیداک یا گیا سے 
ازوسوعا ٢ص٢‏ ات سے 
أشْهَد ان لا إلے إِلَا الله وَخْدَۂ لا فیک لە. لَة الْمُلَکُ وَلَ الْعَمْة 
(تجمہ :یی سگوائی دبتا ہو ںک ہا کےسواکوئی مع و دی ء وہ ایک سے اس کاکوئی 


۲ 


ش ری ککیںء ا یکا نک سے اورقائ لت ریف صرف ایل کی ذات ہے وہ زند ٥کرتا‏ ے اور 
ارتا ہے و٥‏ خود تہ ہے ے بھی ضم لہ ہوا اور قمام بھلا یاں ای کے وست ثررت 
ہیں ہیں اوروہ رپ ربا ترےت) 
بڑھ لیا نع جل مجدروارشادفرماتے ہیں :اےفرشن ا مہرے اس بن وکو یھو جوسوتے 
ہو ۓکمروٹ بر لے می بھی جج ےکوی ںکیمول می ںت مکوگواہ بنا ا ہو ںکہ ٹیل نے اس بقلدہ پہ 
رت مکیا اور ال ںکی مخفر تکردیی- 
شور و ے شمعوری کے الم می ںتضو رت نکی حاضری پرانعام 

ہہت پرانایت اود ر جو الی الک باب رح تعل جاتا ےک 
فی ین ریقف نون نا ےو رت لص کت کے 
ٍ۶ ۶۹یف ری ے را کی تار گی نین کی خغفلت اور نے شور یکی 
کیفیت :0 برلنا اور پچل رت بل رہ کے جال وک ریائی کرت وسعلوت کا دیر٤‏ 
اشن برا تحضار وادرا ککا خالب در ہنا اور پان کے احوا لام وگ یاکی کے ز پان عال 
سے تر چھمالن ہل نکر رٹ الحرز تک جناب او رتو تق کی بارگاہ شش ء ایک اللینق کی شمادت 
زٗاتكساج تطااطال :ا تک ات ا فلت نوا نل نات 
کے یی ملک 1 ْ وھ 2 ناا تک حیات ضرا تنا ات 
کل ءاورخمالقی کے لیے حیات جاودا لی کا اقرارواشباتء ہرتروبھلا اض د وناب اور پھر 
غفلت ود ری وے خودیء شعورو ے شمعوری کے عم :9 کر کت 
گان ہر ہا شا کا کا میس ء رین اٹھی مردا ن تن کا نعییب بذنا سے ہن ٹل ور ت یق کا 
سای ددرت ازسان چا ہک رچھی ان اوقات میں ل بیس بلاسکتا کر فدرت جب جا ہی سے 
ےجو رکی غحفل کو مخغر ت کا راہ ناک رآ غوشل ربمت میں ےً. ہے_ اور ما لکوت 
مس ملان ککومتقا شہادت پ ہکن اکر کےرحمت ومخفر تکا اعلا نگرد بی ہےء اور بن عاجز 
دنانزاں ےکک روٹ بر لک پچھرسو جانا سے کنا بی خول طعبیب وخول بجنت ےک چند 

۵ 


لمات ف س کا اول 8( ۳ھ لم لکوت میں رمحت و مففر کی لقت پاکرفرشتو ںکی 
شہادت کے بعد پھر راحت جح کی با کے لیے الم خین میس جاچکا اور ود سب یھ با کا ج 
ایک موک ن کال کاپوری زندگی کا مطلوب ونود شی رحعت ومخضرت کا تحمول تھاء الد 
تالی ہماری زنک یکا سر رو ظار ےنا ور نے ین 


باب : إِذًا مَا اِسُتَيقَط الرّجُلْ مِنْ مَمَامِهِ فَقَالَ: سُبْحَاَ الله - 


باب :آدفی جب رات می نین سے بیدرا ہولو جحان لف د پڑ سے 

)٥١۸(‏ عن أبی سعیدظہ قال: قال رسول الله ٭ة: 

ٍفَامَا میق الرَجْلْ مِنْ مَسَامه َقَّالَ: سُبْحَان الله الِیْبُحییْ 
لمَوُئی وَُوَ لی کل مَىِْقَبيْر ال ال صَدق عَبْدِی وَمَگر. قَالَ: ‏ 
َفُوْلَ عِنْ دُلک: اَللهُمٌ اغْفِر لِیٔ دن وم تَعقيیَ مِنْ قبِْیٔ. اللَهُمْ قنی 
عَدابک یم تبْعَتّ عِبَا5ک.“(ضعیف] رأخرجہ الخرائطی فی مکارم الأخلاق ص ۹ء) 

شےنحجات د ینا شس دن اپنے ہنرو ںکو ٹھانا 

( 2)۸ بچم : اپی سید یلد ے رواایت ےک رسول اید لان نے فرمایا: 

جب رات میاویک یشک اکا ے 

سُبْحَانَ الله الِّیْ یی المَوِی وَهُوَ عَلی کل شَیْءِقَِبْر 

اک سے ا دتھا لی اٹ و082 ہے اور وہ بر پر قادرے۔ 

تعن تھالی فر ماج ے: میرے بندہ نے پ کہا اورمی اشک راداکردیا اور اسی وققت 
کہدد بے اللهْمَ ار لی دی وم تَعقيی مِن قبْیٰ (یاالدمیرےگنا کی مخفرت 
مردہے چس دن ھےتبرے اٹھانا_ الم قنی عَذابک یَوم تبْعَثٌ عباڈک. پااللہ 
اپنے عذاب وعقاب سے جک نجات دےد ینا نس د نآپ اپنے بندو ںکواٹھائیں گے۔ 

(مکارم الاخلاقی :ض۹ء) 


٦ 


اتی ےکی وہبقی ضحبا تکا سوال او رع ال کا تنا تکاانعام 
عام طور پر دیکھا گیا ےکہ خیطد سے بیدا ہوکر بنلدہکسلان وک نام ہہوتا سے ء اگڑائی 
ینتا ہے انگلیاں چچننا نا ہے جمابی لٹا ےء بیرار ہوک ھی نے شعور و بے ہونل وخرد ہوتا 
سےرگمرائمدید موک نکی شا نبھی عاملوگوں کے متقا لے میس ذی شمان ہوثی سے ین دی 
اوراپتی عبدیت و فان ت کا دھیان اور اللہ پا ککی حیات وقمومی تکا اقراراوراس د نیاوی 
بدار یک وآخرت کے و کی آخ ری بیرارگی کے ا ضا رکا خیالی رک وک رع سک رتا سے رٹ 
العزت میرے اللہ وصبود جب می ںآ خری ہار دیاوکی ند ےآخر تک ا 
یش واقل ہہو یگ فذ آپ اپے غحضب وخقاب سے بیاناء ال شا نر ج یں ہا 
۳ +۸ 0.۰ دن نے آپ کے بھی بندے بیرار بے جائیں گے_ 
آج میس اٹھا ہوں اس د نبھی انھیں گے۔ یا ایلدشس رح ببیدار ہونا اوراٹمنا جڑئی ےء 
آپ کےعقاب وعذاب 7 0 "و" 
آپ سے ہج یکرد ہا ہو ںک .یی انٹھائیں گ ےآپ ای ء ھیرے االدمی لآ پ کے اٹھانے بپہ 
ین رکھتا نہوں ٤ای‏ لی ےآپ کے اٹھانے سے پ لہ بی آپ سے الکن وامالن بعذاب و 
عقاب سے فاظت وساأت یک دن بھیلا رہ ہوں جس طرح می انشآ پ کا ھن 
نی مہرے الکن واما نکونھ یآ پ خی دی مناد ہیی یا ال بدعا ہم سب کےیقن می قبول 
فرماءآئین با اقم الراکبین۔ 
افش مین بند اھ یکوئی مل ناخ ل نہیں رہتا نربی فا تکوقری بآ نے دیتاے 
ین رکھلنے بی ء ہش میں1 تے ہی جولحات نیندادرعدم ذک میک را ا کی لا او رترا رک 
کے ےےے بارگاہ رب العزت میں ء سُبْحَا الله الَذِیْ یی المَوُتیٰ ارت7 
سو ہوۓ مردو لکو گا تا اور زند ہکرتا ہے قمام تر ايارجع سے بالات د بے نیا ے- 
حیات وقومی تک ابی بلنددبالاشان رکا ےکمردو ںکوزند ہکرتاے اور ہرز برقادر 
ملق لی الاطلاقی ے۔ رب الز تکی ان رجشھی ور بھی د کھت کہ صداق تک مر ان 


۲۰ 


لمات پر لگادکی جاٹی ہیں اور ان ہو لکوشگر اور شاک ین کے میزان میس شا ہکرلیا جاتا 
ہے۔ الیدتھاٹی این پتثروں کے ہت 7۰۰0 خودبی جب چابتا ےل 
مکرناہے۔ برقم بجی ای سال وکرم ےق ہیں۔ 
الَهُمٌ اجُعَلَتَ بِنْ ایِک الصالِحیْنَ وَالصَاهِقیْنَ وَالمَحَلصِینَ 
َالّمُفْلْحیْنَ ء آمِیٔن یا اَم الرّاحمِیٰنَ. 
باب مالک اَل الله و الله ابر 
اب: هھ لا ال إِلّا ال وَ الله شر کے ا س کا جواب ناب الٹ دنا ے 


+ٌ×+٭م٭ 6 


)٥١٤(‏ عن الأغر أبی مسلم ظلہ قَال : أهْهَدُ عَلی ابی سَِیّدِ و ابی هُرَیْرَة لہ 
َهْمَا ُھدا عَلَی اللَبیْ 8ڈ قال: 


”من قَال : لا إِله الا اللَهُ و الله اَكيَرُء صَلَقَہ رَبَة فقَال : لا إِلَٰۂ إلا انا و 
انا اَكيَر. و إِذَا قَال: لَاإلٰ إلّا الله َخْدَه قَال: یَقُوْلَ: لا إِلٰه إِلَا آنا وَخْدِیٰ. و 
ِذَا قال: لا إِله إلا الله وَخْدَه لا شریٔک لَه. قال اللَهُ: لا إِلٰةَ إلا انا وَحْدِ یلا 


انا لی الْمُلک و لی الْحَمْد. و إِذَا قَال: لا لہ إل ھ"۳8۷۳0ھ+٭“ 
0 ول مَنْ قَالهَا ف 


ا 
ےہ 


ور وج 
)٥1۹(‏ تر جمہ: نی چا نے فرمایا: جتحسلاالة الا ال والله اکب ر کت ےت 
ال اک ال کی نول کرت ہیں اورفرماتے ہیں:لاإله إِلَا انا وآنا أكبر اورجب بتدہ 
لا لے إلَا الله وحدۂ کنا سے ہنع تعالی فرماتے یں:لا إِلٰه الا انا وحدی اور 
جب بندہ لال الا ال وحدۂ لاشریک لہ کنا ے:ذائلد اک فرمات ہیں :لا إلٰة 


]ڑ۲ 


۰۸ 


ِلّ انا وحدی لا شریک لی اورجب بئدەلا ِلە إِلّ الله له المُنَّکُ و نَه الْحَمْد 
کہتا ہے الد اک فراتا ہے لا إلہ إِلَا نا لی الملکٔ و لی الحمڈ اورجب بئرہ 
لا إلہ إِلَا الله و لا حول و لا قوة إلا باللہ کنا ےء الد یاک لا إِلە إِلَا نا و لا 
حسول ولا قُوَةَل گا بی فرہاتے ہیں حور چیف مات تھے :کہ جو ا سک کومض 
الوفات شس پڑھ نے الکو مک یگ می سکھا ۓےگی۔ 
نل وکی شہادت پرنی ہل مجر صراق تک ہر 

اورجب بندەلا بلہ لا اللہ لہ المْذکٔ و کک الحمد کی صداشیں بلنرکرتاے 
رت العالینفرماتے ہی ںکہمیرے بندونے پچ کہالا لہ إِلّ انا بی الملک و لی 
الحصد۔ ملک مبرا بی ے او رج ھی ممیرکی بی ذات اعد کے لیے مڑھتا ےہ مہ بات تق رین 
تل وہوش اورعام ذ ئن سے پالگل قریب ےک جس کا ملک اىیککاسلہ ۔فے جب لک اللہ 
کاب ران بارش صاحب مل کیج طلک یسوم اللڈین ےا یک ہو لی جاہے۔وہ 
لوک جو الد کے ملک بیس خیب را کو مراد کے لیے پکارتے ہیں ا نکی متال لبیض اس جج مکی 
کیا سے جو ایک بادشاہ کے ملک می ںکھا تا پا ہوہ بادشما ہکا اور بادشاہ کےخلاف سان چلا تا 
ہو ہآ کیا د نیا کوٹ یبھی پادشاہ ا ںکوگوار کر ےگیا؟ فا جال ء پچ رمک المل کف کیو رگوارہ 
کر ےٹاک پکھائیں بی ر ہی ںکیشش اوائد کے ملک میں اور نام یی خی رای کا ۔ایکوعام 
زان بیس خلا نک مام کے ہیں -۔کرکھائے فو مان ککا اورگائۓ براۓ اور بیگان ےکا۔ 
اور جب بئدہ لاإله لا الله ولاحول ولا قوةً إلا باللہ کےنورای الفاظ سےا ہج متبوو 
تی یکو باوکرتاے تن جل مہف ماتے ہیں میرے ند نے جکہا۔ 

ِا الہ الا نا ولا حول ولا قوَةَ ابی 

ا کا مو ھی عوام میں بی یب سالیا جاتا ہے جو فلط ینیل بک اسلام سے 

اواقفی کی دییل ہے۔ عام طور برکوام لا حول و لا قسوۃ إلا باللکاوردزبپان برای 


۰۰ 


وقت لاتے ہیں جب شیطاان سے بناہ اتی جاۓ عالانہ الیبا یں ء شیطالن سے پناہ 
ا گرا سکاصغفپوم زم نت نکر مج لا حول ولاقوة: لاحول کا مطلب برےلہ 
رٹ العت ہم جمملہمحرات ومنہیات ےکی نے سکتے اور تہ ای لہ مامورا تکا انال 
کر سکتے ہی ںگ رآ پک طاقت وفقوت کےساتھ۔ 

ا ںکی شال یجے: موڈن بکارتاے ",۰۰,۰ 
0" اورشا رخ علیہ العلام سے منقول ےک جبکم اں چم لاوسو 
وکہول حول و لا قوة إلا باللہ قذ اس کا متصدشھی می ےکہ یاالڈد عم دنیا ےکا مو ںکو 
تر کک رکےہما زکی طر فی ںآ کے ہم رآ پک احعانت دبدد سے و اس جم لکا حاصل ب گلا 
کک ما الل رآ پ ھبری برائوں سے نے می مردجکجے اورئی ککا مو ںکا بھی میر ےقلب پر 
الہام نی اور خی رآ پک نصرت ود کے ہم نہ برائی سےتفوطا رہ سک ہیں اورنہرہی مکی 
کر سک ہیں_ 

اورجنس خونل طعیی بکو پگ ہآخر وفت بیں طحھیب ہوگیا ا ںکو نا جن مکہیں کچھوۓ 
گی الم ازفا جن الیموتِ درتیقت تمام زندگی جم اد تکا حوص٥‏ لبھی بی تھاک 
بینم طیبہآخ وفت یل ز بان سے دوال ہوجائۓ ت اک ابدکی رت وغدامت سے ن کر 
زی ندال نک نت نے ئن 

رت العا ین اپنے بندہ کے اق ارت حید وگ رپرارشادف ما تا ےکہ لاإللہ إِلّا نَا وَ 
انا الله بیو درتخخیقت بندہ کے ار ارت حید یراق بعانہکی شماد تک مبرخبت ہوردی ے۔ 
کون کا مات الم میں متبوبنٹیق کی نصر تکتلی مک رنا اور جملہ امو رکا اح ہونا ال تی 
زا تگبر یا یکو ماناے۔ . 

جن بل می :مک لکش میں 

اس لیے رت العام| نبھی ف رما تا ےکہ انا نات یل تی اللدہول اور ہا 

ھی مت یکا تات عاللم میں ہر کوو جود میں عطاکرتا ہوں ء یں بی س بکورز دیتانہوں 
٢٠‏ 


میں بی س بک مارتا اور جلا تا ہوںء اور پر کی خھتوں کا می ک نیقی بھی گن ی ہوں_- 
جا سے دہ اولا دی نحقت وہ یا مال وجا کی با عمزت وآ بروکی پاشعت وعافی تکی ء او رکیوگرنہ 
کن تی ال اون نیس ےی انا متا نت عو نا از و یناب انل کے 
لیے ال ن کا اتا بکیاء اورا نعکوھی اظہارعبودبی تک راہ یں نے لا یء اور انیاء کے 
یتر نکوئیں نے ہی صو دقن بش ہدا صا ینہ ابرارواشا ررخوث,ے فطب اہدال نجرا لقباء 
کے مقام پر فائ دکیا۔ النرا مرادو کا و ریی کر نے والا ٹل ہول کے وہ- ووو خورمری 
حفت عطا ےنا ہیں۔اس لے ےکہاقھوں نے مب ری عباد تک فو میس نے ال نکو رہ منصب 
عطاکیا۔ابنر اجکی ا نکی راہ خحبودیت ےکر ےکا یں ال سکویی ان مقدیش صن 
کرد میس داش لکرو لامعا رم کی حبدد یت گی ہے نہک ہٹی رو کی ۔اَللَهُمَاِمْدْنَ 
الضراط الْمْسعقِیمْ ‏ لا با إِلا الہ واللۂ آکبر میں تویداورکبر یاک یکااقرار 
ے٤‏ اب اس جھملہ کے بحدضروری تھا ۰ 0۳ زیخ یبھ کرد ےگ رجہ 
اٹ ا رْحیریںضخ شر فی موجوڑھی مر جب صراح لف ہوفو لطف بی اور ےگو کہ 
موعہ ال بم نگیااورز پان حال سے پاراٹتا ے(لاإشہ ال الله وَحدم اس لہ 
بھی خالق بل مد :فر مات ہیں ھیرے بنرے نے ب کال( میتی تفیقت ام رکا اقرارکیا۔ 
5 إِله لا 5 وحدی بی مل فوحی الم کومزیدموکدکردیتا ےک الڈ کی ذاتاک ے٤‏ 
اور جب بئرووحی رک علاوت کا لات یس رکون جڑا ومورامی نو ںکرت ے7 
پاراٹتاے لا نہ الا اہ وَخذہ لا شریک لہ گو یا باہو اب شرک پرعظمت رٹ 
الال ن کا تالہ ڈال رراے ‏ لو رع نان خر نے یں مھرے بنرے نے 2- اور 
میرے سو اکوکی معبودنییں اور نہ بی می راکوئی ذات وصفات میں شریک سے کم بات 
دحیب و مک ذات پاری ت0 0۷ زی الا فان یں نے عد 
7 بنا رکھا سے ۔کوکی درضتوں سے مرادسس مانکما ےکوی پچھ رک ےم ےل کوک اولیاء 
کی امدادجا تا ےن کوک قیروں سے اولاد ماننا ےن ھکوٹی زندہفقیروں سے۔ 


٢٢ 


الله ِهُدتا الضرَاط الْمَسَتَقِیْم۔ 
کب یا یفن تعال یکوہی زیب د تی ے 
)٦٤٤ (‏ عن الأغرأبی مسلم آنه شھد علی بی ھریرۃثلہ وأبی سعیدثہ اأُنھما 
شھدا علی رسول الله قال: 
<ِذَا قَال الَعَذُل ال لا اللَ و اللَه اَكیر قال: يَقُوُل الله عَرٌوَجْل : 
صدَق عَبدِیلا إلە لا انا و اتا ایر وَإِذَا ال الْعبَدُ: لا ن0 ك2 
قَالَ: صدَق عَبْدِی لا إِلٰه الا انا وَحْدِیٔ. وَإِذَا قَالَ لا إلٰه الا الله شَرِیْک 
لا فَال: صَتق عَبدیٌل لہ لا انا ولا شرِیٔک لِیٔ. وَإِذَا قال: لا إلٰه الا 
ائت تا نک راف 6ن لق عَبْدِی لا إِله إِلّا انا لی الْمُلک وَ 
ا الَكَيَة ٰذَ قَال لا إللٰة إِلّا اللَهُرَل ول وَلا قُوَ٤َ‏ لا بالله. قَال : صَدَق 
عَبْدِی لا إِلٰةإِلَا تَا وا حول وَلا قٌوَة إِلَبي. 
مَنْ رُزِق هُ عِنْد مَونِه لُمْ تمَسَّة ار“ 
[صحیح] (أخرجه ابن ماجه ج )۳۷۹٣۸/۲‏ 
)۳٣(‏ تج : راب سلم حللد سے روابیت ےکہانھوں گواہی دی الہ 
ابو ہربر: زط ابیسعید ان ن ےگوابی دب یکہرسول اللہ چان نے فرمایا: جب بندہ لاإلے لا 
ال والل بر تاذ ایل پاک ارشادف مات ہیں :میرے بنرے نے کہا لالہ 
لا ان واتا ای مہ رےسواکوئی متب وی ں گگرمیل ء اورٹیل سب رے ڑا ول ار جب 
بنرەلاإلہ و اللہ ود کنا ےء یلد باک ارشادفرماتے ہیں :میرے بنرے نے بے 
کہالاإلہ لا 5 وحدی؛ میرےسواکوکی ممتبووکہیں ء میں اکیاا ہولءاور جب بترەلا الہ 
الله لا شریک لەه کنا ہے اللہ اک ارشاوفر مات ہیں: لاإلہ إِلَاآنا ولا شریک 
لی کوئی میرےسوامتبوڈی ںگر ٹیس اورمی ‏ اکوئی شیک وس اھ ینیل اور جب بثدہ لا اللہ 
ِا لے ا کت ت3 الحمے کنا ےء ان کےسواکوٹی متبووکئیں ء الین خی ما کک 


ر2 


اورائسں کے لیے جھ وحرلیف ز بیا ہے الل اک ارشادفر مات ہیں :میرے بندے نے بی 
کہا ءلا إلے إِلّ نا لی الملکٗ ولی الحم شی رےسواکوکی متبو دہ ہے ملک 
میرے ییے ہے او رج لیف میرک ذات کے لیے زیاے؛اورجب بنرہ لاإلے لا 
الله ولا حول ولا قُرَ ال بل کنا ے. ایل کےسواکوئی متبو ٹیس اور برائی سے سے 
کی طائت اود کر ن ےک قو تنم ںگرالظرکی ذات ا ا کک اعانت وبددےء اللہ یا اک 
فرماتے ہی ںکرھیرے ہندے نے ج کہا ہے اورارشادفر مات ہیں :لاالۓ إلّ کا ۲ 
حسول وَلا فوة ال بسی. یجن می رے۔سواکوٹی مبوڈیل اور برائی سے جچ ےکی طافقت 
اورنجگ یک رن کی فور تی ںمگر ال دکی ذات ا کک اعاحت ویرد ےء( ا ئرراوگی حر بیث 
نےکہا:) جوموت کے وقت ا نلکما کو پڑجھ لگا ا سکونا یجن میں گ ےکی )۔ 
باب : وَاحدَة لی و وَاجدَةٌ لک وَوَاجدۂ بَینی ٴویینک 7 
باب :ایک تیرے لے اورایک میرے لیے 

)٦٤٤(‏ عن سلمان طلہ قال: 

"لم عَلَیاللَهُعَررَجَل ام عَليْه السَام قال: وَادةلي وَوَاحَِہ 
لک و وَاحِدَۂٔبَیْی و بَیْک. فَأمَا الُِیٗ لی : تََبدني ولا تشرک بی شَينَاء 
مُا البٍی لک: فَمَا عَمِلَ مِنْ شَیْءٍ جڑیْتک بہہ و آتا أغَفر و آنا عَفُوْر 
کو اف نے سے رسک نک اھھالار لعل اعنار 
الْعَطَاءٌ.“ [صحیح] رأخرجہ أحمد فی کتاب الزھد له/ص ے٢)‏ 

صقمات خلاذۂ 

(۴۳۱) مھ جھہ :حضرتسلمان حلہ سے دوایت ےکہ جب الد ن ےہر خکو پیرا 
یی ےر اع یں ای یآ بن تک کرت لاو راک 
تیرے لیے اور ایک ھہرے او رت رے درمیالن ے- 


سر 


ننس مبری ذات کے لیے سے دہ تی ای عبات شس می مہرے علا وہای 
دوسر ےکوش یک نرمرےء اور چون تیرے لیے سے وہ تیرے اعمالی حسثہ وسیعہ ںان 
بسک کے الہ لگا۔ نکی راج وذ اب اور اگر بدگی وسیے ہیں و میں معا فکردو ںگا؛ 
کیو ںکہ می فور تیم و فلز نے او زمی یے دباع وو تریح اب ےسوال 
کرناءمانکزا اوردعاکرنا سے اورمی راکام تیر دعا و لکوقجو لک ناء ھے د ینا او رت رے سوا لیکو 
راکنا ے۔ 

نوم تنا جا یں قجو لکرتا جائو ںکا 

)٣٤٤(‏ عن اُنس عن النبی ظہٌ قال: 

نر ں 0ت کر مال ما ا راع الک رر َء 
وَاحِدَة فِیْمَا بی ویک فَأَمًا الیٍیْ لِيٴ فغبدنِی ولا نَشْرِکَ بیٗ شَيْنَا وَأمَا 

[ضعیف] (أخرجه البزار فی مسندہ ج۱ ۱۹۸ کشف الأستار) 

(۲۴) تھ جم : حفرت الس یلیہ یلد کے رسول اق سے بیا نکر تے ہیں من 
جل مد :وف رما ہے: ا ےآ دش مکی اوما دا نیک چتیرے لیے ایک مبری ذات کے لیے اور 
الیک میرےاورتیرے درمیا نشم سے جوکض مبری ذات کے لیے سے وہ تی عبادت 
ین من تی کی کرت تی اپ سے ج زاین ار لیے سے وو ری 
وجود سے یلا ہواشل مت رےحرکات وعلنات ہیں ین نکا پورا پورا ہدلہ میس چھوکودو گا اور 
چوتیرے اور ممرے درمیان ہے٤‏ وہ تج ری جانب سے دھائوں کا مانکنا اور مرا کام تُول 
ایب 


۲۲ 


0 و 
)٣٤٤(‏ ولأبی یعلی عن أنسظہ: 
رفعه عن النبی لہ فیما یرویه عن ربه قال: 
”آرَبَعُ ضالِ وَاجدَ مِنهُنَ لی و وَاحِدَة لک وَوَاجِدَة ِيْمَا بی وَ 
یک وَوَاحَِشَۂ ما بَیْنَکَ وَبَیْنْ عبَاوی. فَأمَ ال لِیٔ: فعَبديیلا 


ا ےہ ے ۰۸- 


لیْ بَيْبِیٔ و بَیْنک فَينک الذُعَاء و عَلَیٗ الْإجَابقُء و ما ای بیُنک وَبَیْنَ 
ِبَادِیٔ فَارض لَهْممَا ترضی لنفِک.“ 
[ضعیف] (کما فی المطالب العالیة ج٣ )۴۲۸٦۸/‏ 

( ۳۲۳) تر جج : حفرت اؤس دم ف9وع] ٹیک ریم چان سے جیاا نکر تے ہیں ہن 
اک90 ا ہے 
اور ایک نماض تیرے لیے سے اور ایک مھہرے اور تی رے درمیائنع سے اود ایک تتیرے اور 
تبرت ران کےدرمیان ے۔ 

دج میبریی ذات کے لیے اص سے اوراس بیں می رای ش ری ککی ٤‏ دہ یہ ےک 
میری عباد تکمرے اور ال عبات 7 ۳ئ برابربھی شربک نہ 
ھہراۓ اورجپنھ تتیرے لیے چچھھ بر سے اوراس می کوٹ بھی ش ری ک نہیں٤‏ دہ تع کی ضیبیاں 
ہس مم س کا لہ می سک مکودو یکا اور جو میرے اور جرے درمیان ین ری وہ ے2 
ام دعاکرنا اور جھ پ ترک دعائو ںکوقبو لکرنا سے اور جو تیرے اور میرے بندوں کے 
درمیان ہے وہ بی ےکن میرے بندوں کے لیے ودی پہن رک جوانی ذات کے لیے ند 
ہے 


۲۵ 


جا ی وکا ی صفات ارد 

جن بل میرہ ن ےلیم تین ادب اورت ببی تہ ہرد ہا نکی نشان دخی فر مکی ے: 
عبادت صرف ایک اس ذا تک ہوا جاہجیے جو ما ل ککاتجات اور ر بکا جات ہے۔ ال 
کت کاو نک نہیں اس لے اد شک بھی ہلیم سے وا ذات مس ہو یا 
صفات ُلں- 

دوسرے جس ذات کے لے عباد تکی جالی ہے ای سے امبیراج بھی ہولی جا بے 
از یب ای عا لکی اجرت دوصرے عائ لکوئیں دی جالکی ‏ نے اعبادت" جو ای تین سےء 
ا کی اجرتء اعم اھ ای نکی عدالت عالیہ سے دوصرو ںکوبھاا کی لگی۔ 

تیسرے ء وستسوال پچھیاا نا ے؛ ہم زاصح ٤ء‏ ہا رکی مھ ہیرس نانش ٤‏ ہماریی ذات 
اپنے وجود یش ذا تن گی اح ء جماری صفات ازاول ما آخر سب ال قکی لتو ںکی 
خناجع۔ یہاں م٠‏ ککہ ہرحہہ جرآن ء ایک ایک سالس کے چه با ؛ ہنا سوا لا یی ہےء 
اق ما کا کات لح وکا کی ہما رک مات گار 

اب۔وال ہے یسا سے ہٹس سار سن سکھیکہیں اور جوخ نل یکا 
خنا یں بادشاہ سےگھی اوھ وہ انی ش شا دی کا ایک ایک حتات سے اوران کی 
ناج کے اعقیار عکوابدیی طور بردورکر یں سکتا ؛کیو ںکہ دہ ای ض رود ںکوسا مے رکوکر 
سا لکود ےگا اور ذا تن ءالاڈرالصمد!ددے ثبازے ”و هو بْطُعِمْ ولا يَطمٴ“ وہ 
کھلا جا ے خو نی ںکھاجا”و الله لْغِیٔ و انتم الْفْقرَاءُ“ ادتقا یکن ےاورقم سبنقیر 
ہو؛ پا بنلدہ کےسوا لکو پوراکرناءصرف ذا تج ہی کے لیے من سے۔ عدبیتٹ میس 
ےکہ: انسان سے ماگوف وہ نارائش اور اید تال سے وانونذ وو ول !1مان ی00 
خول! ایل سے نہ مانکونذ نا ران ! اتا لی این رکا بھی سوا ی ر ہے!(آ ین )اپزابنرے 
سرد اکرنا صروری اورنی یل مر ہکا 09 رما للوقُو لکرنا .ھ2 وٹنی۔ 

چوتھاادب ہلا یاگیاکہ:دیکھواجوابٹی ذات کے لیے پپندکرتے ہووہی دوصرے 


25 


بنروں کے لیے پہندکروا لف وفتصان ہردوکوازسالن خوب اٹچھی رح جات سے اوراس کے 
و لکی ,ہاو جک یکیشت لپچ یکرتا ے مگ رض ابنی ذات کے لیے ہت تی نے انسان 
کوادب بتلای کہ اپ ىف تسا نکویدان ودرند بھی جات ہیں اورتم انسان ہوہ جھ 
خیال رکھوا یجن مدان اور جرندوپرنرکود ماگ اکر خطرہ سے بے کے لیے اک ای 
آواز لاک یکر اہۓ پھ من سکو تن بکردیا او ربھی بی گئ۔ نخان کر شکار کے مو پان کا 
انماتی ہونا ےک ایک پرندہ اڑا اراس نےکآواز دگیا جس سے تمام پرندوں نے راہ فرار 
ایارک کی الاک رانگرانمان پر جب وت او رش کا بھوت سوار ہوتا ےو یردرندول 
ےھ یآ کے لکنا ے۔ اور یکگییل د بتاک رمیہرے ائ سمل ا" رب و 
واللو ںوکس رایت ہوگیء یہ متا مہف اسلام یش کفار کے سات یھی جا نزیس ء چہ جا تہ 
میک ال علیہ ری امت کے ساتھ یما کیا جاۓے اڈ شی ںکچددے!(آئین) 


ہک دے۔ 


وپ-ی] 7 7 
باب : لقع مل کل مُوَملٍ دُونی بلإِاس 
باب:دوسروں سے امیر رکھنا تھروگ یکا سبب سے 

)٣٤(‏ للدیلمی عنہ رأبی ذرخؤم: 

”ول اللهُعَزَرَجَلَ :لقع مل 23 ذُوّی اس وَلْلِْسنَ 
قَوْبَ الْمُذِلو ین اللّاس, وَلَأنْحیَة مِنْ قُرْبیْء وَلَأٰنعدنَه مِنْ وَصَلیء ء مل 
عَبْدِیْ غَیْرِیْ فی الشدَائِدِ و الشَْدَائِڈ بيَدِیٔ و أنا الحىٌ الكریمء وَیَرُجُو 
غَيِْیٌ رَبيَدِیْ مَفَاِيْخْ بُوَاب, وَبَابیٔ فوخ لِمنْ دَقَانِی. مَنْ ذَا الذٰیْ 
امُلَبِیْ لِعَظِیم نوَائیه فَفَطَعُثُ ہہ دُونها! امن ٥ا‏ الِّیَ رَجَانی لعَظیٔم جُرُمہ 
فقَطَمث رَجَاءَ ۂ می جعَلثُ آمَال عِبَادِی مَُصِلة بی وَمَلاثُ سَمَاوَاِی مَنْلا 
يَمَلَ تَسِیجِی فیا بُوَّا للَقَاِطیَْمِنْ رَخمَیِیٗ! وَیَا هَقُوَةلِمَنْ عَصَانی وَلَمْ 
يْوٌاقبَّتِی. [ضعیف] ر(کما فی کنزالعمال ج ۵۵/۱۷ءے۳٣)‏ 


2و 


اللہ یا "ِ'"و"" 
مہا نوحیدردایممان ے 

( ۴۲۴) 7 جم : حضرت الوذر یلد سے روایت ےن بل محر :دفرمائے ہیں: 
لوگوا مہرے سواووسرے سے جوڈھ یکوٹی امیر رت میں ا کی امیدکو ماونی کے ذر لج نو ڑ 
دو کا اور برسرعام ال سکوذا تکالبادہ پہنادو گا اوراپنے ذا ت تن سےقر یب ہیں ہو نے 
دو ںگا اوران بل سے دو رکمردو ںگا کیا مرا بندہ ہوک شیروں شش 
جال حیٗ ریم ہویں۔ دوسروں سےتھمنائیں - کہ ہرضکل کےا سان 
کمن ےکا ماپ مرے پاس سے اورمب ادروازہ پر وقت ال ں شش کے لی ےکھطا سے ج ہج کو 
یا پکارے۔کون سے جس نے ان مخت تر بین مکل حالات میں بھ سے امییش لگانئیں 
ہوں اور میں نے ا کی عاجت ددالی نکی ہو ۔کون سے جس نے می سے بی محصیت 
وج کا انا بکرنے کے بعد میری مغغر تکی امیدیش لگائیں نہوں اورٹس نے ا کو 
تمناۓ مفقرت و رجمت سے مالی ںکیاہو۔ من دارۓ رون کی امیروں ؛کھناؤںء 
آرزوئول :نوا ہشو ںکواٹی ذات سے جوڑے ہواہوں۔( کہ پندوخوائیش ا ہرکرتاے اور 
یش ال سکی بھلائی کے سات ھت ہی رم ںکرتا رتا ہوں :بھی بیضہ ال ںکی مراد پر یکرت جہوںء 
بھی ا سکی خوا بن شکوپوری رتو و نال دنن میا نین 
رد دبا ہوں بھی اس کے لیے اک لہ عا ‏ مآخرت میں د ینا ٹ کرت نہوں ؛د تا 
ہوں ضر ورگر بن ہی صصلحر کو دک کر کہ ما گنن دا ےکوخوددی پنجیں ہو اکہ بی لک ہج وکو 
کیا نتصان ہوگا ءاش لیے ھ سے مااوس ہہ واکرو .)یش نے تھا مآسمانو ںکوڑھتوں سے 
رد یاےء انیس کے لیے جو ما نے سے نہ لے میر یک سے نہ اکنا ری ذات 
0. ل00 سو جب رانی وپ انی ہے ام نٹ کے لیے جومیری 
70ص ی۶ء۶۰۶ٴ 7 وہنڑی سے اسس خیش کے لے جومیری ناف مال یکھرے 

اورجگ وا نال ہبان اوراحوال سے باخم رنہ جانے - 

۲۸ 


ال دتعالی نے بندو ںکی حا ج3 ںکوابتی ذات سے وابستۃ رکھا ے 

اں ءردمیڈٹری سجن بل جرد نے اپنے بندو ںکو ہدایت دی ےک اپٹی ام 
امیل ری متمنائئیں ‏ آ رز ہیں صرف اورصرف ذا تن یی مَلَگُوّتُ کل شیيءء بیَّدہ 
"۶ٰ۶" 
مضبو ےک رلییں۔اپن تلق باقی سےکرلیس انی سے ن ریس ہ ورضہ فا لک لشئی فعسال مسا 
یب رید ت مکوگر یھ ٹیشھے نل ورسوامردےگا۔ ممقا م عمزت ٹیس ذلت اورراحت وم عبت 
.- 7 ظكیھ۷ٹ"ئ0) یا نگکن اور ناد ےگاء الا ابٹی مھا ہری د ہنی دی 
ود یپوگ قھام حا ٛئیں اس ر بکرم کے ساتے یی يک یں شس کے نز ان رححعت میں سب 
بچھ بدرچ؛ اقم وامل موجود ہے۔ غیروں سے واشنگی ال ققدر جم ہےکہ مقام قرب نل 
جوم ون نکاملی ن کا مل ماب زندگی ےکی مل موہ اس یقت سے ا سکودور رکھتے ہیں 
اور ہچ رشکا ی تکمرد سے ہی سک یتم اپٹی ضرورفںء حا جتے لکوخیبروں سے بیاا نکر تے ہو جب 
7 یس ا تس سال کن ئپٰئ ‏ سو 
ہرعاجت روالٹی کے لے ا سکاعل وائی وشائی موجود ےہ ہرم لکو دو رک رن ےکی ای 
میرے پااس ہے یس نے اہی بندو کیا حا جا لکواپٹی ذات سے وابست کیا ہے خیب روں 
کواپینے بندو کا عاجت روابنایا کیل ء الا م١رے‏ بندے می رے ؛ نکر ہیں ۔ 

دو کی عاششمیں: تعالی سے جڑیی ہوٹی ہیں 

تن بل دہ اپنے بندو ںکوقر جب سے اققر بکمرنے کے لیف مار سے ہی ںکہمیرا 
درواز ہلا اتیاز ذاکر وغاخل بن وعاصی بجی وسعیدہ اپنے بیگان بھی کے لیے ہروق تککھلا 
ہوا ے موی پکارکرنذ جم وکود ےہ ےکوی الیماج٘س نے موک پکارا ہواورمیشس نے ال سک پکار 
لبیک نکیا وہ ےکوکی جشس نے فریادکی ہواوریٹس نے ا کی دادری شکی ہوء ےکوئی 
نے کرت رت ات ا ےآ کی او کن ے٤‏ ان نک 


۲۹ 


مز لکوآسمان نہکیاہو۔اور ےکوی بنس نے اپنی نا فرمانیوں سے مبریی اجچھا کرد ہواور 
پچ رام رکفو وکرم کے سا تھ مہرے ور پآیا وہ اور ٹل نے اس سکو داب ںکردیا ہو دریراٹ 
یہمعلوم سے عادٹی چرم باب رحمت پر دنتک د ےک رمخفر ت کاپ وانہحاص لکرتے ہیں۔ 

من تھالی فرماتے ہیں یں نے اپنے بنلدو ںک یآ رز و لکوءامیرو ںکو بنا ںکوء 
اٹ ذات سے وابست رکھا ہو ہے اپے ہنرو ںکا عاجت روا میں خودیہوںء اور میں ے 
تام 1سافو ںکواقی بے نیز کان سے پُرکیا ہو اے :یی دزمان می ےا سس 
ےک مت ے پااں ہو ہاسے۔۔ جک می ری رجہمت وی ہے او بش ہے 
اس تس کے لے جمری نافرمالیکرتا ہے جبلہ یلد یا کک ہگاہ تراست می پھر رہ 
سے اید تھا لی کبیں محی تکا ا نحتضارعطاف مات ۓآ مین ! 


الله مَا فی السُموَاتِ وَمًا فی الارٴ ض4 

اب: جب ول ال ء لله مَا فے, السموَات و مَا فے الْرُض اڑل ول 
اب: جب ول اللہ پٍِلِله ما فی السموَاتِ و ما فی الازضنازل ۶ 

)٣٤٤(‏ عن أبی ھریرة ظلہ قال: 

لم وت عَلی رَسُولِ الله ا : 

إللَهمَا فی السُمواتِ وَما فی الَزض وَإِن تَبڈُوا ما فی أنفْيِکُمْأُؤ 
تخْفُوْۂ يْحَاسِبکُمْ به الله قَيغْفر لِمَنْ مه و يعَلِبُ مَنْ ُمَء و الله لی کل 
شیٗءِ قَدِیْرّك (البقرہ: )۲۸٢‏ 

ال : فَاشْمَدٌ ڈلک عَلی أصخاب رَسُوْل الله ےه فاتوْا رَسُوْل الله 8ڈ 
تُمٌ بر کوا عَلی ارکب فَقَالُوْا: اَی رَسُول الله ! كُلَقنَا مِنَ الَعمَال مَا نطِيْق: 
لصا وَ الصیّامَ و الجھَاد و الصَدَقَة و قَد انَرِلَت عَلَیْک ھذہ الَايَة ولا 
ييْقهَا. کال رَسُزل الله : 


۲۲ 


کھا اکلو سد 0ر نڑھا ‏ تک سز 
عَصَیتا؟ بَل قُوْلُوْا: سمغتا و اطعنا غفرانک رَبنا و إِلَبُک المَصِیرٌ, 

َالُوا: معن وَ اَغن عفْرَائک رََنَا وَإَِيُک الْمَصِيْر. فَلَم اما 
القوُم دن با اَليِنَمّهُمفنَلَ الله فِیإِنرِها. 

امے٠‏ مَیَ الرَّسوّلُ بمَا أَنْزلَ إِليْومِن رَتَو وَ الْمُوٰمِنُوْنَ کل امََ باللہ و 
مَلٰيَگتہ و کُتٍْم وَ رٴسُلہ لا نَقَرْقی بَيْنَأَحَد مِیْ رّسُلہ و قَالوا سَمِغُنا و اطع 
غفرانک بنا ولیک المَصِیر. (البقرہ: )۲۸٢‏ 

لم فَعَلوْا ذلک نَسَجَھا الله َعَالٰی فَاََلَ الله عَزَوَجل: 

طلا ْكلَفْ الله نُس ِا وُسعَھَا لھا ما كَسَبَّث وَعَلَيَْا ما اكَسَبَتُ 
ربا ا توَاخذنا إِْ نَسِیْتا از أَخطانای 

(قال: نَعَمْ) 

(قال :نعم) 

رَبنَا ولا تَیْلَا مَا لا طاقَة لا بہک 

(قال :نعم) 

وَاغف عنا و اغفِرْلَنَا و ارْحَمُنا انْتَ مَوْلانا فَأَنضَرنَا عَلَی الْقَوُم 
الَكفریْنَ )4 (البقرہ: )۲۸٢‏ 

(قال :نعم)“ 

[صحیح] (أخرجه مسلم ج ١‏ ص١٠۱)‏ 
لہ مہ اا 7٦‏ 
جن تعالی کیم ء قد رت اورک ککاکمال 

(7)۴۲۵ بحم حضرت ابو ہریرہ تہ سے روایت سے جب رسول ال پل ہ 

ایٹ: 


۲٢ 


لو مَا فی السُموتِ وَمَا فی اض وَإِن نوا ما فی اََفْيِکم ار 
تُحفُوْۂبْعَاسِبکُمْ بہ الله فَيْْرلِمنْ يُمَاء وَيعَذّبُ مَْ بَمَءُوَ الله لی کل 
شی قَِبْرَک (البقرہ: )۲۸٢‏ 

(ت جم ) اللدتتھالی بج یکی ملک ہیں سب جو بل سمانوں میس ہیں اور جو بیجوزشن 
یس ہیں اور جو پا تی تمہارےنفسوں میں ہیں ا نکواگ رم ظا ہرکرو کے باب شید ہرکھو کے مجن 
27 - کے (پھ رپ کفروشرک کے) جس کے لے منظور ہوا پل 
دہیں کے اوج سکومنظور ہوگا سزادبیں کے اورااڈد تھا لی ہرشے پر پوریی فررت رکنے وا لے 
ہیں۔) 
ین تا ژل ہوئی وا محاب رسول ایل لکوت گر وم لااقن ہہ وگیا۔ ہب کے سب ھی 
کریم چا کے پا ںآ اک ھن کے مل بویٹ گے او رع مت کیا :یا رسول اون چا جع مکو ملف بنایا 
گییاان اعخما لکا ج نکی ابی استطاعت ودرت سے ۔روز ہہ نمازہ چہاد صرقہ اورآپ پ 
بیآبیت نازل ہوئی (رکہ و لکی تی ہوٹی بانتوں برکھی جار مواغز ہ ویکڑ ہوگا جس پر جارا 
کوکی و لی ) نو ہم ا سکی فعر رت یس رک ۔رسول الد ا نے فر مایا کیا آپ لوگ ىہ 
جاتے ہی ںکہ٘س رح ال لکتاب نے آپ سے پچ کہا تھا کہ ہم نے سن میاگھر 
ائئیں گ یں تم بھی مپ یکہو نہیں !تم لوک ن ھکبو سنا ہم نے سنا و نا اورخوتٹی 
سے انا۔ ٹھانک رَبَا و الیک الممصیْ رہ مآ پکیہتششی جات ہیں اے ہمارے 
پالہارا اد رآپ ب کی طرف کم س بک لوٹا ے_ 

نے یف ما یکنا رو آڑدا۔ 

سَمِغُنا و اَطعَْا غفرانک وَبَتَا و إِلَییک المصيْر. سب لوگ ا ںو پٹ سن 
کے ہا یک ککدا نکی یا زہا فیس خلک ہوکنیں و اس کے بعد اللہ تھالی نے ںآ یت نازل 
فرمائی: 

اَی الْرَسَوْل بِمَ أَْزِل إَِْ من یه وَالْموموْنَ کل امن بالله َ 

۲۲٢۲ 


مَلٰيَگیہ وَ تُب وَ ُسُلہ لاوق بین أَحَدِ من رُسُلہ و قالوا سَمغتا و اطع 
غُفرانک رَبُنا وَإِلَیک الْمَصِیْر . 

اعنظاو رکھتے ہیں رسول () اس کا جدان کے پاس ان کے ر بک طرف 
ھ02۶٣0‏ سے اور موی ن بھی سب کے مب مہ کھت کین ال کےا اوران 
ےا شون سا2 اوران ۲ کون کت غارس خرس کے سا تح ھک ہم اس 
کےسبب تقمجروں میں ےکی مس تغل بھی ںکرتے اوران سب نے یو ںکہ اکم نے 
آ تک ۰ مآ پکی پش جات ے ہیں اے ہمارے پروردگار 
اورپ د یکی طرف پچ س بکولوٹا ے_ 

جب اورہآیت آمن الرسول ےغفرانک ربنا والیک المصیرتک 
پڑھا (گو کہ امروعم البی کے سا نے متلی ت مکردیا ق بجلرن تعالی نے م یت نازگل 
فرمائی: 

طلا یکل الله تَفْسَإِلا وُمعَھَا لھا َا كَسبَ و عَلَيْھَا ما اَكَسَبّتْ 
بنا لا تَوَاخِذْتًا إِنْ نَِیْتا آوْ اخطانای 

ال تقا کس یفخ کومکاف یں بنا گر ال کا جوا سک طافت اور اخیار یں ہو 
ا سکو ٹوا بببھی ا یکا گاج ارادہ سےکمرے اور اس برعذرا ب بھی اک یکا ہہوگا جو ارادہ 
س ےکمرے اے ہھارے رب چم پردار گی ر نف مایے گب مکھول جائیں با چوک جائیں۔ 

تن تھا لی فر مات ہیں: نعم ہاں مس نے ووقبو لکرلیا جوم ن ےکہا۔ 

بَا ولا تَخمل عَليْتَا إِصْرَا ما عَمَلتة عَلی الَِّيَْ مِنْ بَا 

اے ہمارے رب اور ہم پرکوئی سخ تم نین یس جم سے پیل لدکوں پ رآپ نے 
یی تھے_ 

تن تھالی فر مات ہیں: نعم ہاں مس نے ووقبو لکرلیا جوم ن ےکہا۔ 

ظربَنا ولا تَحَیْلَنَا مَا لا طاقَة لن بک 


1 


اے جمارے رب اود ہم پرکوکی ایا بار (دنا یاآخرتکا) نہ ڈا لے ج سک ہم 
کوہارہو_ 

تن تھالی فر مات ہیں: نعم ہاں مس نے ووقبو لکرلیا جوم ن ےکہا۔ 

ظا اغُفُ عَنّا و اغَفِرْلَتَا وَارْحَمُنا اَنْتَ مَوْلانا فَانضَرِنَا عَلَی الْقوُ 

اور درز ر یی پھم سے اوریٹٹ دتیچیے ب مکواوررقم کی بم پ رآپ ہمارےکارساز 
ہیں (اورکارسازطرفدار ہوتا سے ) س وآ پ ؟ مکوکا فرلوکوں بر خا لب یج ۔ 

تی نتعالی فرماتے ہیں: نعم ہاں یس نے دوقو لکرلیا جوقم ن ےکھا۔(اخی سم /۱۸) 

جب خابت ہو چکا کہ را نف کا مواخ و اعمال برمہ کے مواخ رہ سے زیاد +جت 
ے اورطافت ۴ مفت'ہ۶َ 0ئ ےکو اکر بنلدہ ای امکا لکوت سکمرے اور ابر 
ما ی کے رجہ امراخ شنقما ‏ یکو دو رکرن ےکی جروچھدلوکام ین نے اورخوا ہش لفٴش 
2 ےت پڑجاے ۰٭ا 29 00 کے داع ے وابست 
ہوجاۓ و امیر ےکہ الد اس کے اندرولی محاصی معاف فرمادر ےکا مواغز ہ نکر ےگاء 
کیوکہ طاقت سے زیادہ بندہ مکل نی او رممنوعات ال پکار بند ہون ےکی وہ امکاٰ 
61 کر ہکا کان جونس اپنے اندرولی 1تت ر٢2۶‏ 
دورک رن کا ارادہ ہی شہہوہ دو لقیادوز رٔ نل جات گا_ 

ال سے ظاہرہوتا ےک ۔نقراء کے والن سے وابسنۃ ہونا لیا ھی فرش ہے جیے 
کاب الیل دکی حلاوت اورااس کے احکا مکویکصناء رسول الد لے نے فرمایانتھ: یس نےتم یں 
د ٹیم الخان زس جھوڑی ہیں ء اک تاب اید دوسرکی اپٹی آلء میں الیل دک یکا بکو 
اتفباط ا”کام دری اعمالل بش چحت پذ برک ء ادددارج قر بک کی کے لیے پلڑنا ضروری 
ہے اور رضی موی کے مطا بی با نکی صفائی اونشس کے تےکیہ کے سم ے1ل رسول لئے کے 
داع سے وایستۃ ہونا ھی لا زم ہے۔ 


۲۲ 


ادتقا ہی قیاممت میں مک نکی مردہ لوگ یکر ےکا 

ایک عدیث میں ےک ہم طوا فک۷رر سے تھے 7 0 َو 
عھرجطہ سے اچ اکم نے تضور با سے س رگڑھی کے تل ںکبیاسناہے؟ آپ نے فرمایا: الد 
تعالی ایمان وا کو اپنے پا بلا لگا ء ہا لک کک اپنا بازد اس پر رد د ےگا پچ راس 
سے کے کا بنا و نے فلاں فلا گنا ٥کیا‏ ءفلاں دن فلا گنا ہکیا؟ ودخر یب اقرارکرتا جائۓے 
گاء جب بہت سےمنا ہو ںکا ار ارکر ےکا فو اد تھا لی فمرما ت گا سمن! دنا ۴ی۳س بھی میں 
نے تیرے ان یو بک پردہ پڑت یک اود ا بآ بجع کے دن میں ان تھا مممناہو ںکومعاف 
فرمادیتا ہوںء اب اس سےا لک مو ںکاصحیغہاس کے داجنے بات میس دے دیا جات ۓےگاء 
اں الہ ہکفارومناف یکوقام ہگ کے سام رسو کیا جات گاءالن سک ےگمناہ اہر بے جایں 
کے اور پکارا جات گا کہ بیرلوک ہیں جخھوں نے اپنے رب تال پ رجھوٹ باندساء ان 
الموں پرالڈدتھا کی پھککارے۔ 

ححظرت ز بر لئ ہکا حضرت جا کش سوال 

حضرت ز برض الہ نے ایک مرجتبہ ال سآ یت کے پارے میں ححقرت عا تشد سے سوال 
کیا آپ نے فرمایا: جب سے میں نےآحضرت چا سےاسس بارے میں بیو ھا ےب 
٥ئ‏ ھھ,۰"ء۰ء۷-و ےکن ھا ءآ نج فو نے لے بچھا سے سن !اس سے مراد 
نر ےکونغییں ضا بخاروغی رولکلنغنیں بنا ےہ بیہا ںک کک خلا ایک جیب نقلری بھی سے 
اور خی رہاکہاا لکی دوسری جب میس ے ہاتھ ڈالا نی سلگی دل پر چو ٹک بڑی پھر 
دوسرکی جیب ہل ہاتھ ڈالا وہاں ےت ا ری اس کےگناہ معاف ہہوتے ہیں 
ہا لک ککہمرنے کے وفت دہگنانہوں سے الس رع پاک ہو جانا سے جس طرع ناس 
27 سنا ہو (زنری)۔(لففی را نکی ر) 


۲۲۵ 


آیت کےنزول برا بے کی حالت 

بناری وسلم اورامام امد نے حطرت الد ہریرہ حول کی ردایت سے اورس٣لم‏ نے 
حضرت ان عپاس دی اللرعنہل ردامت ے با نکیا ےآ مت وَإِنْ نوا مَا فی 
اکم انف حابم بہ اللہ نازل ہوکی نو صحاب" یر یہ بات بہت شا قیگز ری 
اوردوزاو میٹ کر اککھوں نے عم سکیا با رسول ار یلٹا از ءروزہہ چہاداورٹیرا تکاگم دیا 
گیا تھا الکو اداکھ رن ےکی ہم ٹیس طاق تی ء لان ا بآپ پرآبیت نال ہہوگی ا کو 
رواش تکرن ےکی نے م میں طاقت نیس ( یع ففسمالی اوری خطرات پرکس طرح اہو با سکتے 
ہیں اور طرح محاسبہ سے ہے سک پں ) تضوراکرم ا نے جواب میس فر مای ایام دہ 
اف جاجے ہو جوم سے پل دولو ںکتابوں ان ےک میں ن کہا تھا 
سَمِغا وَعَضَیَا تی اییاتکہو لہ لو ں۷ هاسَمِعُتا وَأَطْنَا غُقرَانک راو 
الیک الْع یو حصب اک لوک یآ یت پڑ ھن کے جب ز بانوں پر برالفاظاخذوب 
رواں ہو گینئ نو اللہ تھا ہی نے مندررجہ ڈگ لآبیت نا زل فرمائی: ظامََ الَرَسُولَ بمَا نول 
إِلَيه من رَبّهِ و الْمُوْمِنَونَک 

رسول اللد چان ادرمکن ا نآ بات پ ایمان رکھتے ہیں جو رسول الد چا کے رب 
کیطرف سےان براتاری ای ہیں۔ می ںکپتا ہو ںکہآیت:وَإِنْ بَا ماق سك 
اؤْضْفوۂ محامِمکُم بہ اللہ دن کےنزول کے بحدشایدسھا نے رخطراتتانٹس 
وسماؤ کا بھی ال محاسپرف رما ت ۓگاء با اکسا سکی وجہ سے افھوں نے نشسما نی مناہوں کے 
مات ا ےکوآ اود دقر ار دیا اس لیے آبی تک یع مآ ھیزاطلاع ان پر شا قیگمز ری ءآخررسول 
اللہ پےچلانے تیم ورضا اور ول کا راستہ ا نکو بتایا کیونکہ یغوں معن ہکی بی صفات 
ہیں اورایلہتتھا لی نے الع کے اس خیا لکااز الہ دیا کرفظرات بجی محاسبہ ہوا اورا نکوسلی 
دک کہ ہارے ایمان 2 00 ورست نما ےت ارہ ٹں اورول 
نا ہیں ر ال نس زوال ابمان کا مقتفا ے اوراشد نے اع کے مین ہو ےکی 

ھا 


شہاد تآیت پرکورہ یس دکی ہے وبا رذائل ففسا بی سے ان کے نغو کو پاک اورولو ںکو 
صاف تراردیا ےکیونک کال ایما نیقی ای وت ہہوتاے ج نف اور را شس پالگل 
فا ہوجاٗیں اورآیت ٹیل ایماان سے مرادایما نکائل بی ے۔ 

حور پور چا نے اننظار وی می ازخودآ ی تک یکوٹ ٹف یں فرماکی بلک ا ۔کو 
اد بکیاعلیم اورنلقین خر مائی ۔ ا ڑنے فورأ ہی سمعنا اور اطعناکہا اورشکمات ایبان دل 
دو جالع سے کیےء ال تھا یکوسھا گی یہ بات بن دی اس برآکمد ہآ تی ں می امَسنَ 
الوّصول ىینازل ہوگیء؛ جس میں او لکی دوآیتوں میں صھا کی مرح ات می اورخصبیل سے 
سماتھ ا نکیا اطاعح تکو بیان فرمایا اکم ان کے ولو کو اعلیدنان ہوجاۓ اورعشا تین 
کے ولوں میں چونخکبان اور احقطراب ہہودہ دور ہوجائۓ اور کچھ را نکی اس مد کے بعد ان 
کےا لان اورا شا کا جواب جوا نکوشن ںآ یا تھا ءلَایْكَيَّفْ الله نَفْسا لا وه 
دع سے ڈکرفرما کہ جو چتز بند ہی طاقت اوراختیار سے باہرے بندہ ا کا ملف گیںء پا 
ول میس چجوگنا ہکا خیال اورخطرہ آجاۓ فے اس پ کو ٹی مواغذ ہیں ء جب کک خود ایۓے 
اخقیاراورارادہ سے اس پیشل شرکرے با ز پان سے ا لالم او رفظ زکیرے۔ اور برا 
بھول وک پرچھ یکوکی مواغز وکیںء الستہ جھ پا تی بند ہی قررت اور اختیار ٹل ہیں ان پ 
موائز ٥‏ ہوگا_ 

خطا اورنسیان بر واغزہ 

ا ںآیت سےمہوم ہونا ےک خطا اورنسیان بر مواغز و عق وش رما یں مْشہ 
آور چروں کے امس مال سے شی راخختیاری طور پر افعا ل کا صدور ہوتا ےگ رعقلا دشرم 
شراب نے والا مواغہ سے برک یی جوسکتا۔ اس لی کہ می افال لگ چہ خیب راختیا ری ہیں 
ران خی راخزیاریی افوا لکا سبب ٹل اختیاری سے شی نشہآ ور یکا استعال _ ا س فص 
نے اپنے انقتیار کے ہیل اتال سے فا تکیو ںی سکی اس لیے قائل مواخز و ہے۔ 
نسیان اگرچہ بالذات غیمراخنیارکی ےگر اس کا سج بگھو اخقیار ہوتاے ء ای وجہ سے 

۲٢ 


بسااوقات کو لے وانے پر لا أپالیت اور بے پر واٹی کا ازم عام کرت ہیں ء اورخطاکار ہ 
بل اڈگاری اور بے ا انی اور بےے جم یکا الفزام رسک ہیں ء عارف دو ف رس سرد السا 0 
رما تےگین: 
لاتؤاخذناان نسینا شدہگواہ کہ بودنضیاں بوجے جم گناہ 
اللہ اعگرال نم او گگرو ورد شیاں ور پاوردے رد 
(معار فک نرعوقٗ) 
اضاءِفہادت٤اخال‏ 

شع او گرم نےآ یت کاٹیریی مطلب اس طر یا نکیاہ ےکاخ شہادت کا 

جو شیال تھارے ولون کے اند+وگاا لکوظاہ کردا ظہکگر دہ اللدا نک ما بج یکر ےگا 
رما ڑ یحو ات 

بکشر تمحلنات شر مادی ہیں انمانو ںکی رویس مائمکہ وبرہ سب مادہ سے نا ی 
ہیں ءابل ول واقف ہی ںکقلب روں سی اع قمام کے تھام یر ما دی ہیں الد ہی انی 
لوق ے واقف ےک کی ے۔ َمَ يَعْلمْ جُنوْذَرَبَک الا هُو_ 

خی رصاب جنت میں جانے وا لے 

رعول اللہ پڈےپافر مار سے تے جھ سے میہرے رب نے وع ہکیا ےکم می ری اعمت 
کے ستر برا رآ دمیو ںکو ای رصاب وکتاب کے ججنت میں دائل فرمات ےگا اور ہرانیک کے 
ساتیوستزست ہنرارشنش ہہوں کے اور پچ رمہرے رب کے تین اپ مج رجھی جلا ساب وکناب 
جنے مُلں را ل ہن  ِٗ‏ ص ِ“ ھ7 

حضرت اسم بنت بیز مکی دوابیت ےک رسول اللہ چڈلالانے فر مایا: قیاممت کے دن 
لوگو ںکو ایک میران میں کیا جات ےکا ر ایک پکار نے دالا پکا کہ کی ےکا کہاں میں وو و 
0 کے پھلوبستزوں سے الگ رت تھے پل ول ککھڑے ہوجا یں کر کھوڑنے 


۲۶۸ 


ہوں گےء ا نکو جنت میں بلاصساب دائ لکردیا جا ت ےگا پچھر پائی لوکو ںکوصساب کے يیے 
جات کاعم دگا۔(رواہ الببھقی) 

رت امن عپاس ری الما سے روابیت ےک رسول الڈ ےا نے فرمایا: یہی 
امت کے منز برا رآدٹی اخ راب کے جشت میں داشل نہوں کے روہ لوک بہوں کے جو 
ھاڑ یھ دن کی ںکرتۓے ہہوں کے کو یں یت بہوں گے اوراینے رب پر بی گی روہ 
رآڑہرں گے خرن 

رت امن ع با سے ایک طول حد بیث می ای رب مروکٰے۔ 

سکہتا ہو یک ہق رن مجیدر اور احادبیث مقدرس کی رف رعیارت سے معلوم ہہوتا سے 
کہ بلاضناب جشت بی جانے وانے اہ ل توف بی وہوں کے جو ای" سے عائنن ہی ںکیوککہ 
آ ین 

ظوَِنْ تبْدُوا مَافیٔ سک پہ یں الد نے ساب یکوپفساٹ ینا نہوں سے 
ملق فر مایا ے ا سآیت میں اظہار اور اخما دونو لیکوییاسپہ کے لیے مساوی فرار دیا ے 
ےآ بت طاِضتغفز لم او لا سستغغز لم میس استغفاراورعدم استغفارکوساوی 
قرار دیا ے۔ صا ب تھی اگمرچہ اعالی اعضاءکی بھی ہوگی پجھھ مان مہو ں کی بی 
تصوصی ںگییں ےکن اخعمال ےم شی لال رد ال خر تل ہو ہیں ا نکی 
بدکی زیادہ ےجسما یمناہگھی اٹھی سے پبیراہوتے ہیں من کیکٹس اورجلا ۔قلب کے بعد 
گنا ہو ںکا الاب بہت بی ہوا سے اس لیے صرف باضن یگنانہوں کے ساب بھی کا نکر 
کیاء رسول الد ہلا کا ارشاد ےک بدان کے اندرایک اڑکی بوٹی ےکہ جب وہ درست ہل 
ےو ساراپدن درست ہوجاتا ے اور جب وہب جاٹی سے لو سمارا رن جٹڑ جا تا ے اور وہ 
ول ے۔ 

تما مآلوویوں سے قل بکی صغائی اونٹس کے پاکیٹزہ و متنن بہونے کے بھی 
آ ری ک 707 صرور ہو مات ےذ اس سکوفو را ندامت ہوئی ہے او رت کر لھا سے ااں 


۲ 


رح اا کی بد یاں تیوں سے بدرل جالی ہیںء انل فور رم سے ا سکومحا فکرد یا ےء 
رت ابین مس وڈ ے مر وع روایہت ےک گتاہ سے لو ۔کمر نے والا سے گنا ہکی طرح 
عاتّاے۔(رواہ ابن ماجه والبیھقی) 

شرع اسنہ میں حضرت اب ن مسحودۃ پا دکی موقوف عد بی آ کی ےک لیٹھای ہے 
صوفیرجی ددلویک ہیں ج نکوحد یت مارک میں نقرا ءمتو نیشن کے نام سے ذک کیا گیا سے 
رسول اللد چلال نے فرمایاء جفت کے درواز کی زج رکو پلانےے والا سب سے پھلے جس بی 
ہو لگا ال هن کا ورواز ہ سب ے یرۓ یےکھول د ےکا اور ے اندر داقل 
فرما گا۔ اس وفقت میرے ساتھونقراءم ومن ہہوں کے اورمی را یکلام لور رکیں سے۔ 

نقبروی ہوتا ہے شس کے پاس پیج نہ ہوصوفیہ کے پا بھی بل ھکیس بہوتاء نہ ابنا 
وتورر متعلقات وجور وہ اپٹی جستیء می مولی کے تصول کے ے وف فکمروتے 1 
ام را فا عیراور پٹ یگزادنذ ان سے پالنل پی سلب ہوجاتے ہیں ۔ وجوداو رمالا تی 
ان کے پاس ضرور ہوتے ہی ںگھر دو ا نکمالا کوادکی امانت اور ود بجعت کھت ہیں اور ہر 
ما لکوااری عطاء جات ہیں ۔ ہر یکی نسدت اللدکی طر فکرتے ہی ںکو با ابی ذا تکو 
گی سے تصف ب یی سکرتے اور سی ایت ےکا مکا صدوراتی ذات سے جات ہیں ای 
لی ےکی اجیئھکام سے ان کے اندرتترور پیا ہوتا ےن نالوہیت پاطل ہکا وی شا : 
عدیت پرکورجش تضور اقرس چقالانے اینے ساتح مت ہنرارکا داخلہ بتایا سے اور ب یھی فرمایا 
ےکہ ہرایگ کے ساتقحھستر بنرار ہہوں گے نال اول ستبنرار سے و تضور چاٹوکی مراد وہ 
لک ہیں جو ہیا خودشال ہہونے کے بعد دوسر ےکا موں کے لیے نما بہوتے ہیں جیسے 
اخبیاءاور بہت سے اولیا مر ش دنا ء ان میں سے ہرایگ کے ساتقھ اپ سنہ ہٹرا رعلاء ران 
اوراولیاءصاٴن اورصر لقن ہوں گے یئ کے او لگروہء راچنما اورم رش ہہوتاے 
.و ے۔ اور دوس را کا مو ںکاءر ہا لد کے تین لپ کل رلوگو ںکو داغلہ و 
ظاہر ےکہاس سے مرادکشرت ہےء و رنہ اید کےا کا کوٹ مفہوم سے تہ لیو ںکی تحداد 


۲٢ 


کا اللہ کے ذ ایک لاپ می او لیآخرسارا جھا نآجا نا سے ( تین ل پکاکیاممی) قیامت 
-- 0 ھی میس اورقما مآسمان لی لپاۓ اس کے دست قررت میں 
ہوں گے یں غالبا تن لپ فرمانے سے انسانو ںکی تین میں مراد ہیں ای کگروہ وہ 
جخھوں نے راوج میں اتی جائیں دیریں یچ شہداء دوسرا وہ جھوں نے مرضی مول یی 
طلب میں اٹی عم رسس ال سک اطااععت میں صرفکردیں- بگردہ ال پاصفا یو ںکا ے 
4)0 وکاطین کے داصسن سے وابستۃ سے تھی راگمروہ جنھوں نے مرشی مولی 
عاص٥‏ لک نے کے کے اپنے مال خر سیے بہگردہ اول اور دوسر ےنہر کےگمروہ کے ورچہ 
کک ویج سکا گرا نکی راہ پہ لے والا ضرورے ء بیس بچی تی نکگردہ الد کے تین ول 
بس ہوں گےء اور ہراپ گج رک راید ایک ای کفگرو کو ججنت بیں داقحل ف رما گا۔ رٹ بر بی 
روس رکھنا صصوفیکی اتی صفت ہے اوررانو ںکوذکر وعبادت کے لیے بستزوں سے ہاو 
الیک رکھنا ظاہرىی علامت ے۔ 
آخری دوآیو ںکی فضیلت 

رسول ال ہکان ربا باج نف نے رات میس دوآ تی پٹ لی قباس کے 
لی ےکاٹی میں ء اور این عبا کی ددابیت میں ےکہ رسول اللہ نے فرمایا :کہ ال تا ی 
9 2 ۰و جج سکو تھا حلو کی 0807 
دوٹرارسالل بے خودرشن نے اب باتھ سےآکیہد اھ وش ا عکوعخا اتک سر 
بڑھھ نے نواس کے قیام الیل لین تر کے تائم متقام ہوچاتی ہیں اورمندرک حائم اور 
تی کی ردایت میں ےک رسول الد اتا نے فرمااکہ ایند نے سودہ بر ہکان دوآیجوں پر 
شم فر مایا ےہ ج یھ اس نز ان خاضص سے عطافر مکی ہیں جوعرنل کے ہے ہہ ای لے تم 
خماص طور بر ا نآیو ںکویکھو انی عورنوں اور بیو ںکوسکھاء ای لے ضرت فاروقی انم 
اور یکم الشدوچہہ نے ف رما کہ ہماراخیال مہ ےک کوک ی 1وی ج[ سکو پک یمتقل نہ ہو بقرہ 
کی ان دونو ںآ یو لکو پڑ سے اخ رترسو تن گا۔ 

۲۳٢۱ 


وشیدہ یو ں کا جاتز و لیا جا کا 

اور ایک عدیث میں ےک الد قیاممت کے روز فرمات ےکا کہ بی وہ سے مس میں 
شیدہ چچیزوں کا جائزو لیا جا ۓےگاء اور ولوں کے اپشیدہ را زکھونے جاائیں ار 
می رےکاجب اعمال فرشتوں نے فو تھہارےصرف ود اعمال کے ہیں جوظاہرتےءاورٹش 
ان نزو ںکوجھی چاہا ہوں جن برفرشتو ںکو اطلاع یں اور نہ ھھوں نے وہ یزبس 
مرار ےتا اتا مکی نآ نی کین بتڑاتا ہولء اور ان برمحاسپکرتا 
ہوںء پچ رج سکو چا ہو گا ہش دو ں گا او رج( سکو جا ہو ں کا زاب دو ںگاء پھرمنوی نکو 
۶" "ھ1 09“صٰ'ٰیصی رر 

اتال ظاہرہ و باط ہکا محاسبہ 

ای رمظری شس ےکہانسان پیر جو اعمال الل تما کی طرف سے فرش سے مے 
ہیں ما تام سیے گے ہیں دہ بیجن ظاہرکی اعضاء وجوارح ےصق ہیں نمراز روز دہ زکوء 
اورقام معاطلات اس یحم میس دائل ہیں اورپ اعمال واجکام دوگھی ہیں جوانسان کے 
7 ور وت ہیں ء ایمان واعنقاد کے تمام مسمائل نے ای میں داٹل ہیںء 
اورک وشرک جوسب سے زیادثترام وناچنئز ہیںء ا نیکامصک بھی انان کےقلب سے بی 
ےاخلاقی صا نو اشع بعبر قشاعت سخاوتہ وظیرہ اسی رح اخلاقی رذیل کہ ض 
شحل, حب داء یش ویر ىرسب نی ایک دوجر میں تراممنلتی ہیںء ان سب تلق 
بھی انسان کے اعضاء وجو ارح ےکی بلردل سے اور پان سے ہے۔ 

ا ںآیت یں ہرابی تک یگئی ےک حطر اعمال ظاہ رکا صصاب شیامت میں لیا 
جا گا ء ای طرں اعمال باطن ہکا شیا حساب ہوگاء اورخطا یرمواخغز ہ ہوگا- 

ان سے مرادووجخت اعمال ہیں جو بی اسرائنل پرھائند تھے ہک ہڈا بای سے پاک نہ 
ہہ بل ہکا غاب جلانا پڑےء اور کے یر قجول شوہ یا مراد یہ ےک دای ہم پرعذاب 


۲۲ 


نا زی نکیا جا مجلی اہ بقی اسرائل کے اعمال بد پرکیاگیاء اود یسب دعائییقن تعالی نے 
قول فرمان ےکا انکہا یی رسول اڈ ال علیہ لم کے ذ ری ہکردیا۔(مارف اتآ ن مق چھم) 
خرت تع سنیدنو رد بدایوٹی 

حضرت من شھیڑ نے ابے تی سید ور بدالوٹی رم ال عل کا واڈیکن لک بک 
جب ئن برای کے پا سکھا نایا جوادر چز پر ہی ںآنی شی فو ایر تک یننظرسے اس بر 
خورکرتے تھے اگمراس کے اند ریا کی تا ری نظرتہآکی ف خدکھا لت یا استعا لک لے با 
دوسرےکو دی یے اوریی ینآ ہو ےکا مغ ین نے تی نے 
یر تخس نے بے چھاء چن آپ ایا کیو ںکرتے ہیں کی دوسر ےکو یکا دیاکریکیء 
فرمایا: ان الد اگ رمسلما نعکوکھانے میں ز ہہ رما نظ رآ جاۓ اور وہ خود تہکھائے کیا 
دوسرےلوکھا نے کے لیے د ینا جائھز ہے رسول الد لان نے فر مایا :اِضتقت فک ان 
اففاک الْمُفَُونُ کاروے خطاب انی لوگو ںکی طرف ےکی ما سے مت یت مکوفق کی 
دے ہے ہوں پ ربھی این ول سے فنق کی طل بفکمروہ 2اگ رمغتتییں کے انت ھراردہینۓ کے 
باج یشہارادلی اس کے جوا زکی طرف راخب تہ ہوفذ مت اخارکرو)۔ 

تطاونیان معاف ے 

عدیث سے خابت سے اور اج بھی مقر ےکہ اس امم تک خطاءنسیا نکوالد 
نے معاف فرمادیاے۔ ابی صصورت می ںآبیت میں جو دعامرکور ے ال سکا وروصرف طلب 
دوام اورشمارنعت کے لیے رسول الد لا فرماگے ہی سک میریی المت سے خطا ونسان اور 
ورگ یکا مواغزہ اشھادبااور ا کو اگ بڑھا جا ےگا فذ ضرورسیرھا راستہ ا دکھاد ےگا اور 
دوسرے ماما لَانَوَاخ کنا ان تنا سے1 خرسورق* کک اگ بڑھاجا ےگا تذل ںکوالڈ 
قول فرما گا۔اورتسب دعا عط اکر ےگا اور ہہ دونوںل و رصرف رسول اد پگ بی عطا 
سیے گے ہیں ای لے پا کے ببحدآ کی امت پیشیت مجوٹی قیاص تج کگراہ نہ ہمدگی۔ 


۲۳۳ 


نکی ررقائم ری ےکا 
رسول اش ہے نے ارشادفرمابا ےہ مری امت بهشیت جو یگراری بر 
وا و یریت کن شی ماك روایت سےآلی ےکتضور چا ےن رمایا 
مہری ام تک کت پبیشہ الد ےمم ہرقائم ر ےکا لے وانے ا ںاوضرر 
ایس گےء اور نرا نکی مخالشتکر نے وا لےنتصان بای کے ۔اسی حالت میں اللہ 
زا یکا ام میتی قیامت ہیا ہودن کا مآ جات گا۔ 


7ےا بر عطا 7 ای مین +ھ- 

بدا بن مود یل دکی ردایت میں ےک رسول الد چے ٹکو جب مع راج میں نے 
جیا گیا اورآپ سدرة نم کک یہ در ای و رت رے رلنع ےشن 
والے اعمال بھی ای تک کک نے ہیں نے لیے جاتے ہیں اور اوپہ سے اترنے وا لے 
اکا بھی ای تک کک کنیتے اور نے لے جات ہیں۔سددة نکی پرجی دہ جن مچھائی ہوئی 
ےن کا ذک رآیت: اذ یھی المّےوَة مَا شی کہ می ںآ یا ےمنی بر ی جگے_ 
اس مج ہآ پکوتلن جزرسں عطا ہیں : بای وق تک نمازیس ‏ سور بقرہ کے نات کی آیتء 
ادرآپ کی امت کے ان لوکوں ک ےکہامرکی معائی جو شر کی ںکرتے_ (روا لم ) 

مازءروزہ میں کول کا ازالہ 

رسول اللہ لا نے ارشادفر مایا تھا جونماز سے سوجاے با نماز ھن بھول جا ئے لے 
جب بادآۓ بڑھ لے کھول چوک کے عذر سے اجماما رو کی نما کی قضاء سا ق یں ء 
ماز بی ںہو ہو جا ےل مد ہ و پال جار داجب ے۔ 

خطا 
نل خطا مو جم بیکغارہ ہے اورمبراث بھی اجماعا محر مکرد بت ے۔ 


۲۳ 


ببدد یو ںکود بے گئ احکام 

طاکما حملتة لی ال مِن فلا ء اپ نے بد یں بر پا وق تکی 
مازفرخ کی۱ اور زک ۃ میس ایک چوٹھائی مال دی اعم دیا تھا ءا نکو یھ یحم ھک ہار 
کپٹرے پناس ت لک جائے پیٹ ےلوکیاٹ دیا جائےء اگ ری س ےلوگ یگزاہ ہوسا تا تو 
کواس کے درواز ہپرککھا ہواپایا چاتا- 

بق ر کی دو ہیں 

حضرت الو سحودامصارگی کی راددیت ےک رسول الد پگ نے فرمایا: سور ٤‏ بقرہ 
کےآخ رک دوآمتیں ہیں جورا تکوا نکو بڑھ ےکا (رات گر کے لیے ) وہ اس کے سے 
8۷كبپِچ"ھھ 

مخرت نتمان من اش نی روایت ےک رسول الڈد اتا نے ف رما اکہ: مان 
را با رن ے دوہرارسال ۶ "و ے دو 
آبات سور٤‏ ندال زی نراف نشی ن کن یردوفو لآ یات مان رات بڑنگی 
عانین وا ون کش لان از فرب سے .دای 

حقرت الو سعورالٰصارگی لی م فو ددابیت ےک الد نے جفت کےخزانوں 
و ے دوآ بات نازل فرماھیں ا نآ یا تکونحلو کی 7 ے ا رار می پیلے رین 
نے اہ پاتحھ سےلکددیا تھا جوش حنشا ءکی نماز کے بدا نک پڑجھ ل ےکا قیامخن بک جلہ 
یبس کے لیےکاٹی ہو نکی ۔ (اخاہن مد لال ) 

شر نکا مھزان 

حضرت الوسعبرخررکی یل گی ردایت ےک رسول اللد لان نے فرمایا دوسو رت جس 
-:7: ذکمہ سے میبززائن ق رآن سے تم لوگ ا کویکھوہ ا کا سینا برکت سے اور ا ہکا 
چھوڈد ینا با عث حرت سے ء پاعلئین ان سکیا بی لا سکت عو سکیا میا پا لی کون 


۲۵ 


ہیں؟ ماا: ارت (اخرج ال ریلی ںی منالفردوں بی رمظہری) 
وسوسےمعاف ے 
ظرت الو ہربرہ دزل کی روایہت ےک رسول ال ڈاتا ے7 چو وے ول 
ٹس پیا ہوتے ہیں جب کک ان پیل ہوا نکوز پان سے شہکہہدیا جاۓ الیڈد نے میریی 
اص تکوالع سے درگ رفر مایا سے۔ (ضلق علیہ 7 8 ٗ801808“٣ئ0۳.‏ 
بن وی ن ےکم ےک حخرت ابع عما لح ء عطأ اور اکر ا لفقبی کے نز دی کا بیت: 
ان ما تھا فیٰ اکم میں خط راتس ڑنی وسو سے مراد ہیں ۔(تنیرنفری) 
۰ 7 س7 
ین تھال یلیم تیر اس پکوکی فی میں 
)٦٤٤(‏ عن ابن عباسظلہ قال:لما نزلت مذہ الأیة: 

7۳ و وس رر دک 
َال :دحل فُلرْتهُم بنا مَیْة لم بَدحْلْفُْرَهُمْ مب حَىْءِفَفال 
ثُوْلُوْا سمِعْتَا و أطَغْتا و سَلمْتَا. قَال قَألقَی الله الإِيْمَانَ فِی فُلوِْهِمَ 
ظا بْكيّف اللَۂ نقفس ِا وُسْعَهَا لها مَا كُسَبَّث وَعَلَيْهَا مَا أكتَمَبَثْ 

بَا لا َوَاجِذْنا إِنْ نَسِیْتا أوْاَخطَانَی 
قَال : قد فَعِلَتُ 
ربا ولا تَحمل عَليتَا إِصْرَا کمَا حَمَلَتَة لی الَلِیْنَ مِنْ قبلِنَا.. 
قَال : قَذ فَعَلْتُ. 
ٹاو َخفْرلَنَا وَٴآَرْحَمْن انت مَوْلنا 4.(البقرة:٦۲۸)‏ 
قَال :فذ فَعَلبَ “ رفس مہ 


۲ 


( ۴۳۲۷)ت جم :حضرت امن ععہاس داد ت رواتٹرے جب ےآیت اژن 

ہوئی: 
٣‏ .2 

(یجتی )ج پا تی تہارۓنوں میں ہیں ا نکواگرتم ظاہ رکرو کے با اوشیدہ رو 
تی تھالیقم سے حا ب لیس گے۔ 

تو صھا ہہ رضموان ایہم این کے کو2 ۲ ت2 ای ہوگیاج ری 
اورسبہب ےکہیں ہوسا ا ححمور پللا ص۶۵ 4+ /پ/ 
واطعنا وسلمنا رم ن ےک نلیا اورخوقی سے مان لیا اور صلی مکمردیا )تو ارڈ تال ی نے 
اع کے داوں میں اما نعکوقوب را کردیاادرآیت نازل ہولٰ- 

ظا يُكلَٹ الله نس ِا وُمعَھَا لھا َا کسی و عَلَيْھَا ما اَكَسَبَتْ 
بنا لا ُوَاحِذنا إِنْ نَسِینا أَوْأَحَطَأنَی 

ال تال یک ینف صسکومکی نہیں بنا تا ہراس یکا جوا ںکی طافت اوراغختیارمیس ہوا 
کوقوا بھی اک یکا لگا جو ارادہ سےکھرے اوراس پر عفرا ب بھی اکا ہہوگا جو ارادہ سے 
ہے 

تن بل مد نے فر مایا: ٹس نمو لکرلیا اورپ ہمارے ساتج مکی معاملہہوگا۔ 

ربا ولا تَخمل عَليْتَا إِصْرَا کما عَمَلَتة عَلی الَِيْنَ مِنْ بَا >. 

اے ہمارے رب اور ہم پرکوئی مخت عم نہکینے یس ہم سے پییلدکوں پ رآپ نے 
بجی تے_ 

تن بل یرد نے فرمایا:ئٹس نے الیباہیکیاے۔ 

و اَغفْرْلَنَا وََرّْحَمْنا اَنتَ مَوْلناک 

نے ٤‏ جع مکواو ررقم نے پھم پر ہآپ جماار ےکا رہازگیں۔- 


(اخرجه مسلم )۱۱٦۸١‏ 


۲٢ 


ٴ۶ 7 
امَنَ الوسُول جب نازل ہو ی 
)١١٤(‏ عن ابن عباس ذهْ قال: 
”لم تَوَلَتْ 
می الرَسولِمَاََرل لہ من رب 
رما رَسُوْل الله يك فَمَا فَال: 
نغفرانک ہنا 
قال الله : قَذ غَفْرْثُ لُک .قَال: 
بَا لا تَوَاخَدنا إِغ سینا او اَخطَانا4. 
َال الله :لا اڑ٘خلک. فُلمَا فَل: 
ط ولا تَخْملْ عَليا إِصرَا کمَا حَمَلتَة عَلی الین مِنْ قَبْلنَ 
طول تَحَمّلَنَا مَا لا طَاقَة لا بک 
و اغفُ عَنا و اغُفر نا ہ 
َال الله قد عَقَوْثُ عَنکُمْ وَ قد غَفَرْثُ لَکُمْ. فَلَمَ قَال : 
طرََعثا) 
ظ فَأَنضَرٴنا عَلَی الْقوْم الکَفْرِیْنَ٭ (البقرة ۲۸۲) 
[صحیح لغیرہ] (اخرجه آبوعوانە فی مسندہ ج ٦‏ ص٢٦۷)‏ 
ع۴۲) ت7 جم : ححفضرت امن عہاس داد ے ز(دایت ے لرجتب آیت اڑل 


۲۲۶۸ 


آمَ الْرسُوْل بَا نل إِلَه من رہہ 

اعناو رھت ہیں رسول( )اس ڑکا جوان کے اس ان کے ر بکی شرف 
سے ناز لک گی ے۔ 

نو رسول الد چان نے اس سکی طلاو تک ء جب غفرانک بنا پڑھا ےت تعالی 
نے فر مایا یقیا یٹس نآ پکی مغفر تکردی۔ جب 

ربا لا ُوَاخذناإن سینا ا خطانَا 4 ۔ڑھا۔ 

تن تما لی نے فر مایا سآ پ کا مواخغز و ودار گیا ںکرو ںگا_ 

جب فلا تَحملْ عَلَْا إِصُرَا کَما عَمَلتة عَلی الَِّيَْ مِنْ قب 

اے جمارےرب اور ہم پرکوئی جخ عم کیج جیے ہم سے پیل لوکوں پ رآپ نے 
یج ھےء ڑھا۔ 

جن مل مد نے فمابا رم ین تع می ںکمیچو ںگا۔ 

جب ظا ولا تحَیّلنا مَا لا طَاقَة لن بک 

وم پروی الما بار(د نا وآخرتکا)نڈالے ش سکی پھمکوسہارتہ ہو۔ 

تن نھاکی نے فرمایا: ایی ارئکیں ڈالو ںگا جم سک فررت تہ ہو- 

جب چاو اغف نا وَ اغَفْرََا کہ 

اوردرگز ری بم سے اورینش دسیچئے جھکو۔ 

بی ہل میدہ نے فرمایا: یقین مش نے تم کو محا فکردیا اور یی ٹس نے تی ری 
مغفتکردی_ 

جب وَ ازْحَمنا۔(اودرمم کی بمپ) 

بن تا لی نے فرمابااوررقمکردیائٹس نتم بر۔ 

جب ف فَأنصرنا عَلَی الْقَوْم الْكْفِرِیْنَ)4 

سپ مکوکاففروںل پر غال بکمردتیجیے۔ 


سا 


بن تعالی نے فر مایا :یٹس نے کافمروں پت ہاریی مددکردی۔ 
(اخرجه ابوعوانه فی مسندہ )۷٦۸۱‏ 
دو یں جو جنےتے کےن زان ے نازل ہوٹی ہیں 
بی نآتیں ستام القرآن سور بش دی ہیں ۔ مڑمی ف رآ نکا سب سے بلند<صہ۔ 
سور بر ہکا نام حد بیث ٹیل سنام التقرآان' آیاہے ین تھالی نے واّ کرد اکمرانسان کے 
اعمال خوا: ظاہری ہوں پا پاشنیء بندہاپنے خالقی سے چچھ یں سکتا اور قا مت کے ون اس 
کا انی اعمال پر انتا جی اب ہوگا جقنا ا ہرک پر ادرجقنا ظاہری ائمال رب پر وانج ے 
اتقاتی پاضفی اعمال اس پرروشن ہے۔ جس رح بندودتیاکی عداات می گنی اعمال سے بے 
خطرر تا ہے ال تھا یکی عداات می مک ن یں ۔کبیونکیتن تل یلیم ویر ہےء اس ےکوئی 
ےت یکین و زلیے ون گی ہے ڈرہ ڈر ہکا ساب چنا ےک سر ےآت نازل 
ہوئی نو صا رضسوان اریم این رتنم کر لان ہوکیا تی توالی نے صا کےا سکم 
101 1+ الرسول ۲“ 9 یئ برفیل 
سے موجود ے۔ خلا را تکوجوان دوآیو ںکو پڑ تےگاء نواس کن می کا ہیں۔ ىہ 
دو یں جنت کے نز انہ سے نائز ل ہوٹی ہیں ۔ جن سکوتما موق تکی یدک و۶ ار 
سال سے خودریشن نے ات اھ سےلگیددیاتھا۔ جون٘ بحدنمازعشاء ا نکو پڑجھ نل گان 
ای ک جن یں راب گل رعبادت کے برای ہوگی۔ رسول ال ڈگ کوخائ ‏ خز ان جوعرشی کے 
چے سے وہاں سےگی سے۔ 
ان دوآیو ںکوخودیکھوہ بیو ںکو عورتو ںکو٢کصدا‏ 2 فو ار عخثالی سے کم لعیشہ فانندہ 
ل٦‏ لکرد نے ہیں۔ جوخمایت بی اہم ے اس سورت میس اصمول وف روح عبادات ومعاملات 
جای دا ی ہرگم کے اکا ءات کہ تکشزت سے نرکورفرماۓ اور شا بد اس سورت کے ستام 
ال رآن فر مان ےکی سی وجہ ہوہ اس لیے مناسب ےکہ بندو کو پور کید وتبد یدگ ہر 
رح سے فرمادکی جاے تا یٹیل احکام ذرکورہ می لکوتاہی سے اجقتنا بکر میں .سوامی خوش 
۲۴ 


کے لیے خرسورت میں اکا مکو بیان فرماکر ا سآ بی تکولطد رتتہد بد وتخبیہ ارشادفر اکر تام 
اعقام 0 باہندی برس بکومچبو دکردیا اورطلاتی وزکاں ناک وزکو؟ ورا 
وفیرہ میں جار صاحب ملوں اور اٹی اببھادکردہ ن'یروں نے لام لیت یں اور نا حا 
امو رکو جائز بنانے میں خودراٹی اورسینہ زورکی سےکام لیت ہیںء ا نکوگھی اس بیس پوریی 

دیھے! جن سکو ہم پر اتختقاقی عیادت حاصل ہوگا ا لکو ما تک ہونا چاہیے اور جو 
ہارتی نما ہریی اورٹنی خمام اشیا کا محاسبہکر کے ا سکوقام امو رکاعکم ہونا ضروریی سے اور جھ 
ہماری خمام رو ںکا اب نے کے اور ہرایگ کے مقا ہہ یس جنزا وس زادے کے ا کو 
ام چروں إثدرت ہوئی ضروری ہے سوا بھی تی نکمالات مشنی کیک لم اور قزر کو 
یہاں بین فرمایا اوران یکا آیی الکری بی ارشاد ہو چکا ے مطلب می ےکہ ذات یاک 
بحانہقمام نزو کی ما تک اورخا لی ال اعم س بکوعحبط ا کی نر رت سب پبرشائل سے و 
را کی نافرمال کسی ام راہ ای می لک کے بند ہکیوگ رجات پاسکتا ہے۔ 

یآبیت سے جب پیمعلوم ہواکہ ول کے خمالات پرمھی حساب اورگحرفت ےو 
اس برحعثرات “ھا ےکی راۓے اورڈرے اورا نکوا تا صدرمہ ہوا کا آیت پر نہ ہواتھا آپ 
ےا سے شا بی تک آپ چان نے فرمایاقولوا مسمعنا و اطعنا تن اشکا ل نظ رآے یا 
وش تگرتی توالی کے ارشادی تسلیم میس اوک ی و نکی م تکرواورب دن ٹھو ٹک رسععنا و 
اطعنا عر ی/روو_ںآ 2 کےساتھ بینکمات ز بان بی بیساخنۃ 
جاری ہوگئے۔ مغلب ان کا یہ ےک ہام اما لائے اوالل سےعمری یا اطاعح تک میتی انی 
وت اورخلجان سب مھ وڈکر ارشا وک یل ہیں ستوری اور 0 اہ ری جن ۷ 
بات پنند ہوٹی جب بردونو ںآ نیقی اترمیںء اول م]شنی آسن السرسول اس میس رسو لکریم 
ےا اوران کے بح دحا ےش نکواشکال برکور می ںآ یا تھا ان کے ابیما نکی تن سحاشہ نے 
یل ‌2ھ90'و2 ك 0 ے ان کے ولوں یس انلمربان تر پاوے اورتلجان 


۲ 


ساب زائل بہواس کے بعددوسر یآ بیت لا مکلف اللہ نفسا الخ ۔ می رمادی اکور 
سے باہ رس عکانکلی نیس دی جاتی ۔ اب اگ رکوگی ول می لکنا ہکا خیالی اورشطرہ پا اور 
اس پیل نکر ےو چج کنا :نہیں اورجھول چو ک بھی معاف سے غ صاف فرمادیاکہ 
یجن بانوں سے پچنا طاقت ے باہر ہے جیے مُر ےکا مکا خیال وخطرہ یجول وک ان پہ 
مواغز ہیں ال ج ہاقیں بندہ کے ارادے اوراختیار میس سے الن برمواغ ہ ہوگا۔ اب 
آ یت سا لاک نکر جوصرمہ ہوا تاس کےسعن بھی ای مپیجلہ فا عرے کے موا لین ا ئئیس 
چنا خی رایمای ہوااو رشان مرکو رکا اب ایب غع ٹع ہوگیاکہبحان اللہ - 
او لآ یت پر فرات ھا کو بی پ انی ہوگ یی ءا نکی کے لیے برد و تتیں 
آمن الرسول الخ اور لاہکلف الله نفسا الخ نازل ہیں اب ال ے بعد رہنا : 
تواخدنا آنخرسور ت کک نال خر ماکر ہا انان د بالگ اک کسی صعحوبت اوردشوا ری یکا 
ان بیشگھی ہاتی نہیچھوڑا کیونک جن دھائ ںکا ‏ مکوعم ہوا ےء ا نکامقصود یہ ےکہ ینک ہر 
رکاج علومت اور اخختقاق عبادت جھ کو ہم پر غابت ہے گر اے جعارے رب ای 
رقت وکرم سے جمارے لیے ابی ےحھم کییتے جانیں جن کے بعلا نے بیس چم برصحوبت اور 
ری مشققت نہ ہو ضہبول جک می پکڑے انیس ء تل کی امتوں کے ہم پرحدیدگم 
اتارے یں نہ ہماری طاقت سے پاہ کوٹ یحم ہم پمقررر ہو انس سہولت بھی جم سے جھ 
فور ہوچاۓے 1و9 ہہ اوزام پر لک فرمایاجاے۔ عد بہٹ ۰ -90-20 
سب دعائیں مقبول ہیں اور جب اس دشوارکی کے بعد جو رات صییا کو چیہ ی1 تی 
اللدگی رجمت سے اب پر ایک دخواریی سے وا نٹ لگمیاء نے اب اتنا اورشھی ہونا جا ہی ےکہ 
کفار پہ مکوخا ایت ہوہ ورنہا نکی طرف سےخقلف بیس دی اود دنیوئی رر کی 
مراکتیں بی لک جس صعوبت سے الد اورک کے الد کنل سے جا لات فا کے 
فا کی حالت میں پھ رون یکھلکا مو جب ہے اشحبدزالی ہوگا۔ (تضی ریخ نی ض۷۷) 


۲۳۲ 


علیم الات مردملتحضرت ‏ ول نا شرف ٦ی‏ تھا وی رح ال رعلیہکی ان قح 

طإ لا لٹ الله َْسَ الا وُسعهَا لها ما كَسَبَث و َلَيهَا ا اكَسَبّتہ 
ربا لا تّوَاخِذن اِن تنا و اَعطَأنا ٥‏ بنا ولا حم عَلین اِضرَا کُما حَمَلتة 
لی الَذِيْنَمِْ قَبْلَا ٥‏ رب ولا تُحَمَلَ مَا لا طَاقةلنا به ٥‏ اغث عتاء وَاغَفِر 
نا ء و ارّحَمُنا ء انت مَوْلانا فَانْضرْنَا عَلَی الْقوُم الکَافْریْنَ)>ہ 

ال تال یکس یف سکو مکل نڑیں بنا مر اى یکا جوا ںکی طاقت اور اختیار یں ہو 
ا ںکوفو ا ببھی ا کا لگا جواراد ہکررے اور اس برعخذا ب بھی اک یکا ہہوگا جوارادہ سے 
کرے۔ ۔اے جمارے پروددگار !ہم پر دار ویر نہفر مات ے اگر چم ول جامیں یا وک 
جائیں۔اے جمارے پروردگار ام پرکوئی خض عم ن کیج ۔ جیے ہم سے پیل لوکوں پآ پ 
نے کییجے تھے۔اے ہعارے رب ! م مکوکوکی الما بار(د نایا آغرت )نہ ڈا لیے من سکی پھمکو 
سہارنہ ہواورورگز رجیے ہم سے اورچنٹی دج ہ مکواوررتم یی م پر ءآپ جھار ےکارساز 
0 پ ا مکوکافروں پر طااب یجے۔ 

بیالن اعزار یش عست 

جیے ای کن خمازبی ے نما زکوضر در ی تا سے ا کی پابندیچھ یکرتا ےہ وضوکو 
بھی ضروریی جکتتا ے اوہ مکومعلوم ےکیردہ بجار کی حاات می بھی وضموکوتر ککہی ںکرتاء 
دہال ضرورت سے اعراشرعیہ لان ےک کان اعھزار سے وضوسا وط ہوک رسیم چائز ہوچاتا 
ہے ۔ مل راب معاف ہوک نایا ککیٹروں ہی سے نماز درست بوجائی سے امتقبال قبلہ 
محاف ہوک رر٘ سطر بھی ماز پڑت کے نما زجج سے اور قیام پرقادرنہ ہو ٹعودے اورتور 
پر قدرت نہ ہو اض اخ ےنمازچ ہوجالی ہے۔اییے وقت مس بیان اع ارکی ضرورتکا 
راز یہ ےک ہاگ الیےنش لکواعذرار نہ نلائۓ امیس نے ا کو اخمتقادی او کی نی بی ں1 نے 
گی۔اخقادی گی نو ی ہوک یکا کو لا کلف الله تقْسّا الا وُسْعَهَا کےصرق 


۲۳ 


میں وسوس اورشہہوگا چوکہزوال پا ضف ایھا کا سبب سے او رک گی بی لآ ےک 
اک را سک وم کا ارہ نہ ا گیا نوہ عزر کے وفقت مور ہوكر وضو کفکر ےگا اور چوئل 
وضوکوشرط چھتا ے اس لیے بے وضونماز ہڑ ھےگانڑیں یک گی ےہ ہیں ایی فٹس کے 
سلاصت ایمان اورسلاممت اعمال کے ےی ضروری ‏ ےک اس کو اع اش حبہ کے اکم سے 
مت عکیاجاۓ ۱ اس سے ا کا ایمان یوں سلاصت ر ےک اک ہا ںکو پا ا یکل اللہ 
تنا ال وسْعَھَا سرت ظا مو تال یں ساامت ر ےکا نس 
رم و ر7 

ط لا بْكيِّف ال نَقْسَ لا وْمْعَکَاط لَ مَا کسَبَث وَعَلَيْهَامَا 
اس0 ا لآ یت میں صاف ‏ ضرع ےک اید تھا لی دعحت سے زیاد ہکا ملف ہیں 
کرت بلکہاب وعذا بکا عدارکسب واکسراب بر سے۔معلوم ہو اک انسان اختیارا تکا 
ملیف ے اور احوال اخقیاریجییں اس لیے ال نکا مکل فکبیں اور یہ بات ال آ بیت کے 
شا نزول سے ڑیادہ ا ھوجات ۓگ کیونکہ ا کا نزول احوا لک افتق :0 کے و ںا 
نزول ا سآ بیتکا یر ےك جبآ یت فان تبَدُوْا مسا فی اَنْفُيِسحُم َو تَخْفُوْه 
اہم بہ اللڈ نازل ہوگی 2 عماہراں ےڈ ر گے وگ اما فیٰ انفِْکُه یہ 
ظا ہرعام سے وسواس خی راغقتاریی و زائم افقیار یرس بکونذ سای بج ےکم شایدان سب پہ 
مواغزہ ہوگا اوراس خیا لکا فغا صھا کی فّتعلم نہ تھا لہا سکا خشا ما مشق تو جم سکی 
شمانع ب یں 

ا ساب را می پندم 

4 سی و ہجار برای 

عاش نقکوضتیف احالات برکھی ڑب یکر رہتی سے ورن ھا بڑفو اع رسمعیہ وحقلیہ سے 
جاتۓے ت ےک الل تھا ی مور غیراغقیاریہ پر مواغذ ہ نفر انیس ک ےکیوکلہ غقتفضاۓ رححت 
کےخلاف ےگ رش دعب تک وجہ سے ضت تک نل تھا آ یت می مو دج کر ڈر گئ اور 


۰۳۴ 


تضور چا سے ا سکوع رن کیا جمور چلال نے فرما یکیاتم طاسجغنا وَ یناہ کہنا جات 
ہو۔ دوعس و اہک ہم نےے۲ن لیا ادرہم اطع تکرریں گے ۔ ھا نے ادب 
سےکام لیا اور میعن و اَطعُنا ہا گوز باانل کی ان یت یکیوکلہ اند لیڈ تھاکہ سوا 
ٹیراخقیار یش شایدا ںمکئیل نرہو راد بکی وج ے اطا عم تکا وعد ہک رد لیا- 
اتال یکوا نکی ادا ینآ گئی۔ائس پر ہل آمَسن ارول سے خرسورة تک یت 
نازل بیس اوراد بکی ہریت سےآ بی تک ینف کرد گئی۔ادب بڑئی یز سے۔ موا نا نے 
ارب کے تلق قص ھا ےکہ جب حفر تآ دم علیہ السلام سےاغزشل ہہوٹی اوران پاب 
ہوااورصخر تآ دم نے بابسا ظلمنا اسنا کیا اورائل نے ا نکی نو تقو لکی تو بعد 
یس الع سے کے چھ اکا ےآ دم !ال افعال نے یس ہوںتم نے ال من سناب کیوگر 
ان٢1‏ آ دم علیراللام نے جواپ دیا 
ان نون ہے مھ 
گنت من کم ہاں آنت 2 

سی طرح حضور چا ن بھی یہاں ادب سےکام لیک خودا ںآ بی تک ابی رندکی 
ورنہآ پ خودجھ ینف کر سکتے ےگ رپ نے وٹ یکا انظارکیا۔ اش بے مآ ات نازل ہیل 
جن میں ال رسول الد چے اور رات صا نی تحریف ےک سب نے ابھان پہ 
اخنقاصت ھا ہرکی اود اض سضسسا و اکسا کیا اور سک کوتایکااد یڈ ا اس نے 
استغففارکیا ہغفرانک َبما وَ الیک المصیْو ہہ اس تحریف کے بعد یت سابقی 
تی رکیکئی و لا کٹ ال نفس الا ومغ اہ یس جس کا عاصل ب ہےکدار 
نکی کا صرف اختیار ے او رخطرات اختیارییی سے عبدآ نکا مکی کچھ یں اب اس 
پر سوا وکنا ےک اس سے کیوگکرمعلوم ہو اک ہی رافختیار یکا ملف نے نہ ڑگر انس بہ 
مواخز ہو چا ےا ںکا جوا بآ متندہ لے ٹیل ارشا دفرمایاگیا_ 


۲۵ 


امو شی راخیار یہ برمواغز دنہ ہوکا 

ط لھا ما سیت وَ غَلَیَْا مھا ا"سبَث پچ کیوکیکسب واکصراب ک ےنیل 
پا لاختیار کے ڈل اور ”لَهَا و كلَيْھ جن لام اوزی یکا راول و اب وخحقاب ہےء پمردونوں 
رو رک ومقد مکیا گیا سے چجومفیرحصر سے۔ اس حصر سے معلوم ہگ یا کہ اخفقاق اب و 
عقاب صرف امو را ختیار یئ پر ہے۔ لو ںآ یت با ا خی رہوگ یکر دوسا فسیٔ 
انف یہہ ےاعمال اختیار یہ ہیں اورمت لک موی ہنا غایت پموگیا ہم سکا میس نے 
کوٹ یکیا تھا۔ اس منلے برا مفقصودکی پچل رص ری عکرتا ہو ںکہ جب ٹذاب وعقا بکا مدار 
اخار مر ے او رمتصو دع رکا صرف تصمول نو اب اورمحجا تن العقاب سے پیل رخ راختیا ری 
000 پڑے؟ بہاں ایک اورسواال کے جواب بھی تفہ کرتا ہوں ۔ ووسوال ىہ 
ٹ۶ ھ*8تھ تے ہیں ہل سے زیادہ ہوتے ہیں؟ جواب ىہ ےک بیہاں 
لیف سے مرا لیف ری ہے لکیف یکو تی مراوس ء دا کی بیہا ںی نی ٹیل 
امو نیہ بیل ٹوتی طاق تکا ---۔ ہے شایداس پر بی سوا لکہج بکشریعات میں 
رمع تک اضریۓ بقاعردے الا يکَلَفْ الله نَا ال ؤسْهَا کن گو ہینات میں بھی 
ریینتامضفض کون فا وا ؟ اب یہ ےک گگوبینیات یں لوج زبادت اج زھ ےی 
طاف تک وو غلاف رحس تگیں۔ رہ بر سوا لکہ پگ رکنش رمخقیات میس بھی زیادت اج ے 
لیے ای اکیاجاتا؟ ا سکا جواب بہ ےکرتقشرفع ےم لمقصود ے اورفوقی طاق کا صدور 
کیوگر ہوتا اورگو بینات میں صدورا اش ل یں ایک دوسری بات مطلوب ے چوک وہ 
اخقیاری ہے می صب کہ ال تھال یکا حکایت کر اوراس می بھی اتی نوس ےک نیقی 
شکابیت نکر ےگُوصورت شکایت ہوجاے و وہ معاف ے_ 

مس شکای تنقی نہ ہونا جا ہے اور یرام رانختیارکی ے اورنگو نات میس انان اس یکا 
ملف ے۔ اس کے سو اس یل وغیمر ہکا مکل فنجیں_ لیو ںکو بات میس فوق الطاق تکا 
وو جات سے اورتشربحیات ٹیس الیبا نیس ہوسا ہا لگگو بات کے پاارے می ںآ کے دعا 


ا 


یلیم ےک فو ق الطاقت مصائب سے :یی ےک یبھی دعا ما ڈ کرد چنا نی رَتنا ولا 
تخل لین اِضرا پچ کے بعد جک تشریجیات کے ہاب میں ہے ا سکا اضا فی فربایا 
میا بنا ولا یلا ما لا طاقة کنا بدہچہ ۔ ایک ککتداس مقام یں قائ لور یہ ےک 
لھا ما كسَبَث وَ خَلَيْهَا ما اشحتسبّث ہہ بی دو نوا نکیوں اختیار سے گے حااللہ 
دوسرک مہ ارشادے وو لکن باذک بَا کسبّث فو کمچ اورایک مقام پر 
ارادے لھا مَا كسَيت و لَكُم ما کسبْْ چہ ان چجہوں میں اکسا ب کیل فر مایا ؟ 
اںک ات بد ےکم بی ظاہر ےک اکساب می لکسب بے را وف ےکی ول افتھا لی 
خماصیت کلف ہے۔ اب تر کے لے ےکسب اورش ر کے لیے اکنساب ا خقیا کر نے می کلت یہ 
معلوم ہوتا ےک محاصی کے لیے انسا نکواجتمام زیاد وکنا پڑنا سے کو وقو ع ال ںکاسہوات 
سے ہوجاۓےگر اجتمام شر کے لیے زیادہ ہوتا سے اور خر کے لیے اس فکرر اجتما مکی 
ضرور تنا ںکیونکہ ازسا نکی اص فطرتترےجی اعدم ”فَْلٌ مَوْلُوْدِبُرْلَّةُ 
عَلَى الَفْطرَة“ سے معلوم ہہوتا ہے اورفطریات کے لیے زیادہ اما مکی ضرور ت یں ہوٹی 
فو تن و ان کے تن اک اوت اک 2ن یت 
اس کےاندرموچوو ےنیل تل خودمعاصی سے روکقی ہے اسی لیے بعد معاصی کے 
انما نکونرامت بے عد ہو کی ےہ اس لیے شر کے وا سے اکساب فرمایا اور تیر کے لیے 
تہورجید بن ےوظلو سا لس ضف روائیرت 
وو ا ںکنق رر کے مناٹی کی ںکیوفک ش میں ںی نف ہوا تکیںء ہاں عادت کے لے سے وہ 
کل اور نحوب ہوجالی ے او رخ میس فی مس دشوار یں ء ہاں عادت نہ ہونے سے ال 
ٹیش عارشی دشواریی ہوچالٹی سے اورای درجہ کے فحاظ سے ا کو مار کہا گیا سے اب جج 
اگل ضدد ہا لی لہا ہو ںکہ یہا ںکسب واکسیاب می تب لعنوا نکی نے جیہ بھی ہوکتی 
ےک خی میں مل قکسب پراج ےگا خوادانفا نا تی رکا صدورہوجاۓ اورشرممی سمل قکسب 
پخذا بیس بللتحمدکسب پرمواغزہ ہوتا ہے۔ چنا خی خطا ونسیا نمخو ہے واواندا(لم ) 


٢ے‎ 


ایک سوال وجواب بیہاں حص رک تلق سے جو لہ اورڑعلہ ا“ کی نف ریم سے حاضصسل 
ہوا سے دہ راس حضصر سے لاز مآ جا ےک یس عقاب بلاکس بکیں ہونا جا ےکن اب 
بھی بلاکسب ش ھا لاک فو ا بھی 337 ےگھیئل جا ا ےجبی اک فص میں 
دارد ے۔ جواب پہ ےکر حصر پاعتبا رصمول کےکایں بللہ اختبار اختقاقی کے سے ہیی 
اختماق نے ٹوا بکا بھی بدو نکس ب کی لگوعطا ہوچادے اور ابر می رےکلام می بھی اس 
طرف اشاردے۔ 

ظرَبَسَا لا توَاخذُنا اِنْ سینا او اَخَطَانَا ١‏ رَبَنَا ولا تَخملِ عَليْن اِضرَا 
کم حَمَلََةُ عَلَی الَدِیَْ مِنْ قَبْلنَا ٤‏ رَبّتَا ولا تحَیْلََا مَا لا طَاقةً لا بی اے 
ہمارے رب! ہم پر دار گی رن فرماہے اگر ہم بچھول 7 ما جک 0 انۓ مار 
پروردگار !اور ہم پرکوئی سخ عم نیج جیما م سے پلیہ لوکوں پآ پ نے کییجے تھے اے 
ہمار ےرب !اوہ مکووٹی الما بارنہ ڈال ےج سک ب مکو ارت ہو- 

ہھ زس ا ںآ یت میں مرکور ہیں بش نسیان اور خطا وغیمردان برمواغخ و نہ ہونا اس 
ک اون سے وعدہ گیا در پل یآ بت شی لان سا مَافی اْفِکم او تخفوۂ 
بُحَابِبْکُم به اللہ جھ پا یں تمہارےلسوں میں ہیں اگرتم اہرکروکے ماک پوشیدہ 
رکھو گی تھالی تم سب صا ب لی گے۔ 

اتی العاممنسوغ ہی یز رسول الپ نے جھی ف ادا ےک ”رضم عغسن 
ای الا و الْسَیان“ و من ےظارغلب ف زرل ار 

مگ رپ ربھی ریم ہواکیہ یوں ہی ماگے جا اور ہی دعالضے مک یگئی نو بات ىہ ےک 
وخ ہونے کےکٹل فو یرسوال طلب کے لے تھاک ہم سے موں مااکروء اب الو شر 
کے ےک تی سے ہم نے سے پبیلی نان تے ا بک یماح ہیں۔ 


۲۸ 


خی راختی ری وساؤس برمواخ وکییں 
اک ملاس مقام پ راع ئل یہ ہےکبق تھی نے فارَبّت لا تَوَاخذْنَ اِنْ 
عم اپ کی مکی فربئی ہے ادرحدریٹ مس ہک بیدا قول ہویچگی ے, 
چنا غتضور لاف رماتے ‏ یں ”رُفع عَنْ تی الْخطا وَ الیْسیَان“ ۔ابعوال بےہوتاے 
کنسیان وخطا امراختیارکی سے یا شب راختیارکی۔ ظاہربیہ ےک شیراختیاری ے اور نا 
بُكَلّٹ الله نَفُمَ ال وُسعَھَا ا سےمعلوم ہو چکا ےک غیراخقیاری پرمواغخز ویں ۔ 
پچ ربعدر ح مواشزہ آ دہ کے لیے دعاۓ عدم مواغز ہ 2م ک کیا نی ء بل موا خر ہکا 
اشمالل ہیایں؟ دوسا اشکال یر ےمعد یٹ سےمعلوم بہوتا سے رش خطا ونسیان اس مت 
کےسات فصو ہے :ننس سےمفہوم ہوتا ‏ ےکردوسرکی ُمتوں پرمواغ تھا اور یل کے 
خلاف ےک دوسری امتو ںکنحییف مال بیطاقی دک یگئی ے نیزنص طل بُکَلَفْ الآے 
سپ راٹس عام ےجس سےمعلوم ہوتا ےکن ریعیات می سکیف لا بطق یکو 
نہیں د یگئی اورمتط لبھیعمو مکو اہی ہےء اس کے جوابات علاء نے فلف دبے ہی ںگھر 
شمیرے ذ ئن یل جو جوا بآ یا سے میں ا سک وع سکرتا ہہوں دہ یہک خطرات ووسساؤول ٹیل 
باارریۓے آلء ایل درچ عدو ٹکا سے ووپو شی راخختیاری سے اور ایک درچہ بقا ءکا ہے۔ ب 
تس اوقات اغخزیاریی بہوتا نل اکسی تو کا ول میس بلاقصدخیا لآ گیا ےہ غیراغتاری ے 
گھراسں وس کا ید دمیکک باٹی ر ہنا ٹن اوفات اخخناری ہہوتا سے اور یہ بقا مھ ایر 
ہوا ےا یفن اور بقاء اکر ہوتا سی ہے کیہ وسوس کا ایا وع نادر تی ےکی 
حددث کےساتقع بی فنا ہوچجادے زیادہ ھی ےک وسوسہ ہد رکوضرور بای رہتا ےگر 
انسا نکواکٹر باتع کا اصما سک ہوتا سے بقاء طول ھی کیا احاس ہہوتا ‏ ےکیونلہ ابتراء 
ٹیس ا کو اس پر الا کیل ہہونا کہ وسوسہ درجہ عددث سے تنجاو زک کے درجہ بقاء حاضصسل 
کرجا ے۔ جب یکھھ شی نآ گیا و ا ب کھ وک درد وٹ پٹ کی سن مواغذ ہیں 
و 0 وج غیراخقیاری ہے او رپیسرے ور ہجے رہب سے و ارہ ےںچنی بقاء 
کا 


طول بر کیونکہ وہ ن کل وجراخیارکی ہے اب ایک در چٹ کا سے مکی لہ وسو کو پقاء 
تع ہو یر مستیشھ بی ےکفوے او می اُمتوںل سے اس پرمواغذ ہ تھا ولہپ درج ثی مض 
انخزیاربی ےء اس لکل مواغخزہ ہونے کے تقائل ےگ مشبہ خی راغخقیارکی کے سے اس 
لیے مت جرب سے اس کے تحلق موازز وھ رشع +وکیا۔ر ماب سوا لک جب یہ درج مشاہ ٹیم 
تار کے جا پر میں ا ےکس رح گی ہو گا ؟ ا کاجواب یہک جب 
فی نہ انختیاری ہے وہ اہتمام برک ر کے بے ہہوں گے اور نہ کچ ہوں نے ان راس سے 
اتتغفارواجب ہوگا اورممتی شھ مہ پراس سے استتغفا رکا وجوب نہ ہوگاگوا تاب ضر ور سے 
اور بی دودرج خطا ونسیان ٹل ہ سںکرخودخطا ونسیان نو شی راخنماری ےگم را کا مظاءٗڑمی 
2 اخضار وفلت بھی سے ہوا چنا نی رون یل ہروشت روز ہکا دعیان رےلو نیان 
طاربی نہ ہوگاءنخماز میس اگ افعال صلو ق بر بوری تقجہ ہو سجونہ ہوگا اور اھ اختیاری ےکہ 
نوج رکھونواں 9و برمواغز و ہوسا ے۔ا بآ یت وعدریث ”رٗفع عَنْ امَتی“ ا 
برق اشکال نہر پایان ایک تخل اشکال وارد ہوک رسول ادلد چاو جونماز میں ہو ہوا ے 
کیا ا س کا فشا بھی عدرم اسنتضار افعالی صلوق تھا؟ ا کا جواب یہ ےک ہا مو نیو یکی 
عل کی بی بیشن علت عدم اتضار افعالِ صلوق ہم میس اور ے او رتضور ادس چا یئ 
اور تی بھاری عم نوجرا ی اصلوٰۃ ک فا یہ ےکپ مکواڑی کی طرف وج ہو ے 
جوفماز سے اوٹی ےبڑتی دنا او رتضورکی حدم توجرالی ااصلا کا فخاء بی ےک ہآ پکوامکی چز 

کی طرف وج ہوںل مت جومماز ےا لی ہوجڑنی زا تن ۔خحو بکبجھلو_ 
(أفصل والانصال,:۳۸) 

گا بداختیا ری ہے 

رما کہ ایک صاح بکواسی می کلام تھاکہٹگاد بد اختیار ی۲ س یں اس پر بکہت بی 
اصرارکرتے رے۔ میں ن ےک اکم ہسو چو بح دکواکھوں و وو پرتھاء نگاہ 
اخمار یں ےت ان نے ان سس ےکہا تق کیہ اض ل "0.57۳ ےکی فکگوا یں 


۳ 


ہونی۔ہگاہ پنانے میں ا جن ہوئی ے:فکی کگوارانہی ںکرتے بنفس کےساتجھ ہو لیت ہو 
تھا راجوخیال ہے اس سے نے ش رعت پراعترائش لا ز م1 :ا ےکراس نے ای چچ کا ملف 
کیاے جواختیار یس کہیں_ 

اق رع کرتا ےکا سکفنگو کے وقت اجق بھی حاض رھا۔ بھی خر مایا تھا گر 
عور تکی بھاٹی برسوار اور ز نا کیا مر لب ہونے والا ہوا وش ت بھی بنا اختیار میس ےگو 
مشنقت جا ےشن ی ہو ہکیوککہاس وق بھی ا سکوش رج تع مک کی ےک اس سے بازآ چا 
اڑسی حاات میس اگراخختیار نہ ماناجاۓے فو اس سےلحوذ پارڈ ق رآ نکی جم یب لاز مکی سے 
کیوئل ارشادے الا بکَلَفْ ال ساپ ا سے نکر یآ پک یاکہرد ہے ہیں: 
کہا ل کک مہ جات نی ے۔ 

بھمکواسی ند رمک فک یامگیا ےک جس قد رطافت ہو۔ اگ راس پروی نے مگ ےک چم 
کون صرف ایک ہی وق تک نما زکی طافت ےن جواب ىہ ےکم نے صرف اى یکود یکھا 
ہے۔ دوسرے متا مکوئیں دی ایی اہی نے پاچ وش تک نما زکا ملف فر مایا او رھ راس 
کےسات بی بیڑھی فربایاکہ الا بکَلَفْ الله تَفُمَ ال وسعهَا اس ےصاف معلوم 
ہواکہ ح کا مللف ف مایا ہے ا لک طاقت ضردر ہے میس اب جو ال ف مایا طامسحا 
اسَْط_َمٰ مطلب بی ہواکہ جقنات مکوجتاایا س بکرداور نان ول بڑھانے کے سے 
فرمادیا۔ تی ےکوٹی نوکر سے کک ےکرتم سے بیکام نو ہوسکتا سے نو جھ ہوسلتا وو کر وق گویا 
نر نکی ارت سےا ہوسکنا ےن رشن دق ہوگیا۔ 

حدم و بھی 

اب ایک اورشبہرہاکہ بین مشاہدد ےکنیس ہوسلت نی دوک مشار ہکا انل اط 
ہے۔ بات می ےک ہآپ بعم تی ل کرت ء اس لیے پل معلوم ہوتا ہس من نے 
انسا نکوا ںکی طافت کے مطا بی بی مکل فک یاگیا۔ 


۲۵۱ 


آپ نے بج ول کی بہوکتا۔ ا سکیا مثال ابی ےک ہآ پکورات کے وقت 
وی ین پیاا سک یاگھرسردئ یکا وجہ ےآ پکو باہرجانا اما دشوار ہواکہ یو ں کہ 
بحم جای یں کت یکن را تکودو کے کے وقت ایک سوا رآ با اور پر واشردیکیپلکٹ رصاحب 
نے بلایاے۔ لی یپ نے موا عم دا رکھوڑاکسواور پارانی بج نکر دونسیل لے گئ اور 
راستہ بیس رعدو بر یبھی ہواء سب چیہ ہوامر مت ضرورہ نو اگ راس وقت پالی بے کے لیے 
اہ رڈنا مشکل تم فو اسی وقت دوستل چچلنا کی ےآ سان ہوگیا؟ ن بات ہہ ےکسفرق فتطا 
عم تک ےکہاول پیاس کے وفقت عمزم دارادہ تک یانتھا اوراب اراد ہکیا ےپ جک کا موں 
کو پکہدرے ہی ںک یں ہوسلاء ان سب می ںآآپ نے ارادہ ہیی ںکیا۔ یس ىہ سے 
وج حطرت مولانا استاذنا گیا حکایت بادآ کہ نماز کے بارے بل ایک عدبیث ےکہ 
ای نماز ہوک چس میں حرییث یٹس وسوسہ نہ دلادے۔ دہ عد یٹ سبتی جس فی۔ ایک 
طال یلم ن ےکہاک حر کیا ای ماز کی ے؟ مولا نا کہا خو ب رما یاہکیا ھی ارادہ 

کیا ت انی ہہوکی و ےے یجول یاکینئیں ہ وق :کر کے دریکھا ہوتا۔ 
(زاانتو یما تموا نا تید تصوف ولتو ىی) 

وس سے سے نے برمواغذ وکیں 
ےآ تر ےتآ کے ال ات ح2 و کے 
سردرعا لم چا نے فرایا(١)”رُفع‏ ض امتی الَْطَاً اورائں رح من شی 
کے اید سے معلوم ہہوتا ےک خطاءاورنسیان برمواغز وو ہوسا 01٦‏ 
مواخغاز د'نکلیف مالا بات یکجییں سے جیما بھی معلوم ہوا لان رجحمت ای سے یہ خطاء و 
نیان متا ف ماد یاگیا۔ مکی دج ےکہ ال نسیان وخطاء کے رن کی دھا یٹ فرمائی۔ 
)٢(‏ ىا رَبتالا تَوَاخذنًا اِنْ نسِیْتا ار اَخَطَاناک (ابق۲۸۷:8)اورنیان و 
خطاء برمواغذ ہکا نکیف ما لا بطاتی 2) وجہ سے ںٹینتر کے دونوں انار سے پاہر 
یں جیما موا نا رو ُ ایک متقام پرفرماتے ہیں جن س کا حاصل بی ےک نسیان وخطا ول 

۲ 


سے ہوتا ے۔ اگر ہروقت حیقطط رسے و نسیان وخطا کا ہونا کن بھ نیس اور چروفتت حوتطظ 
رکناگومنئل ےگ ے اخقتیاریی۔ ای لیے الدتھالی نے اپنے بندو ںکو شی فرماگی۔ 

(۳) ربا لا تُوَاخذنا اِن نیما أز اخطانَا یچ (البقر۲۸۷:۱)اوراس دعاکو 
قول غرم اک رتضمور ےکی ز ان مبارک پر یرالفاظط جار فر ادۓ :”رف غَن اُئسی 
لْطا رَ الیْسَا“ بخلاف ا ساب کےکران سے خطاء ونسیان بھی مواغز ہ ہوتار ہا 
ینہ یہ مال بیطا کیل جدیما ھی برکور ہوا۔ ای ط رح عد بیث میس ےم می ری آعمت سے 
ووسے برمواغز ہن ہوا اس ے* بھی معلوم بہوتا سے ےک و وسہ روا غدہ -- ے اور وہ 
بھی مال یطاقی ے۔ اگ الا یطاقی ہوتا و اسم یش اس ام تک یک تشصحیص ہوتی ھت 
لال ہون ےک یبن بی ےک وسوسہ جو ذ ہول وعرم ممبہ ے ہہ و “و حورورثٹ وسوسے لو ٹم 
اختاری ے۔ اورائس مکی سے مواغ نہیں ہے۔ اس امم تکوگگھی نی ہیں , اور رقاء 
وسوسہ چو مد و وپ ورخل راو ۳ 2 تھسا نے معاف ٹ تھا اور ماری 
ال امت ے معاف ے ۔ ا مبہہوجا نے کے بعد پچھر وسوسہ وخیم رکا ا تیر ری 
اھیودوجوں سی 

ب : إِذًا کان يَوُمْ حَارّفَقَال الرَّجْل :ا ال إِلّا الله کے 

:شی ےد ایی ےئن لف ضیکری سے 

)٣٢۸(‏ عن بی ھریرق:ڈ أواأحدھما حدثہ عن رسول الله قال: 

”ِفَا کا يَوْمْ حَارٌفقَالَ الرَجْل: ٦ء"‏ و 
َلهُمٌ أُجرٔی مِنْ حَرْجَهَتمٍ ال الله عَرََجَلَ ِجَهَم : إِن عَبَذَا مِنْ عِبّادِی 
استَجَار بی مِنْ رکب وَإِلْی أَهْهڈ ک انی قگذ اَجَرَنَهُ 

و إِنْ كانَ يَوْماً شْدِيْد الردِ فَإِذَا قَال الْعبْد : ا إِلٰةإِلّا الله مَا أَفَد بَرَْ 
ھٰذا اليَْوُم! اَلهُمَ أجرْنِیٗ مِنْ رَمْھَرِیْر ھٹم فا الله عَرّوَجْل لِجَهَنَم: إِن 


۳۳ 


بدا مِنْ عِبَادی قد اسَْجَارَ بی مِن وَمھَرِنرکِ وَإِْیاْهذکِ آنی قَذ أَجَرنَهُ 
لوا :وَمَا رَمْهَرِيْرّ جَهَنمَ قَال: بَیّتٌ یلق فِّه الْكافر فَيعمَيْمِنْ شِدة 
رَدِمَا بَعُصَةُ مِن بُبحعض .“ [ضعیف] (آمحرجہ ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة اے٣٠)‏ 
زم رہش م 

(۸) بحم : حضرت الد ہ ریرہ تیادہ نے یاان دوول(او یر کے راوگی) یش 
ےکی ایک نے رسول اللد لا سے دوای تکیاکہآپ چلال نے فرمایا :جب جخ کرٹ یکا دن 
ہوا ے۔( فو جن بل میدہ جارک وتعالی صفات ”ضضػع وص ر کے ساتھ رو ز می نکی 
طرف متورہوتے ہیں ءلپذا) ج بکوئی 

ا إللٰة إِلّا الله مَا اذ حَرَهذا الیوھ!! اللَهم أَجِرنیٰ مِنْ حَرْجَهَتَم 

ا اک کےسواکوئی معبو یٹ ی نہیں ںآ جکیای سخ تگ کی سے اے الد جج کو 
جن مک یی ےتطوفوف ما بات دبیرے۔ 

جب بندہباہتا ہے وحن ہل مد می]نھم سے خطا بکرتے ہی ںکرمہرے بندوں شی 
سے ایک بندہ نے تیر یگ ربی سے ہی کی مھ سے پناہ ماگیا سے میں جھ و وگواہ دنا ہو ںیک ہت 
سے میں نے ال کو پنادد دک ے اور جب خت سرد یکا ون ہہوتا ہے( فجن بل مرو مارک 
وتحاٹی صفات نگ واھر“ کے اتحز ین والو ںکی مرف متوعہہوتے ہیں لا جم ب کوٹ بن ہ 

ا را إِلَا الله مَا أَشَبَرّةَھٰلًا الْز إ١‏ الله أجِرْنِیْ مِن رَمْھَریر 

ال تا ی کےسواکوئی مو یق نہیں :1ر کن ی شد یدسردبی سے اے الد اذ جج کو 
یم کے ریہ سے محجات دبیدے۔ 

جب بندہ ےکنا سے نے عم ہل مجرہ نم سے خطا بکرتے یہ میرے بندوں 
ٹیس سے ایک بنلدہ نے ترک سردکی سے پناہ ماگ سے۔ اے میرک جہنم !میس جو وگواہ ہنا تا 
ہو ںک یس نے ال کو بناہ دیلدکی ہے۔ صا نے سوا لکیا: ا رسول اللہ چا زم جم مکیا 

بر 


بلاء ے؟ آفحضرت اتا نے ارشھادفرمایا: وو چم یس یک السا مکان سے جس می کا ف کو 
ڈالاجا گان ا ںکی ٹنرک سے اعضا عم جداجراہوچائیں گے۔ 

مم کا ایک حصاختالی مرا ہوگاء جیی اک ہآ کل کول اسٹور ہواکرتا سے جن سکی 
نر کک شدت سے اعضائڈ مک فک فک رگ پڑ یں گے وراصس لجن یل رہ ذات 
دوک زیز ے دہ انسامی تکو تحروومرتی اور عرم عبادرت واطاع تکا لف انراز کے 
ھا ۓگ ؛کیون ہکفار وشش ران دا میں مت مۓ ط رت ےکفروشرک کے ابیچا دک اکر تے 
ہیں اور برا پٹ یگمرابی پر خیش ہوتے ہی جن ہل دہ قیامت میس ہر نے با بکفرکی مزا 
تن تن عقاب وعزاب سے دیس گے ناک رحقاب وع اب کے اندرمزا سبت ومیا نت ہہوہ 
اذا اس با ت کا بین دکھنا قاضاۓ ابیمان ٹل سے ےک جو اللہ یاک نا ر جم سے 
ہزارں کے وو دوسرے انداز سےگھی سڑا ہے پہقادر ہیں پر دیزی بد بت لوک نے سرے 
سے اس عذاب ب یکا اڈکارکرتے ہیں وگ کیا ا نکا انکارا نکوعزاب سے با ل ےکاء یا دہ پا 
ار 

طبقات ود رکا تےںلائم یا اسما چرم 

علا ورام (ای پاک جنزاۓے خھردے نے چم کے سات طفات کیسے ہیں۔ 

(ا) لی ال کات :(اا ںیئن مبھی کے ہیں ) سچتی سب سےاوبر وا ینم 
یتس میں امت لاف کےگزگاراننحمیر کے لے ڈ الاجا ت ےگا (۳) لس :اس بیس نصارگی 
نی مت سی این مریم علی السلام نہوں گے(۴) الطمَة :اس میں بہودی ہوں کے 
(۳) لمع : اس میس صائین فرقہ ہوگا (۵) مسر : اس میں وی ہوں کے 
)٦(‏ ایم :اس می ش کین عرب ہوں گے(ے )لاویہاس یں منانقین ہوں کے 
ا یکوق رآن مجید نے ان الْمَافْقیْنَ فی الْڈُزک السْفَلِ مِنَ انارک کہاے۔ 

( یم کےشوف راک ما ظ رک )٥۵‏ 
۵ 


تک موم مرعترل ہوا اورلور بی 7 

حضرت امن مسعود نیل نے فر با کہ جن سکون پش سے ناس می ںگ ری ے اورنہ 
سردیاء با زگ ہریرہ مرادجا ند یا کت نار "تی نت خودرشن ے :یرب ےار 
ہے ال لکو نہ سورن گی ضرورت ہے شہ چان کیا ؛شجیب من ججان نے بیا نکیا ٹل 
ااوالعالبیہر باقی کے ساتوسورج للنے سے پیل باہ رلکلا ابوالعالبیہ نے فرما ا کہ جج تک ای 
رح ذس تک جالی ہے بل رآیت ط ل ممڈ دہ پڑھی۔(نتق) 

کچ ہو ںکہابوالعالی ہکی مرادنو رع سے جم تک یبد بای سے کا مور 
ضعیف ہوا ےجس میں تا کی وی ہوئی ک٠‏ بلہاس ام میں نشی دن ینقصود ےجس 
رح ض کی رن یگلیلتی انی سے مخفنع او رن نڑیں ہوکی ءاسی طرح جم تک رشن روہ 
ڑ ہوگی بنففظع میں ہوگی _ (تفیرمریبگ رت )٦۹۰۵‏ 
جمت ما گے والو ںکوجہفت اورشنم سے پفاہ جا والو لکول سے پناہ 

)٣٢٤ (‏ لأبی نعیم من حدیث انس ڈلا: 

”يقُولَ الله عَالی: أُنظْرُزْا فِیْ دِیُوان عَبْدِیْ فَمَنْ رَايْحمُوٰه سَالبی الْجَنَة 
ُغْطِيْتة ء و مَنِ اسُتَعَاذ بيٗ مِنَ الارِ أَعَذُنَةُ “ [؟] (کما فی کنزا لعمال ج )۳۱٣٣/ ٢‏ 

(۴۲۹) ت جم : حضرت اس لد سے روایت سے مجن بل مہ (قیآحمت کے 
دلن ) فرما گا :میرے بندہ کے نام“ اعمال میس دھ بھی اس نے (دنیائیس ) جھ سے 
نت م گا ھا ءے ا کو جنت دے دو لگا وشن نے دوزرغٔ سے پناہ جا ہا شھاء ان ںکودوز ٔ 
سے پناد دے دو گا ( کن زاس ل۲/٣۱۷۰٣)‏ 

2070 کے ہو رکا دنء تک ہوا نے ماک 

من ہل مدکی ذات بی اپنے بندو لک مرادو کو پپوری فخ رما ت ےگا ء دہ د ن بھی 

ال دعااور ائل ایمان کے لی ےکتنا خی کا ہوگا جب ارقم الرائکئین مجیب دس الددعاءء 


٦ 


اعلالن ف رما ت کرس نے جنت اباد ما لگا تھا ا نکو جہشت دیدردءاا نک یآرز وو کو پوری 
کردوا نکودارکرامت ودارضیات دارالعلام دیدوہاورجس نے عذاب تار دوز یح و ٹم 
سے پناہ جا یع ا نکوچھی ضبات روہ الخ ہ رشح کی دعا کی قجو لی ت کا نلبورین جاخب 
ال ہوگا اوراس ط رح بندوسکون وسرورکی ز نکی ال تال یک جانب سے پا لےگاء ال تعالیٰ 
ہم بھ یکو ہت النفردو جح درجمت واسعہ سے دبیدے اورنارجأنمم سے بیچا لن ےآ مین۔ 
باب فی إِجَابَّة َعُوَةِ يعَالِجْلَفْمَةُ قُمَہ إِلی الطهُوْرِثُ يدُغواله وَیَساَنُ: 
باب:ال سکی دعا قبول ہولٹی سے جو وضو کے ذربتطبارتیتقلبعا اس مراے 

)٣٤٤(‏ عن عقبة بن عامر ٭ یشول: لاأقول الیوم علی رسول الله مالم یقل 
سمعث رسول الله هٌّ یقول: 

”مَْ دب عَلیٗ ما لعل قَلیَبَوَاَبَیَامِنْ جَهَنم“ 


”َجُلان سِنْ اَی َقومعدهُمَ الیل عالِع َفْسَهإِلی الھُورِوَعَليِ 

قد وص فإِذَ وَصَأ يہ الْعلَّْ عُفْدَةٌ وَإِذا وَضا وَجُْهَة انَْلَْ غُقَنَة رر 

إذَ مَسح برَأَيِه الْعَلّث غُقْدَة وَإِذا وَضَا رِجْليه انْعَلََ غفَنَة فَيَقوْلُ الله 

غَرٌ وَج لِلَدِیْنَ ورَاءَ الُحجَاب : أنظْرُزا إِلی عَبْدِیْ ھذَا یعَالِج نَفْمَة يَسالِیْ 
ما سَأَلَيٍيیْ عَبّدِی فُهُولّةٌُ“ (صحیح] راخرجہ احمد ج٣‏ ص۲۰۱) 
شیطا یگ ہکھو لے ےکا نبوی علاح 

)۳۳٣(‏ تبحم : عقبہ بن عام لد سے روابیت ےکہ بی رسول اللہ ےکی 

جانب اس با تکویضسو بی ک رسلا جھآپ تن ےکی فر مکی ۔کیوکہمیس نے رسول ارڈ چاو 

فرمات ہو سنا ےکہج بات میس ن ےنم لکپی ال کا ان ساب جس نے مبری طر فکیان 

دہاپنا ٹھرکا نم میں بنانے اور بیس نے رسول ایند پا سے سنا: دو دی می رکی اممت میں سے ؛ 


ے۲۵ 


ایک را تکواٹتا ے اوراپناروحالی علانع وضو کے ذر یہک رتاے اوراس برای کگگرہ ہوٹی سے 
اجب ویش ات دعلت ےا کگُرومل جائی ےء جب چچرہدھا سے دوسر یک ربھل 
ای ےاور جب س رکا حکرتا ےئ تیسربیگ روح جائی سے اور جب پائوں دحانا سے چچڑی 
و2 ےج ہل مروف مائے ہیں :ان لوگو ںکو جوجیاب کے ےنا و خی نے 
اس بندہکود کچھ جواپنا( رای علاا حکرر پاے اور جھھ سے سوا لکرد ہا ے۔ مہرے بنرے 
نے وی ما ہایس نے ا سکودیا۔ (اترجامرم/۰۱٥)‏ 
باب : إِذَا قَال الْعَبةُ: يَارَتٌ......يَارَّبَ ۰- 
باب :بلدہ جب بارب یلار بک صدالگا تاہے 

)٣٣٤(‏ لابن أبی الدنیا مرفوعا عنھا(عائشة) وموقوفاً علی أنسظلہ: 

ال رَسُوْلُ الله : 

إ٥‏ قَال العَبْدي رَبَ یا رب قَال الله : لیک عَبْدِیْ سَلْ تُغط. “ 

(کما فی الترغیب ج ٢‏ ص۸۴۲) 
ارب کا ب اب بٔیک عبدی 

(۳۳۱) ترجہ : رت عا کڈ سے موا اورحطرت الس ید سے وتوپ 
روایت ےآ پ لا نے فرمایا :جب بندہ باارب یار بکپتا ہے٤‏ ایند اک ارشھا وف ماتے 
یں: لی کعبدی میرے بندرے بی حاضرہوںء کو یل دو گا 

رب تنا یکو بناد ہکا ادب٤‏ یاد بکہ ہکم پکارنا بہت بی پنند ہے 

جن بل مدہ کے صفا لی نام ف بہت ہیں اور ہرنا مکی فقوت تا خیراوران نامموں کے 
مظ الیک الک ہیں اود ہرنام بی ا نکا مارک اورقام لمت سے ممھرصفانی نام شیل رب 
کا لف ایک اص اطف رکتنا ے ‏ تما م رکا نات عال مک یوق تکوجو گی لمت وجودء اور وجود 
کےتمام مرائ لکی ت بی ت اکرش یفت رب سے ہے۔ رٹ لھا یی نکی ر ہو بیت مطلقہ ہی 


۸ 


ا مکوقمامء نال سکوکائلء اور رہ رحضو میں ا کی شان کے منا سب ان تام اخضا کا 
این اپنے عدود کے اند شی مکام پرکار بندر ہنا حشت ر ہو بی تکاکمالی ے۔ خلا زہا نکا 
کام ہے ذائقہ ذوقیات یں محرو فکا تم خطاب میں مل یکی مب ربورقوت خطاب وکلام 
ٹیس کمانکا سنمنامسحوجعات میں ؛آ کک د بلمنا عم رمیات میس ٤ء‏ بات ھکا پل نا بعطشیات میں وخیبرہ 
ذانکء بس بکا سب لفظ ر بک یک ق فقوت فردیت داحد بی تکاعمال وکرشمہ ہے ۔ بای 
عحضت رب ہے جن سکاانداز ہم لگاپ یی سن ۔ ای لفن ھکاکمالی سے احیا ءموٹی ءاسی لفظ 
کاکمالل سے بندہ اور رب ارک وتعاٹیٰ کے درمان ڈکراالد کے ذر لع رب پا و_ل یکا با پار 
زانوں پر چاریی ہوناء اس لے ےش رآن وحد بیت مل لق ببآہردعایا نو االهَُ کے مارک و 
مس لفظ سے جرد سے با چم رفظ رب ا ری سنسسا کے اوس ومالوف لفظ ے روغ 
بنا سے۔اس لفظ رب میں بببت گی پیار اور البیت سے سورہ فاججہ بی الڈر کے بح مو 
فطارب استعال ہواےء الْکحمْد لہ رت الْعلیمیْی بافظط اپنے اندر بہت ہی یم 
عیاں پنہاں سے ہو ہے۔اس لیے بندوجب بسارب بارب کپتا ساوت تعالی 
فرماتے ہیںء لیک عبسدیء بندہ یش حاضرہہوںء مات ککی ما نکیا ےہ جو ما ک ےکاخ کو 
کا ۔ ا ںلوعد یٹ ٹم سکہ ایا ےک نرہ جب یار بء یار بک صر الگا تا ےو لیک 
عحبدی کےذر بچہجواب دیا چا تا ےکہ ما٠‏ گت مکودیا جا ۓگا۔ وابئداعم۔ 
باب : لم اُمْبَط الله آ5م إلٌی رض طاف بِالْيّتٍ سَبْعَا > 

اب :ج بآ دم علیہالسلا مکوز ۲ن پرأتاراگیا نے ہبیت ال رکاسمات پچ رطوا فکیا 

)٣٤٤(‏ للأزرقی والطبرانی فی الأوسط والبیھقی فی الدعوات وابن عساکر 
عنه (بریدةظك): 

لق امت ال آكَمَإِلَی الأرْض طاف بالبَيّتِ مَبْعَا و صَلی خَلفَ 
لمقم رَكعَیٍْ تم قالَ: الهمإِنَکَ تَعلَمْ ىِرَی وَعَلايّیْفَاقبلْ مَغْدِرَتِیٰء رز 

۹ 


إْمَانَ ييَاضِر قَلبیْ وَیَقتا صَاِقًا ختی أَغلمأنه لا يُصِیْتیی الا مَا یب لیْء رَ 
َضِبِيْ بفَضَابِک فَأَوْعَی اللَه إِلَيْه : یا آََمُ! إلَک قَذ دَعَوْتَِی بدُغَاء 
جیب لک فِيّه وَ غَقَرْث دوک وَقَرَجُت مُمُوْمَک و غُمُوْمَک وَأَنْ 
یی عَيَيه و اتَجَرْث لَە مِنْ وَرَاءِ کل تاجر وَ انت اي وٴھی كَارِهَة وَإِنْ لمْ 
يرذُها.“ رکمافی کنزالعمال ج ۱۲۰۳۳/۵) ۱ 
اولا دم کے کم وم ۵۷م72-ئ)" سکیا 

(۲۳۳) نج : حضرت بر یرہ ظفانہ سے روابہت ہے جب اللہ باک ن ےآ دم 
علیہ العلا مکوز ین پراہجاراءنے انھوں نے 'ببیت اللہ کا مات طوا فکیا اور متقاحم کے کے 
ات ادا کی ء پچھردعاء ومنا جا کر تے ہو تۓ عرت سکیا: 

لْهمإِنَک تَعْلَمْ سِرَیْوَعَلَانِیْفَقیل مَعِرَِی وَنعلَمْعَاجی 
سی رت وَنَعْلم ما نی فَاطَفر لِیْ وی سالک إِيْمَاَ اضر 
قَلبيٗ وَیَةِ َقَیساً صَاوِقًا عَتی أَغلم أنَهُ لا يُصِیتِی الا مَا تیب لی وَرَصِنِیٔ 
الک 

اے ادا آپ مبرے ظا ہرد پاش نکی چچیزو ںکو جات ہیںء می راع رقبو کر جیجے ا 
آپ مبری عاجے لکو جات ہیں؟ اپنرا میرے سوالو ںکو پورا فر ماد تچ ! آ پکو میرے 
ات کا عحم؛ پا می ر ےمناہو ںکو محاف فرماد ہچئے! مس چجھ سے اےے ایا نکی 
درخراس تکرتاہوںء جو میرے ول سے جا گے اور سج ق۳ نکا ببہا لج کک ھیرے اندر 
اس جا تکا عقیدہ را ہوجات ۓےکہ: اکھی ہوئی ممجنیں ہی نی ہیں سور رن۱ 
کو این قضا وف ر پر راشی رٹ ےکی نٹ بش دے۔آ ین ا 

ال پک نے اس مناجات کے بعد و یجھبی: ا ےآ دم !نے نے جو دع گی سے 


۲٦۰ 


کو و ور اج ات 
دنا ج چئی کی اولا شش سے لوگی ان لا کرت دا ما نشین ا نکی 
بھی ہر نیف وازی کو یی وو رگردو ںگا انی کے ارت ےے نف رو فا ومن و کو 
اگل بی مکردو ںگاء اورد نیا کے ہر ج کی تجارت کے منائع سے ا سکورزقی چیادو ںکا 
اوراسں کے رموں ای رک و تا اوراسے دو لگا مگر چروہ تہ جا ے۔ 


تی وش رقلوب ہحجلی ‏ توی لوب 

آوم علیہ العلا مک ومی کی اساس اور اڑل نشر ہیں ءا نکو الب ت کا ہے شار مر 
حاصل ہوا ےء الن میں شا نع عبد بی تکاخبورجھی ای اتبار سے ہوا ےء الھھوں نے اخی سی 
واسیلہ کےبخن بل مرو سے تمام ت رتعپر ٤ح‏ کی یجان او رای ییںءز مین پہ 
جب اتارے گے نے ام اہی سے ببیت الل رکا لوا فکیاء دورکحت ادا کی ء اور دعا ومناچات 
کےکلمات تو پیل ہی ا نکوکھلا د گیا تھا۔ لق آَمَ دن وہ لمات ےبھی 
ا ںکی طرف ارہ متا ہے ہنا آدم علبیہالسللام نے اپینے و يک راد وا ہ تکومنا جات 
کی شکل میں بارگاہ نے از بیس نیاز مندرانہ ٹین لکیاء اورخوبصصورت اندراز ٹیس ابوالشر نے 
ادب وکپد یت دولو ںکونھایاء رب ذ وا لال کےمک میا وب قک و تحض رک کر اپے سرائر 
وضمائرکائ یم وی رہونا ظا ہرک یاکہ جب اندر ےی را زکوفے جاضنا ہے نے پھر باہ رکا کیا یا۔ پچ 


سر 


مْزَلاوَْقِْل َلْضْیْء وَلَاحَْبَعد غٛلْمَیٗ 
وَالظامہٴقَوْق كُلْضْیْء ‏ وَلَطِیْدُوْدَ کل صَْیٗء 
عون ضلکیاسیعم بزات الصروں مر ی مجر نکوقو یکر یئ آپ مھبری عاجحت 
بضرور تکوجھ سے ؟ہر جات ہیں مشقی جج اوک بکمیا رس مقام ومکان می لک کن چروں 
ضزورتت گی ےک ان تما م کا برے الل رآ پکوہ یپ علم سے مب ری چھلہ اعیان 


اھ 


بیرے مان ےل ھ برعیاں ہے میرے تما م ترسوالو ںکووچود ون پو رک یلت ےلواڑ 
مرادو ںکو پرلاء میرے رجش رح مبراوجود ت ری خطا کا اع ؛مییرے جسا ی روعا ی 
(وولوں) ضرورلوں‌ک میں تج ران ہوں ۔ میہرے الہ اور ممپرے دانسن حیات وژ لت ٹل 
تا ہے جات وسلنات اور میات وکیفیات سرارٌ وطاز نکیا کیا ء ام کی 
نامضیات ہیں انل ےآ پ خوب ہی واقف ہیں ء یس مبریی خامیوں کوتابیوں ءلخزشوںء 
وب وو رکومعا فکرد ہے کو یک دعا یآ مکا ابنترائی حص تفہ ونم رقلوب جج 
تھا او را گا حص تحجلیہ وتنو یلو کا سوال ے۔ 
تل وتورقلب 

ابوالیش رآوم علیرالسللام نے وق بل مد سےتحجلیہ وتو رلوب کے لیے جودعا ای 
اس یں پہلاسوال ے ایمان جودیدة پان :قلب سے پیوست و چنا رےء ول می ںگھ کر 
جاےء درتقیقت ول بی وو متمترے جو ہگ یکاہ رب سے اود لک یکیفیت ایماٹی بجی 
قمام اعمال ترکادارومدار ہے عریث شی وارد ےک دل جب ورست ہو چاتا ے او خمام 
اعضاءأعم درست ہوجاتے ہیںء اور جب ول میس ایمان وایقا نک یکیفیت وتفیقت را 
ہوجاٹی ہے ذ محاص یکا صدور با انابت الی ٹر سے ذعو لک یمکیفیت ممرنخم ہوجاقی سے 
آوم علی السلام ٦ب‏ ب>, و چوئلہ ہو کا نا ء اں ےرات دعائیل 
رنگ ور می شی انداز یل ہوہی جا تا ےء اس لے ایے رب سےسوا لگمرر سے ہیں 
کاب الما ایمان وایقان را و مرضیات وشیا تکا عط اکر جو تمام م ہکات ومواخز ات 
سے دور ر تھے جس کا حاصمل می ہوا کہ السا ایمان جو ایمانیات ‏ عرضیات مو لی سے نی بہٹ 
کے نہ ہنا کے ء بللہ قد مکو ایمان کے ساتھ جمادےء اورذا تح کے اجلال کی عفلمت 
دثییت اوراکرا مکی انمت ورحم تکا قل بکوع رک زخلیات رپچارے ےئا جانا یباشر 
قلبی۔واٹراعم 


لین صا دی وااٴلب 
ابوالیش رآوم علیہ اسلام ن تہ وتو کو بکی دوسری صفت یتین صاد کا سوال 
کیاکی یز لقن ے اوردوسربی صفت یق نکی صداقت لی ایا پخۃ خی رنرزل لقن جو 
مشاہدہ کے بح دکیفیت یی ہمیق وہ گرقوت یقن ؛ عم ومضبومط دید باط نکا وجدان 
ہو ششعوروا گی ٦‏ 0 2 0 ہومشھپودنسکین کے : میں فرار ہو غلیک و 
ےل ساق 12 ایب و 6 سے پاچکا ہو 
ظبارت ونفا س تتقل بک ای منقام حاصس لکر چا ہل سحس اھت 
اہی ات سی ہتحجلیات ر جاشییء اس را ونیک لطف وس درو ںکرتا ہو 
الد تاٹی نے خ رآن میں ج کو اکیلرکی ےک صادشن میس رہہ چچوں کے سساھ 
رہوء شی نکاکمال رتبہ ددر ھجب صدق وصدراقت ےمڑقی مت روغ ایمان دانقان یش 
ف77 فرفغہ سی زدکد ہلل 
لکی صداقت سال * ام یب کے جملہأمورکی صداقت وسچائی ؛صادشن وصرلق٘ن 
کے منقا مک نل لی سے لے چاتی ہے۔ الہ تھا لی ہیی صا دقن وصدقن کے ساتھ 
حشرفرمادےآ مین ! 
و 7 ے۔, ۴ 
یآ مکو مرا ٹ امم 
70-۷ آو مکا اہتقمام والتزا ا مر ےکا ال دای ال 
کوگئینتوں سے وازس ۓے_ 
(ا) ب کی" وھ ھب و اس کے خمام خطا وسینات پل دے 
انیس کے گنا ہو ںکویجیۂ اعمال سے مٹادیا جات گا 
(۴) تمام ڈہنیفلجان واہتقا رہکوفت وک نکودورکردیا جا ۓگا۔احوا لکم وی انی ال 
06 ,"ھ0 


(۳) اورع یانق رر شک رق :نخربت وافلاس ہکا ال سے نام ہوجات ےگا ء لگا ہہوں سے فاقہ 
دبدعاٹ یکا ا تاس چادتا ر ےگاء نہ ہوک ھی خوشمال وخول خصال ہوگا۔ 
کات فان ان کے دن دید کی کین ضورت ان کے نخان 
پر ےگی۔ جو اس کے تی بکا ہوگا ءال کو لک ر ےگا خواہ بدایا وتح کن فکیاشحل میں 
آے با ال تا یکوٹی اوشحل بنا ۓ_ 
(۵) اوراسں کے مقر رکی دنا ا ںکو ہرحال یل ل کی خواہ وہ ان کا اداد ہ٥کرے‏ پا تہ 
کرےء جا سے نہ چاسے جوف تالی نے اس کےنعیی بکا تی نکیا سے اہ کو ےگا ء یہ 
ان دما لمات کا ا سحف سکوننع ہوگا۔ 

گی یقن کے سا تاس کے اما مکی فو بی جن ےآ نم بین ۔ 

باب : مَنْ لا يَدُعُوْنِیْ اُغْضَبُ عَلَیْهِ - 
اب : جو جھھ سے سوا لک ںکرتا یل اس سے نارائ ہوا ہوں 
)٣٤٤(‏ للعسکری فی المواعظز(من حدیث أبي هریرة:٤):‏ 
”قّالَ اللَهُتعَالٰی : مَنْ لا يَدَغُوِیْ اَغْصَبُ عَلَیْه “ 


[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۲ ۳۱۲۷۸) 


دعاء نہ ما نے پت تال یکی زا مکی 

( ۴۳۳) 7 جم : حضرت الہ ربرد دنہ سے رواییت سے بن تقالی نے فرمایا:جھ 
جج سے دعا می ںی مانکنا سے میں اس پر نارائش ہوا ہوں۔ 

انح نی بل ہم کی شا نآ یسک:2 ےناخ لیجرش 
ہوۓے ہیں ء ماگنا دراصسل اظہار جھز واشتقار ے اور اللہ پا ککو بد ہدکی عماج زی اورشضاگی 
جب ذا تل س ےکر ہا ہونے بے حد پیند ‏ ےکن 2 91 میں مال رر ت کا 
احتزاف ہےلنی و بے میاز ہون کا اقرار ہے اورا ےکو ہراخقپار ےکم س ےکم نکر ن ےکا 

۲۰۰۳ 


شوت ہوا ہے۔ بندرہبنلدہ سے اگ ما گے فو نارئ ہہوتا ے اورنہما گے تو خوش اورایند اک 
سے نہ ما کے پرناراض اور ما گے پروی بی فرقی ے خوالقی وننلو کا 
ا تا ظررتہ 

شی کت یل رہ ے ضا اتک را ہو پیلے ارد تال کیم دا وب خوب 
کرے اور لقن رگ ےکر اس کے سوا تک یکو لاکن عبادت جانے نہ مان ء تکس یحو یکو 
مک لکنا عاجت روا ما ہپ ررسول اللہ چا پر درودشریف پڑ ھء پچ رقمام اخھیا ہم 
السلام پر درود یی ء پیل رقمام موجن اور ان ا مسلمان بھائیوں کے لیے جوم سے سے 
دٹیاسے جا گے ہیں ان کے لیے استمففا کر پچھردعا نو 


رن جلیعم نے دعا اعم دیاے 
و قال رَبْكُم ادُغونِی اَسْتجب لکم) 
او رتا ےت ہار ارب ہج کو پکارو امو ہار پکا رو 
نی یی 7اک کی حا 6 مکی کٹ رن نال 
ندجا گا ۔(تضیرعنی) 
ال امت کے بی ےکی مین ری 
ضر تکحب احبار لد فرماتے ہیں اس ام تکو تن ری الیک دئ گنی ہی کان 
سے پلکسی ام تکوئیس دب کیہ نی کےء دیکھو ہن یکوا رکا یف مان ہوا ےک ابی 
امت پرگواہ سے میا ن تام لوگوں پگواہ تھی نے “نہیں بنایاے ءا گے نویوں سےکہا جانا 
تھ اک چھ پر دین می مر نع نیس منیان اس امت سے رما اگ اکتھہارے دین می تم پرکوئی 
تر نیہ ہنی کہا جا تا تھاکہ کے پکار بیس تیر پکارقبو لکرو لگا مین اس ام تکو 
فرما اگ اکم مھ پکارو میس تمہہاری کا رقبول فرمائو گا ( ین ای حائم یل ) امام ت کی اسے 
صن کے ہیں اب ن ان اور حا مپبھی ا سے اپاپ میس لائۓ ہیں۔ 


۲۵ 


اتا غنت 
الله یَْضَب ا تَرکُتَ سُوَالةء وَ بی آَكمَ جيْنَ يُسْال ضبق اللہ 
تال یکیاشمان یہ ےک جب نذ اس سے نہ ماکے ذوہ نا خوش ہوتا ہے اورانسما نکی حالت 
ےکہاس سے وانگوفو وہ روٹھ جانا سے مد یس سے ج وکس الد سے دھا نی سکرتا الد اس 
رب ناک ہوتا ہے۔(تفی رای نکییر) 


ار ہائٹش 

ضت نی ان کن ےآ رر ۷2 کون ارت تگارت 
ا نکیا فر مایا ءمقنٰ تھالی شانہکا ارشاد ہے ء ار ہاش ہیں شجن میس سے ایک میرے 
وانتے اورایک اے مہرے بنادر ے تیرے وا سے ہیں ء اود ایک مہرے اور تیرے درمیان 
ےاورایک وہ ہے کے ویر نے ماغم پتروں کےورمیان ے۔ 

جھ چزھرے واسلے سے وہب ےکن میرے سات سی تکوش یک مم تکرناء اور 
جج زتری جھ سر سے دہ ری ےکہ چوجھی نل تی کر ےگا ا سکیا جتزامیرے ذمہ سے اور 
پمیر او رر وزخ اق سے وہ بک نو دع اکر ٹیں ال سک وق لکمروں اور جو تیےرے 
اورترتی کے ورمیان سے وہ ان ےت لیے وی نز پپندکر جواۓ وامۓ پٹ کت 
سے۔ (معار فکا نع وق) 

الَِيَْيَسَْكِرُونَ عَنْ عَِادتیٔ سَيَذْلوْنَ جَهَنَم دَاخِرِیْنَ4 

0ئ ئ ‏ + + -+ -  +-‏ ْ 9 
ال ا 

بن یکیاشرط سے ابی رب سے ما نا ء نہ ماننا خحرور ہے ء اور ا سآیت سے معلوم 
ہوا ےکہ ایند بنلدو لک پکارکو چنا ےه مہ بات نے بے پلک بریق ےگگر ال کا بی مطلب 
نے مرے کی ہردما ول کی رز نی مگ ٣‏ ھ98۳”سص ,7 


۲ 


اجایت کے بت سے رک ںہ جواعادجیٹ یل بیا نکردئے گن ہیں ۔کوکی جنزد ینا اس 
کی مقیت برم قوف اورعلومت کےتائح سے ما تقال فی مو اخ فَيَكشِفْ مَا نتَذغُوْنَ 
الَيّے اِنْ شاءَ (انعام رک وع ۔۴) برعال بن ہکا کم سے ماعنا اور یہ ما کنا خود ایک عبادت 
پگ مفڑحیادت ہسے۔(تفیریخن) 
تر رو ں کان 

مندرامھ میس ہ ےک قیامت کے ون منگب لوک وٹیو کی شکل میں جع سیے جائیں 
کے جیوٹی سے پوی چی ھی ان کے او یہ ہوگی انیس پوٹس نا چم کےجیل زان میں 
ڈالا جا ۓگا او ری ہوئی خ تنگ ان کے سروں بر شمتل مار ےکی ء ای ججبیو ںکااہو 
پبیپ اور پانمانہ باب پلایا جا ۓگا- 

00 

این الی عاغم تہ مس ہے ایک بجز رگ فرماتے ہیں میس ملک روم بی ںکافمروں کے 
تھوں می سگر ارہگ یاتھاء ایک دن میں نے سناکہ مات تیب ایک پہاڈکی ہج ٹیٰ سے ہہ 
آواز بلن دکہرر ہا سے پاالیٹدا سس پرنجب سے جو جھے پان ہو تی رےسوا دوسر ےکی 
ذات سے امیبر بس وابست رکتنا ہے یاالقدا اس پہجگ جب سے جو ھے بات ہو انی 
عا ہیس دوسروں کے باس نے جاتا سے۔ پھر ذ رام کر ایک ذو آواز لگاگی او رکہا ار 
تب اس پر ہے جو ھے بات ہو دوسر ےکی رضا مندکی حاص لکرنے کے لے وہ 
کا مکرتا ہے جن سن نارائش ہوجاے۔ یک نکر بیس نے بلن دآواز سے پو چھا کن کوٹی 
بن سے با انسان؟ جوا بپآ اک انسائن ول پے ا نک موںل سے اپنا دھیان ہلان جو تھے 
فاندہ دی اورا نکاموں میں شخول ہہوجا جوتیرے فامرے کے ہیں (تخی را نںکییر) 

دھاکی تفیقت اوراس کے فضائل ددرجات اورش رم اقو لیت 

دھا فی معن پکارنے کے ہیں ء او راکش استھا لی حاجت وضرورت کے لیے 


۲٢٦ے‎ 


پکارنے میں ہہوتا ے بھی ملح دک را دکوکھی دع ا کہا جاتا ے (٦‏ ھ7 اص١س‏ 
اعمزاز ےکا نکودعا ماک ےکا عم داگمیاء اور ا ںکی ق ولب ت کا وعد ہک یاگیاء اور جو دعانہ 
ماگے اس کے لی عفرا بکی وعییدکی ے۔ 

حرت قادہ لاہ نےکحب اجار خلجہ ےل لکیا ےککہ پیل زمانے میں نیہ 
خصوعییت انا ہم السلا مکی 7 2+) کی طرف سےمعم ہوتا اک ہآپ دھاکریل 
قبو لکرو ںگاء امت رہہ پا نکی تحموصییت ےکہ بین قام امت کے لیے عا مکردیا 
گی.. (ابی نک ر) 

حضرت مان بن بی دولاہ نے ا سںآبی انف میس بعد یت بیان ذر:ا کہ 
رسول الم ےا نے فرمایا: ان الدُعَاء هو الْعَادَةُ نی دعا عبادت بی سے اور بل رآپ نے 
اتقدلال میس یآ یت اوت فا ی: ان الِّیْنَ يَسْتَكبرُوْنَ عَنْ عِبَادتی)ە 

(رواہ الامام احمد والترمذی والنسائی و ابو داؤد وغیرہ۔ ابن کثیر) 

تق مظہری میں ےکہ جملہ ان الذَُآء مُوالْعَاد٤ُ‏ شش بقاعدکربیت(تھر 
من علی المسند الیہ) یمفو مبھی ہوسا ےبدعامعبادت ب یکا نام ہے مشنی ہردعا عبادت 
ھی ے اور( قص المسند الیل المسر کےطور یر ) یمف ہو مپھی ہوسکنا ےک ہرعبادت بی دعا 
ہے۔ یہاں دوفوں احمال ہیں ادرمراد بیہاں ىہ ےکہ دعا اورعپاوت اگر فی مفہوم 
کے اظتبار سے دونوں جرا چدا ہی ںگر مصدداقی کے اظتار سے دوٹوں متجد مہ کہ پر دعا 
عبادت ہے اود ہرعبادت دعا ےہ وجہ یہ ےکم عبادت نام ےکی کےسامے ا تچائی تذل 
اخقیارکرن ےکا اورظاہرےکہاپن ےآ پ کک یکا بج وکراس کے سا نے سوال کے لیے 
ا بچھیلانا با تزلل ے جومغمپوم حباد تکا سے ۔اىی رح ہ رعباد تک حاص بھی ارڈ تھا ی 
سے مخفرت اور جشت اوردتیا او رآخر تکی عافت امن ہسے۔ائی ے ایک عرش ثری 
:2 ےکہ الد تاہیٰ نے فرما کہ جوشتس می رکی جد دنا یس 0 ہوک ای عاجت 
ےکی کی این فرحت لے فی نان کو کے دزن سےزیادہ ددوںگاء (ھڑی ا سکی 


۲۸ 


عاجت پور یکردو لگا)ء(رواہ الج زی فی النہا بی ) ادرت رکیل مکی ایک ردایت میں ىہ 
الفاظ ٹإں: مَنْ شَُغَلَ الْفْرْانْ عَنْ ذِکرِی وَ مَسْلیِیْ اَغطِیْتة َففصل مَا آغطی 
النجائلے یی جحلا وت ق ران میں اتا مشقول ہوک بجھھ سے ابٹی حاجات ما کن کی 
بھی ےفحت ےلین ال سک انتا دو ن اکب کے وا ہنی انا کین متا ننس یت 
معلوم ہواکمہ پر حا دت گی وی رر یی ے ودعا کا فاترودے۔ 

اور رفا تکی عدیث میس ےک رسول الد لا نے فرما اح رفات میں میرک دعا 
اورٹھ سے پیل اخمیا پٹلہم السلا مکی دعا(پیگررے )لا لہ إَِا الله وَخْدَۂلا خَرِیْک 
ا لۂ الک رَئە الْحَمْد ر هر غلی کل هَىْوِقبِبرٌ۔(٭-واضخیخری) 

1 میں عبادت اور فکر الیل دکو دعا ٹرمایاےءاورال ںآبیت ٹیس عبادت تی دا ے 
ار یآ رنے وا لو ںکوجوین مکی وید سال یگئی سے وہ بصورت اکحگبار ےڑج جوخص بطور 
اسنکبار کے اپے آ پکودما یں پگ کر دا تچھوڑے ببعلامتکفرکی سے اس لیے دید 
کر اخحقاتی ہواء ور ثی نہ عام دای فرش وواج کیل ء ان 2ئ۶" 
4 ۶ی - .۵ نر سے۔ (مظہری) اور صب تر احادیث 
و ہا سے 

نال دعا 

حد بیث: رسول الم چا نے فر ماب کہ اد تا لی کے نز درک دعا خزیادہکوٹی چڑ 
تر مکہیں.(ت نی ء این ایرھا گن لی ررہ) 

حد بیث : رسول اللدچےنے فرمابااتاء مخ الْعَاے شک دعاءعباد تکا مخز 
ہے( ت نی ہگن اس ) 

حل بیث : رسول اللہ چلاانے فرما اک الیل تالی سے ا سکافل ما کرو ہکیوئلہ الڈ 
تقا لی ءال اززحاحت گی 7 پٹدفرماتا سے ایب تن وی ۶ اورک ہے ٣‏ کے 
ون فآ دی فرا فی کاانظارکرے۔(ت وی ا ںسوڈ) 

۲ 


عد بیث: رسول اللہ چلالانے فربایاککہ جونش الد سے ای عاجج ت کا سوا لکیں 
کرتاء اتال یکا انس ریغب بہوتا ہے۔ (ت نکی ءاین حبان :اکم ) 

ان سب روایا تی رمظہریی می اف لک کےف رما کہ دع نہ ماگ وانے برخحضضب 
ال یکی وعید اس صورت میں ےکہ نہ ماعنا گر اور اہے آ پک وس صعھی وکھن ہکی بنا یر ہو 
ای من ان لّدِیْنَ َسْتکبرونَ کےالفاظ سےخابت ”تا ے۔ 

حد بیث: رسودل اللہ چےانانے فرمایا کہ دعا سے عاجتز نہ ہو کیوگہ دا کے سا تم ھکوئی 
پلال کیل بہوتا۔ (این حبان :کمن اذئ) 

حد بیث: رسول الد نے ف رما اہ دعا نک بہار سے اور دی کا سون اور 
آسمان وز می نکا ور ہے۔(عا ام فی الس رکش ن ای ہریڈ) 

 ٔ + 9 70‏ ۶ ۹ 09 
کے لت ت2ت ےک ا نا ےک نال ےتا 
تح جن اگ گن کہ انان ال سے عافی تکا موا لکمرے (ترنری ھا عن الی ہرس )۔ افظ 
عافیت مزاجان لف ےجنس میں ملا سے جاظت اور پرضرورت وعاجم تکا را ہونا دحل 


سے 


مستملہ :کس یمناہ اش رک یکی دھا اکنا ترام ہہ دہ دعا الد کے نز ویک قو بھی 
یس وی ۔(کمائی الد ٹیشن ال سعیدرہ اذ رک ) 
مو لیت دعا کا ویر ہ 

آ یٹ یکین این کا وعرہ ےک جو بندہ ال سے دعا 1“ ے ووقول ہوی سے 
رض اوقات انسان بھی د بنا ےک دعا ماگ دوقیو ل نیس ہوگی ۔ ا کا جواب ایک 
عدیث مل سے جونطرت ااوسحیدخدری تید سے ممنقول ےک نب یکر لان نے فرمایاکہ 
ملمان جہوھی دا الد سےکرتا سے ایند ا سکوعطا فرماتا سے یش بل اس میں یکنا ہ ماضع 
7 دما نر ہو اورتمول فا نے ےکی من صورژن :و ےو رت ہوئی سے اپ ۰2 


گت 


ما ڈگ ونیم لگیاء دوسرے کہ ا کی مطلوب یز کے بد نے ا سکوآخر تک اکوئی اہر 
اب دی گیا تیسرے بک ماگی ہوئی چزن نٹ یگ رکوئ یت ومصحیبت اس بر نے والی 
0 ول ائی۔ (سنداص :نظبری) 
تبولبت دما نظ 

آبیت نرکور ہ بیس نو بظاہرکوٹی شر طییںہ بیہا ں ج کک مسلمان ہہونا بھی تج لیت دعا 
کی شر نیس سے کاف کی دعا بھی اود تالی قبول فرمانا سے بیہا ںک کک اش سک دعا تا 
قیامت زندہ رٹ کی قبول ہوئی۔ شدعا کے لی ےکوئی وقت ش رط تر طہہارت اور شہ پا وضموہونا 
ط ےگ راحادیمٹ ہیں جس چزوںکومواحخ تمولیت فر مایا ہے۔ان چچزوں سے 
اجقناب لازم سے جیما کہ حدیث میں حظرت الد ہریرہ لہ سے ردابیت ےک رسول الد 
ےا نے رما کٹخ س1 ودبی بہت سفرکرتے او رآ سا نکی طرف دعا کے لے بات اٹھماتے 
ہیں اود ارب یار بکہ ہک ای عاجت ما گت ہیں ہمگر ا کا کھانا ترامء پا رام ء لاس 
تراما نکوققرام ی5ا یو ارقل اط 

سی رع غفلت ا اتل کے سا تجھ خر دع ان د بے دعا کےکی نے کل 
عد یت یں اس کے تع قبچھ یآ یا ےکا ری دعا بھی قیو لیس ہولی۔ 


(ترمڈی ء عن ابی ھریرہ معارف القرآن ء گلدسته /٦‏ ۷۸۷) 

)٣٤ ٤ (‏ ولأبی الشیخ عن أبی ھریرةظظہ أیضاً: 

”َقُوْلُ الله عَرَوَجِلُ : إِنْ سَاَلَییَ عَبْدِیٰ أَغُطینةُء و إِن لَم يَسالِیْ 
حں فا (کما فی کنز العمال ج ۲/ء۳۱۵2) 

(۲۳۳) 7ھ رت ابو ہ رییہ لہ سے روابیت ہے بت تال یفرماتے ہیں: 
اگ مم رابندہ یھ سے سوا لکرتا ے ,ود با جہوں ءاگ ججھ سے سوا لی کرت سے و زارائ ہوتا 
ہو اس برخحصہ ہوا ہوں- 

٢ےا‎ 


فامکرو: کا نات عا لم کے نال کا نظا مپھی نخلوق کے نظام سے اننا ھی ای دج ہکا 
سے بقن اک خودخال یظیم نخان ہے بیہاں سوال بر نا رای اورنہ ما گن پرنوتی اور خالقی 
,تع بر بے عدخونی اورنہ ما کے یر ناراشیء ظاہری بات سے موی جھولی پھر ےت 
کو نم رےگا_ اللهُمٌ اجَعَلتَا مِنْ ِبَادِک الصالِحیْنَ السَايلِیْنَ فَضْلک وَ 
جََتَک وَرِضُوَانک اللْهُمَ . آمین! 

باب : فی دُعَاء الْمُسلم لُخِبْه ال سُلِ بگھُرِ الْعیْبٍ: 
اب:ملمان بھائی کے لیے یھ یہ دعاء مکنا 

(۵ ۲۳) قال الغزالی فی الاحیاء: 

فی حَدِیٔثِ الدُعاء للخ بظھُر الَْیْبٍ وَۂ یه بقل اللَهُ: 

ہک ناقری [ضعیف](کما فی الاحیاء ج ٣‏ ص ۱۸۳۴) 

مار ک ےکی یں وعما 

(۴۳۵) تر جج :ایام الوم بیس امام خمز الین ےکہا: بعالی کے لیے ما مبانہدعا 

کے بارے میں تھا لی فرماتے ہیں : جچھھ سے میس اپینے بندہ ک ےن بیس ابتقرارک رتا بہوںی ۔ 
یھ یی کی دعا میں خوش زیادہ ہہوتا سے 

موک ن کا اپنے بعائی کے لیے ا سکی عدم مو جودگی میں دجاء خی کرنا خلض وم بك: 
محبت ومودتء اور مال جن بی“ اخوت ابھاٹی گا ہفیاد پر ہونا سے ورنہ عام طور پر جب 
انان لیے کے مقام پکھڑا ہو دی وع کے عالم یں خودکوجی یراب نمی ںکر انا ت 
دوسرو ںکوکیابادر کا رجہ اس خز ان خیب مقنابی کے سان و چہاںی سے س بکوسب 
یھ ماگ رآ نج مج کک ینمی ںآآکی۔ ایی موشع پر اپنے بھائی ءائل ایما نکو یادرکنا اور پچ رر 
زوالزال سے اپنے ساتھھ ساتھ اپنے بعال کی ضرورت وحاج کوعمض شک رن ولنل ب ےکم 
اپ جن اڑج ۳ .ھ72 داعبہ رکتنا ے اوروفت دعا اہی خ رکا اظہا رکرتا ے 


ر2 


نکی ھی جیب شان ہےک۔ ال کے سا ےی اپےبعئ وی کو 2-7 
باب: إ هب لیدُغُو الله وھوی هُوْ یِٰحبَه فَیقُوُل - 
رسس می 

)٣٣٤(‏ عن انس خلہ وجابرطلہ مهَا: 
الْعنْد ليَدعو اللَهوَهُوبُحتَهفَبَقُوْلٌَ ا جبْریْل إقضِ لِعَبدِْ هذَا 
حَاجَمَۂ وَأَمَرْهَ فإنَیْ اجب اَی اَسمَع صَوْنَة وَإِن ابد لیدغو اللََوَهُوَ 
فضَۂ قَيقُوْلَ الله تعَالٰی: یا جيرِیْلإِقُضِ لِعَبِّیَ حَاجَتة پاخخلاصد و عَجلهَا ل 
اَی أَكرَه أنْ أَسمَع صَوْتَهُ“ [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج )۳۲٢٣/٢‏ 
یک لوگو ںکی دھا دم یس اور یکی جا ی ےکہ 
تم ہل مج وکوا نکی مناجات سنا ند دہ سے 
(۴۳۷) تج :حضرت الس خلد اور جابر دوہ سے روابیت ے. ای کی الد 
اک سے دعائیں مانکنا سے اور تعالی اس بندوکودوست رسککتے ہیں ارشاد ہوتا ہے : اے 
ری ام رےاس بند کی حاجدت پور کردوگرتا خی رکے سا ھکینکہ یس اس بن ےکی 
مناجات دعا کو بار پا رمنا پین دکرتا بہوں اور ایک بندہ دع کرتا نا سے چیہ الہ اک انح 
سے نارائ ہہوتے ہیں۔ ارشادہہوتا ے: جب رم !اس بنر ےکی حاجت وضرورت جلدی 
سے اور یکردوکہ میس ا سک یآوازسننا پن نی ںسکرتا- 
فان وفا ج کی دعا جلدقبو لکیوں ہوجاپی ے 
)٣۳٤(‏ لابن النجار عنە(انس 5ہ): 
”إِن الع المُوِي لیو الله تعَالَی. فقو الله ِجِبْریلُ لا تجبّة 
فإنَی اجب ا أَسُمع صَوْنَةء وَِذَ َعَاه الَفَاجِرُ قَال :یا جبْریْْا فص خاجتةُ 
نی لا اجب ان اَسْمّع صَوْتَة “ (ضعیف جدا] (کمافی کنزالعمال ج ۲/ ۳۲۷۱) 
۳ 


(ع۴۳) تھ ججمہ : حضرت ال سے ردابیت ےھ صن بندہ جب الد اک 
سے دعائی ںکرتا سے جن بل محدہ جج ربیل سے ارشادفرماتے ہیں : اس بن ہک دعائو کو 
دی نکر اک یل ان کی مناجا کو با بارسمنا بین دکرتا ہوں اور جب فا جم وفاس دع اکرتا 
ہے مجن تعالی جب نیل سےفر مات ہیں 1 وس مت اف ے بل 
٤ھ‏ بت و 

من وکا فرکی مناحجات میں فرقی 

)٥٣٣۸(‏ لابن النجار عنە(جابرظاد: 

و جبُریل رگ رت نی آ5م 0 دَعَا الْعَبْدُ الکافر َال الله 
تعالٰی یا جبَرِيْل: ہے رم 


المُوْمِن. ال یا جبْرِیْل : اح حَاجَتَة فَإلَی اجب أَنْ اشمع دُغَاءۂ “ 
[ضعیف] (کمافی کنزالعمال ج ۲ ۳ّٰٔگ))( 


(۲۳۸) 7م : ححخرت جار نلاند سے روایت ہے نیل علیہ العلا مآ د مکی 
اولادکی عا جن ںکو پور یکر نے پر مامور تین ہیں ءاہذاج بکوٹ یکاخر بندہ دع ارتا ےت 
من تعالی ارشادفرماتے ہیں: اے جرح ا سکی حاجت جلد پور یکردو بی ا سک یآواز 
ومناجات نا کیل چا ہتا ہوں اور جب مین بندہ دع اکرتا ےل ارشماد ہوتا ‏ : جب تح اس 
کی اج تکورو کے رکھواس ل ےک بیس ا سک دعادمناجا تک بار پا نا چابتا ہوں- 

اے و ران ےکی پکار 

عربیث مہُُل رموز و اسرا رکوکھولا میا ے۔ وقما دہلوں کی بارگاہ رت الرت دو 
کر تے ہیں جن یل مہ ایل اما کا رش علق بح اور مضبو ما شف مکرتے 0929۹9 
4 یی 9 :ولا 
فرماتے ہیں ہت کمردہ بار بار پکارےء اور چر بار ال ںکی صداکوقو لیت وسعاد تکا متام ملا 
ےار سرت بات 20+ اعت لی آ20 وکرات مناجات کے 


۳٣ 


عبدیت میں ڈو بے ہو ٹوا بپھو ٹے ہو لکوسفنا پپن دکرتا سے مہ اٹل الیبابی ےکہ 
بر جب و للا ہے رول یکولوثیء بھا تکو بات ؟کبنا مال باپ ہو لے سے روک نہیں 
بل غوب خوش ہوے ہیں ن وکیا مرا الد اپنے بندو لکی مناجات کےکلرات نین 
ہوگا۔ اوجشس طط رح مال پاپ باد بار بیہ کے بو لکو وع رانا ءکھررررسننا نکر تے ہیں رب 
ذوا پا ل بھی فرشتو ںکوفرماتے ہیں اس بنلد ہکی حاجت وضردرت ورک شہکرو جھوکو ا سکی 
مناجا تکوسننا بیند ہے اور جب بیانے ائ لکفروطقیانء رٹ العز تکو پکارتے ہی ںو 
عم ہوتا ہے ججلد ال کی عاجت پورگ یکرددہ میہرے دروازے سے دو رگردوء ام کی ربا نہ 
مرا نام نے عم - سے رو ںکی عاجت پورگ یکر کے رٹ الھزت سے دور 
کرد باجا جاے اوراپنو لیکو زا تح سے جو ڑکررکھا جا جاےء اور بنلدہ ےک جل دی جلدی 
کا شور میا جا ہے ان کا حاصل یہہ و اک ہنرو ںکو خی رانڈدہ چزوں کے ذر لج ہملاء اور اپنو ںکو 
الللد ملا۔ خیرو ںکو چروں سے ناممون لک۷رد ماما اور او ںکولزت مناجات سے عبادات 
ورجیغ الی ال رکا وظی"ہ ماء شیبرو کا رغ یرد یا گیا اور اپنو یکو اڈ کی طرف موجہ رکھاگیا- 
رو ںکو چچزوں یں “نک وشخو لکردباگیاادراو لک باب رحمت ے جو ڑگر ذا تتنْ 
سے مشفول وسجمو رک یاگیا الد تاٹی کیل انی ذات سےآخ ری محات حیات کک وابسۃ 
رن 
بے اما نکی عاجت جلد پور یکیوں ہوجا ی ے؟ 

)٣٣٤(‏ وللخلیلی عنەرجابرظ: 

”إِ الكافر لیڈھو الله عَزوَجَل فی حَاجیہقْقصَی لَهہ وَإِنٌالمُؤمِنَ 
دنو اللَ تَعَالٰی قْبطی علیہ الِجابَة سم المَاِكة ِذِک فَفُوْنَ الله 
تعَالی : : نما انث الگافر نَا يدغونیْ ولا يَذْکرُنی لی اْفصّۂ و اض 


صَوْته و ابی لِلمُومِنِ لِنلَا تع عَیْ وَيَذكرنِی نی أْجِهُوَأْحبٌ تَضَرُعَةُ “ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۲ گ۰گع)ً) 


۲۵ 


(۲۳۹) 7م : کرت جار ضا سے روایت ےء ایک ہے ابیمان الد تا ی 
ات حاجت وضرورت کا سوا لکرتا سے بل رہ انی حاحجت وضحرورت 
اتا خر ہیور یکرد نے ہیں اور ایک من فی اتی سے انی حاجت وضرور تکا سوال 
کرتا ے نے ا کی حاجت وضرورت اودیی ہونے میں تاج کردی جالی سے۔ف رت اس پر 
شور نل میاتے ہیں(سشی بے ایما نکی عاجت جل ہکیوں پور یک گی اورا یمان وا ل ےکی 
عاج تکیوں لتق ىی وتا خر سے پور یکا جا ۓگ ) فو مل مروف رماتے ہیں: میں نے 
بے اما نکی دعا قجو يک کے حاجت ججللد اس لیے پیا ریکمردیی ‏ اکمہدہ جے اب نہ پکارےء 
تی میبرا نام نے ۔کیوکہ میس اس پر نارائش ہہوں اورا سک یآوا زچھی سنزا ہن می ںکرتا اور 
و دما اس لیے تی رکتا ہوں کہ وہ ا ملق وراہط ہم سے نہنوڑے اور 
مھیرابار بارنام نے میھے بادکرے اس لی کہ می ا کو دوست رکھتا ہوں اورال کا خوب 
گرگمرانبالا ناء رونا دطوناء بے بببت اھ گنا سے ۔( سان اید وھ ٥‏ (کنز اما ل ۳٣۷۲/۲‏ ) 

نے ہوۓ د کاخ بیرارسلطان جہاں ے 

معلوم ہو ایت تعالی اپنے دوستو ںکو انی ذات ”تن جاتے ہیںء 
ت کمن اپنانصھل الد تا لی سے ہروقت بحال رےءاگمرحاجت جلد ور یکردیی جا تو 
اد بن نمتوں ہیں مصروف وشخول ہوکراپنے رب سے بی کگونہ جدار بتا ے اور جب 
تک عاجت پورئیئیں ہہوٹی ۔خوب تر والاج کے سا تع ا کی طرف متوجرر بتاے اور 
رونا دعوتا ے۔ اید تھا یکو مو نکا رونا دعونا پیند ب یگیل ؛ بللہ ببت گی زیادہ پیند ے_ 
عدربیث ‏ لآیا ہے ال تی ٹو نے ہہوۓ ول مشھر ے ہد دل کے انس ہهدتے ہیں٤‏ مہ 
کت یی نے ےک اید تھا کی محیت ت. 6 ہے اورول تنا وا ےبھرتا سے 
انی بارش ای ف را سکی تجت ال کے نز دیک (یادہ بششنقی ے۔ 

شرف الین گا ری خروم بہازکا مشجورقول ہےکہ چززیں نی ٹول ہیں 
قب تکھوئی ہیں اوردل جقتا وف ےنھرتا ےا سک فدر و قبت ال کے نذدیک بح 

گر 


ے۔ جب دل ال کیلمت وکبرباکی میس پالئل بی ٹوٹ جانا سے پھر جاتا ےہ بنلدہ تع 
سی میس اب بندہ جن چاتا ےا کی یت ا ا نع ال ودای کالہ 
ی22 27 ات ےے ر270 
ہے و ےت ئا 
باب ب : وَالَِّیتَيی دو ا الب لَيَدَغُو الله وَ هُرَعَلَيْهِ عَضَمَانْ 
٦‏ ھض ہندے ارت یکو کارتے ہیں بی لان پر نا راس ہوتا ہے 


) ۰) عن جابر بن عبدالّہ قال: قال رسول الله ا 
00 
عَسۂ فميَْغوة فَيْعرِض عَه قيقَول لِملانگیہ: بی عَبّدِیأَنْيُغو عَيْرٍی قَقة 


۶ھ 


ِمَْحْیَیْث مِنه یَدغَونی و أغرض عَنه أهْهِدكُمْ انی قذ ِسْتَجَبْت لَە. “ 
[ضعیف] (أآخرجه أبونعیم فی الحلیة ج ۲٦ص۲۰۸)‏ 

دا کے رجہ بنارہ اتال یکائحبوب من جا تا ے 
)7ے خرت جا بر بن عبدرالشد یلاہ سے روابیت ےک رسول الد اتا 

+09 

اس ذا کیا جس کےقبضہ فندرت میس میرک جان ےہ ایک بند و سسسل ال 
تزالی سے دعائیں مانکنا ربتاے بن تعالی اس بر نارائش وخقصہ ہوتے ہیں نو ا سکی 
اغزن بے ال الین ین لن یں اعراح کرت مین وہ ات دھاکن 
اکنا ے الد تال یٰ پچ راع را ضکمرتے ہں۔ پھر تتعالی فرشتوں سے ارشا دفرماتے ہیں: 
سفوا مہ را بنلدرہ مہرے سواصسی سے اپنا عوال واپتی عاججت یا نکمرنے سے اعو اخ کرد ہا 
ہے۔ ہس میرے بی درکا سوالی بنا ہوا ہے ف یھ اب اس سے شر مآ لی ےک دہ جج کو 
پکارے اور یش اعرائ سکروں تم س بگواہ رہ کہ یش نے ا سکی دعا تو لک کی ( اراس 


٣ےے‎ 


گی عاجت پیر یکردگی)۔ (ا ینیم نی اکلے )٥۸/۷‏ 
مبفو بھی دھا کے ذر ا صحیوب مجن جانا سے 
معلوم ہواک یم خوش بندوجھی دھا کے ذ ر اراتا یکامحروب مجن جا نا سے ءدعاکرنا 
بہت بی مکی یہت ان کات یرت لک ئل 
ہے۔ بیےہ حزَاِن المموَاتِ وَ الا زْض ےزین وآ سمان کے ہرفمز ان کی باب عطا کا 
ایک ے۔ فا بھی وی ۔محعبی بھی ودی مغ بھی ودی پل بھی وئی ء مج بھی وپیء 
قرب بھی وی ہس بھی دی خی بھی ودی ںی مبھی دبیء اح بھی وی عصی بھی وی اور 
سب پٹنددی۔ بندہ جب اہ ممتبود جو ڑجیقی کے سان پاھ پیلد یا سے نے ا سکوابی 
شان ذوا لال والاکرا مکی لاج آجاپی ےء پچھردہ بندہکوئیں دبا ء ابی شمان جودوکر مکو 
درک رعطا کا درواز ہکھول دیاے۔ الله اجَعَل لا بمَّا ان اَهْله ولا تَفْعَل بنا 
بمَا انا اَهْلَهُ 0 0 99000 
کی ےک یی رن 0 ۰۰۰,۰۸۰“ 
ضرور تکیں بے نیاز تی بے نیاز سے اوراس کے نان ہکا ہریز اینے بندرة نیاز من دکی 
صرورت کے لیے سے اور ایک جم ہ ں(ضرورت نر تی ینا ی ۔ ہرلدم 
4 ہرعہہ برآئنء ہرگھڑیی ایا دالک نکی ر ےکم اس بج ھگھیانہیں ۔ رب ےک ہآ و مکو 
جنت دب چوک ہہوکی ف یھ دبیء عاجت ٹین لآ کی دعا سکھھلا دی حاجت اپوری ہوگی شر 
کا طر بقہ جنلایا گنا ہ ہوا اتتغفا رکی نقت دی۔ عباد تکی فو شرح نیز رازرعلازت ھا 
درب سے۴ مکلام ہونے کے لیے ب مک وکا ب ال کی اوت دی ۔محصی کین لم تکو 
دو رر نے کے لیے ہت اد د یا اراس کے می سای نل موم ولا دت دی ۔ کی زندی 
:7/0 وا وت نخ ری رسود لکی امم تک فقت 
دی رید سے مطرید ارگ تھالی نے انی ردیت دگاء رہم اس رب جپارک وتعا یک وچھوڑ 
کک کہاں جانیں نمی ںیک ضرورتنیںء اس اَشْهَد اَنَک اَنْتَ الله لا اِلة الا اَنَْ 


۲۴۸ 


لاج الَحَذ القَرد الصَمَة الَِّی لَميَلد لم ُولڈ. 7۸۳00 
لک الْحِمذ انت اللَۂ انت رَبَيٗ طهَرقَلبی عَن عَیْرک,ء وَتَورقَلبی بنُور 
مَعْرِفیک, آمین. 
باب : إِنَّ الله يدُعُوبعَبِهِيَومَ الِْامَة قَبفرلُ :لی قُلتَ أُدعُوِیْ 
اب :قیامت میس الڈتھالی ندہ سےفرما ےگا یں نےتم سےکہاتھا کے ماگو 
)٤٤٤(‏ عن جابر بن عبدالَتہ قال: قال رسول الله گےل: 
ال بَلعُز؛ بعَبّدِہ يَوْم الّقيَامَة فَيْفُولَ : انی قُلت اَذْغُوَِیْ امٰتجب 
07 رم ما تا 
قََوْتَیِیْ فی کذا وَ كَذَا فَلَم أَقضِهَافادَحَرْنها لک فی الْجَنَة عَتی بَقُوْلَ 
الْعَبُّ: لیت لم يسْتَجبْ لِیٗ فی الڈُنیا دَغُوٰةَ “ 
[ضعیف] (أخرجه أبونعیم فی الحلیة ج ٦‏ ص۲۰۸) 
دعاہرحال یل متقبول ومفیرے 
)٤۳۱((‏ رج : جا بر جن عبدرالد اہ سے ددایت ےک رسول الد چا نے 
رای یل رہ امت کے دن ایک مک 2 کر رو یک 
میس نے خود بی مم س ےکہا اہ : جججھ سے اون تار دما 5 
ےریت ا یت کے انت ا ا ا 
کیا پند ےت مکوفلاں دن تم برفلاں فلاں محبیبت و با نازل ہہوئ تی جو یں جا بتا تھا 
کیم پہائیں۔ فو تم نے دع ماگ یھی جس نے قمو لک کے دا یش تم سے دو مصیبت وبا 
7 + 0" : ال ہے باربء رب العزت ار شادفر یں کے: :اور 
فلاں مو برقم نے دعا اگ تھی مر میں نے ترک عاجت پودئ ین لک یھی اور یں نے 
رت یی از لے لے اس دع اکو ان خزانہ میس جنت کے لی فو اک رلیا توا نی 


"۹ 


اس عاج تکودنیا یش پور یکیو ںکیا کہ ال کا بدل ن مکوجفت میس دو ںگا) بندہ جب ہے 
7ھ ۳ء ور مر 
ایک دعا بھی قول پہوئی ہولی۔ (اخرد الم ٹی اکلی )۲۰۸/٦‏ 
ابا !دنا یٰ کے درو کچھوڑ و 

لوگو کا بھی جیب معاملمہ ےک جلد بازئ یکا مظاہر ہکرت ہیں اورسب یھ جات 
ہی سکہمکیںل جاۓ ء رب ذ وا چلال والاکرام بندہ کے فا دہ کے لی ے1 خر تکا ذ تی روک رنا 
جات ہیں اور بی ےک فالی دائیش بی سب پٹھھ لےگ رت مکرد ینا اتا سے اور اش اک 
ای دٹیا کا اہدگی ساما نکرد ا انسا نپھ یکتفا نادان او رکتنا ان یف ی فائندہ سے ب تر 
سے۔ ال دکتنا 1+ ت بثروں 2 ذترہکردہاے۔ ند ہکو جا ہے 
کسخوب دل بی کےسا تد روزانہ اچ وس منٹ ستتعل دھا کا وقت اکا نے اور دعائیں م گا 
کر سیں۔دعا ا بھم رین حبادت سے دعا سے بند ہکوآ خر ت کا لقن پیرا ہوتا ے اور ال کی 
ذات پر اخاد وابقا نکی صفت کا رسوغ کائل جاگگزرس ہوا سے جس نے دعا کا دروازہ 
کھوڑاء الس برجم تکا ورواز جح لٗ گیا۔ائسی لیف رآان نے دعا سے اع رات سک ونب را کیا سے 
08" کتور لن کب رد ٹیک دوردورہ ہے یرایل سے ما سذ شرک سے اورالڈد سے 
 --‏ 7“ برعت گے ںہ ال ا نکو ہدابیت دےءآنخ ہ مکہاں جائیں۔ بایا اس 
لیے الد کے د رکون کوٹ و۔ اس در اد بای ہیی لت ے۔ باب امت کر دک دی 
وہ یی بای ۔ الد تھا لی کے ہاب رحم تکوںہکچھوڑ وء اس درکا سوالی با مرادہوگیا_ 

دعاے بلاء دخ ہوی ے با دعا خر تکیلئے ذخرہ ہوجاپی سے 

)٥٤٤(‏ عن جابر بن عبدالله رضی الله عنھما عن النبی ث قال: 

”يد و الله بالمُؤمن وم الغَياَة تی يُوقفهَيْ نیدب ََقُرلَ: عَبِیْ 
لی امک أَنْ تَدغُوَنِیْ و وَعَدڈنک أَنْ اَسْمَجِيْبَ لُک فَھَل كُنْتَ تَدغُوَنِی؟ 


۸۰ 


فو نَعَمْي رب فَيقُوْل : ا إِلَک لم تَذغیی ارول امْتْجیبَ لک 
0 2 رت 
عَنک؟ 
َي>َقفُوْلَ: نَعَمْیَا رَبٌا فَيْقُوْلَ: فَإلِيْ عَجلْنْهَا لک فی الڈنیاء و دَعَوْتِیٔ 
وم کنا وَ کا لعل بک أَىْ افو عَنَکَ فَلمْ تر قَرْججا؟ قَال: نَعَميَا ربا 
فَ>قُول:إِنَيْإَِحَرْث لک بھا فی الْجَنَّة گُذّا و کَذا . قَال رَسُوْلْ الله صَلَى 
ايد عُ اللَه دَغوَةً دا بهَا عَبْذۂ المُوْمِنإِلّأ بل إِمَا ان یَکُوْنَ 
عََجلِ لَه فی النیا و إِم أنْ کون إِدَحَرَ له فی الَاخرَة. قَال : فَيَقُوْلَ الْمُوْمِنْ 
فی ڈلک الْمَقام: يَاليته لَمْ يَكُنْ غُجْل لَه فی شَيْءِ مِنْ دُعَائه“ 
[ضعیف] (أخرجه الحاکم فی المستدرك ج ۱ص٤۹٥)‏ 
(۴۴۳) مھ بج مہ : حضرت جاب مج نعبدرااڈد دا سے ردایت ےک رسول ارڈ للا 
را 
فقیامت کے دن جن تنعالی بندہ مک نکوطل بکرےگاء ہا لج کک ساس ےکھڑرا 
کردیاجات ےگاء ارشادہوگا: مہرے بنرے !میں نے جھ ےویم دیا اک بت سے دعانیں مان 
اور ہین نے وعد ٥کیا‏ تھ کہ دعا قیو ل کمروں گا( کیانونے ودای اگ یی دوخ 
۰ 0 لت آگاء 
یس نے اسےقو لکانتھاءکیا نڑنے فلاں فلاں دنم ناڑل ہہونے بردعائی ںکیاش یک رش 
تی ری معییب تکوراحت میں بدل دوں تو یں نے الیباہ یکا تھاء دہع قکر ےگا :بی ہاں 
اپ انٹاک نے تی این فو ںی کر رت ای جا رد ا اور 
ڑنے فلاں فااں دن باا و بہت کے نازل ہو نے رت نے نغرا 
کشادگی وراحت عطا تھی سکیعیء دع لک ےگا :یا رت الما ہی ہوا تھا ارشاد ہوگا: یل 


ه۲ 


نے ال کو تی جشت کے لیے جک رلیا تھا اور نے فلاں فلاں دن اپتی حاجت رواٹ کے 
لیے دعائی ںکیاشھی ہر میں نے تیرب عاججت پور ینہ ںکیتیء دو و ضکمر ےگا :رٹ 
العاین الما بی ہوا تھا اررشمادہوگا :ہاں میں نے تتیرکی نت میں فراں قراں چروں ے 
لیے ا سکو ئک رلیاتھا۔ رسول الڈد چلائا نے فرمایا۔ می یکوٹی بندہ من الد یاک سے 
00 
ذ رہگ رلیاجاتاے ,و قیاممت کے دن م وم نتمن اکر ےکا کہ اا سکیا ایک دعا بھی نت را قبول 
شہوگی ہوٹی۔( کہ جفت یی سب دعا و لکا مین مات ).. (اخرجرا اک نی اصع رک ۹۳/۱م) 
باب : مَا قَالَ عَبْ قط يَا رب کَلا نَا قَالَ الله 7 
باب :جب بنلد دا یل تھان بار یا رٹ کی گرا رکرتاے 

: للدیلمی من حدیث أبی ھریرۃ ظ4‎ )٥٤٤( 

”مَا قَال عَبْذ قَط: ا رّبَ تَا إِلَا قَالَ الله : لبیک عَبُدیٗ وَسعُدیک 
نا 27 اک2 [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ٢/۲ءك٣۳)‏ 

مناجات مل یا درب 

عرری نے جو تہ دہ انی 
چو جو یہ ہو تو وو سی 
ات ہیں مخ کر کے بععدمیس د سے ہیں۔ 

باب : تَلانَةُلا تَرَذ دَعُوَتَهُمْ 
پاب: مین متقبول دعا وا لے 
)٤٤٤(‏ قال الترمذی: عن آبی ھریرۃئلہ قال: قال رسول اللہ گلئ: 
”نَلانَة لا نَرَڈُ دَغُوَتَهُمْ: الصَائِمْ عَتّی بُفْطِر و الإمَامُالعَادِلُ وَدَغوهُ 
۲ 


المَظلوٌم یَرُفھا الله فوٴق الغمّام و یفتح لھا ابُوابٔ السَمَاء و یقوْل الربْ. و 
عزتی لانصرنک و لو بَعْد حین.“ [حسن] (أآخرجہ الترمذی ج ۳۵۹۸/۵) 


تی ن نٹ سکی دعار دی ںکی جای 

( ۰۳) م بج : رت الد ہ یریلہ سے رواایت ے رسول ایند ا نے فرمایا: 

تی نآ دی کی دھا روکیں ہہوٹی (شتنی اد کی عدالت میں مقبول دی جای ے ) روزہ 
دار وب من رر وڑہ افطار ۔/ ے اور عاول بادشاہ اورمظلو مکی دما ال تما ی ادل 2 
ا یب انٹھانے جات ہیں اورایدتعا یسا نکا درواز ہکھول د نے میں دعا کے لیے اوریقن 
ا لی فر مات ہیں: ہم وکومیرىی عمز تک یحم !یں ضرورتہاری مددکرو ںگا گر چتھوڑی جا خر 
سے۔( ینس میں بن ہوکی صصلحت شید ہ ہوٹی سے )۔ (اخرد اترزگ )٥۵۹۸/۵‏ 

مظلو مکی دم کے مک ےآ سا نکا درواز وکھول دیا جا تا ے 

: عن أبی ھریرة لہ قال:قال رسول الله‎ )٥٤٤( 

”لسانَة ا تَرُڈ دَعوَنهُمْ: الإمَامْ العَاِلَء رَ الصَاِمُ تی بُفْطِرَء رَدَغرۃُ 
لمَظُلُوْم يَرّغھَا الله ون الْعمام َومَ الْیَامَقہ وَتُفْمَخ لھا اََُابُ السُمَاء ء رَ 

(۵) 2 رت او مظر امت ےک رسول اللہ نے 
فرمپ: تی نج کی دعا وا یں بجی ری سک جالی ۔عادل وانصاف پہند پادشادہ روزہ دار 
ج بک ککروزہ افظار شر نے اورمظلو مکی دع اکوالٹ تھا ی پادل کےاویرقیامت کے ون 
7 کے اورمظلو مکی دما کے ے1 سما ن کا ران قزل دبا جا اے۔ اور یل رہ 
فرماتے ہیں: ہج وکومی ری عمز تک اعم ء می تہہارکی ضرور مدوکرو ںگا ہر چٹھوڑیی دی بعد 


(اخرجه ابن ماجە ۸/۱ )۱۷٥۲‏ 


۳ 


جب مآ پکو دیھتے ہیں و ول رم ہوجا تا ے 

)٤٤٤(‏ حدثن أبوالمدلە مولی عائشة أم المؤمنین رضی الله عنھا سمع أباھریرۃ 
علہ يَقُوْلْ: فُلسَا: ا رَسَُول الو إِن ِذَا رََيَاک رَفُث قُلوبَ وَ كُنَا من ال الَاخرۃء وَإِذَا 
فَارُقُناک اعغُجَبتتا الڈنیَا و شْمَمْنا النْسَاءَ وَالأَوْلَاد. قَال: 

کو ازقل.: رکم نکرْرْن علی کل خاہِ علی العالِ 
ایام عَلَيھَا نی لصَالْحَتکُمْ المَلاِگة باكُقْهم و لََارَنكُمفِیبيَْکُمٍ 
رَلرَْعكدوْر لع الله بر يوْرہ کیبل کا قال: 8 کا رمُوْل الله 


اَْفر ۲ س ا" از ۲ لقث ۲ را2 الزقرَاعءٗ مِن کس . ۲ 
لاس وَیَعْلد وَلَايَمُوْثہ لا تبلی ثاُةء ولا فی خَببْةُ نَلائَة لا نرَڈُ 
دَغُوَتَهُمْ لإِمَامْ العَادِلء وَ الام حَتَی بٰفْطِرَء وَ دَغوَة المظُلُوْم نُحْمَلعَلَی 
امام وَ تُغَْخ لَه ابُوَابُ السُمےِ وَیَقُوْلَ ارب عَزَرَجَْل : و عِزِیٔ 
أَنصْرَنک وَلَو بَعْدَ حین.“ [حسن] (أخرجہ أحمد ج ۸۰۳۰/۱۵) 

( 2)۴ جم : ابوالل :ام اون ححفضرت حا ئک ےآ زادکردہ فلا فرماتے 
ہی سکہ بیس نے ابو ہ ربرب دی ہکوسناکہرسول اللہ لا سے فر مار سے جےکہ یارسول ارڈ لا 
جب مآ پکود بے ہیں ( مجن یٹس میں ) ذ ہمارے دل غرم پڑ جات ہیں اورک مکو اک 
آخرت کے لوکوں میں ہوجاتے ہیں اور ج بآپ سے جداہہوتے ہیں .تو دٹیاویجھھیلوں 
ٹس اور بیوئی چوں کے ور تی ہیں رسول اللہ الا نے فرمایا: اگ رم ای حاات ۴یس کن 
رہو با خر مایا:اگرخم لوگ ہروقت ای ایک حالت میس رہوجٹصس حال وحاات شی میرے پااس 
ہوتے ہوقو فرش تم سے مصا یکر یں ای ہانتھوں ۶۶ 9+ تپ 
لائقات وز مار تکوجائشیں نو( اس تی او رکیشی کا پرلنا بھی حکمت البی ہے ناے 
کہ )اگرتم لو کگناہ زہکرو ےن تال ایک ایی قو مکو لا ےگا ج پر وق گنا بی سمل 


۳ 


کر ےکی تا اکا نکی مفغفر کر ے(اوراپٹی ا نگنت صفت مغفر کا خ ہو رکر کےعحضت 
عفوومخفر کو اہ رک رے )صا نے سوا لکیا :یا رسول ااند ٹا جع مکو جم کی صفذات 
سے با یھ ےکا لک بڈیاوکیی ہہوگی؟ رسول اللہ للا نے جنلاا: ا سکی ایک ابینٹ سو نے 
1 اور ایل ایمنٹ چا ند یی ٠‏ اور ال کا گا راشمبواُڑاے وا یمکستوریی کا ہے٤‏ اوراں 
کم ا کاو نکی کی کی اک لے ان 
داگل ہوجا ت ۓگ نی ںیئ رر ےگا نی اگ یں ؛حیات ابدگیء مو ت یں ۔کپڑڑے 
پرانے ہاگن ےیں ہوں گے سدا بہار جواٹیء بڑھایا کا خطردنئیں ۔ تی نآ دی یکی دعا رد 
لی کی جائی: امام عادلء روزہ داد ہا لک کک افطار کر ے اورمظلو مکی دعاپادل ے 
ای اٹھالی جالی سے اور سما کا زرراك کول دیا جا تا ے اور اڈ تھا ٹی فرماتے یئ کو 
عمز تک یم میں ضرورتخہہارکی مددکرو ںگاء اکر یھ وڑکی تا تیر سے . (اخر ا :۸+۶۰/۵) 
صحت ومعبیت رسول ال جال کا نتمایال ام 

بی ہل دہ نے انا نکی یعت وخلقت میں ا رکوقجو لکر ےکی صلاحت 
وواجت فر ماک ہے او رگبجی طور ایا ہونا بھی عنقحکرت وثررت کے سا تج ساتجھ مشمابرہ 
بھی 1 جب ام سورر جع یکن کے اع ہو ہیں نو ری وٹین سکوقیول کر لیے 9:7 
اور جب سرد د رٹکیا لہ بر جانے مہ ںو برووٹ ٹیک ے نے نیازکییں ہوسکتے۔ ای 
رح انسان کے پاشن وقلب پربھی خی وش رکا ار مڑا ہے اجگھ دمرے ماحول سے متا 
ہوۓ خی رر انیس جاسکتماء اور رج کے اس جد بحتیقا کی دور میس نو وائی اوران وائر ںکا 
ایبا ال ےک دی ن کا بچھنا اورجھ یآ سائن ہوگیا سے ۔ صا کرام رضوان ارڈنےہم ا می نکی 
مقدس ججراعت جب الڈدتھاٹی کے بحد جوا سکا نات عا مکااطیب واطبر اکرم وانورء ای 
واف رس ازکی واٴنی یلا کے سا ہوتے و ان ک ےلوب میں رفت ولیزت اورفگ رآخرت 
کنا نگ ملھ ات ےر زی سے پاخمز وک نت کی لے نے 
اور جب اس مقریس وعطب بھی ومنورںکرم ومعظم می کی ایند علیہ و مکی معیت بحبت 


۵ 


سے اتی طبجی عاجت کے لے جات فو و ہمکیفیت ا حضا رآخرت .گر معادہ ذو وشوقی 
اثابت ورجوع الی ایلرک یکیفیت بدل جا ء الل اکر صا رضسوان ارڈ میم ا می ن کا بالن 
چھ یکنا صماس خ اک ٹور می ںکر لہا اور ا سکیفیت کے تیر ونتبد لکا ا انا سے سوال 
ھی کرای تک جا بی نرالل کر ناقاخ لک ذد کردا جا نج وج نر تک لیمعت 
رسو لعرم چا سے می ے گلپ 297 اشن بے چرا یہو ٹورا سوا لک رلیا کہ ال الْر 
لے جب مآپ سے جدا ہوک ردتیاوئی مشفلوں بیس اور ہبوٹ یچوں کے امورکی طرف موجہ 
ہوتے ہیں ءن مک یکیفیت پاقی نیس رنتی ۔ 
نیارحمت جانا نے امم تکومخفر تک أمیدر دای 

مصھی ار یی شا نے خوب سے خوب تر جواب ھرعمت فرمایا۔ ىہ جوا بپکگگ 
می رعت غ_للی دے کت تہ ور ہکوگی دوسرا ہوت فو ترمعلو مرکس قد رکھ رجات ء فر مایا 
سفو! اگ رمیری معیت وا یکیڈی تکا بقاتم لوگکوں میں ہوچاے فو پچھرفر نت تم لوگکیں سے 
مصفکرنے لی اور پچھرقم لوگو ںکی زار تگھعروں میں چاک رک میں پمکرسفوء یک حا یکا 
ائیواقا لات کے خلا ف ے۔ فرشمتوں بش حالت ظاہر دہاش ن کا قاء وثرار 
ہے۔انسمان مم سکیفیت ایھاپی تی پذسہ ہےء با روہزدال سے اللد تھا ٹی نے انسا نک 
انسا نی صخات کے ساتھ بی خلافتکا رحب دباء ہاں اگر بقا ہکیفیت ہوٹی و فرش مصافہ 
کرت ےکا نکوش نکیفیت کے ساتھ پیر اک یاگیا اسی یس دہ دوالم کے سات ٹیم ہیں پچلرم 
سےال نکوعمانحلت ومیانست ؛کیذیت میں ہوجالی فے وو مصا فیک ملف اورتمہارکی زیار ت تھی 
کرت مگ رتمہار لی یکا مقصد وونہیں جوقم نے مچھا ہوا سے ہار یلیکا متصیدر وہ 
سے جورب ذدا لال نے سی نکیا سے تم کیفیت کے طا اب ہواور و مغفر کی صف تکا 
مظاہرہکرن جابتا ے.ت مکو اس اٹ یگکر سے اور رب العزکوق ہار یلیکا مقصد ابی 


متذرے ووسحت رم تکا بور ے_۔ 


٦ 


نکر فقیروں کا جم کھیں ناب 
خماشائے اٹل 2 دمکحتے ین 
زلوب وعصیانءذ ہول ضیان بی سب مففرت ورضوان ے 

ھی رحمت چا نے فر مایا گرم لو گناہ نہکروقم سے ذنوب وحصیان ذعول ونسیان 
سرزد نہ ہوقو اللہ ای ایک دوسری قوم لاتا جوصر ف گناہ ب یک رکی اور اللہ اک ا نکی 
مففر کرتا_ 

حاصل ا کا مہ ہوا کن این مکیفیت کے زوال پناک ہو اور بقا ہکیذیت کے 
طالبء اللہ اک بقاءکیذیت کے ل ےت مکولا یا یکیں سے دوفو بے سےفرشتے موجود ہیںء 
981 72 نار اورک ن نت ارت کے ژروال 2 ناک ہووبی لو تھہاری آر 
وخلاف تکا سب سے پپلرم خمنا ککیوں ہہوہتھہار یآ رکا مقصدبی ذعول ونسیان ء ذنوب 
حصیان سے کیونکہ ذفوب وعحصیان بر ہی نذ مخفر تکی حادرڈالی جات گیا 

زعحول نسیان بر ہی انابت سے7 زئی ہوگی :تم نے جم سکورکاوٹ اور دبوار جاناء وی 
ق تی ت تی کا زینرادرتقر بکا سبب سے تم نے جس سکوصرت و مکا سبب جانا وی فذ تی 
کا وی پام سے سفوہ ذعول ونسیائن ء زوا لکیفیت جومعیت رسول خلا ہے 
7 و را ا ں۲ 
اس بت مکووہ گا جورب الحزتکا مطلوب ومقص تی ہے_ 

فیضان نبوت انۓ منمظر ومستودغع میں شرار پر ے 

ایا 7 7ت7 ان ر فیضان نو تکاجنکس مڑر ہاتھاوہ 
شخم وزائل ہوکیا ہوگاء با کا ای موسلا دھارآسمان سے برستا ےن کاو خخم ہوچادنا سےء 
ہیں ز م۲ن سبراب ہوکی سے اور اپنے اپنے رف کے ایقدر با یکو پیا جاٹی سے اوراٹی 
انی تہوں می فو دک تی ہےء چنرنشہ بعد لیا محسویں ہوتا ہ ےکہ بارش ہوئی بین 
خاصٴس ار اگرزمین ری ہو یا الو ہوٹو ان ں کا خوب مشابدہ ہوتا سے اہ رضوان اڈ ہم 

ے۸ 


الین نے اپ ےکوخوب سے توب تر برا بکیا اورپ شی خبوت سے نو را یمان وابیقا نکو 
تی ومنو رکیا۔ بال جب گا نبوت سے مدہ ہہوتے پذ ھا ہری ور پر عدم فیضا نکوشسوس 
کرت برق ان کےکما لتق ک کی دلیل سے رگر پان ان ککاعمل ٹیل شھرکی ےلب ریز ہوتا 
تھا اور اہج انج تفر ستوورع باطن یں رشمد وبدابی تکائٴس دق رہوتا تھا :تھی نو ارڈ 
تا ی ۓ کا وَحَد الله الْسْنی ہ ظز سے ظا بکیا۔ 

صحابہ بہت ای ذ ٹین و ذکی ہآ ا کےکلا مکا رع دس ےکر جالن گن ےک ہم نے جنس 
کو باععث افسویں جاناودی با ری کپز بہت وتزی ک راز سے عبد بی تک اکمال رضاء ای 
سے ت ہک رمضم تمہ ملانکہ۔ بندہ ر پک رضا بیس فا ہہوہ اپٹی تام تمنائوں وآرزوو ںکوترپان 
کردرے۔ میدرالن جہاد یس اید تھی نے صا کی جانئیر کے لیے فرشتو ںکو ناز لکیاے۔ 
افش صا نے جب اپنے فا ند لا سے مخفرت کے را زکو پالیا قذ اب رر تی با کر 
جن کا سوا لکرٹبیٹھے۔آ قا اق نے پچھیآ رع پگ وفتتشہ جنت کےضسن دجما یکا سنادیاء الد 
وی ک فا نک خی رکردی فلا تَعْلم نَفْس ا فی لم مقر اَین) 
( رہ جرہ)امرمشوئری ٹس ہے اللدتالٹی نے صاین کے لے اڑسی جن بوائی ے جو 
"۰ پر اس کا خیا لگمز را نیہ ایی ںجل 
ار ےک پھر نے را 

باب : اتقُوا دَغُوَة المَظُلوُم 
پاب :مظلو مکی بددعا سے پچ 

: للطبرانی عنہ(خزیمة بن ثابت):قال رسول الله‎ )٥٤٤( 

”اتقوًا دَغوَةَ المظُلوْم قَإنَھَا تَحمَلُ عَلَی الْعَمّام 9۷و" : و عزُتیر 
جَلالِیْ لَأنْضْرَنَک وَ لو بَعَذَ ین“ (حسن لغیرہ] رکمافی الترغیب ج٣ص‏ ۳۲۸) 


۸ 


ہیس رو رکم ری رر 1 
(ع۴۴) تبحم : حضرت نف یہ جن خابت طفاہ سے روابیت ےءرسول الد للا 
0گ 9:1 9 پ9 
ہی کیم وکومی ری عزت وجلا لک یحم یں ضرونمہاری مد کرو ںا ءاکر چتھوڑی تا خر سے۔ 


(الترغیب ۳ /۳۲۸۸) 
روز قیامت باد لکی ط رع من تھا یکی ہی تی نظ ےکی 

اعادمدرول پا یس اورجھی لوگو ںکا کر سے شی نکی دما ہیی وی لئ 
دما ٹول 7 پآ[09-+۶ئئ دم 7 وو اپ نے تب وہ سٹرسے 
وا نآ جاے۔ والمدکی دا اپنے بچول یی میں رڈیں ہوئی اورکہیں دع وتے المرء 
لفسسے مھ یآیاے یشید یک خودکی دعا اپنے جان مال وعزت ورمتنأس کے لے 
*روزہ دار جج بتک افطار نکر نے امام عاول انصاف بین دعمراں وحائم بھی اىی فہرست 
یں ہے اورمظلو مکی دعا لم سےججات وغلاصی کے لیے با چرام کےج میس مانی 
دب بادئی کے لیج سکوہددھا ککتے ہیں گرمظلو مکی دعا کے سے ایک بات اورکھی لا ی 
گنی ہ ےکہ بادل کے او پاٹھالی جا ےگا ۔ ا کی مرا وق رآن پا کک آیت 

و یَوّمَ تق السُمَاء بالعْعم وَنْر لَ الْمَلبْكَهُتَرِيَلا ب4 (فرقان )٥٢:‏ 

ترججمہ : اورجٹس دع پیٹ جاۓ آسمان بادلی سے اورفر شتے بکشرت اجارے 
رت 

تی قامت کے و نآسمانوں کے نے کے بعد اوپہ سے باد لکی ط رح ایک چچز 
تر نظ ۓگی جس می تی تھال یکی ایک اس جگی وی ۔اس کے ساتعد بے شیا رفرشتتوں 
کا ہچجوم ہوگا اورآسمانوں کے فرش اس روز لگا نار متا محش کی طرف نزول فرمائمیں گے۔ 
قذ اب سیدرھا سادا مطلب بی ہواک ”لو مکی دا الم سے اتال نے کے لیے او من رکوااس 


۸۹ 


پادی کےاو پر ٹھالی جات ۓگی مشقی تن تعاٹی کےقر یبک۷ردی جات ۓےگی اورملو کی فرب زتضور 
تن میں قریب سے اقرب ہویب رظل مکاکمیاب ےگا ات رڈ سی نے خو بکہا سے٠‏ 
آہ جالی سے ملک پر رتم لانے کے لیے 
پادلو ہٹ چاو دے دو راہ جانے کے لج یے 
9 لے وت کم سے بیو تلم قیامت کے دانع ان ھی را مل کرو ےگا_ جال حم 
کر کے اپنا نقدا نکرتا سے مر جاد ما لپھی انسا نکواندھاکرد بی ے۔ 


باب : َِ ال ِا طُلمَلم بعصَرُ 7 
)٥٤۸(‏ للحاکم فی تاریخه والدیلمی عن أبی الد رداءلہ: 
الْعَبْدإِذَا لم لم ینحضَر وَلَمْيَنْلَهمَنْ ينصره و رع طَرْقَهإِلى 


المَمَاءِء فَدَعَا الله قَال اللَهُ: یک آنا اَنصُرُک عَاجلا وَآجَلا “ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۳ )۷٦١۸/‏ 


7)۲٥۸(‏ جم : حضرت ابودرداء دنہ سے روایہت ہے بندہ تم و 
زادثی ہونی ہےاورا سکیکوئی دیو سکرتا(نہجی اش کےقبیلہ وخاندان مل اورندہی 
40)ْ)٘۹۹ى"' ۷ 9م" اپنیگمرون 
آسما نکی طرف اٹھاکر اللہ باک سے دعا ک رتا ہےء الد پاک فرماتے یں: ”لبیک 
عبدی' ہنرہ یل حاضروں مل یق یا تی مرروںگ.فرً جاثرے۔ 

باب : إِذًا کا ليْلَهُ لصف مِنْ شَعَبَانَ تادیٰ مُاد: مَلْ وس 

باب: بندد ششعبا نکی رات میں منادک یآ واز لگا نا ے 

)٥٤٤(‏ للبیھقی فی شعب الإیمان عنہ(عثمان بن أبی العاص ظد): 


۲۹۰ 


إذّا كانَ َيلَة لضف مِنْ شَعبانَ نادیٰ ماد : مل مِنْ مُسَعفرِفَاغفرَلَ 
قَلْ مِنْ سَائِلِ فَأَعَطِیَة؟ فا یسل اذ هَيَّْ إِلا اط٤‏ إِلا َانَِة بِفَرُجھَا اُز 
مشرکت [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج۸/۱۲ء۳۵۱) 


ہن ررنعیں شعبا ن کا 20500 

(۲۹) تم جم : حضرت عنان مین ابوالعائش ا سے روایت سے جب پندرعویل 
شعبان یش ہل سے ای کفآواز لگا نے والا آواز لگا تا ےء ےکوئی مففرت کا ما گے والا 
یس ال سکی مففرتکمردوں۔ ےکوی سوا لکمر نے والا بیس اس کے موا لکو و راککردول _ جب 
کوگی اس ش بکوسوا لکرتا ےن لی اس کےسوا لک راکرد نے ہیں مگ رزاشاورشرک- 

)٥١۱۷۸۸ ۱۲ (کنزالعمال‎ 

فارہ: دوسرکی احادیث اس سلملہ مل انی نی پچررەشعان میں نام 
مسلرانو ںکی مخفرت ہوچالٹی سے ہگھرانس مارک رات میں (ا) مشرک (۴ )ینہ رکھے 
واے (۳) تع رب یکرنے وانے (۴) تمبند با باجامرغنتوں سے نے رکنے وا لے 
(۵) وال دی نکی ناف رما یکبرنے والے )٦(‏ شراب نکی اوت ر کے والے (ے )کسی 
ارک کر نے وانے (۸) ادا خیس ۳ 1 + (0۸٣۰۶‏ 
نان وانے یاغال ہکا لے وا نے )۱١(‏ با کے خطوطط دک ھک رخی بکی خرس دنن وا لے 
ر1 تی ا ات 7[ کت ےنرک رت ض رت 
ا کون عبدائن محرت دباوگی نے ماخبت پالسنہ ٹیل ذک رکا ےء الخرش ان تما لوگو ںکو 
ا ںکھوٹی مت ومففرت سے الگ رکھا جا تا ےکہ نے بک لیس ۔ کر لیے کے بحدرا نکی 
بھی قمام خطاعام معاٹی کےتحت معاف ہوجا ی ے۔ 

اس را تکاوسُورا 
(١)اں‏ رات عباد تگمر نے ۳17 یھو سے (٣٢)عشاء‏ اور 


۲۹ 


ٹھ کی نماز پاجاعت اداکر میں( )چنا جوات وآسا نی ممکن ہواس را تکونو اٹل اور کر 
0ه(/+ ( پا ا ا 
مفاصرصنہ کے لیے خوب ت٤٠‏ (۵)شعا نکی در ہو میں تار کا ری 
)٦(‏ ہج نمناہو ںکینحوست اس مبارک را تک بکات ےمحرو مکردبق سے ە ان سے 
مل پریز رک مس اورصمدق دل سے کنیا برک مس (ے )ایک حصہرام تگمز رجانے کے بعد 
قبرستان جانیں مردوں کے لی مغفر تکی دعا اور الیصال ٹوا بکرم مگرات 02-0 
لا قبرو ںکوحیدہ نہک ری یک دو خاصش ہے رب العاین کے لیے ؛قہ رکا بوسہ نی کہ یہ 
خاصصس ہے جج راسود کے لیے :فی رکا طواف نکر ہی کہ مر خاصص ‏ ےکعبتۃ الد کے لیے رپ 
راغ نہ جلائی سک ور برنورصلی اللدعلیہ لم نے جراخ جلانے وانے پرعنت نمی سے۔ 
لَعَنَ ال /۔ الج الّقبورٍ وَ الَمَتخلِیْنَ عَلَيْهَا السُرُج (۸) خمام رات عبادت وذکر 
کات مت ئن را ضرسر تی ا کے دا تین جن 
ےک سماری رات موبت وہجشل خودکی ‏ تا اورخرافات می لکگمز ار می ء پندروشعبان کے 
سلسملہی سآ کل بہت پا قی ںکی اتی ہیںء میں امام این تییرکا انف لکرنا مناس ب متا 
ہوں: 

و اَم لَيَلَة النصفِ مِنْ فَعبَانَ فَقَذ رُوِیَ فِیٔ فَضِْھَا اَحَادِیٔث و آنَاز و 
تل عَيْ طَاِقةمِیَ السَلَفِ اَنهُمْ کاُوْايُصَلوْنَفيهَا فصَلَاة الرَجْلِ فِيْهَا رَخْۂُ 
ٰ‌99 9 0و0 
شعبا نکی فضیلت میں احادیث دآخار موجود ہیں او رسلف وصا ین ال رات یل نما زکا 
ان نے تھے ابا برر:شما نکی شب میں سلف سے نما زکا ا ہتقمام وت وت 
کے لی ےکائی ےی س کا ا وکا رو سکیا چا سا ہے . ( پا وی امن تی.:۳+/۷۳۱) 

درو شعپا نک یتح لکی لے نان و کیک کیب 


۲ 


باب : يََتَزَلَ ربا ارک وَ تعالی کُلَ ايل إِلَی السُمَاءِ الڈنیا َ‫ 
باب :ہررا تی بل مجد ہکا آسمان دنا نزول 

)٥٤٤(‏ عن بی ھریرۃ لہ ان رسول الله یقول: 

”ْعَنَزّلَ رَبُنَا تبَارک و تعالَی کل لَيْلَةإِلَی السُمَاءِ الدُنیَا جِيْنَ بَبْقَی 
من یَسْتغفِرنِیٔ فَاعَفْرَ ژَُم“ [صحیح](أخرجە البخاری ج۸ ص ۸۸) 

ال تحالی ہررا تآسمان د نیا نازل ہوتاے اورکتا ے 

(۵۰ہ) ظظرت لا /ة نظلۂۃ ے روابیہت سےکہ رسویل الد ےا نے 
فرمابا: بی بل مد ہرشب مم ںآ سان دنا پر زول فرماتے ہیںء ج بک ایک تھائی رات 
باقی رہ جاپی سے اور ارشاد ہوناے کون سے جو جج کو پکارے اور ٹیس ا کی پکا رکوقول 
کمروں؟ کون ے جو ججھ سے سوا لکرے اور یں اس کےسوا لکو و رکرو ں؟ کون سے چو 
کے ری اور ا مار ں۔ 

ہردا ت تن تقالی ان بندو لکو پکارتے ہیں 

)٥٥٤(‏ عن بی ھریرةطلہ عن رسول الله قال: 

”نْرِلْ الله لی السُمَاء الڈنیا کل لَیلِّ حيْنَ یَمضی تُلٹ الیل الأوَلُ 
شال الک 0َکت: وہ6 الّذِیْ يَدُعُوَنِی قَأَمْتَجِیْبَ لَه؟ مَنْ ذا 
لَذِیٰ یَسْالِی فَأعطِیَة ٥‏ مَنْ دا الَذِیَ يَستَغفْرُنیْ فَأَغفْرلۂ؟ فَلاِیَزَالْ کڈلک 
727 آ6 [صحیح] (أخرجه مسلمء ج ١‏ ص۵۲۲) 

(۵٥)7ھے:‏ عحضرت اہو ہر٥‏ صن سے دوداییت ےکہ اید کے رسول چا نے 
ار شاف مایا:جقن بل مجدہ ہررا تکو جب ایک تھائی را تگز رجاٹی ےآ سمائن دنا یر نازل 
ہوتے ہیں ءاورارشاوفراۓے یإں: انا الملک انا الملک می بی بادشاہہوںء ے 


۳ 


1 چو مھ سے وعا ات اشن ای نکی روا و لتریں؟ ےکوٹی نظررےڈال ارۓ 
اور ٹیں اس کےسوا کو پوداکھروں؟ ےکوٹی جو مففرت طل بکرے اور ٹیل ال کی 
مفرتکروں؟ یآ وازسسل لگائی ای ےہ ہا لک ککںنع صادق لو ہوجائۓ 
نزو رحم تکا وت 

)٥٥٤(‏ عن بی ھریرۃ ظلہ قال: قال رسول الله ٭ّڈ: 

”منْرَلُ الله عَرّوَجَل کل لَيلَة إلی السُمَاءِ الدُنیا إیضف الليْلٍ الاخر او 
لب اللَیْلٍ الاجر۔ فقُولَ : مَنْ دا لَدِیْ يذُْوِیْفَأمْعَجيْبَ لە! مَنْ دا الَّذِیْ 
یَسْاَلَيیْ فَأغطِیۂہ مَنْ ذا الَذِیْ يَستغفِرنیْ فأَغفِر لَه؟ عتی یَطُلَم الْفَجْر از 
تصرف الّقَارِی مِنْ صَلاِ الصٌيبٌح.“ [صحیح] (أخرجہە أحمد ج ٢‏ ص ۵۰۲) 

)٥۵۳(‏ 7م : ضر ا رظ کرداخت ےک الد کے رسول اتا 
نے ارشادفرمایا: جن ہل مہ جب نصف آخررات باقی رنتی سے و ذول فرماتے ہیں 
ا تھائی رات کے بد اود ارشمادفرماتے ہیں :کوئی سے جو جچھ سے دعامیں ما گے اور بیں اس 
کی دھا قجو لکروں؟کوٹی ے جو جتھ سے سوا لکھرے اور بیں اس کے سوا لیکو پوراکروں؟ 
کوٹی ہو گے مغفر تکی رک ےار می1 کون ہا لک کل 
صاوق عو ہوجالی ے اورنمازی جج کی نماز سے وائل ہوجاتا ے_ 

)٥٤٤(‏ عن أبی ھریرۃطلہ قال: قال رسول الله ٭: 

”ِا مَضّی شَطر اللَیل او ثُلَ ٥ه‏ يَتَل الله تبارک وَتَعَالٰی إلّی السُمَاءِ 
یی 9۹۹299 وً01 
ُسْتَقفر بقْقَرلَۂ؟ تی مجر الطُبْۂ “ ئل ۱ ص۵۲۲۷) 

(۵۳م) کے ١ضرت‏ الہ رین سے روابیت ےک رسول لا ے ارشاد 
فرمابا: جب را تکا ایک بادوتہائی حصمگز رجا تا سے جن ہل مج ہآسمان دنا رجلوہ افروز 
ہوتے ہیں اورارشادفرماتے ہیں : ےکوٹی سوالی من سکی مجھوٹ یکوکھردیا جائۓے؟ ےکوٹی دعا 

۲۳۲۴ 


گے وال جج سکی دعاکوقو لکیاجا ے؟ ےکوئی مخفر کا طیالب جج سکی مفضر تکردی 
جاے؟( یآ داز لگا نی جا لی رختقی سے ) یہاںک کک لو موجا ی ے۔ 
وقنت مت ومخفرت 
)٥٥٤(‏ ابو ھریرۃ لہ یقول: قال رسول الله لا : 
نل الله فی السُمَاءِ الُنيا لِمَطٌر اللَیْلِ أَو ِب اللیْلِ الاخرِ فََفُوْلَ 
عَدِیم ولا ظُلُوم؟“ [صحیح] (أخرجہ مسلم ج ١‏ ص )۱٥٥/۵١٢١‏ 

)٥۵۴۳( ۱‏ تر جم : حفرت الو ہریرہ طلہ ن ےکہاکہ رسول چا نے ارشمادفرماماحن 
تل دہ ایک تھائی رات جب باٹی رہ جاٹی ےن آسمان دنیایرنازل وت ہیں ءارشادہوتا 
ہے :کوٹی سے جو تھ سے ماگے اور بیں ا کی مان ککو لور یکردوں؟کوٹی سے جو بات 
پچھیلاۓ اور ٹیس ا سکی جو یکوکیردوں؟ پل رج بل دہ ابنا دست مبارک پھی اکر ارشاد 
فرماتے ہیں :کوئی سے جوا یی ےکوقرش دے چو نمض مک ےگا اور نہب ینم کر ےگا۔ 

موا کفکیی ابمیت 
)٥٤٤(‏ عن آبی ھریرۃطللہ عن ابی قال: 
”َو لا نأ شُي لی اَی ََمَِنّهُم شواک مم یو 
لمت ءَإِلَی تُب اللَيْل و نضف اللَْلِ فَِذَا َعی تُلتُ اللَْل او ضف الَیْلٍ 
نزل إِلّی السُمَاء لت عَررَجَل فَقَالَ : مل مِنْ سَائلِ فَأَعَطيه؟ مَل مِن مُسْنَعفرِ 
َأغَفرَلَه مَلَ مِنْ تائب توب َلیْه؟ مَل مِیْ داع فَأَجمَ؟“ 
[صحیح] (أخرجه أحمد ج ۱۸ ,6)۱( 
(۵۵ہ) جم : صفضرت ااوہ رود ےئ رواٹ سے رعول اللہ چان 
فرمایا: اگ رب کو ام کی مشق تکااند یں ہوتا تق میں وضو کے سرات موا کا مکرتا 
اورخما زعخاءاونلث ایک تھی را تک تا خ رکا عم د نایا آ جیا را تک ککا اور جب را تکا 
۵ 


ایک تھائی یا آڑشی را تکا حصبیگز رجات ے نے الد تھا یق آسمان دنا یہ نازل ہھوتے ہیں اور 
ارشادفرماتے ہیں : ےکوکی سواٹ کہ ا سکوعطاکرولں؟ ےکوی مففرتکا ما کے والا یل 
ا کی مغفر تکروں؟ ےکوی نو کرنے والا ا ں کی وذ قجو لکروں؟ ےکوی دعا 
ومناجات وا اک ا کی دعا تو لیک رولں؟(۹۵۸۹/۸7۱) 
اں ین ہیں پیاری ے 

)٥٤٤(‏ عن أبی ھریرۃظلہ أن رسول الله کان یقول: 

ْ٥ا‏ بَقَیٗ تل الیل تل اللُعرّوَ جَل إِلٰی سَمَاء اي فَيقُوْلَ: مَنْ دا 
لّذِیْ يَدْغُوِْی اُمْتَجبْ لَۂ؟ مَنْ ذا الَذِیْ يَسْتَعْرُنَیْأَغفْز لها مَنْ دا الَنْیَ 
>َسْرْزقیْ أَْرقَۂ؟ مَنْ دا ال يَسْتَكُذِف الضرأَكُشِفۂ تی يْفَجرَالصّبْخ “ 

[حسن](أخرجه أحمد ج ٢ص )٢٢٢‏ 

(۴۷) 2 ججمہ : حضرت ال ہریرہ جن سے ردایت ےک اید کے رسول لے کہا 
رج :جب را تکا ایک تا ی ص دج جا ےآ جن یکل مد ہآسمان دنیا یر نزول 
فرماتے ہیں: اورآوازد نے ہیں: ےکوی جو جھ سے پاگیس اور میں ال کی دعائی قول 
رین کون جو جج سے مخفرتکا طل بگارہواور میں ا سکی مغفرتکروں؟ ےکوئی 
جوا یتکایف دمححیب تکودو رکرنا جا ے اور میں ا سکی مش لکوی لکمروں؟ ےکوی جو بج 
ے62 گار ہواورمیس ا کو رزٹی دوں؟ رر صداگن رن ہے(او رہم 
سدتے رتے ہیں ) بیہاںک کک لو موجالی ے۔ 


ہہ ا ۰ سم ھ+ 
تن تال یکی طرف ےراخٹ و را مک وت 
)٥۷٤(‏ عن آبی سعیدثلہ وأبی ھریرة ئل قالا : قال رسول اللَة: 
0 الله يمْهلَ تی إِذَا قب کلت اللَْلِ ول َو إِلی السماء انی 
َیَقُوْل :مل مِنْ مُسُتغفرٍ؟ هَل مِنْ تاِب؟ هَل مِنْ سَائلِ؟ هَلَ مِنْ داع؟ تی 


۲ 


ینفجر الْفَجْر “ [صحیح] (آخرجە مسلم ج ا ص۵۲۳) 

ڑے۵٥)‏ 7 بحم : ااویحید تہ اور الو ہریرہ داد سے روایت ےرسول اللہ چا 
نے فر ماع مل میدہ بندو لک وآ را مرن ےکی فرصت دینے یں یبہاں مت کک ایک ت 
رات تم ہوجالی سے نے آسمان دنا پر نازل ہوتے ہیں اود ارشادفرماتے ہیں: ےکوگی 
مففر تک ما گے والا؟: ےکی و بک اکر نے والما؟ ےکوکی سوا یک اکر نے والا؟ ےکوکی دعا 
ومنا جا تر نے والإا؟ یہا لم کک ط لو ہوجا ی سے _(اخ ‏ م۵۲۳/۱) 

کہاں میں سوا ی 

(۸٤٣)عن‏ الأغر قال: اأُشھد علی أبی ھریرۃ ظلہ و آبی سعید خ لہ 
أنھما شھدا علی النبی ٭ أنه قال: 

ان الله عَرَوَجَلَ يْمَھلُ تی یَذعَبَ تُلُث اللیْلِ مر فَبوْلَ 7 
وپ مس حدم سو رہ سیت قال: فقال لَه 
َجُْلٌ: ححتی طُلع الفَجْر؟ قّال: نَم“ (صحیح] راخرجہ احمد ج۳ص٣۳‏ 

( ۸ جع مہ : اخمرے روایت ےکہ می سکوای دیتاہو ںکہ الا ہریرہ طیلہ اور 
ااوسحید ضیازد دوٹوں ن ےگوابی دک یکہرسول ایند انا نے فرمایا: 

بی بل رہ بنرو ںکوآرا مرن ےکی فرصت ہلت دبتاےء بیہاں ت کک ایک 
تھائی رات تح ہوجاٹی ےہ رن مل مد ہآسمان دنا یہ ناز ل ہودتے ہیں اورارشما وف ماتے 
ہیں : ےکوکی سوا لکر نے والما؟ ےکوی فو کر نے والا؟ ےکوی مخفرت ما نے واا؟ سے 
کوئ یکگار؟ ایک فص ت ےکہا: ہا ںک کک یع طلوع ہوجاے ۔اس کے جواب می ںکہا: 
اں ؛یشنی بآ وا زج لو ہون ےتک لگاکی جالی ے۔ 

بے کے 7۳ ودں یں تن 
رو کہ وج بط : قال رسول الله : 
و0 اللَّه يْمَهلُ ‏ حَتّی إِذَا ذُهَبَ مِنَ اللّيلِ نَضَفه او فِا قَال: لا يَسْالن 
ے۲۹ 


-گچکی 


أغفْرلهُ ختی بَطُلع الْفَجْر“ [ضعیف] (أآخرجہ ابن ماجه ج | /ءے۱۳۲) 

(۵۹) ن عم : رفا نی جلاہ سے روایت ءال کے رسول ا نے فرمایا: 
جن ل میدہ بندو ںکوآرا مک رن ےکی مبلت د پت یی ی ہا کت کک ہآ یھی رات نم ہوچانی 
سے ماانیک تھائی رات شتت ہوعا ی یی راوطا ہج مہرے بنرے ٹیروں ہن ےم 
گے (جی ند میری طرف متوجرے) جو ججھ سے ا کے ؛ میس ا سک ماد پوری 
تو کا جو جن نوا لکر ےکا یس ا ںکودو لگاء جو ججھھ ےکنا ہو ںکی مخضرت جا سے 
گا میں ا سک مغفر تکرو ںگاء بیہا لک کک ہج و جاٹی ے۔ 

خحل مع ا رش راج ت ہیں 

یہاں ایک بات مائص طور پر ذ ہ نشم نکم یف اہ ےکہ نہ ہمار یکبجداورنہ دی نل 
معیارشریعت ہہ بل مال ایمان یہ س ےکم نی عقول اورٹہم وفراس تکوش ریعت کے 
مطابی ڈھالی دی اور با سی ختین نیش کے شار علیہ السلام سےمنقول شدہ احکام یا 

تحلا کو ہلا یوں جر لی مکرمس ۔ اورخوا دو اہ ان پان ں کا چس کرس مج سکینقل 
00007 بعضھما 
فوق بعض کے باج ٹون آ ‏ گا اورخو اون ا کی دددس کی ہوگی اورائس پش بھی ندکیا 
جاۓ ۔کیونگہ بعممسوسات میں ہوا ک یکیو ںآخ رتقیقت ے ناواقف ہیں ۔معلوم ہواکہ 
دٹیائٹش ابی بہ تک زبس ہیں می نکا م احمائس جج یکرت ہیں اور ادراا ک بھی ہوتا سے 
گرا سکی یقت سے ناواتف ہیں_ 

پهم مل ای لقو لکو دو گر وین ہی سک تق لکی ہیں جقیقت لاد یں ۔انشاء الل 
قیام تآتے یگ امس ہہ راب شال یپھ ینک ن نویس مآپ کےسعم می ںقوت نا طق مو جود 
ہے جم سکوروں یا جیون سککتے ہیںء جب دہ جداہوجاٹی ےئ حم بد بودار و ےکارہہوگررہ 
جات سے آ خ رک مکیوں ان کی تقیقت سے ناواقفف کو و سی جا 


۲۸ 


جناب تیر اککوین لی اون علیہ یلم سےسوا لکیا۔ ہکا جواب دی گیا ”السروح مسن 
أمر رب“ رو اھر لی سے حم ر یکا مظہرے معلوم ہواکہرو ں کی یقت انسان کے 
جھ سے بالانزتی اور ےگھ یکمصرف ایک جائ نف کی صورت مل جواب د باگیا- 

اس لے ای نول کےسلمسلہمی بھی ہما ریقوت بر رک کا مکی ںک کی ء اور جم بیقیا اور 
لی شک وت دد کےنزول بارگی برایماان لاتے ہیں اس لیے ون ھن تفر ا ےن 
کب تطایبات کم سے ہے جٛ٘ کی خہگمیں خی نکی ضرورت سے نربی تین کا بچجھ 
حاصل ہےہ بلک ہ مکوااس پرصرف ایمائن لانا ہے اور می جعاارے بس میس ہےہ بلہ بی ا )ھی 
کااعتراف بی دراگل اکم کیونکہابما نبھی فو پا لغب مطلوب ے۔ 

تخاببات پراھمان لاناواجب ے 

یٹس ضرع ”یداللّهہ وجہ الله“ استسویٰ علی العرش کیگیفیت ے؟م 
ناواقف ہیں اور ایک مستم صحفت پاری اورتقیققت ےءاپا جھس رح دیکرمتشاببا تکی 
یقت ہم نے علام الوب کے سپ ردکمردیااورایمان لاۓ ا سک بھی یق تکاعلم اویل کے 
بردکرتے ہیں اور ایمان لات ہی ںکہ ا سکی جوٹھی مقیقت ہوو وج اورنا تقائل اکر اور 
رئا ایمان سے سے اور کچی علاء ال سنت والگماع تکاضف علیہ مل ے اورائم سل فکا 
ملک بھی می ر پا ےک اس سلسلہ بیس ابی نارسائی اور جال تکابی احترا فکیا جائۓ- 

یز یہ با تھی خوب ذ ہن یش انی جا ہ ےک ہآ خر انریاء علیہ السلا مکا مقص کیا ے؟ 
ظاہری بات ےک اخمیاء علیہ العلا مبھی اس لی ےتشر یف لان کہ عم مخببات کے اسرارد 
عم ء جو جار سوچ وھ سے بالات ہے ال کی می نجرد یں او ہم اس پرایمان لائیں۔ 

ان جب عد یت پالا ٹ خزول رب الا می نک یکیغیت ہمارے لیے ممپول ہی سے 
/‌ 0.099 چومحروم ہو بل نول ےے ھراد ہما 00790 جماات 7 

جب ال کو ھنا ہمارے لے مکل سے ے اس کے نزول وصعو کا بکھنا کی ےآ سان 
ہوگاء وا اعم ین حديیت میں جومشنمون وارد ہوا سے رب الا ان | فی خخاعس رجخت کے 

۹ 


ساتقھرات کےآ خر تبائی تصہ میں بنلد ہی طرف موجہ ہوتے ہیں۔ 
نراءورحح تل 

اوررت الع اگ نکی پ کاٹ ےک خود ہی اے ك2 ا تعار سوالء 
عاجت روائی اور بتملرانعابات سے واز نے کے لی ےآوازد تق ہے اور بار بار پکاریٰ ےء 
ےکوگی ججتھ سے ما کے ء اور بیں ا کا سوال او راکمردوں ہمکم ہا جعاریی تی اک ارم 
الرائیین نے آواز دی اور ہم اپنے بسترزوں پرخوارگا ہوں میں د نیاوی چنر من کی راح تکی 
اط رابدری راو ںکوپچوڑدمیں۔ ایی جح اہ الف وکرم سے قیام لن لکی نیقی 
تشتے۔آ مین مآ بین 

آ بھی ج خاصاا نون اس عدیث پر لین رت ہیں ان کے لیے ای نھاگا ہوں 
سے اٹھنا اوراستز استراح تکوچچھوڑ نا ان لوگوں سے زیادہآسائن سے شا دوصرے لوگوں 
کے ینیل ے۔ 

عدیث سے نان لک رت یل میں عباد تکی ابعیت معلوم ہولی ہے۔ ا سک وجہ 
بہت بی اہر ےکی ون نماز عنخاء اور جج کے درمیا یکائی وقنت سے یجس می ںکوکی دوسری 
ازس فرخ ش میں اورکائی لباونت فا رر ازعبادرت ہے٤‏ عالانکیہ بے وقنت عام ور پر ازعد 
رکون اور اعیدنان پش ہہوتا ےکی وک فضا بھی رات ٹیس سکون اورعا لم راحت یں ہوٹی 
ہے اور در شقولیات سے انسا عپچھ یآ زاد ہوتا ےء اگ رآ دبی عشا ‏ کی نماز کے بح رآ رام 
رن ا اش رن رت کے بح اھ جا ۓ لو می وف ت گی رکا سے اورای وت 
سوکر اش کی وجہ سےفل ب بھی از عدوساوں سے پاک ہوتا ای ون زی اور 
یکا وقت ہہوتا ہے۔ اگ راس وقت نماز اداکی جا فو اس وق کی نما عام اوقا کی 
نمازوںکی بخبدت زیادہ ای حالت ٹیں ادا ہوٹی ےہ یڑ حاات احسمالن کے ریب 
زیادہ ہوئی سے نیز دا تک نماز(مشنی تچ دکی )ن سکوازحد شا یگ رتی ے اس لیف سکی 
تہر رب میں تچ دکوزیادہ .۰ ہے ۔.ص این کال نما زجچچر ے او پھر استتغخفار اور ھا اگر 


۳٣۰ 


سی سے ہو بجر کہناء اَلّهُموََقَا ام الیل >آمین یا رب العلمین۔ 

قرآن مر میں بھی قیام می لکی فضیل تآلی ے خلا : طان نَاضَْنَةً اللّیْل هی 
اض وا و الوم یلا 4 بےشرک رات کےا نے بی دل اورز با نکا خو ب نیل ہہوتا ے 
اور بات نو گی تی ہے( تھا وی )یش را تک عبادت (نماز )ٹس دل اورز پان سے 
تورم اورش رات ش رن تا ےخو بحویک ٹین ول سے کا سے۔ ہنی ۰۷ئمھ) ہوی 
ہے اورز با نگل و لک تز جما می می مشقول ہوتا سے او رگو کہ عالم بیدارگی اور ہش کے 
ساتھدرٹٹ لھا نکی طرف انسالن متوجرر بتاے۔ 

ق رآ ن عم نے ایک دوسرے مقام پان الفاظ مس ان لوگو ںک یتر لی کی گے 
طتسجافی جُنوْبْهُمْ عَن المضاجع يَذْونَ رَبهم حَوفا و مَما چان کے ہا 
0 وت یل لوگوں کےسو نے ےکا خخاضص وفقت ہے ) خو اکا ہوں سے الگ رت ل٤‏ وہ 
انس وفت اینے پروردگار سے امیر ونم کے سا تج دع اکر تے ہیں آ گن ما امگمیاکرالن بتروں 
اك جوانعام اورصلہ جمنت میں لے والا ےجس میں ا نکی عمو ںکی مرک 
اراس ماع سے ا ںکوالشد کے سو اکوٹ یھ بیس چاہتا۔ (اجدۃ) 

ایک موب رآ تحضور ےکوی دکاعم دنین کے سات ھآ پک مقاممکموڈ کی امبیردلائی 
گی سےء مقاممود ام1 قرت میں اور نت میس بلندت بین مقام ہوگاء ا سآ بت سےمعلوم 
ہواکہ مق ممموداورنما تچ می سکوئی ات نبدت اوٹ٥لقی‏ ہے اس لیے جوامتی نما تیر سے 
شض رس مے انشا امام مود می کسی درج کی تضور بای رفا قت ا نکوصی نعمیب 
7 ۔ (معارف ار یث اخنضارأك ۳ص[٣۳۳)‏ 

بہرحال احادیث نی لا سے بہ بات ہالننل ہی وا سح ہوکٹی سے کرات کے تائی 
حصہ کے بحدین بل محدرہ انی فاص رجحمت واسعہ کے ساتحھسماء دنیا بر نازل بھوتے ہیں اور 
بندو کی طرف موجہ ہوتے ہیں اوران بندو لکی عاجت دواٹی ففرماتے ہیں۔ بے عد 
ول ذعییب ہیں وو ظرات جوااس نداء بای پر للیک کے ہیں اوراس وقت ج بک تام 


۳٣۱ 


عالمء ھا فلت ولوم میس ہہوتا ے برای کے سا تج عبادت اورتقن بل مد ہکی ج دشاٹش 
نول کے کین 

کر ےکا ککام ریہ ےک نزو لک یکیذیت پہ بت کے ہججاے اعمال صا کی طرف 
بی سے قدم ا ٹھامیںء اورشتین کے سا مزول رت ار ے وفت دل کے ورواژوں 
کوذا تو گی عنایات وبرکا نکی طرف ا لکروییں۔ وفتو! بج چزسس مک نک یککیں 
پل لقن کےساتق ہکیفیوتوں می ںحسو ںکرن کی ہیں ء ا نکلتلق وسدان وزوق بشوردآگی 
کے سانھ ہے ایمانیات ومقیفیا تکا جقنا زیادہ امام ہوگامخیبا تک برکا تکا مشابر ھا 
15 جاۓ گا۔ بیہاں زا نگوگی 7" 7بج2+ سے مرف ہوگاء آنکھ انی "٠‏ 
یرت - لت سے مکنار پوگی ء رآ پکونزو لی پچ نہیں کی و نکی 
کیفیت سے جو تلتی ے اس کےعصو لکی ہد جدہوگی ۔بھی اٹ ھکریھی دجیہلیس کیا 
ےہول کی ان سے ںو تا ال ارْقَنا بَرْذَ عَفُوک_ 

ای گی بھی اپنے لطف وکرم سے اس لوگو ںکی فہرست میس شا رفرمائۓ جج نکو 
آ و راب یکی لزت جیب ے۔ 

الله اجْعََ مِنهُمْ بفَصْلِک و بجَاہ نیک گا آمینء یارب العالمین. 


ےہ ٢‏ 7 
لیکو اسجمی ںکیا ہگ یا معیت رسول ولاک وکچھوڑک رکہاں چارے ہو 
)٥٤٤(‏ عن رفاعة الجھنیطللہ قال: اَل مَم رَسُوِ الله 8 عَمَی إِذَا کنا 
بالكدیٔد او قالَ بقَدِیْدِ فَجَعَل رِجَالُ مُا يَسمَأذُِونَ إِلی أليهمْ ادن لَهُمْ فَقَامَ رَسُوْلُ الله 
فَحَمة الله رَنّٰی عَلَيْه نم قال: 
”ما بَالْ رِتَالِ يَکُوْنْ ضٌِ الشُجَرَة ابی تَلی رَسُول اللَهِ٥ة‏ بس 
اھ یی ایق احر لم تر ند دک می القزم ِا اکا َال رَل :إه 
لی يَسْعَاوک بَغد هذا لَسَفِیْة. فحمة الله وَقَالَ جِیمَبْذِ: اَهْهَد عِند الله 


۰۲ 


وٹ عَبّذ يَهّهَد ان لا إِلهإِلَا الله وی رَسُولْ الله صِذفا مِن قَلبه لم يُسَدِه 
ِا ملک فی الْجِنةفال: قد وَعدَبِیْ رَبَیْ عَرَوَجَل ان بُذحِل من اتی 
مَبْعِْنَأَلَفَ لا حِسَابَ عَلَيْهم وا عذَابَ وَ اَی لَرْجُوأنْ لا يدعُْوْمَا تی 
تبَوٌَدُ وا نو ری جو و پوت 
الَْنَة. وَٴقَال: إِذَا مَضی نصف ضف الیل أَوْقَال: تَا الیل الله عَزََجَل ال 
اسَمَا الد فَيَقَوْلَ :ا أَسَالَ عَنْ عِبَادیٰ أَحَذا عَيِْیٰ. مَنْ دا يَسَتَغفِرُِیٔ 
فَغْفِر ا مَنْ دا الَّذٰیْ یذُغوُنی َسْتَجِیْب ل٥‏ مَنْ ذا الَّذٰیٰ مال اغطيَ؟ 
ختی يَتْفَجِرَ الصّبح “ [صحیح] (آخرجہ أحمدء ج: ٢ء‏ ص )۱٦:‏ 

(۹۰) 7ج : رفا نی دلہ سے روایت ےک یم لوک رسول الل اٹ کے 
ساتھ چلے جب ؟م لو ککدید با قدید بیس تےکہ یھ لوکوں نے رسول اوقد پٹ ےکم 
وایں جات ےکی اجازت ری ئ0 پچ ررسول الند جات 
کھڑے ہوئے۔ ال دی وش کی ادرف مایا :لوگو ںکوکیا بویا کہ درخ تکا وو حصہ چورسول 
ال ےنا کے قریب سے ال نکوناپند ےہ دوسریی جاخب کے متظابلمہ یش ل(جچقی ہہونا بی جا ہب ےکہ 
ھی الہ ےئانس جانب ہیں دہ جانبححبوب ہوتا اود دوسرئی جانب نان اورمحاللہ اک 
سے۔ مقصد یہ با نکرنا ےک معیت پحبت رسو لک وبچھو ہک راو یگ پاراورال وعیال لکی 
رف لوٹ ر ہے ہیں ۔لوگو ںکوکیا وکیا ہے ) اس با تک نکرقوم و جماعت می ںکوٹ کیل 
با جورونہر باہو (مشقی پوراہ رونے لگا )ای یس سے ای ک نحص ن ےکہا :اس کے بعداب 
جواجازتطل بر ےکا دہ نے وفوف بی ہوگا- 

رسول الیل خلا نے اتال یکی ح کی اوراس مو پرفرمایا: یس ائلد تا یکو حاضر 
جا نیک رگوابی دبتا ہہو یکلہ جولھی اس حال میں مر ےگا کہ اید تی کے سواکوئی متبود 
یں اور یس اللد تا یکا رسول ہوںء بے ول سےگوابہی دےء پچ راس بات برجم جائے تو 
0-7 


‌۰۳ 


اورائیدتھالیٰ نے ججھھ سے وعد کیا ےک میریی امت میں سے ستقر بنرارلوگو ںکوبخیر 
تی راب ضا ت کے پت بین ال خر ےگاا دنن مس کنا ہو نز نت ےار 
سن کن ون یہو سک کا جب مت کک بلحدادم سے کک ہہارے م وین پاپ ککھہاری 
مومضہ بیوئی اور بل سے پورگی نہک ردگی جاے ۔ اور رسول ایند پا نے فرمایا: را تکا جب 
آوعاحصمگز رجا جا ے پا دوتہائی <صہ وحن تل مد ہآسمان دنب نازل ہوتے ہیں اورارشاد 
بنا ے: مرگ ذات کے سوا میرے بنرے سےکوٹی دوسراء اعمالی کےمتتلق سوا لکیں 
کرس لتا۔ زی مس می ای بنروں کا اسب ہولء یاہوں مفقر کرووں چاہوں 
زادوء دوسرو ںکواس میں مداخ تکی اجاز تی ءنہ بیس یھ مک یی رکا عن ے) برا 
2.1 سے جچوجھ سے منرت اکن سے ا سکی مففرت کرو ںگا کون سے چو ہے سے 
دعائیں ماگا ے؟ بس ال سکی دعاو لکوقبو کرو ںگا۔کون سے جو جج سے سوا لکرتا ہے جن 
انس کےسوا لک پوراکروںگا۔ یہام کک یع لو ہوچالی ے۔(اخ,ر۶+/۱۷) 

آنری تماٹی حصہرات میل مزول رت 

٥٤٤ (‏ )عن ابن مسعودللہ ان رسول الله يٛ قال: 

کان ثلے لی الباقی يَقبط الله عَرٌرَجَل ْ۶ السُمَاءِ الأُنيَا تُمَ 
تَفْتَخ بَوَابُ السُمَاء تم يَيْسطیَدَۂُفَيَقوَلَ: مَلْ مِنْ سَائِل يُعُطی سُوْلَه : فلا 
َزَال کڈلک 7 َطلع الْفَجْر“ [صحیح] (أخ رجہ أحمد ج ۳/۵ءے2٣۳۲)‏ 

)٥۷۱(‏ 7 جم :حطرت عپرارڈد بین مسجو دید ے روایت ےک اید کے رسول 
پل نے فر مایا :جب را تکا آخریی تھائی تصہرہ جات ے ‏ عن ہل مد ہآسمان دنا رنزول 
مر ماتے ہیں اورآسا نکادرواز وکھول د تن ہیں ء پچ رابناوست مارک پچ یلادتنتے ہیں اور 
ارشادہوتاے : ےکوگی سوا لی جس کےسوا لکو پوراکیاجائےۓ؟ ہیآ وا زسکسل لگائی جاقی سے 
ہا لت کک یڑ لو چ رہوجالی ے۔ 


نزول واجلال پاری 
)٤(‏ عن نافع بن جبیرخڈہ عن آبيه عن النبیقّ قال: 
”نر الَۂ غَرٌوَجلَ فی غُلِلَبلة إِلی السُمَاء الدتَ فَبَُولَ : مَل مِنْ 
سابل َأطیَ ٠‏ مل بِن مُستَففرِفَأَعفرَلَه تی يَطلع الفَجْر“ _ 
۱ [صحیح] (آخرجهھ اأحمد ج ٥ص۸۱)‏ 
(۱٦۲)‏ یم : زا جن تیر لاہ اپنے واللد سے رواب تک تے ہی نک رسول 
الد چےاننے فرما یا ٹن ہل میدہ ہرشنب می س1آ سمان دنا بر نازل ہوتے ہیں اورارشا دفر مائے 
ہیں: ےکوی سواٹ یکہ ا سکا وال پورایاجاۓ ء ےکوی مغفر کیا طل ب گا رکہ ان لی 
مقر تکردی جا ۔ بیہا لم کک لو ہوجالی ے۔(۸۱/۳۶) 
نو رر نے وا تل ےکہاں میں 
)٣٤٤(‏ عن علی بن ابی طالبءہ ان رسول الله ٥ه‏ قال: 
”ولا أنْ اه شُقٌ غَلی اتی لَْمَرْنهُمْ بالسّوَاک عِنْة کُلَ صَلاة 
لت الیة اتی نل اشن َِنّهَِ مَطی لت اللَیِْ اون مَبَطَ الله 
سوہ شس دجہت 
الا سَابِلٌ؟فَيْعطی. الا د۱ع؟ قَْجَاب. الا مْنَذْفع؟ فَیْدْقَمْ فْنْفُم الا تَائِبْ 
مُستغفر فیغفر لَە. “ [حسن] (أنحرجہ البزار ج ۲۹۱/١‏ کشف الأستار) 
)١۳(‏ کا ری طقللہ .ن ا طااب ے روایت ے رسول ال" 
اگرمیریی مت پر دشوارنیس ہوتا فیس ہرفماز کے وقت مسوا کا ع مکرتا او نماز 
عخاءکوایک تھائی را تکک تا خی رکا مکرتااس یہہ جب ایک تھا یگ رجائی سے فو جن 
تجارک وتھاٹی انی اض رمتوں کے ساتھآسمان دنا برنازل ہوتے ہیں اور لو تچ رک 
تم تعالی آسمان دنا پر ہوتے ہیں اورارشادفرماتے ہیں :کہاں سے سوال کہ ا سکو عطا 
۰۵ 


کروں؟ ےکوکی دھا ما گے وا اکہ ا سکی دعا قجو لکمروں؟ ےکوکی سفارر لک نے وال کہ 
ا شفاعت دسفائل قول گمروں؟ ےکوٹی تو بہ کے ذر لوہ مخفرت اأے والاکہ ا کی 
مففر گول _(اترج بدار: /۷) 


ہے 0 دم ٹول سواۓ زاےا ونس وضو لے وااا 


)٤٤٤(‏ قال الطبرانی فی الأوسط: 
عن عثمان بن أبی العاص القفی لہ عن النبی فَلہٗ قال: 


تُفَحُ أَبُوَابْ السُماء ضف اللَیَلِ َیسَادِی مُسَادٍ: هَلُ مِنْ داع 
مُملِمْيَدغُو بد ٹحوۃ إِلا اسْتَجَابَ الله عَزََجْل لَه إِلا زَایّة تسُعی بِفَرْجھَا اؤْ 
عَشارا.“ [صحیح] (کما فی السلسلة الصحیحة ج )٠١2/۳‏ 

)٤۲۹٣(‏ رج : رت عمان بزن الی الما نشی فا سے روآییت ےک 
رسول الل ا نے فر مایا آ ھی رات کے وق تآسما نکا درواز دکھوا جا نا ے اورای کآواز 
لگا ے والا آواڑ و تا ےء ےکوی دھا کا اگے والاکہ ا ںکی دما تو لکی جا ۓ؟ ےکوٹی 
داٹیکع پھسیاا نے والا سوا یکا کے دا عکویردیا جا ئے؟ ےکوٹی ہے ٹین ٗیا نکہ 
ا لکی ب ےئ ویر بای دورکردی جاۓ ۔کوکی مسلمائن ال انیس جوا وقت دع اک رتا ہموگر 
الد تعالی ا سکی دعا ضرورقو لک تے ہیں سواۓ زامہعور تکہ جوا پنی ش مگاہ لیے کچری 
ےنا کے لیے پاظاا چگی وکس دو لے والا۔ (السلسلۃ الصحیحہ ۲ 

)٥٤٤(‏ عن عثمان بن أبی العاص لہ عن الىبیغة قال: 
سائل فََغطیَۂ؟ مَل مِنْ مُستغفر فَاغَفر لَهُ؟ “ [ضعیف] اد اسر رط 0٦‏ 

(۴۷۵) تھ جم : عثان بن ای العاص مل ردای تکرتے ہی ںکرسول اللد لا 


۳۹ 


. 
ہررات ای ک مین وقت برائشتعا یکا منادکیآواز لگا ا ے : ےکوکی دعا کا ما سے 
والااک ہا 7 دما ول رین ےکوی سوا یکا کا سوال پور رووں؟ ےکوٹی مقڈرے 

کا ما گے وا لاک ٹیس ا سکی مخظرتکمردول_ (اخجرام/ء۱٢)‏ 
وسحت رزقی سے تصول کا وت 
)٥٤٤٤ (‏ للطبرانی فی الکبیر عنه (عبادة بن الصامت): 
قال رسول الله ا : 
”نول رَبُنَاتبَارک وَ تَعَالی إِلَی السُمَاء الڈنَيا ین بی لٹ اللْلِ 
َيَقُوْلَ: اَل عَبْد مِنْ یِبَادِیٰ يَدُغُوْبِیْ فَأَمْمَجِيْبَ لَه؟ الا ظَالِمٌ لَِقِْدِ يَدْعُوْبَیُ 
٣‏ ۶ گ000 
يکُونْ کذالک تی یَضيَع الصُیٔخ لمعو جَلَ وَعَرٌ عَلی كرَىيّ“ 
[ضعیف] (کما فی مجمع الزوائد ج١١‏ ص١٥٥)‏ 
)٤۹۷۹(‏ 7 مر : عمبادہ من صامت لہ سے روایت ےء رسول الد لا نے 
ارشمادفرمایا:ہمارارب تبارک وتعالی جب را تکا ایک تھا ٹی حصہ بائی رہ جانا نے آسمان 
دنا پر نازل ہہوتاے اور ارشادفرماتا ے ۔ ظف ن2 ح2 
ارہ +و؟ بش ال سک مات ککوقبو کرو ںگا۔ ےکوٹ یناہ ومحصی تک کے اپینے جائن بہ 
تر والا؟ جو جج کو پکارر ا ہو بی اا سکی مففر کرو ںگاء ےکوی جم س کا رز قی تک 
ہو؟ ےکوکی ھ سے حدد جاتے وال کہ بیس ان کی پرسنانیوں اوریمھییبتو ںکو اس ے دور 
کمردوں؟ وا سمل لگاکی جانی ےتیک ہوجانی سے بن مل مد اٹ کسی برجوہ 
افروز ہوجاتے ہیں (ئح ازوگر٭/٣۵٥)‏ 


2 


نت مز نآ امو کا مقر وکعیمب سے 

(۷) لابن جریر وابن أبی حاتم ظلہ و الطبرانی وابن مردویة عنە(أبی 
الدرداء ظللہ): 
فی السَاعَة ذالازلی مِنهُن فی الکتاب الَذِیُ لا یَنظر فِيْ غَیْرَهُء فيْمَخُومَا يَشَاءُ 
یَثہ ثُم نر فی السَاقة الََّيَة جات عغذنء وَهیٗ مَسْكته الِیْ شک 
0 0 0ت 
اد وَلا عَطْر عَلی قَلب بَمْر تم نَهطٌ آججر سَاَوِ مَِ اللَيلِ فَيقَوْلَ 1 
مُْنَغْفِرْيَتتَفْفِرُتْیٗ؛ فَاغْفِرَلة الا سَائِلْ يَسَالیی؟ فَاغطِیة. الا داع 
یَدْخُوْبِیْ؟ فَاَمْمَجِيْبَ لە. عتی يَُلع الفَجْر و ذلکَ ره 

0 ِرّآنَ الْفَجْرٍ إِنْ قَآنَ الْفَجْر کان مَشْهُوذَا نہ رالاسراء: ۷۸) 

َيَنْهَدهُ الله وَمَلَاْكتْة الیل و الهَار “ 

[ضعیف] (کمافی کنزالعمال ج )٥٤٥٥۸/ ٢‏ 

رے۲۹) جم : ححطرت الودرداء اہ سے ردایت سے :عفن ہیل میرہ جب 
رات ےکی تن نی کید ارت می یف ارت کون و کی ات مین کرابت 
(اعمال )کی جا ب نظ رف مات ہیں ءج٘ سکوان کے علاوہکوک یی د بکھنا نو جس فر رجات 
ہیں منا دینے ہیں ادرہنس ف'رد جات ہیں رسکتتے ہیں ۔ پھر دوس ری سباععت میں جشت عدن 
گی جا ب لظرفرماتے ہیںء بای جفت سے جس میں انمیاء ‏ شگہداءہ اورص یقن کے سوا 
کوک یبھی ہیس ہوگاء برای جفت سے جس سک وی نے دریکھا اود نہب یعسی بش رک ےناب برااس 
یش تکاگمز رہواء بل رآخری ساعت می سجن تعالی اینے بندو سکیا جانب متوجہ ہوتے ہیں 
اورارشادشرماۓ ہیں : ےکوی مففر تکا ما گے وا اکہ ا سکی مخفرس کرد جائے ؟ سے 
2 والاکی میں ال کےسوا لکول راگ رووں؟ ےلوٹ بھھ سے دعامیں 


۳۰۸ 


ا کے وا لاہ ٹیں ا سی ‌‌'ع 0 بآ وا زع صاد کک لگاٹی جاٹی ے اورائ یکو 
ال تھا لی نے تق رآن مجید میں فر ابا (وَ فَُرْءَ انٗ الْفَجْرإِنٌ فُرْء ای الْفَجْر کان 
مضْقوذا ہیں الل اک اورفرشنے رات ود نک یاگوای د ہق ٹیں- 
رشتوں گے روز رع رکا خلاوت 

ن ‏ ک حنے فن ےے رنے غ اتارک 
ول قرآت ٹچ میں مطلوب سے۔(عمنی) 

وحصر کے وقت دن اوررات کے فرشتو ںکی پد ی ہوٹی ہے ران دوں 
ہقوں می ںیل ونہار کے فرشت کا اجشاح وتا سے نے جھارکی ق رت اورنماز ان کے روبرد ہوئی 
جوم ید بکات وس کا موجب ہے اوراس وقت او بر چانے وا نےف رت الد کے پاش شہادت 
دی گ ےک جب گے جب بھی ہم نے تیرے بندو ںکونماز پڑت دریکھا اور ج بآ ئے نب 
شی ءاس کے علاد و کے وفت و ںبھی 1 دی یکا ول حا ضر او رر ہنا ے۔ (عی) 

ما زحص وچ میں فرشتو ںکی رت وا تا 

نمازعص وچ میں فر من مع ہوتے ہیں نخس فرش انما نکی فاظت اور اس 
ےرا لی ےن رن لف اوت کے انآ عازن 
دونوں میں فرشتو ںی جح ہوٹی ٹیں رات کےفرشتے اپنا کا مت مک کے اورونع کے 
فرش ابنا کا سنا لے کے لے شع ہو جاے ہیںء ای طرح شا مک وحص رکی نماز میں 
دونوں جماصتی مع ہولی ہیں جھ باعث خروبرکت ے۔ 

اگ رم لوگ اس اسنتضار کے ساتح ان دونوں نمازوں یا جواعت میں شرک کر یں 
تو ضوع وضٹورع میں خوب اضافہ ہواور ہمارے لے سی کا سبب ہو- 

ماز ون آ دی رات میں مناسب سے 
٣٤ (‏ ) للطبرانی فی الکبیر عنە أبی الخطابہ: 


۰۰ 


َنَه سُيْل ابی ا عَن الونر قال: أُتْحبٌ ان اَوّترَ زضف اللَیْلِ؟ إِنٌ الله 
عَزٌرَجَلَ يَهبطٌ مِنَ السُمَاءِ الْعْليا لی السُمَاءِ انا فَيْقُوْلَ: 
”عَلْ مِنْ سَائلِ؟ هَلْ مِن مُسْتقهٍِ؟ هَلْ مِن 5اع؟ ختی إِذَا طَلَع الَْجْر 
تفع“ [ضعیف جدً] رکما فی الزوائد ج ٢ص‏ ۲۲۵) 
 ۴۸(‏ بج : الد ا لطاب تیادہ سے روامیت ےک اکھوں نے رسول اللہ پا 
سےسوا لکیا وت ےعلق .نو رسول الڈد پل نے فر مایا ہریغم پہن رکرو گ ےک ہو آ ھی رات 
بی اداکیاکرو۔ اس لی کت بل مج ہآ سان علیا ےآ سمالن دنا برنازل ہوتے ہیں اور 
2ئ لے ےکوکی سوا لکمر نے وا[ا؟ ےکوکی مخفرت طل بفکر نے وا[إا؟ ےکوٹی دم 
کرنے والا بیہا لک کک لو ہوجاقی سے بن تا یآسمان علیا بین فرما لیے ہیں ۔ 
(الزواکر۲۲۵/۲) 


۳+ 


باب : إِذّا تقَرّبَ الب مِنّیْ شِبُرًا -- 
باب :جب بندہ جج سے ایک پاش ت گی قریب ہہوتاے 
)٦٤(‏ عن أبی ھریرۃظلہ قال: ربما ذ کر النبی ہل قال: 
”اذا تَقَرّبَ الْعبْةُ مِنَيٰ شِبْرَا تقَرَبْتُ مِنَه ذرَاغَاء وَإِذَا تَقَرَب مِنَیٗ ذِرَاغًا 
قَربْث مِنَهبَاعا او ہوا“ صحیح] راخرجہ البخاری ج ۹ ص۱۹۲) 
بنلدہ جب اڈ ےر جیب پھوتا ےو اراس سے ز یا ددشرجیب بہوتا سے 
(۴۹۹) 2 جم : حضرت الہ یدلہ سے ردایت سے نی لان نے ارشادفرمایا: 
جب بندہ مھ سے ایک پا لشت ریب ہوا لے بی بندہ کے ایک پا توریب وتاہہوں اور 
بندہ جب ایک ات قر یب ہہوتا ےو میں اس سے ای کگمقریب ہوتا ہویں۔ 
(اخرجه البخاری ۹ ۱۹۲۸) 
شرب ومقی تتمہہاری ہمت کے لفزر 
) ۰) عن بی هریرۃ ظلہ عن ابی 8ل قال: 
”فَال اللَهُعَزَوَجَل إذا قرب عَبدِیٌ مِنَيْ شِبْرَا تَقَرَنْتُ مِنهُ ذرَاغَاء وَ 
ِا قرب نی ذِرَاغا َقَرَت من بَا --- أو بُوعَا۔- وَإِذا آتانی يَمُجٍی اتب 
هَوولَةٌ“ [صحیح] رأخرجہ مسلم ج ٣صے۹٢۰٥)‏ 
( ۹ے )تبحم : ححضرت ابو ہریرہ یلاہ سے روایت سے رسول الد لان نے فرمایا: 
ایک ذرا“غ(ہاتھ )خیب ہوتانہوں اور جب بندہ ایک پا توشر جیب ہہ وتا ے لو بی بندہ سے 


اس 


ای کگزقریب ہہوتاے اور جب بندہ میرے پاس پچ لکرآ تا ہے و میس بنلدہ کے پا دوڑ 
کرجا ہوں _(اخج“حم٣/ے۲۰۹)‏ 
آرزوءارادءجز بات ء ظا ہرد ہام ن کا اتھا ور بکی 
لی تین علاممت ے 

ری شرلی کی دوس کی روایت میں ےک میرابندہ می راتقر بب سی اور سے جو 
بے پپند ہوا تنا حا ص٥‏ لجھیںکرتا و و .7 کیا سے ۔کویا 1 
عضتتقرب کے لیےفرائس بی کا امام اب رآ اویل ہے ابا وش ارک فرلض ہو 
فان فان تن .1ے نز اھ فاك اسطامت لات 
وکیا تر ر7 مر را سک سے جن کے او یراملا مکی 
ذیاقیر ہوٹی ے اگر بستون مضبوط ہے قب رکشما سکشاں منصب ولایی تکی طرف قدم 
اھتاے۔ 
صاحبڑ جمائن النعۃ رحم ال تعال ی تن 

دوانسان کے درمیان مراصل عبت کرت ےکمرتے بسا اوقات اے اشرات نظر 
نے صگت ہس تنھیں ای اجھ یف بھی دک برانداز ہکر لیا ےک بضرور ان دوجنتھوں 
می سکوئی ایی جاثردمخلوبی تالق ہے جس نے ان کے نھاہ یھی رکرلیاہے۔ دود ھا سے 
کلقست وبرخغاست کے اوضاع واطوار ےگ رک ران کے خط وخمال بی بھی صفت چم گی 
پیا ہوئی سے ج بآرزو کے اتحادہارادہ کے اتحادہ جنر بات کے اتحاد کے سائتق اہ رکا اتاد 
کر للا ےن اس اتھادکی جج تر جمالی کے لے لفظط اتاد کےسواکوئی دوس الف نیس ملتا۔ 

من تے شدم تق من شمدری من شن شدم نز جاں شری 
ناس نہ گوید بعد ازیں مین دگرم نو دیکری 


۳۰٣ 


ما الخل لا من أودٗ بقلبه 
و اریٰ بطرف لا یری بسوائه 

فاری عر بی کےشعراء نےآخایحب تک ادا گی کے لیے جس ما س بت رکا تاب 
کیا و٭لفظ اتاد ےگم ان الفاظطظ سے پیا لک یکویی بیشبہ پیش ہہوتاکہاس اتحادکی 
وجہ سےا نک گی اشنیبیہباقی نی رہق ء پھر ج ب لوق کے دائر ہیس ان الفاظط سے ہیی 
بوئی انی پیدانٹیس ہہولی نو خالقی اورخلوقی کے درمیا نی ری نوس سےحتقیر کی خاطا 
می کیوں پیرا ہوجاٹی ے بلاشبہ جب ایک ہنادہ راوکبد بیت برگازن ہوتا ے اورف انل و 
نوائل کےسبب مزو میاز کے دم اٹھاتا چلا جانا سے نذ ہہ انداز وکرنا مضسش ل یں ےک ہاب 
اس کے ظاہرہ با نکوسلطان الوبیت نے اورا ورام لک رلیا سے۔ اگمر ووسنتا ےل ودی سا 
سے جے اللہ تھالی نے سن ےکا اداد ہکیا ےء اکم دبکھنا سے نے ودی دجکھنا سے اور بولتا سے جس 
کی ال ںکواجازت دئیگئی سے۔اگر وہ اپنا بات ىا قدم اٹھا تا ہے و میں انٹھا تا سے جہاں اس 
کے موی نے اس کے لیے اٹھانا ہن کیا ے اس کے سوا شددہ یچجوستتا ند بنا سے شاو رکوکی 
لی پش سک رتا ےن اس ربامحبت کے اظہار کے لیے لا محالہ ودتی الف ظط اختیارکر نے اتے 
ہیں جواس موںع مل کے لے مانویس ہیں پچھر٘س طرح وہاں ان الما اک اکھا ہوا مطلب 
صرف اس رش ۃیعحب تکی تز جمالی ہے ای طرح بیہا بھی ان الفاظاکھلا ہوا مطلب بجی 
ےکہاب بفدہ وادکی محبت ٹ ےکر ہوا ان ممول کی رضا لیم می فنا ہو کا سے اور اوامم 
شیج تکا اس رح مت ومنقاد وکیا ہے جیلی ماک ایک شا تس تکھوڑا ان سوار کے اشمارات 
کاء نہ سکھوڑ ےک یس وتکت ای سے شراس بن ہیل وترکمت ایا ین میں نو 
دہ رتا اور 7کس تکرتا ے او رتقیقت میں ا لک ینس وق کت اس کے ما کک ب کیا سے 
اس کے جوا رب اوراس کے ارادہ کے مظا ہر نے ہو ہیں ء ج ب فو کی قوت ارادگی 
اں درج تا ہوجالی ےکا کا عکلت وسکون دوسرے کے ارادہ ینا ہوجات لو پھر 
ا ںکاعم ای صاحب ارادہ کے تائع ہوجاتا سے ۔کتا جیا خریت جا فو رکم ہوکرجب ابی 


۳۳ 


قوت ارادہ کرد یاے اود بمہڑن اپنے مال گکیا رضا کے تائع ہو جا ا ء نے ش رلجعت نے 
7- کے جوارع کاپ ناوک ی عم باقی میں رکھا۔ بللہ جو اس کے ما کا مم سے ا کا بھی 
دیجم رکددیا ہے۔ اس لیے اگ کا مسلما نکیا سے ا کا شک رعلال ے اور اگ راف رکا سے 
فو ا سکیا شکارترام ے ال کا مطلب ہیر ےکمہاس درجہ فنائیت کے بعداب شکار اس سس کا 
سے کپ ی کی٤‏ بللمہااس کے ما لی کا ےء اگ وومسلرمان تھا نڈ بجی علال ای رح جب 
نرہ اۓ اراوا یکو فی اکر و تا سے کو رہ اطلاتی درست ہوجاتا 9 8" واھم 
مشببت ابیز دک یکا مظبرین ئے ہی ںآپ نے دریکھاکہ فا ارادہ کے اس مرعلہ بہت کرس 
رای کگکتااپنے مان ککاعلم اخقنیا رک لیا سے مر جب ایک انساان ش لیج تک متا بعد تکی 
ہجاۓ اس گرا گنا ےن بچھرا کا عم جاور سے بدتر ہوجاتا ہے۔ 

ال مو نکو یہاں پادیی ایاط سے ادا ک اگ اس اوراسی لیے یکڑیش رای کہ 
نت ہوانا“ ملک اتتحادذا تک بجاۓ صرف اس کے ان ظاہرکی حوا کا ذک رک یامگیا 
سے جواس کے افعالی کے لیے حرک نے ہیںہ جہا کور ویر ہہ سے معلوم ہو کا سے 
دودیہ ےک ہش اعت شی میاز داستعارہکی دو سب شا تس تیتخیبرات جا ئے رک اگئی ہیں ء جوعر بی 
زان شی کسی ماطڈھ یکا مو جب نہ ہوںء اورش نتحیبرات دمیازات سےکوئی لی ابہا بھی 
درا متا تھاانع سےتمام تر ات را زک یاگیاے .۔(ت جمان ال.× ج/۲۳۷ )۳٣۵‏ 

روہ سا رہھٹ نز کی رمارےز(یاد نز 

)٣۷(‏ حدثا أبوھریرۃظلہ عن رسول الله غلؤفذ کر أحادیث منھا: 

وقال رسول الله ا : 

٣إ‏ الله قَالَ : إِذَا تَلَقَيِیْ عَبِْیْ بشِبْر تَلقينة بدِرَاع وَإِذَا تَلقَانِیْ 

[صحیح] (أخرجه مسلم ج ٤‏ ص )۲۰٢٠٢‏ 
(اے٥)‏ نت جم : حضرت الوہ ریہ حلاہ سے روابیت ےک رسول الد چان 
۳۴۳ 


فرمایا :من تھالی نے فرمایا: جب مرا بندہ مھ سے سے کے لیے یک پاش تآ ا ہے نو میں 
ا لکی طرف ایک ہاتھ چچلما ہوں اور جب بتھ سے ایک ات وقریب ہہوتا سے لو میں فدہ کے 
ای کگمزقریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ای کگز بج سے قریب ہہوتا فو میں بندہ کے یا 
بنروکی رفارےزیادہتزآجا ہوں_(۶۸۷/۴) 
رحتت نکی تزرماری 

)۷٤(‏ عن انس ظلہ عن النبی ٭ةِ برویه عن ربە قال: 

إِذَا قرب اعد ِليَ برا تقربت إِلَيه را ء و إِذَا تَقرَب مِنَی ِرَاغَا 
تقَربْت ِنبا ء وَإِذَا تَا يَمْجٍی اه هَرُوَلَة “ 

۱ [صحیح] (أخرجه البخاری ج ۹ ص۱۹۱) 

(۳٥)مٴ‏ بج مہ :رت الس الہ سے روایت ےک رسول اللہ لان نے فرمیا: 
جن ہل مد ہد نے فرمایا: ”جب مبرابندہ جھ سے ایک پالشت ث یب ہہوتا ہ ےا بیس اپیتے بندے 
کی رف ایک ات قر یب ہتاہوںء جب دہ ایک بات قریب ہوتا ےو میس ای کگمزقریب 
ہنا ہوں اورجب دوج لکرقدم ند مآ تا ہے میس دوڑکراپنے بندے کے ٴا ہوں۔- 

و 

اس حریث میں خالقی وفلوقء بندہ وستبوداورقادر وعاجز کے درمیا نککاٴل ریا اور 
انت ق کا انظہار ے جوایک می نکواپنے رب سے ہوتا ہے۔انسای فطر تکو جو زات 
کین وطماحبیت کی سے اورمزن وطلا لکوقرارکی ‪0 سے ودای 
بل مدکی ذات ہے سفن یل مجدہ اپنے بنلدوں سے بے حدق ری ب کیہ بللہاقرب ت بین 
سے یندہ جب عبادت واطاعح تکی راہ ایا رکرتا نے طن بل مد وق ر بک منزریاس لے 
مرن ت2 ے۔ درتقیقت رب کا رس ےفکراو تا بعیں بل رہ فا 
جانب اپٹی رقتوں سےقریب ے اگر بعد ےو بنلدہکی طرف سے سے سن دکیتق تال یکی 
جانب سے۔ اناجب انسان اس بح دکودو کنا جا تا ےو عق بل مد و خیب سے ال لک 

۵ 


دس ت گی فرماتے یں انل طر ںکمہہ مس مر باب اور بُحد ودوری عہادت و اطاعت 
ےت مکرتا جانا ہے۔عن تعالی اس سے دوگنا زیادہُع دکوٹ مکرد ینا ہے ۔الغر مجن بل 
مجر وکی ذات بن ہکو ہروفت ای آع!وش رحمعت میں ل ےکر ریب سے اقرب دکھنا جاہقی 
ا9 ھ.+.: ء یقول عا ما شال : 
ھم ‏ ٹا کر ہیں کوئی سکل ہی نہیں 
راہ دکھلائگیں سے رہرو متزل ہی نہیں 

قرب ال یکی لت جا ےن کسی اللد وا ل کی صحبت میں ٹیٹھے اور وجدالی وذ وق 
ور یر اس طحمتِ ابمال یکو دیدرۃ باطن می ںحسوں کتیییے۔ الفاظط منز لکی نشا ندب یکرت ہیں۔ 
منز لکی طرف قدم اُٹھا ہے اورلز تقر بکوکیفیت احمالی می نحسوں ےچ او رک وْنُوْا مَمٌ 
لاق کےەصداق من جايۓے ۔اَِلهُم ارژقن خُبَکَ وَقُريَک بِفَصْلِکَ العَظْم 
پا ذا الفضلِ الْعَظِیْم. 

تن نعالی بندہکوکب دل میں بادکرتے ہیں 

)٣۷٤(‏ عن اُنس شللہ قال : قال رسول اللَهگلا: 

”فان الله :ا بن آقم ا إِنْ ذُكرتیىْ فی فک دُگرتک فِی تَفسی, 
وَإِنْ ذَكويی فی مَلا٤َكرنَک‏ فی ما من الملاْكة او فی مَاً, یر ِنهُم و 
انرم ی نے و َنَوتُ مِنُک وِرَائاء وَإِنْ دَنَوتَ نی ذَِاعَا دَنوتُ 
ملک بَائا وَإن اَی تَمْٹِیٔ ايک اُمَرْولَ. َال فَعَاذَةفَاللَهُ عَرَوَجَل 
ُسْرَعٌ بِالْمَغفِرَة “ [صحیح](آخرجہ أحمد ج ٣ص‏ ۱۳۸) 

(۳ےہ) رج ضر اس طرے امت ےک رعول الد اتا ے 
فرمایا ےم جل میدرہ نے فرمایا: ا ےآ د مکی اولا دا جب نو جم وکوول بیس یا دکرتا سے نو می بھی 
کول میں بادکرتا ہوں اور جب ٹ کسی شع میس جج کو بادکرتا سے و میں فرشتتوں کے مع 
یش بارکرتا ہوں۔ ما جیرے جع سے رجگ (مقرہیں پارگاہء حامیشن عرش ملاک ٹس 


۳٦ 


ازک تا ہوں۔ اگ رت میریی رف ایک پالشت قرجب ہوتا ہے نو بیس تیرکی طرف ایک ہاتھ 
شریب ہوتا و اور راک ات ٹیب ہوتا ےن میس ای کگ۰ قرب ہوتا رن او ر7 
لک رآ ما ےو میں دو ڑک رآ ا ہوں_ 

حطضرت فا و کت ہس :الیندعزوی لکی جانب ے مففرت ببہت تج زی ےج 
بنلد ہکی جا بآکپی ے۔(اخا۷۸/۳۶) 


“۱ >کھ 


باب : مَنْ جَاءَ الَْسَنَة قَلَهُ عَشُْأَمقَالِهَا ر زی و 
باب :نہ برصنا تکامعاطہ 

: عن آبی ذر لہ قال: : قال رسول الله لا‎ )٣۷٤( 

”َقُوْلَ الله عَرََجَل : مَنْ جَاءَبِالَْسََةقله شر َمَاِهَاء وَاَزیْک وَمَنْ 
جا بالستّة 3 فَجَزاوۂ مه واغفرُ وَمَنْ قرب نی شِبْرَا تقرَنْتْ مِنۂ 
فِرَاُاء وَمَنْ تَقَرّبَ می ذِرَاغُا تَقَرَبَثُ مِنة بَاغاء و مَنْ اتائیٰ بَمَشِی ایت 
َرُوَلَةَءومَْ اَی ِقرَاب الارضِ عَطِيَة لا يشْرِکٔ بی فَيَْالَقَنّة مه 
مَفْرَةَ :“ [صحیح] (آخرجہ مسلم ج ‏ ص۸٠۲۰)‏ 

الیک پروں 

(۴۴)تھ جم : حرت ابوزر خلاہ سے روابیت ےک رسول الد پگ نے فرمایا: 

مخ بج مد دخ اتا ے: جو ایک مگ یکر کے لا ےگا ف2 اس کے لیے گنا اور 
دی ےکم وا اون اک مدکی دنا :کک ےآ ےگا تو ای کے ےلین ان فی۔ 
ا متا فگچگ یکردوں اور جو جھ سے ایک پالشت قریب ہہوتا سے و بیس اس سے ایک پاتھ 
شریب ہوتا ہوں اور جرھ سے ایک بات قریب ہھوتاسے نو می ںای کگز قریب ہوتا ہروں 
اوج جج ویک تل لک رآ ا سے فو میں ا سکی طرف دوڑک رآ ا ہوں اور جو یھ سے اس حال میں 
نے کی ےت کے کن اتی ون مکنا ک پر 


ۓ۳۱ 


مققرت ورت کےسا تج اس سےملو لگا _ (اخر حیلم )٣۰٠۸/7_‏ 
سکی رححت خی رقنای ہداس کے انعا ما تکی انبا ء ھی نہہونا جا بے 

تنا تک ا ںتفعی فک ابتداءال وفت ہوٹی سے جب ایمان واسلام ےگ ر 
کرصفت احمائن ٹل قق رم رکھاجاۓ ۔حافظائن رج بپت٣فرماتے‏ ہی ںک ایک مکی برا کا 
و گنا ملنا ذ اس امت کیج یس عام ضائبطہ سے نان ال دی رجمت اپنا ددداز و اس حد بر 
0۰ بللرسمات سو اورائل ےگیھی زیادہ سی ے تی عیب 
جیے جیے صفخت احما ن کال ہہوثی جا ۓےگی ء لتنی عبادت میس جنتنا خلو اور ان تا ی کی 
رزیت کا نا نقصور طااب ہوتا جا ۓےگاء انف تی ایک نی یکا ٹذاب بڑعتاجا گا ای طرح 
بحض وف خورگ لی ئ۶ وس۳ھ090ہ بروشت اصماس سکرنا ھی می 
کو بے شارخیکیاں ہناد یتاہے۔ ام نج سے لے پچھاگ اک تب ذی لآ بیت تو عا ملمانوں 
اسکوا۔ کا زی گنا لگا _ 

کیم ہاج ی نکی لس ےکی ضابیط ے۔ انمہوں نے جواب دیاکہاس سے اور زیادہ 
قذابء اور یآ یت طاو تفر ا یپا اِنْ تک حَسَنَةً يضَاعِفھَا وَ یت مِنْ دن 
اجْرًا عَظِيْمَاگ اک کی ہو اسکو ہو اتا ہے۔اوراپے پا ے الاب دیتاے۔ 

الا مر ر7 نیہ سے روایہت ےک الد تھا ی ایک بھی نا اک ٹیکیا ںکبھی کیہ د تا 
ہے جیما لہآیت ا ام ےکم وہ . ال ے 7ا اب اورٹی دتا نے کو اب 
سو چوکہ اس نذا بکاانداز وکو نکر سا ے؟ (جامح العلوم وھک ۲۵۵) 

بہرعال تو ںک یتخعیف اورزیادٹی کا ضابطرسات سوگنہ بر اکر یتم نیس ہوتاء 
اں گج یکہیں اویپر پچتا ے۔ بلک جن سک رجمت خی رقناچی ہو ء اس کے انعاما تک 
انا ھی نہ ہونا جا ےلان اود تال کی علی الاب دادووئش اسلام کے اس ایی مرتبہ 
ے تروع ہوٹی سے ٛ سک نام احسمان رکھا کیا ے۔( مان ال تہ ۱6 كص۵۲۱) 

۳۸ 


اتا یکی ببیت وکظمت س گناہ مچھوڑ نا کی سے 
)٣۷٥(‏ عن أبی ذرظلہ قال: قال رسول اللَٰهَة: 
”يَقُوْلْ الله عَرّوَجْل : اِبْنَ آدمَ ! إِی دَنوّت مِنیْ فِبْرا دَنَوْث لک 
ذرَامَاءو إِنْ دَنَوْتَ مِنّیْ ذِرَامًا دَنَرّثُ منک بَاعًا. اِبْنَ آدمْ! إِنْ عَلُنْتَ 
عَملَتھَا 27 مت وَاحلَةٌ “ [صحیح] (أخرجہ الحاکم فی المستد رک :۳ ػ:۲۳۹) 
0ہ )جم : حرت او رطل سے روابیت ےک رسول الد تا نے رمایا: 
جن جل مروف ما نا ے :ای نآ دم !اگ رن ہھ سے ایک پالشت قرجب ہوتا سے و می تم 
سے اک ات قریب ہوتا و ۔ جو جھ سے ایک بات ھقریب ہہوتاسے میں اس سے ای کگمز 
قریب ہوا ہوں۔ ا ےآ دم کے بے !ارذ ول ہی ول میں می یکاارادہکرتا ہے او نہیں 
کرت ف بھی میں تیرے لے ایک مک یھ لیا ہوں اور جب نے ارادہ کے بعد جک یکر لیت سے 
“0 ٣ك‏ شا نت سے اور برا کو می رب یعظمت 
دویت ےی کرت ف بھی می ایک من یککیھ لا ہوں اور اگروہ بر یکربھی تنا سے پچ ایک 
مناوکاہتتاہوں _ (اشرز ال امن اصع رگ۷/۳٢٣)‏ 
شراب الارش خطایا 
)٦۷٤(‏ عن ابی ذرظلہ قال: قال رسول الله ہلا : 
07 ی٤")+‏ ٹ 7۷ھ700۷ 
وَمَیْقَعٌ بکَسَت اَم مه كَتبِث لدُعَسنة من مم ول َفملَ لم 
کب عَليْهِ شی وَمَنْ َقوَبَ مِنیٗ شِبْرَا تقَرَبْتَ مِن وِرَاغا و مَنْ تقَرَب مِنیٔ 


جس 


ذرَاغًا تقَرَبْت مِنهُ بباھا.“ [صحیح] (أخرجہ الطیالسی فی مسندہ ص٢۹/٣٦٥)‏ 
(۴۷) تر بج مہ : حضرت ابوذر دلاہ سے ردایت سے رسول الد پگ نے فرمایا: 
,0,۸ نے فرماما: اک تھی پیل ٹذاب اورایک بری برای ک گناہ 

ران کک کر کا ر ےر یی تس کنا ےت نز ےک از 

شر کک يکیاہہوگا نو ٹیس اس کےگناہ کے برابراو رگمناہ کے بر رمفضرت کے سا تھ بنلدہ سے 
یو ںو نک کک ےرا ایی کی نا اتی ا سک کک 

4587۶56 ٘ى پ ہہ سے اودو ہنی جا مہ شردے سکا و ٹیس پاجڑاگھی 

گنا وی ںکن ہہوںل اور جو مجھھ سے ایک پاشت ھریب ہہوتا ےک ہیں اس کے ایک باتھ 

ریب ہوتا ہوں اورج مھ سے ایک بات قریب ہہوتا سے میں اس کے ای گر جیب بوتا 

ہہوں- (ا رم الطیا ی۷+/۷۰+م) 

ترک ماص یکا ابر و اب 
اس روایت سے معلوم ہوتا ےکرعم محصیت کے بد اس پیل تکرنے پرئی 
صعرف اس صورت م راکھی انی سے ج بک اس محصیت کا زدکرناعی تال کےخوف نی 
رس نت اتک مرف یت نی تی ا وت نت 
بنا یر زغکن ےن لکئی نو ا اس کی صورت یں صرف ت زرل محصیت کہ7 حنزار 

میں ہوا ے۔ 
کچ سکم میس اسرا مکی ایک روایت سے معلوم ہوتا ےک ایک مکی بر ںگنا سی ےکا 

ضااطہ ا ن تح ٗی اندامات مل داقل سے جوممرا نکی ہم اسرارشب مم سآپ ا کے 

یئ ےہ بہرحال جس ام تکوشمل مت میں فمام امتوں ہر فالتی بنانا منظور تھا ان کی 
صورت بچی ہکن یکہاس ےنا ل٠ل‏ کے لے تع فکا شابطہ شش خحکردیاجاے :اہ 
اس جد یدقانون کے تحت اس کےکھوڑے ےم لبھی دوسرکی امتوںل کے طول مدنذں کے 
مل سے بڑھ جائیں ۔اوراس چیرایہ ےش لکی بازی جس ام تکو جای مفلورھی وہ حیت 


۴ 


بھی جاے اورئمانون عدل پل دوفو ںا اقنشا جھی پوراہوجاۓ۔ 

اس عدبیث مل نی ئیک یابدکا مکوشی جامہ پہنانے یااراد کر ن ےکی چیا رصورتیں 
اور ہیں: 

)0( ٴ٦‏ ص0۰۷۲ 

2 یکاصرف اداد وکرن اوراس بل تکرنا۔ 

(۳) بد یکا اراد ہک کے اس پش لپھ یک رمیا جائۓ۔ 

(۴) بدک یکا صرف اراد ہک نا اراس پیل شدکرنا- 

ال رح بی چا رصو رٹ بن انی ہیں ء کی صورت یٹ ایک کی ؤ کمن سات و 
گے اور راہب اغلاکش کے اظتبار سے شا کی عد بندیی ےھ بے خیاز ہوجالی ےء 
دوسربی صورت میں صرف ارادہ پہ پور ایک مک یککعدری جائی سےملیکن بدکیکاعم بیس 
ےچ .7وج و نا سم ےکھت کر 
بد کے جیا ا کک اکھی انی ے۔ 

(اشل بدکرنے کے بعد اک پدی اورارادز ۰ 0 
ے۔َه هُوَالَْقُوْرالرَِّیْمْ) 

امن حراال تو ےمم رایت یس حد بیتث ضس کے ہے ”نے “ کا لفظ 
مردی کے٤‏ اں سے موم بہوتا ے کہ ہا ی صرف خطرہ کا رھ مراوئیں للہاراد ہکا وەمد 
راد ہے جس کے بعدیل کے لیے دل می سککر پیداہوجاۓے ۔ا یکا نام ”نم“ سے۔ 

خریم بن اتک کے الغا با ےبھی می معلوم بہوتا ےک ۷ ہاں عمزم مراد ےصرف 
وسوس وخیال مرا یں - مَیْ هَمٌ بِحَسََةقَلم عم عم اللهنة قد اَفْعر 
قَلَبَه وَحَرص عَلَيْهَا كَتبٔتُ لَهُ حَسَنة کی کی کا اھ ہے 
بات اہم تگردئ کہ ال ںکا جرابرا حا کرد ہاے اود سکیل میں لانے کے لیے 7و 
ہے پچھراس مرپل کے بح دجھی اگمرا کون ہکیا نذ بے شک اس کے نے ایک من یکو دی جاتے 


۳۲ 


گی۔صرفحت کے ارادہ ایآ نی کیے جانے میں کو یتیل ہیں 0 
ارادہکر گے کے بعد ت کر نے پر ایک تہ لے برندرے نمی لکی حاجت یی 
موائ رہ ے ورود 

عزم علی المعصیة 9ص وو سے ہرجح ا خغاف وا چزاء 
ہھ بیہاں زس پٹ بی یں رین ھکھاا ہواکفرے۔ ۱ 

اس طرع ووصور بھی زی پج ٹیس سے جہاں ای کش صرف انی خوان نخس 
کی بنا یی محصبی تکا عمز کر لا ےمان اس کے بعد اللد کےخوف سے وہ اس محصیت 
کا رکا ب کی ںکرتا ہا ںچھی بلاشبہراں اث ...202 وجہ سے ایک ح کا اب ملنا 
چا ہیے۔جی اکرصورت کور میس اگرترک محصب تکا داع تو کا خوف پان ریا کاری 
ہون اس سے مواغزہ ہونا ا نو رطلب صصور تصرف بر ےک ای کح عزممکر لیے کے 
بعر خود ہو داۓ اراوم ہیں ست پڑ جانا سے اوراںل 0, ھ2 ا ےویت بی ہیں 
نی ۔کیا ا سک صرف رز بھی محصیت شر ہوگا۔ اج بک لک عدکک با یمیس تو 
محاف ہوجان ۓگ ۶8۳ ار ومح یی نک قاروبہ ےکہ کہ اس ۓ پنتدارادہکرلیا 
خھااس لیے اس سے مواغز و ہوگاگو رہ مواشد و خوداس محصبیت کے مواخغز ہ سے پلک رے۔ 

ابن ا سارک نے سغیان ری سے ور یافف تکیا کیا آ دی کے ارادہ بھی مواخز و ہوتا 
ہے؟ فرمایا:ہاں !اجب پفت ہوجا ۓگاء امام شاف اوران حامدًاس طرف ہی ںکمصرف ۶م 
پرکوئی مواغز ہیں 5 جب م کفکہ ا ںکو منہ سے شہ کا لے ار ٍ‌ دارۓ یلام 
صل نماض کےارادومیس ہے جج ن کا جوارحع کے سراتھ ہو شا چورییءزنامظراب 
خوربیء وغیبرہ رہ گے وہ اعمال ج نکواعمال قلبی کہا جا ے جیےکفرء دہ جن برای اءرسا لی 
ویر جال جوار کا سوال بی یں نو یہاں بلا تد وصرفعزم جیکنیس بکنہ ندم“ پرچھی 
موا یز ہ ہہوگا فقہاء تین اورامام شا کے درمیان زمراختا فشنن ا ببھ تن ے۔ 

ہعارے نز ویک حافظط این رج بک یافصیل بیہاں بت دل یلب ہے ان کے جیان 

۳٣'٣۳ 


کا خلاصہ یہ ےک اگر ای کخخ کسی محصی تکا بی ہی مرتبہ اداد ہکرتا سے بڑنی بھی اس 
افرمای کی اتی ھٹیس اسےنوبت ب یی ںآ ک یھی فذ بی مت زم پرانس سےمواغذ ون 
ہوا ےکن اگ وہ اس محصی تکا ذا کیج پکیلے کہ چکاےء اور اب پچ ران سکیا عمز مکرد ہا 
0 9 0 کیو ںک راب ا صرفع زم ٹک 
اسنا لہ یراصرا رک یتحریف می ںآ جانا ہے۔ بقائل افخماف ہیں جیا کہ دہش جوعمزم 
کے بحراپی جانب سے اکنل کےتمام مق مات پور ےکر ہکا ہو یچ رآ سای اسباب ا لیے 
0ھ ۰ی ۶ ۹ 0 
کی بنا یر مرو ری ںکہا - ئ۹ 292 ےآ و بآ ے 
قائل ومقتول کے لے پٹ مکی دعید بیان فرماٹی نوسانتین نے بیو اہ بے جارا مقتول 
اپے بھائی کےکش لکمرن ےک یکر می ںانک ربا تھاء یہ دوس رک بات ےک نی بب ے وہ 
کامیاب نہ ہو کا ا کا مطلب پیگی ںکہقائل ومقتو لگمناہ بیس دونوں برابر ہوجائیں گے 
ظاہر ےک ہرقات لکا جم شد ید ہے ائ سکوسزابھی شد بد کی بل ہمتقصمد ىہ ےک پورے 
عزم کے بعدٹل کے لیے قد مکھی اُٹھا چکاے اکر چی سب سےکامیاب نہ ہو کا لین 
وہ انی اس غیبرانختیارکی ناککا ھی سے این اس اغخقیا ری عزم اور کو پوداکرنے کے اغخقیار 
کی کے جرم سے بریکئیں ہو تا 
خلاصہ بی ےک جس ط رح عزم کے بعدشٹل کے لیے سی یکنا ئل مواغز ہوسا 
ہے ائی طر حکسی محصمیت کے ارہکتاب کے بعد ا سکا پچ راراد ہکرنا بھی مقا بل مواخیز و ہونا 
جا ہے .کیو ںکراب بیجن زم بائی نیش دبا بی لکی ابا یکڑی مھا جا ۓگا۔ اکر چہ 
ی ہی بعیرجی ہوصرفعزم پرمواغز ؛گونامنا سب معلوم بہوتا ےگمر دامع در ہنا جا بے 
00و 1/00 ر/د/یسشرہ' 7 
چھوڑ دیاجاۓ اورائس کےعمزم بس یا کا اکنٹرول تام نررکھا جا ۓ فو اس کے بحدمتاضی 


۳۲۰۳۴ 


وفانشی سےا سکور وکنا ببہت مکل بللہ بے نت ہوگاء ابا اگ رآ پ صصرف عم پرمواغخ کی 
شحل رتو رکررے ہیں فو اس شکل میں پھر ذراخور یی ےک ہام 0 س2۶ 
تر سے بد گناہ یف٠‏ چورگیء زناء شراب خوری کا پودا پوراعمز ممکرنے کے بح دبھی 
ان لئ موا کن وت الا درا ان اما لکی ات رع کے 
متراوف نہ ہوگاء اراد ہکا بی درجیٹل سے بہت بی قریب ‏ ےکیا اس مریتہ سے اخماض اور 
ووسرے پالئل تعمل نتطہ برمواخذ وکنا انی توف کے منا سب ہوگا ۔ وہ اعم 
(7 مان ال )۵۳٥/‏ 
باب : یا لِْنَ آ٥م‏ ! ُع إِلِی اش إِلَیُک - 
باب: آم کے بب !ان ھکھٹرا ہوہ میس تچ لک رآ ںکا 

(۷) عن شری ح ال : سمعت رجلا من أصحاب النبی ه یقول : قال 
النبی ئا : 

”َال الله َعَالٰی: یا ابْنَ آفَمَ!قُمْإِلی اُمُش إِلبْک ء و امش إِلَي أمَرُوِلَ 
إِلَيْک.“ [صحیح] (أخرجه أحمدج ۳ ص۷۸٥)‏ 

الہ یا کک طرف متووج ہوا 

(ےے۴) ت جم : شرآن گہاک می چان کے اصحاب میں سےای کک کت ہو نۓئ 
من اکہآپ ا نے فرماا اض بل مرو نے فرمایا: ا ےآد مکی ادا دا می ری رف متوج ہہ چا مل 
ت بی طرف یچ لک رآ ںکااور جب ےم لک۷ رآ ت ےکا نو میں دوک رآ کو ںگا_ 

فا نرہ : اس حعدیت میس من بل مجدہ نے اپنے بندو ںکوا تی عباد تکی طرف 
موجہ ہو نے کے دلا یٰ ےء وہ ایئی ٠٥ت‏ ے بثرول کس فقررنوازتا سر ور 
بنا رہا ےک تت ہار یکھوڑ یىی نوج پہمارگی رم تکا اط متوج ہو جا ی کت 2 
میبرکی رتوں سے مکنار ہونا جا ہو میریی طرف متوجہر پاکرد۔ اور ان خرف کے 
بقررحمت ال یکوچلہ دو۔ وسحت حم تن مک وآ خویش میس انا جا +تی سے۔اگ تم آنا جا وو 

۳٣۳۲" 


یہا ںی یں ء1 نے وا لو ںک یی ہے۔ 
باب : إِنّ العُیْطَانٗ قَال: و عِزٌیک یا رَبٌ لا اَبْرَغ أهوِیْ ِبَاک 
اب :شیطا نشین ن کہا تب رع تکیاشعم یس تیرے بندو ںکوگمرا کرو کا 

(۷۸) عن أبی سعید الخدریئہ عن اللبی ث أنه قاله: 

”فَال إبْلیْسُ: اَی رَبُ الا َال اُغُوِیٰ بَیيْ آمَمَ مَا اث أَرْوَاَهُمْ فی 
اَممُسَادِهمُ قال: فَقَالَ الرّبٌ عَزوَجَلُ: لا أَرَالُ أَغفِر لَهُمْ ما اِسْتغقَرُوُنی “ 

[حسن](أخرجه أحمد ج ٣‏ ص٦۷)‏ 
شیطان کی شیطنیت اوررن کی مففرت 

(۸ےہ) کر جم : حطرت الوسحید خددکی دا سے ددایت ےک ہنی چا نے 
ارشا دشر مایا: ٹس نے رٹ العا ین سے عو کیا: پر وردگار عالم تکی عزت وجلا لک اسم 
یں مس لد مکی اولا دکو ج بتک ان کے شعم میں ربنیں ہو ںگ یگراہ کی حن تکرتا 
ہو ںگا اورگمرا کرو گا ءپچرجن بل مد نے اشھا سی نکوابٹی رحمت وقدرت سے للا یا 
کہ ھکوگھی میرئی عزت وجلا لک اض ء ج بکک ای نآ دم بج سے مخفرت مانکزا ےگا میں 
موا فکر کے مفظر تکرتا بی رہہو ںگا_ 

ارہ : جرم وکنا کا ہوا ایل رٹ یکڑیء بکنہ بسا اوقات جرم وگناہ کے بعد پر 
استغخفارکی وج ےت ثی درجات ہوجالی ے۔ بین گگنا اسان سے سرزدہوتا سے ہگ راس 
ین مال ین ووساو ں کا نل خوا کسی بھ ی یل ے ہوا ہو ہوتا یر ے اور 
شا کون 0 - ء, - 9ھ تھا یکی جاب 
سے وی ہے اور جب بندہ دستسوال پچھیلاجا ے اورمو یق کی عداات بی اپنے جریم 
کو ٹن کر کے معزرت ومعائی کا خواستەگار ہوتا ہے ء نوہ ادا اللہ ا ککو بے عد پمند ہوٹی 
ہے نہ ہکہااس پرگگرفت وہ بللہ اش پاک درز رفرماتے ہیں او رآ تد وجھی خوا ومن با رگناہ 
ہونارے اور پہمخفرت الگا رے ء ایند اک ال لکومعا فکرتے مر ہیں گے ج بکک یہ 

۳۲۵ 


مففرت ما مکنا زےتۓ ریت ورحمت ہوئی رجی - 
ایس تین نےبکی تعالی سےم۲ہلت نو ماگ یچک رو یں ؟ 
)٣۷۹(‏ عن أبی قلابة قال: 
اللَه لم لَعَیْإِنْلیْس مَأه لَظِرة فَنْرَةلقَال: و عِزّک لا 
أْرْیجمِنْ صَذرِ بک ختی تَخْرُجَفْسَة. فَقَالَ: و عرّتی لا اخَجب تَوْبَتیٔ 


مِنْ عَبْدِیْ ختی تَخْرُجَ تَفْسْة أُوْقَال: روح 
[ضعیف] (أخرجه عبدالرزاق فی المصنف ج ۴۰۳۹) 


(۹ع٥)‏ تر جج : ابو ظا ین کہا: جب می تی نے اشیش سکوتین بنادیا تق الں 
:007 :و و ای وا ںا 
عز تکی 2 یسپ تیرے بنلدہ کےسبینہ سے باہ ری ہیں لیلوں گا( یی سن شا در یکر 
وسوسہ محاصی کا رجعجان پیدا کرتا رہل گا) ببہا لت ککہ ا کی روں تحم سے پل 
جاۓ تن ہل یرہ نے فرمایا: جھولوجھی میرکی مز تک اکم نیس اپنے بنروں بر کا رت 
بای سکرو لگا اس وشن کک ج بک کہا سک جان ہلل جا با فرمایا روج نل 
جاے ..(اخر دا زاق لصیف )٥۰۵۳۳/۱‏ 

وہہ ری زندکی کے سینا تکوصسنات سے بل دبا سے 

سو یارٹ ذوا چلال نےآز مال کاہ نایا ے اور پہاں ت روش راوردینوں کے اٹل 
کا منقابلمہ بہونا ر با سے اور بہوتا رےگاء اش تر بھییف جر نی رکی طرف می جلتے ہیں اورجئیں کے 
رھ یکوئی لغش وخ 9 2 ۶ 009 
دورکمرنے کے لیے انابت وب ءر جو الی الشداوراستغفارکی طرف قرم انٹھاتے ہیں ء جیب 
بات سے تن تھی نے بندۃ مک نکو ایک نو اعمالي صا یکا طر یہ ول سکصلایا وجلایا ء اور 
پری ومعاکی کے مٹانے کے لیے چو رسلا باوجلا یا ا یکا نا نو نو ہہ ہے۔ عام طوریرچم 
۱00ر ار ھا 


۳: 


نات ومتاصیء ذنوب وفصو رک وکنا لکرہ ا سکی یت وعرارح اورتا خرکو بد لک رصنات 
دقربات بی شا رکراد بی سے اورائس با تکی طرف رٹ ذوا چلال نے بہت بی خوبصورت 
انداز بی ارش ادف رمیا ے: 
إلَامَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَملْ عَملا صَالِعَفَوَِيِک بل 
الله سَیْنايَهم عسَتِ کان الله َّقُورَا رَّحِيْماک (الفرقان :۷۰) 

ترجہ :رس نے فو کی اورلقن لایا او رکیا بج رکام کیک سوا نکو بدلی د ےگا اللہ 
برائیو لکی تک چھلا تیاں اورے الڈلد تھے والا مہ رپال- 

یش کنا ہو ںکی سچک ہو ںکی نو ٹیقی د ےکا اورکف رک گناہ محا فک۷رد ےگا یا کہ 
ںا رت کت یت تنک ارح ان نیت نے 
گا( تی رخ نی) ۱ 

نوہ کے بعدرمحصبی تھی نات من جالی یں 

پچنوعالماء ن ےآ بی تکا مطلب ہہ بیا نک کان تھالی امہ رای سے اسلام شی کے 
ہے بر اتا لو قامت کے دن نون میں تدم لکرد ےکا ھی ول سیر بین سیب 
حول ام الم نین حضرت عا کی خرت الد ہر اورتضرتسلمان فا ری سے مدکی ے_ 

ا ںکی ات رضرت ابوذ نکی حد بیث بھی ہوٹی ےک رسول اللہ چائا نے فرمایا: 
قامت کے دن ای کآد یکو( ساب کے لیے )لا یاجا ۓگا اوریم ہہوگا اس کے کچھو نے 
گناہ اس کے سا ممئے لا َء سب 2 و ا و 
اورال کے بڑ ۓےگناہ یشید ر کے جائمیں کےہ دہ کچھو گنا کا ارارک ےگاء ا ڑکا یل 
کر ےگا اور بڑ ےگا ہہو ںکی یٹ یکا ند بی ہکرتا رگا ءعلم ہوگاہ کنا کی لہ ا کو ایک 
2 دے دو وہ کے کا یر ےگناونو اورٹی ہیں جو کے بیہاں دکھا نہیں دتئء بے ارشاد 


ٔ بات وقت رسول ایی الل علیہ وسلم ات ٹس پڑ ےک کیا ں نظ نے کھیں_ 
(رواؤ سکم ملس ۲۰۵/۵) 
۳٣‏ 


من پا یرک ار تما یکی ولایت ومفاظت .7ے 

ٹا س تی نکووساول وخطرات محاصی پراگر ناز ہے فو مو نکام لکور بکرم و رجیم 
دوش نکی ہمت پر اعمادوایمان ے۔ اشل سکی قرام تہکوشش و جدوجہ کا نان کو 
معاص یکی طرف میاان ورجما نک داعی ول سے نو بجورت اور بنلدہ کے درمیان ے 
اس روگ یگل وف لیذ یجس رب رین و رت مکا افاضہ وعرفا نکا مظہرہے۔ نرہ جب 
بھی الد تا ی کی طرف رج کر ےکا ء ہوا سنتغفا رکا بات پچ یلا ت ۓگگا بت بل مہ ال سکو 
الو ںو ںکرئےء اور ایند تھاٹیٰ کے درمیان اور بندہ کے درمیائن تو کادرواز و مموت ے 
بے پیل ہروغ تکھلا ہوا ےء ال سکوشیطان وا" مین 0-7 اس برا ں کا 
بس لسن ےت مجن زففل لی سے صاحب محاصی سرافاضہ والقا ہوا ے اور پر دہ 
ال کے افاض کاو لکر کے نے کے لکو جو دخ اودیقن تھالی بچل رق کی قب وآیت کے 
ذریجہ ند کوکش دیتا ےء اس طر عتین میں مخلوب ہوتا ےء الد تھی موک ن کا وٹی 
ون ماصی رو وی ہبوتاے۔ سبحان ربی الاعلیٰ۔ 

ان الی حا نے حضرتسلیما نکی ردابیت سے بیا نکیا ےک رسول الد چا نے 
فرماما: فیامت کے دن ای تی سکو اس کا ائعمالنامہ دیاجا ےگا ج نی دہ اعمالنام ہکاپالانیْ 
حصہ پڑ ےکا و یں کے خیالات ہرے ہونےلگییں گے (ن )وہ یم انام کے 
نے اندارجا کو دک ےکا و من یش ا سکوابٹی خیکیاں دکھائی دی گی مرج بالاگی حص کو 
رکا و 7ت ھت 

امن الی حائم نے حضرت ال ہ رہن کیا ردایت سے پیٹ با نکیا ےک قیاممت کے 
دن بپٹھ لیے لوگو ںکوڑھی اید (موفقف میں ) لا ت ےگا جو دل سے خواہشمند ہوں ےک 
نھوں نے (کاشش گناہ بت سے ہوتے دریاف تکیا گیا کون لوک ہہوں گے؟ فرمایا: 
شی نکی پرائیاں خییوں میں تید لکرد یگئی ہو ںکیء اگ ری کے ذ ئن میس مت ےک گناہ 


۳۰ 


جیسی ناببند یدچزجی میں کی بد لىتی ہے فو ا سکا دوطرح سے ازالہوسکنا ہے۔ 
گناہ بر نیک نل 'ترافت 

لے کب پتروں سے اگر بہفقم ال یکوٹ ی گناو سرزدہوجاتا ےو ا نکوانچائی 
ای ہل سے ا یکم خودا نکواٹی ان زلٰیل معلوم ہون گت ہے فورا رٹ دکی طرف 
رو کر تے ہیں فارگ یکرت ہیں ء الد کے عخذاب سے ڈرتے ہیں ء معاٹی کےطل گار 
رز کن ا کی اش ےکک ےناد َ2 
وا حم تک نزول ان بن ہوتا اوراں مہۓے 0ے یں بک گناہ ا رحت 
عزاب شھاء ندامت واستغفار کے بحعدسبب ثو اب مین جا سے ای مہو مکو اہ رکرتا ہے۔ 
رسول الد چے کا یارشا دک گرم ن گناہ نہ ےق اڈ مکو نے جات ےگا تہارک تہ ا سے 
لوگو ںکو لے ت گا ج گنا ءکر مس کے پچ رین سے معاٹی ک ےل گا رہہوں گےء او رادان 
کومعا فک۷رد ےگا( روا سمل سن حد یٹ ال ہرى٤ٗ)‏ 

بھی رسول اللہ خلا نے خر مایا تھا :کہ ماعز بن ما کیک کے لیے دجواۓ مخفر کرو 
ان بے ای نو کی 9 پچ" ۶۶" سس بکو ایۓ اند رما لے 
(س بک مففرت کے لی کاٹ ہوجائۓ )۔ 

ایک نا نو ن کا وہہ 

ایک عورت فبیل نا مرش 0۳۷ سكسھ"!ہئ0؟“ اس ےی حاض رہ ور 
مزا زنا ار کک رن ےکی درخواس تک اورعت سکیا یا رسول الل پا جشے با ککردییےء 
ا ںکوچھی تضور ا نے ہرچندٹالنا جا گر وہ نہ می آخر اس سکوڑھی تضور چا نے ستک سار 
کرادیا۔خظخرت خالمد بن ولیڑرڑنے اس ناپ بیعورت کے تل چٹ نا شا نستہ الال کے نے 
رسول الد پل نے فرمایا: الما نز پان روک بڑم ہے ا لک جھس کے پاتھد یس می ریا جان 


۳ 


ہے! اس نے ابی تو کی ےکہ اکر اڑکی یکس وال کچھ یکر نے ا لک بھی مغفرت 
ہو جائے .اجس ووکس جوشش کے بہانہ سے سار ہی سوداگکروں سے وصو لکر لت 
تھے نکاس یرون سداگروں ے ڈوک ےکرک یا جا ھا)۔ 
َسَ الیخاز را صلی ساغائز و اقابده سی ریتڈة) 
بچی روج ہے ا قو لک یکہژ‌ سنا ہکا آ نا زخفلت اوراضام نرامت ( نو ) ہووہ 
اس طاععت سے مہ سے جم س کا آغا نظ راوراضجام ریا کاری ہو۔ 
ال عبت کےٹض انال واقوال 
حبت میں ڈو ۓ والوں ہے کی می 7یض ثول سرزدہہوچاتا یے پل 
معیارشرلیعت سےگرا ہوا ہوا ے جیے ر ہہاحییت ل(ت رک لزان ترک تعلقات, تک اگل ) 
سماعء وجداورش ات ( خیش رگیکلمات ) کہ ان ا مو رکا ان سے صہدور نال عحبت وش 
کے ماش ہوا سے اس لے ال نکی ان ظاہ ری لغزشو لکوارڈبوں سے تب یرد ےگا۔ 
عارف روئی نے ٹرمایاے: 
ہے رر یق من قد کفر گمیرد کا مت شود 
ماد پاکان را قاں َ رھ گر چہ "ئ6 کر ےت 
ال الف رل خرظرا لق لت و ور خر پر ار اذ 
شاب رصطرت اوذر لہ کی عدبیث میں جھآیا ےک (قیامت کے ون لن لوگوں 
ک کت عم ہوا کہ )اس کے تچھوٹ گناہ اس کے سا نے لا 2سب الک جچھوے گناہ 
اس کےسامئے لاۓ جائیں کے اور یڑ ےگناہو ںکو پپشیدہ رکھا جات ۓےگاء اس سے اشارہ 
ہمارے پرکودرہ پالا تو لکی طرف ےکی ومک کا موں سے جوان امو رکا صد ور ہہوتا سے وہ ناب 
صبت ہوتا سے اس لے الڈدا نکوشیکیال ہناد ےگا ء ر ےکی ر گناہ جو یقضاء ال یھ بھی ان 
سےسرزدہوگئ ہوں گے ا نکو شید ہ رکھاجا تۓےگاء اورمحا فکرد یا جات ۓگاء ذک رجھ یں 
کیا جا گا ءجلی اک ہآ تند ہآبیت ا لک طرف اشارہکرددی ے۔ 
۳+۲ 


2040 اورالد بہت معا فک نے والا ما ہربان ےء 

چھوٹے بڑۓگناہو ںکوینش ےگا نڈ کے پع یھی اورفی تہ کےبھی۔ 
سو نے کا وطشہ 

آپ لے ففرماتے ہی ںکہ جب انسان سوتا ے فو فرشنہ حیطان ےکنا سے بے اپنا 
میفررنس میں اس ک گنا ہم ہو ہیں دے۔ دہ دے دبا ےو ایک ایک مکی کے 
لے یں ج کنا ووداس کے صیے ے مند ا ےاوائیں ٹیا ںکدتا ہے۔ بی 
نے نے کارت ار کا ران للا گار کا رق اکنل 
کے اور یس وفع سُبْحَانَ ال کے بی لکرسو(١۱۰)‏ ھتہ ہو گئ۔ 


رئیا نیوں مس برل جائی ںی 

رت سلمان نان فر ماتے ہی ںکہ انس نعکوقیاممت کے دن نا ماعمال دا جات ےگا 
دہ پڑھنا رو ںغکر ےگا فے دب ال سک برائیاں درخ ہو ںگی نیس بڑ کم یہ یھنا می رسا 
ہونے گ ےکا سی وقت ا سک ہن ےکی طرف پڑ ےکی فو اتی شیا اگھی ہوئی با ےگا 
تر 22کس نات نڈواںی برائو ںکو 
بھی بھلامیوں سے بدلا ہد اپاۓگا ۔حخرت ابو ہریرہ یل فرماتے ہی ںکہ بت سے لوک 
ای تھاٹی کے سان میں کے جن کے یاس زیت رش کنا ہوں گے ھا کیا وع نے 
لوک ہوں گے؟ آپ چان نے فرمابا :دہج نکی برائو ںکوایٹ چھلا یوں سے بل د ےگا 

ارم کےتتی 

حخرت ما بن قبل لد فرماتے ہی ںکچلتی جنت یس ارم کے جائنیں کے 
مین شی پرہیزکاری یٰ۶ ۶ء و 
]نی خوف !لی رک دانے پچ راصحا بکتن مجن کے دایں بات میس نام اعمال لے بہویں 
گےء و ھا گیاکہ انیس اصحاب می نکیو ںکہا جا تاے؟ جواب دیا اس لی ےک اخھول نے 


۳٣ 


ٹیچیاں بدیاں سب پل دک یتجیں ان کےلل نامے ان کے داہے پاتھ یں لے ای بد یو ںکا 
کے پک ھکر بی کے لگا کیہ رٹ اعت ادگ نیا ںکہاں ہیں ؟ بہاں و سب 
زی ہوٹی ہیں ۔اس وفت ای دنا لی ان بد یو ںکومنا د ےگا اوران کے بد لے ٹیریاں 
2ھ :نیس کڈ ھکرخویں ہوک راب لو بر دوسروں سے ہیں کے ےل جا 
کس کے !کشر یی بہوں کے کی ران ملین من الحابدین یلد فرماتے ہی ںکہ برائیوں 
کو چھلاتوں سے بدلنا آخرت می ہہوگابکھول ڈیف مات ہہ ںکادتعالی ان ک ےگنانہو ںکو 
کا کان نان تل کرو گار 
اک وڑ ےک یکا رکا وائے 

ححقری حول خلہ نے ایک مرتتبرحد یٹ بیا نک مکہایک ہت بوڈ ھے تح فآ دی 
ج کی بیس ہنگھموں پر آگنیانیںء رسول ادلد چے کی خدرمت میں حاض ہو ۓ او رعضل 
کرنے گ کہ یا رسول اڈ ہلپ ا یسیک ای اشن ہوں جشس ن ےکوکی خدار یکول یگزاہ 
کوٹی بدکاری با ئ میں ٹچھوڑی میر ےگمنا و اس فر جڑ تہ ١ئ‏ ہی ںک۔اگرتامانماوں نیم 
+و اتی فو سب کے س بنحضب الپی می ںکرفمار ہو میں ء می ریہشت یک یبھ یکوکی صصورت 
ہے؟کیامی ری ت بی قبول ہلت ہے۔ 

آپ چان نے فرما کرت ملمان ہہوجاٗءاس ن مہ پڑلیاکہ اَنْهَداَنْ لا الله 
لا اص وذ ۂ کا نک لہ اللتوالی ترک تام برائیا ںگنادہ برکاریاں سب ہج 
معاف فرمادےگا۔ بلکلہ ج ب کک و اس پرقائم ر ےگا الد تھالی تیر برائیاں بھلائوں 
سے بدل دےگا۔ اس نے پچ ر و چا تضور پا میرے تو نے بڑ گناہ سب صاف 
ہوجئئیں گے؟ آپ لا نے فرمایا: ہاں! سب کے سب پیل رن و شش خوٹی خٹی وائیں 
جانے لگا اورگی رڈیل پکارتا ہوالو گیا ۔ دی ال دحشہ (این جرم) 


۳+۳ 


ایک خالو نکاواتہ 

ایک عورت حطرت الد ہریرہ خلنہ کے پا آکی اور ددیافت فر مایا : کہ ھ سے 
برکاریی ہہوگئی ال سے پچ ہوگیاش نے اے مارڈالا ا بگیا میری نو رقول ہڑکتی ے؟ 
ا أپ نے فرماا کراب نکی آیھتیں یی یک ہیں ندال تی کے ہاں یرکیب کی 
۳0ئ0 ر0,0ہ0عر یکین ا کی نما زتضورچےاےا کے 
ساتھ پڑ ھکر ٹیل نے مہ واقعہ ہیا نکیا نے آپ خلا نے فرما اک نے اس سے بہت ای بک 
ان کیا وا نآیو ںکوق رآآن میں کیل ہڑعتا و الَذِیْنَ لا يَدْعُوْنَ ے إِلّا مَنْ ناب 
جک۔ گے بڑای رں ہوا اورمیس لو کر ا عورت کے پاش باہاءاوراسے ہیآ نیس بڑھ 
رسای دوخیش ہو اوراہی وت مچرے می کروی ءاو رک یک ادل ای کاشکر سے 
کال نے مھیرے پچھنکار ےکی صورت پیا کردگی۔ (طرای) اور روابیت میں ےکلہ 
حخرت ابوہ رم کا بہلا ےی نکر ددرت واسول کے سا تج یکئقی ہوک وائل پک یک 
اے ہائے پیا صور تکیا یم کے لیے با یک ھا؟ اس * 99٦‏ 9 2-- 

ضرت الو ہرر پاگوا یلع ی پاعلم ہوا نذ اس عور کو ڈویڈ نے کے لیے لے ء امھ یناور 
اک اک گی ان ایی ل۲ نکیل بین نہ چلا۔ انفاقی سے را تکو ووعورت پی رآکی جب 
رت ابو ہر نے آھجی ںی متلہتلایا ۔اس یں یھی ےکہاس نے الد تھا ریف 
ےج ےکنا کان بے نے جح کا ر ےکی صصورت بنائی اور میرکی تو کی 
و لی کک کا ان کرات ارت ا کی 
بھیبھی اور جج ول سے وک فیا (تخی رای نکش رس ہ/۰۷٥)‏ 

تم کل مد ہاور بندہ کے درمیائن راجاٹو کی 

من جم مجددن ےق رآن مجیدی وا ورپ بی جلادیاک شیطا نکومطن بل یں 
ہو ۔ اور ایمالن پاٹ کا خودذات کی بل عیرہ سے ایک مضبوط بقوی رب ہے ۔کام 
ا کت ۰یت تا 0 کی ےن تک وہ 


۳۳٣٣۳ 


عہد دیثاتی ہے سک وجہ سے رب تبارک وتھالی ہار ے جم میس ج بتک جان ہے 
ہمارے ایما نکی حفاظت فرماتے ہیں اورایمانیات مں جہاں چہال رکاوٹ ہبوٹ ے 
قواب وریمت پک فا ضیفر اکر ہارک م ماش یکونش می یس بدلتا سے 800ھ 
حافتظا وہ زسم الرَاحیییی ین تعال یکی اظت وعطاجب شال حال ہوٹی ےل 
کو کی ےآ وا کے مات تا نان جاز زا کی رف رانا یکر 
ہے۔ نر بن وکو نگ یک کی جا ہے۔ 
باب : یا ابُنَ آكم ! إنک مَا دَعَوقییٗ و رَجَوْتَيِيٴ عَقَرْتٌ لُک کے 
باب:١‏ آ دن کے یج اج ب کک جھولو یکا ر ےکا میں تیربی مفقر کرت رہو ںگا 
) ۰) انس ابن مالک لہ یقول : سمعث رسول الله 6لا يَقُوْلَ: 
”َال اللهُيَا اْنَ دم ا إِنَک مَا فَعَوْتَييْ وَرَجَوتيِيْ عَقرث لک علی 
ماکان فیٔک,: لا ایی ابی آهمٌ'ثَوبَلَفَث دوک عَتَاَ السمَاءَُِ 
ِنمَفْفَرَْيِیغَقَرْث لُک وَلا بای ا ابْنَ آەَم ! إنک َو اَتیعبی بقرّاب 
اض خَطایا تم لَقیْتِی لا نشرک بی شَيْتَا لیک بِفَرَابها مَعفِرَةٌ “ 
[حسن] (أخرجه الترمذی ج ٠۰ ۸/٥‏ ترجمان السنه ج ١ء‏ ص ۳۱۲) 
بندوج بتک اللد اک سے خفرت انا ہے خفرت ہوٹی رنقی سے 
(۸۰٥)ت‏ ججمہ: حضرت انس من ماک خلدہ سے دوایت ےک میس نے رسول 
ال چک کے ہوۓ سناقن تعالی نے فرمایا: اے ای نآوم !تج بکک موک پکارتار ےکا 
اورجھ سے امیدی لگاۓ ر ےگا ء میں تی کی مففر تکرتا رہو کا اور بے ائس با تک بر داہ 
جھیہہیں خواہ تیرے اعما لک بھی ہوں ۔ اگ تیر گنا ہآسما نم کبھی ہوں اور مخضرت 
گے نو یں تمہاری مغفر کرو ںکا اور میس ( تیر ےکشرم گنا ہکی یر دای ںکرتا۔ 
اےای نآ وم !گر زین کے(ذنزوں کے برا گناہ لا ۓ اور بھ سے اس عال 


7 


میں ےکہ: مم ری ذات وصفات مل ذڑہ ہراب رجھی شرک ش کیا وء نو میں تیر ےگزاہ کے 
برا ری مففرت کے پروالوں کے تح کر ےو کے 
تن تعالی سے معائی طل بکرنا اختزافر بوبیت ہے 

عدیث میس جوآیا ےکہ: نیس پرواچھ یی ںکرتا می انسا نکی ات خواہ بھ 
بھی ہوںء بندہ جب ذا تج سے اعتراف واقال جر مک لوا سے نو ذات بت اس کے 
۹‪ 77 7 س0 می - وہیں ۰ئ ہوئی شر یا ١ں‏ ذات 09 
کرت سے ون ہے کیو کیردہ تقادرکل اور ما یکل 0ھ وت 
اس بات سے ہنی واقیف ےکہ: مانزا اوروست سوال پچھیلا نا بی اس کے سا ئے اعتراف 
عبد ببت اور اترارر بوببت ے او رگناہوں .کہ “0 ار ےگا کو نک۷ ہے گا۔ جم 
جس کاکیا سے معاٹی بھی نے ای سے ماگ جات ۓےگی ءاورگناہ ومحصبی تکا اعتزا فکر نا اس 
با تکی دیل ےک اگ رمحاف شک ر ےگا و عذاب ا یکا آ ت ےگا اوردہ کب چاہتا ےکہ 
زاب سے پناہ مان والو ںکوعزاب دیا جاے ۔ ا لک عثال مم ےبد ناش ج بلس 
سے پالی انگ جاتاے فذ دہ بیشا ب نیل دبا نے رٛیم وکریم سے جشت ماگیا جا اور وہ 
زاب دیرے ایا کیو ںکر ہوگا ؟ ار وو رین ورجیم ؛ یہ اقم ال ران شدد ہا۔ اد اکجر اوہ 
ےکس ضا تر ےلین مان کے فااوا ات 1 "نا دن گر 
”رک“ ک٤کوگی‏ جزوقابل معائی نہیں _ اَل لٰهْمٌ اخفَطْن يَاحَفِیظ.أَهْهد أئ لا إلٰ لا 
نت وَ اَْهَة او مُْحَمذا عَبْذۂ و رَسوْلَه اَسْتَلک العَفُو و الْعَافِیة یا عَفوُوَیا عَقُوْر 

تیکی امیر ہار ببرمیکی مففرت متوجہ سے 

(۸) عن أبی ذرظلہ عن النبی غٌله یرویه عن ربە قال: 

”این آدمَ ! إِلّک مَا فَعَوُتَيِیٌ و رَجَوْتَِیْ غَقرْتُ لُک عَلی مَا کان 
فُِیک. اِبْنَ آفَم ! إِْ تَلقَبیْ بقراب ال رض حخَطایا لیک بِفَرَابھَا مَعَفرَةَ بعد 


۳٢۳۵ 


از لات کے سیکا بن آفَمَ !نُک إِنْ تُذيبَ تی مغ دک عَمَانَ 
السُمَاءِ تم تَسَنعَفِرُِیْ اغْفْرُ لُک وَل کت “ [ضعیف] (أخرجه أحمد ج ۵ ص2٦۱)‏ 

)٥۸۸۱(‏ 7ج : رت ابوزر مان سے روابیہت ےک رسول اللہ ا الد تھا ی 
ےک لکرتے ہیں :اے ام نآ دم ج بتک و جج کو ارتا ر ےکا اور سے امیر وابسۃ 
ز ےکا :وآ خر ےکنا لبون ت ےکی مففری کرجا یہو نگاء ا رتو زع کے ون کے 
برابرتگ گناہ نےکر بج سے نل کیا ودای کے بفرر انی مففرت وجمت ےکر ہو سے 
لو گا ہاں ام میرے سارک ت کیا ہو۔ ای نآ وم اگ رت گنا +کرتا رےاورتیر ےگتاہ 
آسما ن کک جایں (پورے ز مین وآسمان کے نل اکو پُکرومیں ) بپھ رتو بج سے مغفرت 
اک بھی میں بی مففرستکمردو ںکا اور جھے ا سکی پرواگھ یی ۔(امرہ/ے۱۷) 

ا شر رت وت کے اخ ےکنا کک یت کین 

یی فو ذرریت ےکمرال دہے یناہ اور رح تج ء کے متقابلہ یل ند ہکا 
نامک ین کی کنا می بن گناو نما ی کی مففرت او رر تکو و ساتا 
9ھ رحخت مخ س گنا نو یکی رح ہے ہیں ء اورسیلاب رحمت ان تو ںکو 
0 0 7 أبالیٰ کاافظآیا ے دہ ای طرف اشاردے 
تن بل مد دی مفقرت درححعت کے مقاملہ یٹس ان متاصی وگنا ٥ک‏ اکوٹی انبا رکڑیں پچھر 
حا الما مکی بندہکاگناہآسمان کے نل اکوکیوں نگلردےء پا مر بِقرَاب الأَزٴض 
غخطایا ۶۴ لع کاٹارۓ نش کت کگراضُں ھت ائز 
ین ین نا خر کےلفظ ےی رک ایا ہے ۔ ی]شنی سحندر کے ہچھاگ کے برابر 
کیوں شر ہو 

انان کےنظ روا کے سان جو زی مکی اور یھی زا یس کن جن جن 
مین زس ہیں خلا جوز مین دآسمان گرتاوی' گی رد لج ای ڈفونفو ار 

۳ص 


اس کے بے ار لہ ہوۓ وع وعرلیٹش ذرات خواہ ریت وپالوکی شکل میں ہہوںء پامٹی 
وا ین کی کل بی ہو با بجر پہاڑ وا نکی شکل یس ول ء ہیں سب کے سب قسر اب 
الارض میں دائل میں با تچلرسنال وسیلان ماڈہ ہوں جیے در یا سسندرء انی چچزو ںکوانماان 
7 سے او رخلوقات :و بیعڑوں انسمان کے سام انی وطرتع و چا کے اختبار رے 
ےس کی تل ظا رش رطتان المسما ءکہاگمیاءضہرپی ز یکنج ںوقراب 
الارض کماگمیاء نہجی سندرج٘ سکو زیسد الببح رکہاگمیاءاپنےعلم ودالش سے ا کا آخری 
اوتی ومقانی احا طکر کا ےء نہ هی غلاکی پک لکرس کاسےء نہ ہی زین کےانل وو نکو 
معلو مکر کا تا بع مجن یل مرہ اپنے بندو ںکوفرمارے ہی ںک لوق تک ان ٹین چچزو ںکو 
خم بببت بی وع وع ریش او رکرتے ہوفے اِٹی خیالی دنام تم ا نکوگناہہوں ہمتصجوں اور 
برامالٰیوں سے ردوء لٹ یعتلوقات کے ظطرف ورکا نکواگ گناہ ومتاصی س ےکپھرا جا سلتا سے 
نے مجمرددہ البنہ ان محاصی گناہ می نر کک خحاست وفلانظت نہ ہو سن لوتہارا رب 
ہار ےگناہ ومتاصی سے بہت زبادہمخغرت ورححت کے سا تد ل ےکا 

ہیں معلوم میں عنا ن السماء ہوءیا قراب الارض ىا زیسد البحر سب 
خلوقات میں اور خالقی جب کیا فا نکی تمام بی ان حدوتضور رے بالات پوگیء 
نایا رمساج السھ سل ک0 ارکٹ ررد السا کار ےتا 
قسراب الارض ہوں گےا نکی مخفر ت عرش سےفرشش پر ہوگی خمہارے ماصی زبسد 
البحر ہول کےا نکی رمت فوق الخلق ہوگی ۔ 

ٰ کی ریم تل و وا و ۱ن 
راک لاررعی وارھ کے ساس ڑا نہ جافوء مالی د یا ںکوقریب نآ نے دو۔ نگاہ رٹ 
الع کی وسعمت رحمت ومففرت پجمادو- 

و مسمسسحست 
احا طلنہی ںکر سن ہو نے بچھر مال قکی رححت ومخفر تکاانداز وکیا لگا سکت ہو؟ 


۳۳ 


دیھو س گناہ مجاف سے پگ رشٹر ہیں ء وہ و خیور تہ ہے مارےسبپسیاہ 
وتاری ککومعا فکرد ےگا اورائ کو ال ںکی پروا بھی نہ ہہوگ یمر دو اپٹی ذات میں کی 
شک تکو برداشم تک لکرتتا ہا سکی شال نک ریاکی دنق سکوگوار ہکییںء دو تار ےگزاہ کے 
نز روسحت رحمت ومخقرت کے ساتجھھ ل گیا ایوں بجھ کہ ا سک رم تک طر ف می تل 
رے یس تن کی ا کرت رت ےک کر کے اع را سگرن ماھۓے 
اوررحعت سے چھاگ ر پاے مگ و حیر لا الإ الڈے مقاں الجت ے نک بارجحمت و 
مففرت ے اوریٹس ہرود سب خودی یش دےےگا۔ 

مففرت ہوک یگنا وگ چرخزان لاسما ءّہو 

)٥۸٤(‏ عن ابن عباس ظللہ قال: قال رسول الله گےلئ: 

”فالَ الله عَرّوَجَل : یا اب آ٥م‏ ! نک مَا دَعَوْتییٔ و رَجَوْتَِیْ عَفَرْثُ 
لک عَلٰی مَا کان فِیّک و لَواَنَسَنَیٔ بِلءِ الأرض حَطایا فیک بملءِ 
اض مَغفِرَةَ مَالمْ تشْرک بی شَيْنَاء و لو بَلََثْ خطایَاک عَنَانَ السُمَاء 
تم اِستغفْرُتيِيْ لَفَرْتُ لُک.“ [حسن لغیرہ] (أخرجہ الطبرانی فی الصغیرء ج ۲ ص )٠٢۰‏ 

(۸۸۳)تھ جم : حضرت امن عباس ضیلاد سے رواایت ےک رسول اللہ چا نے 
ٹرمایا: 

بن ہل مجدہ نے فرمایا: ا ےآ دم کے بے جب کک فو ہج کو پکارہتا ر ےگا اور انی 
امیر ھ سے وابستۃ رک گا۔ میں مت ری مففررتتکرتا رہوں کا خواہ تی ری حال تجھمی ہو 
(خوا گناہ کت ہوں) رن زین کے براب گناہ وخطا نےکر می رے ارورسر ۲ 
یں ھی زمین کے براب رمخظرت نےکر تھ سے ملو گا ہال امیرے ساتھ ذڑہ براب مرک 
نکیا ہواور اگ تیر ۓےگناہ خلا ءکو پک کےآسمان می ک بھی پل جامیں پچ رت جج سے مغفرت 
ا فو میس یی مغفر تکردو لگا (اخرج اط رای فی اص/×) 


۳۲۲۸ 


صادل ومصروق چا کی نثارت 

)٥۸۳(‏ عن أبی ذر ظللہ قال : سمعث رسول الله الصادق المصدوق ٴےّ 
یقول: 

”فَال الأّے عَرّوَجَل : الْحَسَنَة عَشْر او أَزیذہ وَ السَيَ وَجِنَۂ از 
رما فمَنْلَقیَيِیْ لا یُشْرک بی شَیْنَا بقراب الأَرُض حَِيَةًجَعَلتُ لَه 
لھا مَغْفْرَةٌ “ [حسن] (أخرجہ أحمدء ج۵ ص۱۵۵) 

(۸۳) ت جم : رت الوذر حیلاہ سے روایت ےک میں نے صادقی و 
صردل رسول اید کو سنا ٣ود‏ ا مر ہل رہ نے فرماما: اک بی را اور 
میس ز باد وگ یکرسلا ہوں اور ای فگمنادو بدگی بر ایک :ھی گناہ یا شی ا سکومعا فکردول _ چو 
سے اس حال ٹیس ےکا کمیرے سا تح ذڑہ برامرٹھی حر ککی ںسکیاہوہ مہا سں کا گناہ 
رین کے ذڑوں کے برابر ہہھوں ‏ و میں ای کے سفن را سکومخضر کا ٍوان,دو لگا 

(اترج7۱ء۱۵۵/۵) 
شرک کے مقا لم می سگزاہ نے وقحعت 

)٦۸٤ (‏ للطبرانی فی الکبیر عن أبی الدرداء طظلہ : 
شک بیٗ شَيَا اِستقبلَنة بِقرابها مَعفرَةَ “ 

۱ ۱ 0 [ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۱ )۳۱٣۸‏ 

( 7)۴۸۳ جم : حضرت ااودرداء ج لان سے دوایت سے متہارے رب نے فرمایا: 
ەل 0ے و ار 
شیک نکیا وہ فو بیس اس کےگمزاہ کے بففرراا سکا مخفرت کے سا تع امتتقا لکمرو گا۔ 


۳٣۳4 


بن ہکاگناہ رحممت ال بھی کے متا بہٹیس ڈڑ ہچ یکیں 

)٥۸٥(‏ و قال الطبرانی أیضاً عن أبی الدرداءظلہ: 

”َال الله تَعَالی :یا اب آكَمامهْمَ عََذتیْ وَرَجَوتِی وَلَمتُفْرِکٌ 
بی شَْنَا عَقَرْثُ لُک مَا کان منک. وَإِنْ اِسُتقَعِی بملْءِ السَمَاء و الأرُضِ 
خَطَایا و ذُنوَْااِسْتَقبلتَک بِمِْيَھیَ مِ الْمَغفِرَة وَأَعُفِرُ لُک وَلا أبَالِی.“ 

0 [ضعیف] (کعافی کنزالعمال ج )۲٥٢/٢‏ 

)٥۸۸۵(‏ 7م : ظرت الودرداء لاد سے روابیت سے مق ہل مہ نے فمرمایا: 
اے ام نآدم ج بجی نمی ری عباد تکرتا سذ جج سے امیدی رکتا سے اورمہرے سا 
ذڑہ برا برجھی شر کی ںکرتاءفو میس تھے موا فکرتار بتاہوں خواوت دکڑحی بی عباد تک ی اکر 
اوراگ رف میہرے پائس اس حال می لآی اک ہآسمان کے برارتیر ےگناہ وخطاء ہول نو میس اتی 
بی مفضرت کے ساتھ تا اتنقبا لکروںکا اور جھے پالیئل بھی محا فکردو لگا اورٹیش اس 
گی برواہگھ یی ںکرو لگا_ 

مرک رعم تکوروک د تی ے 

ٹر ککیگندرگی اللد یل مر ہی رت وخزای تکو روکتی سے۔الخٹش رک موا 
رعمت ے۔ انسان جب موالعا کو اھاد ینا ے ے رحمعت ابیز دکی کا شی بین جا جاے ۔ 
رحت ال یمکی دسعمت کے نما لے می گناو خواہ کے یٰکیوں نہ ہوںء ذڑہ ہیں ؛کیو ںکہ 
”َححمَتی وَسِعَث گل َء“ کا مظراتم بھی جب بی ہ وک ہکا تجات عا لم کے بے شر 
ای خطا کا روب کا رو می وَعحث لی شی“ کے یچ لاک ریش دیاجاے ء غالما 
ا یمجن یکواد اہر نے کے لیے ”و کا أنسالیٰ“ کہددیاگھیا ےکمرعحمت کے مھا میس ىہ 
22/۶ باسنک 02 ےکموانحعات ریم تٹت مکردیا 
اتب لوک س تک ات اک ترض و تن ےگ 


م‫" 


اجتاب واطٌیاط ے۔ 
رو ہےںے دو کاو ےی ے ا ےپ ری نے 
ب : مَنْ عَلِم مِنكُمْ انی ذو قَدرَِ عَلی مَغفِرَةِ النوٌُب می 
اس یں س ۰ سی 
مرشر جو جوا او دو 
)٥۸٤(‏ عن ابن عباس رضی الله عنھما عن النبی ٭ٌّ قا 
٣ن‏ الله ترک رَتَعَالی بَقُْلَ : مَنْ عَلم نم ولاو ظز 
مَغفرَةِ التب عَقرْث لَه ولا اَی مَا لم بُضْرَکُ بیٗ هَيْنًا. ٠‏ 
[حسن لغیرہ] (أخرجه الحاکم فی المستدرك ج ٤‏ ص )٦٦٢‏ 
سے 7 ۰ ٭ھ ۰ 7 7 
گناہ موا کل ےکی فدرت ہم ذام تی کے 
(7)۲۸۷ مر : منرت اکن عرال ینہ سے روابیت ےک رعول اڈ لان نے 
فرمایا :جن بل محیدرہ نے فرمایا: جوشٴص بہ بات نی نکائل کے ساتھ جانا ےکہ گناو کے 
میا حکر ےکی فررت صرف ہج اہی ہے نو میں ا کی مففری کرت ر بنا ہہوں اور ہ٠ل‏ 
اس با تکی پر واجھ نی لکرتا۔ ہاں ام می رے ساتھ ج بکک دشر کی ںکرتا۔ 
2 َ‫ ے۔و‌۔‌۔ے۔ ےردے َ‫ 
باب : إِنّ عَبُذا اصَابّ دَنبًا فَقَال رَبُ اَذَبّتُ دنا 
ہج ے٭ سے ےر 
باب : ایک بندہن عو کیا کہ بارب مت گناہ ہ گیا 
(۷) سمعت آبا ھریرۃ لہ قال: سمعت النبی ظط قال: 
عَبْذا اصابَ ذَنبَا وَرُبَمَا قَال: أَذَْبَ ذَنبًا. فَقَال: رَبَ اَذْنبَث و 
رما قَال: أصَبْت فَافْز لِیٔ. فَقال رَبهُ: ا عم عَبِّیْ أَله رب عفر الدب رَ 
يَأَذُ ہو ؟ غَفَرْث لِعَبْدِیٰ تم مَگٹ مَا شَاءَ اللَهثُماَصَاب دب اَوْاَذنَبَ دنا 
فَقَال: رب بث او اَصَبث آحَر فَاغِرُة. فَقَال ا عم عَبدِیٌ أََله رَبَ عفر 
الأنْبَ وَيَأَمْذُ بو؟ غَقَرْث لِعَبْدِیٰ. تم مُگ مَا شَاءَ الله تاذب ذَنبًا. وَ 


۳ 


رما قال: ات 2 قال: رب سۓغے 7 أذَث آخرَ فاغَفِرّة لی فقال: ا 
عَلِم عَبْدِیٔ ايل رن عفر الدب وَيَأَحذُ به؟ عفر ِعَبدِی تَلاتَ قلَعْمل ما 
ف2 [صحیح] (أخرجہ البخاری ج ۹ ص ۸ء اءترجمان السنةء ج اءص )۳۱۷٣‏ 
ار پا رگنا ہکا بموجانا اور ہر بار جج ول سے خفرت مانناسعادت سے 

رے۸۸٥)7‏ مہ رت الوہربرد لہ سے دوابیت ےک یس نے رسول الد 
ل سے سنافرباتے ہوۓ: یٹ س ےگنہ ہوگی اھ یکہاہای کش ن ےگا وکرلیاہوہ 
کنا ے: میرے رب بججھ ےگناہ پوگیاء اکا ے؟ یں ت گنا ہکرلیاء ےکو محاف 
کردوے) میربی مففرکردے بن بل دہ نے فر مایا کیا مببرابندہ لقن رکتا ےکلہ 
ا کا یک رب سے ج گنا ہکومجا فبچھ یکرتا ے اور اس برگرض تجح یک رسلا سے؟ رج 
اپنے بند کی مغفر تکمردھی۔ پچ رکھوڑے دان جقنا اید جا ےگمناہ سے باز دجتا ہے۔ پچ رگزاہ 
ہوجاننا سے پاگنا کر اڑا ے م فوع سکرنا ے : رٹ العمزت میں ن گنا ہک رلیایا ج س ےگزاہ 
ہو گیاء مر ےگنا ہک ومحا فکرردے مفغفرتکرردے بن بل مج :فر ماتے ہیں :کیا میرے 
بنلدہک وین ےکا کا ایک رب سے جوگنا ہکی مففر گج یکراے اور یھ یکر سکسا سے۳ 
بش نے اہین بنلد ودک مغضرتکردگی۔ تچ رج ب کک اللد باک جائیں رکا د ہنا ہے۔ پچ رگزاہ 
کر لٹا سے پا فرمااگناہ ہوجا تا ے من عون سک رتا ے: رٹ العزت بک سےگناہ ہموگیا ائیٹںس 
گنا ہک رلیا :را مییرے ا سمگمنا کی مففرت شال ےت بل مرو فرماتا ےا 
کیامیرابندہ لقن کنا ےکا کا ایک رب سے ج گنا ہکی مغضرت ومعاٹی دیتا سے اور پلڑ 
بھی سلتا سے :و تا انت لٹ انا ات نل 
جاے نف لکر۔ (بناری۱۸/۹) 


اش تھا یکی رحمت براخقاداورا سک فررت ب اورا یقن 
ای رم۹ت براخناداورا کی فررت پر و رالیقین رن ےکی رس رو لی خرن 


۳۷۳۳ 


کا سب سے بڑاسامان ہں- 
بواکر فقیروں کا جم میں ناب 
تماشمائے اٹل 2 د یت کن 
حربیث ”سا سد ظن خَبْدِیٰ بی“ کا بھی بی ملہوم سے ستتی اتال یکا ای 
ہنرو سے معا ملا کے اعخمادووقی کے ابر ہوتا سے اگ ائ یکو لین ےک کتانہوں 
گرفت پا چم پٹ کر نے والا اس کےسواکوک نیس سے ہت ای تھا بھی اس کے اس سن 
عخقیر تکا خلا فک رن یندم لکرتاء اورااس کے لیے مففر تک اعلا کرد بجاے۔ 
جو جا ےگوہ رفظ نہد ید وخ یف۰ اعزاز دنشرلیف کے دونوں متام پر بولا جانا سے 
:ی0 ٹین متقام کے مناسب با صر ف تو ایف 
مرادہوٹی سے باتخریف ۔ق رآ نکری مٹں ے إِغمَلُوْا ما حِمْمْ اور مَنْ شَاءَ فَليْومِنْ وَ 
من شآء يک ءای محاورہبراستعال ہوا سے ۔عحاورات میں من چل نا یں جا ہے_ 
( مان الے :اكصكش:۳۱۹) 
گناہ ہوچانے کے بح گناہ ہو جانا او پھر 


رو الی ال +ونا رٹ الاجا نک یعظحمس تک دییل سے 

)٣۸۸(‏ عن أبی ھریرۃ ظلہ عن النبی هٛه فیما یحکی عن ربہ عزٌوجلُ قال: 

”َذنَبَ عَبْد دا فَقَال: اَللَهُمَ اغِْر لِیٗ ذَنبيْء فَقَالَ تبَارک وَتَعالی: 
أُذَبَ عَبِْی دنا لم أََ له ربا يَقفْرُ الاُنْبَ وََأَحْذ بالانبِ. ثُمغَاد فَأَذنَبَ 
فَقَال: اَی رَبَ اغفِر لی ذَْبي. فقَال تَبارک و تعالی: عَبْدِی اَذنَبَ دََبَا قلم 
ا لَه رب يَقفر الُنْبَء وَيََحْذُ بالأُنبِ ثُم غاد قَاذنَبَ فَقَالَ: ای رَّبَ اغُفْز لی 
نی فَقَال تَبارک و تَعَالی: اَذنَبَ عَبْدِیْ دبا فَلم أَنَ لَه ربا يَقفْر الذُنبَ و 
َأَحْذُ بالاُنب إِغمَلِ مَا هِنْتٗ فَقَذ غَفرْتثْ لُک“ 


اکا 


قَالَ عَبْذالغلی: لا اَذری أ فَالَ فی السَالنَةَ او الرَابعَة :'ِغمَلمَا 
شِمت'. (صحیح] رأخرجہ مسلمم ج: ۳ء ص:٢۱۱٦)‏ 

(۸۸۸) رج : حضرت الا ہر۷ ہل ے روایہت ےکک رسول ایر جلّ اللہ 
ےت سے رواہی گر تۓے ہیں مق ہیل دہ نے فرمایا: ایک بندہ تن گنا ٥کیا‏ او رکہا: 
اے الر! میر گنا ہی مفطر تکمردرے م لفن ارک وتتنا کی فرما ا بے 
گنا ہکا کا مکیااورائ ںکوئین ےک ال کا ایک رب سے جوگنا ہی مغفر تجھ یکرتا سے اور 
گناہ بر چلڑچھی سلما و کے 0 سے اورک لک رتا ہے: ممہرے رب 
مر ےگنا ودکی مففظرتکمردے بن تارک دنا ی فرماتا ہے: میرے بندہ گنا ہکا ام 
کرلیا گا سکو ین ےکا کا ایک رب سے چج گناہ کے مففر کی فی رت بھی رکا 
ہے او رگناہ ررض تگچھ یک رسلا ہے۔ پھ رہن گنا ہک ر لیا ے او مت سکرتا ہے : میہرے رب 
مییر ےکنا دکی مغفر تکمردے نے رب تارک تھا لی فرماتا ہے: ہیرے بندہ ‏ گنا ہکیاء 
اورا کون ےکا کا ایک رب سے ج گنا ءکومجا جج یکرسلکاے او رگمناہ بر بھی _ 
چا جھ گی چا ےگ لکر۔ شیں نے تی مغخفر تکردیی۔ 

عبدالایلیٰ راو کے ہیں :می سکیس جادا ہو ںک ہتسر جار با شی پارفرماا: جو گی 
ماے 7 ای 270 لم۶۴ )۲٢٢/‏ (زحات تر ے۲۲۹ رحد یی ٹکاذا دہ دک ٹیش ) 

عدبیٹ یل ا لنٹ کےاحوا لاہن ہ ےکم ہد پن برک ری ہونگر بشریت کے 
لواز ما کی ہفیاد پر رج ائمکا صمدورہہوگیا اوراس رح باد جار ہواہنہ ہر جار خمرت ابھالیٰ 
نے ھن وراحت 0-2 لین شددیا اور پا خر پر عدراات ارم ال راکیین ٹیس مر ود گیا 
اور اقچای ج مکرکیاسجخ بل مدکی رنیم وکریم ذات ا لکن بھی ماپیں اورابی رت 
سے نا می نیا کرکی ہم ر حرط ےک پر با ری فے راس حبیت وشن سکیا ہوک گناہ کے 
قری ب بھی نہ جائ ںکاء وگنہ ب موا عہد چنداں مفینگییں سے ۔کیوشکہ ندامت اور استغفار 

۳۴ 


یردو یزبس مک کو اس طط رح یاک دصا فکرد یق می ںیا اس نے مج یکنا د نین ںکماء 
عدریث بیل سے :تیب مِنَ الذنْبٍ کَمَنْلا ذَنْبَ لُ_ 

موا ما یش کی شال ہوں بنےک ابٹنں م ریس 6یک مکی دواے پالنل 
تی صححت باب ہوگیا ہو رگیعم ا ںک کرد ےکہ اب سب یج دکھا کت ہوہ ا کا بر مطلب 
قم]ا یں ہوتا کہ ز ہ رجگ یکھان ےکی اجازت ہے۔ بیہا ںبھی پالئل اما ہی بجھنا جا ہب کہ 
مراداسں سے بی ےک پردامتغفار کے دن ہل یرہ ن ےکہدد اکم ماصیا کے سینا تکی 
گرم تکرنا گناہ معاف ہو بے ہیں او رآ تندرہ ایا کا رم رکن امرش پچ رلوٹ نآ نے 
اے۔ نز الد اپنے بنلد ہکی ہہ ےکس فرخوش ہوتے ہی ںکہفرماد نے ہیں ء جا ج گی 
جا ےئم لکرہ تی ری مغفرت نو سے بی ہویچگی سے ( الہ ہما ری سینا تکوجھی مجاف فروارے 
آ ین ) وادا م۔ 

باب : مَا ِيْ حَافْیْ یَرعانِإِلی الله عَزَوَجَلَ 

باب : ددمحاففاعمال فرشخو لک بارگاد رٹ العزت مشںشہادت 

)٣۸۹(‏ عن انس بن مالک نہ قال: : قال رسول اللہ گےلئ: 

”ما مِيْ حَافظَیٍْ رع ِلَى الله مَا حَفِظا مِنْ لی او نَهَارِء قہ يجة اللَهفِیْ 
ول الصُحِیْقةَوَ فی آخر الصُّحِیْفة عَْرَاإِلَا قَال الله تعَالی: أهْهِدكُم انی فە 
غَفَرتُ لِعَبدِیْ مَا بین طرَقی الصّحیْفة.“ (ضعیف] (امخرجہ الترمذی, ج٣‏ :۸۷ 

ضرا تما لکی ابنتراء وانچا اعمالی صا یہ یرہ وء 
نذدرمیا پی سننات معاف ہوجاتے ہیں 

(۸۹)) تر جم :اس من ماک نل سے دواایت ےک رعول الد جا نے 
فرمایا: جب محافظط اعمال فرش رات ودون کے اعمال نا مہ ل ےکر اوبیہ جاتے ہیں او ربق تل 
مجدہ اس نام اتما لکی ابتداءاور اخ ء جس خر وھلائ یکو بے ہیں تن تھا لی غرماتے 


م۳۸۵۸ 


سب کک وم 
فآ۷رہ : محیفیۂ انا لکی ابتذاء واشچائش جب شیا نکی ہو ںکگی اوردرمیان یش 
720 ۹ی یی 
وضاحت آکی ےکہ بمحافط اعمال فرش حصرد ریس ابی ای ذمرداری سنیجا لے ہیں 
جتی ج کی ماز جس جب انسمان ہوتا ےن رات کےف رت جاتے ہیں اوراٹ یکتاب وحفہ 
یس ہخریتمل نماز ٹچ کھت ہیں اورآنے والا فرشنہ ابندائیعل اپنے صحیضہ میں نماز ٹج 
ارجاتے ہوۓےآخر یل نما زحص کا سے ہو اللہ اک عحصرو تاور روح ر کے ورمیالیٰ 
سینا تکومحاف ف رما ہی سکہ ہ رمحض کی ابنراء داجناء دوٹوں بی نماز_ پا دورما ی حاات 
کااختپارک ںکیاچاتاءکوہ ارحم الراحمین و خیر الغافرین ے۔ 
باب : وَعِرّيی لا اَم َلی عَبدِیْ حَوکیْيٍ وَأمَینٍ 
باب :مھیرے بندے پردوھاتنیں جع نی ہوئی 


)٦۹۰٤(‏ عن آبی ھریرة ظللہ عن النبی غلٗ فیما یروی عن ربہ جل و علاأنه 


قال: 
کت وم الَقَيَامَةہ وَإِذَا امنِیٔ فی الڈنیا اخفْت وم الَقَيمَة“ 
[حسن] (أخرجه بن حبان فی صحیحه ۲٥۹٣/‏ موارد) 
دوان اور وو و فمٌ ںول کے 
(۴۹۰) 7 جم : ححضرت الد ہر یریلہ سے روابیت ےک رسول ادا الد 
رٹ اعت سے روایہت کر تے ہیں جن بل میرہ نے فرمایا: وکومیبری عز تک یحم میں 
اپنے بندہ پر دواصن اوردوخوف جح کی لکرو لگا بندہ جب دنا یش ھ سے نا نف ر باءل 


گن 


قیامت کے دن الن واعھنان دو گا او رادناش جھ سے بے توف در با نے قیامت کے 
زع ای اوعزاب وتوف یش رکھوں گیا۔ (اخرج امن حان ‏ ض۲۴۹۴) 
جود اٹ الد سے ڈ رتا ےآخرت میں اس کے لے ین وسکون سے 

)٥۹۱(‏ عن شداد بن أوس ظلہ أن رسول الله ٭ٍ قال: 

”فا الَۂ عَرَرَجَلٌ: وَعِرٌي یا أجْمَم بی أََييِ وا حَزْفْنِإِنْ 
هو أَِسَیی فی الَيَا احَفنهيَوْمَ امم یه عِبَادِیٔء وَإِن هُوَ عَاقبی فی الڈنَی 
امَنتَة وم َجْمَع فيْه عبَادِیٰ.“ [حسن ٹغیرہ] (آمحرجہ أبونعیم فی الحلیةہ ج: ٦ء‏ ص:۹۸) 

)٥۹۱(‏ 7 جم : شداد جن اوں خان سے روابیت ےک رسول الد لان نے فرمایا: 
جن بل مد و نے فرمایا: یھ میری عمزت وجلا لک یحم :یس اپنے بندوں پر دوامسن وششلنء یا 
دوخوف وپ بای جع نی سکرو ںگا۔ اگ بندہ دنا ٹیش مبرکی پڑ وعزاب سے بے خوف 
زندگیگ زا ےو میں جس( قیامت کے ) دن لوگو ںکوئ کرو ںکا اس دن ءا ںکو(اچپۓ 
عزاب سے )ڈراو لگا اوراگر دہ دخیاشیش (عذاب سے ) ڈرکرزندک یگز ارتا ےو میں جھس 
ون لوگو ںکوئ کرو کا اس دن ا کو اپنے عراب سے اصکن اورپ نکی دی دو ںگا۔ 

دای اص نکاس کی کیا ے؟ 

نی بل مبدردنے وانع وریہ بی لاد کم ضیا تکیا ہیں ؟ اورااس پر میک ےکا انجام 
کی ےا ساتھ بی ہکات اور ان کا امام بھی تل دیاءگر وولوں د بج رشعوری 
نیت ںکا رفرما ہیس مرضیا تعن پرانما نکوآ خر و ءکو یتو ٹہ ڈالقی ے یا ہے 
ستیء جوا ریک رانوں یں :تھائی کے مکان یں اورزرم زم مت وں پر می نکی ساس سے 
ہو کین : ٦‏ 09 پرآمادءکرل ےک جو یت بھی کرو 
کر و سرن مس لککرات ءعقیرت وا تام ہحظمت وہر ائیء امیر وتوف 
کے لے بے رشتوں سے بے مکی بازش اورشل ور ےکا میتے ہو ۓ قنطرا کی 


ۓ۳۲ 


ڑیاں ا نکی چوکیٹ پرعقیر تکیا مین خیاز سے شی لیکرتا ہے۔ ا یکا نا و خوف ےا مہ 
وت جم سکو یہاںم لگفیء دای اصن ا سکونحیہب ہہ وگمیااو ری کا چور کنا پچھرسیینرز وری 
نا ء گناہ و محصی تکرنا پچھر وندناتے پچھرنا۔ ای کا نام نے مہلکات ہے جو فرون 
ہے اسبا بکو 11 ٗ ومحصیت کے آخار پدہ انجاح پد اور 
مات سوء کے ساتھ بئس العصر ز۴ا ےق ا ک۔ 

”لم انا نَسُنَلک مَحخَاقَةً تخُْجڑنا عَنْ مَعَاصٍِیُک, آمین!“ 


مولی عزو یم لکی اد سے ضاشل ہوناعز اب بی نے 

دنا داراصمل ے اورآخرت دارائجزاء ہے۔ دخ بیس الد پل محجرہ کے عخزاب سے 
ڈرنا ایک لیم تبینامل صاع ےمج سکی جقزا مآ خرت ٹیل اشن وامان ۷ راحت وفرحت ء 
خی وصرت ے اور دیاوی کی ہں عزاب ۵۶ ۶۶ ۶" 
خی تکوکبھلادیناے۔ نین سے بے توف زندکی بذ ات خودایک ع اب بی ےکہ بندہ 
مولیکی ات ںان سے اودائ ںکی سڑا سے ات چ ول خوف ووہش تک مقام 
سے اس سے وہاں ڈدایا جا ےگا ہگو ہا دنیادئی خوف دراصسل ابدکی ا نکا پیغام سے اور ہے 
خوف ر ہنا ابی ذات وروائی ہے۔ الا مان وا یا ؛ق رآ نحییعم مین بل مہ کا ارشاد 
ے: فان اوَلِيَاء ه الا المَتقُوْنَک 

الم اجْعَلَ مِنْهُمْ بِفَضلِک يَامُجيْبُ يَاسَمِیْعٌ الأفَاء .آمین! 

ٹیاں براتو ںکومٹا دکی میں 

: عن شداد بن أوسشلہ قال: قال رسول ڈ لا‎ )٣٤( 

كَ التوْبَةنَغْسِلُ الْحَوْبةَوَإِنٌ الْحَسَنَاتِ بذْهيْنَ السَیعاتِء وَإِذا ذکر 
الْعَبْدُ ره فی الرّخاء انْجَاۂ فی الاو لک بأن الله َال َقُْلَ: لا جم 
ِعَبْدِیٰ بَا أمَْیَْنء ء ولا اَجُمَع لَهُ حَوْفَيْن إِنْ هُو امنبی فی الڈُنیا حَاقَییٰ یَوم 


۳۷۸ 


مم فيْه عَِادی وَإِن هو عَاقبی فی النَيا مه يَوُم امم یه عبَادِیٔ فی 
َظِیْرَة القُذسِ فَيَدُوْم له أَمنَهُ ولا اَمْحَفَة فِْمَنْ اَمْحَی.“ 
[حسن لغیرہ] (أخرجه أبونعیم فی الحطیة ج ١‏ ص۲۷۰) 
 )۴۹۳(‏ ه بحم : شدادین او مہ سےروایت ےک رسول الد اتا 2ھرتئ., 
بے شک وب صا فگرد تی سےگنا ہک گند یکو اور بی مثاد بق سے بی 0 
اور جب بندو تی وشسرت می ایقد ا ککا ذک رکرتا ےو اللہ اک بلا ول سےنجات دے 
0 لا 0 0م ا 
4 حالت شس دومرتت خی وسر بت گن ہونے کک دو ںک لی دوم رت توف و تولگری 
مخ ہونے دس کا اکر نرہ دنا میں مہرے عراب وعقاب سے نے خوف ر بنا ے لو 
امت کے ون بنارہکو(عزاب کے ساتجھ ) خوف نکر میں ڈال 0 رہ دا 
ےی بسرکرتا ہے نے قیامت کے ون ال کو اپٹی تیر ة التقدرس مس ایے 
عذزاب سے بےخو فکردوںگاءسڑی اک بنلدوں کے جشت بیس رت ےکی ہیس یش ری 
نع کون کی گی نکن لاک رو ما زان کون ملین ای کوشا کی نکر کا نیک 
عزاب دعقاب ہوگا اورسزاد یا جا ۓگا- 
قانوپن ای داری نکی الکن واما نکا ضان دے 
ایل پاک کے اکا مکو مانناءع مکو الا ناء شریعت کے تقانون کے سان ایے 
مطروضہقو ا خی نکی نیا دکونڑد یناءاپٹی ذات ونس کےخلافء ایل یا ککی ش رمع تکونافز 
رد بناء الد تعا یکا توف سے اور ایی لوگوں کے لیے جظی رۃ القدیہ اک رہن اور 
کور ماحول ےء اور جو لوک مین ما یککرتے ہیں تقا نون ای کے ساس ائے فرسودہ 
بببودہتقا فو نکو دش حکرتے ہیں اور تعال یی عدود بیس قدم رھت میں اور وہ اللہ پاک 
سے اپ ےآ پکوااس دنا میں فک کرت ہیں ۔ا نکی سزا قیامت میں بی 
اتیل گی ڈداارے رت ران فیپ گا لرخ7 


۳2۲ 


ان عالا ت کا عادکی ہنااتھا اود یرعالات خود بر مسلط سے تھ جوفھس ابی لی اوکمائ یکو 
خودضا حکردیتا ےو وقت پ نا کاب یکا گل خی ر ےکی سک رسلا کیونکمہ مال د مار ایا نکوخود 
ضا حعکیاےاورآنے وانے دن کے لیے یس رکھا۔ 
اللَهْمْ اهُِنا الضِرَاطً المْسْتَقیْمَ آمین! 
پور خطیہدرمت ر بائی ے 

ق ران ہیر بیس فے کا عم ادٹدتھالی نے بار بار مس نکودیا سے اورت ہہ سے بند کا 
رشت لق ال توالی سے خوب اسقوار ہو چا تا ہےء ای لیے سا ہا سا کا رانا جم ایک پگ 
نذ ہہ سے ول جانا سے ۔اللدتالی نے ق رآن یمیس اس یکوف نو کا نام دیاے اور 
الد نگم دیاے۔ 

ھا الدَِْ اما نووا إِلی الله توب نَسَوُحَا) 

اےاپمائن وا لوٹ رواٹ دکی طرف صاف دو لک 9۔ 

لو لصوں 

صاف د لک نو بہ ىہ س ےک دی میں پچھر ا گنا کا شال نر اگ روہ 2 
بعدان ھی خرافاتکا خیال ب4آ ا چھو ریش پور رہکئی ہے۔ او گنا ہے 
نہ ںی -”َرَقَسَا الله مِنهَا عَظًا وَافرا بفَصْله وَعَوْنه وَهُو عَلی کل شَيْءِ 
َیْرُ“ (قیرخن) 

بفوبی لھا سے حر ت کون کہا نو یصو بی ےک گناہ سے فو کر نے پچ رکا 
کیطرف ددہارہغلاے جیے دودہو لو فکرنھن می ںی جات بین 

تن ن کہ اکہفبہ نصوں ہہ ےک شلگنا نہوں پر پیشیمان ہواو رآ سد گناہ نہ 
کمرن ےکا پتتدارادد٥کر‏ نے_ 

کی ےکس نو ےلصوح جار یزرو ں کا وص ہے زباان ے استغفارء اعضاء بدن 


۳۵ 


کو (ممناہوں سے ) روکتاء دوپارہ کر نے کا دل سے گر اور (ہرے) پرکار ووستوں 
کوگچھوڑد ییا۔ 

عَسلی رَبُكُمْ ا لآ بیت می لگنا ہو ںکوما فکمرن ےکی امیر لاگ یگئی سے اس میں 
اشمارہ سے ا با تک طر فک نوہ بجاے خو ومن ہو ں کی معائی کی موج بکڑلء الد 
( متا رکائلل سے اس ) بر وداج ب کیل بن ےکوامبید ور مکی عاات یل ر ہنا جا بے_ 

نیاہوں اورنمتو ںکا موازد 

رت غیت انس کی رات بَا ھا ےک رسول اد چا نے فرمایا: 
امت کے د نآ دٹی کے مین رجمٹربھویں گے ایک رججٹ ٹیش اس کے یک اعما لکا اندراع 
ہوگا دوسرے رجٹرمیں اس ک ےگزاہ کس ہو ہہوں کے او رتیسرے میں اول دک تی 
ؤھَْ0 کرو مر جا یسب ےحمل تن سے ال 
ےی ری کک نی ای یی سے تھے اتی نی دا کو ےو 
نت تھام کیک ائما لکو نے ل ےگ ء او رع ضکمر ےکی تی عمز تکی سم ابھی فو میں نے 
انا را معاوض لیا بھ نیو ںکہقام خیکیاں نم ہولکیں او کنا( و سب کے سب ) بائی ہیںء 
پچھر جب الد بندہ پر رک مکنا جا ےگا نے فر مات ےگا میہرے بنرے میں نے ترک یسیا ں ڑا 
کمہ چنلدگن کرد میں او رت کی بداعمالٰیوں سے درک رکی اوران نحت تھے بنش دی۔ 

حجات ال کی رقرییت ےت 

کچ بناری و سکم میں ححضرت ابد ہریرہ ول دک ردایت ےآ یا ےکہرعول اللہ 
ےق نے فرمااتم میں ےکک یکو کال ہرگز جات (دوزغ سے فاظت )نی در ےگا ء 
سحابہ ینہ نے عون کیا ءآ پکوچھی اے اید کے رسول ا ؟ خر مایا جک بھی یں سوا اس کے 
ک الا جآ مک کک لے(اورکوٹی یا تکا ذر یکڑل اس ضوع 
کی احادیت بب تآگی میں )- 


۳۵۱ 


اعمای برگھروس شکرلو 

7 نے تر تی خللدکا ردایت سے بیا نکیا ےک رسول اللہ تا نے فمرمایا: 
نے اٹھا خی اس ئل میں سے ایک نا کے پا دیٹجگ یہار امت میس جوائل 
طانعت ہیں ان ہ کرد ہک اپ اعمالی پرکج روس ہک ری سوہ قیامت کے دن بن بندہ 
کو میں صا بھی کے ےکا آ1 اگ عل اتا اسان پر 
جا ہہوںگا فذائسں سے حخت حساب لو لگا اور ںکوعذاب دو لگا اوراپٹی اممت کےکنہگا روں 
ےکہدددکردہ مالپول نہ ہولء یل پڑ ےگناہ محا فکردو کا اور جج ےکوی بر واجییں _ 

(تقیرظری) 
نراممت :حور لا فرماتے ہیں نادم ہونا ھی نو کر نا ے۔ 
۲ برایڈداوررسو لکی رضا کا جب ے 

رت أُلی می نکحب تہ فر ماتے ہی ں چم ںکہا گیا تھاکہ انس اممت کےآخ ری لوک 
قیامت کےفری بک یاککیا کا مک یں؟ ان یس ایک بی ےک اسان اپٹی ہیوک یا وٹڑی سے 
اس کے پاخانہکی ہیس وٹ یکر ےگا جوادڈداوراس کے رسول یا نے مل مرا مکردیا سے 
اور جش نعل پرایداوراس کے رسو لکی نارصگی ہوٹی ے١‏ سی رح مردمرد سے بڈ یکر میی 
کے جواا" اور رسو لک زارائصک یکا باعث سے ۔ ان لوگو کی نما زجھی ایر کے ہاں مقبول 
یں ج بک ککہ لب تو کر یں۔ 

ضرت زر نے حطرت لی ای نکحب نہ سے لو بچھا نو ؛ تو حکیا سے؟ فرمایا: 
مس نے تضمور یے سے بی سوا لکیا تھا نے فر مایا :فور گناہ ہوگیانچھ راس پر نام ہوناء اللہ 
تعالی سے معائی چا ہنا او ریچ را سگمنا ہکی طرف مال نہ ہونا- 

صن فرماتے ہیں وی نوج یہ ےک جی ےگا +کی عحب تھی دییا ج یفن ول میس 


۲ 


٤‏ ۶ ٌىٰٔ‌۲ وت ری 
مر لت ےاارا ا ریا رتا ےو الیل تا لی ا سکی تام ای خطائیں ماد تا سے جی ےک 
عدیت میں ےکا سلام لانے سے بط ہکی تام خطائیسں اسلام خ کرد تا ہے اورلو ہہ 
سے پل ہکی تام خطائیں و وخ تکرد تق ہےء اب ری یہ با تک نو لصو میس بشرط 
بھی ےک نو کر نے والا تچھرمرتے دع ممتک ا گنا ہکو نکر ےء یا صرف ا کا عمزم را 
کاٹ ےکہاسے ا بھی زدکرو لگا کو یا جرب خقتقناے اش ربیت کول چوک ہوجا ے- 
(تی رای نکر) 
وب کے جارکان 

اورصضر تک یکرم الشدوچہہ سے سوا لکیالگیا مہف بہکیا ےا وپ نے فر نجس 
ٹس بچھ سح ہوں: 

() اپ نگزشتہ بر ےل پرندامت۔ 

)۲( جوف ال وواجیات الللدنعاٹیٰ کے کچھوے ہیں ا نکی قضاء- 

(۳) کسی کا مال وغی :ظا لیا تھا تا سک وا پی_ 

(۴) کیک اھ یاز بان سے ستایا او نیف بببیائ یھی نو اس سے معانی - 

(۵) آنتمدہ ا گناہ کے پاس ند چان کا ن۶م وارادہ- 

(۹) اود پپک سط رح اس نے انف سکو ایل کی ناف مال یکرتے جہوئۓ دیکھا 
سے اب دہ اطاع تکرتے ہوئۓ دس لے (مظری )(متارف اقآ ن مفتی اکم ) 

فو" اصو ںکیاغیر 

(حافظ ان بجر نے نان بن دنر طفانہ سے ددابی تکیاےفرماتے ےک میس 
نے ہر تعمرین النتطا ب ذیلہکوخطبہ دن ہوئے سنا ءفرمار سے ت ایا الَذِیْنَ امَنُوْا 
کرت تی ال توب نصوا پ4 ک لاصو بی ےکانسا نگمناہکر لے نو اس سے 


۳۵۳ 


جا ہمواوراس رر عکک ہگ گناہ دو پارہ نکر ے مسغیان نو ری یف ر ات ین ران مرخ 
ارادہ کے سا تھے کر ےک پھر ہکنامکئی سکمر ےکا اس طر حکبارت پننین وائمہ سے متول 
ہے اور ظاہر ےکہ میعزم اور پیندارادہ ای وفت ہوسکتا سے جب انسا نکوہیے ہو ۓےگناہ 

رندامت ہو ای وجہ سے نف روایات یش سے التو پت الند مرو برندام تک نام سے ) 
(جن بص ریف رما پاکرتۓ تھ و بے اوح بی ےک تم گناہ سے نوہ کے بح کنا 
سے اتنی بی نف تکرنےللوء جس قد رق مکواسں سے پیل ال لکنا إہکی رخت جیا اور جب ال 
گنا ہکا خیا لآ اس سے بارگاہ رٹ العزت میں استغخفارکروء احادبی ث چیہ میں سے ہہ 
انمان کےگنا ہو ںکواس رح اتی ہے جس طر کہ اسلام اس سکنل س ےگنا ہوں اور 
خطائو ںکومٹا جا ےء اعاد یہٹ یش سب الامتنففار کےکلرات ای میق تکو وا جرد سے ہیں 
بند وت نال ی کی ر بوبی تکا اقرار واعتزا فکرتے ہو ایک طرف اس کے انحاما کا 
تو رکرے دوسری طرف ابٹی خطاول اورشعیجرا تکو دجھے یقدۃ اس بر ایک نرامت و 
شرمندگ یک یکیفی تقلب ٹیل پیدا ہوگی اس ندامت کے سساتھ ا گنا ہو ںکی معائی طلب 
کنا او رآتندہ کے لیے اپنے رب سے چہارکر ناک بل رآ مد تھی الا مکان بی اس طر کی 
کی اشن پرالند سے محددماگے اوراپی ہمت ولونض اىی برصر فکرے تو 
انثا ء الد لوپ لاصو ہوگی اورامید سے ال پروی تمرات مب ہوں کے ہج یکا وعرہ 
جن تعالی شاننے فْر ایا وَمَاذٰلِک عَلّی الله بمَزیْز رَبَاعَلَکَ تَوَ لت وَالَیک 
ولیک الْمَصِيْرُرَبَنَا فَاغفِرنا دنا وَكقرعََّ ملا وَتَوَََا مَع اأَبْرار 
(معارف اق رآ ن کا نرتعلوکی ءگلمدستہ ح:ےكض:۲۱۸) 

قو کا مال اور یکی برلت 

بندہ جب بارگاو رٹ العزت میں فو کرتا سے و پھر اش نقالی اس بندہ کے نامہ 
اعمال س گنا ہکومفاد نے ہیںءاس کے اشرات وآ خا رک مکمردینے ہیں اورولی سےگنا ہکی 


"۸۳۴ 


قرۓ زورآرور ت لرگ ہے ںہ پچھر بندو جب مک یکرتا سے و ول پراتما لک لور اور 
انابت ال ی الل کا میلان پرا ہون گنا ے۔ بھی اید تال کی ہڑیافقت سے جج سکی قرر 
لی جاہے۔ 

ق رن مجیر میس سورہ ہود بیس این دنا لی نے فرمااے: 

ظنٌ الَسَتِ ذْهِيْنَ السّیّاتِ ڈلک ذگری لا كریْنَہ 


ایا سز تن ہاو ںا ہہ ادگ رگ ے یاد رک والو ںکو_ 
یچیاں برائو ںکومٹالی ہیں 

یی نمازو ںکاتقائم رکا ءا لک بادگا ری ہے یسے دوسرکی یر ای:آقم الصّلٰةَ 
لی باب مطلب ےک ا الْححسنتِ ہین الال کا ضابطہ یاد کے والوں کے 
1 0,9 نرک رناجچا ہے کیونکہ اس سے می نکوشیو کی 
طرف خاص ترغیب ہوٹی ےہ حرت شاہ صاح بے ھت ہی ں کہ ٹکیاں دورکرنی ہیں 
پرائیو کو جن ط رح ء جو شیا لکرےہ ا سکگی برائیاں معاف ہہوںء اور جوٹیلبیاں اخقیار 
کرے اس سے خو برائیو کی کچھوئے ء اورجنس ملک میں یکیو یکا روا ہو وماں عدابیت 


آئے ءاورگراہی یکن خوں حچکہوزن طا اب چا ہے جقنانتل اقاصاین“ 
زیر ن) 


سن میں ےآ حضرت چا لے فرماتے ہیں جس مسلمان ےکو یناہ ہوجاۓ پھر 
وض وک ر کے دورکعت نماز بڑھ نے نو ال'د تھا لی اس کےگناہ ماف فرماد با ےہ ایک عرجہ 
رت عنان یلد نے وس کیا پچرفرماما: اسی طرح میں نے رسول اللہ ٹکو و وکرتے 
دیکھاےےءاورآپ لا رانا تن ےکن وضوجی) وضولرے پی روورآعت نماز اوا 
کے یس میں اپینے دی سے با ٹیس نہکرے ے اس کے تمام اک گناہ ما فکرد ہے 
جاتے ہیں ند میس ےک ہآپ نے بای منوایا وق وکیا بچلرفر مایا : میرے اسی وضوکی طرح 
رسول اللہ چلقا وضوکاکرتے تح پک رتحضور لان نے فر مایا جومیرے اس وق وجیں وض وک رے 

۵۵ 


او رکھڑرا وک رظ ہی نماز اد اکرے ا کی بب سے لک ےکر ا بکتک کےمنا ہ محاف ہہوجاتے 
ہیں ہل رحص رک ماز پڑ ھے نے ظہرسےعصرکک کےگزا دہش دے جاتے ہیں بچلرمخر بکیا 
مان اداکھرے فو عحصر سے لک ےکرمخر ب کک کےمناہ یش د بے جاتے ہیں ۔ بی ریعشرا کی 
ماز ے مغرب سے عشاء تک کےمناہ محاف ہوجاتے ہیں ء پچھ ری سوتا سے لوٹ لوٹ 
ہوتا سے کی رع ال ھکرنماز چ ربڑھ لے سے عشثاء سے نےکر کی نما زتک کے س بکگتاہ 
دے جات ہیں کی ہیں دہ چھلا نکیاں جو برائتیو ںکودو کرد بت ہیں - 
ا نمازو کی مال 

3 عر بث یس سے رسول الد ٹلا فرماۓ ہیں :لا 2 اگرتم -- ہنی کے 
کان کے دروازے پر بی شہرجادیی ہوہ اوردہ اس ٹیل ہردن با مری نس لکرتا ہو کیا 
ایس کے عم پر ذراساجھ ینیل بائی رہ جا ےگا ؟ لوکوں تن کہا ہرگ میں ءآپ چا نے فمرمایا 
س سی ال پا نمازو ںکی ےکا نکی سے نا ا کس لاف 7را 
دنا سے مسلم میں سے رسول اللد لا فرماتے ہیں پا چوں نمازگل اور جحعہ سے بحع تک 
اور رممضمائن سے رمضما نت کک ا ارہ سے ج بک فک کی کنا ہوں سے بجی کیا جائے۔ 
مندا میں ہے پرماز اپینے سے پیل کی خطا و لکوماد بنا سے۔ 

بی اصول بوری مت کے لیے سے 

باریس ےک ینوس نے ای کعور تک پوسہ لے لیا پر حضرت چا بغانت 
ا لگناہکی ندامت مھا ہرکی اس پر بآ یت ات گا۔ اس ن ےگہ ایا میرے لیے بی بیخصویس 
ہے؟ آپ ا نے جواب د انیس بل می رکی سارکی اممت کے لیے مھ یحم سے۔ ایک اور 
روایت میں ہ ےکمہ اس ن ےکہا ٹس نے باغ شش اس عورت سے سب بیج دکیاہال جما 
نی سکیاءاب بی حاضرہوں جوسزامیرے ل ےآ پتجوببزفرمامیں ٹیس پرداش تکرلو ںگاء 
ضور لا نے اےکولی جواب شددیا اوردہ چا گیا ءححقرت حر لان نے فر مابا: الد نتالی نے 


مس 


ا سک پردہ پٹ یکیی اکر یھی اپنے کی پردہ پٹ یکرت ہآححضرت ےہ برابرا یش کی 
رف د یھت ر سے پیل رف مایا :ا سے والیوں بلالا 2 جب ہآ گیا نے آپ لا نے اس یآ بی تکی 
علاوت فرماٹی۔ اس پر رت معائڈ نے در یاف تکیاک کیا برای کے لے سے؟ آبپ چا 
نے فر مایا یہ بللمرسب لوگوں کے لیے ہے۔ 


حضرت ال وا لوس مذ یل کا واتم 

منداحرییش ےک ای کفٹئ فرتعم ر جن خطاب اللہ کے پا ںآ با او کہاک ایک 
یل کے ےکآ یں کن اک ان نے ان ےتآ 
کے اور ہرط رح لطف اندوز ہوا۔اب جویم ای ہدوہ جھ پر جار گکیاجاۓ ۔آپ نے فرمایا 
شایدا کا اون غی رحاض رہوگا؟ اس تن ےکہا ہی ال ! می با تن ءآپ نے فرما ام چائء 
(صطرت) الوبگر صدیق یلاہ سے ب مل یھو حضرت صدلقی اکر جہن بھی بی سوال 
کیاء بی ںی آپ ن بھی حضرت عم رز دی طرح فرمایا بچھرو ہآححضرت جا کی خحدمت میں 
حعاضر ہوا ادراٹی عالت بیا نکی ءآپ چان نے فرمایا شاید ان کا ماوندراوقیٰ م گیا ہوا 
ہوگا؟ ینف نکی بآ بیت اتر کی فو وہ سکنے لگا کیا ىہ خاصھش میرے لیے ہی ہے ۲ 
حر تعمررخلہ نے اس کے سے پہ تح رککرفر ما نیس اس رح صرف تیرىی ب یہنحیں 
نر یجس ج کے کت لکن کی لے عام ہے۔ بک نک رحول اللہ خلا نے 
فرمایا ھمرذلہ جے ںہ امن جر یہ میں ےک دو عورت مھ سے ایک وہ مکی مجورمسی 
نے مین 9ص 99۰ ۹ بب 
دواندرگئیء ٹیں ن بھی اندر اک راسے جوم لیا۔ بچلرددجضرتعم الد کے پا گیا ذ آپ 
نے فرمایا الد تاٹی سے ڈراور انف پر بردہ ڈانے رو نغ ابوالیسم <ل کت میں ججھ 
سے صبرمہ ہو سکاء یل نے چاک رتحضور چلا سے واققعہ بیا نکیا ءآپ جلاف نے فر مایا انوس لو 
نے ایگ نا زی مردکی ال کی خیب رعاضری میس ری خیاخ تک ء یش نے فو نک نکر اپ ےنیس 


ےۓ۵ 


جک یھ لیا اورمیرے ول میس خیا لآ نے لگا ک ہکیائش می را اسلام اس کے بح دکا ہوتا؟ 
تضور ا نے ذرا سی دب اپ یگردن جچوکالیء ای وقت حضرت جی فی ےآ 00 
اتڑے این جم بیس ےک ٹیش نے ا٦ک‏ رتفور چلاقا سے ورخواس تک یک ال دک مقرر 
ےت 0 .2:]/ بی کہا نآبپ فا مان اح ہهتےۓے 
ق در یافت رما یروش شکہاں ے؟ ال کہا مور پا ایس حاضرہوں۔آپ لا 
نے فر مایا ہٰنے ای طرح وضموکیا؟ اور جمارے ساتھ نماز ہتھی؟ اس و 
آپ ا نے فرمایا ہس نو فو الما بھی ہے جیسے انی ماں کے پیٹ سے پیرا ہواتھا۔تجرداراب 
کوٹی ایی گت تک ناء اورایڈد تھی نے بی یت اتارگی- 
نمازوں ےگا نٹ رجا ئے 20 

رت الوعنان اکا بیان ےکہمیں حضرت سلمان دی کے سا تج تھا ء انکھوں نے 
ایک درخ تکی شک شاغ کرک را ےیجھوڑرا نو تام خیک تن تٹ رگئے ۔ بیرف مایا :ا وعطمان 
لہ ام پچ نت یں ہوک ہیس نے یکیو ںکیا؟ شش کہا ہاں جناب ارشماد ہو فرمایا:اسی 
رب مھیرے ساتھ رسول الد جل ن ےکیاء پچھرفر مایا جب رر رو 
کر کے پا نچوں نماز اداکرتا سے فو اس کےگمناہ ایۓے بی کٹ رجاتے ہیں جیے اس خنک خائخ 
کے تنے مب گے ء پرآب چا 9 ,پوپ سے رسول الشد 
1 فرماتے ہیں براکی اگ رکوئی ہوجاۓے نے اس کے تی بی مج یکر وکہاسے ماد اور 
اون نے اٹ ۓخ واصت تن سے جب تجھ سےکول یگناہ ہو جا لو 
اس کے ےی 0 کہایارسول ال هلگیا لا اللہ اڑا ال 
ھن بی بی ےآ پ پا لوب و ہے ائوینلی میں سے دن 
رات کےجس وقت می سکوئی لا لہا لپ ھےاس کے نار“ اعمال شی سے برائیاں مٹ 
انی ہیں بیہا لک ککہا نکی ہہ وی جی ٹیکیاں ہوجالی ہیں۔(تقی رب نںکیر) 

طہرالی نے حطرت ابن عباس نیل کی ردایت سے با نکیا ےک رسول ار یلا 

۲۸۵۸ 


نے فر مایا خی گی برای بد یکا جس طر خولی کے ساتھ پچ اک کی اوت زکی کے ساتجھ ا سک 
جاتی ہے اتی والی اورکئی خ ریش نےنہیس دیشھی ۔( مت ے/ ۰٣۳م‏ 

تی ری جززحدیٹ یل جلا یک یکہہندہ جب خی کے دطوں مس اپنے ر بک باد 
رکتنا سح بل مہ بلا وس یں ا سکی نصرت دمددکرتے ہیں او رمشکلات سے نجات 
دپننے ہیںء اب ایمان بچھ راہ لتق ٹ کب اپنے رب سے خاشل رت ہیں ا نکی زندگی کا 
متصودتی بارالی ے_ 

بنرو ںکوترغیب ونشولقی ولا کی جاردی ےک مححیبت و بر بای میں ن بھی ارد تا ی 
کی رف رجو ہوتے ہیں گردہبندہ جوخونٹی وشسرت کے عالم یش اپنے ر بکو یاد رھت 
تےان پر بر بای وحالات میس د لکوقرارہ پان ٹیل طمانبیت حالات یل اخ راب :یں 
ہوگا پل بح اود میس اضافہ ہوگاءا لیے پی وقت بندہ آزمایا جاجا ےہ اگر حالات و 
مشکلات بیں رٹ الا ٹن ےلمع کچھو گیا ربباٹد گمیاء بی علاصت ےکہعذ اب یں 
گرقمار سے او راگ عالات میس پپیلے سے زیادہ رجوع واناب تک شان پیرا ہوگئی سے اذ ہے 
دلیل ےکہ بلاچیں رسحعت ے جواشکل زحمت سے اگر بل ء ومصبیبت میس جز ‏ فرع لو 
شحکوم اورعبارت اورا طا عت می ںفلل ہور باہ ون بنلدہ کجےکہ ربخاب عحقاب ے اورفورأء 
فو واستغفار سےملاٹی مافات رو ںحکمردےء ایک عد بہٹ می ںآ یا ےک بندہ جب خی و 
سرت کے اکم بیس دھا کا اما مک یاکرتا تھاء خو بآ وزارئ یک اکنا تھا فذ جب پر بای 
آجاپی ے اوردعاکرتاے فو فرش کے ہی ںکہ جاٹی بچھاٹی آوازےء اور مانوں فریادو 
مناجات ہےء اگرفٹی میس اللد تھا یکوفرامنش سے ہوا تھا اور پ بای می ایلرک طرف 
عوجر ے نے فمرشت کے ہیں غیمرمانویں واج یآوازآردی ےء اس لیے خوڑقی ووسرت کے 
نوں می خوب مناجا تکا اجتما مک نا جا یے۔ ال تھا ی “یس ای ذا تکی طرفکما ل لاج 
اوران ب تکی نیقی جن ءآ می نم آ ین ا 


رس 


ہے“ وو ے۱؛+ گے ےک و ۔ل)(١۔‏ ہھ 7.۳ 2-7 یم 
باب : مَا غضبُتُ عَلی احَدِ غضبیٗ عَلی عَبْدِ آتی مُعصیة -- 
پاب:محصی تکومفقرت اوررحمت کے متا لے میں رکھنا 
جن تعا لی ےغحض ب کا باب سے 
ٍ6 ص ل؛ ہ0 
اث علی اع علی اد آئی اَی عَقَق 
فَذَوْ شُنْےُ مُعَجّلا القُوْبَة او كَانَتِ الُجْلَة من شَأنِی لَعَجُلّتُ لِلْقَانْطِینَ مِنْ 
رَحَمَتَِیٰء و لوم ارم عِبَادیٔ إِلّ مِنْ حَوْفهِمْ مِن الوّقوْفِ بَيْنَيدَیَ لَمْکَرّتُ 


ذللک لَهُمْ و جَعَلثْ تَوَايَهُم مِنَه الم لِمَا حَاقُوْا. ٍٰ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۳ )١۰۹۰۱‏ 


ہت کان 

(۲۹۳) تر جم :گج سے روایت سے و اللہ با ککی رحعت کےمتحلق سوال 
کرن ےآیا سے سو میس بقلار ہا ہو کت مل مہ ارشادفرماتے ہیں می ںینس پ اتا 
خحضب نا ککییں ہوا ہوں جتنا کہا نٹ پر ہوتا ہوں وگناک کے پھ رکنا ہکومی ری ررعت: 
معائی کے متا بے یس بڑا چانے۔ اگ یں جل رس یکوسنزاد تا مرک شال جمعت کے غلاف 
جلرسزاد ینا ہوا ذس اش لکوسب سے چپ مزاد بنا جو میرک رعمت سے ما لوس دنا امیر 
ہوا ہے۔ میں اپنے بندوں پیر ءا کا میرے ساس خوف ےکھڑرے ہہون ےکی ہے رم 
رتا نہوں _ اور شش 7 و قرے۔ آ و ا رظان 
ٹذاب دبا ہو لیک دہ میرے سامح ےکھوڑے ہہونے سے ڈرتے ہیں اور میں اس سے 
الکن دتاہوںء کش عد آرتے 7ت 


۳+ 


نسا نیف مکیکوتاہی گی 

کیل 00 عادی انان پیش اب ےکوتاءیکم ونصور 
خیال وافکار ےآ گےیں لکنا ءفدر کی فیاضیء رشن و رجیم ومحت گ۲۳۰َ۳ئ۳۸م0( 
کی خی رمحدددی تکوگھی پراپنے بی وبم دخیا لکی دنیا سے د تا اور پرکتتا ےء نال کی شان 
عطاء جودو کوشی ای ۓےکوتاہ ثگاہ سے محردد جاضنا ےء جسہ بہت بی دا او ری ہوئی بات 
سےکمصفا تک وسحمت ذا تکی ضبدت کے لففرر ہواکرکی ےہ ذا تکی گب رىی صفات 
گی ضسعح تکا ند دق ہے رٹ ال تکی ذا تکا نات عال مکحیط ہے اور ا نکی شان 
ےءسُبَحَانَۂ مَا اَغَظمَ شَأنه ء لا یْعَذُ ولا بْتصَوٌرْء تعالی الله عَنِ الجنس و 
لُِھَاتِء دہ و جھمممان سے بالات سے ہم وادراک سے پلندت سے اس کی برشا نع عرودو 
قودے وراءالوراء ہے ایک ہرم وگن ہکا رکوفررت اپنے وسعمت رحمت میں ڈھاخبنا جا +قی 
سے اور ہناد٥‏ ےک گنا ہکوفو وو رکز ر کے سا نے با لصو رکرتا سے ا ےے ند ہکونقی بل محر ہکا 
ا نام ےکا کا ای گنا ہکوفدرت کےغوونس اج کے متقا لہ میس بڑ الو رکرناء ا 
کےگماہ ومحصیت سے بڑا پان کگناہ سے مجئی گنا وکومففرت وف رت اور وسحتِ رحمت 
کے متقابلمہ بی مڑاجا: نا گناہ ومحصبیت سے ہے گناہ سے ۔کبوفلہ وہنا وکوقر رت کے مقابلہ 
ٹس رکور پاے او رقید ہکوخرا بکرد ہا سے گمرقدرت ‏ ےک جات سےکا مکی تی ورنہ 
اپ ذو تر کے سا تج اس رسکی 7 ا سکوسز اض وی مرح تکحن 7 ان 
ا ےک کے ناوات ےک وب 2ن فان 
لیدبت سے اور کی عہانعام ےن وازی ے۔ 

لپزا ند ءکو یا ےک رھ یبھی الو یعکورب نآ نے دے اور شض بی یىی 0029232 
ررقت واسمعہ کے ما بلہ بیس اتپ گناہ ومعاص یکو ڑا جانے ابی ماصی مم ںآپ بڑھھ یے 
ہی کیو تھا ی نےفْرایا:مَنْ لم انی ذُوْقُرَةِ عَلی مَغفِرَةِ الدُنُوّبِ عَقْرْت له رَ 
لا ابَالسیٔ جس سکواس با تکا لقن کال گنا کو متا فکر ن ےکی فعدرت رکھتے ہیں اس 


۳ 


آ رت 7927ی فا ضف 2 
نگاہ رت بر بین کے فر رک ارت لاف ہے مس ہے لب 
گر ہز اظرت کے سا تھ نہ جوڑ یئ ابی ایمانیا تکا مضبو طط رشتہ الڈدتھالی سے 
کی وسحمحت رححمت ‏ مظحمت ورفعت ءفلوت ور رت کے ابفرر وا بسن جیئے ‏ ال نکی جناب 
10ھ+٭*"0١پ‏ 
باب : ر بث عَلیًا ٍى بڈا لِیرَكیَھا - 
بر زا راس تو ا:۳ 
لہ قوَا: جب الب مِن عَبْدہ إِذَا قَالَ رَبَ اغُفِرلِیْ 

دیو ا 
وضع رِجْلَه فی ال راب قَالَ: بسم الله. فَلمَا اسنّوٰی عَلَيْهَا قَالَ: الْحَمْ لِله سُبْحَانَ 
الِّیْ سَحْرلَنا هذّا وَمَا کنا لَه مُقرِيینَ وَإِن لی رَبَتَا لمنقِيوْنَ. تم مد الله تَا و کَبر 
قَلاا تم فَال : سُبْخانک لا إلٰه الا انت قَذ طَلَمّثُ نَفْسِیْ فَاغُفْر لِيْء تم صُجک. 
َقُلْث: مم ضَجکت بَا یر المُومِيیَْ! قال: آیٔث رَسُوْلَ اللہ 8 َعلَ بغْلَ مَا فلت تُمَ 
ضجکَ فَقلُّ: مم ضُجکُت يَا رَسُوْلَ الله قَال: 

”بْعَجبٔ الرّبٌ مِنْ عَبْدہ إِذَافَال: رَبَ اغفْر لِیٗ وَیَقوْلَ: عَلِمَ عَبْدِیْ 
ا غفرُ انت غَيریَ“ [صحیح] رأخرجہ أحمد ج ۲ /2۵۳) 

عوار کال بین بل مد ہکا این بندہیرتجب 

( ۲۹۳))ت بحم عی جن رہہ ادس روایت ےکم میں نے دی ھا کی طلہ 
کے لیے سواری لائ یگئی اک سوارہوں ۔ جب نے رکاب میں انا ول رکھائ فکپاسےم 
اللہ !اجب سواری پمیک ے بیٹہ گ٤‏ کہا:الحمد لِلّهِ سبحانٗ الذی سَحرَلنا هذا 

۳۰۳ 


وما کنا له مقرنین وإنا إلی ربنا لمنقلبون. 4 الحمدلِل تن پا رکہا۔اللّه اکبر 
ین پارکہاء چھ سبحانک لا إلە إِلا أنت قد ظلمثُ نفسی فاغفرٴلی کہا اور ے_ 
ٹس لن ےکہا:امیرالمونن ! آ پکوڈ یکیو ںآگئی اکس جن ےآ پکو پمادیا؟ ع ن ےکہا: 
یس نے رسول الد ٹکو سی ط رح دیک اکرتے ہوۓ جس طرع میں تن ےکیاسے ۔ پھر 
مور با پنے و میں نے سوا لکیا: آ پکوکس جزنے ساد یا ارول الش ا ۔آب لا 
ےرا 

جن مل میدہ بندہ کے ائ مل سےشج بکرتے ہیں جب و وہنا ہے:رب اغفرلی 
ا ال میری مففقرت دے۔ وع ہیل مد فرما جا ے: میرابندہ جاہا ےک ان کا گناہ 
ضر ےس واکوٹی معاف ومخقشرت یں سا (اخدار۵۳/۲ء) 

بنلدہ کےا محترا فعبد یت پرتقن تال یکا جب 

)٥٤٤(‏ عن علی بن ربیعة لہ نہ کان رِذفا لِعَلي طلہ فَلَمَا وضع 
رِجُلَه فی الرٍ کاب قال: 0 . فلَمَا اسُتویٰ عَلی ظَھُرِ الذَابَة قَال: الْعمْدُ 
ِلَه کَلاتا و الله اَكَبرُ تَلانا. 

ہر وب سوب ز(الزمحرف: ۱۳) 

قَال: لا إِلٰإَِا ان سُیْحَانَکَ إَِیْ قذ طَُمْ تفَِی عفر لی 

زی نل راتا ئتہ لم تال آعد جا جک قفلث 
َا أميْرَالمُومِییْنَ ما بُسْجِکُک؛؟ قال یئ گنت رِذف النبي غلاا فَصَنع 
رَسُوْل اللہ کمَا صَنعْث فَسََلنه کما مَأَلَِیْ فَقَالَ رَسُوْل الله ھ: 

”ان الله لَبَعَجبُ إِلَی العبْدِ إِذَا قالَ: ا الہ إِلا نت نی قد طَلمُتُ 
فی فَاغفِرُلِیْ ذنویْ إِنّها َقِرُ الوب ال نت قَان: عَبْدِیٰ عرف انل 
رَبَا يَغفْرُ و يْعَاقبٌ. “ [صحیح] (أمخحرجہ الحاکم فی المستدرک ء ج: ۲ ص:۹۸ء۹۹) 


ب۳ 


( ۴۹۵)ن حم :صلی بن رجہ خلادے روایت ےک می لی لہ کا ردلیف تھاء 
(یشنی یدلہ کے سا تھوسواری پر می ٹیٹھا ہواتھا) ضر تی لن نے جب اپنا رم واری 
کے رکاپ ٹن روا آہازیسے الله ۔ جب چا نو رکی یھ رج مکر یٹ ےل کہا: الحمد 
لقن پاراوراللہ اکب تین ہار ھر 

یح الِّیْ سَخُرَلَنَا هذَ وَمَا كنَالَهمُقِلیْنَ (لرحرف: ۳ 

کہا ۱ 

لا إِللٰ إِلَا انت سُبْکانک إِنَيْ قد طَلَمُتُ نَفْسِیٗ فَاغَفِز لی ذنُوّبیَ إنَهُلا 
...2 لا انْتَ ۔ 

چھرایک جانب ملاسا جھے اور یپ ءنو ہیں ن کہا :امب رالم مین طول ہآ پوس جات 
نے ہنسادیا؟ لیذ لہ ن ےکہا: یس ایک روزسواری پررسول ادڈد جانا کے ساتھ یہ یڑھا ہوا 
تما فو رسول للا نے ای طر کیا شس طرح میس نے (احاع میس )کیاہے۔ فو میں 
نے سوا لکیا: جس طر تم نے مھ سے سوا لکیا؟ نو رسول ارد چا نے فرمایا جع بل مج رہ 
َفْسِیْ فَاغفْر لِیٗ ذُنوْبيْإِلهلا عفر النُرْبَ لا نت ین تھالیفرما جا ے: میرابندہ 
اس ےکمان کا ایک رب ے جومففر تگچھ یکرتا ے اور یھی (ا کم۹۸/۲۔۰۹) 

سوارینض او تال یکافضل سے 

جن تما یکا اما ن ٹیم ےک اس نے انسا نکی سوراکی کے لی ملف مس عطا 
کی ہیں شا یکا کے عهبد میں ہھرکی دبرکی جہازہ دوڑ نے وا ی کاریل اور 
گاڑیاں وغیبرو جن س کا شک اداکر نا اورو لک یگہراکی سے رٹ ذوال یلا لکااحمان ماننا جا ہے 
ہراس تن لف سوار یکو ہمارے اب واوراختیار کے تا بنادیا ۔ ینس الد تال یکا َ 
ہے ودنہ ہم میں اتی طاق تکہا ںعیکہاڑی ارسی چیزو ںک وف کر لیت ۔ بر بل مرو نے 
سخرآخر تکی کرد اددہالٰیکرادیکہ دیھو :رج تم اس سواری پر یکر دنیاوئی منزل 


۳۳ 


ےکررسے ہوقے سفرآخر کون کول جانا۔ بللیہ یر سوارگی جس طر ت مکوتہاری دنیادی 
محرل کے ری کی ےکم آخرت کےچھی قریب ہہور سے وک ایک دا نگم بہوگیاء دوون 
4 ہو گنن وبا تہارکی سوارکی ‏ مکودنیاوئی منزل کے ساتھ سات ھآخرم کی منزل کے 
ری بکھ یکردجی ہے۔اپنراچےکنارہناء ہویشیارر ہناسف رآخرت سے خاشل نہ ہونا۔ سفوین 
مین ٤ے‏ سارک پر یٹک جہاں جار ہدہاش چیہ سے ملک اوت ت ادا انا کر با 

ہوم نے نود ناوک نغٹ کے لے سخ رکا اراد ہکیا ہہوگا : بن رع مان ہے بی مف بہار آخرت 
کا بھی سفرہہوجائے کےا ہد جد یم رات دن ہم وھ ہی ںکیفلا لیٹس فلاں 
ام گیا اود وہیں ا سکی ای لآکی اورسوارکی د وی سف رکا ا ت کر کے خر تکی بی 
منزل بربچھو کر وا لپ ںآگئی ۔سوار یآ یگگرسوار :ہآ یا گا ڑ یآ مرکا ڈڑی دالا ‏ ہآیا۔رعول 
کی علیہ ےل مکی سنت کی ےکہسواارکی پراس دعاکو پڑھاجاۓ بتاک فلت شہہواور 
پرےسفرکی عافیت وراحت رب کے کپ ردکردیا جاۓ اورخودکوڈھی ربکا بنلدہ بنامر یی 
اھ نے 

باب : اَذُع لتَا رُبُک يَجُْعَل لَتَا الصَفًا ذُمَيا 
باب :اپنے رب سے دع اکر کہ ہما رے لیے صفا پہاٹکیکوسونابنارے 

)٥۹٤(‏ عن ابن عباس ط لہ قال: قالت ریش للنبی : اُذ عغ لن رَبُک ان 
ما شف هق ومن یک قال: 

”و تَفْعَلُوْدَہ فَالوْا:: نَعَم. قال اص ِؤٌ رَبُک 
ہے یت ََقَوَل: إِنْ شِْٹتٌ شِنْتَ أَصْبَع لَهُمْ الصَفا ذَمَيا ء 
فَمَنْ كفَر بَعَد ڈلک عَذَبت عَذَابا لا اَعَذَبُْ أَعَدَا مِنَ الْعَالمِیْنَء وَإِنْ شِنتَ 
تحت لَهُمْبَابَ الْبَة وَ الرَّحَمَة. قَال: بَل باب التويَة و الرّحْمَة.“ 


[صحیح] (أآخرجهھ أحمدہ ج )۲٦٦٦۶/ ٤‏ 


کر 


رین کا صفا پپہاڑییکوسن بنا ن کا مطالب اورتن نال یکا جواب اور 
رسول الڈ چنا کا لوبرورہمت کا تاب 
(۹۷) 7 جم : حضرت امن عباس نہ سے ردابیت ےک یش می نے نی الد 
ا سےفر مان لک یکراپنے رٹ سے جمارے لیے دع اکم می سکردہصفا اٹک یکوسونابنارے 
ہمآپ پایمان ےن گے۔ رسول الد چلےنا نے فر مایا :تم لوک ایمان ل ے1 گے؟ 
اھوں ن ےکہا: پاںل! جم ایھان 99 ء029 اللہ ےچ نے دعا اگیء ور وت 
تشریف لا او رکہا: یارسول الد خلا ای رز ویچل ن ےآ پکوسلام جیا سے اورارشا وف رماتا 
ہے: اگ رآپ جاہیں کے فذ صا پہاڑیی ان کے لیے سونا بادی جات ۓےگی ؛ لین بی رجھی نیہ 
اماع نہ لا ےو ان لوگو ںکو ایا عہ تناک ع اب دیا جات ۓگا قریاماع شی گنا 
گیا ہوگا اور اگ ہآپ چا ہیں نے ان لوگوں کے لیے ءفبراور رجح تکا درواز کھول دیا چا ت گا 
(ظاہری بات سے بی رحمت لاف نے )فو براوررحح تکا دروازہ بین دگیا۔ )٥٠۷۰٣/۴_۶۱(‏ 
رسول اش نے باب نے بکو پیندفرمایا 
)٦۷٤(‏ و قال أحمد أبضاً: 
عن ابن عباس لہ قال: 
ائَث قُرَیش لب : اذ عٌ لَسَا رَبُک يُضبخ نا الضَفَا فَعَباَ فَإنْ 
سے سے سس تھے ےسک 
ا أحَذٌا مِنَ الْعَالمِیْنَء و إِنْ شِنُتَ فَمَحْتا لَهُمْأبُوَابَ الَوبَة 
قَال: يَا رب لا بَلِ اخ لَهُم اَيوَابَ العَوبَة.“ (صحیح] راخرجہ احمد. ۳۲۲۳/٥‏ 
ڑے 2)۹ بحم :این عباس فا سے ردایت ےق پیل نے رسول الد لا نے 


مھ 


کہا: آپ اپنے رب سے دعا کروی یک صفا پپہاڑ یکو ہم لوگکوں کے لیے سون ےکا پاڑ بنا 
دے۔اگرصفا پھاڑیی سونا بی نگئی ( پیل رہم سب لو آپ پایھان ل ےآنئیں گے ) چم 
آں ۵ ء0 کے ات 7ھ وِقٌ)اوری 
کہا جوتقیقت ے۔ رسول اللہ اق نے رٹ العزت سے اس کاسوا لکیا۔ نے جبربتل علیہ 
السلامتشریف لاۓ اورف ا یا: (آپ لے کو اخقیار ہے ) اگ ہآپ چا میں نے صفا پہاڑ یکو 
سوا ہناد با جات ےگا لیکن اس کے بر اگ ری تن ےکفمراختیارکیا نذ دناچہان ٹیل ایما عہرنٹاک 
ا بس یکول دیاگیا جا نکودیاجاۓگایا آپ چائؤں تذ تذ کا دروازہ ان پرکھول دیا 
جاۓ ۔رسول الد لے نے فرمایا: رٹ العحزت ان بیرف ہکا ہی درواز وکھول رے_ 
ہش رسول اکا متصدمعادکی فو ز وفلاح سے شک محاش کی مطلائل 
دوستو! ایک ببہت بی بذیادکی وآ سان بات یو میس باندت لو رحول ایند نکی ابحشت 
کا مقصمد ہریت ولک رآخرت سے با یو ںکہہلوکہ محادکی فوز وفلاجح سے ہک معا شک یکھوج و 
لا اگ رص رای تن م کا ا دی بی ا نکمسیلوں میس لوگو ںکو لھا دے و پچ ررشمد و ہرابی تکا 
٦ی۶۶‏ ٔ ص۶۶ُ9٘ )ٔ9 + + + و 
خیال رکھا۔ جمار ےآ تا ومولا مر رسول اد لان نذانابت واطا حح تکی شمان لن ےگ رآ ے 
تےء اگمرد نیا وٹی سونا وج ندکی کے گیکتے ہہوۓ ول فرب مشفلوں میں امت مشخول ہوچالی 
قوج دین الام ہمارے پا سکہاں ہوتا۔ت پیش کا سوا لکفرودخیا یق پریشنی تھا۔ نیک 
دا کا رح صغما کےسونابنانے نہ بنا ےکا نتھا؟ بلق ہنی کے ابمانع دنا تکا داعہ۔ وسوال 
تھاء او ںکہ لوک می ایمان باشند و با ایب و ہالرسولل کے لیے صغا کا سونا جن جانا ات 
تھے۔ اکم بن جاتا نو پچمروی دنیا کی ء مادہ رٹ یکا داععیہ پیرا ہو جا تاء کہ اعشت نبوب یگگر 
آخرت اورجن تی سے لیے ہوئ گی ای لییے الد پاک نے بھی آ گا کرد اک ابمان 
لانے کے لے ابمانیات والہیا کا سوالی شک کے ایی لمکا بادبا تکا سوا لکرنا ےجا 
سوالیٰ ہے لگر پور ارد گیا ادد مرا یمان شلا ئے رع تناک عر ا بآ ت ےگا ء جو تا مت 
ے۔۳۲۴ 


کک باعث مثال ہوگاء اس لیے رٹ العزت نے پھر اتقاب اپ لکل ہک یں دیاء بلکہ نی 
رحس تکو د یا کہ سونا بنادول اورامان ےار ےکی ضورت عراب بے 7ئ ا 
اب ذبردباب رم تکھول دول ءا ہر بات ہے۔ نمی رحمت ہم رجحمت کی رحمت ےہ 
لوب ورجح تکا اتجخا بک اک ہمت عاب بت گیا ء مادہ ے گی ءکیوںکسونا پ اکر 
عذاب من با ککر کے متقصرنبوت و ار ہوتا نہیں اوردوسرکی صصورت میں مقصرر ہبوت 
پچ رائم دالل پو اہو ورمت راب ےکی بی ادرشا کل النحمد للَّه کثٹیرا 
اور نر معلو ہکن یجمصنیں اس میں ہو گی _ وا اعم ! 
باب : آنا عِنْد ٍ عَبَدِیٌ بی -- 
باب : بنلدہ کےگمالن پر ال رکا معاملہ 
)٥۸(‏ عن ابی ھریرۃظلہ اأن رسول الله يٌ قال: 
”َال اللَه: آنا مد طَي عَبٔییٰ بی ٠‏ 
[صحیح] (آخرجه البخاری ج ۹ ص ۱۷۷) 
الد ان بنلدروں کےکماان کے ریب سے 
( ۸ بج حضرت الو ہ رید ضلنہ سے روابیت سے رسول الد لا نے فرمایا: 
ان دتحالی نے فرمابا: ٹس این بندہ کےکمانع کے سا تھ ول ۔ (اخرجرابخاری ۹/ءء١)‏ 
نی اوت ہے 
)٥٤(‏ عن أبی ھریرۃ لہ عن النبی َل : 
”ال اللُعَزٌ وَجَلُ: انا ند طيٍ عَبِی بىٔ وَ نَا مَعَة عَيْث يَكرُنِیَ“ 
[صحیح] (أخرجه أحمد ج ٢‏ ص٥١٣)‏ 
(۹۹) 7 جم : ححضرت الو ہ ریہ نہ سے روایت ہے رسول الد پا نے 
فرمایا: الد تما ی نے فرمایا: یس اپنے بندہ کےگمان کے ساتجھ ہوں اور انس کے سا تج ہوتا 
ہویء جب دہ جج کو با دکرتا ہے-(اتخرج ا۶ ء٢/٦۵۱)‏ 
۸ 


رم ت نل 

: عن أبی ھریرۃة ظلہ قال: قال اللبی گل‎ )٠٥٥( 

”يَشُولُ الله تَعَالی: اَنا عِنْد طُنْ عَبْدِی بئء وَ انا مَعَة إِذَا ذَكَرَِی فان 
ذَكَرَنی فِیْ َفْيِهِ دَكَرنَه فِیْ َفْسِیٔ و إِنْ دَكرَیٔ فِیٔ مَلا دَكرنَه فِیْ مَا عَيْر 
ِهُم و إِنْتَفرّب لی بشٍبْرِ تقَرَبُْ إلَيْه ذرَاغَا ء و إِنْ قرب إَِيَ ذِرَاعَا 
کت بث إِلَيْهِ اتا ء و إِ أتابِیٔ َمُشٍِی ایت مَرُوَ ول“ 

[صحیح] (أخرجه البخاری ج ۹ ص۷١۱)‏ 

(۰۰ھ۵) 7م : حضرت الو ہریرہ ضانہ سے روایت ہےء می پل نے ارشا دشر مایا: 
تم ہل مجد:فر مات ہیں :یس اپنے بندے کےگماان کے سا تج ہہوتاہول اور جب وہ جج کو 
ادکرتا ے اس کے سا تھہہوتابہوںء اگ ول یل اید الیل کرتا سے و بی بھی دول ٹیس ائ کو 
ادکرتاہوں اوراگر میا نام مع میں لیا سے فو می بھی اس کا ذکر اجیجھے مع می سکرتا ہوں 
او راگ ری جاخب ایک پالشت بڑ تا نے میں ایک تو ش ریب ہہوتا ہول اور جب ایک 
قح قریب ہہوتا ے فیس ایگ زقریب ہوتاہوں اور جب چچ لک رآ جا سے فو میس دوک راس 
کے ریب ہوجا تا ہوں- 


تن بل مود ہکا دہ پر بے پل وانعام ہے 


: عن ابی ھریرۃظلہ قال رسول الله‎ )۰٥(( 
ک‫ و0 رھ ھ ےم 7 ۳ کے‎ 7 
”اِن اللہ غَرُوَجْل یَقول : انا عىذد ظن عَبدِیٗ بیء و انامعة حین‎ 
ےڈ ہے رے رس بے ہے و و وج وج 2 ہےر سے دج وی‎ 
یذدکرنی إِن ذکرنی فی تفہ ذکرتة فی نفسى, و إِنْ ذکرنی فی مَلا‎ 
7 1 ےت ےھ 1 ےھ تھے می و ۔ک> رو زج ج ہو وج ے‫ قت و و‎ 
ذٴكَرٴته فی مَلا خی مِنْ مَليه الِیْنَ يَذَكرَنِیٔ فِیْهمء و إِنْ تقرب الْعبَدُ ِنی‎ 
شِبْرَا تقَوّبْتُ مِنهُ ذِرَاغاء و إِنْ تقَرّبَ مِنِیٗ ذِرَاغًا قَرَبْت مِن بَاَاء وَإِذَا جَاءَ نی‎ 
3 دھ ٌُ ۸ 29 ٭ سے و و‎ 
یَمَشٍی جثتهُ اهّوُولء لَهُ المَن و الْفضل.“ (صحیح] (أخرجہ احمدہ ج: ۲ص:۲۸۲)‎ 
(۵۰۱)تھ جم : ححضرت الو ہریرہ نان سے روایت سے رسول اللہ جا نے فرمایا:‎ 


21 


ٹم ہل مد فرماجا ے: میس اپنے بندہ ک ےمان کے سساتجھ جہوں اور یش انس کے 
سا بھھ بنا ہوں جب وہ می را ذکرکرتا ہے۔اگمر دہ مھ را ذکر بی بی می ںکرتا سے تو می بھی 5- 
کا ذکرول می سکرتا نہوں او راگ میرانام دم میس لیا سے فو می ںبھی ا سک نام کبت ریگ میں 
نتاہوں جہاں ان نے می انام لیاتھا۔ ( می فرشتوں کےہع میں ) او راگ می رابفدہ می ری 
جانب یک پا شت قر یب ہوتا ےء نے می بنلد ہیا جانب ایک پاتح وق ریب ہوتانہوں اور بنرہ 
ایک باتوش ریب ہوتا ےلو میں نز کے اک فرب ناو افزحب بنرہ می ری طرف 
لک رآ ما سے و میں بند ودکی طرف دوک رآ ا ہوں اور میرے بنعدہ کے لے میرک جانب 
 ‌‏ واْعام ے۔ (ا د۶۱ ۱۸۲/۲) 

بنرہ جب ہوک رکا رتا سے 

: عن أبی ھریرۃ عللہ عن النبی ٭لا‎ )١٥( 

”قَال اللَّه عَرََجِل: عَبْدِی ند طَله بیْء وَ نَا مَعَة إِذَا فَعَانِیٔ, فان 
ذَكرنیٔ فی تَفْيِه ذَكرنَه فیْ تَفْسِیْء و إِنْ دَكرَنیٔ فِیْ مَإا ذَكَرنَھ فی مَإا خَبْر 
ِنْصُم وَأبَء وَإن تَقربَ می شِبْرَا قرب مِنَة وِراغا وَإِن تَقَرّبَ وِرَاغَا 
َقَرَنْت بَاعا و إِنْ اَی يَمُضِیاَنَبْتة هَروَلَةُ “ (صحیح] راخرجہ احمد ج۶ ش۸۰ 

(۵۰۳) 7 بج مہ : حفرت ابو ہریرہ دہ سے روابیت ے رسول اید لا نے فرمایا: 

ال عمزویچل نے فرمایا ھی را بندہ میہرے ساتھ ای نمماان کے اظتبار سے ھوتا سے اور 
مس اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب دہ ہگ ےکو یادکرتا سے پکارتا ےہ اگر جج کو ول بی ول یں 
ادکرتا ےو می بھی ال سکودول بی دل میں یادکرت ہہوں اوراگر ہوک وی شع یس با دکرتا ےت 
ٹیس ال ںکوائس کے جع سے مہتراود اکیتزہ ہگ بیس یا دکرتا ہیں( وہ ےب مل مر کے 
بین عال مککوتکا شع )اور جب بندہ بج سے ایک الشت قریب ہونا ہایس بد کے 
ایک بات شریب ہو تا ہوں اور جب بندہ مھ سے ایک باتحھٹریب ب وا ےل میں بنلدہ سے 
0- ہا ہہموں اور جب وو لک رآ تا سے میں بنر کی جانب دو ڑک رآ تا 09- 

٣۰ 


یکنا ادتقا یو پنرے 

)٣١٥(‏ عن آبی ھریرۃۓلل عن رسول الله ٥‏ ُنه قال: 

ال اللَهُعَرََجَلَ : ان عِند هي عَبِی بىٔ وَأنَا مه عَيْث يَْريِی َ 
اھ لَلَه افخ بعَوبة عَبْدہ مِنْ أََدِكُمْيَجذ صَالنه بالفَااةء وَمَنْ تَقرّبَإِلَیٗ 
شِبْوَا تقَربّت إِلَيْه ذِرَاٹا ء و مَن تقوب إِلَیَ ذَِاعا تقَرَت إِليه بَاغَا ء و إِذَااَقبَل 
"یك إلَيْهِ َرُولَ. [صحیح] (أآخرجە مسلم ج ٣‏ ص٢١٢٠۲)‏ 

(۵۰۳) ترجہ : حضرت الوہ ریہ فدہ الد کے رسول چا سے بیاا نکر تے 
ہیں :جن ہل محیدرہفرماتے ہیں :شس اپنے بندے ک ےمان کے سا تج ہہوتا ہوں اور ج بک 
وہ جج وگ بادکرتا ےء نو یں اس کے ساتھ ہہوتا ہہوں( کہ وہ مرا ذک کرت سے )اور الد پاک 
اپنے بند ےک فو ہہ سے ا خول ہوتے ہیں تی ےکتم یں سےسس یکواناکھویاہوا سامان 
یھ بی ئل جا اور جومیرکی جانب ایک پا شت شیب ہوتا ہے میس ایک بات ھ مر یب 
ہوا سے اور جو ایک تو شرب ہونا سے می٠‏ ںای کک قریب ہنا ہہوں اورجب بنرہ ری 
جانب ہچ لک رآ ا ےن میں دو ڑکر بند ہوا خوش رحمت میں نے چا نہوں_ 

الد تعال یکی ممیت 
)٢٥٥(‏ عن بی ھریرۃ طللہ قال: قال رسول الله گل : 
”إنٌ الله َقُوْلُ: انا عِنْد طنْ عَبْدِیْ بی وَآنا مَعَة إِذَا دَعَابی.“ 
[صحیح] (أخرجه مسلم ج ٤‏ ص۲۰۰۷) 

( ۵۰۳)ت بحم حضرت الا ہ یدلہ سے روابیت سے رسول اد لان نے فرمایا: 
جن تعالی فرمانا سے :یس اپنے بندہ کےگمان کے سا تج ہہوتاہہول اور جب دہ جج کو رکا رتا سے 
نویس بندہ کے ساتھ ہوا ہوں _ (اخری سمم/۶۷) 


٣۳ےا‎ 


بنروں کے کان برجم ت تن 

: و للبیھقی فی شعب الإیمان عن ابی ھریرة طلء ایض‎ )٢٥٥( 

مر الله عزوَجَلَ بعد إِلی الَارِفَلمَ وَقَتَ عَلی هَفَيھَ اِلَهَكَ لَقَالَ: 
ا و اللهِيَا رب إِنْ کان طيِيْ بک لَحَسَنً فَقَالَ الله ذو فَأنَا عِنْد خُسن 
طِنْ عَبدِیْ بيٴ فَغفِرَلَةُ “ [ضعیف] (کما فی کنزالعمالء ۵۸۲۹۱/۳) 

(۵۰۵) 2 عم : ضرت الو ہریرہ دنا سے ددایت ہے قیامت کے دن اللہ 
پک ای نیس کےتحل یکم دمیں کے کہا سکو جوم میں نے چا ء جب دوخ ناج نم کے 
ال یکنارہ ی ہکھڑا ہوگا نو پروردگار عا مکی طرف د لھےگااورع کر ےگا : اے میرے 
پروددگا را ری ذا تک ام اے رٹ الھالین !یس تق تک ذات سے صرف خی رج یک امیر 
سے ہوا تھا یں ارشاد ہوگا: ا سج سک وپ نم سے والیں نے7 اود مس نذا نے بنلروں کے 
کان ےا تما ئ نکیا ون وا س تی نکی مغفر تک دق مان ےکی الاک 

بنلدہ کے سا تھا دتتال یکا معاللہ 
)٤٠٥٥(‏ للطبرانی عن معاویة بن حیدة ظلہ عن النبی هل قال : 
”قال الله : ان عِنْد طِنْ عَبْدِیْ بىٔ.“ 
[ضعیف] (کمافی مجمع الزوائد ج ۱۰ ص۸٣٥)‏ 

(۵۰) تھے معادی ان یداہ سے روایت ھے+رسول ال للا نے فآ 

تن تھالی نےفر مایا :شس اپنے بندہ کےگمان کے سا تجھھ معا مل ہکرت ہو ۔ ( شع اردان ) 


ببرابنرہ اورہب ری اد 


رو وی تب تی قال رسول الله ا : 
”قَالَ اللَأُعَرََجَلُ : عَبدِیُ ! انا عِنْد ظیْک بی وَأَنَامََک إِذا 


دُكْرَتِبیٌ. [صحیح](أخرجهھ الحاکم فی المستدرك۔ ج: ١ء‏ ص:۷٤۹۷٦)‏ 


2 


(ے۵۰) ت جم : رت الس الد سے رواایت سے رسول الل چا ے فرمایا: 
تن نما لی نے فر مایا : ھیرے بنارے !میس تیر ےلان کے سا تھچ سے معا مل رتا ہوں اور 
تیرےساتھ ہوتا ہوں جب لو جج وکو رکارتا ہے_ 


تحمول رات کے لیے بات ھکا رہب رن 

)١۸(‏ حیان أبوالتضرقال: دخلت مع واثلة بن الأسقع لہ علی الأسود 
الجرشی فی مرضہ الذی مات فیه فسلم عليه وجلس قال: 

اذ و اََسوَدِيَمیْنَوَالِلة فَسَم بِھا لی عَييهوَوَجُھو لَعيہ با 

سُول الله يك فَقَال لَ وَاثلة: وَاحدۂ اسْألک عَْهاء قال: وَمَا هی؟ قال : 

ین کلک برتک؟ قال: فَقَالأَوالَّسُودِوَأَفَر برَاَيهأی عَسَنْ قال 
َالَةً : أَبْشِرْ سَمث رَسُولَ الله ئل بَُوْلَ: 

”قَال اللَّهُعَرَرَجَل : نا عِنْد طِنْ عَبْدِی بيٗ فََيظنَ بی مَا شَاءَ .“ 

[صحیح] (أخرجه أحمد ج ٣‏ ص )٥۹٤‏ 

7)۰۸ جج : مان اضر ول سے دوابیت ہےءانکھوں ن ےکہا: ہیں حضرت 
واثلہ نع اخ خالہ کے ساتجھ اسودج ری کی عیادت 2 ےمم 02-9-9 و 
تھے نطرت واخلیہ لہ نے سلا مکیا اور بیٹھ گئ ۔۔ راوکی کا ہنا سے : ابوالاسو و نے حضرت 
واشل نما دایااں ات اپينے بات مس لے لمیااور مرکم تکوحاصس لکن ےکی لیے اان کے پا کو 
اتی دو ںآگمول اور جم وی اور مما۔اس لس ےک ححضرت واخلہ ڈادنے ای اتی سے 
رسول لا سے ہیس ک نی ۔ واعلہ الد کہا تم سے ایک بات لو چتا ہوں ۔اھوں نے 
کہا کیا ہے؟ انیھوں لن ےکہا:تمہارا این رب کے سا تج ھکیس لماح ہے؟ ابوالاسوو نے اشارہ 
کیا اورکپا:عحدہ سے واشلہ خاہ ن ےکہا: خ ری سن لوک میں نے رسول اللہ انا کوکنتے 


ہوئ سناے: 


2ت 


بن ہل مجدہ نے فرمایا: مس ان بندے کےمماان کے سماتھ ہہوتا جہوں ءلیں وہ 

میرےساتھ جیما جا حممان ڑرھے۔ 
صحا لی کے پاتھ سے برکت حاصس لکرنا 

)٣۰٥(‏ عن حیان أبی النضر قال : حَرَجثُ عَايذا لی بن الَاسُوَدِ 
سط یَدۂو جَعَل بُشيْإِلَْوہ فَقبلوَاللة تی جَلس ء فَأحَذيَرْد بک 
َاثِلَة فَجِعَلهمَا لی وَججُھد فَقَالَ َه وَابلَة: کَيْفَ نک بالله ؟ قال: ظِِیْ 
الله و الله عَسَن. قَال: فَأَشِر فَإَیْ مث رَسُوْل الله بَقُرلَ: 

”َال اللَهُجَل وَعَا: انا ین هي عَبدِیُ بی إِيٌ بی خَيْرَا لہ وَإِنْ 
ظنٌ شا قَلَةُ“ (صحیح] رأخرجہ ابن حبان فی صحیحہ۔ ص:٦۱ے۔‏ موارد) 

7)۵ بحم :مان الونضر تاد سے روابیت ےء انیھوں لن ےکہا: میس بیز ید جن 
٣‏ 0 پل 20 
لیے جار سے تھے ہم لوک ان کے پا ںا نے جب انھوں نے واشلہ تطاداد دریکھا و اپنا 
اھ پچھیلایا اورا نکی طرف انار ہر نے گے نے واخلہ ید کے بڑ ھے اور بی گئے ءلذ زی 
نے واشلکی وووں لیو ںکولیا اوراپنے چچچرے پر( حول برکت کے لیے ) چگیبرنے 
گے واخلنہ دنہ نے النع س ےکہا: اٹ کے ساتھ تھہہاراکیسا عمانع ے؟ انھوں لن ےکہا: ای دکی 
تم !اود کےساتھ مر مان ابچھا ےو اصوں تن ےکہا: خی حاص لکروہ میں نے رسول 
ال ہے کو کتے ہوے سنا: 

جن بل دہ نے فرمابا: شش اپنے بندے کےگمانع کے سا ہوتا جہوں۔ اگ وہ 
چھلا یکامممان رکا ےن چھلاکی سے او راگ دہ برا یکامگمان رکا ےن برای ے۔ 


.ا 


رحمت واسعہ ہن ہکا انا کر سے 

بن بل مدکی ذات ارت الرائین سے ماڈہ رقم وک حکاشع وس تمہ سے ء اس کے 
ساتھ اسھا بیالمان ہوناجا ہیے۔ عد یت ش ریف می ایا با تکا اعلا نکیا گیا ےکہ بندہ 
ان ممبود وو یی سے بدکماپی شرررھے ؛ برعلا یکاممان ر ھے اور ذا تن ات 
بنرے کےگمانع کے خلاف معاملنی نکر ےگا ؛کیونلہ و مود ہے۔ ال !اگ رکوگی بد بت 
خودبی بدا ی بیس بتلا ہوجاۓ ے اس کے ساتج ھی اس کےکماان کے لاف معا میں 
ہوگا؛ انار یبان ٹیش چان کفکرد کھدلیا جات ۓےکہاپنا متا مل ہمولا ن ۓےکرم کے سسات یسا ے؟ 
اس جس ین نکانتلق قمام عبادات ,سن عاقیت نسن انام متبولیت دعا کے باب سے 
ہے۔ اللدآیں اپنی ذات کے ساتھ سن معا ملک فی جشنٹے ۔آ می ن ٹم آ مین ا 

اع این میکح رر لھا لین کے نات رض حون زک کی بات ار ایک اس 
اسلوب کارب کرت لا نک ونس کل کل ڑ ےر 
تح کا اللہ تزاٹی کے سات یک نما کل وعداقہ ۓء ام یل اورعلاق ہک بشیاد پر بندہ 
ان رب سے ربا وامیر واإستۃ رکتا سے جوجعنی امیرنقن تھالی سے دکننا سے رب مارک 
تال ی بھی معاممہ اس کے ساتھ ولیما ب یکرتا ہے۔ جو تی کی امیدررکتنا سے اللہ یاک تر 
وھلائی کیا معا کرت میں اور جورٹ العحزت سے انچھی امیدنیں رکھتنا اس کے سراتجھ 
معاممردیماہی ہوتا ےءاس لے اما جج رحسقلا لن ےکہاکہ: بندوکو پوریی ام رری٥ئی‏ جا ہے 
کہ دہ جو پچجابھی خر وبھلاکی کا رٹ العزت سے امبیروار ےج تی دجام اس پہ 
قدرت رسکھتے ہی سکہائ سک امیر پورگ یکردیی۔ 

اما مکم ماف ن ےکہاکہ: ناا یر یکو امیر پ رق کی وطالب ر تھے ۔ مجن رح تکوحضب 
رن وکوعقاب پرہ جن تکناحم پبر؛ اس ل کہ جب بندہ اس با تکو پڑعتزا اورسنتما ےک ال دکی 
رحح تخب پرسوق تکرگئی االلد اپنے بندہ کےگمان پر معامرکرتا ہے جاخب امیرطا لب 


۳۵ 


ر ےگ جا ب خوف پراورخائ لکرموت کے وش نو صرف رحت بی ہت ہل بینخل 
پرآگاہ رنی جا یج تک مما مل گی امت 72 ہوکک دنہ حد بیٹش ریف ین آ ا ےکپ 
موم اَحأکكُم وَ ہُو سن الظن باللہ خی تم مس ےک یک موت نآ بگھری 
کرد ہ الہ اک کے ساتھ نین ]شی رن و رجیم 9882ھ ھ رے۔ بیمظام 
بھی اہم ےک اید کے سات سن نین ر تھے ۔یینھس عق را کیا رائے ےک ین جن سے 
ہرللم ےئشنی دو نوا ان لا مج من اللہ الا یہ علم وین ہوکراللدتھاٹی کے 
سواکوٹی جاۓ پنا ہیں ے۔ 

امامف رٹ کی رایۓ ےک دھا کے وقت قجو لی ت کا لین ر تھے او کر تے وفت لو 
ک ےکوی کا نکمرے۔ استغفار کے وقت مغفر تکی امیرر تھے عیادرت کے وق تو اب 
اور وعرہ ر ہا ی کا اخحضار ہو ۔_الغض ہر ہرعبادت واطاعت 09.0090 اک اخُضار 
پک رم اک یت و کی و خیال ر کھت 
بد ےکی جامہ پہناے ۔حدبیث می آیا ے: 

وا اللَ و انم مُوْقونَ الاب تم دعا ا ںکیفیت میس ان وت مکولقین 
ہوقبھ لی تکا۔اس لی عبادات دطاعا تکواسی لقن کے سا تک کی جا ہ ےکہ ۲ند ارڈ قول 
سح اوراں بر وہ نام انعامات و امیس گے جوا شی جا ے وعرہ ےت 
مفخفر تکا اتکی نے وع ٥کیا‏ ہے اور ال این وعد ہکا اک کر ےمان لک 
لی ران کے فی اتآ تی ان رتو کن کر ےکا 
عبادات اا کوٹ جن ٹیس سے و دجمت سے اامیدی لوا تفر الل گنا ہکیب رہ ہے۔ اس 
کاب مطل بھی نہیں ےک مزا ومحصیت پر انپھی امییدر تھے پاش اوہ تاور ے۔ 

بات پل دای ےک عبادات دطاعات برق لب تکی امیر ر کے اور بہامید الد ری 
کرس گے۔ ای لیے عدیت مم لآ یا ےک جو ایک پالشت شرجیب ہہوتا سے الشد ایک باتھ 
0017 واابت بر ال تما ی کی جاب سے مفضرت و رم تک پواندل 


2و 


جاتاے۔ 

گیا سیرساسادہمضظہوم بہہواکہ ہناد ہ اتال یکی عیاد تکی طرف متوجہوتاےء 
تو اید تھالی بنلدہ کے لیے مففر تکابرواند بتاےء عم تکا درواز ہکھولا ے او را تھال کی 
مفضرت وحمت ہنرہ 2 ری 7ا مت وک کے سراتجھ نل ہدکی طرف جا ی ےء 
شش سکوشیرہ ماذ داع ء یا اح ےکی رکیاگیاے :اس میں سرع تکا بیان ہےتمنا وھ اداٹیجی 
زبان ےگم لی ہو اجاب تن تیار ہے ۔خفرت ماگ نیس ؛ بکنہ باب رجمت پر ب اکر 
مخظرت دی جارجی سے لا تی کا منادیی ءلوگو ںکومخفرت وعافیت وراحت نکی کو پکارتا 
ہے دحمت بند ہکا اننظارکرکی ہے رَ می صبقث لی خحضبی کا مظاہرہکرنا اتی 
ہے۔ بیسب سح تک مناییس ہیںء جوازداءکر رن توالی نے بندہ کے لیے ھی ہیں۔ 

باب : إِذَا را عَبِْیْ ان يَعمَل سی 75 
اب :ند٥‏ جب براگ یکا ارادہکرتاے 

)١١٥(‏ عن ابی ھریرقظلہ ان رسول الله قال: 

کن نت دا أَرَاد عَبْدِیْ ان بَعْمَلَ سََنَةقَا تکُتبُوُهَا عَلَيْه تی 
بَْملَھَاء فَإنْ عَمِلهَا فَاكتبُوْمَا بِمئْلهھاء و إِنْ ترکھا مِنْ أَجْلِی فَاكبُوْمَا لہ 
حَسَنَةء و إِذَا َرَاد ان يعْمَل عَسَنَةفَلمْيَعْملَهَا فَاكمُوْمَا لَهُ حَسَنَة فَإِنْ عَمِلَھَا 
فَاكتبْوْمَا بشر أمَالِْهَا إلي مَ2عمِائَة.“ اصتضیحخ] زاخرالیعارفج ۹ص:۱) 

رن ےئ نک ناضاع 

(۵۱۰)ت جم :حضرت الو ہ یدلہ سے روابیت ےک رسول الد جا نے فرمایا: 

نی جم مہف ماتاے :جب میرابندہ اداد ہکرتا ےک کول گنا کے و الکو بنرہ 
کے اعمال نا مہ میس یلعو ج بت کک ہک رہ نے۔ اگ کر نے فو ای کے پظظرر برابرسرابرلکیولو 
اور حتف بنلدہ مک یکا اراددکرے اور خی اھ یکیں یی ص- 0۲ئ0"( 


ے ے٣‏ 


گ یکر ےن اس کے نا “ائمالی ٹیش ں گن سے سات سوم ککولو_ (بخاری۹/ءے١)‏ 
رک بد یکل سے سے دلو 


: عن ابی ھریرة لہ قال : قال رسول الله گلا‎ )١( 

”قَال اللَُغَرَوَجَلُ : إِذَا هَمٌ عَبدِیٌ بِسَيّنق فلا تَکتبُومَا عَلَيْهِ فَإِنْ 
عَملَهَا فَاكَتبُوهَا سَیَنَةء و إِذَا هَمَ بِحَسَنَة قَلمْ يَعْمَلھَا فا كتبُوْمَا حَسَنَة فَإِنْ 
عَملَهَا فَاكتُوَهَا عَضْرَا.“ (صحیم] راخرجہ مسلم ج:۰۱ص:۱۱2) 

(2)۵۱۱ جم : ححضرت الو ہ یرد دیلند سے روایت ےک رسول اللد لان نے فمرمایا 
می ہل مدہ نے فرمایا: جب مبرابندہ بدکی گنا ہکا سو چا ے و مت ککھو او اگ گنا وکھی 
کر نے نو ای کگنا دیلو اور جب مک یکا سو ہے نے ای کککیدلو چپ یم لبھ ینمی ںکیااو ادگ بجی 
کر نے نے دو ںلگیولو۔ خی ۱/ك۷) 


گی کے اراد ہکوہ ۔لکھو 


)١١٥(‏ عن آبی ھریرة نان رسول الله قال: 
”قَال اللَۂُعَرَرَجَلُ و قَوَْلَة الْحق-.: ِذَاهَمٌ غَبّدِی بِحَسَنةء 
فَاکُبُومَا لهُ حَسَنَة فان عَملَھَا فَاكُبُومَالهُ بعَشْر أَمعَالِْهَاء وَإِذَا َمٌ بِسَينَةَفَ 
تَکُتبُوْمَا فان عم لھا فَاکتُوّمَا لها فَإن تر کھا و ریما قَال: لَميَعمَلَ بهَا 
فا كتبوََا لَهُ حَسَنة تُم قرا: (مَنْ َء بالْحَسَتة قَلَهُ غَشْر امُغَالِهَا.“ 
[صحیح] (أخرجه الترمذی ج ۰ )٥۰۷۳/‏ 
(۵۱۳) 7 بج مہ : رت الد ہ رر دلانہ سے روامیت ےک رسول اید جا نے فرمایا: 
تن جم یرہ نے فرایا۔اورا ںکافر مان بک دی پل ہے جب میرابطدہ یکا ارادہ 
7اک 1 الاب اکن کی مر ےئ دی گنز یادولگولو اور جب 
پرکی وگنا ہکا خیال سو پچ و رت کل وو ارک نے لور ایک 6 برابرسرابرلکواواوراگر 


۸ 


بد یکوکچھوڑ دے پا فرماا ا بدگی وکنا وکا کا نی سکیا نة اس کے لے ایک بک یک لو۔ پچھر 
آپانے بآٹ بڑگا خی جمائ سمل ضر فلا جو اک کی ےکر ےکا 
ان لکواس سے یل درج ز یادہ لگا (اخرجرالتر زى۳/۵ء۳) 

پر یکا خا لآیا رر تلرر 

)۱١٥(‏ عن أبی هریرۃ ظللہ عن ابی تَ قال: 

ف 200 ٴ2 : إِنْ هَمٌ عَبْدِیٰ بِحَسَنَ فَاكتبُوْمَاء فَإِنْ عَملھَا 
فَاكمموَهَا له بعَضْرَة أمَالِهَاء و إِنْ هَمٌ بِسَينَةَفَ تکتبُوْمَا قِإِنْ عَمِلھَا فَاكتبْرّْمَا 
بمكّلْهَا نت ھا اتوه حَسَنَة “ (صحیح] راخرجہاحمد. ج ۲۹۰۲/۱۳ء) 

(۵۱۳) رم : ححت الد ہ یریلہ سے رواییت ےکرسول ایڈد انا نے فمرمایا: 

یلیر نے ف رای اکن :تک یکا زا ہکرت ےئن ارد شی مکی ٹیس 
تکیولواواگراس رش لکر لنےنذ وس درجہز یادوکولواور جب بدیی وبراکی کا سو ہے نے ا ںکو 
مت کھھواو راگ رکر نے نے برابرسرابرلگولواور اگ چھوڑ ےق بھی ایک بک یلک لو_ (امر) 

بری مر نے کے بعد ارت کر لنےتو اں اک ومٹادو 

)١٥٤(‏ عن أبی ھریرقعلہ عن رسول الله ٭ عن الله جل وعلا قال: 

”إذَا هَمٌ غَبْدِیْ بِحَسَتة فَلم يَعَمَلھا فا كِبُوْمَا لَهحَسنة ِإِنْ عَمِلَهَا 
فَا كَتبُوْهَا لَهُ عَشْرَالمَْالهَا إلَی سَبْعمِائَة ضِغفِ. و إِذَا هَمَ عَبْدِیَ بِسَيَعَوفَا 
َكتبوْمَا عَلَيْهفَإِنْ عَمِلَهَا فَاكتبُوّهَا سن فإِنْ تاب فَامُحَوُمَا عَنه “ 

سیت (افرواان ۱ فا مھ (١‏ موارد) 

)ر7۳ رت الو ہر ہلان سے روایت سے رسول الشد لا اد رت 
الات سے رواب گر تے ہی ں جن ۹ صظھ۶/ئو 
۰۳+ )7+ وہ مو ولا 


۹ے( 


ات سو کلک او اور جب مبرا بند ہنا ہکا سو ےک اس کے یس پیج مریےاکھواوراگ گناہ 
کر نے نو ایک ج یمن ولکھواور اگ گناہ سے نو کر لے پے اس کے نامہاعمالی سے ا لگڑاہ 
کومیادو تم اک ررو_ (اخز ِاء نحہان ۳۴۷۱ موارو) 

رٹ العزت یلو وہ بندہ سے شس ن ےمنا ہکا اراد ہکیا تھا 

)٢٥٥(‏ ابوھریرۃ ظ عن محمد رسول الله ٭ٌٍ فذ کر أحادیث منھا قال 
رسول الله لا : 

”فَال اللّهُعَرّوَجَل : إِذًا تَحَدٹ عَبْدِیْ بأن بَعمَل حَسَنَة فان اَكمْيْھَا لہ 
حَسَنَة مَا لم يَعْمَل ء فَإذا غَمِلهَا فانا كيا بعشر امعَالِھاء و إِذَا تََدت بأَنْ 
عملَ سَ"ْنةقَانَا اَغْهِرّهَا لُمَا لم َعمَلھَا. فِذَا عملهَا فَأََ أكَيْهَا له منلق ۔“ 

وَٴقَال رَسُوْل الله : ۱ 

الب المَلابِگة: رَبَ دَاک عَبْدک بُرِیْذ أَنْبَعْمَلَ سَينَة رو مُوَ 
ضر بد فَقَالَ: ره ملا مه :ون َرَكھَا کُر 
َهحَسَنَة إِنْمَا تر کھَا مِنْ جَرٌای.“ [صحیح] (أخرجە مسلمء ج :۱ء ص:۱۱2) 

(۵۱۵) نے بحم : ااو ہریرہ ضادہ نے مھ ا ے جوروایت میا نکی ہیں ان ش 
ایک بیددایت گی ےک رسول ال ہللا ئگ 

تق 2ن ین ےکر ات ان 
کے لیے ایک مک لکیہ ایا ہوں ج بتک وہ ا سکونھی ںکر لیا سے اور جب اس مک یکوک راتا 
ےو وس دج زیا دوکیھ لپتا بہول اور جب مبرابئد ٥ل‏ مل 1- انا کا اراد ہکرت ےل میں 
ا ںکومعاف رکتتا ہوں ج بتک ا سگنا ہکوک رنہ نے اور ج بگنا کر لیا سے لو پرابرسراہر 
گنا ہککیھ تا ہوں۔ رسول ار ہلت نے فرماما: ففرشتوں نے عون لکیا: رٹ اعت ! رپ وہ 
بنلدہ ہےںجشس تن ےگنا ہکا اراد ہکیانھال( جب بل مر وکوفرشتوں سے زیادومعلوم سے )صقن 


۳۰۸۰ 


بل عوفرم اے :تم ا سکیگہداشت وگراٹی رکھو ءاگر وو گنا ءکمر نے و برابرسرابلکھ ینا 
ہاگمر ا گنا ءکونچھوڑ درے نے ایک مک یککھ لین ؛کیونکہ اس گناہ میری (خمت ورشا اور 
خوف وسزاگی) وج سے تچھوڑا ہے (اخررسم۔/عء۷) 
پی تال یک تصوٗی انعام 

گی کے ارادہ برای ک ٹا بکاکھا جانا اور دی کے ارادہ پر ہھ تھا جانا ج بتک 
کہ بد کوی جامہنردے دیا جائے ۔اا کی شی بت ماضی مل آپ پڑھ یگ ہیں. 
یہاں نے صرف ات بات جن بیفی جیا ےکر حضرت ھ چ کو ناب ارڈ نے شا رتصوصیات 
؛یثزات عطا سے گے ہیں ء اور تقا ومولی چا کے نو سط ےآ پکی اص تکوچھی من تی 
نے مام ام کے ہبلم میں حثابات و پرکا تکا ایک نمائص رح عطا کیاےء ایس حعطیات 
وخنابات کے باب سے بھی ملا ےایعض ارادة خر بر میک یلک دب جائیٰ ے اور عامہ 
کے بعد یں سے سات سواور ال سےگھی زیادہلکھھ دیا جانا ےء اور بدگی کے ارادہ پر 
فرختو ںکوعم ہوتا ےک اگ گناہ 2 چامہ بہنادرے لو 2۳۵]21م02 2 اور اگر 
مرےخوف سے گچھوڑ ےو اس پربھی ایک میگ یلک ینا کہ اس نے مر یحظمس تکی اطر 
گنا ہکونر ککیا۔ 

درتقیقت بات بے س ےکہ بروز قیاامت اس امم تکوخمام اعم کے ماب میس می ںکیا 
جات ۓگ نکی خیکیاں زیادہ 7 اور مماگی 27 ے77 بہوں گےہء اس جیے اس 
ئن کے بح تقھالی نے نافع بی یبا ع کر کہ فیاممت کے د نآ نونف ون 
کےکت بہاعمت تمام اعم نات وفائز ہوجاۓ س9۹ٌ ۶" 
ول ےکاعی نرہوہ بیس بک سن عاتیں می خاتم این مھ لے ہیں۔ 

لهُمٌ صَلٍ لی یدن مُحَمَدِ افص صَلَوَاِک بعدد مَغْلَومَاِک رَ 


۲۸ 


الل ہا "نے ک ےکر مکی مال 

)١٥(‏ عن بی ھریرة لچ عن رسول الله ےا قال: 

”َال الله عَرَجَل: إِذَا هَمٌ عَبْدِی بِحَسَنو وَلَميَعَملھَا کمَھا لا 
عَسَنَةقَِنْ عَملھَا كتَْھَا عَضْرَ حَسَناتِ إِلی مَبعمائَة ضغفء وَإِذًا مم بِسينٍ 

[صحیح] (أخرجه مسلم ج ١‏ ص۱۱۷) 

(۵۱۷)ٴ بج : حفرت الہ ربرد یہ سے روایت ےء رسول الد چان نے فرمایا: 
جن بل مجدونے فرمابا: جب میرابندہ ہج یکا اراد ہکرت ہے اور بھی اس نے مک یک نیس 
یش اہک گی اس کے نام ہاعمال میس کلم وچ ہوں اور جب دہ اس نک یکوک رگ رم 2 
یں مکی سے نےکرسسات سوکک بج یکل دیتا ہوں اور جب برائی کا ارادہکرتا سے اس 
وف تنک پنی ںاج بت کفکہ بندہ اس برا یکوک رنہ نے اور جب وہ اس برا یکوکر اتا 
سے صرف یک برا یککتاہوں- 

کی مس اضافہاغلائس کے بر ہوتا ے 

اس حديیث می بن مل میدہ نے انی شا نکر بی اورصفت رت یکو دا فر مایا سے 
3 دیھواجب بندہ مک یکائعض ارادوکرتا سے فو میس ایک مک یلکیدد بت ہوں ؟؛ ھا لاک یما ھی 
ا کی ہگ یکا دز ہوائھ یف او جب ازائز ےکوعرش جو دش لاک حک یوعذا نی 
کرک رتا ہے رشن ونیم اس کے نام اعمال میس ایک م یکی کہ( برا خلا ون سے 
بڑھ اکر ات سوکتک ڈیا لکیھ دیتا سے۔مچمی یں و نی ےگ ر ایک نس اپنے کیک 
ا مال کے جس ےو بل مرہ اس کے ا حلاص کے افررسسات سوکک اضافہ 
گروتاے_ 

خنش لصبیب ہیں دو لوگ شی نکون بل میرہ نے اعمال صا مہ کے ساتھ ا خلا سک 


۸۲ 


دبا تکھی عطا کی ہے۔ا لم اززفن الا خلا لک ا رَبت!حضرتگردعا فرماتۓے 
خاع کات یل ایت 
)١١۷(‏ عن ابن عباس شلہ عن رسول الله ٭َ فیسما یروی عن ربە تبارک و 
تعالی قال: 
الله كمَبَ الْحَسَنَاتِ و السُیْمّاتِء تم بَیّنَ لک فَمَنْ مهَمٌ بحَسَنَة 
قنَميَعْمَلْهَا كيَھا الله يِْدۂ عَسَنَ گال وَإِیْ مم ھا لھا کيھا الله 


یر ا 
7 کے 


غَرٌوَجِلَ عِْدَۂ عَشْر عَسَنَاتِ إِلٰی مَبعمالَة ضف إِلی أصْعَافِ کرَء وَإنْ 
مم بِسَْنةفلم يَعْملهَا تھا الله عَسنَةً کابلة ءوَإِن مَم بِهَا مل 
كتھَا الله سَيَنَةوَاحدَةٌ “ [صحیح] (آخرجہ مسلمء ج:۱ء ص: ۱۱۸) 

(ے۵۱) تم : حخرت اہن عماس الہ سے روابیت ےک رسول اللہ لا رب 
تجارک ٦‏ ,تس ہیں یں تما ی نے نات میکیاں او رسبانات 0۳ 
دی ہیں (یشنی کی کےط ریے اود بدی وگنہ کےط ری لاد یے ۔ک اکا خیکیاں ہیں او کیا 
گناہ وذبنات ہیں؟ سب نادیا ہگ اک ےکٹیں رکھا ) بچھ را نکوخوب 2 طور پر مان 
آبوار انا وی یکا اراد ہکرت سے دل میں سو چا سے اوراس جک یکوابھی اکر ا یں نے بھی الد 
تزالی ایک مک یکام لکیہ دتۓے شین آؤخت کی مرن کا اراد ہکرت سےسو چا سے اورک ری 
لا ےء تو الشدتھاٹی اپنے پاش یں سے نےکمرسات سوکک اوراس سےبھ یک یکن زیاد ولک 
لے ہیں او راگ گناو ودب یکا ارادہکرتا سے او کرای فو اوڈرایک بک کیہ لیے ہیں ( اس 
ن گنا ہکا اراد ٥ک‏ کے الد کے خوف سے ارڈ کیلمت اور رضا کے لے کچموٹرد یا سے ) اور 
اگ گنا کا اراد ہک ک گنا ہکرکھی لیا ہے :و الد اکحل ای کگمنا وید لیے ہیں _ 

ایک ردایت ٹل اتااضاذہ۔ے- 

۳۸۳۸۳ 


اورالل ا گنا ہکوماد نے ہیں (مشقی جب فو کر لیا سے ) اور الد تھاٹی کے پا 
دتی پلاک ہوگا جوخودخی پلاک ہونا جا ہے(ششقی نہل بک رے ہ نہ تک یککرے اورخودتی بلاک 
وناچاے)- (اخر !ام م۸/۱٥)‏ 
ہار ارب ہایت کی مبربان سے 
)١١۸(‏ عن ابن عباس ظلہ عن رسول الله ٭هِ فیما یروی عن ربه قال: 
اك بک رَحِیُم ء مَنْ مَمٌ بَحَسَنة لم َعملْهَا کیّث لَه حَسَنَة ءفَِنْ 


لها کّث عَشُرا ہی مَمعماکَة ضف إِلی أَضعَافِ کَیيْرَةء َمَن مم سی 
لم يَعمَلھا بث لَه عَسَنةفِنْ عَملھا مث لَه وَاجذَةاُويَمْحُوْمَ اللهُوَا 


هک عَلَی اللهِإِلَامَالِکٌ.“ [صحیح] (اخرجه بوعوانة فی مسندہہ ج :۱ء ص:۸۳) 

۸ بعم :این عباس میلنہ سے روایت ےک رسول ال یرٹ الحزت 
0 9 9 " رت ای 
کرت نی ناس کے لیے ایک تک یککیددی جائی ے او راک ری 0,000 
سوک اوراسں ےکی آئی در زیادولکودی جائی ے( بقر راغلائص می کے اج وو اب میں 
اضافردراضافہ ہوجاتاے) اورجو بدگی وگنا ہکا ارادہکرے اورک ےکڑیں فو اس کے لیے 
ایک میک دی جائی ہے( ساس نے خوف اور ایل دکی رضا کے لیے پچھوڑا) او راگ گنا کر 
بھی نے صرف ای کمنادکھا جا ا سے پاادتتالی ا ںلوشھی ماد ینے ہیں اور اید نی کے 
یہاں 7 دب بائیں ہوک "گر جوخودبی تا ویر باد ہوا ہے( کہ نف بکرے نہ می 
کم کے جا )۔(ابقوادرنی مند:ا/۸۳) 

اسلامکا ال رشن و ریم ملسلمان پک اکر سے 

یی و بدکی ایک شکل ہے ایک چ ڑآ کی اورایک پخقد اداد ادرعزم ہے 0 

نام صوریں ری خر میں دافل ہیں۔ جہاں کک کعلقی ہے ش کان ند عز سک ناد د 


۲۰۸۳٘۰۳۴ 


معاصی کا اس برمواغز ‏ ہوگااورمواغز و ہونا متقو لپھی سے اس حد بیت می ال سکیا بجٹ 
بیائیں۔ بیہاں نذ سی سادکی با تک یک ہ ےکہ بندہ کے ول مس ایک با تکآکی اور گی 
گی اگ انیل مکی ےو اس پراج وڈ ا ببھی گر بدی اورگناہ سے اورخیا لآیگیاء 
اس برمواغز وھ ی یں اور خی لآ یا ہرفو را خو فآ میا اد دکی طرفطویعت نات گئی 
اس بر من یکی بشارت ے اورکنا ہک رچھی لیا نو شض ای کگنا وھ امیا یہی کے ارادہ یر 
ا ض تک لکرنے کے بعنروں تو می اور بچچھرسا ت سسومتیکء 1 رت سو ین ےکی زیادہ 
بن درم لئ سکودیی گے۔ تق ران ماک شیل ہےک ایک یب یکل ات میس باعث 
جات ہوجاتۓےگی۔ اسلا مکا ایڈدمسلما نکا رشن ورجیم ال مکتتاک ریم ہ ےک بن ہکو میں 
نی سکرتا؛ لہ اپٹی جائب مناٹ“ یکیفیت سے جذ بکرتا سے ۱اد جئیں دب اعلام اور 
رٹ ا سلا مکی ف' رک نشی جنٹے ۔آ بین 

ایک عدیث میں رسول ال ہلان نے فرمایا :جب بندہ ات اسلا مکوسخوار تا ےن 
فاژلی جع احسو نگ ولے گا رسم لک یس 


ا رب سےیل لا ے_۔ 


۶_ ک2 2 لس سے ےےے ٌَ 
دےھدشنٰھ ںے ‌ 7 2 ہے مھ مے۔ڑھ 
باب : یّڈُنو احَذُکم مِنْ رَبْهہ تی يَُضع نفة عليه 7 
ث2 ما ھُ 
باب :امن گھرڈلدکی چوک دس کی کی رواییت 
)١٥(‏ عن صفوان بن محرز أن رجلاسال ابن عمرظلہ کیف سمعت رسول 
الله یقول فی النجوی .قال: 
”ڈنو اذ کم مِن رَبہ ححتی ییضع کلف عَليْهِ فیقول: ا عم عَمتٗ کذاو 
ذ فیَفُوْلُ: نَعَم. وَبَفُوْلْ: ملک کذا و کا فيفُولَ: نَم فَيْقرِرَةُ نم 
یفاکان ا أاافت اک 2 
[صحیح] (أخرجه البخاری ج ۹ ص۱۸۱ ج۸ ص٢٦)‏ 


۸,۵, 


جن تا ٹی دٹیاشش من ک ےکنا ہو ںکو پچعاتے ہیں اور 
قیامت کے دن معا فک کےمففرت فرمانئیسں کے 

(۵۱۹) تر ججمہ : صفوان بن گھرز سے ردایت ےک ای نف نے ا نعمر خولد 
سے سوا ليکیاک وی وسرکڑٹی کے سلسلہ می ںآپ نے رسول الد چلاقا سےکیا سنا سے؟ لو 
ھوں نے فر مایا:م یں سے ای نحص اپنے رب سے ات قرجب ہہوگ کت بل مد ہنس پہ 
اپناسابیرحمعت (وسست شفقت ) ڈال د ےگا اوراس سے رما ت ےگا :نو نے فلا ء فلا لام 
میا تھا؟ وو عم کر ےےگا: ہا لکیا تھا۔ ارشادہہوگا: نو نے فلاں فلا کا مکی تھا؟ ورھضئ 
کر ےگا: ہاں ضرو رکیا تھا ۔ افش تما مگمناہہوں وسیننا تکا اخ ارکرالیا جات ۓگا۔ پچ رارشاد 
رن وستا ر ہوگا: ٹس نے تیر ےگمناہو ںکودٹیائیس چم ما تھا( ک گنا ہکی نجوس تبھی ظاہر 
ون ےنیس دی مس یکوا طلا بھی شددگی۔ نی تیرٹ می سے شکای تک )فو جائٹش ن ےآ 
تیر ےمناہ ما فگررے- (اخرد الفاری ۱۸۱/۹و۲۳/۸) 

من رٹ اعت سے انا شریب اکلہ 
تن نالی دسترحمت ولنف رکو یں گے 

) زوا دہ ور جوا یہ ای 
رَجِْلفَقَال: پنیو نہ رای یا اببن غَمَرَا سَمِعُتٌ سَمعُث النبیٗ 8 
النجُویٰ؟ فَقَال: سَمعْث النبیٗ 8 یَقُوْلَ 

”یی المُؤمِن من رَبہ ےت 
عَلَيْه کتَفَۂ قَیْقَرْرْه بذُنُوٴبیہ تَُرف دَنْبَ کذا يَقُولَ : أغرف. بَقوْلَ: رَبَ 
شف مَرَتیَي. فََقُوْلَ: مَسَرْنَهَا فی ال وَأَغفِرْمَا لک الیوُم تم نطُوی 
صَحِیْفةُعَسنَاتِو و أمَا الَاحَرُوْنَ او الْکفَار فبنَادَی عَلی رُوُوْس الأشْهَادِ : 
هلوُلَاءٍ الَذِْمَ كذبُوَا غَلٰی رَيْهمْ“ صحیح] راخرجہ البخاری ج ٦‏ فی تفسیر سورة ھود) 

۸ 


(۵۳۰) بحم : اہ نعھرحلہ سے روامیت سے میں نے رسول اللہ لان سے موی 
فیس رگوی کے بارے میں سنا فرماتے تھے: 
قامت کے دن مین رٹ العزت سے خوب قریب ہوگا۔ ہشام را وی سکتے ہیں: 
من رٹ الزت سے اتنا قریب ہوا کہ رب تپارک ونحاٹی اپنادست رحمت اس بر رکھ 
انی قریت ڈصعف نکو ظا ہرک نے کے لیے یا مانو کر نے کے بے یا ہاگ یکودو کر نے کے 
یے ایی اکرتے ہیں۔تقربان جا یئ دنن ورچیم پرکہاپنے ایک بندہپرات اکر مکہ ذا تک 
ےک7/01 کمن یسام ان انت اگ کرادت 
الو بحمدہ ۔) اوراں ےثھا مکا تما مکنا اق ارکرالیس گے۔لجا ضا ےب گناو 
ن ےکیا تھا؟ دہ کی گا: جانضاہو ںکہ ٹیل نے م گنا ہکیاے۔ ارشادرٹ العخرزت ہہوگا: ٹیل 
نے تتیرے ا لمنا ہکو دنا یس پچھپایا اورآ نج یس تی مخفر تکرتا نہوں ( تیر ےگزاہ 
محا فکرتا ہو ںک کول یکرفت و پل یی سکرو ںگاء جا متا فکردیا )پچل را کا صحش نات 
پیٹ دیا جا گا( یی فا لکلوزکردبی جا ۓےگی) ہا تک دوسرے لو ں کا( مزانقین 
رین ) اکا رکا محاملہ سے ے تھا مکا تیات عا م کے ساس ےآ وا لاک ہآ گا کرد یا چائے 
گی ہیں دولوک ججضھوں نے رٹ الھا لین پرگموٹ با دع تھا۔ ۱ 
(اخرج الفاری ثی فی معورة ہود_ حر م ٹگم:۴۸۸٠)‏ 
خر نکوالی رکا کلام ماننا اورایمان لا نا ضروریی سے 
کبددونصارگیء بت پرست جس عرب ءشمء ورپ الیٹ ای فرقہہ بمالعت اور 
کن کان ےصق دنا زج جح فو نک ان ےکا ض ات نی ودک ےا نکی 
صدرافت اورشخبانب ال" ہو نے میں قطت شیک وش ہک یتال شکہیںء جولو ککیں مات ابق و 
معاند ہیں جج سکم میس سے رسول الا نے فرماا: ا سکیاشم جس کے اھ میس میری 
جالع ےکہاس امت سے جوگھی مشھےسن نے اورپ رج را یمان شہ لا ۓے ود٠‏ ےت 
(ظر-ۓ۰/۳٣۳)‏ 
۸ 


ق رآ نک ری مکوڑا نا سب سے ب ڑ ام سے 

قرآ نک ریم ھوٹ او راز یہ اتال یکا سا کے و تفر 
ے خو ببھلوکہ ا نٹ سے زیادہ ال مکوئ نیس ہوسکنا جال رکچھوٹ باند ھھے ملا 
ا کا کلام نہ وا رکپیہد ےک ا کا کلام سے باواتی ا ںکا ۷ئ۵0 انار اۓے 
کہم را کلام سے گر باوجودردشن دلائل کےجھٹلانا ر ہے او راپنا ر ےکا کا یں ۔ 

(تفیرعنانی مگر-۳۰/۳) 
من یطیں نا گموں کےخلاف شیادت وگوابی 

نیش میں جب اللدتقالی کےسا نے علی روس الاشہاد ی ہوں گے اور 
ا نکی شھرارنوں کے دز تو ہے گے اس وق تگوابی د.ۓ وا نے( کہ ) صا ین 
بل خودان کے پاھ پائؤو ںلمہیل گےکہ برای دہ بد پت ظا لم ہیں جنھوں نے اپنے پر وددگار 
یبد تگھوٹ کا تھا ۔ (تی رحخانی ) 

اشیادےکیا مراد ے؟ شباد تکون لوک یں گے؟ 

می سکڑنا ہیں اشہاد( شہادت دیۓ وا لے )صرف ین ہوں کے جم ن کا کر 
( خاف علاء ہے اثوال یس )کیا گیا ےء بللہ انمان کے سال اخضاء تھی ثہادرت 
27 ۵ھ ت,., 

ظاليوْمَ تم لی اَفوَامھمْ و لمت ايدِيْهم و تَحْهَد اَرَجْلْهْمک 

دوسرکیآیت مم ںآیڑے: 

طَالزا لِکُلَزْدِهمْ لِم شَهِدنَمْ عَلبَا ن4 

ایک اورآیت ے: 

يَوم تَشْهَد عَلَيْهم اليِنََهُمْ و ايْدِيْهمْ و اَرَجْلْهُمْ ن> 

ملک نے حفرت ان کابیا ناف لکیا ےک الیل نے فرمیا: 


۲۸۳ 


منہ پر۳ رلگادکی جات ےکی اور اعضاء کہا جا ےگا تم اواو_ 

مل دوصرے شا بروں کے زمانہاورمقا بھی شبادت د ےکا سورة اذا زُلَرَلَےُ 
گیآیت سمل تحڈث اخحمَارھھا کے ذبل مم ںآ یا ےک رسول اللد چا نے ف رما اکلہ 
زین شہادت د ےک یکس بندےاورس ہنلدگی نے ا کی پیشت پک یاکیاءکیا۔ 

بخاری نے حظضرت ااوسعید خدرک کی ردایت سے میا نکیا ےکم وذ نکی آواز 
یراق ہین ےکی اور جہا ںکک جن ونس ا سکویس گے قیامت کے دانع ان سی 
شہادت دی گے۔ 

ای یخز کی 7 2 .0 و رج 
سے گاء موذانع کے لیے شہادت دےگاء الو دا ود اور امن شز یہ نے حطرت ابدہ رم کی 
مع رواب تا لکیہ ےک ہمذ نکی آواز جہا ںکک بن چےگی (ای کے مطابق ) ا کی 
ےکی ےکی او تن اق نکی مات رکا ۱ 

ئن ال ارک نے حضربت عم رکا قو لاخ لکیا ےک جوف٠حس‏ جس مقام سےقریب 
بد ہکمرےگاء دہاں درخت ہو با پھر قیامت کے دن دوشہادت دےگاء عطا خراسا یی 
روابیت بھی براثرمقول ے۔ 

الیم نے حخرت “تل ین مارک ردایت سے با نکیا ےکرسول ادا نے 
فرمایا: جودن ای نآدم پآ تا سے اس می ںآواز دکی جاٹی ہے( ]نی دن خودآواز ینا ے ) 
اےآوم زادا میس دن ہہوں پو جھ ےکر ےکاککل میں تیرے لیے شہادت دو ںگاء اس لیے 
میرے ان ددرت نگ یکرنا :یفن ری ۶صصى‌ َ ۶ئ ۲ 
وا سی طر عمق ےلم نے نضرت او سعید خدری 
خلہ گی ددایت سے میا نکیا ےک رسول الل چان نے فرمایا: بی مال بڑاسیراورشی میں سے 
الما نکا اپچھا انی سے اور جھ مال قیدیی اور یم اور (ضرورت مند) مسافرکودیا جائۓے 


۸۹ 


گا نود( وہ ماگل ) ا سک یکواہی دےگاء اور جوشس بن کے مال تا ہے وہ ا سخ کی 
رح ے جوکھ جا ہواورسی رنہ ہوتا ہوہ قیاومت کے ون مہ مال ال یخس کےخلاف شبادت 
دےگاءاوشھم نے طا و کی ردابیت سے بیا نکیا ےک قیامت کے دن مال اورصاحب 
ال دوفو ںکولایاجا گا اوردونوں ہام بھگھڑاکمرسں گے۔ (الیریٹ)(تمیرظبری) 

ا لگموں مراعنت 

ارشادے می جواو کلم اورناانصاثی سے الد کےکلا مکوجموا نا تے ہیں اور سب 
نے دز نر رت کےمگ ہیں دوسرو ںکو اڈ دکی راہ پر لئے سے روک ہیں اور اس ماش 
ٹش رت ہی ںکہ سید ھھ راست کون ھا خابم تکر میں ای ظا لموں پر اد کی یی لعنت 
ہے۔(تفی عخالی)(گلدستہ۔ ع:٣ض:۳۱)‏ 

تن جل مجدہ سے بنلد ہیی وی 

)٢٥٥(‏ عن صفوان بن مُحرز قال:قال رجلٌ لابن عمرّ ظلہ : کی سمعثٌ 
رسول الله ٭ّه یقول فی النجوی؟ قال: سمعن یقول: 
قَيَقَرْزْه بذٰوْبه. فَيَقُوْلَ : هَل تغرف؛ فَيَقُولَ : اَی رَبْ أغرف. قال : قَالِی ق 
مََرْنهَا عَلَیْک فی ال وَإِنَی أَفُفِرْهَ لک البَرْم ء فَيْْطی صَحیفَة 
حَِسَتايهء وَآمَا ت0 َ الْمَافقونَ فَبَادَی بِهِمْ عَلی رُوَوْسِ الخَلابِق: ھڑلاء 
الو عتوعلی ار [صحیح] (آخرجه مسلمء ج: ۳ء ص:٢٢١٦)‏ 

(۵۳۱) تر جمہ : ای کش نے این عمریلہ س ےکھا: آپ نےکس طرح مجوئی 
نیس وی کےسلسلہ میس رسول اد چا سے سنا۔پے اھوں نے جواب دی اک رسول اللہ چا 
نے فرمایا : قیامت کے دن من رب عزوبصل سے انفا قریب ہوا کت تال ی اس بر اپنا 

۳ 


دست رححمت ڈال دیں گےء میں وہ بندہ ما مگمنا ہو ںکا اق را رک لگا ۔ اتال ارشاد 
فرماۓ گا :کیا تم پان ہو؟(جشنی ان تا مگمناہو ںکو) ددع کر ےگا :ہاں !یا رب 
ادا ہوںء میرے کی گناہ ہیں۔ ارشاد ہوگا: نو میں نے دنا میں تیر ےمنا ہو ںکو 
چھاپاتھا اور آج تی مغفر تکرتا ہوں۔ اذا اس کے می صنات ال کو راد یے 
انیس کے اورکفار ومناضقن کےسلسلہ میں قما متش رکے سہا سے اعمان ہو جات گا : مکی ہیں 
ووالوک جضموں نے رٹ الھال مان یگچھوٹ با ھا تھا ءکہال لکا ش یک رای تھا۔ لم ) 
بجی ہیں وولوک جخھوں نے رٹ اصکمیان برگیھوٹ با ھا تھا 
)۰٥٥(‏ عن صفوان بن مُخُرز المازنی قال: بَيْنَمَا نَحَنْ مَع عَبدِ الله بن 
غُمَرَ ظلہ وَهُوَيَطوف باليّتِ إِذْ عَرَض لہ رَجُْل فَقَال: یا اب غَمَرَ لہ کَیْفَ سُمعُك 
ول الله قل یذُگرُ فی النَجوعا؟ قال سَیث رَسُوْل الله ئل بَقُزلَ: 
: ”نی الْمُوهْ من ره َوْمَ الْقيامة تی يَصَمعَليیْه كَکَة تم رر 
بِدُنُوبِه فقو مَل تغرف؛ فَيفُولَ: با رَبَ آغرث تی إِذَا يلع نما هَء 
اللَۂ اُذْيَيْلُعَ فَال: إَِيْ مَنَرنّهَاعَلیُک فی النَیا و نا أغَفِرْمَا لک اليْوَم, 
قَال: بط صَحیفَة عساتد از ككابَه َِمبیه. َال وَأَمَا الْکافِر او المَُافق 
َْنَادَی عَلی رُ رُوُوْسٍ لْفَْادِ.“ 
ظهَلاء الَِیْنَ كدَبُوْا علیٰ رَبَهم الا لَْنَةُ الله لی الطلِمیْنپە(ین۸) 
[صحیح] (أخرجه ابن ماجھ ج ۱۸۳/۱) 
(۵۲۴) تر جم : طواف کے درمیان ای کنک نے این عمر یلد سے سوا لکما. 
اے ام ن عم ر لہ ! آپ نے رسول اللہ چللن سے سرگڑگی کے سلسلہ می سکس رج سنا سے؟ 
اکھوں نے جواب دیا: میں نے رعول اللہ لا سے سنا فر مات ہو ئۓ :میسن قیامت کے 
دانع رٹ الزّت سے انا ریب ہوا کتقن بل مجدرہ اس پرسایررحمت اورستزو دہ ڈال 
دبیں گےء پچ راس سےگنا ہکا اقرارکرائیں کےہ ارشاد ہوگا نے یک سے بپچیا ضا ے نا۔ وہ 
۳8 


عمف کر ےگا: ہال بارب !شس بیپچاتا ہوں(یرے بج گناہ ہیں ) شش نے تیر ےکنا ہکو 
دنا می ں بھی چچھپابا تھا او رآ بھی تتبرکی مغخر تکرتا ہو پچ را کا صحیض نات ال کو 
دے دبا جات گایا ان کا سناب اس کے دا نے ہاتجھ میں ء رسول اش لگن نے فرمایا: چہاں 
ککافر یا منا قح کا معاملہ سے فو تمام ائ یش راورغ لی کے دو برواعلا نگردیا جات گا- 
بی ہیں وہ لوک جنوں نے رٹ العا ین پرگھوٹ باندھا تھا۔تجردار یق الد یا ککی 
لعنت ے نیا لمموں ( مخ رکوں اورمنا قوش )یر (اخابن مب /۱۸۳) 

عد بیث چوک کا نا چھڑی 

)٣٥٥(‏ عن محرز قال: بینما ابن عمرظلہ بطوف بالبیت إذعرضه رجل 
فقال: یا أبا عبدالرحمن کیف سمعت النبی لہ یقول فی النجوی قال: 
مه تم َقُوْلَ : ا تغرف ؟ فَیقُوْلَ: رَبَ اغرف. تم يَقُوْلَ : ا تغرفث؛ فَيقُوْلَ: 
رَبَ أَغرِف ريَغبی) فَيَقُوْلَ: نا سَمَرنْھَا عَلَیْک فی الڈنیا و انا أغَفِرْمَا لک 
لوم وَیْعُظی صَجِیْفةَ عَسَنایه. وَ ما الكَفار و المَافِقُوْنَ فَبنَادَی بِهِمْ عَلَی 
ُوُوْسِ الشْمَادِ:“ 

ولا الَِیْنَ كَلَبُوا علیٰ رَبَهھمْ الا لَعنَة الله لی الطَِمیَن (ی:۸) 
الْخَلائِق. [صحیح] (أخرجہە أحمد ج ۵/۸ ۵۸۲) ۱ 

(۵۲۳)ت مہ :این عم رید طوا فکررسے کہ ایک شضس ن ےکھا :یا ابا 
عحبدالرن لہ ! آپ نے رسول الد یلال ےکس رح سرکوچی کے سلسلہ میں سنا سے 
انکھویں ن کہا: 

مع رت اعت سے قیامت کے ون انا ریب ہوا ءاریا معلوم ہہوگیا جبی اک 
یٹ رکا پچ ہے(جو ما لکی متاورسح تک وج سے ماں سے رکا ر بنا ہے )۔ذ رت الھا مین 

۴۳ 


اس پر انی سارک یکا ساپ رحمت ڈال دےگاءششنی ا سکواتی رجحعت میں ڈحاب لگا ء پھر 
اس سے فرماے گا: تے انا ہے؟(ستنیگناہ وسنا تکو) دہع کر ےگا زہاں پیاما 
ہوں۔ پچ انف رما گا: نے پا تا ہے؟ دہع کر ےگا نہاں بارب ! خوب اتا ہوں۔ 
جن تھا لی ارشادف رما تےگا: یس نے تیر ےگنا ہی دیائش بردہ لوگ یک ء اورتیر ےگمنانہوں 
کولوگوں سے پچھپایاء فذ آ نج تیرے تما مگمناہہو ںکی مغفر کرت نہوں اور مکو محا فکرتا 
ہوں۔ پچ را کا یف نات ال سکوتھم دیاجا ۓگ او رکا رومنانشن کے لیے تما مت وقات 
کے سا سآ واز لگادی جات گی یی میں .ئ2 6ات الا ان پرپھوٹ 
ا ند ھا تھا تردار یقیا اید تھا یکیالحعنت ےنا لگموں ( مشرکوں منافتوں )ىر 

سعید ینہ لن ےکہا :ہک تا دہ ن ےکہ اک ہآ جو رس و ارد یا گیا ا سکی رسواکئی خلالن ‏ 
ید ہیں رے 7 تی قمام کےسا مخ رسواپہوکیا ۔-۔ (اتخرج ام ۵۸۲۵/۸ اف )٣۴۸‏ 

بنارہ ‏ بردہ لوک اورکنوکا ثضان 

عضن تال کی ذات نہایت جیا مہربان ہے۔ انسان انسا یک یکر ور یو ںکوجلاشتا و 
ڈعونتا سے اور بچھر ال کو اپٹی طافت مگ رلوگوں کے سا سے بیاا نکر کے اپ نے آ پکونظرو 
سر بلند یکا تفہ اص لک رتا ہے ۔ مرا نسما نکی ہاب ت گنی صفت اور خی رسعمولی رو ری ےء 
ذات نی پالیل بی اس کے برخلاف اپنے بنلدوں کےگناہو ںکوخ لال اورخو دا محصیت 
ےار بک/رنے وا نے سےبھی ا گنا کی نحوس تکو پچ الا ہے ۔ دوسروں سے پردہ 
پٹ یکرتاے اور بیحعفت ر بکی بی وق ےکہ بندہ ک ےگنا ہکو چھ اک رف رکرتا سے اورکل 
امرف کے دانع ئن تما ی رہ سے س رک یکریں کے ہق ری بک کے ات ےکنف ورمت مین 
ن ےک گنا ہکا اق ا رھ یکرآئئیں کے مک فو ومخفرت جو ٹ ےکی اس برمسرت وخونی دو پالا ہو 
جائۓ ۔ نحص اعحادیث ٹیل سےکہ بی دلی بی دل میس پان ہوگا کہ میرا اپ معاملہ 
خط پاک ے او رجا کی ش ل یں ہگرمعاملہ پالئل ہی ہنکس ہ گان تا لیف مادریی کے 
کرد نیا می تار ےگناہ پہ پردہ ڈالاءلوگوں کے سا رسوالی سے پیاباء ا بآ ترک 

۰۰۳۴ 


مغخفر کچھ یکر ہا ہوں_ ری نکر ال ںکی خوقی وسر تک انا نیس ر ےگی۔ابئل ایما نکی 
لیے یقن ال کی رحمتنحضب پر ہعفد ومخفرت عراب وعقاب پر سوقم تکر جات ےگیا۔ اس 
کے فک ار از تن لا ں7۷ ارت سے تاد ت رکز 
جن لوکوں نے ق رن مرکو اد تھا یکا سا خر ما نیس مانا۔ الد تعاٹ یکو یک ٢کیا‏ میں مانا۔ 
الد تھالی پریجھوٹ باندھا اس سے بڑا ال رکون ہوگا۔ بلوگ ج ب تشم میس اللہ تھا لی کے 
سا نمی روس الاشہادٹیٹ ہوں کے اورا نکی ششرارتوں کے دش زکھونے جافیں گےء اس 
0 ۳ئ و ان ای نو 
بد یت ظا لم ہیں جخھوں نے این پر وروگ رکی لب تججھوٹ کا تھا۔ (تضیرعخی ۷۸۵) 

الفرن کفار برلعنت بر گی اورم وین زان پر تلہ طاِن رت الله 
ریب جن الْممحسِیْ ۔ بے گنک اللدتھال یکی رع ت نین کےقریب سے نی نکون 
ہیں؟ او اییمانء ائل نرہ اٹل انابتء اب عبادتء ائل اطاعتء ابئل سنتء اٹل 
مخفرتء اب یئل ء رٹ العزت ان لوگوں ک گنا بر اہ نل وکرم سے قیامت کے دن 
بردہ لاگ یکر کے مفخفر تکا پروانہعط اکر کے اٹ یآ خوش رححعت میں نے لےگا۔ اوران رنظر 
عنایت تام ہوگی۔ یکو یکم للقت ہوگ یک رٹ االھا جن ا نعکوقر یی بک کے انی مناجات 
وس رگوٹی مرکا شرف کن گا۔ یر فکھی اٹل امان ب یکا تحیب ے۔فھنیتاً لھم! 
باب: یی بِالّجُلٍ يَوُمَ الِّيامَّةِقَيقَالَ: اِغر ضوا عَليْهِ صِغار ذَُوَبهٍ. 

باب: قامت کے و نگم الہ ی سے ای کن کے سا نے 
اس کے چو نے سچھ وٹ ےگنا پیش سے گے 

: عن أبی ذر طللہ قال: قال رسول الله لا‎ )٢٥( 

”بی بِالرجُلِ يَوْمَ َْْامَةفَيقالَ: اغر ضُو علیہ صغَار دنہ وَیُعَبا 
عَسْه کِبَارُمَاء فَیْقالَ: عَمِلَك یَوْمَ كذِیٔ كَذِیٔ وَ كذِیٔ, وَ عَمِلَتَ يَومَ کی 


۳٣" 


كَذِیٗ و كذِیٗ, و عَمِلّت یَوْمَ كَذِیٔ کذِیٗ وَ كَذِیٰ۔۔ تَلاك مَرَاتٍ --قال: 
وَهُو مقر لیس بمُذکرء وَھُوَ مُشفِق مَِ الْکبَائر ان تَجبىءَقَالَ: قَإِذَ أرَاَ الله 
ہو غَیْرَاء قال: أغطُوْه مَكانَ کل سَيَنَةَ عَسَنةفَيقُوْلَ: ا رَبَ إِنَ لی دنوب مَا 
ھا مَاهُنا قد رََيْت رَسُوْلَ اللہ ل يَصسْحَکٔ ختی بث تَوَاجذه فُم تَا 
َسُوُلُ الله ا إفازلیک يد الله سَیناِھم حَسناتِ کچ“ رالفرقان/٠ے‏ 
[صحیح] (أخرجه أبوعوانە فی مسندہ ج ١ص‏ ۱۷۰) 
قامت کے دن موم نک وگناہہو ںکی تک شیا می ںگی 
( ۵۳۳)ن جم الوذر خلا سے روابیت ےکرسول الد لاق نے فر مایا : قیامت 
کے دن ایک سکولایا جات ےگا۔ ارشادہوگا :ال کے سا ال کے بچھو ٹے چون گناہ 
یی ںکرواورائس کے بڈے بڑڈ ےگمناہہو کو اس سے پچھ یا لیاجا ت گا ۔ اس س کہا جا ت گا : 
کہ نو نے فلا ںل فلالءفلاںل دن ىہ گناہ ییے تے اور اس اس دن پہ گناہ سے تے۔ بہ 
۲ء  -‏ ۶ء 0إ" و 
کابھی اکا رک ںکر ےگا اور ول بی ول بیس ڈرھی لگا ہوا ہوگا (ک کیو تھے 
گناو ںکابرحالی سے فو پچ ر) بڑ ےکنا ہکا کیا ےگا اگمر دوسا مئے لا پامگیا؟ رسول اللہ چا 
ؤ,۸6۵۵ە) رٹ العزّت جب ا نف کےساتھ بھلائی وت رکا معاملہکر نا جا ہیں گے ہر 
تا کت یا ےک زان کک اتک اک نان 
کویخجانب ااشدعطاء ہوگی ) دوفو رآہول پڑ ےگا :رٹ العزت میر ے ببہت سار ےگثاہ اور 
بھی ہیں مج نکو میں ہا لیس دکبھر ہا ہویں۔ راوکی کے ہیں: میں نے رسول اید کو 
دی اکہ مض بیہا ںیک کک ہآ فا بے کے دانت مبارک اہ رہوگئے۔ پچ رآپ چا نےآیت 
حلاو تفر الی۔ 
ولیک يَُدِل الله سَيّناِھم حَسناتِ کہ رافرقان/+ے 


۲9۰۵ 


ادتقا لی اےلوکوں کےکمزشت کنا ہہو ںکی عجک نال خعنایت ف رما ت ےگا۔ 
(اخرج القوان نی مندہ-ا/۰ء١)‏ 
لٹ: قارین اس حدی ٹکی شر کے لیے حدی ٹ نہ ۹ے ۴ کی شرح د چیہ 
وہاں نکی بات گی ے۔(خئین ) 
جاائیس نے تی مففر تکردیی 
رسوی ار وو ہا 
”ول مَا بُسْمَنطَی من اي آ٥م‏ جَوَارُِة فِیْ مَحَاقر عَمَلهء يقَوْل: ۲ 
عِرّتک إِنٗ عنْدِی المطمَرَاتِ العظامَ افيقُوْلُ الله عَرَوَجَل : انا أَعلَمْبھَا 
منک اِذمَبْ فَقَذُ غَفَزثُ لُکے. “ (ضعیف] رکمافی کنزالعمالء ۳۸۹۹۹/۱۳) 
(۵۲۵) 7 جم : حضرت ابوامامہ ند سے ردابیت ہےء ای نآ وم کے سب سے 
لے جوارں واعضاءم شہادت دیس گے گچھونے کیو نے فیا لکن وخ رح کر ےگا 
رٹ العزت تی رکاش ! میرے جھیے ہو بڑے اہشید گناہ ببت زیادہ ہیں ۔ج جم مچدہ 
ارشا وف رما ۓگا: بی ال نگناہہو ںکوقم سے زیادہ جاہضا ہول جاء جاء ٹیس نے تیری مخفرت 
گمردگی۔ (کنزااسال )٢۸۹۹۹/۳‏ 
ش رح تال کی شان بے نیاز ہرز در تکائل دصق ہہ چا نو ایک 
یئن ں- زاک رینم رس دکردے اور جا ےن گنا ہکوشا رک رک کے ٹبیا ں عطا ٹہمارے 7 
اکر فقروں کا جم یں الب 
تماشمائے اٹل 2 7ت یں 
بنلدوڈگ یکننا ٹیب ےک بڑ ےمناہوں پرایک و ڈررہاے؟مگر جب باب رحمت 
برعنابی تک بارش دنا ے ےجنس مڑ ےگناہ سے ڈور ا تھا اب ان یگمناہہوں برنیوں اور 
وا کا امیاروار ہے اورتم بل مر ہکی ذا بھی رحم تکا دھانکھول د بی سے اورسینات 
کوسپرل بی صنا تک کے بندہکوٹوازٹی رپ ہسے۔ قدا وہ اجود الاجودین ‏ ارحم 
۴٦‏ 


الراحمینء خیر الغافرین اور خیرالمعطین ے۔ 
باب : کان فِيٌ بی إِسُرَائیْل رَجل قتَل قَِسُعَةً وَیَِسُمِیْن نَفْمَا ۰- 
پاب :اسر ائ ل کی ننس جس نے نا ندے انسا نک کیا 

)١٥٥(‏ عن أبی سعید لہ عن النبی ظلٌ قال: 
َسَأنْء فی رَاهبا فَسَاَنَه فَقَال له: مَل مِن نَونَة؛ قال: لا ققَله . فَجعَل 
يَسَأل ءفَقَال لَ رَجْلُ: انت قَریَة کذَا و كَذا فَاذرَکۂ الْمزْث فََاءَ بصَذرہ 
نَحُوَمَاء فَاحْتصَمّہ فَيّ مَلانگة الرَحْمَة و مَلابْكة العَذَابٍ اق ی الله إِلّى 
هٰذْہاُنْ تقَرٌّبیٗء و وأَوَی اللهإِلَی هذہ ا تبَاعِدِیٔء وَقَالَ: قیْسُزا مَا بَيْهْمَ 
وذ لی هٰذہ قب بِشٍبّر فَعِْرَلَهُ“ [صحیح] (أخرجہ البخاریء ج: ٤ء‏ ص:١٢)‏ 

سو اٹل 71 محضرت اور وسحت رحت 

(۵۲۷) تر ججمہ : حضرت الوسعیر دلاہ سے دوایت ہ ےک رسول الد چا نے 
ارشادفر ایا بی اس ایل میں ای کس فا جس نے نین ےکن سے تھے پچ مو مکر نے 
کے لیے بلاق یک راہب کے پا سآیااورسوا لک یاکہ ایخ کی نو قبول ہوگی ننس نے 
زان نأ یکیاہو؟ راہب ن ےکہا کہا کن بقبول ٹیس بہوی ء بچلرانس نے اس راہ بکو 
01 چھرسوال کے لے پھلا نے ا سکوای کن نت کہا مک فلاں فلا ںپصتی میس حا َء 
7 0 و و 
ملامکرررمت اور انگ عز اب بھگڑ نے مگ ےکہ جشت میں پا جم میس داخ کیا جا ء اللہ 
اک نے ز بن پروی ناز لک یکددرم تک رف فریب ہو جا ادرعذاب وعقاب کےحصہ 
وی نازل ہوئ یکن بعید ہوجا اورفرشتو ںکویم ہوا ہآ بیں می ز می نکی پپائشی کے ذریجہ 
رو ازع سے قریب سے فو نت ورنہ بل چم ۔ یں پائ‌ شک یگئی و رح تکی 


ے۳۹ 


طرف ایک پالشت زیادہ قر یب ہوگئیء فو ا لکی مغفرت ہوئی۔ل( مہ سے رحح تکی سجقت 
فضبر) 


یہ 
٠‏ 


ا سس 
اننروا لو ںکی مخ ی احت 

)٢١۷(‏ عن أبی سعید الخدری ظلہ اُن نبی الله يٌ قال: 

”کان فِيمَنْ کان قَبلكمْ رَجُل قتل مِسْعَة وٗتِسمِْنَ سُا ء فسَال عَنْ 
الم مل لأرضء فَدُلَ عَلی رَامب فاتَاۂ فَقَالء إِنه قَعل تَِسَعَةَ و يِسْعِیْن نَفُمَا 
فَھَل لَاُمِن توَبَة؟ فقَال:لا۔ فَقَمْلَه فُكَمُل بہ مائقہ تم سَال عَنْ اغلم اھل 
ےس سر و سشرجی نة قتل مِائة نف فْهَل لَه مِنْ توْبَة ؟ 
فَقَال: نَعَم. وَمَنْ يَحوبَنةُوَب لوہ لق لی أَرْضِ کذا رکذ فَإَِ 
نمی سر تی نے لی ارُضک فَإنَھَا رض 
سُوْءِء فَانطِلق ختی إِذّا ‏ َصف الطَرِيق اتاۂ الْمَوّثُ ء فَاختصَمَہُ فْ مَلائْکةُ 
لَحْمَة رَ مَلاِگة العَذًاب . لَقَالَث مَااِكة الحْمَة : جَاءَ تَایا تُقبلا بقليه لی 
الله وَ فَالَےْ مَلابْكة الْعَذاب: إِنَه لَميَعَمَل خَیْرًا قط. فَأَنَامُمْ مَلک فی 
صُورَةِ آَمي فَجَعلوٰه بَينهُمٍ فقال: قَیْسُوْا مَا بَيْنَ الْأازْضیّنِ. فإالی ایتھما كانَ 
آڈننی فَهُوَ لَ. فَقَاسُوْهفَوَجْدوْهُ انی إِلَی الأزٴض لیت ارَاد فقبضتہ مَلایکة 
الإححمة,“ 

ال فَعَادَةً: فقَال الحَسَنْ: ذکر لا أنَه لَمَا آتَاه الْمَوّتُ نی بصَذرہ. 

[صحیح] (أخرجه مسلم؛ ج: ٤ء‏ ص:۲۱۱۸) 

(۵۳)ز می : ا سحیدرخدرری ند ے ردایت ے ہہ رسول اد یلا نے خر مایا: 

بی امت می سای ک شس نھاء جونزانوےآ1دی یککاشل سیے ہوا تھا۔ اس وفت ز ۳ن پر 
جو پڑا عالم ھا ءاس کے تلق سوا لکیا :نذ ا ںکو ایک راہب عبادتگز ار جا بج دیا- 
وا لآ یا اور اس راہب سے سوا لکیا کہ ای کآدیی نے نوا و ےس نات کیا ےکی ا سکی 


۰۸ 


عندا قیول ہوگی؟(اور دو تو ہکرسکتا ہے؟) اس راہب نےش کرد کہ ا لک نہ 
نی یں کی 0 0 030 
گر ہوکئی ء7 خر تکا خوف ہوا )اس نے ز بین پرایک پڑے عالم کےۂتاتی سوا لکیاہت 
ا ںکویک حا مکا اتد بن تاد اکیردہاں چا1ٗ تر ےنت 
نے ایک مق کیا ےکیاعتدالظر ا قو برک یکو کل ہے؟ اس عاللم نے جواب دیا:ہاں ! 
کیو ںکیں؟ اس کے اور ا کی توب کے ورمیا ‏ کون حائل ہوسلتا ے؟ تو فلاں مقام 
برفلاں عچکہ چلا جا کہ وہاں بی(ایند والے) لوک رت ء ہیں ولف الب یکی عیادت 
میں شغول ہیں :نو بھی ان کے پاس اکر اغلاص کے سا تع اڈ دکی عبات میں مشخول ہو جا 
اورا بنیستی مس وا یں شہجاناء اش ےی ےکردہ برک علرے ‏ دوش وہاں سے اس ایٹروالوں 
یہت یکی طرف پل پڑا۔ ج بآد سے راستہ میس جیا کہ لک المو تآئے اور ا کی 
اوت رایت ہے اض الپ جا تاور 
٦‏ تس کت ےک رخف و بکمرن ےآ یاتھاء دولی سے الیم تھا ی کی طرف 
راخب تھا (ششنی اب اورغیب الی ال تھا ادا اس پ ای دکی رممت ہوگی۔ عذاب کے 
فرش نہیں اس نے اھ یکوئی نکی بینیی ںکی (اس لیے عاب ہوگا) تو ان دونوں 
کےدرمیان ٹصدرے لیے اک فرشا نی شمل مم ںآ یا اوردووں کےدرمیان یلگا 1 
دوٹوں طر فک ز می نکی انت شلکرو۔ دع کی مسان تک ہہواسی طرف ا سکو نے چاوء زا 
یی پان ہوئی نو الشدوالو ںکیا ٦ت‏ یکی جاب سےقریب تھا نے رععت کے فر مت لے 
اے۔ت ے کک 
وت قری بآیا نے صا نکی تق یکی طرف سیدن ھی رلیا۔ (غب+۰۸۸/۷) 


۹ 


رجحم١‏ تج ری مقر تک وسل 7ا ایی سے 

: عن أبی سعید الخدریئلہ عن اللبی لہ‎ )٢٥۸( 

٣‏ رَجُلاقسل جَسَعَةوَتَسْعِیْیَ تَفْسَا فَجَعل يَسَالَ: مل له مِنْ تَوبَا 
لی راہب فسأه َقالَ: یٹ لک مَوبَة فَقعل الرَاجب, تم جَعَل بَا نم 
حَرَج مِیْ قَریة لی قریَةفِيْهَ فو صَالِحزْیَ كََمَ ان فی بعغض الطَرِيق ؛ 
اركه المَوْث فُسَاى بِصذرِوِثُمُ مَاتء فَاختَصَمّث فِّہ مَلايِكةُ الرّحْمَة و 
مَاْكة العذَابِ فان إِلی الْریَة الصَالِحَةأَقرَب مِنھَا بشِبْرٍ فَجُعلمِنْ أَهِھَا ٠‏ 

[صحیح] (أخرجه مسلم ج ٤‏ ص۲۱۱۹) 

(۵۸) لحمہ: الو سحیدخددکی اد سے ردایت ے ےہول اد یلا نے خر مایا: 

کان ْل کال سیے ہوا تھیا_ وو لوگوں سے معلو مکرتا اک کیا اںی 
تو نول ہی اوروواوکر کت ہے؟ و ایک راہب نت ا ںآ یا اورسوا لیکیاک نو بک رکا 
سے ان ےگ قکردیا فو ا کون لکردیا۔ پچ رلوکوں سے اپ پت کہ :کیا ا سک وذ قول 
پونکتی ہے؟ تی رای گا ئوں سے دوسر ےگا کول چلاگیاء جہاں کیک صا ین اللہ والو ںکی 
جراعت رہق یی ابھی وہ راستہ ھی میں ھک ا سکی مو تآلگئی۔پذ اس نے اپنا سیت اللہ 
والو کیٹ کی طرف بپچھینردیا۔ اب ال شی کے سلسملہٹیں رحت اودعذاب کے ٹرش 
لڑپڑ ےک عزاب ہو با رعت۔ و کیک وصاغ لوگ ںکیہتی سے ایک پا شت قریب تھا 
ال ارجمت وجنت مم شا رہوا_ 

)٢٥۹(‏ عن أبی سعید الخدری ظلہ قال: لاأحدثکم إلا ما سمعت من رسول 
الله ےا سمعتہ اُذنای ووعاہ قلبی: 

”اك عَبْذَاَسَل مِسْعَة وَتِسْعِیْنَ نَفْسَاء ثُمْ عرضّث لە اللہ فَسَالَ عنْ 
الم ال الّرضِ قَدلَ عَلی رَجُلِ فأتاه فَقَال: إِنَی فلت يِسْعَة وَتِسعِینَنَفْسَ 

مم 


هي مِنْ توٴبة ؟ قَال : بَهّذَ قَلِ تَسَعَةِ وٌتِسْعِیْنَ نَفْسَا ؟ قال: فانتضی مَیْفَُ 
ففََلَۂ هفََكْمَل بہ اقَة۔ کم عَرَصّث لە الَزَةفْسَاَلَ عَنْ اُلم ال الرُض, 
فَدلٌ غلی رَجْلِ فَتَا. فَقَالإِنَی فلت مِائَة نف قَهَلَ لی مِنْ تَوْنَة؟ فَقَال: رَ 
مَْ يَوْلبَيَک وَبَيْناللَويَة ؟ اج من الريَة الع ای أَنتَ فِا لی 
لقَرْيَةِ الصٌالِحَة قَرْيَة کذَا و کَذَا فَاغبٔڈ رَبُک فِْهَا قَال : فخَرَج إِلَی الْقَرَة 
اللضًالِحَة ء فَعَرَضَ لَ اَجَلَهُ فی الطریٔق. قَال: فَاخَتضَمَت فیّه مَلَابْكَةُ الرَحْمَة 
و مَلائْکةُ الَعَذَاب. قَال : ققَالإِنلیْس: 5 وی به ِنَّهَلمْ يَعَصِيِیٰ سَاعَةً قط. 
قَال: فَقَالت مَلَابْككُ الرّحْمَة : إِنه حرج تَائّبًا.“ (صحیم] راخرجہ احمدہ ٣:٣:‏ 

(۵۲۹۱) 2 جم : ابفیسعید خدری طلہ بیا نک۷رتے ہی ںکہ می تم لوگو ںکوودی بیان 
رتا بہوں جو رسول الد پان سے سنا سے۔ ممیر ےکا موں نے سنا اورمیرے ول نے تفوبز 
تک ا فا ےآ ا ا تن کے کی پا نکر نر 
ای سے نکر لینا جا ہے ۔ اس یکر کے تحت اس نے لے بچھاکہز ین میس سب سے بٹڑاعا یم 
کون ہے؟ لوگوں نے لاد اک فلا ںآ دٹی سے نو ماس کے پا پآ یا او دکہاکمہ: میس نے 
زان ےکی سے ہیں ءکیائیش نو ہک رسک ہوں؟ اورمیرے لیے نو رکا دروازہ ے؟ ا عا یم 
کہا: نا نو ےل کے بع دق مکونذ رک یگک ئن ہوئی ہے۔ اس اس نے ات می ںنکوا رس الا 
اوراں سے اىی عال مکا کا م تما مکردیااور پر ے ایک سو کا عدد و داکردیا۔ پچھرا کو کا 
خیا لآباءبچلرلوگوں سے پ پچ اکہ: ز ۲ن بر سب سے بڑاعال مکون ہے؟ فذلوگوں نے ایک 
تش سکااتہ پند تلایا۔اس کے پا ںآیا او رکہاکمہ شش اپورے اسیک سوانسا نکا قائل ہو ںکیا 
میرے لیے فو بککوٹی راسنہ ہے؟ اس عالھم نے لا کہ ریف بہ اود تیرے درمیا نون 
عائل ہوسکتا ہے؟(جلدبیکر) و اس خھییتھتی سےنئل جا جس می میم ہاور اس 
وت یکی جاخب جو تیک وصاغ لوگو ںکی تی ہے فلاں متقام فلاں علاقہ بی اود وہال چاکر 
ق ا کی مخت شا ضف ےکن اڈ کے نامک نکی تی کی ای 


۰ 


7 ۰ 9ء 7 وج 
کےفر شت اہ ھک ےک ۔کہاں لے جایا جا ے؟ رسول اللہ لان نے فرمایا :اٹل تین ن ےکچامکہ: 
یس کے ےرت ا تن و نکی ےکی فک ان اس فا نکی تیعون 
انل ٹلا نے خرمایا :رمت سم ےر شتوں ن کہ اکہ :یں نے کی خرس سے اھڑا تھا( ابوراضح 
کت ہیں رسول اللہ ہے نے فر مایا :نے الل تی نے فرشن جیا ننس نے دونوں کے درمیان 
کیا گنو زوڈو لص و ےکی رت کے ایا کے سا تج ھا سکوکردو ۔حظثررت 
نضننفرماتے ہی ںکہ: جب اس بندہ نے ححسؤ ںکیاکہ اب مو تآ نے والی سے و انس نے 
۶ء ۶ 09ت 
اورخحجبیث وگندرو ںکیاصقی سے دو رکرد یا_ابنرا ا ںکا حشرصا نین کے سا تھ ہوگیا)۔ (اضر) 
لو کا دروازہ بی گا ہواے 
)٢٥٥(‏ للطبرانی و أبی یعلی و ابن عساکر عن معاویة طلہ : 
رَجْلَايَعْمَل السَیَْاتِ ء و قتل سَبْغَةوَ تَسْعِيْنَ نَفُسَا كکُلْهَا يَقتْل 
لم بفَْرٍ عقء فُعَرَع قَأنَی رای فقَالَ: یا راہب اإنَ الَحَر قََل مَبْعَاَرَ 
َِسْعِیْنَ نَفْسَا كلَهَا تَقَلَ طُلمَا بغَیْر عق فَهَل لَه مِنْ تَوْبَة ؟ قَال: لا . لَیْسَ لُک 
وَة فضَرَبَه لعل تم جَاءَ آحَر َقَالله : یا راهبُ ١إ‏ الآحَر قد قَتَلنَمایباً 
و يَِسْعِیْنَ نَفْسَا کُلَھَا نَقَلَ طُلَمَا بعیْرِ حَقِ فَهَللَه مِنْ تَوْبَة؟ قَال : لا. لَیْمَتْ ل 
قَِسَْعَة و تَِسعِیْنَ نَفْسَا كُلَهَا تْقل طُلَمَا بغَیْرِ حَقٍ. فَهَلَ لَه مِنْ توب قال : 
لا. فضربہ فقتله. می رَاھیًا آَخر فَقَال له: إِنّ الاحَرَلَم يد مِنَ الشَر شَبنا 
لا قڈ عَلۂ قذ نل مِائَة نف كُلَھَا تل طُلمَا بغیْرِ حَق فَهَللهُمِنْتَوْبَة ؟ 
فَقَال لَه وَاللَوِلَينْ فُلَّےُ لک: الله موب عَالٰي مَیْ تاب إَِيّه لق 
كَذبُٹُ مَاهُنَا دَيْر یه قُوْمَ مُعَعدُوْنَ فَأاِهمْ فَاغبْدِ الله مَعهُمْ فَحَرَج تَائبا تی 
۸۲م 


ِا ان فی نضف الطُریي بََت الله یه لگا فَقبَس تَفْسَۂ فَحَضرِن مَلابْك 
پر سے ہے بی بعک الله ِلَيهمْ مُگ َال لَهُم: 
إلی اَی الْفَرِبْقيْن ن قرب فَهُومِنهَا فقَاسُوْا ما بَيْهُمَا فوَجِدَۂ ارب إِلی قَریَة 
رب بیس اَنمل مل ض [صحیح لغیرہ] (کما فی کنزالعمالء ۳ /۱۰۲۹۸) 
(۵۳۰)ء/ ر0 ھ.- محادیے روابہت 00ھ0۰2 عادکی جرم تھا جس ے 
مان ےےل سے تھے اوردہ نات نف لکرتا نذ راہب کے پا عبادت خاش می ںآ یا ایک دفعہ 
قاطی نے راہب س ےکہاکہ ای کآدٹی ہے جس نے متا ےکن سی ہیں اورتام لوگو ںکو 
نا ناش لک سے کیا نرہ ومخفر تک یکوئی ضحل ۴ 9 2 ۶ 
"س09 92 اخ نے اس راہ بکاگ یکردیااد بنا ما ہوا 
دوسرے راہہب کے ا لآیاہسوا لک یاکہ ایک نس نے اٹھاند یگ سیے ہیں اورس بکا 
سب نات وظل ا کیا :این کے لتوب ومخفر تک یکوئی شکل ہے؟ اس عالم نے بھی 
جواب دہا اکوئی صورت یں ان ںکوچھی ما کل کرد یا ادد ہچ ایک راہب کے پا ںآیا اور 
عو لکیاکہآیکی ٹس نے ننانوے :اج نقنل سے ہیں ؛کیااس کے لے قب دمحانی ک کیل 
ہے؟ اس عا لم ن ےھ کہا :کوئی صورت یں ء ا سکوچھ یکل ار کے سو کے عددکو پوراکمر کے 
ھالگا ہار ایک راہب کے پا سآ یا او مت کیا :یکس نے دنا اکوئ منوس مچھوڑا 
تس3 تک نم ےت کا دروازہ 
کطا ہوا ے؟ ا عم نے جواب دیاابل پا کک یم اکرش یکو ںکہاللہ اک ا ‏ نٹ 
کی تو بقجو لک ںکرتا جو ذا تح نکی طرف متوجہ ہہوتاے فو میس ججھوٹا او کاب ہو لگا- 
دیکھوفلاں متام پر ایک عبادت خاشہ ہے ال ٹس چا ےلوگ ہیں جو ہمہ وقت مصروف 
عادت یں ان کے پا جا اورآنیں کے ساتمصروف عبادوت ہو جا وہشنش نالعس 
تو بردانابت کے ساتھ عابدول کے پاس جانے کے لیے لکلا جب نی رات میں ایا الد 
اک نے ملک ا مو تکوسگ کر اہ ںکی 7ے نت غست 


۸۳م 


کےفر مت دونوں بیآ پیج او رآ یں مس جھگھڑ نے گے(رحمت کے فر مھت ے کت ےک جن کا 
و تسوپ ت2 کت ےک ہابھی عبادرت گا یں نئیں پنیا تھا ) لغش 
ال کے نے ایک کے ٹر ش ےکوچھچا اورفر مایا کہ: ان رحمت وعذاب کے فرشتوں رے 
.0 پعلن شکریء اگر عبادت ماف کے فرت او ہت و رنج مء جب 
فرشتوں نے کی شک فو الگی برابر عابدی نکیا تی کے قریب الا ء الد اک نے را کی 
مففرکردی_ 

صا نکی ستقی نز ولی رحمت ومخفرت اورقجو اب تکیا کہ ے 

رای کاو رق لی مکی رف نت ا خوف حا بل اورک خی 
سے راہ بکی ططرف متوجہ ہون دٗمل نے ان ا کی کی کے بغدائ ںکوکلی کےگناۃ نے 
بے جی نکردیا تھء خوف وخشیت پارگاہ رٹ الع تک حاضریی اور جرگ لکی باز ہیں کا 
عقیر: ہر باراس مات لکومجبورکرت ٹاک ححفورقی می ںآ خ رکیاجواب د ےگا کیا رٹل جناب 
پاری مل صا ک ینیل ےک تھا؟ ہرک نمیںء بالاخرانابت ونب رشن در( مکی رت 
تام کا باعحث مل گیا اود ارقم الراکئین نے اپی فیدر ت کا مل کا ظ پور مخفر تک ججزانہ 
تدرت فان اللة عفر لتوب جیما کیشکل میس ا ہرفرمادی۔ 

زحر یش سے صا کی مت یکا منوس ومیارک ہیو‌و رڈئل نی اورخیول 
رحعت ومخفر کا ہون بھی معلوم ہہوا۔ جن مقام پر اعمال صا لہ ہوں وہال ال دکی رحمت 
اڑا ہوئی سے اور رممت کے فرشنوں کا نزول ہہوتا ے۔ اور ابی تہ میں ومیارک 
ہوجاٹی سے۔ترآن نے ببھی ارٹش ا متقرسہء مفقدریس سرز می کہا سے۔ جو لوگ اس نفقز کا 
افنکارکرتے ہیں دہ چجبلاء وتقا کی ڈبرست بیس ار ہیں اسی رب جہاں معاصی اور 
طظررن ہونے میں٤‏ وہ 9 7 اور زول عذاب وعقاب ہوی سے گتاہ و 
مواضص یکیلعنت دنحوست سے وہال کے"ژان ضرورمتاثر ہوتے ہیں۔ 

رسول اللہ ےا نے موک کے سفرمیں عزاب والی بمتنیوں سےآخرجیز رفا رگزرنے 

۳۴م 


کا مکیوں دیا تھا؟ جچبکہ زمانہگزر چا تھا کے ان پر عذاب ہوا تھا وہاں کے پالی سے 
گند ھھے ہو ۓآ ےکو ضا حکرادیا۔ معلوم ہوا کے اعمالي صا یکا اثرضسلوں میں نزول 
رمت اورتفاظ تکا سب مین جانا ے۔ اور مظاما کا نل بھی زمانو ں تک پائی رہتا 

ہے۔ق ران بیس سے لو کان اَبوْہمَا ضالکاپ دانع طوربرآیا سے خر علیالسلام 
نے ایک لا لکردیا تک شماد سے ےکہ اس کے والدتیک سے ۔اور ایک کے مکان 
کی د ورک رنے سے بھایا کہ ما ل مو ظا رہ ےکہ اس کے وال کیک جے۔ 


کان نل 


باب : إِنٌّ آدَمَ عَليْهِ السُلام کان رُجُلا طوالا کا -. 
باب : آد علیرالسلام عو یل قامت تےگویا جو ورشت 
(۱۳۹) عن أبی بن کعبظلہ عن النبی لہ قال: 
آدَمَ عَلَيْهِ السّلام کانَ رَجُلا طُوَالاء كَأنَه نَخْلَةْ سَخْوْق کِيْرُ دَعْر 
الرَا٘سِء فَلَم وق بِمَا وَقَع ببَّث لَه عوْرَتهہ و کان لا اما قب ذلک 
فَانْطَلَى مَارباًفَأَعَدث بِرََيه فَجَرَمِنْ مَجَر الْجَنَةٍ قَقَال لَھا: اَرْسِلِیِی. 
َالّثْ : لَسْثْ مُرْسِلتک قال فَنادَاه رَبه عَرَوَجْل :امتی تَفرُ؟ 
قال: أْ ربا لَسمْتَحْییْک؟ قال فَادَاۂ وَإِنَ المُومِنَيسْتَحيی ره 
عَرٌوَجِل می ادن إِ٥َا‏ وَقع بہثميَعلمْ بحمْد الله ین المَخْرَع, لم ان 
لمَحْرَج فی الاسیِفقار و الَرنَةإِلَی الله عَزَجَلِ“ 
[صحیح] (أخرجه أحمد فی کتاب الزھد ل4ء ص: )٥۸‏ 
آ وم علیہ السلام پرحیاغال بآ گئی 
(۵۳۱) 2 بج مہ : ألی ای نکحب تیادہ سے روابیت ےک رسول اللہ چا نے فرمایا: 
آدم علب السلام بببہت می زیادہ لا نے پد کےآ دی تھے ۔گو اک سا 090" 
ہ۔صر پر با لبھی بہت بیگخجان ومکنے تھے جب ا نکووہ داقن (اک لج رکا) ٹین ںآ سکیا جھ 


۵م 


اہی تھا نذا نکا رضح لگیا۔ اس سے پیل بھی افھوں نے ست کھت نویس دیکھا تھا( نہ 
ھی اپنے مت پر نگاہ ڈالی) ن جلدی سے بھا گے گے( یجن ستر چان ےک یکوکی نز لی کو 
تی زکی سے جھاگے ) نے آو موسر سے جمنت کے ایک درخت نے پکڑ لیا ۔آوم نے ورخت 
سےکہا: جج کوکچوڑ دو۔ درخت نے جواب دیا: مھ لآ پک وکہیں کچھوڑ و ںگا۔بجقن تی نے 
آ و مکوآواز دگی: ا ےآ وٹ ! کیا ھ سے راوفرار اختیا رکررے ہو؟ یں نے جاب دیا: یا 
ہۓ! آپ ےش کی سے تعن تال یکی جانب سے صدا آنی: ہاں با تب کیک ےء 
بے نک من سے ج بگناہ ہو جانا ہےنذ ا سکورب تپارک وتعالی سےشرم وجیا آکی سے 
اورآ لی ھی جا ہیےء می شرم و میا پچ رنداص کی شکل اخقتیا رک کے نو بر واستنغفا رکا سبب مین 
جاٹی ے۔ پمرآ مم برائمددراوضجات وا ہوگیا اوردہ ہن فی ان گی ےک راس ذنب وگناہ 
کی علائی ایڈرعمز تل کےحضور میں نوہ و استغفار سے ہی ہوتی سے اور بی ایک راسن 
ہے۔ (اخرج اح نی تاب از ر۸م) 
اتی لہا سکی یقت 
رن جیدمش ال تتائی نف یڑ ے: 
لم ذَاقَا الشَْجَِرَةَ بَدَث لَهْمَاسَوائْھُماکزبرت نم 


رب کپھا ان دونوں نے ورخ ت کول سی الن پر شرمگا یں ا نکی۔ ۱ 
رج ا 


و یہ سے ات واد ہا کیونگ تی الباس تقیقت میں 
لا تق یک یسوی صورت ہوئی سے کسی ممنوع کے اراب سے جستقد رلباا سکق کی میں 
رنہ پڑ ےگا ای فدرچشتقی لباس ےمحردٹی ہوگی گنو شحیطان ن ےکوشن سک یکم عصیان 
کراک رآ وم کے دنع سے بط لی مجازات جن تکا خلحت فا خر ہ ات وادے ۔ بہ مرا خیال 
ہے۔(تضی رانی) 


۲م 


یل مباحات اہ ہوتے ہیں جن سے انسا کیج ینطرت ہوئی سے 
گنا وکا مشیر ےک ہی کپٹرے بداع سے ات جا میں اور لیریھما میں لام 
عاقی تکا سے "ڑا اجام شیطالن کےکرنا مات کا ریہ اک آدم وجواکوا نکیا ستر وٹھلا دے۔ 
7- ٹس ایک باریک متلہکی طرف اارہ سے موہ کہ معلوم ےکآ دم وحواعلیالسلام 
دونوں میاں بیوکی میں اور بیج یک اپنا دن د بکمناجا سے اور یج را یٹی بیو یکا بن د بنا ھی 
جائز ہے۔ پچھ راس می نکیا مقر تھ اک ہآ دم وج ان ےآ ہیس میس اپنایا دوسر ےکا بن دیگھا۔ 
اضا مت کوک السا ام بیان فر مان جا تھ اک جوکوٹی ام مسوم ہوتاء رین ام رضاح ےل بات 
بد ےکہینئل مباحات اےے ہو اتے ہی ںکہان 0 ص09 ے۔ اوری 
طابت ہو کا ےک ہآ دم وجوا لہا السلا مکا کو ںکھا نا خطاع اناد ینعی مکنا ہیس تھا ء ین 
رٹ اۓ” مق ربان را یل بودجرانی“' خاب اس پر ہوا عمزم اور اتا ط کا درج ہکیوں 
فرولزاشت ہواء انس لیے اس کا احجام واش بھی ایا کی امرہواک ودئی نضہا ات 
رع یں ٹھا نان ال کی شنالنع کے خلاف شھاء یہاں سے بھی معلوم ہو اک ہآ وم وجوا تریس 
کے اس دد ہے میں ےکہان کے لیے یہام رمیا بھی با عحدثوککمدرہوا۔ اور یی ہمت ھی 
مستمادہواکہ إراءة عور 7 ز وین می لکوجائز سے ان ادب کےخلاف ے اور بلاضرورت 
ای اکرنانامزاسب ے۔ (انشرف النطا سی صن :٣۱۵۳ء‏ حطرت تھا نو بی ) 
اور جٌیّ طاہر بود انور ولی 
۹۱٠٢+ ١۹ ٘ 8‏ 
(ولی کےاندرو ریقی ہہوتا سے۔اگرفو ائل دل سے و بھی اس نو رکو کچھ نے۔) 
ا ممیت کے جیا بکا ات نا 
رت شا نے فا فیا کا تک اک کی کو انا 
ہے۔ وہ کے خی ںیک حاجت استتجاء اورعاججت شبوت جشت یں شنگیا ان کے بدن پہ 


ے۰ 


کپڑے جھے جوبی ارتے شر ےکبولمہ عاجت ارت ےگ نہ ہو یعی۔آ دم وہوا علیہ 
العلام اپنے اخضاء سے واقف نہ تے۔ جب گناہ ہواتو لوازم بشرکی پیدا ہو ۔ اتی 
عاجحت سے نجردار ہو اور ابے اخضاء دچچھے ۔گویا ا ورشت کےکھا نے ےج ود 
انم یکنزوریوں پر پڑاخھادہ أش گیا ”سوہ“ کےلغوبی مجن ہیں بببت وسععت سے تق تل 
اور پا یل کے تھے میں سوْٰءَ ٤‏ اَخیْیفرایاءاورع یش ٹل ےإحدی سَوَْ تک یا 
مِقداد ۔ا بت کآ مکی نظ میں صرف انی سادگی اوزمتصومی یھی اوران کی ریس 
صرف ا سکی ضنیکروریا ںجمیں ,لن اھر کے بح ہو مکو اپ یکنوریاں پیٹ نظر 
یی و ے فو انا بت اخظلیارکی فاٹس جیا نکوانع کے 
ا یکمال اوراجچاکی ضجابت وش راف تکا مشابدہ ہوگیاء اس لیے بل یا کہ یلو قلخ سک اکر 
بھی ممبری مارکھانے وا یک _ فان عِبَادِی لَیْس لُک عَلَيْهمْ سُلْطنْە 

اتی فا اف من انآ اضف “ار کک یی کن شی این 
درخ تکو شر هالحَیروَالشر سے موسو مک گیا سے وایلد اعم (تخیرخن) 

ھی پورےطوربرکھان بھی نہ جائۓ تھے فتطمزہ ہی کھت کہ نا خر مالی کینحوست 
سے دو چا ر ہو گئ مزائیش پڑے گئے ؛اور دنع سے (جشت کا )لباس ات گیا بد بی نحمیدر 
نے وہب 220 0 ےک دولو ںکالامش لو رکا تھا ( کرت :۲۸۳۳) 

۲_ رم وحیاء 

صیاکی دوئییں ہیں :ای کی وپیدائی ۔ دوسریی بی بحم اخلاق میں شمار ےہ 
اس شی انسان کےکسب واکتساب ]شی اپنی جدوجہداو رکشت کا بھ نل ہیں ممیان حیاد 
شرم چوکہ اڑسی صف تک نام سے جو بلند الا قکی حرک ہوٹی ہے اور رذیل اغلاقی سے 
روتی ہےء ا لیاط سے اس فطرىی صف تکوٹھی ایما کا ایک دشا رکیا گیا ہے ۔ بخارید 
سم میں ران منص نکی حدیث می ںآیاے:الْحَيَاءَ لا یی الا بحَير و فی رِوَنَة 
الْحَياء تا یی شر کا یہی کرت متا سے ۔اورایک روایت میں ےش رم و 

۸۸ 


ہیا سب بی کہترہوٹی ےئن دوفول روابیت ٹیل ای فطریی دپیدرای جیا کا وکرےء 
فیرحت غاق بھی بانوں بک نحرک ہوٹی ہے۔ دوس کیا دہ ہے جو بڑےر یاضات و 
مجاہدات کے بعد پیدا ہوٹی سے ۔ وہ الد تال کی محرفتہ ا سک یحظمت وجلا یہ ان ں کا 
بندوں سےقرب اوران کے احوال پر پور ےم کے ا ضا رکاشمرہ ہوٹی ہے بایان بک 
رتبا حما نکا ھی ائی درجہ سے ۔ (ت جمان الت:۱۸۵/۳) 
۵۔شم وحیاجنت میں نے جاپی سے 

مخت الو ہ رہ اہ سے روابہت ےک رسول الد لا نے فرمایا: ہیا دشرم ابیمان 
سے پیدا ہوٹی ے اورایما نکامخییہ جنت ہے ۔اور بے حیائی دشت یکلام درشتی فطرت سے 
اٹھی ہوٹی ےء اور ا کا مخ دوز ےء اَلْحَيَاء مِنَ الیْمَان وَ یمان فی الْجَنَة 
الَبَذَاءُ مِنَ الجَفَاءِ و الَجَفَاءُ فی الار۔ (اروژزی) ۱ 

اوقات لت زس رین می پلگی مکی نظ ری ےگ رحقیقت کے انار سے 
بای یگہرىی اوریبشی ہوکی ہے ۔حیا وش سمولی کی بللہ بہت بی اہم اور خی رسعمولی 
فزائل رر ومضزات ےک ہحیاء دش کا جوڑامان سے سے ۔اورایماا کا جوڑ جاء دشرم سے 
سے۔اس لیے ایماان وحیا والا جنت میں جات گا کہ دوفو لںٛقی صفات ٹیش سے ے۔ 
اور بے حباٹی جب آلی سے نے ایھا ن بھی رخصت ہو جا اےء اور جب ابمان بی رخصت 
ہوجا ےگا نے ند نم ٹیل بی بجا ت ےگا ۔ ایک عحدریث می رحول انل ہلان نے فرمایا: ان 
الْحَيَاءَ وَالایَمَانَ قُرنا جَمِیْعا اذا رع اَحَدُهْمَا رَفعَ اللآحَر ء حادایمان دولوں 
ایک دوسرے کےساتجھد وایستۃ ہیں ء جب ان می سکا ایک اٹھالیا جا نا ےو دوس رائھی اٹھا لیا 
جانا ہے۔ ایک ردایت مل ے ءفََاذَا سَلِبَ اَحَذْھْمَا تَبَعَةُ الآخر (عام لام عررک)ء 
جب ان میں سے ایک پچشیان لیا جا تا ہے ےدوس رای اس کے تی کی ردان ہو جا ا ے۔ 


(تمیقی ٹی شب الا یمان ) 


صاحب تر جمالن ال کھت ہیں :عحبد بن زنجو ہن کاب الادب میں حعظرت اہن 
ماس ضفلنہ سےا لکراےء الا وَإِلايْمَانُ فی رن ِا رع الْحَيَاء تبَعَةُ الآخرء 
حا دایمالن دونوں کے ہھون ‏ ےکی صورت میس ایک راتخم ےکا اھ جانا و 
عدییوں میں آجا ےہر دونوں کے نہ ہو ےکی صورت ٹیس صرف ایک آجانے سے 
دوسر ےکا جانا ا بک کسی عدیث ٹیس ہماری نظ رس ےکی ںگمڈرا۔ ظاہراںکی وچ نے 
ےک اصمل مقصدم و نکونشرح ویا کی تر خیب د بنا سے اور بے مال ی کی صورت ٹیس اس اھر 
سے ڈدانا ےکی یں اصل متاخ ابا بھی اس کے پاقھوں سےکھوبی نہ جائے۔ 
(ڑ مان التد:۱۸۷/۳) 
٦‏ شیطا نک ہلا تملہازما نکو نےکر ن ےکی صصورت میں ہوا 
ضر تک دم جوا لہا السلا مکو جب شبطاان نے انی شییلنت اور دموکہ وغرریب میں 
لن ےکر درخ تکا بی لکھلوادیا نے سب سے پییلہ دونو ںکاجشتی لہا س حم سے ات گیا کہ 
انسان کے لے ما ہون اورقا یلست اعضاءکا دوسرے کے سات ےکھلزا انا ذات ورسوائی 
اور بے حا یی علامت ہے۔ مکحون شیطان نے دوفو ں پرتھمل کر کے سب سے لے ان 
کے جیے ہو ۓ اعضا ]عمج سکو چھپاکر رکھنا اور چھپار ہناعی جا یئ تھا بر ہدہ دنا کر وا 
دیا۔ می حاو شرم کے مفا مکو بر ہہکر دیا۔مردود وملحو نکو چوک نا 8 جار 
1م و7اء برا ہر ہونا نخھا وہ طا ہرچھی ہوگیا ہگ رخیق: ال ہکوفرر کب ہے سہارا اور بر 
رجخماکی کےکھوڑد تی دونوں یس ایما نکا اہم وی رمعم ولی جتزومیا وش مکا مادہ اج اگر ہوءا 
اورشی درضش تکی طرف گے اوران کے چو ںکوچوڑ جو کر متظام سر وحیابر رکھنے گے۔ 
کیک تھالی ایل ایا نکی ہرطرح صلا وفلا کی رہتمائی گرا یکر تاہے ءاو رآ دم 
وج نے سب سے پپ یل نکی رجنمائی سے ست وت یکا اتا مکیا۔معلوم ہک ایمان کے بعد 
قاماعمالی سے پ ےم نکا پہلافریضہستر موی ہے پچلرنماز روز ٥‏ ویر ہکا فرلض۔اور ے 
بھی معلوم ہوگ اک شیطا نکا پہلاتعملہاورکیدہ انما نکو :اکر ناا ورس کے متفام سےلربا ٠‏ کا 
۰ 


أُتردانا ہے۔ائسی لیے عدیث میں حیادایما نک قرناء کہاگیاے: إِنٌَ الحَيَاءَ و اِلایمَانَ 
ما جَینغاء ضکیافعیل ابھ یآپ نے ہیی ۔ اس یپحکمت کے بی نظ ش اعت اسلام 
جوانما نکی ہر رح صلاح وفلا کٹل ہے اس نے ستپوش یکا امام ناک یاکایان 
کے بحعدسب سے پہلا رض مت لوگ یکوقراردیاہنماز روز و سب اس کے بعد ہے پا مر +ب 
الام شرم و میا کے معا لے میں نے عد تما اوردورزیل تار پرگاہ رکنتاےء اغلا قْ 
معیارکا پان سے انسا نی نقزس وطہار تکا مب ردار ے: ۰ر تکآ وم علیہ السلام الگ کے 
خلیضہاور پپیےمعلم انسانیت ہیں ۔انہوں ن ےم ی طور برسکصلا دیاکہ رٹ العز تک ڈگا یش 
ستراورخی رن کاکوٹی فر یں گرانماٹی بساط وقزرت یس جوشکن ہے اس یکامنجانب الد دہ 
پابند ےء اور ا سک یکشش بھی ضروری سے ۔ حطر تآ وم علیہ العلام نے ود یکیا جوا کو 
کنا اپ تھا تن تالی نے لو پچھا آدم ھ سے بھان کک رکہاں جار ہے ہو۔ الونا وم نے 
واب زا لت سےکہیں 27 رہاوں بل جاء دشرم میس اب ستراور یرہ مق مکو 
27 سے شالت ونلداممت یس رگرداں ہوں- الخ تی ورخت کے بچویں سے سس کو 
چپانے گے ۔معلوم ہواایمان وحیا ان سترکود نٹ سے بلا ضرورت ما ہے۔ ال تھالیٰ 
یں انمانع دمیاء کے ساتھ ز ند یگ ادن ےکی فو شی جن اور بب ودونصاری کان قدم پہ 
نے سے ام تکی ات فرماے۔آ ین 
آدم جکھ سے ان کن راک ہکہاں ماک ر سے ہو 

)٣٢(‏ ولعبد بن حمید فی تفسیر وأبی الشیخ فی العظمة والخرائطی فی 
مکارم الأخلاق عن أبی بن کعبنلہ: 

”اك ابَاكُمْ آَدَمَ كانَ طُوَالا كَالنْخْلَةِ السُّحُوٴقِ بسِيِیْنَ رَاغًا كِیْر الشُعْر 
وَارِیَ الْعَوْرَة ء فَلمَ اَصَابَ الْحَطِیْنَة فی الَنَةِ خَرَج مِنھَا مَارِبًا ءفَلقیتۂ 
شَجَرَةفَأَعَذّثُ بنَاصِیّیہ فَحَبِسَتَة ء و نَادَاۂ رَبةُ: أَفرَارَا یی يَا آَدَمْ؟ فَالَ: لا 
بل عَيَاء منک بَا رَبَ مِمّا جَتَيْث . فَأبط إِلی الأَرُض َلَمَا حَصَرَنَة الْرَفَ٤‏ 

1گ 


بث إِلَيْه می الْجنة مع الملانگة بكفی وَعَوطب فَلمَا َنَهُمْ عَوَاه ٥بت‏ 
در ذُوْنَهُمْ قال: عَلَی بی وَبَْنَ رس رَبِی فمَا أَصَابَيیَ الَكِیْ أصَاَِی لا 
فِیّکِ, ولا لَقِیّے الِّی لَقيْثُ إِلا منکِ فَلَما تُوْفْیَ عَسَلُوْه بِالمَاء و اليیْذر 
ونُرَاء وَ كُفَمُوْ فی وِثر می القیاب ‏ ثُمٌلحَدوالَه و دَكُوه وَقلُا : هِہِ سن 
ولَدٍ آ٥م‏ مِنْ بَعُلٰه.“ رکمافی کنزالعمالء ۲۲۴۰۸/۱۵) 

(۵۳۳) 2 جم : الیم نکعب حیلہ سے روایت ہے جتہارے با پآ دم لیے ند 
کے تہ جی ےل اعجو کا تاء ساٹ اھ لیے سم بہت بی زیادہ بال+ اس قرکنیان و کن 
سنرعورت پچھیا لے تہ جب الن سےگناہ سرزد ہوگیا بن وہ جنت سے نگ لکمر پھا نے کے ء 
بات ہز ایآ ورشحت نے ا نک جنقالی یت کرک رک کی آیاء او رت الا من نے 
ارشادفرمایا: اےآ وم !کیا ھ سے جان منٹ راک چھا گے بہوہ اصوں نے عون کی یں رٹ 
امن ای گنا کی ہنا رتھ سے حا وش رماکرہ پچھرا نکوز مین بی ناز لکردیاگیا نو جب ان 
کی وفاتکا و شتآ ما کی بل دہ نے و ےآ ےکی نے 
کمرکھیچاء جب حوا(ا نکی ہیوگی )نے دبیکھا کا بآ خ ری وفقت ےو اداد ہکیاکہان کے 
اتا ئی می طاتجا تک یں ( یلیہس جا بات ں یں ) دم نے جوا س ےاھا: بج ےکواور 
میرے پا کیج ہو ۓ مہمان الپ کک الموت وفرشت ںکورجے دو ؛کیوکہ جو حالات جھ 
7 ہیں اورشن بانو ں کا بج سے صدور ہوا ا کا سبب نا ہریی نے بی نب یھی اورجن 
مھا تکا سا مزا جج ےک وکنا ٠‏ وم س کا سب تیرکی وجہ سے ہواء ج بآ وم علیہ السلا مکی 
وفات بعئی ا نک بی کی کے پای سے طاقی جارس دیامگیا اور طاقی عد ہکپڑوں می کن دیا 
گیاءچ رید والی قیکھود یگئی اوراس میں نکیامگیا پچ رفرخنتوں نے عون کیا :و مکی اولاد 
کے لیے کی نک کی ط ربق سنت ہہوگا_۔ 


"۷۳ 


باب : فِی مقٰی قزْلهِ تَعَالی لق کم مِنْ ره كلِمَاتِ قمَابَ عَليْهِ) 
باب: آدم این نے رت العامان سےبہ کے چندکرا تس لے 
)٣٥٣(‏ عن ابن عباس رضی الله عنھما: 
طإ فتلقَیَ آ دم مِنْ زَبَه كلماتِ تاب عَلَيه)ہ رالہفرۃ:۳۷ 
ال :ای رَبً! الم َخْلقْیْ بییکک؟ قَال: بَلٰی. قال: ایٗ رَب! الم تَفُمٌ 

فی مِنْ رُوْجک؟ قَال: بَلی. قال: اَی رَبّ ! لم تَسْکِتّی جُنتک؟ قال: بَلی . 

قُال: ای ربا اَم تَسبغ رَمَتک عَضَبَک؛ قال: بلی. قَالَ: أَرَآَيْتَ إِنْ 

بت وَ اضْلحُث اراجعی أُنْك إِلی الْجَنَة ٥‏ قَال: بلی. قَال: فَھُر ره فتلَفًی 

آ2م مِنْ ره كلمَاتٍ.“ [صحیح] (اخرجہ الحاکم فی المستدرک, ج: ۲ء ص:۵۳۵) 

آ وم علیہالسلام نے الڈدتا لی سے چندرات حاص لکر لیے جے 

( ۵۳۳) 7 جم : رت این ععبااس دفاد سے روامیت ےآ بیت 

طَلَقیَ آدم مِنْ رَبَه کلمات فحَابَ عَلیهِک 

حاص٥‏ لکر یی ےآ دم علیرالسلام نے اپے رب سے چندالا ظتذ ال تالیٰ نے رجمت 
کے سا توف مکی ان پر یش نو بقجو لک کی۔ 

آ نے و 7اا 712(2 آ سے ے مات ا سے 
کیا؟ ارشاد ہوا :بیو لکیں ۔آ وم نے عوت سکیا : اے میہرے رب !کیا آپ نے اپ" جنت 
بش بج کو را یا ییں؟ ارشماد ہوا: ال ض رو رہ رایا ۔آ یم نے عو کیا تب ایا 
آ پک رجمت غحضب پرسجق تم سک جالی ہے؟ ارشاد ہوا: ال سبق تکر جالی سے ۔آ دم 
نے عو کیا :یا ایڈد!اگرتیر ےجضور بی فو ہکرلوں اور اٹی الا کرلوں (زیق _ ے 
بر زندگی سنوارلوں )ڑ کیا آپ جج وکو جنت یں وا ںکردیں گے _بن یل مر نے فرمایا 
:ضرور وا نی ںکردوںگا۔ فر مایا: ای با تکو اللہ تا لی نے ال سآیت میں بیان فرمایا ے۔ 


۸۳ 


ظفتلقی آ٥م‏ ہن رب مات ہچ (اخر الاکن لمع رک۵/۷٥۵)‏ 
و کان اورمطلب 

وہہ کے ال مسجفی لمت میں رجو اورلوسٹۓ کے ہیں ۔اورٹ ہے ماد سے سے 
ہو ۓےگزاہ یر ای اوراس کے لے اسنففارءاوراستغفار کے ساج ند ہ نکر ےکا عچد- 
رو کی نت بیز کی طف کی ےم نی اناوت پجرنا او رشن رتا اود اکر 
نو کی ند تعن تا یکی طرفکرسں کے فو می ہوکا بند ہکو عزاب دینے سے اعراش 
کر نااورمخفر کی طرف ‏ وج فر مانا۔ اور اح کر جب نے پر کے بعد افظعلٰی آ ا ے اور ال 
کی طرف فو کی میس تکی جالی ےل رعمعت کے ساتھ بن ہکی طرف موجہ ہونے او رت ہہ 
قو لکرنے کےسعی ہوتے ہیں ۔ می اللد تا لی ہندہ پر مک ےگاء اود ا کی فو بیو لک 
کےآخرت یں عطذا ب کیل دےگا۔ جیے وتب علینا۔ اللراعم 

مات کا القاء او رگپز یہ کک مال 

جنت میں جوہونا تھا ہوا ءآوم علیہ السلام جمنت سے باہ رآ گئے مو رام کی حالت 
یس ج ےک الد تھا لی نے اپٹی رجحعت سے چندکما تآوم علیہ السلا مکوالنقا والہام کے ور پر 
بنا ۓ جن سے وم علی السلا مکی فوقو ہہوٹی دوکگمات وگی ربا من اَنَفْسَنَا و 
ان لم عفرا وَتَرّحَمَا لکول الین کہ ئیں۔ 

تو معلوم ہواکہ بند وی یبھی اتال کی رکتوں سے موس نہ ہو خوا گناو جیا کیسا 
ہوا ہو گناہ کے بد کر نا الیل تال یکی رف رجو ہوناء کی نے عحبد ی تک اکمال سر 
نت اللہ تعالی نے صر فآ دخ اورای نآ د مکودیی ہے شیطاان مردددہواءن بے حروم ر ہا۔ 
فرشنو ںکوائزت تو کا کیا پن انت ہے؟ اورحبد بی تک نہ پھر ضخزل اوران مکیی 
علاو تکیاللقت منجانب الشرعطا ہوٹی ہے ۔ف رآن باک میس الد تھی نے فرمایا: دن الله 
جب الحوَابی چہ اللدتھا لی دوست رھت ہیں جار با رتو کر نے والو ںکوء یہ بار بارت برکرنا 


۳ 


کیا ے؟ عبد یت کا اظہار اور رب جپارک وتا یک یمظمت وققرر تکا اختزافء بے وظفہ 
اما نکو جم تکا وارث اوراللتما یکا جانب سے دعم ت کا عن بناد جا ے_ 
ضر تآرم 0 مداصت اورگ رپ 

حضرت امن عماس میہف رماتے ںام وجوا صلی السام ووسو ہر روےء اور 
الس روزکک نہ یٹجوکھایانہ پیا نخر تآ و سو بر تک حطر ت موا کے پا ہآ ئے۔ 

لس ین حہاب اورعاقہ ین مرش فرماتے ہی ںک راگ رسمارے ڑ مین والوں کےآ نمو 
21 بیے انیس تو حخرت دا دعلیہالسلام کے نسوان کنامسسں کے ظا ے 
دا2 دعلبیرالسلام اورز مین والوں کے سوج یے چائمیں نو حضر تآ وم علیہ السلام کر 
بڑھ جائیں گے۔شہ رین حوشب فر مات ہی ںکہ مے بی ری ےک ہآ دم علیہ الام ن گناہ 
-]) سے تین سو بی مک س کی ا ٹھایا۔ 

و کی علمت 

حر تآوم علیہ السلام کے ہو سے و واستغفا رکا ربقشہ بنا نا ”تحص ود تھ اکلہ جب 
4 ےکوی گناہ صادر ہو فو را اپنے با پآ و مکی طرح ضرغ اورزارہی کے ساتھ 
پارگاد رٹ العتزت میں رج غکرے۔ شیبطال نکی رب معارضہ اور مق لہ تدکرے پالفرش 
اگر خر تآ رٹم سے برمحصیت سرزدنہ موی وپ کک رو کول ے و استنغفا رکا طرر کے 
معلوم ہہوتا_ 

سعادت وشقاو تک اتاج 

ارک ربا تم عحبدالو ہاب شعرالی نس الند سرد شرماتے ہیں کے ایل ےلم میں 
0-0 كجپؤپ[ؤ-0ؤ0ؤ-0 0 ۹۱۰+ و رس از تن 
بھی انتا براررفزاررت اگ ران لیے سعاد تکا افتاں رت آرم کت اھ سے 
کمرابااورشتقاو تک افتقا اشٹٹس کے بات ےکرایا۔ 

7 


ضر تآ و مکی بے گنی 
نر تآوم علیہ السلام اس خطاب سرایا خا بکو سفتے بی بے جن و جنتاب فور 
ران یش اہی ضرغ اور ابتچالل کے سج ہی ہوتے کے سمارے عال مکا ترغ اور 
ایا لبھی اس کے پاسنک میں میں ہوسکتا ین تقعالی شانہکی شا نمفواورمخفرت جیل یس 
۶ 
اے خوش نے کےا ںگر بان اوست 
دے بالیں و لک آں ب(یای اوست 
درے ہر گر آنخ خرہ ایت 
مرد آخر یں مارک بندہ الیست 
اورعخر تآ وخ کو نو براورمغزرت کےکما لقن فرماۓ یئ اٹ سکی محصایت 
نی روز تی کی اء رڑگی 27110 رر 7ری 
باب : فِیٗ ققصٌّةمُوّسلی عَلَيْهِ السّلام و السَامِرِیْ و عِجْلِ بَِیٗ إِسُْرَائیْل 
اب :موک علیرالسلام اورسمامرکی کے کچھ ےکا داقعہ 
)٥٥٥(‏ عن علی ظلہ قال: 
”ما تَعَجُل مُوسی إِلی ریہ عَمَدَ السَامِرِیٰ, فَجَعَل ما قدَرعَلَيه مِنْ 
لی جِلی بی ِسْرَائیْلُء فَضَرَبَة عِجْلا تم فی الَْبصَ فِی جَْفہء دا هر 
عجْل لَه خوَازٌء فَقَالَ لم السَاِرِیٔ: هذّا إِلهُكُمْوَإِلهُمُوُسی فَقَال لهْمْ 
رون :یا قوم !الم دم رَنْكُمْ وَغذڈا حُسُنً ؟ ما ا رَجع مُوملی إِلی بی 
َال وَفَذ أَصَلهُمْ السَارِیء اعد راس أَحِمْه فَقَالَله هَارُزنُ مَاقال. 
فَقَالَ مُوسلی لِلسُامِری: مَا عَطبک ؟ قَال السَاِرِیٔ: فَبَضْت قَبْصَةمِنْ أئر 
الرَسْرْلِ فَيَذنهَ رَكُذيِک مَرَّث لی تَتَبیٔ.(طہ: ۹۰) فَالَ: قَعَمَة مُزملی 


"٦ 


لی اِجْلِ قوَصَع عَلَيه المبَارِه قبَرَذَه بھاء و هُوَ عَلی دَفَا نهَِقمَا شَرِبَ أَحَذ 
مِنْ ذلک المَاءِ مُمْکِی ان بَغبْد ڈلک الْعِجْل إِلَا ِصَفَر وَجُهة مثْل 
لاق الو ری :ت6 رتا ۱ 
قَال: يَقُتَل بَعَضْکمْ بَعُسا فَاحَدُوْا لمکا كِیْنَ فُجَعَل الرّجَل یَقتل بَا 
وَأَحَافہ وَلايَالِیْ مَیْ قَلَ عََی قبلَ مِنهُمْ مَبْعونَ الف قَاَوْحی الله إِلی 
مُوملی: مُرْهُمْ فَلیيرْفعُوْا اَيْدِيهُمْ قد غَفَرْت لِمَنْ فُبل وَتَبَّتٌ عَلی مَنْ بی“ 
[صحیح] (أخرجه الحاکم فی الستدرك ج ۲ ص۳۷۹) 
تم زی عاسلاماورسام رک یکا پچھڑراء بی اس را لک گوس الہ تی 
(۵۳۴)تھ جم :حطرتعی حلاہ سے روایت ےکہ جب موی جلدی سے 
رب تمارک وتعا یق کی طرف جلے گے و ساعری بی اسرابحل کے نے زبورات پ4إثدرت 
رتا تھا اس سے ای کر کی شک لکا مجسہ بنایاءبچھراس یس ایک شی ناک ڈال دکی نو وہ 
ایک پھراسا ہوگیا نس مم ںآ واڑھی ( ےآ وازا پھر ےکی ایی نی بلہمنہاور پشت 
کے اندر سے جو ہوا باہر ٦پ‏ )۶ “۰۹۹ ٘۹ 726 
تھا کہ را رولما ہے جلہ و ہآواز اس ہواکی ہوکی جو پشت ے داشل ہوک ر من کی طرف 
سےلنکل جاٹی ءلوگو ںکو دوک لک جا تا ) نے سام کی نے بی اسرائ لکوکہاکہ:بیتہارااو ریا 
٤‏ معبود ہے۔ بنی ارام لکو پارون علیہ ااعلام فخرمانے 2 اے مبری فو مکمیائم سے 
تمہارے رب نے ایک اجچھا وعد کی نکیا تھا؟ جب موی علیہ العلام جیا اس اتی لکی طرف 
لے کہ ا نکی تو مکوساعرکی ن ےگمرا ہکردیاتھا۔ذ اپنے بھا یکا ری لیا قذان کے بھاکی 
پروی ے۲ کردا ج شع خ صکرنا تھا موی علی السا م سا می کی طرف موجہ ہوۓ 
او رکا لہ اےسامی! مت اگیامعالہ ے؟ (ز ہے رکم تکیو ںگیا؟ سامری نے 
2-1 ے اس فرستا ءال یی سواری کےنتش قرم سے ارک شی مج رن اک اٹھا لح 
سویں نے ا سکپچنٹرے کے الب کے اندد ڈال دی اود مہرے یکو کی بات بین دآکی 


ےا 


(کہ اس اک میں حیا ت کا اث ہوگا) پر موی علیہ السلام اس کچھ ےکی طرف موجہ 
ہوۓ اور کور تی رنداسے برادہ( می ذڑہذڑہ) منادیاءاوردہ پچھڑرا ایک نہ رکےکنارہ یر 
بی (ہڑی پچھڑرے کے پرادہ اور ذڑ ہکوٹہرمیں ڈال 3ا کات ہوگھی ا نکی توم میں کم 
ٹر ےکی عباد تک چکا تھا اگ راس شب رکا بای بنا فذ ا لکا رہ یما جیا وجانا جیاکہ 
سنا پیا ہوتا ہے اب ان لوگوں نے موی علیہ السلام سےعمت کیا: ہماریی فو کاکیا طر بقہ 
ے؟ ہی بھم نو یم طر 82 کہ ہمار اور محاف ہوجاۓے؟) موی علیہ السلام نے 
فرمایا: ایک دوسر ےک کرو نے سب لوگوں نے چھ رکیل اور باپ بھائ یک لکر نے گے 
اوراں با تک پرواہ نیس رد یک ہکو نگ سکو لکرد ا ےہ یہاںم ککہست ہار ہنی 
اس یلال ہو مع نو الد تقوالی نے موی علیہ العلام پر وگی نازل یا ء اب پا انٹھالی ںیشن 
0ت کی نے جو ہو کے ا نکی مخظفر تکردئی اور جوزندہ جے ہیں ان کا9۔ 
تقو لک رکی-(ادا ںم۰۱/(۷ء٣)‏ 

ال عد بی کی وضاحت کے لیے چند بذیادٹی بانذ کا جانا ضرورکی ہے۔ 

کو وطورا یں ملا لہا 1 

حضرت موی علیہ السلا مکووطور پر الس روز کے لیےتخریف لے گت ہیں اور 
تی اس رات لکی دبٹی قیادت اوررشدوہرابی تکی رای وذمہ داری رت پارون علی السلام 

ححفرت موی علیہ السلا مکی قوم بیس ای کن ساھریی نا مکیا ےہ جوساعرہ عقام 
وت کی طرف موب سے ما مک مال نکا ر نے والا مناف ککاف رتھاء ما بتی ارات لیک اکوئی 
سردار تھاء بیفاوق ن ےکہا کہ سارہ بی اسراہحل کا یک فبیلہتاء من سکی طرف سامری 
ملسو ب تھا ءسا رک یکا نام موی بن ظفرتھا_ (گمدست ناس ر۲۲۸۰۳۴) 


(۸۸) 


ساعریکی پر دزن کا جیب واقعہ 
مور یہ ےکسا می یکا نام موی بن ظف رھ حخرت ان عبا سم سے روابیت سے 
کہ جب موک سامری پیدا ہوا نو فرکو نکی طرف سے تام اسرا نکی لڑکوں کے ام 
جار تھاء ا لکی والمد ءکوخوف ہو اک فرکونی سیادی ا سک لکردمیں کے و پیک اٹ سا نے 
ٹل ہوتا دک کی مصیدبت سے کہت سچ اک ا سکوجتگ کہ ایک نار بی رک کر ابر سے بند 
"و ا سکی ‏ کیرٹ یک فی ہوگی)۔ اوھ ارڈ تجارک وتما لی نے جج لیا ای نکو 
ا لکی حفاظت اور نجرا دینے پر ما مو رکردباء دہ ابی ایک الگی نشجہدء ایک برصحنء ایک پر 
دودھ لاتے اوراسل یکو اد نے تہ بیہا لم کک بغار بی میس بی کم بڑاہوگییاء اوراس 
کاضجام ہی ہو اک کف میس بتلاء ہوااور نی اس اض لکوہتلا رکیاء رق لی میس گر ار ہواءاسی 
مضمو نکوسی شاعرنے دوشمروں میں منضہ کیا ے: 
اذا المرء لم یٰخلق سعیدا تحیّرت 
عقول مربٔیے وخاب المؤمل 
فموسی الذی ربّاہ جبریل کافر 
وموسی الٰذی ربّاہ فرعون مرسل 
ےک تی اض اتی یں یت ات2 تن ےد کے 
والو ںکیصتھلڑیں بھی جران رہ جا لی ہیںء اور اس سے امبیدکر نے والا تحروم رہ جا تا سے ء 
دیکھوٹس مو یکو ج لی اشن نے پالا تھا ورک شس تر کو ین نے 
الا وہ ال کا رسول م نعگییا۔ (معارف القرآن :۱۳۵۸۷) 
زلیروں ے7 بنا 
ساھرکی نے زز ورگ اکر اور ڈحھا لک پا ناباء بیز یور اصل میں فرکو نکی توم قبٹیوں 
کا تھاءاان کے پاش سے بی اسرائیل کے قضہ می سآیا۔ (تضی رای گدست ام ۵۵۷۴) 


(۹ 


جس تر رن کک کی بوڈ او نے 
ا نک زور باہ پیک دیاء بی اسرائیل نے بطور ما لحلیعمت ال سکو نے لیا مان ما لحذبت 
ان کے لیے جائمز نہتھاء اس لیے انہوں نے ا لکو بو چھ یکھا۔ (مضبری بگلدست:۳۷۸۸۴) 

مرآن یرس پاوزارا من زینة الْقوم یچ کباے اور اوزا رس نوز یح 
سے۔ جس کےٹمننعل اود بو چھ کے ہیں ۔ انان سک گن ھی چچونلہ خجاممت کے روڈ انس پہ 
وچ ب نکر ماد پے جائئیں گے اس سل گنا ہکووزر او رگنابہو ںکواوزا رکہا جا جا سے یتس 
جقرا تکا کنا ےک بی اسرابحل نے عبدرکا بہان اکم کےقوم قبط سے ینز بورات مستعار 
نے لیے تہ جو بنی اسرائیل کےساتھ تھے اس یکواوزا مت گنا ہو ںکا لو چ کہا میا کیوں 
کہ جو ز اورات عار ہا 7-0 اکلہ وائیہ کرد ء جو ای مک ۷و 
تھا۔حخرت پارون علیہ السلام نے ان لوگو کو اس کےگزاہ ہہونے پر تق ہکیاء اود ایک 
گڑ سے میں سب ز بورڈال دی نےکاعم دیا پت روایات میس ےکسا مکی نے اپنا مطلب 
کا لے کے لیے ءا نکوگہاکمہ بیز ارات دوسرو لک مال سے تمہارے لیے ال کا رکمنا وہل 
ےء اس ک ےکن سےگڑ ھے میں ڈا نے گئے ۔(گلدست قاسیر:۳۰۴م) 

وہ زپورات جو بی اسراٗل کے پا سکافرھ بی سے حاصل ہوئۓ تہ دو مباح 
ال جتھء پچھرائ کو وز کیو کہا ؟ ال کا جواب یی ےک ہکفا رم بی کا مال لین اگر چہ 
ملران کے لیے جائز سے مر وو ما لچنکم ما لفذیمت ےء اور ما نی تکا اتعال یہی 
نو رصان رت کن ا جآ مت کر ےن 
گر پررکودیا جاتاءاورآسا لی آکآآکر ا ںکوکھا جالی ء بی علاصت الع کے 
70 0 0 پر پا 
کھاے و عامت ہو یعھ کہ چہادوما لیت مقبو لکییں( ما لغ نجس تکی علت جماری 
شریعت میں رسول اد ےکی تحصوعیت ورححت سے )۔ بہرحال اس تقاععدہ کے اظتبار سے 
تی اس ئل کے یہی آیاہوامال جوقوم فرکون سے لیا تا ما لیت بی کےعم ہیں قرار 

۲۰م 


درا جاۓ بب بھی اس کا استعال ان کے لیے جائ کی خھاء ای وجہ سے اس ما یکو اوزار 
( گناہ ) کے افظ ےکی رکیاگیا۔ اورحضرت پارون علیہ الام کےعھم سے ء اس کیک 
گھڑ سے میس ڈال دماگیا۔ ق رآن ید مس فسقفسٰهكَاء مجن ہم نے ان ز یوار تکو چیک 
دا ءمعلوم ہوا یل حضرت پاروان علیہ السلام 2ت سکیا گیا۔ اورجنخش ردابیت میں سے 
کیرسماعرییائے ال نک اکر زبودا تگڑ ھے میں ڈلوادے ہ اوردوٹوں پا یں جح پزداشین: 
رھ یکوئی فیس( سا مکی نے عچالمباز ککانیت سے کہا ہونذ رت پارون کے 

عم سے زاورا تگڑ سے میں ڈا لے گے ہوںء ود اعم -) ( کم دس فاص ۳۰۸۴م) 
حخرت قادہ اوران عپاس رشی اد تھا یٹم اور اہ لنقمی کی ایک جماع تکاقول 
ےک میہپچنٹرا ساھرکی نے بنایا تھاء او رنضرت ریکل علی اللام کے نخان قد مکی اک 

زان بت لت مشش ری وج سے و ہگوشت اورخون والاٴ م رک نگیا۔ 
تی مظبری ,گر تاب ر۵۵۷۲) 

سامر کی چالاکی دچالبازی 

حخرت پارون علیہ السلام نے جب نی اس رام لکہرسب زاورا تگھڑ ھ میں ڈ لوا 
ے:ززال بل ”کلت ہے نات کل اک ای ک عم ہوجاۓ ء پچ رنضرت 
موی علیہ السلام کےآ نے کے بعد ا کا معاملمہ ٹکیا جات ےگا ک کیا کیا جا ؟ جب 
سب لوگ اپنے اپنے زبورات ال می ڈال ‏ کے سامرییچھی شی بند سے ہو پیا اور 
رت پارون علیہ السلام س ےکہاکہ می بھی ڈال دوں؟ حضرت پارون علیہ العلام نے ىہ 
چا کہ اس کے باتھ ن کچھ یکوکی ز اور ہوگا۔ فرمابا کہ ڈال دوءاس وقت سامری نے 
حخرت پارون علیہ لصا ق والسام کہا بیس جب ڈالو پک ہآپ مدع ام ی کہ میس جچھ 
یٹ جا ہنا ہول دہ پورا ہوجاۓ ۔حظرت پارون عل۔الصلؤ ‏ والسلا مکو ا س کا زفاقی وکفرمعلوم 
نیس تھا ء دعاءکردگی۔۔ اب جواسل نے اپنے ہاتجھ سے ڈالا تو زور کے بچاتۓ یھی ہم سکو 
اس نے بج بی ا۲ن کےکھوڑے کے قدم کے ییجے سے کمیں بیجیرت ای رداق دج وک اھ 


١۳ 


یا تھ اجس تکہاا کا قدم پڑجاےےء دایمٹی میں نٹ وفمااورآخارحیات پیدا ہو جاتے ہیں ء 
بس سے اس نت مھا کال می می ںآ نار حیات ر کے ہہوئے ہیں شحبیطالنع نے ا يکو 
اس پرآمادہکردیاکیہ بیہاس کے ذد یجہ ایک بچھڑرا زند وک کے دکھااوے ء بہرحال ائ لم یکا 
ذاٹی اثر ہو یا حخرت پارون علیہ السلا مکی دعا کا ءکہ بر سونے جا ند یکا پھلا ہوا ذجرہ اس 
مصئی کے ڈائے اور پارون علیرالسلام کے دعاکمر نے کے سا ایک زندہ پھٹرا بی نکر ہو لئ 
لگا۔ ین روایات میں ےکسا ھرکی بی نے نی ارات لکوزپورات ا سگکڑ ھے میں ٹڈ لئے 
کا مشورہ دیا تھاء ان مین بی ےئن نے ززاورا کو پک اکر ایک پھر ےکی مورت 
رای گرس می کی زنک یھر جن اشن سان ترک ا لے 
کت من جات ا تن ینس حفرا تکی راۓ ےکہ یجس ایک جسداورجسم 

٣‏ ہج کس ارت 7ر 
(معارف ال رآن مگلرست :۴۳+۸۴) 

قوعرکی ےنععی او رصاق 
جبسامی نے پھٹرا ناک رگن راکرد یا اور وگوں ۶ھ 
ےء جوپھٹ کی شنکل میں التیاذ پارڈ نمودارہوا ےہ اورتھہارے اس ےء او موی ال رواوہ 
طور پر ڈ عونت برا ہے ۔ ات اور ہے وقو فقوم نے می یسوم چا کہ اڈ رز دی لکو چو ڑکر 
ا انور وجاقت مں ضرب ال ےء ا سکب فحض ایک نو ون یکواینااللہ بنالیاء 
یکل حرا بت می ضرب ال سےء او ری ل کا بن یل سےگھ یئم سے ۔اسی لیے وہ بے 
شک ون گنی نین ان سے جن با ہوا سے ہنم رقو مک ی تل تی کی 
قیادت سا ھریکرر ہا تھا۔ الخش جب سام رٹ یک بیترت انیٹ شحیطاٹی ایچادسا نکی و 
اس نے بی اس رات لکو اس سکف کی دعحوت د ینا شرو کرد یک (التیاذ پانند )یی الہ وممبود 
سے موی علیہ السلا مق الد تا لی سے با خی کر نے کے لی ےکووطور پر گے ہیں ء ورای تھی 
(معازالشر )خود یہاںآ آے ہیں ۔ می علیہ السلام سے بھول ہوئی هَذا الهُکُ وَاِله 
٢۲م‏ 


موملی فيسی ءریقہاراجھی متبودے اور موی (علی السلام )کا ھی ء موی کی بھولی سے 
مہاپنے پاس کے ال ہکوچھوکرکسی بن د یچ الہکوعلن کر نے پھا کی چو لی ریا ہ نی 
اعرائل یں ساعر یک بات پپیلہ سے مانی جا یہ اوراس وقت نے شعبدہبھی اس نے 
دکھاا یا نو اورجھی منتقد ہو گئ ء اورا یکا ت ۓےکی شک لکوال بج ھکر اا سکی عبادت می سیک لئے 
(ماخوذ از معارف الق رآ نکانرعاو :۱۸۱۸ء ومعارف اق رآن نت ین ) 
تی اسرائتل کے حا نگمردہاورا نکیا نہ 
جب بی اسراتل نے ساھرکی کے اخواء سس ےگ سمال ہکی یرش وعبادوت شرو ںعکر 
دی تو بی اسرائ٘یل میں ق٠‏ نگردہ ہو گے ایک حضرت پارون علرالسلام اوران ک ےکی نکا 
کخودجھی اس سے محددرے ء اوردوسرو ںکوجگ یم عکیا۔ دوسا ف لی ساعرکی اورااس کے 
می نکاء جنپوں ن ےک سا ہکوحجد ہکیا ۔تیسراف رق سای ناک رخ دکوسالنہ پت کی اور 
شردوسرو نکش کیا ان رک یں ت گر دوسرو ںکو اس حمافقت گ‌0200 
تھیں۔ پباہگردہ وف رل کون کی ۴بی ی9 ۶ ےعےوسرڑے۔ ضر 
فر کب اعم اض رب ہواکہ دہ دوسرے لی نی سماھریی اود ال ک ےن اور 
رر او رر 7/7767 سے لی ےق ےت 
مات نکی ق یہ جا (لئی ج رین ون ری نکی نو مقتول ہن جانا فھاء او تیر ےف رک 
کی نان کس رت کن اک وش کنا انس ۓے 
سکوت اور ما موی کیسے چائز تھا؟! اس لیے اس سلوت اور ا مو یکی فو بہ ریہ ےکتتم ان 
خویش واتمارب اوراحہا بکنلحصی نقکوکہ جو سالہ بسق یک وجہ سے مریہ ہو گئے ہیں ا نک 
ات بات ےگ لکروہ بک یاتہارکی نوہ سے مجلی اق رآن مجید ٹل ے فاقتلوا انفسکم 
اور مارڈالوا تی انی جانی۔(معارف القرآ نکاندحوی:۱۸۲۱) 


۸۲۳ 


قب کے لیے اف سکا عم ای 
امام رازگی فور اللسردفرماتے ہی سکیس رع جھاریی شربعت میں تقات مدکی 
تل کی ے بیضمروری ےک ہفاتل اتی نکواولیاء مقتول کے پردکردےمکہ 
جا تن لک یں اود جا ہیں محا فکر میں۔اسی رح اللدتعالی نے موی پروی نازل فرمائی 
کرت ری نکی نب ج بل ہوک یکہ جب دد ای ےکی کی لیے پپردکرویی -(تفیریر) 
بھی تمہارے لیے ہرطرح سے ہاور زان ےتہارے غلاقی کے نز دیک کت 
ترنے ال ےکم کول و جان ےش لکیا تل نتم پت حیفر مال اوھ ری تہ سئھول 
کی۔ اگ چتہارا جم فرگون سے زیاد+جخت تھااس لی ےک دہ ابنداء بی ےکا ف رتھااورقم نے 
ایھاع کے بح رکف رکیااورم نم ہوئے۔ د من الیک ے تی اور برو رسک یک ء کک وہ بڑا 
تی و تو لکرنے والا ےہ اود بڑ اتی مہربان ہے۔کہ ایک ای کگھٹ یکی نکیف برداشت 
کر لی پر یش کی عزت اورک راممت عطا نما جا سے وو حیا تج سی میق ت ابو واحعب سے 
زایں۔اڑی حیارت کک رحیات مدکی اوداہدی سے مرف رازفرماتا ے۔ 
2 چال بتائر و صر چاں رود 


آئ ور و ھت ایا آل دعدر 
(متعار ف کا زرتعو یی خ۱ ضش۱۸۳۴) 


مرن کےک کا وائے 
حطرت موی علی السلام نے حضرت پاروئن علیہ السلا مکیم رما کہ پادہ را با 
اسرائیل جنوں ن ےگ سالہ پستقی نہک یھی اورححضرت پارون علیرالسلام کے ساتھھ تھے ا نک 
کی و کر چنا حطرت پارون علیالسلام نے 
ایک بلندمکا نکی جیمت پر ڑھگ رآوازگایا- 
يَا مَْشْر بَیيٌ اِسْرَائیْل ان اِحْوَانكُم اَتوّكُمُْ سَاهِرِیٔنَ سَيْوَفَهمْ یریْدُوْنَ 


"۸۲۳ٴ 


١ن‏ بَقلوكُمْ فقو اللَّةَوَ اضْبرُزا . 

تی :ار یا انل س ےکر وٹہاارے بنا ئی ٹیا زی ںجگی تج و نے 
آے ہیں کہ( تہاریی اوران کی تبولیت کے لیے )یں لکرمیں ,نو خم لوک ارد 
سے ڈرو( کہا سے مہ شہموڑ نا اور جاا نکی تق بای یٹس در گن شک رنا) اورض رکرو لک ثابت 
نر مر ہنااوراا سکڑود ےگھون کو کی تبولیت کے لیے بصرشوق ورقبت لی لین )۔ 

جب بی اسرا صن لکو ہہ پنام ای سنابا:تذ سب نےکہا ہم دل وجان سے اپنے مو 
سےعم برراصی ان لان چرسب ایک میدان می مجح تی کون 2۶ە0ھ80 
تقو ںکیائھی ہجروں اورنواروں سےگوسالہ بین قمکرنے والو ںکون لکنا شرور غکیا۔ 
یی اک حطر تع ءعبد اللہ بین عبا ؛سعیر بن جیٗتسن بصریء محالء قد اور ااوالعالیہ 
رہم سے مردی ہے۔ 

مفسری نکی رائے ےک جن جن لوکوں نے پر ےکی یمن سک یی ءا نکد 
اپنگھروں سے پاہردروازہ پر مج ہوکر پن کا عم ہواء انس طر حکراپنے رو کو جکاکر 
اپے زانوں پر رک لیس اور جنہوں نے مز ےکی رش نی ںک یھی ا نکوححضرت پارون 
علیاللاع 2 ھی اعم ہوا اع س کرت اون نک 2020" 
بے فان نے 0 کے باپ بھالی ؛ جیلیئ ء باج عزز 
ودوست جھے اس لیت یکرنے می ا نکپھی شذ٠‏ ار ارآ گا 
یی جب انال امرا ہی کے لوا را ٹھاکی فو ف رماعبت وش حخش تکی وج ےگوار ات سے 
بچھو فگئی ء اور تی کےع مک یٹول نہ وی ءسب نے حعرت موی علیہ السلام سے 
عون سکیا ء یا نچی اود اب ھمکیاکرمیںہ"ھ نو مغلوب ہہوگئ اس وقت تق تعالی ن ےآ سمان 
سے ایک ابرسیاہکھیتاء یا سیا خغپا رح دیاء ٹس سے الکی تار بی اود اندعیریی ھا یک ہکوئی 
مس یکو ین سکنا خھاء اور یکی شناخشت ہکن تھی ۔کئی روزکک یہن یکا سلملہ چنا رما ہک 
دشا مکک پرابش لکرتے تھے حر تک یکرم اوڈد وچ سے منقول ےک تت٠‏ نکی تعراد 


۴۸ 


تر انی ء جب ست برا رآردئیننکل ہو بی اسان لکی عورٹیں بے حضرت موی و پارون 
.- ااسلام سے فریادککر نے 70 حضرت موی دارون سیہا السلام ےس ہوک راید تھالی 
سےنہابیت تضرع اورابہچال کے ساتھ بارگا ہ اقم المرائیٹین می ںکفو ورگ رکی درخواس تک تن 
تا ی نے دعا قول فرماگی ء اوریم ال یآ کہا بچھا بم نے س بک فو یتو لک کیہ جھ مار اسیا 
ر1 نے مرتبشہادت باباء اوج زندہرباء دومگمناہہوں سے پاک ہوا اور چیا دکا اب دیا۔ 
اس طرح آ لیس جس باپء بیٹوں اور بھائیوں یئل وخون موقوف ہواء اور الل اب رجیم 
نے سار قو مرکو ال سکوسالہ تی کے جم میم سے محاف فرمایا۔ (حلدست قامیرپخقمار:۶۷٣)‏ 
آخری بات 
انیو ںکواتی مونی با تب یکییں سوف کہ جومورلی نکی سے بام کر کے شس یکو 
ادن تر نکفع فتصمان پہو خجا ‏ کااخقارر ےہ وو مود ا الس طرں بی نىتی سے۔ 
۱ (قیرغن) 
کلام رباپی اودوگی دہماٹی کا اعلان بھی ےکصف تکلام ےمحروم ہونا بھی بہت 
الع تج شر ناک تحیپ ہے۔ نائمکن و ہواورکلام شک گے اوران 
سے ریادہ نل اوہ کوک ی نہیں ہوسلم ےء سی ای ےکومعبو دنو رک لیس جو ام نہ 
کم کے ء پکار نے وانے او رکنن وکر نے والو ںکو با تکا جواب شردے کے۔ الخش 7 
عم سے واز پل نا کوٹ یکما لجییں ء اصسل جز ےکا مکرسلناء سان لکوجواب و رتا مقط رک 
منلمکین پنانا رک مکشھیکان را وکوراستت بت نافع ونتصا نک ماق وما کیک ہونا۔ 
(ازافادات خالاسلام سی من امھ مدکی علیہالر دس )٣۳٣۸۳:‏ 
سُبْحَانَ الله وَ بَحَمُدہِ سُبْعَانَ الله العظیْم ء آمَنْثُ باللء لا الله الا الله 
مُحَمَة رَسُوْلُ الله ء الْحَمْد لِله رَتَی اللہ لا شَرِیُک له 


(٦ 


باب : نَا أَكَرَمَ وَأَعُُمْ عَفُوا مِنْ أَنْ اَسْتْرَعَلی عَبْلٍ 
باب :یل ھابیت بکرم ہو بردہلپڑگی کے بد بن ہکو سو اکرنامیبریی شا یں 
(ہ٥ہ)‏ للحکیم عن الحسن مرسلا وللعقیلی عن انس ئچہ: 
”َال الله تَعَالی: نا اکم و اَعظَمْعَفوَ مِنْ ا اسر لی عَبْدِ مُسْلم 
فی الڈُنياء تم فْضخہ بَغذ إِذْ سَعَرْنَه ولا أزَالْ أَغَفِرلعَبدِیْمَا اِسْتغقَرَنِی “ 
[ضعیف] (کما فی کنزالععال ج )۱۰۲٠١ ٤‏ 
الاک ہی متا فک رن ےکی قد رت رت ہیں 
(۵۳۵) تر جم : حفرت الس لد سے ردایت ے بن ہل مجدہ نے فرمایا: 
ہیں ایت یرم اور بلنر وظیم ہو ں کہ بن مس کی دنیامٹل پردہ پک یکروں اور پھر 
آخرت میں شید ہمناہوں کی وجہ سے روا کرول(پے ات بے 027 ین 
بن ےکی ستر لوگ یکمروںء پچ رآخرت بیس اس کےگمناہو ںکوظا ہرک کے ا سکورس و اکر ول ) 
اور جب گنک مب راہند ہہ سےمففخرت 20 ر ےکا ا سکی مفظرت کرت رو ںگا_ 
مخفرت وموائی اص ہوم 
جن بل میدہ کے ارشادکا حاصل یی ےک جب سی بن ےلم برح تعالی اس سے 
گنا وی پردہ لگ یکر کا ہے ءف چلرقیاممت کے دن می بات تن تھا لی کے شایان شما نڑیل 
.0" کو سو اکر ہے ؟ کیو کب ہل مجدہ صاح بکرم اور صاحب قد رت 
ہیں مجن سزادینے برقادرنذ ہیں ہگرایک دفمفو وک م کا معا ملک نے کے بل پچ ردوپارہ اس 
٦‏ سس اظام ررطال کے در ےکی ہوئی۔ جا ںکیں ”عو“ کا لفظ 
اعادبیث مم شآیا ہے ا کا مغ ہوم ىہ س ےک ہکرام کانین کے وف سے بی ذجب وگنا ہکونو 
کمردیا جا ۓگاء مٹاد با جا ت گا اور قیاممت کے دن اس پرمطالبہ ومنا خیش ہبی نہ ہوگاء اس کے 
عاجش بنرے کے سا تج ھعف وکا معا مل ہکیا جا ےگا اس کے ول سےببھی ا گنا کی خیات و 
۲ 


شرمندگی 0ص گے؟ تاکیہدہاں ندامت وشجاات شہہواورکرم پالا ت ےکفوو 
لو ِنک َو ریم لف غخفوومعائی“ اور مخفرت یں فرقی ے: 
مففرت کا مطلب ہم ےک گناہ یہ بردوڈال دیاجاۓ اور عقوومعاثیٴ کا مطلب 
ےک گنا ہک وکردیاجاے ء ما دیاجاے۔ لی ممغفررت می سکزا کی لہ جک یں ل گی 
بنلدہ عزاب وخعقاب :گرفت وبلڑ سے نے جات گا او رخف بیس نسخنات' مبرل بر حسنات 
ہوں گے فا لا ای حمت کے یی انظ رشب فک رکی موس دعاہیں ”عف کا لف آیا سے 
”َللَهُمٌ اغْفِرْلی وَاغث عَیْیء وأستَلَک افو وَالْعَافِیة فِیْ ایا وَالآخرةً 
باب : إِنَيلَجڈنی أَسَُحْیٌ مِنْ عَبْدِی يَرکَ 7 
باب :جب مہ رے ساخے باف ھپھیاا دےے مجھے ش نآ لی ےک ای دای ںکروں 
(٣ہ)‏ للحکیم عن أنسظہ: 
”تقو الله تَعَالٰی: اَی لأجڈنی اَسْتَحییٔ مِ عَبْدِیء يَرْكَيَبهہ لین 
أرُكُمْمّء قَالتِ الْمَاِكة :إِلهُنَا لیس الک بَأهلِ .قَالَ الله تَعَالی: لْکَِیْ 
أُلْ الَقُویٰ وَ مل المعْفِرَةِ أشْهِدُكم انی قَذ عَفرْثُ له “ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۲ )۳۱٣۸/‏ 
بلق کی وائل مغفف رق جن بل می رەکی ذات سے 
(۵۳) تر جم : حفرت اس لد سے مرودبی سے ان بل مجبد:فرماتے ہیں ء 
بے اس بنرے سے ش مآ لی ہے جو می ریا جاب ہاتجحھ بچھیلاۓ دعا کے لیے اورمیش اس کے 
دونوں ہاتھو ںکو (خمالی) وا ںکردوں فرش عم شکرتے ہیں: معود بے بندہ ا یکا ال 
یں ےک ہا سکوعطاکھیاجاۓ تن تعالی فرماتے ہیں: وہ ال لنییں ے ؛گھر میں ایل 


۸۸ 


تو گی وابل امغفرۃ ہوں (ی]شنی ڈرنے کے لالقی صرف ال یا ککی ذات سے اورودی بش 
کے ال بھی سے ) می تم کوگواہ بنا ا ہو ںکہ یش نے اس بنلد ہکی مغفرت کروی 
وہ نال ےگ میں کے ولا ہوں 

ایی جانب متوجہ ہو ےکی اب کشعل دعاے۔ ہے شا رآ بات واعادیہث 
فضیلت وما یں کی ہیں وور لا نے تل یس موضوغ پنائی گی ہیں۔ بہرعال 
عدجیث ماک م لآ یا ےکہ بندہ جب الیلد باک کے سا بات پیلد یا ہے نے الد یا ککی 
مان سے یر ےکا کونمالی اھ وا و لکردے اور ال قر بکوشرم وجیا سے وا غکیاگیا 
ےکر عون لکرتے ہی ںکہ: ہمارے متبودء ہے ا کا سفن ن تھا کہ ال پک بد دیا 
جاے ءال اک ارشادفرماتے ہہیں :دہ فی نہ فھابمگ مر شا نکر بھی و ری کےغلاف 
سےکہسمائ لکودائی لکردیاجائئے۔عدیتث پاک میل دارد ‏ ےکہ جب بندہ دعاکرتا ےت 
ا نکی دعا ضرورقول ہوٹی سے بھی تو ایا ہوتا ےک جھ مائگام لگیا بھی اس دھا کے بدلہ 
می سکوٹی ہلا وش تآ نے وا ی کدٹال دباجاتاے اوریی د اکوقیامت کے دن کے لے تفو:ز 
رک لیا جانا ے۔ قیامت کے دن جب دعائوںل کے ذخرے سے اچ وو اب لگا ءا 
نما ن تمناککر ےکا کک ہاش مب رىی ارک ھی دما دنا میس قبول نہ ہوئی ہوٹیء ایک عد یٹ 
ٹیس آ اک لا تَ الْقَضَاءَ ال الأّعَاء نز کودعابدرل دق سےہممردعا ےآ راب کان 
ہےک رام جن نہ ماگ جا تع رک یکا دعاء نکیا جا الہ پا کک مشیبت برموقوف نہ 
گی جاے۔ بللہابنا جھز وافنقاراورحاج تکونضرغ کے سا جھ می ںکمروے۔ 

باب : إِنٌ رجا لم َعْمَلَ خَيْوَا قط تَطَرإِلی السَمَاءِ سی 

باب: ای گآٴدبیا جس نےکوکی جک ینمی ںک یھ ی1 سا نکودیکھا 
)٣۳۷(‏ ذکرہ الغزالی فی الإحیاء: 
”َال ا: إِنٗ رَجْلا لم بَعمَلْ عَیْرَا قطہ نر إِلَی السُمَاء َقَالَ : إِن لِیْ 


(۸ 


رب یا رَبَ فَاغفرلِیْ . فَقَال اللهُعَرَوَجَل :قّذ عَفرّتْ لُک.“ 
[ضعیف جدآ](کما فی الأحیاء جٍ ١ص٣۲٣۳‏ کتاب الاذکار والدعوات فی فضیلة الاستغفار) 
آسمائن د یرک کہا ءمی ارب ضرورےء ا لکی مخفرت ہہوگئی 
( ے۵۳)ت ججمہ : احیاءالعلوم میس خمز ای نے کرک یاکہرسول اللد ےا نے فرمایا: 
یس جس ےم کوک کیک کی می :ایک فا نکی طرت یکا او کت لگا 
0س000 0ء۴۰۷۷ 
ےےف رای نے تی مقر کرد پب کچ 
باب یه فی مُسْندِ وَهُوَمِنْ مَظَانٌ الضْعِیٔفِ: 
یتو ال عَلٰی عِبَاده وَ بِعَة مَهُفرَِهِ و رَحْمَيه 
اب ا کے اعت ریرحت 
(۸) للدیلمی عن ابن عباس نہ 
ب 0" ان آفم انز ٹک فَنوائیک زنپیٹک 
ات رَمََرْٹ لیک فَنَجرت زَأَفرَسْک عَنْکف ما ذَلِت انا 
مَرض شگاو بَکی! و إِذًا غُوٴفِی تَمَّد و عَصطی ء یا مَنْ إِذَا دَعَاۂ الْعَبِيْةُ عَذَا و 
لَبًی وَإِذا غوٴفی تَمَوَة أُغرَض وَ ای وَإِن سَالََِی اَغطیتک وَإِنْ مَعَوتَبیٔ 
اتک وَإِن َرضت فَفیْتَک وَإِن مَلِمُت رَرقتک وَإِ اقبلَكَ بلک 


و إِنْ تبْتٌَ غَفرْتُ لک و انا التوٗابٔ الرّحیم.“ 
[ضعیف] (کما فی کنزالعمالء )٣٥٣٣١٦/ ٠١‏ 


تروںلں کےگناہوں پراایند یاک پردہ ڈا لئے ہیں 
پچ بھی بند ےگناہبرجرات رت 


(۵۳۸)ت ججمہ :بی بل مد دفرماتے ہیں : اے ام نآ وم !بیس ن ےت مکوعم دیاء 
۴م 


نو نے میں پشت ڈال دبا اورمٹس ‏ ےگمناہہوں سے روک تم نے حجدووکوتے ڑکرمحصببی تکا 
انا بکیااور تیر ےگنا ویج نل وکرم سے پردہ ڈالان تم نے اورجھی بد ےکرمحصیت پر 
جر تکی اور میں نے ھ سے اع رات سکیا( کت برعالات ڈال دب ےکچ الی اللہ پیا 
ہو شک رآخر تا مو رہ وانای تک شمان تیرے اندرۓ )پل بھی تم نے پروا نکی میں 
رت مار رر ٹر کر اور ور لا اورک مائت شکت 
دے دی مرنٹی پراترآیااورمحصیت ش رو حکردییء افو !ال لک پک جب ان ںکوکوئی 
09090 ہو اچ جاۓ-_ 
رٹ پیل از تو اع را ل کر زم وڈ نے نے الا ی ےر ہے 
پھاگ جا ء اکا رکمرے۔ حا لامک می رکا شا نکر بھی ےک اکر سوا ليکمر ےو عطاکمرول 
اکر د اکمرے پیکارے من دعا قبو لکمروںء پک رکا و جب لو پہار ہوا لو شفا دیاء 
جب نے رزق ہڈا گے رزق دا ج ب بھی فو ہیی طرف موجہ ہوا ٹیس نے فورأتیری 
مرف نوج کی جب نے فو کیا فو رات ری فو جو لکر کے مفخطرتکردی اور یش بی وہہ 
و لک رنے والا اور رجیم مت والا ہوں- 
تن بل مر ہکی رحمت اورانسما نکی غفل تکا جیب ال 
انسالی غفل تکا یتیب عبرت ناک وخجرت ناک البیر ےکہفد رت حم تکا سای 
ڈاقی ہے بفوو سا کا باب مخفرکھوقی ےہ جودوکر مکا ما ہروک ری ہے اپ مرو کو 
آ عو رححت میں لےکرعنایات وعطبیا تکا ضا نکر کے اہ تل ور مکواجاگ کرنا 
جا گی سے افسغ ںکررٹ زوالچاال اقۓ بد لے بلاۓ اور پہُرہ راوفرار اخیا رکرےء 
اوام مکی خرف بلاناء اطاعح کی راہ تلانا ؛ش رج تکی روشن بی کوسکھلا ناء سن تک مکی 
شہادت یی لک کے اتا ع کی دکوت د ینا سیل السلا مکی شاد را ہکوآیات بات میں داانل 
دبرائین کے ساتھ وا حکرناء اصحاب ال کی صفات وخصائ لکو پیا نکرنا تن من صن 
کے اعمال ح ٹکو ا اگ رک رناءابرار وا خیار کے احوال واطوارحید ہکوستاناء بیس بکیاے؟ ىہ 


١۳ 


یذ وہ نداء ربا لی اور وکوت ترک اسلوب رما ی ےج سکوفطر تکیعم ول کےکان سے 
نکر اوراصیر کی کک سے دک ہک رشعور ووچرالن سس لی گ مر کےتقین تعال ‏ یکیطرف 
یل پڑکی ے اور برجم ت بھی ا لکودان بیس چچھپائیقی سے بی ول درجہ کے عباد لی 
کیا صفات خی ءعدبیث می ان لوگو ںکی با کی جارجی ے جن تی کے اع رکونوٹڑتے 
یں ء منبیا تکو بالات خی اطاعت کے ہججاے بفاو تکرتے ہیں ہش ربج تکیا جلہ 
ٹبیعت کے فلام ہیں اتجاع سن فکی می خوائ ش فس کے ر ےہ ہیں سیل السلام کے 
یاۓ بل الییطا نکی راہ تل ر سے ہیں تین پنصصی نکی راہ سےگرب کر کے مترفین 
کے کک پرزندگی ہس کردے ہیں ءاہرار وا شیارکی محبت کے بائے ارارک ماس کےکیان 
ہیں ءضن جل میدہ ان سے خاطب ہی ںکہ جب بیار پڑت ہیں نے پچھر گے شکوے شروںع 
روج ٹیہ اور جب بجارگی ےت جات مل ای نے کو پچھروسی راہ بناوت و 
محصیت کیا حم تھا لی کان بی ےکہ بعاری میس کے شکایات اورجز وفز کیا 
جاۓ پا مب روانت تر واطاع ت گی جاۓ اورت و عا وت ظررعارع :اور 
اطاعت وانتقام تکولازم جانا جاۓ پا محصبی تک راہ چلا جا ء الخر ن نے بیارگی ٹل 
ال دکوخو رکا سے نہ بی صحت وسائتی میں جن بل محر کو راصی رکنناےء انس و ںکہ جب 
کوئ یش وی ا ںلوآواڑ دق سے فو فور لی کہ کر ابچھلت اکودتا ‏ جانا ےہ اور ج بت 
تالی اطاععت وعباد تکی طرف بلاتے ہیں ہل نا فرمانیا ںکرتا ے۔ عافیت وفراغخ تکوقن 
تال ی کی سمٹی واعرائض ا ا بے مز مو ڑکر رنہ ٹم ے کیا رك کے 
اتمانات کے صلہ بی بنلدےکو بیز یب دیتا ے؟ 

تہ ارقم ال راک نکا معاملہ بنلدہ کے سا تح خہابیت بی خی رسعمول یکر پمانہ و شفقاضرےء 
کہ بندہ جب دستسوال پچھیلاتا ہے فو دای نملرد تا ہے۔ ج بجی تھا یکو پکارتا ےو وہ 
ا سکی کا رکوستتنا ے اورجواب دبا ےہ جب پمار پڑنا ہے نے شف کت دا ء ال کو ہر 
عال مل روزیی با تا ہے اور جب نے ہکرتا ہے اا سکیا خطا کو محا کر کے مخخر کا 


رگ 


پروانرعط ا کمرتا سے بن ہل مد :دفرماتے ہیں میں اب ہہولء بندہ کے او بن کا افاضہ 
کرتاہوں پچھر بندہ و پہکرتا ہےء ریم ہہو ںک یش دیتا ہوںء بن ہکو جا یک اڈ تھا کی 
رحت وعنای کیا فنلد رر ے بج تک فد رعبادت واطااعت سےکمرے راحت وعافی تک 
قد رذکرومناجات سےکمرے مج سکاکہھاۓ اى یکا ککاۓ کر وم رکا وگ ر ہے اہینے ر بکا 
لسانت نارے۔ 
شک کی تی جک رے ہچ کا اخترا فکر نا ے 

سی الطا کفحطرت جنید بخدادکی رحمتہ اللہ تھی عیفر ما ہی ںک رق تکاشفر پر 
ےک ا نم تکیڑشیعم پت یکی رضا یں صر فکیا جاۓ ینف کے نز دی ٹم کی یق کر 
سے ہکا اہ رکرنا ہے۔حظرت موی علیہ السلام بارگاد رٹ العزت ٹیں عو شکرتے جے 
پاری تھا یپ نے بجھٹنھو ہیں عطا خر ائیں_اور یچھےآپ نے ان نھتوں ‏ تشگ راوا 
رن کا ف مایا گر اے می رے موی می امس یفقت برشکراداکر نا ھی فذ تورکی بی نت 
ے۔ ارشاد ہواء موی تم بڑے عا لم ہو تم سے زیادہ اس ز مانے میں کسی اع کہیں, اد 
رکھوھھرے یز :کا شراخ یکا ےک دہ براخنقادو لقن رر ےک جونق بھی لی ہوئی 
سے ووس بک سب ء0 ض بھی ےی سے۔ (تضیرنظبری ہکرس -ن۱ل۴۲٠)‏ 

یں ںا ےکک نے یے ند ای کا گآ کے 
ساحض اعترا فکر نل ےک چم ےتک ربھی ادانہ ہو ےگا بارگاہ رٹ العزت میس بچی جز 
و اعتراف تح رار ہو چا ےگا۔ 

الله اجْعَلَ مِنْ عِبّادِک الشْاکِرِیْنَ و الصَالِحیْنَ. آئُن! 

نو اگ گنا کا عادئی ےن یں مغفر تکا ا دی ہوں 
)٤٥۹(‏ وللدیلمی والخطیب وابن عساکر عن جابر طلہ: 
َر رَجْل مِمّنْ کان قبلكُمْ بِجَمْجِمَة قنَظَرَإِلَيْهَا هَحَدٹ نَفْسَة بِشَیء 


۶۳۳ 


فقَال: اَللّهُمَ انت انت و انا آنا. انت الْعَوَاذ المعْفرَة وَانا الَوَادُ بالڈنوّب 
اغَفرلِْ وَحَرّعَللی جَبهَيهِ ماجنا فَودِیَ: رع رَأَمَک فَإِنک اَنتَ العوَاذ 


التب وَ نَا العوَاذ بالمعُفِرَةِ فَذ غعَفَرْث لک فَرَقع رَأمَۂ و غَفَر اللَهلَهُ ۰ 
[ضعیف] (کمافی کنزالعمال ج (0٠ ۰.۲۷٦۶۸ ٤‏ 


(۳۹ھ) 2 بحم : حضرت جابر داد سے ردایت ہے٤‏ پیل ز مانہ کے ای کآ دی یکا 
گز ریگ اسا یھو پیڑھی کے سا مے سے ہوا ءا سکودیکھاءپچھرااس کے بی میس بج خیال 
آیا۔ بارگاہ رٹ العزت بیس عی کیا :یا الڈ رآ پ و آپ ھی ہیں اور یش ء بیس بی ہوں 
(ی]نی آ پکی شان مخفرت ورحمت نو سدا ودای ے مغفرر تکرکر کےبھی مخفرس تک نہیں 
ہونی۔اوریٹش یں بی ہو ںک تو کرت ہول اور پر پارتڈ یٹوٹ جال ی ہے پل یھی فو کر نے 
آپ کےحضورآ جاتا ہوں اورپ نو تجو لک کے ما لو ںی کرت ےآ پک شمان می سکم 
و یکم ےک ھکریم ےہ رکم بی رقم ےکن ریم 9 تس تو 
والے یں اوریی بہار پارگنا ہکا ھت لب ہہوچا تا بہوں لیس ھیری مففر دکردے او رہ مٹش 
پنیا ای کیک دی .تعن تھال یکی جانب سے ا لکوآواز دئیکئی انا سرحجرہ سے اٹھا َء گر 
مو گناہ کا عادئی ےو میں مفقرت کا عادی ہوں میں نے تیر ی مغفر تکردی۔اں 7 
صرانٹھایا اور اڈ نے ال کی مففرتکمردگی۔ (کنزااما ل۳/١2٠۱۰)‏ 

ما نکر بھی لورقم وکرم ہی زیب د بی سے 

پیل لوگکوں میں ای کخنص انسا یھو یی کے پاس ےگ رات ال سکی ڈگاہ اس بے 
وق تکھوپڈڑ بی پر پڑگئی۔آ خرانسان تو انسان ہی سے نہک ہپچھرہ اس کے ول میں ترمعلو مکیا 
کیا اش حدبیث انس می نک ران گی ہو ںگ یکہ رج سک یکھو ڑىی س ےکسا تطدرست و 
انا جران گافھی تپ رط اگروٹ نے ری ہوں ٣٭ەم"۳۸۵۳"ع")0(‏ 
الو ںکوسغوارتاہہوگاء لوکوں میں ای جوالی ون انا ی عقوت دعحت سے جانا جانا ہوگاء او رآ ح 
دیھ وک اس کے ککاکوکی اننہ پی ہیں مھ نکاکوں ۲س موع وستی کے وقت ایال یرتا 


۴۳۴ 


ہوا آح نو وہ کل ہیں نندجی دہ الگکیاں اورسر نس میں ہے شھار اہ وپا ہکا خمارر پا ہوگا مر 
وخرورہمخوت و ڑا یک شان ری ہوک یلج س بک سب پا ال ار نٹ 
زی ری کت ای ےآ رت کات یز 
ند یئ ات یکن کی کر ےرت الات 
آپ و آپ ہی یںء مت یآ پک ان رحمت ومخضرت رتم وکرمء ود و سنا کو و ورگ 7 
سا رکی وخفارگیء چ رآن بلندیی و برت کیک ایک شان کے ساتھھنبور پذ سی سے۔آ پ و رب 
یں بن ہکوبار پار ا گنت (اتعراد پا رمفقرر تک رک کے ابی صفت مخفر تکا خہو رکرتے 
یں ء ظاہری بات ےکک ریم اپٹی صضت بکرم ء تم ایت رق نطو رای عضتمففرتء 
عفوا تی عصفت معاٹی س کیو ںکر جا ہوسکنا سے بیصفات ذ انت یقن تل مج ہوک جناب سے 
وابست: ہیں ارت یں دای ہیں اور ددام پڑ یہ ہیںء اس رنیم وکرمم نے نی اد آیات 
بات یی دا طور پرفرمایاکرمیرے بندو ںکو پاش رکردمسی انی انا الغفور رحیم کہ 
مس نفوربھی ہوں میڑن گناہ ومعاص یکو محا فکردو لگا ء رجیم بی بھی ہو ںیک گناہ معا ف 
کے رکم وکرم یا پا لقکردو ںگا- 

اش سکوکم ہوا سرا ٹھا نے امرف بار ہار اٹ یگندی عادت وخصل تکوڑیں سچھوڑ سکم 
ےو یں بھی انی صفات ذاحہ دائ٠‏ تیر مففرت ورص تکوگیں کم و صلی برا ی چھوڑ 
ن کی چز سے جب و با زی ںآ فو پچھر میں اقم الرائئین ای ابی وپیند یدوخ بیو ںکو 
کی کھوڑ دوں ‏ ال ء ملا یّاں ہراتّوں کے منقابلہ ٹیل اور زیادوثات وکثزت 2 
سا بپچمیلائی جائی ہی ںگندگی کے ڈعیر پر ا ںکو چھپانے کے لیے زیادہمقدار یمن یکی 
ضرورت پڑلکی سے چائیل نے بی مخفر ردگی ۔خوب !کی امناہ ومتاصحی رعم تج کے 
ما بلہییش شار ہک ہیں؟ یادنگیس خال قکی ہرعفت تقسوروخیال سے بد دک ہیں ء بللہ 
مال قکی صا تتحلوقی کے وائر د ونم مان سے جلندو بالات میں 


0۳۵0 


تھم نا دکمر کے سوجاتے بہواورمیں اق تک را ہوں 
ےیل سے سی 
”يَقُوْلَ اللَهُعَرَرَجَل :مَْاعُظم نی جُوَا٥ا‏ اَكَلاهُم فِي مَصَاجعهِمْ 
كانهملَمَْصونِیْ وَمِنْ کریٔ ا قبل توب الاب تی کان لم بر تَیا. 
مَنْذا اَی یَقْر غبَاہِیْ لم افخ لە؟ مد لی سَأَلییْ فَلم اعطِيه ؟ ا بََیْلُ 
5 َيخَلیْیْ عَبْدِیَ. “ [ضعیف] (کما فی کنزالعمالء ۱۰۲۹۰/۳) 

(۵۳۰۸) 7م : 22-7 تن روا بت ےل بل میردفرماتے میں : مھ 
سے ڑاگ یکون ے؟ بی بندو ںکی تفاظت ا نکی خوا بگاہوں می سکرتا ہوں ہگو اک ھی 
النلوگوں نے می ری محصبیت اک یک ںکی اورمیر ےکرم واحما نکو دی کہ می تو برکر نے 7 
0 ۹ 0 وی رت 
ربتاےء اہ اکوان ہے؟ جس نے ہہہرے ہاب رحم تکودتنک دی بہواورمیں نے درواز تہ 
کھولا ہواور ای اکون سے جس نے دوست سوال میرے سا پچیلایا ہو اور یس نے ال 
کےسوا لکو پورا کیا ہو کیا می سکیل ہوں ؟ کہ میرابندہ جم ےککیل جاتنا سے(اورسوا لکرنا 
انکنا چو کر ما لوس من جا ا سے اور جھھ سے پھلا کی امیر کفکردیتاے )۔ 

رحمت واسع کی شا ن عطا 

بی بل مر ہکی دسعمت درحمت اور جو دوکر مکویکنہ کے لیے ء پرکورہ حد بیتثء لقطہ 
رکا ما ریحتی نے رج می اللد ماک نے ایک ٹکیا ےکہ یھ سے با صا جودد 
رکون ےکہ بنرو ون رات نمعاو مکفئی محصبیت وجراقمکا اکا بکرتا سے اورین تھا 
ان سوا ںکی نشی ونافرماٹی برچڑتے یہ بللہ جب وہ ابٹی خوا بگاہ یں سون گا 
ہے و فد رت تفاظت وقراس تک ری ہے ودنہ تقاضاء جم وی تھاکہز بش نکد ھا ک راس یں 
وعسمادیا جا ناء مرکا نکی جج تکوگ راک بلا گکردیا جاجاء تشرات الارت شکوسوتے ہو میں 
مسا راک کےشکل وضصورت پگ ڑ دکی جالٰی سرد تک میم وچ مکی شان دمت د یھت کہ ال کی 


۸۳ 


اش طرح طفاطظت وراسم تکرتے ہی ںگو اک اس نے بھی محصبیت وگزا کیا ینیل اور 
کم بالات ۓےکرم ہہک ہف بہ داناب تکا جذ ہہ دلی یں پیداکمر کے فو کرای سے اور پچھ رف کو 
قو لک کے انی نکوج ماما سے عطاکرد ہق سے ؛گو کہ پمیشہ تی فو کر نے والا تھا اورسل 
انابت واطاععت ٹیل ڈزندگی لس رک یھی ۔ پارقربان جایئے رٹ الا ان ور بی بیہکہ بنلد ہکوس 
فر رای رععت ےی بک نے کے لیے ء ابی ذات سے وابستدکمر نے کے لیے ء اجنمبیت 
ودور یکونخمکھرنے کے لیے ہ انی ذات سے قرب ومناسبت کے لیے عکمبیروبیان کے 
انی عحبت و پیار ےرات کے ساتھفرمایا۔کون ہے؟ جس نے میرے درواز کو ومک 
دی ہو اور مل ٍءھ,"ھھى و ہو۔اور بردونصر تکی ے بڑایا ہو اور ال 
01 لیے نہآ یا ہہوںء جٹھھ سے س رگڑٹ یکی ہواورٹیس نے نی ہہ جھھ سے فیا دکی ہو 
اورٹیں ے دادری لی ہو ہے ما کا ہواورٹیں نے ا سکی مجھولی بر دی ہو انلے 
اکبرءاللّه الغنیء رلالعد۔ 

کیم سکیل ہوں؟ کیا مر ےمز انیب می لی چک یھی ہے؟ کیا میرک ذات 
می سکظظمت اورصغات جو دکر مک یکوی انا وعد سے کیا یں ہے حتف :نین 
ہوںء پھر بندہ میرے جو دک مکو جائنع و پیا نکرسوا لکنا کیوں کھوڑ دیتا ے؟ ماعنا کیوں 
موتو فکرتاے؟ ممہرے ودروازہ پر دنت ککیوںکیں رتا؟ سےا میں راک رکیوںکہییں 
اگزا؟ بجھھ سے یر چھلائیکی می کیو ںنیس رکتا؟ کیام۲ من ینئیس جہوں ؟ کیا می لی نیس 
ہویں؟ کیا میربی ذات شع وجود عا یں ؟ کیامی اعم ہر خئے کے وجود کے لیکن کن“ 
نہیں ٹل اس کےکمکاف نون ےک لک رھ من بے ءکیائیس اس چ کو جو یں بخ جس 
کا اراد ہکروں؟ نگ رمیا بندہ جھ سےکیوں اع رات سک رتا ے؟ جھ کول بھاگتا سے۔ 
اللَهُم إِِیْ 7ک حَیْر الدُنیا وَالآخرَة مَع العَافِیّة الذَائِمَة اک أَنْتَ الله لا إله 
لا اك رَيیٔ وَرَبَ کل شَیْءِفَاغْزلِی وَارْحَمییإِنَک انت أَرْحَمالرَاحمِیْنَ. 


۲۳ 


فرش توم بھی مو 

: و للدیلمی عن علی ظلہ‎ )٥١٥٥( 

یو ی الله َعَالٰی إلّی الَْفظةِ الْکرام الْرَرَة : لا تَكتبُوَا عَلی عَبْدِیُ 
عِنَدَ ضَجَرهِ شَیْتا. “ ([ضعیف] (کمافی کنز العمال ء )۱۰٦٣١/ ٣‏ 

(۵۴۳) تھ جم : حفرتمی ذیلدد سے روایت سے تق جل محبرہ نے محافظ اعمال 
فرش ےکودگ یگ یک میرے بندے کے خلاف پر انی گی کے وفت کے بب وی اعنای نہ 
ری "2-۰ ویر یالی بیس ہوٹو اس وت 13 
ہو سک لکھو یکا سے کن اوراجاٹ بین مس پتلا ے۔ اند ری اندرگنٹ ربا سے فرشتو! 
تم بھی یج یلو وا نر اللم ) 


1و اوراشی تی نکاحن تواٹی سے سوال 

: للدیلمی عن أبی سعید لہ‎ )٥٥٥( 

”لم اکن الله آَمَ الیک قَال : َِک قد اَغْطَیْتَ کل عَاملِ أَجْرَہُ 
اَعْطِبیٰ اَجْرِیْء فََوْحَی الله إِلیهِ ال قذ غَقَرْثُ لُک إِذَا طُفْتَ به قالَ: َا رب 
زقنی فال : قد غَفْزْثُ لِمَنْ طاف به مِنْ وُلَک. قَال : یا رَبٌ زِڈُنی. قال: 
قد غَفَرْتُ لِمَنِ استغفرُوَالَُ قال :َقَامَ لیس لی المَارِِينِ فقَالَ : يَا رب 
جَعليِیْ فی دارِ الَاءِ وَجَعَلْتَ مَصِیْرِی إِلَی النّارِء وَجَعَلتَ مَعِیْ عَدُوٌی آدَمَ 
وَٴ قد اغُطِیْتة فَاغْطِبِیٔ کَمَا أَغطَیْتَة قَالَ: قُذ جَعَلمک ترَاه ولا یراک قَال: یا 
رَبٌ زِذُنیٔ. قال: قَڈ جَعَلُ قَلبَة مَسُکتا لک. قَال: یا رَبٌ زِذُنیٔ. قَال: قد 
إبْليْس قَاغطبی. قال: قد جَعَلک تَھِمُ بِالْحَسَنة و لا نعْمَلهَا فا كْبُھا لک. 
قَال: يَا رب زِذُنیٔ. قَال: قذ جَعَلک تَھمُ بالسُیَة و لا تعْمَلهَا فلا اكُبُهَ 


۲۲۸ 


عَلَیْک و أَكُتْبْ لُک مَکاتَھّا حَسَنَة. قَال: یا رَبَ زذنیٔ. قَال: وَاحِدَ لِيْ وَ 
َاحَشَةَيیی ویک واغشری لک فَضْلْ بن عَلَيَک, الِیْ لی 
تَعْْدیِیْ ولا تَشْرِکٔ بی شَیْنَاء وَ ما الییٗ بی و بتک ینک الدُعَاءُ و 
یی اِْجَابَق وَ ما البيٴٰ لک قانک تَعْمَلِ الْحَسَنَة فَأكمْبْهھَا بعضْرَة أَمعَالِهَاء و 


970 2 ے کو یے۔ ص0 2021 8 نا الْغْقورالا دھع سم 
لی فضل مِنٔیٗ علیک فتسعغفرنی فاغفِر لک و لغفور الرحیم. 


[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج )۱۲۰٠۱ ٥‏ 

( 7)۳ جم : حضرت الویسعیر خلا سے رواایت ےج بج بل رہ نے 

آ دم علیہ السلا مکو بیت الم لغب رایا نے فھوں نے عون کیا : اے ال رآ پ نے ہرعائ لکوااس 
کا اج وو اب عطا کیا سو جج ےکوی عط اکر _ الد اک نے ویبی: ٹیں نے تھہماری مفقرت 
کردکی چم نے طوا فکیاءاھھوں نع سکیا :اورزیادہ عط اہ ارشادہوا: آ پک اولاد 
وڈزیت میں سے جوھی طوا فک رےگاء ال سک یبھی مففرتدکمردی ء اکھوں نے عت سکیا: اور 
بھی زیادہ عط اکر _ ارشاو ہوا :اور ال ںک یکبھی مخظر تک ردی نکی طز ا فیکرنے وا لے 
مخفرت پگیں کے پچ رامش رین ے۶ تن با ا ضر ےو بآ آپ ے ہج وووارالفناء 
دا یس رکھا اورھرا ابدی رکا نج نم اااسرنافی 7ود گا رز 
الا ان! آپے نے بس طرں ا نکوعطا کیا ھک ھی عطا سی جن بل یرہ نے ارشاد 
ٹرمایا: ابھاچا! ذ1د کور ےکا :گر وہہ ےکوہیں 10ت ےک اور عط اکر _ 
ارشاد ہوا: آ وخ اورا نکی ذر تک ول می می وخ راہ بویا لین ء۶ اوری 
عط اہ ارشادہوا: و آوم اورا نکی اولا کے خو کی رکوں میں دوڑےگاء ( یچ خو نکی 
رکوں میں دوکر جس طرح چا ہنا گرا دکرناء وساول پیر اکنا ء خیالات فاسدہ ڈالنا وغیرہ 
ذالکگ۔ ب۸آ دم علیالسلا مکھڑ ے ہوۓ او رع یا رٹ الع تپ نے اٹیل تین 
کوعطا کیا جج وکوشھی عطا کر ۔ارشاد ہوا: اےآ دم جب نکی کا اراد ٥ک‏ ےگا اورصرف 
سو ےکا وو دو ںگگاء انکھوں نے عم سکیا : اور 


(۸ 


زیادددتیہے۔ ارشادہوا:ج بمناہوبرا یکا اراد٥کر‏ ےکا و ج ب کک اریکا ب کی ںکر ےکا 
مین خرتۓ کو یکنا کیو ںکعوککاء و زا کا بر رج ہوۓ اک کی یلا 
دوںگا ( گناہ کا اراد ہکھر کے لو نے بھیرے وف .)۶ اپ ات 2 
دو ںگ])_ 

اوں نے عو سکیا :رٹ الا ن! اور زیادہ دتتیےء ارشادہوا: ایگ مبری ذات 
نے ےت ےم ات ھت 
7ت ے بے 

فضل میری ذات کے لے تما عبادر تکرنا 2 ار کے تاور 
بھیمرے اور شرے درمیان وو تیر جھ سے دعا کرنا ارم را ام سے تو لکرنال( نی نو ما تک 
202 7 بھی سے و ٥‏ مکی صنا ت دنیکیاں ہیں جو کرت ےو 
یش و ںگککیتا ہوں اورمیرالضل وانعام ھھ پر یہ ےک گناہ ہینات کے بعر مخفرت 
لگن رہ می مضفررںکرتا رہوںگا ادریج بھی اگمنزادکمر نے کے بعد مالوں نہ ہونا کہ می ںنقور 
ریم ہوں-_اَللَهْمَ اغُفْرْ لی مَا قَُمُتُ وَمَا أَعرّثء آمین! 

روش رکا طا اب اوردوٹو ںکا تصادم 

جن بل مہ ن ےآ دم علیہ السلا مکواپنا خلیفہ ہنااء اہن خلیۃہ امیس ا کی طلب و 
و او رخ کا ان گنی ون ری تو لکی انم ضات ال سے 
طرتے قلو بکی اثابت وخثیت کے اعمال واأکارکی شمعھییں صورتی ںکیا ہی ںگی بہ ہب 
ان حت ‏ ے نف خ ۱077ی تار می نی سک 
وجہ سے طلب خر اورمرضیا تکیا جو ہمہ وقت الاب ہی ربی۔ ول طور بر اگ رکوکی عارنش 
عائل ہوجاۓ فے بھی خواصص بشریت کےظپورکی ہے بہوگاء نا کل وا ستغفار کے میاان و 
رجمان کے ات جومتقص تحابق قرا ‏ غیت ارگوا بٹی اص لک طرف لے جاۓے - 

برخلاف شحیطا نان کےکلا کو ڑعیس ؛کننگ کا ا داز گیل ہ ندامت وانا ب کا 

"۸۴ 


نام ونشا یں بارگاہ رٹ العزت میں بے جاکان ظا مک ہآپ نے دارفا یش رکھاء می را 
وکا چم نایا اورمی رئش نآ وڈ کو بنا یہ انف اہین نے اٹ یھی وکوتا یکا کیل اشارہ نہ 
کیاء بللہقمام ازامجن بل مرو کی ذات بے نیاز پر ڈال دیاء بارگاہ رٹ الھز تکا ادرب 
ھی وط نہ رک ۔ککا۔ اور سے لگا ہآآپ نے دارفا یس رک دیاء می را مرکا ن یشنم بنا دیا ہآ و کو 
کن بن اکر میرے سات کر دیاء اتفف رارق ۔حالالہ پ تام بش کیا رائی ںین نے خود 
نیا تھی ء :ہکرت العّت نے ائ لک بد جڑت بنایا۔آ خر ملاکنہ ت ےد مکذحبد مکیاء اس 
ص299۵ مک دنا می لآ نا اس نے بین کیو ںکیا؟ آخ رآ و بھی فو دنا میں 
ےک روا تار اعت اتکی شع کے اتآ نے ملین ںی زگ 
تھی جن سک لاف ےہ سے وہی ںکرکی۔للحون نے ٹل یبھ یکی اورس بھی جا نک ہکا ہ کیا 
اور اتی تمام پان لکا رخ بد لکمر رٹ الع تکی طر فکتتاخا ظا مک2 ہے کہآپ نے 
یو ںکیا یو ںکیاء ہاو توالی نے اس سکم یا تھا نہ بچالاکرخوددی لن تکا لوق بن 
یا اوران تحمورکا اخنماب رٹ ذوا چا کی طر فکرر اہ مکڑیں سے ینہ ال رکامکمال 
عبریت او نکا تر دنا رہوت ے۔ الد رب الھت ہی ںاشن سے اتی حطاخت میں 
رھھے۔ َللَه عَيْرْ حَافظًا وَهُوَ اَرْحَمْ الرَاحمِیْنَ. 
حضرت] آ دن علیرالسلا کا ادب ر ہا 

جن بل میدہ نے ق رن ید می ایس شی نکوآ دم وجوا کا وشن اورعد ایا ےء 
چی حطر ت1 وم علیہ السلام نے اک لجرہ کے بعد بارگاد رٹ العحزت یش انی مففر کی 
ی, 0 00ل ب77 تش۲ نکو 
تق بات الہیہ سے سو رکرنا بی شال اخمیاء ہے ۔ق ران جک یآ یات می ل17 وم وائٹاس کے 
وا ےکو پڑ ھے_ 

طوَ طَفْقف بَحْصِفيِ عَليْهمَا مِن وَرَقِ الجَنَةِ 2ر نَادشُم رَْهُمَ الم 

۴ 


ربا طُلمتا اسنا ء و ای لم تعفر لن و تَرَحَمْنا لَكُوتيمِنَ الحسرِيْنَ َال 
اهْبطَوا بَعْضَکُم لَِعٌض عَذوٌک 
زین پرانت رن کاعم 

من رین کے نز دیک ب خطا بآ وم وجواعل یہ السلام اورای س تین س بکو ےکیوکلہ 
ال عداو تآ وم اور اش سکی سے اور اس عداو کا دلل جماریی زین بای 20 
خلاف ت1آ مکوپردہوئ یی ۔(تقیرخن) 

افمرما ی کابدلہ 

مج بین ٹیس ن کہا الد نے ندادکی :آ دم! تن ےکیو ںکھایا؟ مس نے فو نع 
کردیا تھا۔آ دم نے عم کیا : بے جو ان ےکھلا دیا۔ الد نے وأ سے فر مایا : نو ن ےکیویں 
ھا ا؟ حواء نے عو سکیا : میے ساب نے موہ دبا تھا۔ ساب سے سوال ہوا : و نے 
کیوں مشورہ دیا؟ سایپ نے عو لکیا: یھ اشٹٹس نے مقورو دی تھا۔ اید نے فرمایا: جوا !تو 
نے درخ تکوخو نآ لو کیا ق بھی ہر ماوخو نآ لود رہ ےکی اور اے ساشپ !متیرے پائوں 
یس کائے دبا نہوں۔ و منہ کے پل چ ےکا اور ھے جوھی ات ےگا یراس بپھاڑ در ےگا اور 
اے ایس و ممتون ومردود ہے (تخیرنظبری) 

ححخر تآ دم علیہ السلا مکاشل 

یی اک کہ اگیاے ”سنا الابْرار سَیْقاث المقری] “نی نیو ںکی خییاں 

مرن کےےگناہ ہیں۔ ۱ 
ای خطا از صدر صواب ای ژ است 
خون شمیراں را از آب او ی ژ است 
چنا عارف روئی فدرس سرہ السا ی فرماتے شیرف 


۸۴۳ٴ 


گر چہ 1 موپر گن کو چے ا 
نع مو رر رو رورہ رس پود 
ار چہ وو گناہ چآ وم علیہ السلام کے رت وہ پل کے برابر تھا مان وہ پل 
آنگھوں میں اہر ہوا انان کےجعم پکم وٹیش جال ہہوتے ہی گر ان ےکوی مکی فنجیس 
ہوئی لی نآ گھوں کے اندراگ رکوئی با لآ جائے ذو دخ ت تحرف دہ ہوتا ے_ 
اود آم یرہ لور ٹرم 
روےۓے _رر رو اود .- یم 
ای طرح سچھ کہ دن کی ذات با رکا تاد رق یم کے1 کوکی طر حشھی او رآ ککدگیسی 
ناک پچ میس ایک با لجھی نزلہایک بھاریی پہاڑ کے موج بل ہوتاے۔ 
.۰ دراں حالت آے مشورے 
در مال گفح معحزرت 
اں ءاگمراس حالت میں لہ حیطان ا نکوابٹی نمس ایا تد یہ سے دورد رہ 
اض بل شانہ سے مور ہکر لک کہ اے رٹ اعت ! اس بارے می سآ پکا کیا ارشاد 
ہے ذ7 دش مکوندامت اور ای سے معزرت م]شی فو براوراستنففارکی فوبت بی نہآ کی کیونلہ 
حفرت 7 وم رسولیشکلم تھے اور اد تال کی طرف سے بل واسطرا نک وی ہو یی وہ اس 
پارے میں بھی بلا وا ططیتن تی ے ور یا کر سکتے جے_ 
یں حضر تآوم الا نے وہ نز تر کک جوا نکی ان کے لیے اوٹی اورانسب 
شی یک ہاللدتمالی سے ذر ماف کرت لکن بل یئ اوراللہ ای سے ور یاشت شرکیا۔ ہیں 
انل اوں کی وج سے خا بآ با اور بر نرک اد لی ان یک شان کے لے ۓ ورک 
جمارے لیاظطا سے ترک او یپچھ یی ںکبیونکہ ارڈ کے نا مک یمم سے مجت اپاری ہوچاٹی سے 
حر تآدم لاہ ک ےنم کسی ری ہی ںکہاے پر وددگار! م نے شحیطان کے دوہ میس 
آ کر اپنا نتصا نکیا کہ آپ کےع مکی متالبعت سے اور شیطا نکی خالفت سے مکو جھ 


۳م 


یئ 2 09 کی اور دست من تکا لباس ہمارے برن 
سے ات گیا اورتیرے مقام رب اورمقام اخنقاض سے مکودور جانا 2/7 
نت ےجرد ہور سے ہیں ۔ھم ررش فرا۔ 

عارف روگ دس سرہ السا ھی نے ای موک میس بز باان بد برلیک قصہ بیا نکیا ج٘س 
بیظاالے 


٦ 


ہیں قضا آ یر شور ول خخواب 
مہ ہہ گروو 1 آ اب 
نی جب قضا لی ےن مل سو جالی ے اور ال کا ادرا ک بھی سو جا ا ے اور قضا 
ای سے جا ندسیاہ یٹ جا جا سے اورسو کوک نیلک جا ا سے مطلب یہ ےکیعقل جو قاب 
اود ماجنا بکی رب رشن سے فضاع الگ سے وہ بےنوراورتا ریگ ہوجاٹی ے۔ 
حضرتآ وم قا اک عم 
او ایشر کو عم ا(امء مک است 
نر ور کے سے 
تی حضر توم ایت جوابوالیشم میں اورمرت“علم آدم الاسماء کے تا جدار ہیں 
اور لاکھو ںیم ا نکی رگ می لمبھرے ہو ۓ ہیں ۔آ کےعلم الا سماءک یضر فرماتے ہیںں 
ام مہ چرے چاں ٤ں‏ چ ہت 
٢‏ پایاں جانا او ىا داد ہت 
نام چیزوں کے نام اورشنس حالت پر دد وا ہیں س بک نام ونشان ا نکی آ خری 
عال ت کک ا نکی رو حکوخط کرد یاگیا۔خلاص نی رکای اک عَلّمَ آدَم الٗسْمَاءَ ے 
صرف اشیاء کے نام تتاد ینا مراؤئیس بللہاسماع عام ے جو تا اوراوصاف اورخواص اور 
آ ارس بکوشائل ہے۔ لی علیم اسا کا مطلب مہ ہواکہقھام اشیاء کے نام اور ا نکی 
یٹھیں او یی اور میں سب آ7 دم کو تا دی ںکبوئلہ یفن الد ثی الائتش کے لیے ىہ 


۸۰۴ٴ 


ضروربی ےک ود دنا یش ی1 نے وانے ا مور ما کھانا اور پناءکپھوگک اور پباس اورسرور 
اورمزن اورشبوت اورخحضب یرہ وظیرہ ا لحم کے تمام امو ری ماپئنوں اور ماصیتوں 
سے واقف ہو۔ اس لیے مہ قمام امو رر تآوم الکو تا دیے گے اکمہ زین میں 
منصب غلافت کو اضیام و ےگھیں اورفرشتتوں ۳۷ ۷ھٹ ۶و 
امو رح اور ما کا کا حقہ ادورا کک میں ۔ لہا سام کے امور سے منرہ میس ء انس 
مس سس ات ا کولاے 
2 آم یں ہور اپ دب 
7س ئئ) 
حر تکآوم لیت یآ کک ھت و دہ ہا 
فور سے اشیامکا مشاہ ہکیا نان پرقام اساء کے تا اوراسرارمککششف ہو مئ ۔ یں اصصمل 
فضیل تحضر تآوم کی یگ یکروونو را لی اودعکم بای کےمظ ہاور تین تے_ 
کے اور گل ہوے تات 
ور ور افاد و پر غلمت ثثات 
اور جب فرشتوں نے ان ٹیل ا وارقن تجابات ر پان یکودرخشاں د یلعا و رہش 
آر لآ رھ کے و وڑے 
ہیں سالک ور من ری ازو 
تھلہ افاوئر در رو 
شیطا نکا 7 
جب ممانکہ نے ححخر تآوم ینا میں لو رک کا ومک کنا ژمتیرے نکر 
گئ خلا ف اش س ک ےک ہا کی نظ صرف مادہ میا نکتک محرددرہی اور نو رنقنخ ے زا بینا رین 
ءا ےہ دکرنے سےالکاکردیادراڈدذدالپلال سے پٹ شرو ںی هحَلقیْ 
مِنْ نار و خَلَقتَة مِنْ طیْن ہا 
۸۵ 


ضر ت7 و کی فضیلت 
اژن مان 7 تی انی تی جن 
گ٠ر‏ سام ج ت امت تاصم 
ہرجش سک ذزپان پہ ےق ما نکیا جار ہا ہے دہ ب رہہ ےکہتا ہےکہ ای ےآ دم جن نکا 
نام یں نے رپا ہوںء اگر قام تک کبھی ا نک یتح ریف وق صی فکمروں ےج ببھی قاصر 
رو بے 
از رکا غلبہ 
اں ہمہ رافشثت و چجچں آ ٹا 
و كن +- ثر ہوے غطا 
پاوجو دی خر تآوم۱ یکو یسا رام حاصل تھا اور قام چنزوں کے وا اور 
آ غارے واقف ‏ ےمان جب قضاخودار ہوئی فو ایک نی ال ت تقَرَبَا ھٰذہ الشجَرَة کیک 
علم ان پر پنشیدہ ہوگیا او ری طور پراسل پرایک پردہ پڑگیانٹس سے وو وشن کے وسوسہ سے 
تر ڈدیس پڑ جن نکا گے ریس بیالنا ہف 
کاے ٹجب - نے 2ت 4 
١‏ ناو لے پرو و مم اود 
حضر تآوم اليپ ران تے اورسب اور تر دد یس ت ےک اللہ جانے ب ٹک یرم 
ملق کے ےک ذائی طور پراس درشت کےقریب جانا مطاع حرام سے پا رر ئ یتنس 
تاورل ےل 
در ٌ اویل یئ 2 
ٹج در جرت ہوۓ میم ثثتافت 
رت زم ا النطز ای جبرت اور ڈدرمیں جےۃک ول نے تاوی لکوتر بی دی اور 
طرعت خیرت ٹن 1 ککیگند مکی طرف مال موی تق ہارگاو ال ےراب ہوا اوج اکا مم 


)۸۱ 


اش لی ےکہاس درخ تک ماعیت بہ ےک جو اا ںکوکھا ےکا وہ دنا گی طرفضرور 
ات ےگا ۔کھانے کے بعر حر توم الکو اپٹی خطا کیا اماس ہوا فو و ہاور استغفار 
رو گی۔ا بآ گے ان سکیا مثال بیالن فرماتے ہیں ۔ 
ایں ےکی شال 
پانیاں را غار پقںل بد پاے رفت 
وزر فرصت يپافت کال ئرر تقت 
5- کی ای مال ہوکئی تی کوک بافخپان ہو اور اس کے پانوں جس ک نا لک 
جا کنا کے ان لا رت ان رکاش کک 
جلدئی سےسارا مال ل ےکر چلتابنا۔ ای طرح ضر تکآوم ایت پا با نعلم ومحرفت تہ 
ان کے پاۓ فلب میں وسوس کا ای فکانھا چچچھاء اور اس کے ہکا لے میں مشخول ہو ئے۔ 
دز تین (ائنٹس ) موقح اکا نکی تاج راحت وسکییم کو اکر نے پھاگا۔ 
ضر تآ دم اتکی وہ 
ہیں ز مت رہست از آھ ہاہ 
5 رو وزر رخت از ہادگاہ 
جب ضر تآوم القلذ اس خجرت سے کے اور راو تقیققت ان برمکشف ہوئی تو 
دبیک کہ چچورکارغانہ سے مال دماح جج اکر لن ےگیا ۔نقر تآ دم بح ھک ےک بر سب حیطاان 
کا فرب تھا اک ہج وکو نت ےجو مکرارے۔ 
تا انا لت تا 7ھ 
کت 1 قارے کج آ وع راہ 
انی رق ظرت آمم ا اص ر 1ہ ں .و 
معذر تکرنے مےء ردتے جاتے تھے اور ہیں ببھرتے جاتے ےشن اے الآد! ہما رگ 


ع۴ 


عقل پہنلمت اورتار بی چاگئی اور م سے راستگم ہوگیا۔ اس دوصرےمصرھے ٹیل اشارہ 
اں طرف ےک حر تآوم ائلیناکی ا دعاطرَبَنا ظَلمنا اَنقْسَنا مںلظَلَمْاک 
لم ےشتق گی پ رق ےشتق ے۔ 
تضاءی شال 
یں فضا ارے بد نخوشد گػٹ 
رو اژوا پور زو چو میں 
حخر تکآوم الیکا قصہ با نکر کے لو رنغییہفرماتے ہی ںکرااس قض ای ای مال 
سح ےکی ایک بادل ہو وہ1 فا بکو چچھیا نے۔ فتضاء ای حخت تیر ےکمراس کے سا سے 
شی راودا د پا چو سے کے ما من عاجز اور لا چار ٹؤں- 
(دیکھومشنوی مول نا روم بش:٣۰اء‏ وفتز ول وی :۰۴ء فزاول ) (معارف اقآ نک نرعلویٌ) 
شیطا نکا ریب 
گنت شیطال/ہ بہما اغونی 
نل خر ان و دن 
شیطان نے دلابما ابچ کہا اورا ںکینے نے ات ےکسب اورا را بحوابہت 
کو پچ اک را وا کاڈ تال یکی طرفےمغسو بکرد با کہ خود بی ال م ہن جائے- 
تو کی تتولیت 
ا ہے رر 
آفریم ور لو ا جخ و گج ئ 
تو لکرنے کے بعدالڈدتھالی نے ضر ت1 دم س کہا ا ےآ یم اکیا ھی لشنی 
(ائ شر فو وین ٤ے‏ تھے ا7ا نکی لی یں تی ان ش تی کا اق وو او 
ت0 ی می قضاءوقررے داع ہوا ہے۔ پچلرقم نے معزرت کے وقت ائ ٹن لکو 
۸۳۴۸ 


میربی طر ف سو بجی ںکیابللہ انی طر فےمطسو بکیا۔(معارف القرآن) 
ے 22 و فطاء 22 پرالں 
ہیں یقت عزر گردی آن نان 
کیا یسب رہم ری ھی قضاء دقر سے نہتھا جو نے عذر کے وقت ا کو شید ہ 
رکھااور پیا ںکہاکہمی کی تدم یس الا یکھھا تھا ابنرائشیل بےاػصورہوں_ 
گنت 7ز لع اب زاجم 
گت مین 2 اس ات داتم 
حطر تآ دم نے عم سکیا کہ می سوج ادب سے ڈ گیا اور دامسن؛ ادب باتھ ے نہ 
چھوڑ ان فرما مک ہپچھرییس نے بھی تیرے اد بکا لھا کیا اور تھے ا عفووکرم سے وازاے 
گنا اگ رچہ اناد ا حافظ 
تو ور طرلنق اب کنل گو گناہ ى است 
ہر کہ آرہ 7رث آو وجرنحقث ہو 
7ر ھ0 تر لُوزی خررد 
تن تعالی نے فرمااکہ چون جھاری بارگاہ شش ادب اور ات را مکڑوظا رکا سے وہ 
اس کے صلے میں حرمت او رکرامت نے جاما ے تی ہہ را مقبول اورمرب مجن جانا سے 
اوٹنکلنش پور یقن لا واورلوز یت( ]شی علوہ بادا مکھا5)_ 
(متنوبی مول نا رومء وفتز انڑل :۲۳ا وکلی مویہ دض ز اول حصاولبش:۵٣۳)‏ 
ائکی بدر کے لیے معائی کا بروانہ 
لی ہدر کے علق جارشادا یڑ ے”ِغمَلُوْامَا شفِْتَمْ فَقَذ غَفْرثٛ“ اکا 
مطلب بہ ےکہائل بدر سے دیرہ و واشتہ الل دی محصیت نمور می نی ں کت ۓےگی الہ 
تنا اشرییتہ بط لی مہو ونسیان ان سے اغزشٹیں ہو ںکی جن ان سےبھی ایس 
افعال سرزد ہوں کے جوا نکی شان اورمرجے کے مناسب نہ ہوں گے۔ ا مم کے جھ 
۸م 


أموران ٦ك‏ 2 لت پپہاں حت ماف 8ہی 
ہر شض صنامہ صد پک از ضا 
ارد ے زرو شصت لک از ضا 
اراس حاات میں اس انسا نکیا لکوصد پ نام و پیام ان دکی طرف سے گنئیے ہیں 
اواراکی کے ایک مہہ مار ب کن سے سا شحمرعتہ(مڑحی بکشزت ) ایل رکی طرف سے ای ککا 
وابآ تا ہے۔جیہاکرعدیث مل ہ ےک جو بندہ ایک می نےکر جا ہے و ان سکوکم انیم 
ںگنا اج ملتا سے اور جوشس ایند سے ایک پالشت قرب ہوتا ہے فو اللد اس سے ای کگز 
قریب ہوجا جاے اور جوف ای ری طرف یچ لک رآ تا ے ادا لکی طرف دوڑک ر1 ا ے۔ 
(رواسم) 
ہر دے او 7 ماع خائس 
ضكئہ زش نر صر مان" ا١ش‏ 
زلت ۔" و سو و قلح 
بر از صے سالہ بان طا ھت 
یی اک رص دی قاکرڑےخقول ے ”یا لسَبیٰ نٹ مسَهُوَمُحَمَدِ“: ےا اش 
یں نچ یک رب کا سبوونسیان من جا اک تحضر پرنو رکا بوونسیان ہماری طاعت ے ہزار درجہ 
پپترے۔ 
مخت 
اما ترٹجیاف مات ہی ںک تھا مسھا در تا می کا نہب بی ےکہقیاس جتشرعیہ 
ے اورعقلا اورش رما ا کا اتاح ضروربی سے۔صرف چندائل ظاہ قباس کے مک ہی ںگھروہ 
2 وی ےک جوا ونام کا ملک سے او را یکوامام فا رکی نے انی جا 
می ایا رف ماب ادرکناب الاعمام یش جثیت تاس کے لے متعدداہواب اور تراجم 
منعقدفرماۓ_ اور اگ رمتل ہکا مکتیاب اورسنت اور اجاج امت سے معلوم نہ ہو ےت 
۵۰ 


قیاس واجب سے اوراسی پر خھام امم تکا ماع سے اور خلغاء راشحدین او ساب ہدام 
سے مپی ات ےکہ جب ال نعکوسی امیس اشظتباہ یآ تا او رکراب وسنت اور ابا 
امت سے ا سکاعھم نمعلوم ہوا و امثال اوراشباہ برا سکوقیا سکرتے ۔(دتھ وی رق ری ) 
شیطا ن کا خلطط تال 
ایل ہس ہیں تسا مود 
ٹل ہزور سی نی ند 
سب سے پ ہلان جس نے انوا الہ (لچی اکا نصوصہ) کے مقا لے یل 
اپنے بیبددہ قیاسات چلانے ش رو کے وو اننس تھا۔ 
گشت نار از ناک بلک مم است 
صن ز بار و او را اک الدر است 
نکاس می لکیائک ےک ہآ گی سے تر ہے می ںآ گ سے پیداہوا 
ہو اوردہ اگ تار یک ے پیراہواے_ 
کو 5ی م 
و رز لے )ا ز پور رم 
یں مناسب ےک پھ فر غکواصسل پرقیام سکری سو نکی اصل ما دن ظلما بی ے اور 
می اصل مادۃ فورانی سے اوردرخثانی سے لڑن یگ سے ائیس نے مہقیا سکیا اورخل طکیا۔ 
ال تق اس پرکیا دشل ےکآ گ می سے مر ے۔ دونوں بی عنص رادل کی خلوق ہیں, 
حصریت میں دونوں براب ہیں اور اگ رتقییقت پرنظ کی جاۓ ‏ سٹیگ سے مہ سے اس 
لی ےکی میں متاجت اور وقار ے اوزعلم اورحیاادرصب رکا ماڈہ ہے۔ ای وجہ سے ۱خر تآ دم 
ناش اورتضر کی طرف مائل ہہوۓ اورعفواورمخفرت اوراحتباء سے سرغراز ہو ئے_ 
زاوۂ خاکی مور شر ج ہہ 
7 ۳ب 0 کے ہر 
۵۱ 


سیر مپجو اوک ہیک ناک زادہ یی دم علیہ السلام چان دی طرح افوار اہی سے 
منور اور رگن بہوگیا اور اے شبطان فے مض زادہ سے اے رو سیاہ! فو مار یک رہا۔ مادہ 
ی حیت 1ے سنا کی ال ان 
ال اسات و تی روز ار 
ا بشب مد قلہ را گرست مر 
اخ حم کے قیاسات اورالگ لکی با تی اس وقت چلتی می ںکہ جب ابد بچھایا ہوا ہو یا 
را تکا وت ہ بقل نظر ہآ تا ہو۔اس وقت ال ںام کے قیاسات او رین قبل ہکا جب راشتباد 
اور پرل بن سے ہإں_ 
کے ا ور و کع ہیں رو 
ای خخقایں و ہیں گی ىا مھ 
کن ال عالت من سلکہج بآ فا ب ظلوع سے ہہوۓ بہواور ان ہکعیرسا سے ہہولے 
اش وف تن ری اور قیاسں سےنماز ہرگ چائ یں (معارف القرآ نکا:عرق) 
آے نادیرہ 2 روز و داب 
از ما آلل 2 ا اصواب 
(گم رس نقاصس ت ۳۷رگ+۲۲۸۳۰ےك۲۸) 
مدآ ج تار عم رجب الم رجب ۳۲٣۱د‏ مطا اق ۳ر جون ۳٣۱۱‏ ءکوجلر 
ای کے بجز عمخالم تک یکتاب التق پروالا نا ہ تکی حد یٹ نہ ر٣۴‏ ھکی موا ی شرح بل 
تل ہوئی۔احاد یٹ قد سی ہک شر کا جوقق تھا وونذ اس بے بضاعت سےمکن 
بی یں اس کاشجنل الج ل یز کےاللف بش اس سے وجو دی سآ با 
الله الْحَمْد اَوَا وَ آخرَا 
(شین اشرف) 


۵۲ 


(0۵۳ 


٭ 


۵۳ 


٭ 


0۵ 


٭ 


0٦ 


٭ 


ال عطر یقت وسلوک کے لیے یل مہا ذتچرہ۔ 
| ود تاب کش بھی ےاورشغتت تی 
فجابات قدسیز ھا مسلمانوں کے لی مفید۔ 
کیٹ راو نی مکی نوع ۔ 
کاب بڑے والہاترانداز مم لئ رییفرائی ے۔ 


کلام وی اشماع تک تب عطیۃ ال ی ہے ۔ 
ائمہ وخطباء کے لیے انھمو لتق 


۔ت ق 5 


کتاب پ اعلا ۓ أمم تک نظ 2 


سس ایدرک ءخلیفہحفرت عاگی ورام قش ری نے 


ِ لوگو ںو نات ف ابھارے کا کا مر گیا۔ 


<* لے ھرے ماڈ یٹم 27 مم 
مرگ رمصعطما مڈا کی ءدارا اعلوم ٹیل اسلامءحیررآ باد 


سعیراھ مان ابری استاذ حریثء دارالعلوم دلو بنر 

:. کے + م+م٭ 

گرا نا 0 نام مررسنامداب اک رٹ ٹا ھی ار 
27 ےڑپ یہ ف الا 

مفتی عیب الین تیآ بادیہمشتی دارالعلوم دربن 


۸ 


میم .ءال بدکی ہا گی ء امارت ش عاڑ یہ وچوارکھنڑ 


2۶ ٰ 2 
مو انا رمث الیّر دارا اعلوم کے تی 
جو 


مج عارف پا دالت گی ء جا مع عائکشڈنسوان ءحیدرآباد 


٠. 


18۸۱۱٣۱۷۸۸۲ - ء٣۷٣۴‎ ۱ 


۷۱۱٢۷۲۶۶۰ 6 


۲۲۹٥ا‎ 8 ۶۷ 2 


بس ری و 
۸ 004( / [,7 ا٤۸‏ 16611 


2 
۶٤ 
07۶ 71 17 0(۷ ہك‎ 201 


۲,۳۲ 


5 ہو ۔/ 
79 ۸۸۷1 آ۶٥‏ 


رک ا .۶ سے 
دک ٥۰۶۶۶‏ 1آ :۷]:۷/۱:001001171( 777 


7 


سح 


ٌ